Baaghi TV

Category: کشمیر

  • یورپی یونین مقبوضہ کشمیر کیوں جانے دیا، مودی سرکارپراپوزیشن کے وار

    نئی دہلی :5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے 27 یورپی یونین کے پارلیمنٹیرینز کے وفد نے منگل کے روز مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کیا۔

    ربیع الاول کا چاند نظر آگیا

    نریندر مودی کی زیرقیادت حکومت کویورپی پارلیمنٹیرینز کے وفد کوکشمیر جانے کی اجازت دینے کے اپنے فیصلے پرشدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔جس میں ان کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی شامل ہیں۔

    برسراقتدار قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی ، جو پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے ممبر ہیں ، نے اس اقدام کو "قومی پالیسی کی غلطی” اور "غیر اخلاقی” کہہ کر تنقید کی ہے۔ ٹویٹر پر اپنے پیغامات میں بھارتی رہنماؤں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سیاسی رہنماؤں کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں لیکن یوریپین پارلیمنٹرینز کو یہ اجازت دے جارہی ہے۔

    پاکستان کو انٹرنیٹ فراہمی میں مشکلات

    بھارت کی مرکزی حزب اختلاف کانگریس پارٹی نے اس اقدام کو "ہندوستان کی پارلیمنٹ اور جمہوریت کی صریح توہین” قرار دیا ہے۔کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے یورپ کے ممبران پارلیمنٹ کو مقبوضہ جموں وکشمیر کے دورے پر جانے کی اجازت دینے پر حکومت کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ) (سی پی آئی ایم)نے الزام لگایا کہ یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرین کے غیر سرکاری گروپ ، جس کے بی جے پی سے روابط ہیں ، کو بھارتی سیاسی جماعتوں سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

    وزیر اعظم مودی ، جنہوں نے پیر 28 اکتوبر کو نئی دہلی میں وفد سے ملاقات کی ، کہا ، ان کے دورے سے انہیں "خطے کے ثقافتی اور مذہبی تنوع” کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔

    بھارتی ریاست منی پورہ الگ ملک ،لندن میں اعلان کردیا گیا

    آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد نئی دہلی نے ہندوستانی سیاسی رہنماؤں کو جموں و کشمیر جانے کی اجازت سے انکار کردیا تھا ۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت کے بعد سی پی آئی ایم کے جنرل سکریٹری ستارام یچوری اور کانگریس کے رہنما اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی غلام نبی آزاد نے ریاست کا دورہ کیا تھا۔

    نئی دہلی نے مبینہ طور پر امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کرس وان ہولن کو بھی مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت سے بھی انکار کیا تھا ۔گذشتہ ہفتے ، عدالت عظمی نے وفاقی حکومت سے جموں و کشمیر میں پابندیوں کو ختم کرنے کے لئے ٹائم لائن کے بارے میں پوچھا تھا۔ عدالت نے کشمیر میں عائد پابندیوں سے متعلق متعدد درخواستوں پر غور کرنے کے بعد ، حکومت سے کہاتھا کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے

  • مقبوضہ کشمیر،یورپی پارلیمانی وفد کے دورہ کا پہلا دن

    یورپی پارلیمانی وفد منگل کے روز مقبوضہ کشمیر پہنچا جہاں اس نے پہلے روز فوجی قیادت کے علاوہ بھارت نواز پندرہ وفود سے ملاقات کی۔ پارلیمانی وفد کو عوام سے دور رکھا گیا۔

    مقبوضہ کشمیر، یورپی یونین کے وفد کا دورہ، بھارتی حکومت پر شدید تنقید

    بھارتی میڈیا کے مطابق یورپی پارلیمانی وفد نے سونہ وار علاقہ میں واقع بادامی باغ فوجی چھاونی میں سینئر فوجی عہدیداروں بشمول فوج کی 15 ویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھلون سے ملاقات کی۔

