Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیر اور امت مسلمہ ——از–علی حسن اصغر

    آج کشمیر میں کرفیو کا 82 واں دن ہے اس المناک واقعے پر اس سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ابھی تک اقوام عالم اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اس کی بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کہ بھارت ایک بڑی عالمی منڈی ہے جس کی وجہ سے دوسرے ممالک کو اس کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ناگزیر ہے لیکن ایسا کہنے والوں سے کوئی یہ پوچھے کہ کیا انسانی جان کی قیمت اتنی ہی کم ہے کہ اسے محض تجارت کے باعث ضائع ہونے دیا جائے؟

    کیا دنیا میں کوئی ایسی طاقت ہے جو اربوں کھربوں روپے کے بدلے کسی ایک کو زندگی دے سکے؟ بلکہ یہ مسلمہ حقیقت ہم سبھی جانتے ہیں کہ ایسا ہرگز ممکن نہیں تو پھر اس معمولی تجارت کو اہمیت دے کر ہزاروں جانوں کے زیاں پر اقوام عالم خاموش کیوں ہے؟کیا کشمیریوں کے بہتے لہو پر ہمیشہ اقوام عالم خاموش رہیں گی؟ درحقیقت اس میں غلطی ہماری بھی ہے پاکستان کو آزاد ہوئے 72 سال گزر چکے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم ابھی تک ذہنی طور پر آزاد نہیں ہوئے اور اس طرف ہماری حکومتوں نے بھی خاص توجہ نہیں دی

    آج بھی جب کوئی انڈین فلم ،گانا یا کوئی بھی مواد ریلیز ہوتا ہے تو سینما اور تھیٹر اس کے تماشائیوں سے بھر جاتے ہیں یہی لوگ بعد میں یہ کہتے ہوئے بھی ملتے ہیں کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے ایسا ہرگز نہیں کہ یہ لوگ پاکستان اور کشمیر کے ساتھ مخلص نہیں بلکہ یہ سب محب وطن ہیں لیکن یہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ وہ ایک مواد جو وہ سینما میں دیکھ کر آرہے ہیں اس سے بھارت کو کتنا فائدہ حاصل ہوتا ہے اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کتنا اضافہ ہوتا ہے پھر جب وہی روپے جو آپ انہیں اس مواد کو دیکھنے کے دے کر آتے ہیں اور وہ اس روپے سے ہتھیار خرید کر کشمیریوں پر استعمال کرتے ہیں تو پھر ہمارا لہو کھول اٹھتا ہے

    اس جرم میں آپ میں ہم سب برابر کے شریک ہیں ہیں تو خدارا ان عناصر سے بچیں اور اگر آپ کو کوئی اس کی ترغیب دے تو اسے بھی سمجھائیں میں جانتا ہوں کے یہ ایک کٹھن سفر ہے آپ کو مختلف مزاحمتوں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا کچھ لوگ یہ بھی کہیں گے کہ صرف تمہارے کرنے سے کیا ہوتا ہے؟ لیکن قطرہ قطرہ ملکر دریا بنتا ہے ہم سب جانتے ہیں کہ بھارت کی آمدنی کا بڑا ذریعہ بالی وڈ کی فلمیں ہیں ۔تو اپنے آپ سے شروع کریں کریں اور لوگوں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیں آئیں پاکستان کو ان عناصر سے پاک بنائیں اور پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں خدا تعالی سے دعا ہے کہ وہ کشمیریوں کی مشکلات کو آسان فرمائے( آمین)
    کشمیر کو سب ارباب جہاں کہتے ہیں جنت جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

    علی حسن اصغر

  • کشمیری دانشور سید عبد الرحمن گیلانی خالق حقیقی سے جا ملے

    کشمیری دانشور اور دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر سید عبد الرحمن گیلانی جمعرات کودل کادورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملے۔

    مقبوضہ کشمیر، لاک ڈاون کا 81 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم جاری ، کشمیریوں کی تحریک آزادی جاری

    عبدالرحمن گیلانی کو 2001 کے پارلیمنٹ حملہ کیس میں سزائے موت دی گئی تھی تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ نے انہیں بری کردیا تھا۔

    یاد رہے کہ گیلانی ، دہلی یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج میں عربی کے استاد تھے ۔ان کے پسماندگان میں اہلیہ اور دو بیٹیا ں ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر، املاک کو نذر آتش کرنے کا سلسلہ جاری

    علاوہ ازیں 2016 میں گیلانی نے شہید کشمیری رہنما محمد افضل گور وکی شہادت کی برسی کے موقع پرنو فروری کو نئی دلی میںپریس کلب آف انڈیا میں ایک تقریب منعقد کی جس کے بعد دس فروری کو انہیں بغاوت کے مقدمہ میں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

