Baaghi TV

Category: اسلام

  • موجودہ دور مہنگائی میں صدقہ خیرات کا آسان طریقہ     ازقلم: غنی محمود قصوری

    موجودہ دور مہنگائی میں صدقہ خیرات کا آسان طریقہ ازقلم: غنی محمود قصوری

    موجودہ دور مہنگائی میں صدقہ خیرات کا آسان طریقہ

    ازقلم غنی محمود قصوری

    حضرت انسان شروع سے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے اور پاکستان جیسے غریب ملک میں یہ مشکلات اور بھی ہیں مگر جب سے سلطنت عمرانیہ کا قیام ہوا ہے تب سے یہ مشکلات شدید مصائب میں تبدیل ہو چکی ہیں
    مگر اس سب کے باوجود ایک چیز ایسی بھی ہے جو ہمیں دنیاوی و اخروی زندگی کی خوشحالی دے سکتی ہے جس کا نام ہے صدقہ

    نماز روزہ و دیگر عبادات کی حد مقرر ہے کہ اتنے سے کم نا ہو اور اتنے سے زیادہ نا ہو مگر صدقہ کی حد مقرر نہیں یہ کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ بھی کیا جاسکتا ہےحدیث کی رو سے سب سے افضل صدقہ اپنے بیوی بچوں کو اچھا کھلانا پلانا ہے

    اب سوچنے کی بات ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں جہاں اپنی دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ترین ہے وہاں صدقہ کیسے کیا جائے ؟

    قارئین صدقہ محض پیسے،اجناس،املاک دینے کا ہی نام نہیں بلکہ مسلمانوں کیلئے آسانی پیدا کرنا ان کو دیکھ کر مسکرانا بھی صدقہ ہے اور صدقہ کی کوئی مقدار بھی متعین نہیں کہ اس سے کم صدقہ ہرگز نا ہو گا

    ارشاد نبوی ہے

    اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ

    جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ دے کر ہی

    یعنی آپ کم سے کم چیز صدقہ کیجئے تو بھی وہ اللہ کے ہاں قابل قبول ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ بہت بڑا تقوی سے عاری صدقہ ایک معمولی سے تقوی پر مبنی صدقہ سے روز قیامت اعمال میں ہلکا ہو جائے

    کیا صدقہ صرف پیسہ سے ہی دیا جا سکتا ہے اس بارے حدیثیں پیش خدمت ہیں-

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیشک صدقہ ﷲ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے نیز مسلمان بھائی کی طرف مسکرا کر دیکھنا بھی صدقہ ہے

    حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے، تمہارا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے، اور تمہارا بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھانا بھی تمہارے لیے صدقہ ہے اور تمہارا کسی اندھے کو راستہ دکھانا بھی تمہارے لیے صدقہ ہے اور تمہارا راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی (وغیرہ تکلیف دہ چیز) کا ہٹانا بھی تمہارے حق میں صدقہ ہے اور اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کی بالٹی میں پانی ڈالنا بھی صدقہ ہے

    ان احادیث سے ثابت ہوا کہ صدقہ محض روپیہ پیسہ دولت سے ہی نہیں بلکہ معمولی اعمال سے بھی کیا جاتا ہے اور یہ صدقہ اللہ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے تو آج ہی ان احادیث پر عمل کرتے ہوئے اپنے لئے آسانیاں پیدا کریں اپنے مسلمان بھائی کو وعض و نصیحت کریں راستوں سے تکلیف دہ چیزیں ہٹائیں لوگوں کی عیب پوشی کریں اور ان چھوٹے چھوٹے اعمالی صدقات سے اپنی دنیاوی و اخروی زندگی اچھی کریں کیونکہ فرمان نبوی ہے کہ اللہ تعالی تب تک اپنے بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے –

    اب سوچنا یہ ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں مالی صدقہ کیسے کیا جائے ؟

    تو اس کیلئے پلاننگ کریں اپنے سے غریب افراد کی مدد کی

    اگر آپ مزدور ہیں اور روزانہ کا 800 روپیہ کماتے ہیں تو محض روزانہ 10 روپیہ نکال کر الگ سے رکھ لیں اور مہینے بعد 300 روپیہ جمع ہونے پر اپنے سے مالی کمزور اپنے کسی عزیز رشتہ دار ،محلے دار کو بطور صدقہ دیں تاکہ ان پیسوں سے اس کے گھر کا کم از کم آدھ دن کا خرچ ہی نکل آئے گا

