Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • پاکستان کے بیشتر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    پاکستان کے بیشتر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    خیبر پختونخوا کے شہر سوات سمیت دیگر علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اتوار کی صبح آنے والے زلزلے کے جھٹکوں کے باعث شہری کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے نکل آئے ، ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.8 ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ گہرائی 120 کلومیٹر تھی زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا ۔

    زلزلے کیسے اور کیوں آتے ہیں؟

    زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

    زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

    کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

    پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔

    کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔

    کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔

    دوسری طرف قدیم زمانے میں زلزلے سے عجیب طرح کی روايات اور کہانیاں منسوب تھیں۔ جیسے ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا کہ ایک بہت بڑے بیل نے زمین کو اپنے ایک سینگ پر اٹھایا ہوا ہے۔ جب وہ سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

    یونان کی دیومالائی کہانیوں میں بتایا گیا ہے کہ سمندر کا دیوتا پوسیڈان جب اپنی برچھی زمین کو چبھوتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے قدیم یونانی فلاسفروں کا خیال تھا کہ زمین کے اندر گیسیں بھری ہوئی ہیں۔ جب گیسیں باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہیں تو زلزلہ آ جاتا ہےاٹھارہویں صدی تک نیوٹن سمیت مغربی سائنس دان اس نظریے کے حامی تھے کہ زمین کی تہوں میں موجود آتش گیر مادوں کے پھٹنے سے زلزلے آتے ہیں۔

    ریکٹر اسکیل کیا ہے؟

    ریکٹر اسکیل ایک پیمانہ ہے جس سے زلزلے کی شدت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریکٹر اسکیل کے موجد ایک امریکی سائنس دان چارلس ریکٹر ہیں جنہوں نے 1935 میں ایک آلہ متعارف کرایا تھا جس میں ایک سے 10 کے اسکیل پر زلزلے کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔

  • جدہ میں صدیوں پرانا آرٹ کا نمونہ دریافت

    جدہ میں صدیوں پرانا آرٹ کا نمونہ دریافت

    جدہ میں صدیوں پرانا آرٹ کا نمونہ دریافت، وزیر ثقافت نے تصاویر جاری کر دیں-

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق پیر کو سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے تاریخی شہر جدہ کی ترقی اور ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرنے والے فن پاروں کی تصاویر شائع کیں ان میں صدیوں پرانا پتھر کا ایک مجسمہ بھی شامل ہے جس پر کچھ نقوش اور عبارتیں درج ہیں۔


    وزیرثقافت نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ کے دوران وضاحت کی کہ یہ تصاویر ایک تجارتی عمارت اور کھوکھے کو ہٹانے کے بعد سامنے آئیں آرٹ کا یہ نمونہ 1981 میں عظیم آرٹسٹ عبدالحلیم رضوی نے تیار کیا تھا۔


    تصویروں میں سجاوٹ کو "مچھلی” کی شکل میں دکھایا گیا تھا اور متعدد پتھروں میں تراشے گئے جملے جدہ میں گذرے وقت کی زندگی کا اظہار کرتے تھے۔

    خیال رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے تاریخی جدہ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت "تاریخی جدہ کو زندہ کرنے” کے منصوبے کا آغاز کیا ہے جدہ کی ایک طویل تاریخ ہے جو ہزاروں سال پر محیط ہے۔

    کچھ مورخین اس کی بنیاد تقریباً 3000 سال پر محیط قرار دیتے ہیں اسکالرز کی جانب سے نوادرات کے مطالعات پتا چلتا ہے کہ پتھر کے زمانے سے اس علاقے میں لوگ رہتے تھے مشرقی جدہ میں وادی بریمان اور شمالی جدہ میں وادی بویب میں ثمودی دور کی کتابت اور آثار ملت ہیں۔

    منصوبہ ولی عہد کی تاریخی مقامات کے تحفظ اور بحالی میں دلچسپی کے تناظر میں سامنے آیا ہے تاکہ وژن 2030 کے مقاصد کے حصول اور مملکت کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک کے طور پر عرب اور اسلامی گہرائی کو ظاہر کیا جا سکے۔

