Baaghi TV

Category: کشمیر

  • سری نگرکی جامع مسجد 4 ماہ بعد فوج کی نگرانی میں  کھول دی گئی

    سری نگرکی جامع مسجد 4 ماہ بعد فوج کی نگرانی میں کھول دی گئی

    سری نگر: سری نگرکی جامع مسجد 4 ماہ بعد فوج کی نگرانی میں کھول دی گئی،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کے نفاذ کے 4 ماہ 13 دن بعد سری نگر کی جامع مسجد نمازیوں کیلیے کھول دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد مقبوضہ وادی کے حالات اب تک معمول پر نہیں آسکے اوربھارتی جبر اور بدترین کرفیو کے باوجود وقتاً فوقتاً بھارت مخالف مظاہرے کیے جاتے ہیں اور خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں میں اس وقت بھی زندگی کے معمولات شدید متاثر ہیں، فون اورانٹرنیٹ تک رسائی انتہائی محدود ہے جب کہ روزمرہ اشیائے ضرورت اور دواؤں کی قلت سے ان علاقوں میں بدترین انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔

    گزشتہ 4 ماہ سے سری نگر کی جامع مسجد میں اب تک جمعہ کی نماز بھی نہیں ہوسکی تھی تاہم اب بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ 5 اگست کو آرٹیکل 370 کے نفاذ کے 4 ماہ 13 دن بعد سری نگر کی جامع مسجد نمازیوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔انجمن اوقاف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے بعد مسجد کے گیٹ سے سیکیورٹی ہٹادی گئی اور ہم نے ظہر اور عصر کی نماز ادا کی جب کہ حالات معمول پر رہے تو جامع مسجد میں نمازیں جاری رہیں گی۔

  •  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کشمیر پراجلاس بھارتی لابی نے منسوخ کروا دیا

     اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کشمیر پراجلاس بھارتی لابی نے منسوخ کروا دیا

    نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کشمیر پر اجلاس منسوخ،سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ منگل کو کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ممبروں کا خصوصی اجلاس منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی لابی کامیاب نظرآئی اوربھارت نواز ممبران جن میں‌فرانس اوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر مستقل ممبروں نے منگل کے روز چین کی جانب سے کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے سلامتی کونسل کے بلائے گئے اجلاس کو منسوخ کردیا۔

    فرانس اور سلامتی کونسل کے دیگر مستقل ممبران نے چین کو آگاہ کیا کہ یہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنے کے لئے مناسب فورم نہیں ہے ، کونسل کے غیر مستقل ممبران جیسے جرمنی اور پولینڈ نے بھی مسئلہ کشمیر پر بحث کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کیچین نے اس کے بعد مسئلہ کشمیر سے متعلق اجلاس کے مطالبے کااپنا نوٹ واپس لے لیا۔

    اقوام متحدہ میں ساؤتھ ایشین وائر کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس پیشرفت سے واقف افراد کا کہنا تھا کہ خطے میں سلامتی لاک ڈاؤن اور مواصلاتی رابطے کے بلیک آؤٹ پر مغربی اور یورپ کے ممالک کی طرف سے تنقید کے بعد چین سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کی حمایت کرنے پرآمادہ ہوا تھا۔ 

    اس ملاقات میں چین کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ہندوستان کے فیصلے پر تبادلہ خیال کیا جانا تھا۔ایک فرانسیسی سفارتی ذریعہ نے بتایاکہ ہماری پوزیشن بہت واضح رہی ہے۔ کشمیر بھارت اور پاکستان کے مابین دو طرفہ مسئلہ ہے۔ 

    چین کا یہ اقدام سرحدی معاملے پر تبادلہ خیال کے لئے ہندوستان اور چین کے خصوصی نمائندوں کے مابین متوقع ملاقات سے پہلے سامنے آیا ہے۔ 

    12 دسمبر کو سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں ، پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشیدگی کے ممکنہ مزید اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق کونسل کے ممبروں کو ایک نوٹ میں اقوام متحدہ کے مشن نے لکھا تھاکہ صورتحال کی سنگینی اور مزید بڑھنے کے خطرے کے پیش نظر چین پاکستان کی درخواست پرجموں و کشمیر کی صورتحال پر کونسل کی بریفنگ کی درخواست کرے گا۔

