Baaghi TV

Category: کشمیر

  • پاکستان نیوی وارکالج لاہورمیں کشمیر پرسیمینارکا انعقاد ،صدرآزادکشمیرکا شاندارخطاب

    پاکستان نیوی وارکالج لاہورمیں کشمیر پرسیمینارکا انعقاد ،صدرآزادکشمیرکا شاندارخطاب

    لاہور : پاکستان کبھی کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا ،کشمیر ضرور بنے گا پاکستان یہ نعرے تھے آج پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کے زیر انتظام ‘مسئلہ کشمیر – بھارتی آئین کے آرٹیکل35-A اور 370 کی تنسیخ: علاقائی و عالمی سلامتی پر اسکے مضمرات’ کے عنوان پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔یہ سیمینار پاک بحریہ کے زیر انتظام ہونے والی میری ٹائم سیکیورٹی ورکشاپ 2019 کے سلسلے کی کڑی ہے جو 4 سے 12 دسمبر 2019 تک منعقد کی جا رہی ہے۔

    ایرانی شہریوں اورسائنسدانوں کوامریکہ کا سفرنہ کرنےکی ہدایت

    پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کے زیر انتظام ‘مسئلہ کشمیر – بھارتی آئین کے آرٹیکل35-A اور 370 کی تنسیخ: علاقائی و عالمی سلامتی پر اسکے مضمرات’ کے عنوان پر ایک روزہ سیمینار کی تقریب میں صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے پہلے سیشن کی صدارت کی جبکہ چیئرمین کشمیر کمیٹی، سید فخر امام نے دوسرے سیشن کی صدارت کی۔اس سیمینار کا مقصد پالیسی ساز، سکالرز اور میڈیا کے لوگوں کو اکٹھا کر کے انہیں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم اور اس کے پاکستان اور خطے کے لئے خطرات کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔

    پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کے زیر انتظام ‘مسئلہ کشمیر – بھارتی آئین کے آرٹیکل35-A اور 370 کی تنسیخ: علاقائی و عالمی سلامتی پر اسکے مضمرات’ کے عنوان پر ایک روزہ سیمینارکے تحت حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ 5 اگست کو اٹھائے جانے والے بھارتی اقدامات بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کی واضح خلاف ورزی ہیں۔صدر آزاد جموں و کشمیر نے اس سمینار کے انعقاد سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں شعور اجاگر کرنے پر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ اپنے کشمیری بھائیوں کی حق اور سچ پر مبنی آواز کو اجاگر کرنے کے لئے دیگر یونیورسٹیاں بھی اسی طرح کے سیمینار پورے پاکستان میں منعقد کریں گی۔

    فلوریڈا نیول بیس پرحملہ:امریکہ میں سعودی کیڈٹوں پرتربیتی جنگی طیارے اڑانے پرپابندی

    ذرائع کے مطابق دوسرے سیشن کے مہمان خصوصی چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیرکشمیری عوام کی رضامندی کے بغیر حل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنا اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے۔ معزز مہمان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

    پی آئی سی حملہ، وکلا کے خلاف کریک ڈاؤن، بارکونسل کے صدرسمیت 23 گرفتار

    پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کے زیر انتظام ‘مسئلہ کشمیر – بھارتی آئین کے آرٹیکل35-A اور 370 کی تنسیخ: علاقائی و عالمی سلامتی پر اسکے مضمرات’ کے عنوان پر ایک روزہ سیمینارمیں‌قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز، وائس ایڈمرل (ر)عبد العلیم نے اپنے استقبالیہ خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بدترین ریاستی جبر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن پراکسی وار کا اعلان کیا اور تمام خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

    شوارماکھانےسے262 افراد ہسپتال پہنچ گئے،ایمرجنسی نافذکردی گئی

    سیمینار کے دوران مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مقررین جن میں جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال ، سابق سفیر عارف کمال ، صدر اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ ،وائس ایڈمرل (ر) خان ہاشم بن صدیق، فیکلٹی آف بزنس ایڈمنسٹریشن آئی بی اے کے ایسوسی ایٹ ڈین، ڈاکٹر ہما ناز بقائی، اور مسٹر سلیم بخاری ، ایڈیٹر دی نیشن نے مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوﺅں اور خطے میں اس کے اثرات پر بات کی۔