    دریں اثنا وفد نے پنچایتی اراکین اور کچھ بھارت نواز سیاسی جماعتوں کے رہنماوں بالخصوص بی جے پی سمیت قریب پندرہ وفود سے ملاقات کی’۔بی جے پی کشمیر کے ترجمان الطاف ٹھاکر کے مطابق بی جے پی کے آٹھ اراکین پر مشتمل ایک وفد نے یورپی پارلیمانی وفدکے ساتھ ملاقات کی۔

    مقبوضہ کشمیر، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو سرکاری بنگلے خالی کرنے کا نوٹس

    یورپی پارلیمانی وفد کو کشمیری عوام سے ملاقات یا گفتگو کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ علاوہ ازیں وفد حریت قیادت سے بھی نہیں مل سکے گا۔

    دوسری طرف یورپی پارلیمانی وفد میں شامل رکن پارلیمان کرس ڈیوس نے کشمیری عوام سے براہ راست ملاقات و گفتگو کی اجازت نہ دینے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔کرس ڈیوس کے مطابق میں صحافیوں کے ہمراہ فوج، پولیس یا سکیورٹی فورسز کے دستے کے بغیر جہاں چاہوں وہاں جانا چاہتا ہوں، میں کشمیری عوام سے براہ راست ملاقات کا خواہاں ہوں، لیکن مجھے اس کی اجازت نہیں دی گئی۔

    یورپی وفد کی آمد، مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال و احتجاجی مظاہرے

    دریں اثناء یورپی پارلیمانی وفد کو مقبوضہ کشمیر دینے کی اجازت دینے پر مودی حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے۔ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص کانگریس نے یورپی وفدکے دورہ کشمیر پر سوال اٹھائے ہیں۔کانگریس کے مطابق جب ملکی سیاستدانوں کو جموں وکشمیر میں لوگوں سے نہیں ملنے دیا جارہا تو یورپی پارلیمانی وفد کو اس کی اجازت کیونکر دی گئی۔ کانگریسی لیڈر جے رام رمیش نے تو دورہ کشمیر کو ملک کی پارلیمان اور جمہوریت کی توہین قراردیا ہے۔

    اسی طرح مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)کی رہنما محبوبہ مفتی نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ امریکی اراکین پارلیمان کو کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی ۔ اپنے ٹوئٹ میں محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ انہیں (وفد کے ممبران) کو لوگوں ، مقامی میڈیا ، ڈاکٹروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملنے کا بھی موقع ملے گا۔

    محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر اور دنیا کے مابین آہنی پردے اٹھانے کی ضرورت ہے اور جموں و کشمیر کو بحرانوں میں دھکیلنے کے لئے حکومت ہند کو جوابدہ ہونا چاہئے۔

    یورپی وفد کا دورہ مقبوضہ کشمیر، محبوبہ مفتی نے کیا یہ مطالبہ

    علاوہ ازیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی ، جو پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے ممبر ہیں ، نے اس اقدام کو "قومی پالیسی کی غلطی” اور "غیر اخلاقی” کہہ کر تنقید کی ہے۔

    واضح رہے کہ یورپی وفد نے گذشتہ روز نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم مودی اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں ۔

    یاد رہے کہ یورپی پارلیمانی وفد مبینہ طور پر انتہائی دائیں بازو کی سوچ کے حامل اراکین پارلیمان پر مشتمل ہے۔ وفد 27 یورپی اراکین پارلیمان پر مشتمل تھا۔ لیکن چار ممبران کے اپنے وطن واپس جانے کی وجہ سے وفد کی تعدادکم ہو کر 23ہو گئی ہے۔یورپی پارلیمانی وفد کی اکثریت کا تعلق یورپ کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں سے ہے۔ وہ مبینہ طور پر اسلام مخالف بیان بازی کے لئے بھی مشہور ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر، یورپی یونین کے وفد کا دورہ، بھارتی حکومت پر شدید تنقید

    5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے 27 یورپی یونین کے پارلیمانی وفد نے منگل کے روز مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کیا۔