  • مقصد انسانیت. تحریر : محمد اسامہ

    مقصد انسانیت. تحریر : محمد اسامہ

    .انسان الله تعالیٰ کی سب اعلیٰ اور افضل مخلوق ہے. انسان کو، "اشرف المخلوقات” بھی کہا جاتا ہے. اللّٰه تعالیٰ کو اپنی عبادت کیلئے فرشتے اور جنات کافی تھے. پھر بھی الله تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی تخلیق کی. انسان کو دنیا میں حاکم بنا کر بھیجا. یہاں تک کہ آگ سے پیدا ہونے والی مخلوق جنات کو بھی انسان کا احترام کرنے کا کہا گیا. انسان کو الله کی طرف سے دنیا کی ہر مخلوق سے برتری حاصل ہے.
    > سوال یہ ہے کہ انسان جیسی مخلوق کی تخلیق کا کیا مقصد ہوسکتا ہے؟
    قرآن مجید میں الله تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی وضاحت ان الفاظ میں کی….
    "انسان کو ہم نے اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے”
    الله تعالی نے انسان کی تخلیق اس انداز میں کی ہے کہ اس کا ڈھانچہ ہڈیوں کا ہے، اس جسم پر جو گوشت ہے وہ مٹی سے بنا ہے یا یوں کہیں کہ انسان کو مٹی اور پانی سے بنایا گیا ہے، انسان کو زندہ رہنے کیلئے پانی اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، اس خوراک کو حاصل کرنے کیلئے اسے تجارت کرنا پڑتی ہے، اس تجارت کیلئے اسے اپنا وقت اور صلاحیتیں لگانا پڑتی ہیں. اگرچہ انسان کو الله نے اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے تو انسان کو تجارت، خوراک جیسی چیزوں سے بری ہونا چاہیے تھا تاکہ وہ اپنی زندگی اور اپنی صلاحیتیں اللّٰه کی عبادت میں لگاتا.
    جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ ایک ایسی مخلوق بھی ہے جو انسان کی پیدائش سے پہلے سے لے کر قیامت تک الله کی عبادت کرنے میں مشغول ہیں، نا انہیں خوراک کی ضرورت ہے اور نا ہی انہیں کسی تجارت کی ضرورت ہے بلکہ وہ دن رات اللّٰه کی عبادت کرتے رہتے ہیں. انہیں "فرشتے” کہا جاتا ہے. اسی طرح انسان کی پیدائش سے پہلے جنات بھی الله کی عبادت کرتے رہتے تھے.
    > سوال یہ ہے کہ جب فرشتے اور جنات الله کی عبادت کرتے رہتے ہیں تو انسان کی تخلیق کیونکر کی گئ؟
    تو جواب یہ ملتا ہے کہ انسان کو الله نے دنیا میں اپنا خلیفہ "جانشین” بنا کر بھیجا ہے. انسان کے ذمے یہ ہے کہ وہ دنیا میں الله کے احکامات کا نفاذ کرے. انسان کو کامل عقل یعنی عقل سلیم بنا کر بھیجا ہے. انسان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ صحیح اور غلط کے فرق کو جان سکے. اپنے نفع اور نقصان کے فرق کو جان سکے. انسان کو دنیا میں زندگی گزارنے کیلئے دو راستے دیے گئے ہیں. ایک اچھائی کا راستہ، دوسرا برائ کا راستہ. یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ کس راستے کو چنتا ہے. انسان کی پیدائش کے بعد سے اب تک دنیا میں مختلف مذاہب آۓ ہیں. ہر مذہب نے انسان کو اچھائی کے راستے پر چلنے اور برائی کے راستے کو چھوڑنے کی تعلیمات دی ہیں. اس دنیا میں اسلام کے علاوہ تمام مذاہب باطن ہوچکے ہیں، بلکہ اسلام کے کے علاوہ تمام مذاہب اپنی اصل کھو چکے ہیں. اس وقت اسلام ہی اپنی اصل میں قائم و دائم ہے. اسلامی تعلیمات کے مطابق اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ انسان کی تخلیق کیوں کی گئی ہے؟
    جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ انسان کو الله نے خاص اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے. مگر انسان کی تخلیق اس انداز میں کی ہے کہ وہ عبادت بھی کرتا ہے، خوراک بھی لیتا ہے، شادی بھی کرتا، تجارت بھی کرتا اور زندگی گزارنے کیلئے جو ضروریات ہیں انکو بھی پورا کرتا ہے. انسان کو اپنی زندگی گزارنے کیلئے ایک مکمل ضابطہ حیات دیا گیا ہے. انسان کو سونے جاگنے، کھانے پینے، رہن سہن زندگی کے ہر لمحے کے طور طریقے بتلائے گئے ہیں.
    اس دنیا میں انسان کی اہمیت یہ ہے کہ وہ مٹی اور پانی سے پیدا ہوا، اس کے جسم میں ایک دل دھڑک رہا ہے، جب اس کا دل دھڑکنا بند ہوجائے گا تو وہ اس دنیا سے کوچ کر جاۓ گا. اپنے ساتھ صرف اپنے اعمال لے کر جاۓ گا. اس ساری بات مقصد یہ ہے کہ موجودہ معاشرے میں انسان نے اپنے آپ کو دنیا کا مالک سمجھ لیا، اپنی زندگی کے خاتمے کو بھول کر صرف دنیا میں مگن ہوگیا ہے. ایک بناوٹی انسان بن گیا ہے، جو ضرورت کے تحت مسکراتا ہے، ضرورت کے تحت غصہ کرتا ہے، ضرورت کے تحت اپنا بناوٹی اخلاق پیش کرتا، ضرورت کے تحت عبادت کرتا ہے. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ خلوص دل سے اپنا اخلاق پیش کرے. اس رویے کے پیچھے ایک ذہن سازی ہے، جو معاشرے میں کی گئی ہے، ہمارے معاشرے میں ایک بات زبان زد عام ہوچکی ہے کہ ہر انسان کی اپنی سوچ ہے وہ جس طرح چاہے اپنی زندگی گزار لے. محترم قارئین/سامعین ہر انسان کی اپنی سوچ نہیں ہے بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات دیا گیا ہے جس کے مطابق اپنی زندگی گزارنی ہے. نا کہ اپنی سوچ، اپنے دل کے مطابق زندگی گزارنے کو کہا گیا ہے. ہمارے دل و دماغ ڈال دی گئی ہے کہ دنیا میں زندہ رہنا ہے تو معاشرے کے ساتھ برابر چلنا ہوگا. یہ نہیں سوچتے کے معاشرہ تو ایک اندھے کنویں کی طرف چل رہا ہے جہاں جا کر انسان کی فطرت انسانیت ختم ہوجاتی ہے، صرف دکھاوا بچ جاتا ہے. اس وقت معاشرے میں مختلف قسم بگاڑ پیدا ہو چکے ہیں. کہاں سے آئے، کیسے آئے!!!
    میں اس پر بات نہیں کرتا، میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بطور انسان اور پھر مسلمان ہم کس جگہ کھڑے ہیں، معاشرے میں ہمارا کیا کردار ہے، معاشرے کی اصلاح کیلئے ہم اپنی زندگی کا کتنا وقت صرف کررہے ہیں، یہ تو نہیں کہ ہم بھی مسلمان ہونے کے باوجود اپنی اصل کو چھوڑ کر باطن میں دھنس رہے ہیں. ہمارے بزرگوں نے جو تربیت کی تھی اس کو بھلا کر نئے دور کے فتنوں کا شکار ہورہے ہیں. محترم قارئین یہ جدید دور کی ترقیاں فتنے ہیں.

