Baaghi TV

Category: کشمیر

  • یورپی ممبران پارلیمنٹ کے نجی دورہ کے ماسٹر مائنڈ کا انکشاف :خصوصی رپورٹ

    لاہور:دورہ نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرڈوول کی کاوشوں سے ممکن ہوا5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے 27 یورپی یونین کے پارلیمنٹیرینز کے وفد نے منگل کے روز مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کیا۔

    نریندر مودی کی زیرقیادت حکومت کویورپی پارلیمنٹیرینز کے وفد کوکشمیر جانے کی اجازت دینے کے اپنے فیصلے پرشدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔جس میں ان کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی شامل ہیں۔ مبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے دفترکی آشیرباد کے ساتھ ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کی ہدایت پر 24 دائیں بازو کے یورپی یونین کے پارلیمنٹیرین کے کشمیر کے "نجی” دورے کا منصوبہ بنایا گیا اور بڑی حد تک اس پر عمل درآمد کیا گیا۔ بی جے پی کے ایک رہنما نے کہا کہ یہ دورہ ، کشمیر کے اس طرح کے مجوزہ دوروں میں واحد اور پہلا واقعہ ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بظاہر اس دورے کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر برطانوی شہری میڈی شرما کے ذریعہ کی گئی جو ایک نجی تنظیم’ ڈبلیو ای ایس ٹی ٹی'(اقتصادی اور سماجی تھنک ٹینک برائے خواتین )کی بانی ہے۔ اس این جی اوسے ایک اور ہندوستانی تھنک ٹینک ‘انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نان الائنڈسٹڈیز’ کے ذریعے رابطہ کیا گیا اور تمام اخراجات مہیا کئے گئے ۔ برطانوی سیاستدان کرس ڈیوس کو بھیجے گئے دعوت نامے اسی ادارے کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ حقیقت میں ،

    باغی ٹی وی کو حاصل ہونے والی خصوصی رپورٹ‌کے مطابق اس دورے کی بہت ہی احتیاط اور باریک بینی سے منصوبہ بندی کی گئی جس کا مقصد بین الاقوامی برادری کو کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے گمراہ کرنا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جیشنکر اس منصوبہ بندی سے آگاہ تھے ان کے علاوہ وزارت خارجہ کے تمام بڑے عہدیدار اس سے لاعلم تھے۔ جیشنکر نے رواں سال 30 اگست کو برسلز کے دورے پر یورپی پارلیمنٹ کے ممبروں کو کشمیر کا دورہ کروانے کا خیال پیش کیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق بیرونی دوروں کے تمام انتظامات فارن آفس کو کرنا ہوتے ہیں۔ لیکن ان پروٹوکولز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہندوستانی حکومت نے دفترخارجہ کی بجائے براہ راست میڈی شرما اور ان کی این جی او کو استعمال کرنے کافیصلہ کیا۔اس این جی او نے تمام شرکاء کو دعوت نامے بھیجتے ہوئے یہ بتایا کہ وہ بھارت کے وزیر اعظم کے ساتھ” وی آئی پی میٹنگ "کا اہتمام کررہی ہے ۔ یہ تمام انتظامات براہ راست اجیت دوول کی نگرانی میں ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وفد کا مقصد مودی سرکار کی کشمیر پالیسی کے ناقدین کو خاموش کرنے کے لئے حمایت حاصل کرنا تھا۔

    بی جے پی کے ایک اور رہنما نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس طرح کی کوششوں کو جاری رکھنا چاہئے۔ ہمیں ان لوگوں کو صحیح نقطہ نظر پیش کرنا ہوگا جو توقعات کے بغیر ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ صرف اجتماعی کوششیں ہی مثبت نتائج کا باعث بنیں گی ۔ دورے کے حوالے سے برطانیہ کے لبرل ڈیموکریٹس کرس ڈیوس کو بھی دعوت دی گئی تھی ۔کرس ڈیوس کے دفتر کے سٹاف نے بتایا کہ وہ ابتدائی طور پر آنے پر راضی ہوچکے تھے ، لیکن جب انھوں نے اصرار کیا کہ ان کے ساتھ آزاد صحافی بھی شامل ہوں گے تو ان کا دعوت نامہ منسوخ کردیا گیا۔

