Baaghi TV

Category: کشمیر

  • یورپی وفد کا دورہ مقبوضہ کشمیر، محبوبہ مفتی نے کیا یہ مطالبہ

    یورپی وفد کا دورہ مقبوضہ کشمیر، محبوبہ مفتی نے کیا یہ مطالبہ

    یورپی پارلیمان کا 28رکنی وفد کل مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کر رہا ہے اس حوالے سے مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز سیاستدان محبوبہ مفتی نے ایک مطالبہ کر دیا ہے۔

    مودی حکومت کی نظربند کشمیریوں کو دھمکی ، محبوبہ مفتی کی بیٹی نے بتا دی

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)کی رہنما محبوبہ مفتی نے یورپی وفد کی مقبوضہ جموں و کشمیر آمد کے حوالے سے کہا ہے کہ ریاست میں آنے والے یورپی یونین کے ممبران پارلیمنٹ کو مقامی لوگوں سے بات چیت کا موقع ملنا چاہئے ۔

    اپنے ٹوئٹ میں محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ انہیں (وفد کے ممبران) کو لوگوں ، مقامی میڈیا ، ڈاکٹروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملنے کا بھی موقع ملے گا۔

    محبوبہ مفتی نے پارٹی وفد سے ملنے سے انکار کیوں کیا؟

    محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر اور دنیا کے مابین آہنی پردے اٹھانے کی ضرورت ہے اور جموں و کشمیر کو بحرانوں میں دھکیلنے کے لئے حکومت ہند کو جوابدہ ہونا چاہئے۔

    پنڈتوں کے کشمیر چھوڑنے کی وجہ محبوبہ مفتی نے بتا دی

    واضح رہے کہ یورپی پارلیمنٹ کا ایک وفد بھارت کے دورے پر ہے۔ وفد منگل کو مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کرے گا۔ وفد کے ارکان نے آج سوموار کو قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور بعد ازاں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔

    یاد رہے کہ مودی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد کسی غیر ملکی وفد کا یہ پہلا دورہ ہے ۔

  • مقبوضہ کشمیر، حزب المجاہدین سے وابستہ مجاہدین پر کتنا انعام رکھا گیا؟

    مقبوضہ جموں کشمیر کے کشتواڑمیں پولیس نے حزب المجاہدین سے منسلک مجاہدین پرلاکھوں روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کا دو مجاہدین کو شہید کرنے کا دعوی

    بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے تین مجاہدین پر 30 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ محمد امین پر 15 لاکھ روپے، ریاض احمد اور مدثر حسین پر ساڑھے سات لاکھ کا انعام رکھا گیا ہے۔ پولس کو ان تینوں آزادی پسندوں کی تلاش ہے۔ پولیس کے مطابق ان مجاہدین کے بارے میں جانکاری دینے والے کی پہچان خفیہ رکھی جائے گی۔

    واضح رہے کہ یہ تینوں مجاہدین مقبوضہ کشمیر میں کئی حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ ان تینوں کا تعلق حزب المجاہدین سے بتایا جاتا ہے ۔

    مقبوضہ کشمیر، سی آرپی ایف کے جوانوں پر گرینیڈ حملہ

    یاد رہے کہ بھارتی میڈیا نے ملی خفیہ اطلاع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان حامی عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کو بھارتی سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں پلوامہ میں عسکریت پسندوں کی ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں لشکر طیبہ، حزب المجاہدین اور جیش محمد کو سیکورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج نے 3 مزید کشمیری نوجوانوں‌ کو شہید کر دیا

  • مقبوضہ جموں و کشمیر، گرینیڈ حملہ میں 20کشمیری زخمی

    مقبوضہ جموں و کشمیر، گرینیڈ حملہ میں 20کشمیری زخمی

    مقبوضہ جموں کشمیر کے ضلع سوپور میںایک گرینیڈ حملہ میں 20کشمیری زخمی ہو گئے۔

    مقبوضہ کشمیر، سی آرپی ایف کے جوانوں پر گرینیڈ حملہ

    بھارتی میڈیا کے مطابق سوپور میں بس اڈا کے قریب نامعلوم افراد سیکورٹی فورسز کو گرینیڈ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا لیکن نشانہ صحیح نہیں لگا ۔ جس کی وجہ سے گرینیڈ اڈے پر موجود لوگوں کے درمیان گر کر پھٹ گیا جس سے کم ازکم 20کشمیری زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔حملہ کے فوراً بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقہ کا محاصرہ کرلیا ۔ابھی تک کسی بھی عسکریت پسند گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ تین دنوں میں یہ دوسرا حملہ ہے اور اس سے پہلے کرن نگر علاقہ میں ایک گرینیڈ حملہ میں سی آر پی ایف کے چھ جوان زخمی ہوگئے تھے۔ سوپوربس اڈہ پر ہوئے حملہ کی فی الحال کسی بھی تنظیم نے ذمہ داری نہیں لی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کا دو مجاہدین کو شہید کرنے کا دعوی