    @its_usamaislam

  • بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں زلزلے کے باعث 15 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں زلزلہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 3 بجکر 2 منٹ پر آیا جس نے ہرنائی میں تباہی مچا دی۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 ریکارڈ کی گئی جبکہ زمین میں اس کی گہرائی پندرہ کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز بلوچستان کے علاقے ہرنائی کے قریب تھا۔

    زلزلے کے باعث کئی مکانات گر گئے جن کے ملبے تلے پھنسے افراد کو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت نکالا جبکہ حکومتی مشینری پہنچنے کے بعد بھی ریسکیو کا کام جاری رہا زلزلے سے سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    زلزلے کے بعد بلوچستان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، زخمیوں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچنے پر طبی عملے کو مشکلات کا سامنا رہا۔

    ہرنائی کوئٹہ شہر کے مشرق میں واقع ہے اور اس کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانیں ہیں۔

    بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے ہرنائی میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور ضلع میں ایمرجنسی نافذ کر کے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    وزیر داخلہ نے بتایا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کو متحرک کرکے ہیوی مشینری ہرنائی کے لیے روانہ کردی گئی ہے۔

    ہرنائی میں مقامی صحافی یزدانی ترین نے بتایا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے بہت شدید تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہرنائی شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ہرنائی میں لیویز فورس کے ہیڈکوارٹر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے ہرنائی، شاہرگ اور دیگر علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ متعدد علاقوں میں زلزلے سے گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بعض مقامات پر گھروں کے گرنے سے جانی نقصان ہوا ہے۔

    زلزلے کی خوف کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکل گئے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔

    اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ کے علاوہ مستونگ، پشین، سبی اور متعدد دیگر علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے تاہم ہرنائی کے علاوہ دیگر علاقوں سے تاحال جانی اور مالی نقصانات کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہیں۔

  • زمین کیطرف بڑھتے سیارچے کو راستے سے ہٹانے کیلئے ناسا کا ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان

    زمین کیطرف بڑھتے سیارچے کو راستے سے ہٹانے کیلئے ناسا کا ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان

    ناسا نےنومبر میں ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق زمین کو خلا میں موجود کئی سیارچوں سے خطرات لاحق ہیں ناسا نے زمین کا دفاع کرنے کی حکمت عملی کے تحت مشن شروع کیا ہے ٹیم کے مطابق یہ مشن زمین کی طرف آتے سیارچوں سے بچنے کے لیے مستقبل کے مشنوں میں قیمتی ان پٹ فراہم کرے گا۔

    یکم اکتوبر کو ناسا نے اعلان کیا تھا کہ کیوب سیٹ جو ڈارٹ کے ساتھ روانہ کیا جائے گا تنصیب کے لیے تیار ہے کیوب سیٹ کا وزن 31 پاؤنڈ ہے جو کسی بازو کی لمبائی سے بھی چھوٹا ہے۔

    ڈارٹ ناسا کی سیارچوں کے خلاف دفاعی حکمت عملی کا پہلا حصہ ہے ، جسے یورپی خلائی ایجنسی کے تعاون سے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ زمین کو خطرناک سیارچوں کے ممکنہ اثرات سے بچایا جا سکے۔

    اس مشن کے تحت پہلی دفعہ ناسا ڈارٹ خلائی جہاز 24 نومبر کو اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ سے ڈیڈیموس بائنری کی طرف بھیجے گاجو 2 اکتوبر 2022 کو 2 میں سے 1 سیارچے ‘ڈیڈیمون’ سے 13،500 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹکرا جائے گا۔

    اس کے ذریعے ناسا سیارچے کی رفتار کو ایک فیصد ہی کم کر سکے گا تاہم سائنسدانوں کو سیارچے کی معلومات حاصل کرتے ہوئے اس کے تبدیل شدہ مدار کی پیمائش کرنے کا موقع ملے گا۔

    ڈیڈیمون سیارچہ 2003 میں زمین کے 3.7 ملین میل کے فاصلے پر آیا تھا ناسا کے مطابق ماہرین کو زمین کے قریب 25 ہزار سے زائد اشیا دریافت ہوچکی ہیں، جبکہ مزید کی دریافت میں وقت درکار ہے۔

    160 میٹر چوڑائی پر ڈیڈیمون ایک بہت بڑی خلائی چٹان کے گرد چکر لگا رہا ہے جسے ڈیڈیموس کہا جاتا ہے جو تقریبا 780 میٹر بڑا ہے۔