    وکلاگردی،ہڑتال کا اعلان،ہسپتالوں پردشمن بھی حملے نہیں کرتے یہ توانسانیت کے دشمن…

    سیمینار میں دیگرمعزز شخصیات جن میں ، فوجی افسران، شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے افراد، تِھنک ٹینکس کے ریسرچرز ، میڈیا نمائندگان اور بحریہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

  • عالمی کانفرنس میں کشمیرسٹال، دنیا بھر سے آئے وفود کی توجہ کا مرکز

    عالمی کانفرنس میں کشمیرسٹال، دنیا بھر سے آئے وفود کی توجہ کا مرکز

    اسلام آباد: عالمی کانفرنس میں کشمیر سٹال، دنیا بھر سے آئے وفود کی توجہ کا مرکز ،اطلاعات کے مطابق مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے روس کے شہر سوچی میں عالمی والنٹیرز کانفرنس میں کشمیر سٹال توجہ کا مرکز بنا رہا،

    پی آئی سی حملہ، وکلا کے خلاف کریک ڈاؤن، بارکونسل کے صدرسمیت 23 گرفتار

    کشمیر سٹال کا اہتمام کشمیر یوتھ الائنس کے ترجمان مخدوم شہاب الدین نے کیا، دنیا بھر سے آئے وفود نے کشمیر سٹال کا دورہ کیا اور مسئلہ کشمیر کی تاریخ، حقائق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ نوجوان ایکٹیوسٹ مخدوم شہاب الدین نے کہا کہ روس میں دنیا بھر سے آئے نوجوانوں نے کشمیر کے مسئلے پر بھارت کو آڑے ہاتھوں لیا،

    وکلاگردی،ہڑتال کا اعلان،ہسپتالوں پردشمن بھی حملے نہیں کرتے یہ توانسانیت کے دشمن…

    نوجوانوں کا کہنا تھا کہ کشمیر کے عوام کو ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا مکمل حق ہے جو حق انہیں اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی دیتیں ہیں۔ کشمیر کے حوالے سے عالمی فورم پر موثر آواز اٹھانے پر کشمیر یوتھ الائنس کے چیئرمین سعد ارسلان صادق، صدر ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی سمیت مجلس عاملہ نے مخدوم شہاب کو خراج تحسین پیش کیا۔

    پارٹی فنڈنگ ن لیگ خود پھنس گئی ، ڈونرزکی تفصیلات نہ دے سکی

  • بھارتی قبضے اور فوج کے مظالم کی وجہ سے مقبوضہ کشمیرمیں سیاحوں کی تعداد میں87 فیصد کمی

    بھارتی قبضے اور فوج کے مظالم کی وجہ سے مقبوضہ کشمیرمیں سیاحوں کی تعداد میں87 فیصد کمی

    جموں:بھارتی قبضے اور فوج کے مظالم کی وجہ سے مقبوضہ کشمیرمیں سیاحوں کی تعداد میں87 فیصد کمی،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں موجودہ غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے گذشتہ سال اگست اور نومبر کے درمیان کشمیر آنے والے سیاحوں کی تعداد 2.49 لاکھ تیزی سے کم ہوکر اب 32000ہوگئی ہے۔

    سقوط ڈھاکہ!عیاری وغداری کی شرمناک داستان…از..سید زید زمان حامد

    بھارت کی مرکز ی حکومت نے جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دینے اور اس کو جموں و کشمیر کے مرکزی علاقوں اور لداخ میں تقسیم کرنے کے لئے آرٹیکل 370 کی دفعات کو منسوخ کرنے کے 5 اگست کے فیصلے سے کچھ دن پہلے ، ایک ایڈوائزری جاری کی تھی جس میں سیاحوں کو کشمیر چھوڑنے کے لئے کہا گیا تھا۔