    واضح رہے کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ طرز کا حملہ کر سکتا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، ہوائی جہاز کے کرایوں میں بے تحاشا اضافہ

    مقبوضہ کشمیر کے باسیوں پر مصیبتیں کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ ایک طرف تو زمینی سفر کے کرایہ میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف ہوائی جہاز کا سفر بھی اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، نئے موبائل کنکشن کے حصول کے لیے ایک اور قد غن لگ گئی

    بھارتی میڈیا کے مطابق دو ہفتہ قبل تک سری نگر سے دہلی تک کا ٹکٹ 2000روپے تھا جو کہ اب کم ازکم 4000روپے ہو گیا ہے۔ہوائی جہاز کے کرایوں میں ہوشربا اضافے کے بعد مقبوضہ کشمیر کی عوام نے نئی دہلی جانے کا پروگرام ہی کینسل کر دیا ہے۔

    وسیم احمد نامی ایک کشمیری کو تجارت کی غرض سے دہلی جانا تھا لیکن ہوائی سفر مہنگا ہونے کے باعث اپنا پروگرام ہی ملتوی کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ ہوائی جہاز کے کرائے میں اچانک بے تحاشا اضافے کی وجہ سے کئی لوگوں نے اپنے طے شدہ پروگرام ہی ملتوی کردیے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر، اسکول کو آگ لگا دی گئی

    وسیم احمد کے بقول، آج سے دو ہفتے قبل دہلی کے لئے ہوائی ٹکٹ زیادہ سے زیادہ دو ہزارروپے میں ملتی تھا لیکن آج یہی ٹکٹ کم سے کم چار ہزار روپے میں مل رہا ہے۔ کرائے میں اضافے کی وجہ سے کئی لوگوں نے دہلی جانے کا پروگرام ہی ملتوی کر دیا ہے۔ میںنے خود بھی تجارت کے سلسلے میں دہلی جانا تھا لیکن ہوائی سفرکے کرایہ میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے میں نے بھی فی الحال اپنا پروگرام موخر کر دیاہے۔

    مقبوضہ کشمیر، تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کیوں؟

    انہوں نے مزید بتایا کہ ایک ہفتہ قبل نئی دہلی تک کے لیے ہوائی ٹکٹ لیں تو بھی کم سے کم چار ہزار روپے میں ٹکٹ ملتی ہے۔ تاہم مجبوری کی حالت میں ہوائی ٹکٹ لینی پڑے تو چھ ہزار روپے سے کم ٹکٹ کا ملنا ناممکن ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، کرفیو کی وجہ سے کتنی فیکٹریز بند ہیں؟ اہم خبر

    ایک اور کشمیری ارشاد احمد نامی نے بتایا کہ یہاں انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہوائی ٹکٹ کا حصول بھی انتہائی مشکل ہے کیونکہ جب یہاں انتطامیہ کی طرف سے قائم این آئی سی سنٹروں میں جاتے ہیں تو ایس ایم ایس سروس پربند ہونے کی وجہ سے موبائل فون پر او ٹی پی نمبر نہیں آتا جس کی وجہ سے ٹکٹ نکلتی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، کرفیو کے ڈھائی ماہ، مسجدوں کے منبرو محراب خاموش

    مذکورہ شہری کے بقول اب کشمیریوں کو ہوائی جہاز کے ٹکٹ کے لئے ٹی آر سی جانا پڑتا ہے جو موجودہ حالات میں بہت ہی مشکل ہے۔

    دریں اثناءسرینگر ایئرپورٹ پر پروازوں کی تعداد میں کمی کی گئی ہے جس کی وجہ سے ہوائی جہاز کے کرایہ میںبے تحاشا اضافہ ہوا۔ سرینگر ایئرپورٹ پر شام کے وقت پروازیں بھی معطل ہیں۔