    ناسا کے مطابق دو سیارچوں میں سے ڈیڈیمون کا زمین سے ٹکرانے کا زیادہ امکان ہے، اس وجہ سے کہ اس کے سائز سے زیادہ خلائی چٹانیں موجود ہیں جس کا ناسا اور سنٹر فار نیر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز نے ابھی تک مشاہدہ نہیں کیا ہے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ اس مشن کے لیے ڈارٹ ٹیکنالوجی پہلی بار استعمال کی جائے گی، جس میں تیز رفتار خلائی جہاز کو خلا میں سیارچے سے مقابلے کے لیے بھیجا جائے گا۔

  • سمندری طوفان شاہین کے عُمان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے       عرب موسمیاتی سروس

    سمندری طوفان شاہین کے عُمان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے عرب موسمیاتی سروس

    سمندری طوفان شاہین عمان کے ساحل سے ٹکرا گیا ہے جبکہ ملک میں کئی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی :”العربیہ” کے مطابق سمندری طوفان "شاہین” آج اتوار کی صبح سلطنت عُمان کے ساحل سے ٹکرا گیا۔ سوشل میڈیا پر عمان میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں اور تیز آندھی کی تصاویر اور وڈیو شئیر کی گئیں-

    عمانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شاہین طوفان کے سبب مسقط صوبے میں انتہائی تیز بارشیں ہو رہی ہیں شہری دفاع کے مطابق صوبے میں بارش کے دوران سواریوں میں پھنس جانے کے 9 واقعات کی اطلاع ملی اس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 25 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔


    قدرتی آفات کے پیشگی انتباہی قومی مرکز کے مطابق شاہین طوفان کا مرکز مسقط صوبے سے تقریبا 130 کلو میٹر دور ہے۔ مرکز کے گرد ہوا کی رفتار کا اندازہ 116 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔

    "شاہین”سمندری طوفان نے گوادرکے ساحل پرہلچل مچادی:کشتیاں الٹ گئیں،خطرے…

    عرب موسمیاتی سروس کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان شاہین کے عُمان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔


    عُمان کی شہری ہوابازی کی ایجنسی نے کہا ہے کہ قومی قدرتی آفات پیشگی انتباہی مرکز کی تازہ سیٹلائٹ تصاویر اور موسمی چارٹس کے تجزیے سے پتا چلا ہے کہ سمندری طوفان ’’شاہین‘‘ شدت اختیار کرچکا ہے اور اب وہ سمندری طوفان کی کیٹگری ایک میں شامل ہے۔

    عمان میں حکام نے سمندری طوفان شاہین کی وجہ سے خراب موسمی حالات کے پیش نظر اتوار اور پیر (3 اور 4 اکتوبر) کو ملک بھر میں سرکاری تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

    عمان کی خبررساں ایجنسی نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’3 اور 4 اکتوبر 2021 کو سلطنت میں نامساعد آب وہوا کے حالات کے پیش نظر ظفاراورالوسطیٰ کی گورنریوں کے سوا ریاستی انتظامی محکموں، دیگر قانونی اداروں اور نجی شعبے کے اداروں کے ملازمین کے لیے سرکاری تعطیل ہوگی۔‘‘


    موسمیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ طوفان عمان پراثرانداز ہونے کے بعد خلیج عرب کی طرف بڑھے گا اوراس سے قطر بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

    سنہرے مستقبل کے لیے بیرون ملک جانے والےجہلم کے نوجوانوں کا گروپ تاوان کےلیے اغواء

    اس سے قبل عمان کے شہری ہوا بازی کے ادارے نے خبردار کیا تھا کہ اس طوفان کے سبب تیز ہوائیں چلیں گی اور200 سے 600 ملی میٹرتک موسلا دار بارش ہو گی۔ بارش کے نتیجے میں شمالی البطینہ، جنوبی البطینہ، مسقط، الظہیرہ، البریمی اورالداخلیہ میں شدید سیلاب کا خطرہ ہے۔


    عمان میں ہفتے کے روز الخابورہ اور صحم میں ساحلی علاقوں سے شہریوں کو نکال کر پناہ کے مراکز منتقل کر دیا گیا تھا۔ ادھر عمانی وزارت صحت نے شاہین طوفان کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایمرجنسی پلان نافذ کر دیا۔