    سلامتی کونسل نے 1948 میں اور 1950 کی دہائی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خطے کے تنازعہ پر متعدد قراردادیں منظور کیں ، جس میں ایک ایسی رائے بھی شامل ہے جس میں مسلم کشمیر کے مستقبل کا تعین کرنے کے لئے رائے شماری کی قرارداد پیش کی گئی تھی۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں‌ سخت سردی اوربرفباری: فضائی ٹریفک 8 دن بعد بحال، اہم شاہراہیں بند

    مقبوضہ کشمیرمیں‌ سخت سردی اوربرفباری: فضائی ٹریفک 8 دن بعد بحال، اہم شاہراہیں بند

    سرینگر: مقبوضہ کشمیرمیں‌ سخت سردی اوربرفباری: فضائی ٹریفک 8 دن بعد بحال، اہم شاہراہیں بند ،اطلاعات کے مطابق وادی کشمیر میں محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق ہفتہ کے روز موسم خشک رہا اور شدید دھند سے لوگوں کو نجات نصیب ہوئی وہیں فضائی ٹریفک بھی آٹھ دن بیت جانے کے بعد، بعد از دوپہر سپائس جٹ کی پرواز کی آمد کے ساتھ ہی بحال ہوا۔

    کشمیر کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھنے والی سری نگر۔جموں قومی شاہراہ ہفتہ کے روز بھی ٹریفک کی نقل وحمل کے لیے بند رہی جبکہ سری نگر۔لیہہ شاہراہ، تاریخی مغل روڑ کے علاوہ شمالی کشمیر کے دورافتادہ علاقوں کی کئی رابطہ سڑکیں زیر برف ہونے کے باعث ٹریفک کی نقل وحمل کے لئے بند ہیں۔

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق ذرائع نے بتایا کہ سرینگر۔جموں قومی شاہراہ پر ہفتہ کے روز بھی رام بن کے نزدیک بارشیں ہورہی تھیں اور کئی مقامات پر برف اور مٹی کے تودوں کا ملبہ بھی جمع ہی ہے جس کے باعث شاہراہ ٹریفک کی نقل وحمل کے لئے بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ قابل عبور ہوتے ہی پہلے گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی۔

    وادی میں ہفتہ کے روز بارہمولہ تا اننت ناگ ریل سروس جاری رہی تاہم اننت ناگ سے بانہال ریل سروس پٹری پر برف جمع ہونے کی وجہ سے معطل ہی رہی۔کشمیر میں تعینات شمالی ریلوے کے چیف ایئریا منیجر وپن پروہت نے بتایا کہ بارہمولہ تا اننت ناگ ریل سروس بحال کی گئی ہے اور اننت ناگ تا بانہال پٹری پر جمع برف کو ہٹایا جارہا ہے۔

    میں‌ نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما…

    محکمہ موسمیات نے وادی میں اگلے ایک ہفتے تک موسم مجموعی طور پرخشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ کے علاقائی ناظم سونم لوٹس نے گزشتہ روز کہا کہ وادی میں 15 دسمبر سے موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کی توقع ہے۔وادی میں ہفتہ کے روز مطلع ابرآلود رہنے کی وجہ سے سردی کی شدت میں بھی قدرے کمی محسوس کی گئی۔

    جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر

    سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام جہاں فی الوقت سیاحوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہی ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 5.0 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 0.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا

    بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر

    سرحدی ضلع کپواڑہ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.2 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ کوکرناگ میں منفی 1.4 سینٹی گریڈ اور قاضی گنڈ میں منفی 0.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڑ کیا گیا۔لداخ کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 10.1 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ دراس میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 11.0 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

  • آلودہ جھیل ڈل کی صفائی مہم میں سرکاری سطح پر کوئی مدد فراہم نہیں کی جارہی

    آلودہ جھیل ڈل کی صفائی مہم میں سرکاری سطح پر کوئی مدد فراہم نہیں کی جارہی

    سرینگر:جھیل ڈل کی صفائی مہم میں سرکاری سطح پر کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی ہے جس وجہ سے اس شاہکار جھیل کو اس اعتبار سے آلودگی سے پاک نہیں کیا گیا ہے۔ ان باتوں کا اظہار جھیل ڈل کی صفائی مہم سے منسل کمسن جنت نے ایک بات چیت کے دوران کیا۔

    جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر

    انہوں نے کہا کہ جو مہم شروع کی گئی تھی اس کا سرکار اور خاص کر لیکس اینڈ واٹر ویز ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ساتھ نہیں دیا۔ جنت کا کہنا تھا کہ ڈل جھیل کو گندگی سے صاف و پاک رکھنے کے لئے انہوں نے کئی بیداری پروگرام بھی ڈل کے آس پاس چلائے۔ جھیل میں رہنے والے لوگوں کو اپنے ہاوس بوٹوں اور گھروں سے نکلنے والی گندگی اور کوڑا کرکٹ کو ڈل میں نہ ڈالنے کے حوالے سے بھی کئی پروگراموں کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔

    جماعت اسلامی ہند عادل آباد کی شہریت بل کے خلاف احتجاج کی کال 17 دسمبرکوہوگا دما دم…

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق اس بچی کا کہنا تھا کہ سیاحوں کی پہلی پسند کہلائے جانے والے ڈل جھیل کو انفرادی، اجتماعی اور سرکاری سطح پر گھاس پھوس اور دیگر قسم کی گندگی سے پاک کرنے کی ضرورت ہے تب جاکر اس کے پانی کو آلودگی سے بچایا جا سکتا ہے۔جنت کاکہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اگرچہ گزشتہ سال من کی بات پروگرام میں ان کا ذکر بھی کیا تاہم خواہش کے باوجود بھی انہیں وزیراعظم سے ملنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

    میں‌ نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما…

    تاہم انہوں نے پھر سے نریندری مودی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ تاکہ وہ ان سے مل کرجھیل ڈل کو آلودگی سے پاک کروانے کے لیے اپنی سوچ کے حساب سے اپنی تجاویز پیش کرتیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق جنت کے والد طارق احمد پتلو جو کہ ڈل کی صفائی مہم سے خود بھی منسلک ہیں کا کہنا ہے کہ یہاں سرکاری سطح پر کاغذی گھوڑے ہی دوڑائے جارہے ہیں، مگر عملی طور صفائی کے حوالے سے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں۔ بلکہ ڈل میں رہنے والے مخصوص طبقے کو ہی نشانہ بناکر احکامات اور ہدایات جاری کئے جا رہے ہیں۔

    مکاری، فنکاری اورشوبازیوں کا دورگزرچکا،نیک نیتی سے محنت کررہے ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کی جانب سے مہیا کی جانے والی رقومات کا بے تحاشا استعمال بھی کیا گیا لیکن اس کے باوجود بھی جھیل کی ہیئت ویسی کی ویسی ہی ہے۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق طارق نے حکومت وقت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جھیل ڈل کی صفائی کے حوالے سے انتظامیہ کو اس طرف خاص دھیان دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قدرت کے اس انمول تحفے ‘ڈل جھیل’ کو آلودگی سے پاک و صاف رکھا جاسکے۔

  • کشمیر کے پردیسی پرندے،کشمیریوں کی تلاش میں کبھی ادھر کبھی ادھر

    کشمیر کے پردیسی پرندے،کشمیریوں کی تلاش میں کبھی ادھر کبھی ادھر

    سرینگر:کشمیر کے پردیسی پرندے،کشمیریوں کی تلاش میں کبھی ادھر کبھی ادھر، اطلاعات کے مطابق کشمیر کا رخ کرنے والے رنگ برنگے پرندے سرینگر کے مضافات کے علاوہ گاندربل کے شالہ بگ، پانپور کے منی بگ اور کھینسو آبی پناہ گاہوں میں اپنا ڈیرہ جماتے ہیں۔

    احساس انڈرگریجوایٹ سکالرشپ داخلوں کی تاریخ میں 24 دسمبرتک توسیع کردی گئی

    وادی کشمیر میں سرما کیآغاز سے ہی ہزاروں لوگ نقل مکانی کرکے گرم ریاستوں کا رخ کرتے ہیں، تاہم شدید سردی کے باعث وادی میں انوکھے مہمانوں کی آمد ہوتی ہے جس سے یہاں کے ماحول میں رونق بڑھ جاتی اور ان کو عام سخن میں مہمان پرندے کہا جاتا ہے۔روس کے سرد ترین علاقہ سابئیریا اور شمالی یورپ سے ہر برس موسم سرما میں کشمیر کی آب گاہوں میں لاکھوں کی تعداد میں یہ مہمان پرندے یہاں کی خوبصورتی کو دوبالاکرنے کے ساتھ ساتھ ماحول کا توازن بھی برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں