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کی وجہ سے بازار بند اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے۔ وادی میں ٹرین سروس بھی بند ہیں۔ مقبوضہ وادی کے تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کی سرگرمیاںمسلسل معطل ہیں۔ انتظامیہ کی طرف سے تعلیمی اداروں کو کھولنے کے اعلانات کے باوجود تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل شروع نہیں ہوسکا کیونکہ اکثر اداروں میں سیکورٹی فورسز کے قبضہ میں ہیں۔

    اگرچہ پوسٹ پیڈ موبائل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم بعدازاں یہ بھی ایک اعلان ہی ثابت ہوا۔اس سے اگلے روز ہی ایس ایم ایس سروس بند کر دی گئی۔موبائل کی پری پیڈ سروس اور انٹرنیٹ سروس بھی ابھی تک بحال نہیں ہو سکی۔انٹرنیٹ سروس کی بند ش سے مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صحافی اور طلبا سب سے زیادہ متاثرہ ہوئے ہیں۔

    اسی طرح قابض انتظامیہ نے حریت قائدین کے ساتھ ساتھ بھارت نواز سیاستدانوں کو بھی اس بار نہیں بخشا۔بھارت نواز سیاستدان بھی نظربند یا قید ہیں۔ ریاست کے تین سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی گرفتارہیں جبکہ نیشنل کانفرنس کے صدر اور تین بار وزیر اعلیٰ بننے والے ڈاکٹر فاروق عبداللہ پرپی ایس اے کا قانون لاگو کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ مودی حکومت نے پانچ اگست کو مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم اورآرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کردیا تھا۔ اس اعلان سے ایک دن قبل ہی مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی بند کر دی گئی تھی۔

  • کس ملک کا وفد کل مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرے گا؟

    کس ملک کا وفد کل مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرے گا؟

    غیر ملکی وفد نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور وفد کے ارکان کل مقبوضہ کشمیر جائیں گے۔

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو کا 84 واں دن،کشمیری آج یوم سیاہ منارہے ہیں‌،آزادی کی جنگ جاری

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور قومی سلامتی مشیر اجیت دووال نے نئی دہلی میں یورپی پارلیمان کے 28 رکنی وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران کشمیر کا معاملہ بھی زیربحث آیا۔مقبوضہ کشمیر میں جاری ترقیاتی کاموں پر بھی بات چیت کی گئی۔یورپی پارلیمان کا وفد کل مقبوضہ کشمیر جائے گا۔

    بھارتی وزیراعظم کے مطابق یورپی وفد ملک کے مختلف مقامات کا دورہ کرے گا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورہ میں وفد کو بہت کچھ سمجھنے کا موقع ملے گا۔ وفد کو کشمیر کی تہذیب و ثقافت اور مذہبی تنوع کو جاننے کا موقع ملے گا۔

    ٹوئیٹرکشمیریوں کے قتل کا حامی ،مقبوضہ کشمیرسے متعلق10 لاکھ ٹویٹس بلاک

    واضح رہے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد آج وادی میں 85ویں روزبھی کرفیو نافذ رہا جس سے معمولات زندگی مفلوج ہیں۔سکولوں میں تدریس کا عمل منقطع ہے جبکہ ہسپتالوں میں ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ کرفیو کی وجہ سے مقبوضہ وادی کی بیشتر مساجد میں تالہ بندی ہے۔

    مقبوضہ کشمیرلاک ڈاون کا 82 واں‌دن:نمازجمعہ کے بعد بھارتی مظالم کیخلاف احتجاج جاری

    مقبوضہ علاقے میں صورتحال کو معمول پر لانے کی قابض انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود کشمیری بھارتی تسلط اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے مودی حکومت کے 5اگست کے غیر قانونی اقدام کیخلاف سول نافرمانی کی پر امن تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر، نئے موبائل کنکشن کے حصول کے لیے ایک اور قد غن لگ گئی