    یاد رہے کہ گذشتہ 130 برسوں کے دوران میں 46 طوفان عُمان کے ساحلوں تک پہنچے ہیں-

    دوسری جانب سمندری طوفان سے گوادر کے ساحل سے بھی اونچی لہریں ٹکرا رہی ہیں اور سمندر میں طغیانی بھی ہے۔ حکام نے ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی ہے۔

    مقام براہیم پر خانہ کعبہ کا عکس، تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

  • اسلام آباد اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    اسلام آباد اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 4.5 ریکارڈ کی گئی ہے۔ زلزلہ کی گہرائی زیرزمین 23 کلومیٹر اورمرکز اٹک سے 28 کلومیٹر جنوب میں تھا۔

    سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    ابتدائی طور پر زلزلے سے کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی زلزلے کے وقت لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    پاکستان میں زلزلہ پروف 5 مرلے کا گھر صرف 40 دن میں تیار ہو گا ، خالد منصور کا…

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.58 اور گہرائی 150 کلومیٹر زیر زمین ریکارڈ کی گئی زلزلے کا مرکز پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔

    جبکہ اس سے دو روز پہلے ( ہفتہ کو) بھی سوات میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جن کی شدت چار اور گہرائی 180 کلومیٹر زیر زمین تھی۔

    کراچی میں آج سے 4 روزہ جزوی ہیٹ ویو شروع ہونے کا امکان محکمہ موسمیات

  • سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    خیبر پختونخوا کے ضلع سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.58 اور گہرائی 150 کلومیٹر زیر زمین ریکارڈ کی گئی زلزلے کا مرکز پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔

    پنجاب بھر کے میڑک اور انٹرمیڈیٹ کلاس کا رزلٹ کب جاری ہو گا؟ تاریخ سامنے آ گئی

    خیال رہے کہ دو روز پہلے ( ہفتہ کو) بھی سوات میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جن کی شدت چار اور گہرائی 180 کلومیٹر زیر زمین تھی۔

    زلزلے کیسے اور کیوں آتے ہیں؟

    زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

    زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

    کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

    پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔

    کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔

    کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔

    دوسری طرف قد یم زمانے میں زلزلے سے عجیب طرح کی روايات اور کہانیاں منسوب تھیں۔ جیسے ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا کہ ایک بہت بڑے بیل نے زمین کو اپنے ایک سینگ پر اٹھایا ہوا ہے۔ جب وہ سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

    یونان کی دیومالائی کہانیوں میں بتایا گیا ہے کہ سمندر کا دیوتا پوسیڈان جب اپنی برچھی زمین کو چبھوتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے قدیم یونانی فلاسفروں کا خیال تھا کہ زمین کے اندر گیسیں بھری ہوئی ہیں جب گیسیں باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہیں تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

    پی ٹی آئی اور فواد چوہدری پر میڈیا میں پابندی لگ جائے تو فیک نیوز کا خاتمہ ہو جائے گا رانا ثنا…

    اٹھارہویں صدی تک نیوٹن سمیت مغربی سائنس دان اس نظریے کے حامی تھے کہ زمین کی تہوں میں موجود آتش گیر مادوں کے پھٹنے سے زلزلے آتے ہیں۔

    لاس اینجلس کی ساؤتھ کیرولائنا یونیورسٹی کے ایک ماہر جان ویڈیل کہتے ہیں کہ زمین کے اندر موجود چٹانی پرتیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں اور جب وہ اپنی جگہ سے کھسکتی ہیں تو ان کے کناروں پر شدید دباؤ پڑتا ہے اور جب یہ دباؤ ایک خاص سطح پر پہنچتا ہے تو وہ زلزلے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

    زلزلے کے جھٹکوں سے زمین کی سطح پر موجود چیزوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ عمارتیں اور دوسری تنصیبات گر جاتی ہیں۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں۔ درخت اور بجلی کے پول زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ اگر متاثرہ علاقے میں دریا یا جھیلیں ہوں تو ان کی جگہ بدل سکتی ہے۔ پہاڑوں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔

    اگر زلزلے کا مرکز سمندر کی تہہ یا ساحلی علاقوں کے قریب ہو تو سمندری طوفان اور سونامی آ سکتے ہیں اور بپھری لہریں ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔

    مجھے سخت مایوسی ہوئی ہے کہ کسی حکومتی شخصیت نے میری تیمارداری نہیں کی ڈاکٹر…

    ہماری زمین کے بعض حصوں کے نیچے چٹانوں کی پرتیں اس نوعیت کی ہیں کہ ان میں نسبتاً زیادہ حرکت ہوتی ہے۔ چنانچہ ان علاقوں میں زلزلے بھی کثرت سے آتے ہیں۔ بعض ملک اور علاقے زلزلوں کے زون میں واقع ہیں ان میں نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، فلپائن، جاپان، روس، شمالی امریکہ میں بحرالکاہل کے ساحلی علاقے، وسطی امریکہ، پیرو اور چلی شامل ہیں۔ اسی طرح بحرالکاہل کے کئی حصے بھی ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں زیادہ زلزلے آنے کا خدشہ رہتا ہے۔

    ریکٹر اسکیل کیا ہے؟

    ریکٹر اسکیل ایک پیمانہ ہے جس سے زلزلے کی شدت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریکٹر اسکیل کے موجد ایک امریکی سائنس دان چارلس ریکٹر ہیں جنہوں نے 1935 میں ایک آلہ متعارف کرایا تھا جس میں ایک سے 10 کے اسکیل پر زلزلے کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔

    اداکارہ ایمن سلیم نے اچانک شوبز چھوڑنے کے راز سے پردہ اٹھا دیا

    زلزلے کی اقسام

    زلزلوں کو عمومی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ریکٹر اسکیل پر چار درجے سے کم شدت کے زلزلوں کو معمولی یا کمزور نوعیت کا زلزلہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے زیادہ نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا۔

    چار سے زیادہ اور چھ سے کم درجے کا زلزلہ درمیانی شدت کا زلزلہ کہلاتا ہے، جس سے تھوڑا بہت نقصان پہنچ سکتا ہے، جیسے چینی کے برتن اور پلیٹیں وغیرہ ٹوٹ سکتی ہیں۔ جب کہ ریکٹر اسکیل پر 6 سے 7 شدت کے زلزلے عمارتوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جب زلزلے کی شدت 8 کے ہندسے بڑھتی ہے تو وہ تباہ کن شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عمارتیں ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو سکتی ہیں، سڑکیں اور ریلوے لائنیں ٹوٹ پھوٹ سکتی ہیں۔

    زلزلے میں کیا کرنا چاہیے؟

    زلزلے کی صورت میں فوری طور پر عمارت سے باہر کھلی جگہ پر چلے جانا چاہیے۔ اگر باہر نکلنا ممکن نہ ہو تو میز یا اسی نوعیت کی کسی دوسری چیز کے نیچے پناہ لینی چاہیے تاکہ آپ خود کو چھت یا دیواروں سے ممکنہ طور پر گرنے والے ملبے سے بچا سکیں زلزلے کے دوران کھڑکیوں، بھاری فرنیچر اور بڑے آلات وغیرہ سے دور رہیں۔

    امریکہ میں عمر شریف کا علاج اداکارہ ریما خان کے شوہر کریں گے

  • امریکا:لوزیانا کو کیٹگری 4 شدت کے انتہائی شدید طوفان کا سامنا

    امریکا:لوزیانا کو کیٹگری 4 شدت کے انتہائی شدید طوفان کا سامنا

    امریکی ریاست لوزیانا سے کیٹگری 4 شدت کا انتہائی شدید طوفان آئیڈا ٹکرانے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

    باغی ٹی وئ :رپورٹ کے مطابق کیٹگری 4 شدت کا انتہائی شدید طوفان آئیڈا امریکی ریاست لوزیانا (Louisiana) سے ٹکرا گیا۔ جس کے بعد وہاں تیز بارشوں کے ساتھ 150 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں جو گھروں اور مالز کی چھتے تک اڑا کر لے گئی۔

    رپورٹس کے مطابق ہزاروں افراد علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں، تاہم علاقے میں رہ جانے والے افراد کو طوفان کے گزر جانے تک محفوظ مقام پر رہنے اور احتیاط کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طوفان کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے بنائی گئی پناہ گاہیں کرونا وبا کے تیزی سے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔

    امریکی پاور آوٹیج کے مطابق اس وقت امریکی ریاست میں 5 لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہیں جبکہ نیو اورلینز شہر کو بجلی پہنچانے والی تمام آٹھ ٹرانسمیشن لائنیں سروس سے باہر ہیں۔

    سمندری طوفان "اڈا” (IDA ) آج امریکی گلف کوسٹ سے ٹکرائے گا

    لوزیانا کے محکمہ ٹرانسپورٹیشن کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر درخت گرنے کے باعث حادثات سے بچنے کے لیے ٹریفک کا نظام بھی روک دیا گیا ہے۔

    ریاستی گورنر کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان آئیڈا لوزیانا میں آنے والے مضبوط ترین طوفانوں میں سے ایک ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق آئیڈا پچھلے سال آنے والے سمندری طوفان لورا اور 1856 کے سمندری طوفان کے ساتھ ریاست کا اب تک کا سب سے طاقتور طوفان ہے۔

    لوزیانا کے گورنر نے لوگوں سے گھروں میں رہنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

  • سمندری طوفان "اڈا” (IDA ) آج امریکی گلف کوسٹ سے ٹکرائے گا

    سمندری طوفان "اڈا” (IDA ) آج امریکی گلف کوسٹ سے ٹکرائے گا

    سمندری طوفان "اڈا” (IDA ) آج امریکی گلف کوسٹ سے ٹکرائے گا۔

    باغی ٹی وی: "روئٹرز” کے مطابق سمندری طوفان اڈا نے ہفتہ کو گرم خلیج میکسیکو کے پانیوں میں شدت اختیار کی ، جس سے دسیوں ہزار افراد ساحلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ، جبکہ صدر جو بائیڈن نے طوفان کے گزرنے کے بعد ریاستوں کو جلد صحت یاب ہونے میں مدد دینے کا وعدہ کیا۔

    پیشن گوئی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اڈا اتوار کی رات کو امریکا کے مقام پر پہنچ سکتا ہے جو کہ پانچ قدمی سیفیر سمپسن اسکیل پر "انتہائی خطرناک” زمرہ 4 کا طوفان ہے ، جس سے 140 میل فی گھنٹہ (225 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں ، شدید بارشیں اور سمندری طوفان۔ لوزیانا کے ساحل کا بیشتر حصہ کئی فٹ پانی کے نیچے ڈوب گیا۔

    قومی سمندری طوفان کے مرکز نے بتایا کہ ہفتہ کی شام اڈا مسیسیپی دریا کے تقریبا 200 میل (320 کلومیٹر) جنوب مشرق میں تھا ، 105 میل فی گھنٹہ (169 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی تیز ہواؤں کو پیک کر رہا تھا اور لوزیانا کے ساحل کا مقصد تھا۔

    رونالڈو کی پریمیئر لیگ کے کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں واپسی، تنخواہ کتنی ہو گی؟

    رپورٹس کے مطابق حکام نے طوفان کو انتہائی خطرناک بھی قرار دے دیا ہے، طوفان سے لوزیانا اور مسیسپی کے ساحلی علاقے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق حکام نے علاقے میں رہائش پذیر افراد کو علاقہ چھوڑنے کا بھی کہہ دیا ہے گزشتہ روز ان علاقوں میں معمول سے زیادہ ٹریفک دیکھا گیا، کئی علاقوں میں پیٹرول پمپس پر پیٹرول بھی ختم ہوگیا جبکہ جن پمپس پر فیول دستیاب ہے وہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

    تیل اور ٹرانسپورٹیشن کمپنیوں کو موسمی مشورے فراہم کرنے والے ڈی ٹی این کے چیف موسمیاتی ماہر جم فوسٹر نے کہا ، "ہم دھماکا خیز ترقی کے بارے میں فکرمند ہیں۔”

    این ایچ سی نے کہا اڈا کے طوفان کی لہر سے سیلاب – طوفان کی ہواؤں سے چلنے والا اونچا پانی – دریائے مسیسیپی کے ارد گرد 10 سے 15 فٹ (3 اور 4.5 میٹر) تک پہنچ سکتا