    اگر آپ تنخواہ دار ہیں اور 25000 روپیہ تنخواہ لیتے ہیں تو محض 1000 روپیہ الگ کر لیں اور سمجھ لیں آپ کی تنخواہ 24000 روپیہ ہے اور وہ 1000 روپیہ کسی ضرورت مند کو دیں یقین کیجئے آپ کے محض 1000 روپیہ کے عیوض وہ ضرورت مند آپکو اربوں کھربوں روپیہ کی دعائیں دے گا جس سے اللہ کا غصہ ٹھنڈا ہو گا ،بیماریوں سے نجات ملے گی اور ذہنی سکون ملنے کی انتہاہ ہو جائے گی

    نبی کریم کا فرمان ہے یہ صدقہ خیرات مال کم نہیں کرتے بلکہ مال میں اضافہ کرتے ہیں
    تو آئیے ان آسان طریقوں سے اپنی دنیاوی و اخروی زندگی خوبصورت بنا لیجئے
    انہی صدقہ خیرات کی عادت اے انسان معاشرتی برائیوں اے بچتا ہے اور اس کے اندر احساس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور احساس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو انسان اللہ کا تقرب حاصل کرتا ہے

    دعا ہے اللہ تعالی ہمیں صدقہ خیرات کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمارے صدقہ خیرات قبول فرمائے آمین

  • ملکوال کے لوگوں کے لئے انتہائی خوشی کی خبر

    ملکوال کے لوگوں کے لئے انتہائی خوشی کی خبر

    ملکوال کے شہریوں کے لئے خوشخبری
    رپورٹ (کاشف تنویر) تفصیلات کے مطابق تحصیل ملکوال کے سب سے نامور اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں مشہور ڈاکٹر قمر عباس مرزا صاحب نے ملکوال میں پہلی بار ایمرجنسی نوزائیدہ بچوں کے لئے بےبی وارمر، فوٹو تھراپی اور شیشہ انکیوبیٹر کی سہولت شروع کی ہے جو القمر ہیلتھ کلینک کا عوام دوست شاندار منصوبہ ہے.
    زیرِ نگرانی. القمر ہیلتھ کلینک. ڈاکٹر قمر عباس مرزا اور لیڈی ڈاکٹر منزہ قمر
    نزد ٹیلی نار آفس پرانی غلہ منڈی جناح روڈ ملکوال

  • علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری، پیار و محبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر

    علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری، پیار و محبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر

    فیصل آباد(عثمان صادق)ضلعی مسجد کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مولانا محمد یوسف انور،صاحبزادہ فیض رسول رضوی،مفتی محمد ضیاء مدنی،سیدجعفر نقوی،صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی کے علاوہ دیگر علماء کرام،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو فضل ربی چیمہ،اسسٹنٹ کمشنر سٹی صاحبزادہ محمد یوسف بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے علماء کرام کا خیر مقدم کرتے ہوئے معاشرتی امن اورمذہبی رواداری کی فضاء برقرار رکھنے کے لئے ان کی شاندارخدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے خوشی اوراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد ضلع میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام آپس میں متحد ومتفق ہیں تاہم اس نوعیت کے اجلاس خیروبرکت اورباہمی رابطے کے استحکام کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری،پیارومحبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں اور خصوصی طور پر جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں کورونا ویکسین لگوانے کی ترغیب دیں تاکہ اس وباء سے محفوظ رہا جاسکے۔انہوں نے علماء کرام کی طرف سے نشاندہی کئے گئے بعض مسائل کے ترجیحی بنیادوں پر حل کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ مسجد کمیٹی کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیا جائے گا۔اس موقع پر علماء کرام نے امن وامان کے قیام اور رواداری کے فروغ کے لئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔آخرمیں ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی،امن وسلامتی،اتحاد ویکجہتی اورخیروبرکت کی دعا کی گئی۔