    دہلی دہل گیا،ہرطرف آگ اورخون کی ندیاں،املاک جل رہی ہیں ہندوستان خاکسترہورہا ہے،…

    ایک نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق یہ مہمان پرندے وادی کی مختلف آب گاہوں میں ستمبر کے مہینے سے ہی آنا شروع کرتے ہیں اور ماہ اپریل میں واپس اپنے مقامات چلے جاتے ہیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق ان مہینوں کے دوران یہ مہمان پرندے آب گاہوں میں قدرتی اناج پر اپنا گزارا کرتے ہیں اور شدید ٹھنڈ کے دوران محکمہ وائلڈ لایف ان کو دھان کا اناج کھلاتاہے۔ سرینگر کے مضافات ہوکر سرآب گاہ کے علاوہ یہ مہمان پرندے گاندبل کے شالہ بگ، پامپور کے منی بگ اور کرپنھچو آبی پناہ گاہوں میں اپنا ڈیرہ جماتے ہیں۔

    بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر

    کشمیر کی آبی گاہوں کی وائلڈ لائف وارڈن افشاں دیوا نے بتایا کہ موسم سرما کے آغاز سے ہی کشمیر کی آب گاہوں میں 21 اقسام کے پرندے آتے ہیں جن میں خاص کر بطخ اور گیز شامل ہیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے کہا موجودہ موسم سرما میں ایک نئی قسم بار ہیڈیڈ پرندے جن کی تعداد بتائی جا رہی ہے، پہلی بار جنوبی کشمیر کے پانپور علاقہ کے منی بگ آبگاہ میں دیکھے گئے ہیں۔

    جب سے خان آیا ہے ، پاکستان چھایا ہے،

    ان کا کہنا ہے کہ پرندوں کو وادی کی آبگاہوں میں موزوں ماحول ملتا ہے جس کی وجہ سے یہ کشمیر کا رخ کرتے ہیں۔ گرچہ یہ مہمان پرندے کشمیر کا حسن دوبالا کرتے ہیں لیکن ان مہمان پرندوں کو شکاریوں کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

    میں‌ نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما

    ماحولیاتی کارکنان کی جانب سے اکثر شکایتیں کی جاتی ہیں کہ محکمہ وائلڈ لایف ان پرندوں کو شکار ہونے سے بچانے میں ٹھوس اقدمات کرنے میں کوتاہی برت رہی ہے۔تاہم افشان دیوا نے بتایا کہ ان پرندوں کو بچانے کے لیے محکمہ نے آبگاہوں میں انٹی پوچنگ اسکواڈ تعنیات کیے ہیں

    جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر

  • مقبوضہ کشمیرمیں بے روزگاری عروج پر، 22 اسامیوں کے لیے 70 ہزارامیدوار

    مقبوضہ کشمیرمیں بے روزگاری عروج پر، 22 اسامیوں کے لیے 70 ہزارامیدوار

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرمیں بے روزگاری عروج پر، 22 اسامیوں کے لیے 70 ہزارامیدوار،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بے روزگاری کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر یونیورسٹی کی طرف سے حال ہی میں مشتہر کئے گئے محض 22 اسامیوں کے لیے 70 ہزار سے زائد اعلی تعلیم یافتہ امیدواروں نے فارم جمع کروائے ہیں۔

    احساس انڈرگریجوایٹ سکالرشپ داخلوں کی تاریخ میں 24 دسمبرتک توسیع کردی گئی

    ذرائع کے مطابق کثیر تعداد میں امیدواروں کی طرف سے فارم جمع کرنے سے یونیورسٹی کے بنک اکائونٹ میں تقریباً 4 کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں۔ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق کشمیر یونیورسٹی نے سال رواں کے ماہ اکتوبر کے اواخر میں اسسٹنٹ رجسٹرار اور اسسٹنٹ کنٹرولر آف ایگزامنیشنز کی 7 اسامیوں اور جونیئر اسسٹنٹ کی 15 اسامیوں کے لئے خواہشمند امیدواروں سے درخواستیں طلب کی تھیں۔