    ذمہ دار ذرائع کے مطابق ڈیوس نے اپنے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا کہ پہلے ہی لمحے مجھے اس دورے کی دعوت سے محسوس ہوا کہ اس سٹنٹ کا مقصد نریندر مودی کو تقویت پہنچانا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ کشمیر میں حکومت ہند کے اقدامات ایک عظیم جمہوریت کے بہترین اصولوں کے ساتھ خیانت کر رہے ہیں ۔

  • مقبوضہ کشمیر، نہ سڑک بنی نہ معاوضہ ملا

    لمقبوضہ کشمیر میں انتظامیہ نے مقامی آبادی سے سڑک بنانے کے لیے زمین تو لے لی لیکن نہ تو سڑک بنی اور نہ ہی معاوضہ ملا۔

    مقبوضہ کشمیر، گورنرکے مشیر نے استعفیٰ دے دیا

    مذکورہ واقعہ ضلع پونچھ میں واقع مہارکوٹ کا ہے جہاں کی عوام سے انتظامیہ نے 2009 میں سڑک بنانے کے لیے زمین حاصل کی تھی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پونچھ میں واقع براچھڑ سے مہارکوٹ جانے والی 30 کلو میٹر لمبی سڑک کا تعمیراتی کام 2009 میں شروع کیا گیا تھا لیکن وہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔

    مقبوضہ کشمیر، یورپی وفد کو عام لوگوں سے ملنے نہیں دیا گیا، ایسا کس نے کہا؟

    مقامی لوگوں کے مطابق ان سے 2009 میں سڑک بنانے کے لیے زمین حاصل کی گئی تھی لیکن سڑک کی کی تعمیر کا کام شروع نہیں ہوا۔ انہوں نے اس حوالے سے کئی بار ضلعی انتظامیہ سے بات کی لیکن آج تک انتظامیہ نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

    مقبوضہ کشمیر، یورپی یونین کے وفد کا دورہ، بھارتی حکومت پر شدید تنقید

    مقامی شہری منیر حسین نے بتایا کہ ہمیں آج بھی اپنے کندھوں پر پچاس کلو وزن اٹھا کر پانچ سے دس کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں بہت زیادہ پریشانیوں کا سامنا ہے’۔

    ایک اورشہری حسن الدین کے مطابق کئی برس بیت گئے ہماری زمینوں کو سڑک کے لیے اکھاڑ کر یوں ہی چھوڑ دیا گیا ہے۔ نہ ہی سڑک کی تعمیر مکمل کی گئی اور نہ ہی زمینوں کے معاوضے دیے گئے۔ غریبوں کی زمینوں کا نقصان بھی ہوا اور سڑک بھی نہیں بنی۔

    حسن الدین نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ جلد ا زجلد براچھڑ سے مہارکوٹ تک سڑک کی تعمیری کام کو مکمل کروائیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ اپنی زمینوں میں فصلوں کی کاشت شروع کر دیں گے۔

  • یورپی وفد سے ملاقات، بھارت نواز سیاستدانوں کو نوٹس جاری

    یورپی وفد سے ملاقات کرنے پر مقبوضہ کشمیر کے تین بھارت نواز سیاستدانوں کو پارٹی کی طرف سے نوٹس جا ری کر دیئے گئے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر، یورپی وفد کو عام لوگوں سے ملنے نہیں دیا گیا، ایسا کس نے کہا؟

    بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس جموں و کشمیر یونٹ نے یورپی پارلیمانی وفد سے ملاقات کرنے پر پارٹی کے تین رہنماوں کو وجہ بتاو نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

    جموں و کشمیر کانگریس یونٹ نے پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری عثمان ماجد ، ترجمان فاروق اندرابی اور جنرل سکریٹری سریندر سنگھ کو مقبوضہ کشمیر میں یورپی یونین کے وفد سے ملاقات کرنے پر وجہ بتاو نوٹس جاری کیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، یورپی یونین کے وفد کا دورہ، بھارتی حکومت پر شدید تنقید

    واضح رہے کہ یورپی پارلیمانی وفد کشمیر کی غیر یقینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے مقبوضہ وادی کے دو روزہ دورے پر ہے۔دوسری طرف حزب اختلاف کی متعدد جماعتوں نے یورپی یونین کے 23 رکنی وفد کو کشمیر کا دورہ کرنے اور زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کی اجازت دینے پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    یورپی وفد کا دورہ مقبوضہ کشمیر، دوسرے روز بھی ہڑتال