    روہنگیا کےمسلمانوں کو کبھی بھارتی شہریت نہیں دی جائے گی:امت شاہ

    مقبوضہ کشمیر میں محکمہ سیاحت کے ذریعہ مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق اگست سے نومبر 2018 کے درمیان کشمیری سیاحوں کی تعداد 2.49 لاکھ سے 87 فیصد کم رہی ہے۔ اس سال جون اور جولائی میں وادی میں بالترتیب 1.62 لاکھ اور 1.49 لاکھ بھارتی سیاح آئے۔

    نوشین شاہ کیٹ واک کےدوران کیا گریں‌! کہ تنقید کے حملے شروع ہوگئے، نمرہ خان

    غیر ملکی سیاحوں کی آمد کے لحاظ سے 82فیصد کمی ہوئی ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق اکتوبر میں 9327سیاح کشمیر آئے۔ نومبر میں ،10946 بھارتی اور 1140غیر ملکی سیاح کشمیر آئے جو ستمبر کی تعداد سے دوگنا تھے۔ غیر ملکی سیاح زیادہ تر ملائشیا ، ہانگ کانگ ، تھائی لینڈ ، آسٹریلیا اور انڈونیشیا سے ہیں۔

    ” انسانی حقوق (Human Rights) آزادی اورحقوق کا نظریہ…از..عبد الرحمن…

    ساؤتھ ایشین وائر کو محکمہ سیاحت کے ایک عہدیدار نے بتایاکہ جب اگست کے اوائل میں ٹریول ایڈوائزری جاری کی گئی تو وادی کے اندر اور باہر خوف کا نفسیاتی ماحول پیدا ہوگیااور سیاح وہاں سے چلے گئے تاہم نومبر کے بعد سے سیاحوں کی آمد میں معمولی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

    دوبہنوں اوروالد کوقتل کرنےوالاتہرے قتل کاملزم رہا،رہاکیسےہوا اہم وجہ سامنے آگئی

    انہوں نے کہا کہ متعدد ممالک نے کشمیر جانے کے لئے ایڈوائزری جاری کرنے کے باوجود،اگست سے نومبر تک 3341غیر ملکی سیاحوں نے وادی کا دورہ کیا۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں صورتحال میں بہتری آئے گی۔ اگر انٹرنیٹ پر عائد پابندی ختم کردی گئی ہے تو اس کا سیاحوں کی کشمیر آمد پر بہت زیادہ اثر پڑے گا۔

    لال چوک میں ایک ہوٹل اورریستوراں کے مالک لطیف لون کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے ، سیاحت کی صنعت کو سنجیدہ ہینڈ ہولڈنگ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ وینٹیلیٹر پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس مشکل وقت سے بچنے کے لئے بیل آؤٹ پیکجزکی ضرورت ہے۔

    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ پچھلے چار ماہ کشمیر کی سیاحت کی صنعت کے لئے واقعی سخت تھے اور اگر اس کی بحالی کے لئے فوری اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو اس سے وابستہ بیشتر افراد اپنی روزی روٹی سے محروم ہوجائیں گے۔

    بھارتی مسلمان سخت پریشان، مسلم مخالف بل منظورکرنے پربھارت میں مظاہرے پھوٹ پڑے

    5 اگست کے بعد کی صورتحال سے سیاحت ، دستکاری اور ای کامرس کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
    تاہم ، اس وقت کے لئے ، سیاح ، جو کشمیر کا رخ کررہے ہیں ، موجودہ غیر یقینی صورتحال کے باوجود لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ممبئی سے تعلق رکھنے والے راہول کھنہ ، جنہوں نے پانچ دن اپنے کنبے کے ساتھ کشمیر میں گزارے، کہتے ہیں، یہاں آکر خوشی ہوئی۔