    دہلی دہل گیا،ہرطرف آگ اورخون کی ندیاں،املاک جل رہی ہیں ہندوستان خاکسترہورہا ہے،…

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق اسسٹنٹ رجسٹرار پوسٹ کے لئے تعلیمی قابلیت 55 فیصد نمبرز کے ساتھ کسی بھی مضمون میں پوسٹ گریجویشن مقرر تھی جبکہ جونیئر اسسٹنٹ پوسٹ کے لئے تعلیمی قابلیت 50 فیصد نمبرزکے ساتھ گریجویشن کے علاوہ چھ ماہ کا کمپیوٹر کورس کا ہونا لازمی تھا جس کے لئے 70 ہزار سے زائد امیدواروں نے فارم جمع کروائے۔

    بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر

    ذرائع نے کہا کہ وادی میں انٹرنیٹ پر جاری پابندی کے باعث صرف 20 فیصد امیدوار ہی آن لائن فارم جمع کرسکے جبکہ 80 فیصد امیدواروں کو لمبی لمبی قطاروں میں گھنٹوں تک کھڑا رہنے کے بعد فارم جمع کروانا پڑے تھے۔

    جب سے خان آیا ہے ، پاکستان چھایا ہے،

    کشمیر یونیورسٹی نے متذکرہ اسامیوں کے لیے اس وقت درخواستیں طلب کی تھیں جب وادی میں تمام طرح کی انٹرنیٹ سہولیات پر پابندی کے علاوہ ہڑتالوں کا ایک طویل سلسلہ جاری تھا۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق یونیورسٹی کی طرف سے مشتہر شدہ اسامیوں کے لیے درخواستیں جمع کرنے والے امیدواروں کے ایک گروپ نے کہا کہ متعدد امیدواروں کو میلوں کی مسافت پیدل طے کرکے فارم جمع کرنے کے لئے یونیورسٹی پہنچنا پڑا تھا۔

    میں‌ نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما

    انہوں نے کہا: ‘یونیورسٹی نے اس وقت متذکرہ اسامیوں کے لئے درخواستیں طلب کیں جب وادی میں ایک طرف تمام طرح کی انٹرنیٹ خدمات معطل تھیں اور دوسری طرف ہڑتالوں کا ایک طویل سلسلہ جاری تھا جس کی وجہ سے متعدد امیدواروں کو میلوں کی مسافت پیدل طے کرکے یونیورسٹی پہنچنا پڑا’۔

    جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر

    ایک امیدوار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی کی طرف سے مشتہر اسامیوں کے لئے اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بھاری تعداد میں فارم جمع کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وادی میں بے روزگاری نقطہ عروج پر ہے۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ رجسٹرار پوسٹ اور اسسٹنٹ کنٹرول آف ایگزامنیشنز کے لئے پی ایچ ڈی، پوسٹ ڈاکٹریٹ، جے آر ایف، نیٹ وغیرہ ڈگریوں کے حامل امیدواروں نے درخواستیں جمع کیں۔

    ایک اور امیدوار نے کہا کہ دوردارز علاقوں سے وابستہ امیدواروں کو یونیورسٹی پہنچ کر کر فارم جمع کرنے میں دو دن لگ گئے اور مقررہ فیس کے علاوہ آنے جانے اوررہائش کے لئے بھی اچھی خاصی رقم خرچ کرنا پڑی۔انہوں نے کہا کہ ا میدواروں کی طرف سے اسامیوں کے لئے فیس کی صورت میں جو رقم یونیورسٹی کو مل گئی ہے اس سے منتخب امیدواروں کی تنخواہیں کئی ماہ تک فراہم کی جاسکتی ہیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے باہر فارم بیچنے والے دکانداروں نے بھی موقع کا فائدہ اٹھاکر اچھی خاصی کمائی کی۔