    یورپی وفد کا دورہ مقبوضہ کشمیر، محبوبہ مفتی نے کیا یہ مطالبہ

    مودی حکومت کویورپی پارلیمانی وفد کوکشمیر جانے کی اجازت دینے کے اپنے فیصلے پرشدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔جس میں ان کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی شامل ہیں۔

    برسراقتدار قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی ، جو پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے ممبر ہیں ، نے اس اقدام کو "قومی پالیسی کی غلطی” اور "غیر اخلاقی” کہہ کر تنقید کی ہے۔ ٹویٹر پر اپنے پیغامات میں بھارتی رہنماوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سیاسی رہنماوں کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں لیکن یوریپین پارلیمنٹرینز کو یہ اجازت دے جارہی ہے۔

    یورپی وفد کی آمد، مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال و احتجاجی مظاہرے

    بھارت کی مرکزی حزب اختلاف کانگریس پارٹی نے اس اقدام کو "ہندوستان کی پارلیمنٹ اور جمہوریت کی صریح توہین” قرار دیا ہے۔
    کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے یورپ کے ممبران پارلیمنٹ کو مقبوضہ جموں وکشمیر کے دورے پر جانے کی اجازت دینے پر حکومت کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    مقبوضہ جموں کشمیر، سیکورٹی فورسز پر فائرنگ ، کتنا نقصان ہوا؟

    ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ) (سی پی آئی ایم)نے الزام لگایا کہ یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرین کے غیر سرکاری گروپ ، جس کے بی جے پی سے روابط ہیں ، کو بھارتی سیاسی جماعتوں سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

    وزیر اعظم مودی ، جنہوں نے پیر 28 اکتوبر کو نئی دہلی میں وفد سے ملاقات کی ، کہا ، ان کے دورے سے انہیں "خطے کے ثقافتی اور مذہبی تنوع” کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔

    کس ملک کا وفد کل مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرے گا؟

    آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد نئی دہلی نے ہندوستانی سیاسی رہنماو¿ں کو جموں و کشمیر جانے کی اجازت سے انکار کردیا تھا۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت کے بعد سی پی آئی ایم کے جنرل سکریٹری ستارام یچوری اور کانگریس کے رہنما اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی غلام نبی آزاد نے ریاست کا دورہ کیا تھا۔

    نئی دہلی نے مبینہ طور پر امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کرس وان ہولن کو بھی مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت سے بھی انکار کیا تھا۔

    مقبوضہ کشمیر،بھارت نواز سیاسی جماعتوں پر بڑی پابندی عائد

    گذشتہ ہفتے ، عدالت عظمی نے وفاقی حکومت سے جموں و کشمیر میں پابندیوں کو ختم کرنے کے لئے ٹائم لائن کے بارے میں پوچھا تھا۔ عدالت نے کشمیر میں عائد پابندیوں سے متعلق متعدد درخواستوں پر غور کرنے کے بعد ، حکومت سے کہاتھا کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے۔

  • مقبوضہ کشمیر، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو سرکاری بنگلے خالی کرنے کا نوٹس

    مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو یکم نومبر تک اپنے سرکاری بنگلے خالی کرنے کا نوٹس دے دیا گیا جب جموں و کشمیر تنظیم نو بل 2019 نافذ ہوگا۔

    مودی حکومت کی نظربند کشمیریوں کو دھمکی ، محبوبہ مفتی کی بیٹی نے بتا دی

    بھارتی حکومت نے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو یکم نومبر تک اپنے سرکاری بنگلے خالی کرنے کا نوٹس دیا ہے۔ اب تک وہ جموں وکشمیر اسمبلی اراکین پنشن ایکٹ 1984 کی وجہ سے اس پراپرٹی میں رہ سکتے تھے۔

    ان کو حاصل یہ سہولیات یکم نومبر کو ختم ہوںگی ، جب جموں و کشمیر تنظیم نو بل 2019 نافذ العمل ہوگا۔