  • پاکستان کے بیشتر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    پاکستان کے بیشتر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    خیبر پختونخوا کے شہر سوات سمیت دیگر علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اتوار کی صبح آنے والے زلزلے کے جھٹکوں کے باعث شہری کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے نکل آئے ، ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.8 ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ گہرائی 120 کلومیٹر تھی زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا ۔

    زلزلے کیسے اور کیوں آتے ہیں؟

    زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

    زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

    کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

    پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔

    کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔

    کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔

    دوسری طرف قدیم زمانے میں زلزلے سے عجیب طرح کی روايات اور کہانیاں منسوب تھیں۔ جیسے ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا کہ ایک بہت بڑے بیل نے زمین کو اپنے ایک سینگ پر اٹھایا ہوا ہے۔ جب وہ سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

    یونان کی دیومالائی کہانیوں میں بتایا گیا ہے کہ سمندر کا دیوتا پوسیڈان جب اپنی برچھی زمین کو چبھوتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے قدیم یونانی فلاسفروں کا خیال تھا کہ زمین کے اندر گیسیں بھری ہوئی ہیں۔ جب گیسیں باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہیں تو زلزلہ آ جاتا ہےاٹھارہویں صدی تک نیوٹن سمیت مغربی سائنس دان اس نظریے کے حامی تھے کہ زمین کی تہوں میں موجود آتش گیر مادوں کے پھٹنے سے زلزلے آتے ہیں۔

    ریکٹر اسکیل کیا ہے؟

    ریکٹر اسکیل ایک پیمانہ ہے جس سے زلزلے کی شدت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریکٹر اسکیل کے موجد ایک امریکی سائنس دان چارلس ریکٹر ہیں جنہوں نے 1935 میں ایک آلہ متعارف کرایا تھا جس میں ایک سے 10 کے اسکیل پر زلزلے کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔

  • جدہ میں صدیوں پرانا آرٹ کا نمونہ دریافت

    جدہ میں صدیوں پرانا آرٹ کا نمونہ دریافت

    جدہ میں صدیوں پرانا آرٹ کا نمونہ دریافت، وزیر ثقافت نے تصاویر جاری کر دیں-

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق پیر کو سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے تاریخی شہر جدہ کی ترقی اور ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرنے والے فن پاروں کی تصاویر شائع کیں ان میں صدیوں پرانا پتھر کا ایک مجسمہ بھی شامل ہے جس پر کچھ نقوش اور عبارتیں درج ہیں۔


    وزیرثقافت نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ کے دوران وضاحت کی کہ یہ تصاویر ایک تجارتی عمارت اور کھوکھے کو ہٹانے کے بعد سامنے آئیں آرٹ کا یہ نمونہ 1981 میں عظیم آرٹسٹ عبدالحلیم رضوی نے تیار کیا تھا۔


    تصویروں میں سجاوٹ کو "مچھلی” کی شکل میں دکھایا گیا تھا اور متعدد پتھروں میں تراشے گئے جملے جدہ میں گذرے وقت کی زندگی کا اظہار کرتے تھے۔

    خیال رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے تاریخی جدہ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت "تاریخی جدہ کو زندہ کرنے” کے منصوبے کا آغاز کیا ہے جدہ کی ایک طویل تاریخ ہے جو ہزاروں سال پر محیط ہے۔

    کچھ مورخین اس کی بنیاد تقریباً 3000 سال پر محیط قرار دیتے ہیں اسکالرز کی جانب سے نوادرات کے مطالعات پتا چلتا ہے کہ پتھر کے زمانے سے اس علاقے میں لوگ رہتے تھے مشرقی جدہ میں وادی بریمان اور شمالی جدہ میں وادی بویب میں ثمودی دور کی کتابت اور آثار ملت ہیں۔

    منصوبہ ولی عہد کی تاریخی مقامات کے تحفظ اور بحالی میں دلچسپی کے تناظر میں سامنے آیا ہے تاکہ وژن 2030 کے مقاصد کے حصول اور مملکت کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک کے طور پر عرب اور اسلامی گہرائی کو ظاہر کیا جا سکے۔