  • بھارتی حکومت امدادی کیمپوں میں مکینوں کو ہراساں کررہی ہے،پنڈت کمیونٹی چیخ‌اٹھی

    بھارتی حکومت امدادی کیمپوں میں مکینوں کو ہراساں کررہی ہے،پنڈت کمیونٹی چیخ‌اٹھی

    سرینگر: بھارتی حکومت امدادی کیمپوں میں مکینوں کو ہراساں کررہی ہے،پنڈت کمیونٹی نے بھارت کی کالی کرتوتوں کا پردہ چاک کردیا ، اطلاعات کےمطابق آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ، مقبوضہ جموں کے کیمپوں میں مقیم ہزاروں کشمیری ہندو خاندانوں نے تصدیق کے نام پر حکومت کی طرف سے ‘دھمکیوں’ اور ‘ہراساں کرنے’ کا الزام لگایا ہے ۔

    احساس انڈرگریجوایٹ سکالرشپ داخلوں کی تاریخ میں 24 دسمبرتک توسیع کردی گئی

    بحالی پیکیج کے تحت تعمیر کیے گئے دو کمروں کی رہائش گاہوں میں تقریبا 10000پنڈت خاندانوں کی رہائش ، جگتی ، موٹھی ، نگروٹا اور پورھو میں رہائش پزیر رہائش پذیر افراد کا الزام ہے کہ اگر متعلقہ کیمپ کے کمانڈنٹ کسی خاندان کے کسی فرد کی شناخت پریڈ نہیں کرپاتے تو ان کے دروازے پر نوٹس لگا دیئے جاتے ہیں۔

    دہلی دہل گیا،ہرطرف آگ اورخون کی ندیاں،املاک جل رہی ہیں ہندوستان خاکسترہورہا ہے،…

    بہت سے خاندان پنے رشتہ داروں یا ان کے بچوں کو ریاست سے باہر تعلیم حاصل کرنے یا ملازمت کرنے سے بھی خوفزدہ ہیں۔”میرے دو بچے جموں سے باہر کام کر رہے ہیں اور میں اپنے بیٹے سے ملنے گیا تھا اور وہاں دو مہینے قیام کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن کچھ ہی دن میں ، کیمپ کمانڈنٹ افسران ہماری عمارت کا دورہ کیا اور میری غیر حاضری پر نوٹس جاری کردیا ۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق جگتی کے ایک کیمپ کے رہائشی جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے نے کہا ، "مجھے اپنے سٹیٹس کی وضاحت کرنے کے لئے جلدی سے واپس جانا پڑا۔”

    بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر

    بہت سے کنبے جن کے بچے روزگار پیکیج کے تحت برسرروزگارہیں اور کشمیر کے مختلف اضلاع میں تعینات ہیں ، کو بھی بخشا نہیں گیا۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق کچھ دن پہلے بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا تھا۔ ایک خاندان کیمپ کے اندر رہائش پذیر تھا لیکن سروے کے دوران اس پر تالا لگا دیا گیا تھا ، جگتی میں رہنے والے اشوک بھٹ نے بتایا۔ 1990 کی دہائی میں جبری طور پر انخلا کے بعد ، متعدد منزلہ عمارتوں والے کیمپوں کو کشمیر سے آنے والے خاندانوں ، خاص طور پر ہندوں کو الاٹ کیا گیا تھا۔

    جب سے خان آیا ہے ، پاکستان چھایا ہے،

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق ایک سماجی کارکن سنیل کمار پنڈتا ، نے کہا کہ حکومت ہمارے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہے جیسے ہم کسی جیل میں رہ رہے ہوں۔ ہم نے کسی ایسے بانڈ پر دستخط نہیں کیے ہیں جس سے ہم اس کیمپ کو نہیں چھوڑ سکتے۔ زیادہ تر بچے روزگار کے لئے جموں سے باہر چلے گئے ہیں۔ یہ ذہنی ایذا رسانی ہے ریلیف کمشنر (تارکین وطن)ٹی کے بھٹ اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے کے لئے دستیاب نہیں تھے۔ ایک کیمپ کے زونل عہدیدار نے دعوی کیا کہ یہ توثیق کے عمل کا ایک حصہ ہے۔

    میں‌ نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما

  • بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر

    بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر

    چندی گڑھ:بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے،اطلاعات کے مطابق بھارت کے دفاعی امور کے ماہر معروف رضا نے کہاکہ بھارت کبھی پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا۔

    معروف رضا نے چندی گڑھ میں منعقدہ ملٹری لٹریچر فیسٹول کے ایک سیشن میں کہاکہ اگر ہم یہ دعوی کریں کہ ہم آزادکشمیر کو پاکستان سے واپس لے سکتے ہیں تو یہ جھوٹ ہے۔