    محبوبہ مفتی نے پارٹی وفد سے ملنے سے انکار کیوں کیا؟

    مقبوضہ کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلی 5 اگست سے سرینگر میں نظر بند ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے واضح کیا تھا کہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی اسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

    یورپی وفد کا دورہ مقبوضہ کشمیر، محبوبہ مفتی نے کیا یہ مطالبہ

  • یورپی وفد کی آمد، مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال و احتجاجی مظاہرے

    یورپی وفد کی آمد کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ عام دنوں میں دکانیں چند گھنٹوں کے لیے کھلتی ہیں تاکہ کشمیری ضرورت کی اشیاء خرید سکیں۔ لیکن یورپی وفد کی آمد پر آج کوئی دکان نہیں کھلی۔

    یورپی وفد کا دورہ مقبوضہ کشمیر، محبوبہ مفتی نے کیا یہ مطالبہ

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دکانیں نہ کھولنے کا مقصد کشمیریوں کی طرف سے بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف غم وغصہ کا اظہار تھا۔ اس موقع پر سڑکیں اور بازار سنسان نظر آئے۔سڑ ک کے کنارے کسی بھی کشمیری نے سٹال تک نہیں لگائے۔

    دریں اثنا یورپی وفد کی مقبوضہ کشمیر آمد کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔صرف سری نگر میں 40مظاہرے کیے گئے۔ اس دوران مظاہرین اور بھارتی فوج میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ بھارتی فوج نے پرامن مظاہرین پر فائر نگ کی جس سے متعدد کشمیری زخمی ہو گئے۔

    کس ملک کا وفد کل مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرے گا؟

    یاد رہے کہ گذشتہ روز بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور قومی سلامتی مشیر اجیت دووال نے نئی دہلی میں یورپی پارلیمان کے 28 رکنی وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران کشمیر کا معاملہ بھی زیربحث آیا۔مقبوضہ کشمیر میں جاری ترقیاتی کاموں پر بھی بات چیت کی گئی۔یورپی پارلیمان کا وفد کل مقبوضہ کشمیر جائے گا۔

    اقوام متحدہ کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش

  • مقبوضہ جموں کشمیر، سیکورٹی فورسز پر فائرنگ ، کتنا نقصان ہوا؟

    مقبوضہ جموں کشمیر، سیکورٹی فورسز پر فائرنگ ، کتنا نقصان ہوا؟

    مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوج کی پٹرول پارٹی پر نامعلوم حملہ آوروں نے حملہ کیا۔

    یورپی وفد کا دورہ مقبوضہ کشمیر، محبوبہ مفتی نے کیا یہ مطالبہ

    بھارتی میڈیا کے مطابق حملہ دربگام میں واقع امتحانی سینٹر کے قریب کیا گیا۔ حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔ حملے کے فوراً بعد فوج نے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور تلاشی مہم جاری ہے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق پلوامہ کے دربگام میں نامعلوم حملہ آوروں نے سیکورٹی فورسزکی گشتی ٹیم پر گولہ باری کی۔ دونوں جانب سے کچھ دیر تک آپس میں گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا۔تاہم اس دوران کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی خبر نہیں ہے۔ حملے کے بعدحملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    مقبوضہ کشمیر، حزب المجاہدین سے وابستہ مجاہدین پر کتنا انعام رکھا گیا؟

    قریبی کیمپوں سے مزید سیکورٹی فورسز کو بلاکر علاقے میں ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور تلاشی مہم جاری ہے۔

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو کا 84 واں دن،کشمیری آج یوم سیاہ منارہے ہیں‌،آزادی کی جنگ جاری

    واضح رہے کہ یورپی یونین کا 23 رکنی پارلیمانی وفد آرٹیکل 370 اور 35 اے منسوخ کئے جانے کے بعدمقبوضہ کشمیرکی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے یہاں پہنچا ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز بھی نامعلوم حملہ آوروں کے گرینیڈ حملہ میں 20افراد زخمی ہو گئے تھے۔

  • مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے محکمہ ٹرانسپورٹ کے زیراہتمام ریلی

    فیصل آباد(محمد اویس )مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے محکمہ ٹرانسپورٹ کے زیراہتمام جنرل بس سٹینڈ میں ریلی منعقد ہوئی جس کی قیادت سیکرٹری ڈسٹرکٹ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی ضمیر حسین نے کی۔اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹرجنرل بس سٹینڈرانا حبیب اللہ اور دیگر کے علاوہ سول سوسائٹی کے افراد بھی شریک تھے جنہوں نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے بینرز اورپلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔سیکرٹری آرٹی اے نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور بھارت طاقت کے زور پر انہیں آزادی سے محروم نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ تمام پاکستانی کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور ان کی ہر طرح سے حمایت جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے آزادی کی جنگ لڑنے والے کشمیریوں کی بہادری اورجرات کو سلام پیش کیا۔اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم واستبداد اب ختم ہونے والا ہے اور کشمیر کی آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا۔اس موقع پر کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے اورکشمیر کی آزادی کے لئے دعا بھی کی گئی

  • یورپی ہوں یا امریکی سب کوکشمیریوں‌ سےملاقات بھی اوربات بھی کرنی چاہیئے،محبوبہ مفتی

    سری نگر:جو بھی کشمیرمیں بھارتی مظالم کا سن کر آئے تو پہلے کشمیریوں سے بات کرے ، نئی دہلی سے ملاقات کرکے واپس جانا یہ کوئی مسئلے کا حل نہیں ، کشمیری عزت واحترام دیتے ہیں‌، اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ریاست میں آنے والے یورپی یونین کے ممبران پارلیمنٹ کو مقامی لوگوں سے بات چیت کا موقع ملنا چاہیے۔

    تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نےاپنے پیغام میں کہا کہ امید ہے کہ یورپی وفد کو مقامی لوگوں، مقامی میڈیا، ڈاکٹروں اور سول سوسائٹی کے ممبران سے بات کرنے کا موقع ملے گا۔بیرونی دنیا کو حقائق کا علم ہوگا تو ان کے دل میں درد پیدا ہوگا ، اب کشمیری کسی خیالی پلاوکے متحمل نہیں کچھ کرنا ہوگا

    سابق وزیراعلٰی مقبوضہ کشمیر محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر اور دنیا کے مابین آہنی پردے اٹھانے کی ضرورت ہے اور جموں وکشمیر کو بحرانوں میں دھکیلنے کے لیے بھارتی حکومت کو جوابدہ قرار دیا جانا چاہیے۔یورپی پارلیمنٹ کا ایک وفد آج مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرے گا، وفد کے ممبران نے آجبھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سے ملاقات کی۔

    یاد رہے کہ امریکی سینیٹرکرس وان ہولین نے گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیرمیں کرفیو ہٹا کر انسانی حقو ق کے نمائندے بھیجے جائیں۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے نئی دہلی جانے والے امریکی سینیٹر کو وادی کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔

  • مبمران یورپی پارلیمنٹ دورہ مقبوضہ کشمیر کیلئے بھارت پہنچ گئے

    نئی دہلی :بھارتی مظالم کا پردہ چاک ہوکررہے گا ، اسی سلسلے میں یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں موجود سخت گیر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے 30 اراکین 29 اکتوبر کو مقبوضہ جموں وکشمیر کا دورہ کریں گے جو 5 اگست کے بھارتی حکومت کے یک طرفہ فیصلے کے بعد کسی بھی بین الاقوامی وفد کا پہلا دورہ ہوگا۔

    پاکستان دوڑ سے باہر ہوگیا

    خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سخت گیر نظریات کی حامل جماعتوں کے وفد کے دورے کو بھارت حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ یورپی یونین کی پارلیمنٹ اور یونین کے رہنماؤں کا اس دورے سے تعلق نہیں ہے جس کے باعث سفارتی سطح پر شکوک کا اظہار کیا جارہا ہے۔