    یہ واقعی میرے اور میرے اہل خانہ کے لئے ایک خوشگوار سفر تھا۔ ہم کشمیر کے مہمان نواز اور خیال رکھنے والے لوگوں کو کبھی نہیں فراموش کریں گے۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا ، "کشمیر میں بے شمار تاریخی اور تاریخی مقامات ہیں جن کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے اور ان کی اہمیت اور مطابقت کے بارے میں معلومات ریاست اور اندرون ملک کے مختلف حصوں میں لوگوں تک پہنچائیں۔”

  • 80 لاکھ کشمیری بھارتی جبرسےنجات کیلئےدنیاکی طرف دیکھ رہےہیں، شاہ محمود قریشی

    80 لاکھ کشمیری بھارتی جبرسےنجات کیلئےدنیاکی طرف دیکھ رہےہیں، شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد :80 لاکھ کشمیری بھارتی جبرسےنجات کیلئےدنیاکی طرف دیکھ رہےہیں، وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی عروج پرہے،80 لاکھ کشمیری بھارتی جبرسے نجات کیلئےدنیاکی طرف دیکھ رہے ہیں،عالمی برادری مسئلہ کشمیرحل کرائے۔

    وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق انسانی حقوق کےعالمی دن پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھرمیں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جارہا ہے،آج اقوام عالم کی توجہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق پر دلانا چاہتا ہوں، نہتے80 لاکھ کشمیری127روز سے کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے اور ذرائع مواصلات پر پابندی بدستور جاری ہے ، اصل حقائق دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا جارہا ہے۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ 80 لاکھ کشمیری بھارتی جبر سے نجات کیلئے دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں، عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرائے۔

    یاد رہے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور پابندیوں کا آج 128 واں دن ہے، بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کی آواز پر آج مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔دوسری طرف کرفیواورسخت ترین پابندیوں کے باوجود کشمیریوں کی تحریک آزادی میں بالکل کمی نہیں آئی بلکہ کشمیری کہتے ہیں‌کہ آزادی کے علاوہ ان کو اور کوئی آپشن قبول نہیں‌

  • مقبوضہ کشمیر:کرفیواورپابندیوں کا 128 واں دن، کشمیری آزادی چاہتے ہیں‌

    مقبوضہ کشمیر:کرفیواورپابندیوں کا 128 واں دن، کشمیری آزادی چاہتے ہیں‌

    سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور پابندیوں کو 128 روز ہو گئے، انسانی حقوق کے عالمی دن کو دنیا بھر میں آج کشمیری یوم سیاہ کے طور منا رہے ہیں، بھارتی فوج 1989 سے اب تک 95 ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے۔

    نوشہرہ کابل ریورمیں غیرقانونی تجاوزات کیخلاف کارروائی،قیمتی اراضی واگزار

    مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا بربریت اور سفاکی کا کھیل جاری ہے ، مسلسل لاک ڈاؤن اور پابندیاں 128 ویں روز میں داخل ہو چکی ہیں۔ مقبوضہ وادی میں آج بھارتی مظالم کے خلاف مکمل شٹر ڈاؤن ہے۔ اسکول، دکانیں اور کاروبار بند ہیں ، سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔

    دوسری جانب کشمیر میڈیا سروس نے انسانی حقوق کی عالمی دن پر مقبوضہ وادی میں بھارتی ظلم و ستم پر رپورٹ ریلیز کی ہے ، رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے اب تک 95 ہزار 471 مظلوم کشمیری بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے شہید ہو چکے ہیں۔

    مسلمانوں کےسواتارکین وطن کوبھارتی شہریت دینےکا ترمیمی بل منظور،مسلمان خوفزدہ…

    7 ہزار ایک سو 35 کشمیریوں کو دوران حراست شہید کیا گیا۔ ان شہادتوں نے 22 ہزار نو سو دس خواتین کو بیوہ اور 1 لاکھ سات ہزار سات سو اسی بچوں کو یتیم بنایا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے11 ہزار 175 خواتین کی بے حرمتی کی اور کشمیریوں کے ایک لاکھ سے زائد مکانات اور دوسری جائیدادوں کو برباد کیا ، اس دوران 8 ہزار کشمیری لاپتہ ہو چکے ہیں۔