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق رضا معروف نے یہ بات ایک سیشن کے دوران اپنی اور ٹی وی پروڈوسراقبال چند ملہوترا کی کتاب ”کشمیر ان ٹولڈ سٹوری: ڈی کلاسیفائیڈ’پرریٹائرڈ میجر جنرل جگت بیر سنگھ، ہندوستان ٹائمز کے ایگزیکٹو ایڈیٹر رمیش ونایک اورریٹائرڈ بریگیڈئر پردیپ شرما سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ مباحثے کا موضوع پاکستان اورچین جیسے بیرونی اورکشمیر میں عوامی احتجاج جیسے اندرونی عوامل ساتھ جموں وکشمیر کا مستقبل تھا۔

    معروف دفاعی ماہرمعروف رضا کہاکہ اگربھارتی حکومت کشمیرکے اندر مسئلہ حل کرے گی توکشمیر کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق رمیش ونایک نے کہاکشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے کی ضرورت ہے۔میجر جنرل جگت بیر سنگھ نے بھی کشمیر کی تزویراتی حیثیت اور چین ، افغانستان اور پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

  • بھارت نے فاروق عبداللہ کی نظربندی میں اضافہ کردیا

    بھارت نے فاروق عبداللہ کی نظربندی میں اضافہ کردیا

    سری نگر:مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی انتظامیہ نے جموں‌کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کومزیدقید رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نظربندی میں‌اضافہ کردیا ہے ، اطلاعات کےمطابق یہ نظربندی مزید تین مہینے تک جا ری رہے گی

    باغی ٹی وی کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی نظربندی میں‌اضافہ اس وجہ سے کیا گیا ہےکہ سابق وزیراعلیٰ‌نے کشمیر پربھارتی قبضے کے خلاف اعلان بغاوت کردیا تھا ،فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ وہ کشمیرکے معاملے پراپنے کشمیری بھائیوں‌ کوکبھی بھی بھار ت کے قبضے میں نہیں جانے دیں‌گے

    یاد رہے کہ فاروق عبداللہ نے ہمیشہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا ساتھ دیا اور بھارت کے زیرسایہ رہنے کو ترجیح دی لیکن جب 5 ا گست کو بھارت نے مقبوضہ وادی کوضم کرلیااورتمام کشمیری قیادت کو قیدکرکے جیلوں میں ڈال دیا تو فاروق عبداللہ کو یہ احساس ہوا کہ اس کی بھارت سے وفاداری کسی کام نہ آئی تب جاکرفاروق عبداللہ نے بھارتی قبضے کوغیرقانونی قراردیتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا ، جس کی وجہ سے بھارت نے انہیں‌قید میں‌ ڈال رکھا ہے

  • بھارت سے خطرات محض خدشہ نہیں، بھارتی ہندو خواتین کو کس چیز کی ٹریننگ دی جا رہی؟ صدر آزاد کشمیر

    بھارت سے خطرات محض خدشہ نہیں، بھارتی ہندو خواتین کو کس چیز کی ٹریننگ دی جا رہی؟ صدر آزاد کشمیر

    بھارت سے ابھرنے والے خطرات محض خدشہ نہیں، بھارتی ہندو خواتین کو کس چیز کی ٹریننگ دی جا رہی؟ صدر آزاد کشمیر
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدرآزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کی انتہاء پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ لاکھوں مردوں اور عورتوں کو فوجی تربیت دے کر پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دے رہی ہے جبکہ بھارت کا وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پاکستان کی سلامتی کے ساتھ کھیلنے اور آزادکشمیر پر قبضہ کرنے کی باتیں کر رہا ہے۔ بھارت سے ابھرنے والے خطرات کو محض خدشہ قرار دے کر نظر انداز کرنے کے بجائے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری قوم اور نوجوانوں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد میں ”کشمیر توجہ چاہتا ہے“ کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام جموں وکشمیر ویلفیئر آرگنائزیشن نے کیا تھا۔ تقریب سے ایوب میڈیکل کالج کے ڈین اور سی ای او پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق، پروفیسر سعید اسد، کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما عبد الحمید لون اور جموں وکشمیر ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر بصیر ہارون نے بھی خطاب کیا۔