  • مقصد انسانیت. تحریر : محمد اسامہ

    مقصد انسانیت. تحریر : محمد اسامہ

    .انسان الله تعالیٰ کی سب اعلیٰ اور افضل مخلوق ہے. انسان کو، "اشرف المخلوقات” بھی کہا جاتا ہے. اللّٰه تعالیٰ کو اپنی عبادت کیلئے فرشتے اور جنات کافی تھے. پھر بھی الله تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی تخلیق کی. انسان کو دنیا میں حاکم بنا کر بھیجا. یہاں تک کہ آگ سے پیدا ہونے والی مخلوق جنات کو بھی انسان کا احترام کرنے کا کہا گیا. انسان کو الله کی طرف سے دنیا کی ہر مخلوق سے برتری حاصل ہے.
    > سوال یہ ہے کہ انسان جیسی مخلوق کی تخلیق کا کیا مقصد ہوسکتا ہے؟
    قرآن مجید میں الله تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی وضاحت ان الفاظ میں کی….
    "انسان کو ہم نے اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے”
    الله تعالی نے انسان کی تخلیق اس انداز میں کی ہے کہ اس کا ڈھانچہ ہڈیوں کا ہے، اس جسم پر جو گوشت ہے وہ مٹی سے بنا ہے یا یوں کہیں کہ انسان کو مٹی اور پانی سے بنایا گیا ہے، انسان کو زندہ رہنے کیلئے پانی اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، اس خوراک کو حاصل کرنے کیلئے اسے تجارت کرنا پڑتی ہے، اس تجارت کیلئے اسے اپنا وقت اور صلاحیتیں لگانا پڑتی ہیں. اگرچہ انسان کو الله نے اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے تو انسان کو تجارت، خوراک جیسی چیزوں سے بری ہونا چاہیے تھا تاکہ وہ اپنی زندگی اور اپنی صلاحیتیں اللّٰه کی عبادت میں لگاتا.
    جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ ایک ایسی مخلوق بھی ہے جو انسان کی پیدائش سے پہلے سے لے کر قیامت تک الله کی عبادت کرنے میں مشغول ہیں، نا انہیں خوراک کی ضرورت ہے اور نا ہی انہیں کسی تجارت کی ضرورت ہے بلکہ وہ دن رات اللّٰه کی عبادت کرتے رہتے ہیں. انہیں "فرشتے” کہا جاتا ہے. اسی طرح انسان کی پیدائش سے پہلے جنات بھی الله کی عبادت کرتے رہتے تھے.
    > سوال یہ ہے کہ جب فرشتے اور جنات الله کی عبادت کرتے رہتے ہیں تو انسان کی تخلیق کیونکر کی گئ؟
    تو جواب یہ ملتا ہے کہ انسان کو الله نے دنیا میں اپنا خلیفہ "جانشین” بنا کر بھیجا ہے. انسان کے ذمے یہ ہے کہ وہ دنیا میں الله کے احکامات کا نفاذ کرے. انسان کو کامل عقل یعنی عقل سلیم بنا کر بھیجا ہے. انسان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ صحیح اور غلط کے فرق کو جان سکے. اپنے نفع اور نقصان کے فرق کو جان سکے. انسان کو دنیا میں زندگی گزارنے کیلئے دو راستے دیے گئے ہیں. ایک اچھائی کا راستہ، دوسرا برائ کا راستہ. یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ کس راستے کو چنتا ہے. انسان کی پیدائش کے بعد سے اب تک دنیا میں مختلف مذاہب آۓ ہیں. ہر مذہب نے انسان کو اچھائی کے راستے پر چلنے اور برائی کے راستے کو چھوڑنے کی تعلیمات دی ہیں. اس دنیا میں اسلام کے علاوہ تمام مذاہب باطن ہوچکے ہیں، بلکہ اسلام کے کے علاوہ تمام مذاہب اپنی اصل کھو چکے ہیں. اس وقت اسلام ہی اپنی اصل میں قائم و دائم ہے. اسلامی تعلیمات کے مطابق اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ انسان کی تخلیق کیوں کی گئی ہے؟
    جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ انسان کو الله نے خاص اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے. مگر انسان کی تخلیق اس انداز میں کی ہے کہ وہ عبادت بھی کرتا ہے، خوراک بھی لیتا ہے، شادی بھی کرتا، تجارت بھی کرتا اور زندگی گزارنے کیلئے جو ضروریات ہیں انکو بھی پورا کرتا ہے. انسان کو اپنی زندگی گزارنے کیلئے ایک مکمل ضابطہ حیات دیا گیا ہے. انسان کو سونے جاگنے، کھانے پینے، رہن سہن زندگی کے ہر لمحے کے طور طریقے بتلائے گئے ہیں.
    اس دنیا میں انسان کی اہمیت یہ ہے کہ وہ مٹی اور پانی سے پیدا ہوا، اس کے جسم میں ایک دل دھڑک رہا ہے، جب اس کا دل دھڑکنا بند ہوجائے گا تو وہ اس دنیا سے کوچ کر جاۓ گا. اپنے ساتھ صرف اپنے اعمال لے کر جاۓ گا. اس ساری بات مقصد یہ ہے کہ موجودہ معاشرے میں انسان نے اپنے آپ کو دنیا کا مالک سمجھ لیا، اپنی زندگی کے خاتمے کو بھول کر صرف دنیا میں مگن ہوگیا ہے. ایک بناوٹی انسان بن گیا ہے، جو ضرورت کے تحت مسکراتا ہے، ضرورت کے تحت غصہ کرتا ہے، ضرورت کے تحت اپنا بناوٹی اخلاق پیش کرتا، ضرورت کے تحت عبادت کرتا ہے. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ خلوص دل سے اپنا اخلاق پیش کرے. اس رویے کے پیچھے ایک ذہن سازی ہے، جو معاشرے میں کی گئی ہے، ہمارے معاشرے میں ایک بات زبان زد عام ہوچکی ہے کہ ہر انسان کی اپنی سوچ ہے وہ جس طرح چاہے اپنی زندگی گزار لے. محترم قارئین/سامعین ہر انسان کی اپنی سوچ نہیں ہے بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات دیا گیا ہے جس کے مطابق اپنی زندگی گزارنی ہے. نا کہ اپنی سوچ، اپنے دل کے مطابق زندگی گزارنے کو کہا گیا ہے. ہمارے دل و دماغ ڈال دی گئی ہے کہ دنیا میں زندہ رہنا ہے تو معاشرے کے ساتھ برابر چلنا ہوگا. یہ نہیں سوچتے کے معاشرہ تو ایک اندھے کنویں کی طرف چل رہا ہے جہاں جا کر انسان کی فطرت انسانیت ختم ہوجاتی ہے، صرف دکھاوا بچ جاتا ہے. اس وقت معاشرے میں مختلف قسم بگاڑ پیدا ہو چکے ہیں. کہاں سے آئے، کیسے آئے!!!
    میں اس پر بات نہیں کرتا، میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بطور انسان اور پھر مسلمان ہم کس جگہ کھڑے ہیں، معاشرے میں ہمارا کیا کردار ہے، معاشرے کی اصلاح کیلئے ہم اپنی زندگی کا کتنا وقت صرف کررہے ہیں، یہ تو نہیں کہ ہم بھی مسلمان ہونے کے باوجود اپنی اصل کو چھوڑ کر باطن میں دھنس رہے ہیں. ہمارے بزرگوں نے جو تربیت کی تھی اس کو بھلا کر نئے دور کے فتنوں کا شکار ہورہے ہیں. محترم قارئین یہ جدید دور کی ترقیاں فتنے ہیں.