    بھارتی متنازع بل آرایس ایس ہندوراشٹریہ کےتوسیعی منصوبےکاحصہ ہے،مذمت کرتے ہیں…

    آج بھی بھارتی استعمار نے تمام حریت قیادت کو گھروں میں نظر بند یا سلاخوں کے پیچھے قید کیا ہوا ہے۔ کم عمر نوجوانوں سمیت ہزاروں لوگ بے یارو مدگار قید خانوں میں پڑے ہیں۔

  • پاکستانی قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ کشمیر کے لئے باہرنکلیں ، مشال ملک

    اسلام آباد:پاکستانی قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ کشمیر کے لئے باہر نکلیں ، اطلاعات کے مطابق یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے کہا ہے کہ کشمیر میں ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جا رہی ہیں عوام حق خودارادیت میں کشمیریوں کا ساتھ دیں۔

    عمران خان کی مخالفت کرتے رہیں گے،یہ میرے قائد کا فرمان ہے ، خواجہ آصف

    انسانی حقوق کے عالمی دن سے متعلق یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے اپنے ویڈیو پیغام میں قوم سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار مہینے سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے کشمیر میں کرفیو ہےکشمیری بھوکے پیاسے تڑپا تڑپا کر شہید کئے جا رہے ہیں۔مشال ملک نے یہ بھی کہا کہ یاسین ملک کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے،تمام حریت قیادت اس وقت کشمیر میں نظربند ہے۔

    مریم کے ابوچوراورآزاد،میرے ابوبےگناہ مگرجیل میں‌،کیایہ کھلا تضاد نہیں، بلاول

    ذرائع کے مطابق یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے مزید کہا کہ میں انسانی حقوق کے عالمی دن 10 دسمبر پر تمام قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ کشمیر کے لئے باہر نکلیں کیونکہ مجھے پاکستانی ماؤں ،بہنو ، بیٹیوں، بھائیوں سب کا ساتھ چاہیے۔یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا کرفیو اور محاصرہ 127 ویں روز بھی جاری ہے۔

    ابوکہتے ہیں‌ میں نے پاکستان نہیں جانا ،نوازشریف کی ضمانتی مدت میں اضافہ مانگیں گے،…

  • کشمیرکے پانیوں سے بجلی بھارت کے لیے،کشمیری محروم، سولر انورٹرز کا سوچنے لگے

    سرینگر: کشمیرکے پانیوں سے بجلی بھارت کے لیے،کشمیری محروم، مجبورا سولرانورٹرزکاسوچنے لگے،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے مضافاتی علاقوں میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے سولر انورٹر کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔

    دہلی:لاشوں کےڈھیرلگ گئے،فیکٹری میں آتش زدگی، 57 افراد ہلاک

    سری نگر سے ذرائع کےمطابق اس کی بڑی وجہ بھارت کشمیرکے پانیوں سے خود توروشن ہے مگرکشمیریوں‌ کو کشمیر کے پانی سے بننے والی بجلی نصیب نہیں‌، دوسری جو وجہ بتائی جارہی ہے اس کے مطابق وادی کشمیر میں شدید بارش اور برفباری کی وجہ سے بجلی کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچتا ہے ایسے میں دور دراز علاقوں کے لوگ بعض مرتبہ ہفتوں تک بجلی سے محروم ہو جاتے ہیں۔

    ٹرمپ جب بھی بولتا ہے پتھرتولتاہے،کوریائی "راکٹ مین” کاسخت جواب

    دور دراز علاقوں کے علاوہ شہروں اور قصبہ جات میں بھی شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے مختلف آلات کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس میں زیادہ تر روشنی اور پانی گرم کرنے کے آلات کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے۔ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والے طارق احمد نے بتایا کہ 2010 سے سولر انورٹر کی مانگ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے

    مجھے آگے کرکے پیچھے ہٹناحرام،مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن پرفتویٰ‌ داغ دیا