    تقریب کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنے خطاب میں صدر آزادکشمیر نے کہا کہ اس سال پانچ اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر چڑھائی کر کے مقبوضہ ریاست پر قبضہ کیا، عوام کے محصور کیا اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اسے اپنی کالونی میں تبدیل کیا۔ یہ سب کچھ ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیریوں کا منظم قتل عام کرنا اور انہیں کشمیر چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔ جموں وکشمیر کے مسلمان گزشتہ 132سال غلامی اور جبر کی زندگی کے خاتمہ اور آزادی اور وقار کی زندگی بسر کرنے کی خواہش لے کر جدوجہد کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کی اس جدوجہد اور عزم و حوصلہ کو دیکھ کر بھارت کی موجودہ حکومت نے کشمیر کی وحدت اور منفرد حیثیت کو ختم کر کے اسے ایک میونسپلٹی میں بدل دیا ہے۔

    صدر آزادکشمیر نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پوری سیاسی قیادت بھی پابند سلاسل ہے۔ 1947ء سے اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ کشمیریوں نے صرف اس لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا کہ وہ پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کے لئے معاشی ترغیبات دیں لیکن 72سال گزرنے کے بعد بھی کشمیری بھارت کا حصہ بننے سے انکار کر رہے ہیں اور وہ آج بھی اپنے نوجوانوں کی لاشوں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کر رہے ہیں۔

    صدر آزادکشمیر نے شرکائے تقریب کو بتایا کہ اس وقت عالمی ذرائع ابلاغ مقبوضہ جموں وکشمیر کی حقیقی تصویر پیش کر رہے ہیں جبکہ امریکی کانگریس سمیت دنیا کی بااثر پارلیمانز میں کشمیریوں کے حقوق کے لئے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اقوام متحدہ اور دنیا کی اہم دارالحکومت اس سلسلے میں خاموش ہیں یا ان کا کشمیر کے بارے میں ردعمل مایوس کن ہے۔ بھارت کے ہندوتوا نظریہ پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اس نظریہ کے پرچارک نہ صرف کشمیر اور پاکستان کے مسلمانوں کے کچلنا چاہتے ہیں بلکہ وہ پورے جنوبی ایشیاء سے اسلام کے ماننے والوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ وہ خطہ میں ہندو بالادستی کا خواب آنکھوں میں سجا کر غیر ہندو اقلیتوں کے وجود سے بھارت کو پاک کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندو انتہاء پسندوں کا یہ ایجنڈا مسلمانوں کے وجود کے خلاف ہے جس کو سمجھنے اور اس کا مقابلہ کرنے کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔

    بھارت کے ساتھ جنگ کے امکان کو قوی قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے نوجوان طلبہ پر زور دیا کہ وہ ایک طرف عالمی برادری تک رسائی حاصل کر کے اس کی سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں اور دنیا کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال سے آگاہ کریں اور دوسری جانب علمی معیشت کی ترقی کی معراج حاصل کر کے پاکستان کو معاشی اور دفاعی اعتبار سے مضبوط اور مستحکم بنانے کی جدوجہد تیز تر کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت اسلامی نشاۃ ثانیہ کا ہے اس وقت کشمیر، فلسطین اور روہنگیا سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمانوں کو ایزا رسانی کا شکار کیا جا رہا ہے اور یہ رویہ کسی ایک خطہ میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف روا رکھا جا رہا ہے۔

    قبل ازیں اپنے افتتاحی خطاب میں ایوب میڈیکل کالج کے پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق نے صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان کا تقریب میں شریک ہونے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ تنازعہ کشمیر جلد پرامن طور پر اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ کشمیر کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی غرض سے سیمینارز اور دوسرے پروگرام شروع کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما عبدالحمید لون نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی تازہ ترین صورتحال اور بھارتی مظالم سے شرکائے تقریب کو آگاہ کرتے ہوئے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کے حقوق کے لئے اپنی آواز بلند کریں۔ قبل ازیں ایوب میڈیکل کالج کے طلبا و طالبات نے ایک خوبصورت ڈرامہ کے ذریعے مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والے بھارتی ظلم و جبر کی عکاسی کی۔