    28-اکتوبرلاہور میں فوڈ اسٹریٹ کا افتتاح

    رپورٹ کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں قائم یورپی یونین کے کئی رکن ممالک کے سفارت خانے ایک روز قبل تک اس دورے سے لاعلم تھے۔یورپی یونین کے ایک عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘اراکین پارلیمنٹ کا وفد دورہ بھارت سرکاری سطح پر نہیں اور وہ یہاں ایک غیر سرکاری تنظیم کی دعوت پر آئے ہیں’۔

    بیوی گھر سے کیوں بھاگ گئی؟

    رپورٹ کے مطابق وفد میں پولینڈ، فرانس اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے دائیں بازو کے اراکین کی اکثریت ہے اور انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی۔وفد منگل کو مقبوضہ جموں کشمیر جائے گا اور ایک روزہ قیام کے بعد واپس آئے گا جس کے بارے میں بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ‘اراکین کو جموں، کشمیر اور لداخ میں ثقافتی اور مذہبی تنوع سے بہترین آگاہی دینا ہے’۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت نے 5 اگست سے قبل ہی ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور موبائل سروس کو معطل کرکے پورے خطے میں کرفیو نافذ کر دیا تھا اور کئی دہائیوں سے مقبوضہ خطے کو حاصل خصوصی حیثیت بھی منسوخ کردی تھی۔بھارتی حکومت نے بعد ازاں پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا تھا لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام تاحال انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔

    فرانس کی سخت گیر دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی سے تعلق رکھنے والے رکن تھیری میریانی کا کہنا تھا کہ ‘ہم کشمیر میں صورت حال دیکھنے جارہے ہیں اور جائزہ لیں گے کہ وہ کیا دکھانا چاہتے ہیں’۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت نے گزشتہ 72 برسوں سے قبضہ کر رکھا ہے اور 30 برس کے دوران آزادی کی تیز ہوتی ہوئی تحریک کو دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں اور 5 اگست 2019 کو مقبوضہ خطے کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔

    بھارت مظالم کے خلاف مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سراپا احتجاج ہیں اور یہ مسئلہ عالمی برادری کے لیے توجہ طلب ہے اورحالیہ اقدامات کے بعد اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی فورمز میں اس پر بات کی جارہی ہے اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

  • اقوام متحدہ کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش

    نیویارک:مقبوضہ کشمیر میں حالات اس قدرخراب ہوگئے ہیں‌کہ دنیا پریشان ہوگئی ہے کہ کشمیریوں‌کو بھارتی مظالم سے کون بچائے گیا ، یہ الفاظ ہیں‌اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی نمائندہ خصوصی ایگنس کلامرڈ نے کیا، اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کےانسانی حقوق کے ماہرین نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    سی آئی اے ابوبکر البغدادی تک کیسے پہنچی؟

    کشمیر میڈیا سروسز کے مطابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی نمائندہ خصوصی ایگنس کلامرڈ نے نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ میں نے بھارتی حکومت کو خط لکھا تھا کہ کشمیر میں موجود ان افراد کی تفصیل بتائیں جنہیں وہ دہشتگرد کہتا ہے لیکن اس کا کوئی مثبت جواباب تک نہیں ملا ہے۔نمائندہ خصوصی نےکہا کہ بھارت کے اس رویے سے انسانیت کی بہت زیادہ تذلیل ہورہی ہے

    مولانا فضل الرحمن کے ساتھی مفتی سلطان محمد قاتلانہ حملے میں زخمی

    کشمیریوں کو بغیر کسی الزام کے گرفتار اقوام متحدہ کےانسانی حقوق کے ماہرین کامقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کمشیر کے علاقے سوپور میں دستی بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 6 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ دستی بم حملہ مارکیٹ کے قریب کیا گیا ہے۔

    بھارت شرارت سے پھرباز نہ آیا، قوم کے پاسبانوں کی طرف سے منہ توڑ جواب،آئی ایس پی آر