    بیشتر رہنماوں نے مودی حکومت کی جانب غیر ملکی وفد کو کشمیر جانے کی اجازت دینے پر سوال اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ بھارت میں اپوزیشن پارٹیوں کے وفود کو کشمیر کا دورہ کرنے سے منع کیوں کیا گیا ہے؟

  • بھارتی آئین اورکشمیرسے متعلق فیصلوں کو نہیں‌ مانتے ، وزیراعظم آزاد کشمیر

    اسلام آباد:بھارتی آئین اور کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلوں کو نہ پہلے مانتے تھے اورنہ اب تسلیم کرتے ہیں‌، ان خیالات کا اظہاروزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کل ریاست کے دو حصے کرنا چاہتا ہے، ہم نہ ہندوستان کے آئین کو مانتے ہیں نہ آرٹیکل 370 کو، بھارت کے اس مقصد کو کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

    بہت جلد ممبئی دنیا کے نقشے سے مٹنے والا ہے، ماہرین کی خبرسے کھلبلی مچ گئی

    ذرائع کے مطابق اس موقع پرآزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدرکے ہمراہ پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر راجہ فاروق حیدر نے کہا بھارت کل ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے مگر بھارت کی کسی قسم کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بھی جنگ چھیڑ رکھی ہے،

    عمران خان استعفیٰ نہیں‌ دیں گے، مولانا فضل الرحمان

    راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ہم نہ تو بھارت کے آئین کو مانتے ہیں اور نہ ہی آرٹیکل 370 کو، انہوں نے کہا کہ میرپورمیں ضمنی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور ان انتخابات کے موقع پر ہم ہندوستان کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم متحد ہیں، ہمیں الگ نہیں کیا جا سکتا، وزیراعظم آزاد کشمیر نے ایک بار پھر کشمیریوں کو پیغام دیا کہ وہ بہت جلد آزادی کا سورج دیکھنے والے ہیں

    اسلامیات کی ریفرنس بک میں غلط تجزیے ،وزیراعظم نے نوٹس لے لیا

  • مقبوضہ کشمیر، گورنرکے مشیر نے استعفیٰ دے دیا

    مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کے بھارت کے زیر انتظام علاقہ بننے سے ایک دن پہلے گورنر ستیہ پال ملک کے مشیر کے وجے کمار اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

    یورپی وفد کا دورہ مقبوضہ کشمیر، دوسرے روز بھی ہڑتال

    بھارتی میڈیا نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کے وجے کمار آج اپنے عہدے سے استعفی دینے کے بعد دہلی روانہ ہو گئے ہیں۔ وجے کمار گورنرکے مشیر مقرر ہونے سے قبل 1998-2001 کے دوران مقبوضہ وادی میں اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق وجے کمار نے دہلی روانگی سے قبل کسی سے بھی ملاقات نہیں کی۔

    مقبوضہ کشمیر:لاک ڈاون کا87 واں دن، یورپی وفد کا دورہ مگرپھربھی ظلم ہے جاری

    واضح رہے کہ 31 اکتوبر کو سرینگر میں یونین ٹریٹیری کا دن منایا جائے گا اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے نئے لیفٹیننٹ گورنر اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

    یورپی وفد کی آمد، مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال و احتجاجی مظاہرے

    یاد رہے کہ مودی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی۔

  • مقبوضہ کشمیر، یورپی وفد کو عام لوگوں سے ملنے نہیں دیا گیا، ایسا کس نے کہا؟

    بھارت نے مقبوضہ کشمیر جانے والے یورپی پارلیمان کے غیر سرکاری وفد کو عام لوگوں سے ملنے نہیں دیا ۔

    یورپی وفد کا دورہ مقبوضہ کشمیر، دوسرے روز بھی ہڑتال

    یورپی پارلیمان کے کچھ ممبران ، جنہوں نے مقبوضہ کشمیر کا دوروزہ دورہ کیا ہے ،کے مطابق انہیں عام لوگوں سے ملنے سے دور رکھا گیا ہے۔

    اسپین کی ووکس پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان ہرمن ٹیریشچ نے ڈل جھیل کے کنارے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بہت سے لوگوں سے ملنے سے دور رکھا جا رہا ہے۔ ہرمن کے بقول "ہم اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ہمیں کچھ لوگوں سے دور رکھا جارہا ہے۔”

    یورپی وفد کی آمد، مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال و احتجاجی مظاہرے

    ہرمن کے مطابق گروپ کے دورے کا مقصد ریاست میں کیا ہورہا ہے اس حوالے سے کچھ خبر حاصل کرنا تھا۔ لیکن اس کے پاس اب تک اتنے حقائق نہیں ہیں کہ وہ اس صورتحال کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرسکیں۔ .