    دکانیں اور کاروباری مراکز دن بھر بیشتر وقت بند رہتی ہیں جبکہ سڑکوں پرکوئی پبلک ٹرانسپورٹ مشکل ہی نظر آتی ہے، آبادیوں میں جعلی آپریشن ہورہے ہیں، رہنماؤں سمیت گیارہ ہزار کشمیری جیلوں میں قید ہیں، ڈھائی ماہ سے کشمیریوں کو نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دی جارہی ہے، بھارتی مظالم کیخلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 5 اگست کو مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا اور ریاست کو دو علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • کشمیر ی اپنے گھر وں میں قید اور اپنے ہی ملک میں اجنبی بنا دئے گئے،کمشنر ظفر اقبال

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی) میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے کمشنر ظفراقبال شیخ نے کہا اندرونی و بیر ونی سازشوں اور نا مساعد حالات کے باوجو د ہزاروں کی تعدادمیں اہلیا ن سرگودہا نے یو م سیا ہ کشمیر کی ریلی میں شرکت کر کے ثابت کر دیا کہ کشمیر کے مسئلہ پر ہم میں کو ئی اختلا ف نہیں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آذادی کےلئے ہم ان کی اخلا قی اور سفارتی مدد جا ری رکھیں گے۔ انہو ں نے کہا کہ بھا رت نے عالمی قوانین کی خلا ف ورزی کر کے کشمیر پر قبضہ جما رکھاہے ۔ کشمیر ی اپنے گھر وں میں قید اور اپنے ہی ملک میں اجنبی بنا دئے گئے ہیں۔72سال گزرنے کے باوجودکشمیریو ں کے جذبہ آزادی میں زرہ برابر کمی نہیں آئی۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی پر پوری امت مسلمہ سلا م پیش کر تی ہے ۔ کمشنر نے کہا کہ 27اکتوبر 1947کو بھا رت نے تما م عالمی قوانین کو پا ما ل کر تے ہو ئے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوجیں اتاریں اور پھر خود ہی کشمیر یو ں کو ان کا حق خوداردیت دینے کے لیے اقوام متحدہ سے رجو ع کیا.

  • کنٹرول لائن کے باسیوں کی زندگی بڑی مشکل بنادی گئی ہے ، سی این این

    واشنگٹن : بھارت کی طرف سے کشمیری مسلمانو‌ں‌کی زندگیاں بڑی مشکل اوراذیت ناک بنا دی گئی ہیں ، جہاں ایک طرف مقبوضہ کشمیر کے باسیوں پر ظلم وتشدد جاری ہے وہاں بھارت کی یہ مکاری ہےکہ وہ کنٹرول لائن پر بسنے والے کشمیریوں‌ سے بھی جینے کا حق چھین رہا ہے ،بھارت کے انہیں مظالم کی تصویر کشی کا جومنظر امریکی اخبار نے پیش کیا ہے وہ بھی پڑھنے کے قابل ہے،

    وزیراعلیٰ کی بیٹی اور بہن گرفتار

    ذرائع کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے نےآزاد کشمیر لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر رپورٹ جاری کردی جس میں بتایا گیا ہے کہ ’بھارتی شیلنگ سے لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے‘۔تفصیلات کے مطابق معروف امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے کشمیر سے متعلق اپنی خصوصی رپورٹ میں بھارت کے مقبوضہ و آزاد کشمیر میں جاری ظلم و بربریت کو دنیا پر عیاں کردیا، امریکی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارتی شیلنگ کے باعث آزاد کشمیر کے شہری خوفزدہ ہیں۔

    کرپشن پر سزایافہ مگر اجازت بھی مل گئی؛کیا معاملہ ہے ؟

    سی این این کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ آزادکشمیر کےرہائشیوں کوایل اوسی پربھارتی شیلنگ کا سامنا ہے، بھارتی شیلنگ کے باعث لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔نشریاتی ادارے نے رپورٹ میں بتایا کہ بھارتی شیلنگ سےلوگوں کی معمولات زندگی متاثرہوتےہیں۔

    دھرنے کو کیسے کنٹرول کرنا ہے وفاقی حکومت نے اہم فیصلے کرلیئے

    امریکی ٹی وی کا کہنا تھا کہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو،روڈبلاک ہے، مواصلاتی ذرائع بندہونےسےلوگ خاندانوں سےرابطہ نہیں کرسکتے کرفیو کے باعث مقبوضہ کشمیر کے ریائشیوں کو شدید مشکلات لاحق ہیں۔رپورٹ کے مطابق کشمیریوں کاکہناہےبھارتی فوجی آنسوگیس،پیلیٹ گن استعمال کرتی ہے۔