    طارق احمد نے مزید کہا کہ کئی سال قبل عوام کو راغب کرنے کی غرض سے بھارتی حکومت کی جانب سے سولر انورٹر پر 40 فیصد سبسڈی بھی دی جاتی تھی جسے 2016 میں روک دیا گیا۔ سولر انورٹر کی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے سبسڈی کے بغیر بھی لوگ سولر انورٹر اور سولر گیزرز کو گھروں میں نصب کر رہے ہیں،

    مقبوضہ کشمیرچپےچپےپرفوج، پھربھی کشمیری مجاہدین کاخوف، وادی میں الرٹ جاری کردیا گیا

    تاہم انکے مطابق قصبہ جات کے مقابلے میں دور دراز اور مضافاتی علاقوں میں ان کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے۔ شمسی توانائی سے چلنے والے آلات کا استعمال نجی اور فلاحی اداروں کے علاوہ اب سرکاری دفاتر میں بھی کیا جاتا ہے

  • امریکی ایوان نمائندگان میں کشمیرپربل پیش، بھارت سے کرفیوختم کرنے کا مطالبہ

    واشنگٹن :امریکی ایوان نمائندگان میں کشمیر سے متعلق بل پیش کر دیا گیا جس میں بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کی بندش اور نظربندیوں کوختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس سے پہلے بھی امریکی ایوان کے نمائندگان بھارت سے مقبوضہ کشمیرسے لگائی جانے والی پابندیاں ہٹانے کامطالبہ کرچکے ہیں‌،

    مقبوضہ کشمیرچپےچپےپرفوج، پھربھی کشمیری مجاہدین کاخوف، وادی میں الرٹ جاری کردیا گیا

    واشنگٹن سے ذرائع کے مطابق ڈیمو کریٹک پارٹی کی پرمیلاجے پال اورریپبلکن پارٹی کے سٹیو واٹکنز کی طرف سے پیش کئے گئے بل میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں مواصلاتی بندش ختم کی جائے اور گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔

    کرکٹرفوادعالم کی رگوں میں کیا ہے، خودہی بتاکرسب کوحیران کردیا

    امریکی ایوان نمائندگان کے اس بل میں شہریوں کی مذہبی آزادی کا احترام کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی مبصرین اور صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی فراہم کرے۔

    ملک میں‌ وسیع پیمانے پر تیل کے ذخائر کی دریافت، ہرطرف خوشی کاسماں

    واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست سے وادی میں مسلسل کرفیو نافذ کر رکھا ہے جو انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، چین، امریکہ سمیت کئی ممالک بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں جبری پابندیاں ختم کرنے کا کہہ چکے ہیں تاہم بھارت ہٹ دھرمی قائم رکھے ہوئے ہے۔

  • مقبوضہ کشمیرچپےچپےپرفوج، پھربھی کشمیری مجاہدین کاخوف، وادی میں الرٹ جاری کردیا گیا

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرچپےچپےپرفوج، پھربھی کشمیری مجاہدین کاخوف، وادی میں الرٹ جاری کردیا گیا ،اطلاعات کے مطابق جموں ، پیرپنچال ، خط چناب میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے جبکہ تمام فورسز کیمپوں کے اردگرد چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔ خفیہ اداروں کی جانب سے الرٹ جاری کرنے کے بعد جموں میں لائن آف کنٹرول پرتعینات اہلکاروں کو بھی چوبیس گھنٹے مستعد رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔

    سری نگرسے موصول ہونے والی اطلاعات کےمطابق بدرواہ اور ڈوڈہ میں سال 1990کے بعد دوسرے مرتبہ بارڈر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔ جموں ، پیر پنچال ، خط چناب میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے اور سیکورٹی فورسز کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ جموں کے مختلف اضلاع میں قائم فورسز کیمپوں کے اردگرد چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کے امکانی حملوں کو ٹالنے کیلئے پورے جموں صوبے کو فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ ادھرخط پیر پنچال اورخط چناب میں بھی فورسزکی تعیناتی بڑھا دی گئی ہے جس کے نتیجے میں لوگ ذہنی طورپر پریشان ہو گئے ہیں۔