    مقبوضہ کشمیر، یورپی یونین کے وفد کا دورہ، بھارتی حکومت پر شدید تنقید

    دوسری طرف جرمنی کی آرٹرنیٹو فر ڈچلینڈ پارٹی کے نکولس فیسٹ نے کہا کہ کسی طرح کا عدم توازن ہے اور حکومت کوکسی نہ کسی طرح اس کا ازالہ کرنا چاہئے”۔

    دریں اثناء سری نگر کا دورہ کرنے والے غیر سرکاری یورپی یونین کے وفد نے کہا کہ بھارتی حکومت کو اپنی اپوزیشن کے رہنماﺅں کو بھی جموں و کشمیر جانے کی اجازت دینی چاہئے اگر اس نے غیر ملکی رہنماو¿ں کو ایسا کرنے کی اجازت دی ہے۔

  • یورپی وفد کا دورہ مقبوضہ کشمیر، دوسرے روز بھی ہڑتال

    پورپی پارلیمانی وفد کے مقبوضہ کشمیر کے دورہ کے دوسرے روز بھی ہڑتال کی گئی ۔

    یورپی رکن پارلیمان نے بھارتی اپوزیشن کے دل کی بات کہہ دی

    مقبوضہ وادی میں بازار اور مارکیٹیں آج دوسرے روز بھی بند رہیں جس کی وجہ سے مقامی افراد اشیائے ضروریہ نہیں خرید سکے۔پبلک ٹرانسپورٹ بھی آج سڑکوں سے غائب رہی۔

    واضح رہے کہ یورپی پارلیمان کا 23رکنی غیر سرکاری وفد مقبوضہ کشمیر کے دو روزہ پر ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، یورپی یونین کے وفد کا دورہ، بھارتی حکومت پر شدید تنقید

    یاد رہے کہ یورپی وفد کی آمد کے پہلے روز بھی مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی تھی ۔دکانیں بند رہیں۔جبکہ سڑکیں اور بازار سنسان نظر آئے۔سڑ ک کے کنارے کسی بھی کشمیری نے سٹال تک نہیں لگائے۔

    یورپی وفد کی آمد، مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال و احتجاجی مظاہرے

    دریں اثنا گذشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔صرف سری نگر میں 40مظاہرے کیے گئے۔ اس دوران مظاہرین اور بھارتی فوج میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ بھارتی فوج نے پرامن مظاہرین پر فائر نگ کی جس سے متعدد کشمیری زخمی ہو گئے۔

  • یورپی رکن پارلیمان نے بھارتی اپوزیشن کے دل کی بات کہہ دی

    یورپی یونین کے رکن پارلیمنٹ نکولس فیسٹ نے سری نگر میں بھارتی اپوزیشن کے دل کی بات کہہ دی

    مقبوضہ کشمیر،یورپی پارلیمانی وفد کے دورہ کا پہلا دن

    میڈیا سے بات چیت کے دوران نکولس فیسٹ نے کہا کہ ”مجھے لگتا ہے کہ اگر آپ یورپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ کو (کشمیر) جانے دیتے ہیں تو آپ کو بھارتی اپوزیشن رہنماوں کو بھی اس کی اجازت دینی چاہیے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ عدم توازن ہے، حکومت کو کسی طرح سے اس کا حل نکالنا چاہیے۔“

    واضح رہے کہ یورپی پارلیمانی وفد اس وقت مقبوضہ کشمیر کے دو روزہ دورے پر ہے۔ وفد کے اس دورے کو لے مودی حکومت کو شدید ردعمل کا سامنا ہے جس میں ان کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی شامل ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر، یورپی یونین کے وفد کا دورہ، بھارتی حکومت پر شدید تنقید

    بی جے پی کے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے اس اقدام کو "قومی پالیسی کی غلطی” اور "غیر اخلاقی” کہہ کر تنقید کی ہے۔بھارت کی مرکزی حزب اختلاف کانگریس پارٹی نے اس اقدام کو "ہندوستان کی پارلیمنٹ اور جمہوریت کی صریح توہین” قرار دیا ہے۔

    یورپی وفد کی آمد، مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال و احتجاجی مظاہرے

    کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے یورپ کے ممبران پارلیمنٹ کو مقبوضہ جموں وکشمیر کے دورے پر جانے کی اجازت دینے پر حکومت کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ) (سی پی آئی ایم)نے الزام لگایا کہ یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرین کے غیر سرکاری گروپ ، جس کے بی جے پی سے روابط ہیں ، کو بھارتی سیاسی جماعتوں سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

  • تاجر تنظیموں کی ملک بھر میں شٹرڈاون ہڑتال

    تاجر تنظیموں کی ملک بھر میں شٹرڈاون ہڑتال

    تاجر تنظیموں کی ملک بھر میں شٹرڈاون ہڑتال ، کاروبار زندگی مفلوج رہے گا.
    تاجروں اور حکومت کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے، مذکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا، تاجر تنظیموں نے ملک بھر میں آج بھی شٹرڈاون ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔
    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تاجر رہنماؤں نے کہا کہ ایف بی آر کے پاس کوئی قابل عمل فارمولا نہیں، ایف بی آر ٹیکس کا آسان اور سادہ طریقہ کار لانے کو تیار نہیں۔

    تاجروں سے مذاکرات کے بعد مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ایف بی آر کی پالیسیوں میں بہتری لا رہے ہیں، 30 سے 35 لاکھ تاجر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں، جو بھی کما رہا ہے اس سے ٹیکس لینا چاہتے ہیں۔

    مشیر خزانہ سے مذاکرات کا کیا بنا؟ تاجر کل ہڑتال کریں گے یا نہیں؟ اعلان ہو گیا

    واضح‌ رہے کہ آل پاکستان انجمن تاجران نے ملک گیر شٹر ڈاون ہڑتال کا پیشگی اعلان یکم اکتوبر کو کردیا تھا، حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہ کرنے پر کراچی کے تاجروں نے بھی مکمل شٹر ڈاون کا اعلان کیا، ادھر اسلام آباد میں انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے کہاہے کہ یکم جولائی سے ہم پریس کانفرنس اور ہڑتالوں میں لگے ہوئے ہیں، ایف بی آر اور حکومت اپنے وعدوں سے مکررہے ہیں ،سارے کا سارا مسئلہ آئی ایم ایف کا ہے، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کو چاہیے کہ سٹیک ہولڈرز سے بات کرے، قرضہ لینے کے لیے ایف بی آر آنکھیں بند کرکے مذاکرات کرتا ہے، وزیراعظم دنیا بھر کے تاجروں کو بلاتے ہیں، وزیراعظم صاحب ہمارے ساتھ بھی کاروبار کے لیے بات کرلیں

    وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ، ایجنڈے میں مزید اہم ایشوز بھی شامل

  • سانپ کا کام ڈسنا!بھارت نے سابق وزرائے اعلیٰ‌کشمیرسے بنگلے بھی چھین لیے

    نئی دہلی :سانپ کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اس سے پیارکرنے والے کو بھی ڈنگ ماردیتا ہے ، جس طرح کا ڈنگ مودی سرکارنے ہمیشہ بھارت کا ساتھ دینے والے کشمیری وزرائے اعلیٰ کو مارا ہے ، اطلاعات کے مطابق بھارت کی طرف سے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو سرکاری بنگلے خالی کرنے کا نوٹس بھیج دیا گیا ہے

    بھارتی ریاست منی پورہ الگ ملک ،لندن میں اعلان کردیا گیا

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو یکم نومبر تک اپنے سرکاری بنگلے خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا ہے جب جموں و کشمیر تنظیمِ نو بل 2019 نافذ العمل ہوگا۔

    پاکستان کو انٹرنیٹ فراہمی میں مشکلات

    بھارتی حکومت نے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو یکم نومبر تک اپنے سرکاری بنگلے خالی کرنے کا نوٹس دیا ہے۔ اب تک وہ جموں وکشمیر اسمبلی اراکین پنشن ایکٹ 1984 کی وجہ سے اس پراپرٹی میں رہ سکتے تھے ۔ ان کو حاصل یہ سہولیات یکم نومبر کو ختم ہوںگی ، جب جموں و کشمیر تنظیم نو بل 2019 نافذ العمل ہوگا۔

    ربیع الاول کا چاند نظر آگیا

    مقبوضہ کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلی 5 اگست سے سرینگر میں نظر بند ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے واضح کیا تھا کہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی اسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