    @its_usamaislam

  • فیصل آباد میں عشرہ شان رحمت اللعالمین ﷺ  کی تقریبات بھرپور عقیدت اور جوش وجذبے سے جاری

    فیصل آباد میں عشرہ شان رحمت اللعالمین ﷺ کی تقریبات بھرپور عقیدت اور جوش وجذبے سے جاری

    فیصل آباد میں عشرہ شان رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم تقریبات بھرپور عقیدت اور جوش وجذبے سے جاری ہیں جن میں عشقان رسول شرکت کرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اپنی گہری وابستگی کا اظہار کررہے ہیں۔یہ بات ڈویژنل کمشنر زاہد حسین نے صوبائی وزیر پبلک پراسیکیوشن چوہدری ظہیرالدین اور صوبائی وزیر وومن ڈویلپمنٹ آشفہ ریاض فتیانہ سے گفتگو میں بتائی۔وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبائی وزراء کو عشرہ شان رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم تقریبات میں شرکت کے لئے ذمہ داریاں تفویض کی ہیں اور صوبائی وزیر پبلک پراسکیوشن ضلع فیصل آباد اور صوبائی وزیر وومن ڈویلپمنٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تقریبات میں شرکت کررہے ہیں۔علاوہ ازیں صوبائی وزیر کالونیز وکلچر میاں خیال احمد کاسترو کو ضلع چنیوٹ اور صوبائی وزیر کھیل تیمور بھٹی ضلع جھنگ کے لئے مقرر ہیں۔ڈویژنل کمشنر نے صوبائی وزراء کو بارہ ربیع الاول تک کے پروگرامز کی تفصیلات سے آگاہ کیااور بتایا کہ سکولوں،کالجوں،یونیورسٹیز میں حسن قرات،نعت وتقاریر کے مقابلے جاری جبکہ سیرت النبی کانفرنسز کے انعقاد کے ساتھ محفل میلاد کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے۔صوبائی وزراء نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان بیان کرنا باعث ثواب اوراعزاز ہے۔انہوں نے کہا کہ آقائے دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم دوجہانوں کے لئے باعث رحمت بن کرآئے جن کا یوم ولادت وباسعادت بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے اور اس بار حکومت نے عشرہ کی تقریبات کا اہتمام کیا ہے تاکہ نوجوان نسل کو نبی آخرالزمان کی زندگی کے پہلوؤں سے آگاہی دی جاسکے اور ان کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہوکرکامیابی حاصل کرسکیں۔

  • گوجرانوالہ میں عشرہ شان رحمت اللعالمین مذہبی جوش وجذبے سے منانے کا اعلان

    گوجرانوالہ میں عشرہ شان رحمت اللعالمین مذہبی جوش وجذبے سے منانے کا اعلان

    گوجرانوالہ میں عشرہ شان رحمت اللعالمین مذہبی جوش وجذبے سے منانے کا اعلان

    گوجرانوالہ: گوجرانوالہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عشرہ شان رحمت اللعالمینﷺ” مذہبی جوش وجذبے سے منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
    تفصیلات کے مطابق وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدارکی ہدایات کی روشنی میں گوجرانوالہ میں یکم ربیع الاول سے 12ربیع الاول” عشرہ شان رحمت اللعالمینﷺ” دینی ومذہبی جو ش وخروش اور شایان شان طریقےسے منایاجائے گا۔
    ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ دانش افضال نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کہا کہ عشرہ شان رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں پہلی مرکزی شان رحمت اللعامین صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس اتوارکے روز ڈویژنل پبلک سکول میں ہوگی۔
    اس کے علاوہ سکول ایجوکیشن، ہائرایجو کیشن، محکمہ اوقاف ومذہبی امور، محکمہ صحت، آرٹس کونسل، بلدیاتی ادارے ودیگرمحکمے محافل نعت، محفل حسن قرات، نعتیہ مشاعرے اورتقریری مقابلوں کا انعقاد کریں گے۔

  • بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں زلزلے کے باعث 15 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں زلزلہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 3 بجکر 2 منٹ پر آیا جس نے ہرنائی میں تباہی مچا دی۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 ریکارڈ کی گئی جبکہ زمین میں اس کی گہرائی پندرہ کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز بلوچستان کے علاقے ہرنائی کے قریب تھا۔

    زلزلے کے باعث کئی مکانات گر گئے جن کے ملبے تلے پھنسے افراد کو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت نکالا جبکہ حکومتی مشینری پہنچنے کے بعد بھی ریسکیو کا کام جاری رہا زلزلے سے سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    زلزلے کے بعد بلوچستان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، زخمیوں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچنے پر طبی عملے کو مشکلات کا سامنا رہا۔

    ہرنائی کوئٹہ شہر کے مشرق میں واقع ہے اور اس کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانیں ہیں۔

    بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے ہرنائی میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور ضلع میں ایمرجنسی نافذ کر کے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    وزیر داخلہ نے بتایا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کو متحرک کرکے ہیوی مشینری ہرنائی کے لیے روانہ کردی گئی ہے۔

    ہرنائی میں مقامی صحافی یزدانی ترین نے بتایا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے بہت شدید تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہرنائی شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ہرنائی میں لیویز فورس کے ہیڈکوارٹر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے ہرنائی، شاہرگ اور دیگر علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ متعدد علاقوں میں زلزلے سے گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بعض مقامات پر گھروں کے گرنے سے جانی نقصان ہوا ہے۔

    زلزلے کی خوف کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکل گئے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔

    اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ کے علاوہ مستونگ، پشین، سبی اور متعدد دیگر علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے تاہم ہرنائی کے علاوہ دیگر علاقوں سے تاحال جانی اور مالی نقصانات کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہیں۔

  • زمین کیطرف بڑھتے سیارچے کو راستے سے ہٹانے کیلئے ناسا کا ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان

    زمین کیطرف بڑھتے سیارچے کو راستے سے ہٹانے کیلئے ناسا کا ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان

    ناسا نےنومبر میں ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق زمین کو خلا میں موجود کئی سیارچوں سے خطرات لاحق ہیں ناسا نے زمین کا دفاع کرنے کی حکمت عملی کے تحت مشن شروع کیا ہے ٹیم کے مطابق یہ مشن زمین کی طرف آتے سیارچوں سے بچنے کے لیے مستقبل کے مشنوں میں قیمتی ان پٹ فراہم کرے گا۔

    یکم اکتوبر کو ناسا نے اعلان کیا تھا کہ کیوب سیٹ جو ڈارٹ کے ساتھ روانہ کیا جائے گا تنصیب کے لیے تیار ہے کیوب سیٹ کا وزن 31 پاؤنڈ ہے جو کسی بازو کی لمبائی سے بھی چھوٹا ہے۔

    ڈارٹ ناسا کی سیارچوں کے خلاف دفاعی حکمت عملی کا پہلا حصہ ہے ، جسے یورپی خلائی ایجنسی کے تعاون سے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ زمین کو خطرناک سیارچوں کے ممکنہ اثرات سے بچایا جا سکے۔

    اس مشن کے تحت پہلی دفعہ ناسا ڈارٹ خلائی جہاز 24 نومبر کو اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ سے ڈیڈیموس بائنری کی طرف بھیجے گاجو 2 اکتوبر 2022 کو 2 میں سے 1 سیارچے ‘ڈیڈیمون’ سے 13،500 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹکرا جائے گا۔

    اس کے ذریعے ناسا سیارچے کی رفتار کو ایک فیصد ہی کم کر سکے گا تاہم سائنسدانوں کو سیارچے کی معلومات حاصل کرتے ہوئے اس کے تبدیل شدہ مدار کی پیمائش کرنے کا موقع ملے گا۔

    ڈیڈیمون سیارچہ 2003 میں زمین کے 3.7 ملین میل کے فاصلے پر آیا تھا ناسا کے مطابق ماہرین کو زمین کے قریب 25 ہزار سے زائد اشیا دریافت ہوچکی ہیں، جبکہ مزید کی دریافت میں وقت درکار ہے۔

    160 میٹر چوڑائی پر ڈیڈیمون ایک بہت بڑی خلائی چٹان کے گرد چکر لگا رہا ہے جسے ڈیڈیموس کہا جاتا ہے جو تقریبا 780 میٹر بڑا ہے۔

    ناسا کے مطابق دو سیارچوں میں سے ڈیڈیمون کا زمین سے ٹکرانے کا زیادہ امکان ہے، اس وجہ سے کہ اس کے سائز سے زیادہ خلائی چٹانیں موجود ہیں جس کا ناسا اور سنٹر فار نیر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز نے ابھی تک مشاہدہ نہیں کیا ہے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ اس مشن کے لیے ڈارٹ ٹیکنالوجی پہلی بار استعمال کی جائے گی، جس میں تیز رفتار خلائی جہاز کو خلا میں سیارچے سے مقابلے کے لیے بھیجا جائے گا۔