    ذرائع کےمطابق خط چناب اور خط پیر پنچال میں مسلم آبادی والے علاقوں میں خوف کی لہر ہے اس دوران لوگوں نے دفعہ 35اے کے حق میں راجوری اور بدرواہ میں احتجاجی مظاہرئے کئے۔ احتجاج کرنے والوں کے مطابق دفعہ 35اے کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر ہو کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اہم شاہرائوں اور فورسز کیمپوں کے اردگرد بار ڈر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کے باعث لوگوں میں اضطرابی کیفیت پائی جارہی ہے۔

    معلوم ہوا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے الرٹ جاری کیا ہے کہ عسکریت پسند جموں میں فورسز کیمپوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں جس کو مد نظر رکھتے ہوئے حفاظت کے غیر معمولی اقدامات کئے گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ جموں کے مختلف اضلاع میں بھی اضلاع اہلکاروں کو تعینات کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

  • مقبوضہ کشمیرپرگرفت مضبوط کرنےکےلیےفوج،پولیس کےعلاوہ،سی اے پی ایف کی مزید 200 کمپنیاں تعینات

    مقبوضہ کشمیرپرگرفت مضبوط کرنےکےلیےفوج،پولیس کےعلاوہ،سی اے پی ایف کی مزید 200 کمپنیاں تعینات

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرپرقبضہ بنانے کےلیےفوج،پولیس کےعلاوہ،سی اے پی ایف کی مزید 200 کمپنیاں تعینات ۔5 اگست سے پہلے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے دنوں میں وادی میں ابھی تک سکیورٹی فورسز کی سب سے زیادہ تعیناتی دیکھنے میں آئی ہے۔

    نواز شریف لندن جائیں یا امریکا،عمران خان انہیں نہیں چھوڑے گا،جہانگیرترین…

    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق 5 اگست تک ، ریاست میں سنٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) کی تقریبا 430 کمپنیاں تعینات کی گئیں ، جن میں سی آر پی ایف ، بی ایس ایف ، آئی ٹی بی پی ، ایس ایس بی اور سی آئی ایس ایف کے اہلکار شامل تھے۔

    لاہور میں دھماکہ، 1 شخص جاں بحق،متعدد زخمی

    وادی میں عام طورپر ہندوستانی فوج اورجموں و کشمیر پولیس کے علاوہ 200 کے قریب سی اے پی ایف کمپنیاں تعینات ہوتی ہیں۔ ہر کمپنی میں 100 کے قریب اہلکار ہوتے ہیں۔ اگست 2019 سے قبل ستمبر 2018 میں ہونے والی پنچایت اور شہری بلدیاتی انتخابات کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لئے تقریبا 230 کمپنیوں کی تعیناتی کی گئی تھی جن کی زیر نگرانی مئی 2019 میں لوک سبھا انتخابات اور پھر امرناتھ یاترا کی تیاریاں کی گئیں۔

    امپائرکی انگلی کے اٹھنےکاانتظارکرنے والے دیکھتے رہ گئے اورانگلی اٹھ گئی

    5 اگست کے بعد ، سی اے پی ایف کی کمپنیوں کی تعداد 653 تک بڑھ گئی۔ ان میں سے ، تقریبا 20 کمپنیاں حالیہ ہفتوں میں واپس چلی گئیں ، اور انہیں دوسری جگہ تعینات کیاگیا ہے۔ فوجی دستوں کی یہ تعداد1990 کی دہائی میں کشمیر میں تعینات فورسز سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ بیشتر تعیناتی تحریری حکم کے بغیر کی جارہی ہے۔ اس سے قبل 1991 ، 1996 میں لوک سبھا انتخابات ، 1999 کی کارگل جنگ اور 2001 میں پارلیمنٹ کے بعد حملے کے بعد بھی ریاست میں سیکیورٹی میں اضافہ کیاگیا تھا۔