  • یو م سیا ہ کشمیر، سرگودہا میں کمشنر ظفر اقبال کی قیا دت میں عظیم الشان ریلی ، سینکڑوں افراد کی شرکت

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی ) یو م سیا ہ کشمیر کے موقع پر کمشنر سرگودہا ظفر اقبال شیخ کی قیادت میں عظیم الشان ریلی نکالی گئی ۔ ریلی میں صوبائی پا لیما نی سیکرٹری برائے ایکسائز اینڈ نا رکو ٹکس چوہد ری فیصل فاروق چیمہ، ایم پی اے چوہد ری افتخار حسین گوندل ، ڈپٹی کمشنر آسیہ گل کے علاوہ علماءکرام، تاجر، وکلا ، ڈاکٹرز، طلبہ ، خواتین اورمختلف سرکا ری محکمو ں کے افسران و ملا زمین اور ڈاکٹر پروفیسر ہا رون الرشید تبسم سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کرکے مقبوضہ کشمیر کے اپنے مظلو م بھا ئیو ں، بہنو ں ، بزرگوں اور بچوں سے اظہا ر یکجہتی کیا ۔ ریلی کمپنی باغ سے شروع ہو ئی جو مختلف مقاما ت سے ہو تی ہو ئی واپس اسی مقام پر پہنچ کر ختم ہو ئی۔ ریلی کے شرکا ءنے بینرز، پینا فلیکس اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر ی عوام کے حق اور بھا رتی مظالم کے خلا ف نعرئے درج تھے ۔ شرکا ءکی طرف سے بھا رتی حکومت کے خلا ف شدید نعرے بازی بھی کی گئی ۔ ریلی میں شریک سینکڑوں تعداد میں عوام نے پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے بھی اٹھا رکھے تھے۔ فضا کشمیر بنے گا پا کستان کے نعروں سے گونجتی رہی.

  • سرگودہا کی تخصیل سلانوالی میں اظہار یکجہتی کشمیر ریلی

    سلانوالی،سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی)سرگودہا کی تخصیل سلانوالی میں کشمیری بھاٸیوں سے اظہار یکجہتی کیلیے ریلی نکالی گئی ریلی کے شرکاء نے کشمیر بنے گاپاکستان کے نعرے لگائے ریلی کی قیادت ، اسسٹنٹ کمشنر سلانوالی مدثرممتاز ھرل نے کی گورنمنٹ کالج کے پرنسپل ضیاء الحسن تحصیلدارممتاز اسڑ وانتظامیہ دیگر سکولوں کےھیڈماسٹرز اساتذہ۔میونسپل کمیٹی۔مارکیٹ کمیٹی اورسٹوڈنٹس نے بڑی تعداد میں شرکت کی شرکاء کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آزادی تک ان کے ساتھ کھڑےہیں اور بھارت کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ کشمیر میں ظالمانہ کاروائیوں سے پرہیز کرے اور فی الفور کرفیو ختم کرے

  • وزیراعلیٰ کی بیٹی اور بہن گرفتار

    سری نگر: مقبوضہ کشمیر کی صورت حال مزید خراب ہونے لگی ، بھارتی فوج کو اب اپنے ہی ہمدردوں سے ہمدردی نہ رہی اور نہ اعتماد رہا ، جس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی بہن اور بیٹی کو گرفتار کرلیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے خلاف سری نگر میں متعدد خواتین احتجاجی مظاہرہ کررہی تھیں کہ اس دوران بھارتی فورسز نے کئی خواتین کو گرفتار کرلیا جن میں سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر فاروق عبداللہ کی بہن اور بیٹی بھی شامل ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر سے ذرائع کے مطابق فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے سابق جسٹس بشیر احمد خان کی اہلیہ کو بھی گرفتار کرلیا جب کہ دیگر گرفتار کی جانے والی خواتین میں معروف علمی شخصیات بھی شامل ہیں۔گرفتار کی جانے والی سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی بہن ثریا عبداللہ کا کہنا تھا کہ 5 اگست سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد ہم گھروں میں قید ہیں، یہ ایک ایسا زبردستی کا رشتہ ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق سری نگر میں احتجاج کرنے والی ان خواتین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جہاں انہوں نے لال چوک پر جیسے ہی احتجاج شروع کیا تو پولیس کی بھاری نفری نے کئی خواتین کو حراست میں لے لیا اور انہیں قریبی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