    مقبوضہ کشمیر، تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کیوں؟

  • مقبوضہ کشمیر،بھارت نواز سیاسی جماعتوں پر بڑی پابندی عائد

    مقبوضہ کشمیر،بھارت نواز سیاسی جماعتوں پر بڑی پابندی عائد

    مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں نام نہاد جمہوری انتظامیہ نے بھارت نواز سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کر دی۔

    مقبوضہ کشمیر، نئے موبائل کنکشن کے حصول کے لیے ایک اور قد غن لگ گئی

    بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے نیشنل کانفرنس اور عوامی نیشنل کانفرنس کے رہنماوں کو پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا۔

    اس سلسلے میں نیشنل کانفرنس کے سینئیر رہنما اکبر لون نے کہاکہ کشمیر کی انتظامیہ نے کئی بار کہا کہ نیشنل کانفرنس کے رہنما ڈاکٹر مصطفیٰ کمال اور عوامی نیشنل کانفرنس کے رہنما خالدہ شاہ اور مظفر شاہ نظر بند نہیں ہیں۔ اب پتہ چلا کہ انتظامیہ کا دعوی جھوٹا ہے اور خالدہ شاہ اور مصطفیٰ کمال بھی نظر بند ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر، لاک ڈاون کا 81 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم جاری ، کشمیریوں کی تحریک آزادی جاری

    اکبر لون نے بتایا کہ جب ہم یہاں پریس کانفرس کرنے کے لیے آئے تو ہمیں پتہ چلا کہ انہیں گھر میں ہی نظر بند رکھا گیا ہے۔ انتظامیہ نے انہیں پریس کانفرنس کرنے کی اجازت نہیں دی۔

    مقبوضہ کشمیر:کرفیو کا 78 واں دن،بھارتی مظالم ، کشمیریوں کی جنگ آزادی جاری

    واضح رہے کہ خالدہ شاہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی بہن اور ڈاکٹر مصطفیٰ کمال ان کے بھائی ہیں۔مظفر شاہ، خالدہ شاہ کے بیٹے اور فاروق عبداللہ کے بھانجے ہیں۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370کے ہٹائے جانے سے قبل ہی انتظامیہ نے بھارت نواز سیاسی پارٹیوں کے سربراہان سمیت کئی رہنماو¿ں کو نظربند یا گرفتار کر رکھا ہے۔ ان رہنماو¿ں میں جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں۔

  • اسلام آباد میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کا ایک منفرد انداز

    اسلام آباد میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کا ایک منفرد انداز

    اسلام آباد میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کا ایک اہم انداز اپنایا گیا ہے

    مقبوضہ کشمیرکےمظلوموں کی کہانی پراسلام آبادمیں تھیٹرکاانعقاد کیا گیا.جس میں کشمیریوں پر بھارتی افواج کے مظالم اور ظلم و زیادتی کو ڈاکیومنٹری انداز میں دکھایا جائے گا..مظلوم کشمیریوں کےلیےہرفورم پرآوازبلندکرتےرہیں گے،کشمیریوں کےلیےذاتی مفادات سےبالاترہوکرکام کرناچاہیے. کشمیریوں کی حمایت میں اس کاوش پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکی اصل کہانی سامنےلانےپراداکارتحسین کےمستحق ہیں،
    مقبوضہ کشمیر، تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کیوں؟
    دوسری طرف کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے گذشتہ پندرہ دنوں کے دوران ضلع بڈگام کے بیروہ کے علاقے میں کم از کم 15 دکانوں کو نذر آتش کردیا۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ فوجیوں نے 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب بیروہ میں بس اسٹینڈ کے قریب بارہ دکانوں کوآگ لگائی۔ اس سے قبل اسی بازار میں غلام محمد رنگروٹ ، پرویز احمد وازہ اور مشتاق احمد بٹ کی دکانوں کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا۔

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجی دکانوں کو آگ لگانے لگے

  • مقبوضہ کشمیر، املاک کو نذر آتش کرنے کا سلسلہ جاری

    مقبوضہ کشمیر، املاک کو نذر آتش کرنے کا سلسلہ جاری

    مقبوضہ کشمیر میں املاک کو نذر آتش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، اسکول کو آگ لگا دی گئی

    تازہ ترین واقعہ میں مقبوضہ کشمیر کے ضلع کولگام کے چولگام علاقے میں گورنمنٹ مڈل اسکول کو آگ لگا دی گئی یا لگ گئی ہے اس کی تصدیق ابھی نہیں ہوپائی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق نامعلوم افراد نے اسکول کوآگ لگا دی۔ تاہم اس کی وجوہات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ۔آگ پر قابو پانے کی کوششیں جار ی ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجی دکانوں کو آگ لگانے لگے

    واضح رہے کہ رواں ہفتہ کے دوران مقبوضہ کشمیر کے ضلع کولگام میں ہی ہانجی پورہ علاقے میں واقع گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول کو نامعلوم افراد نے آگ لگا دی۔

    مقبوضہ کشمیر، تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کیوں؟

    یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کی ایک خبر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی سے خوفزدہ بھارتی فوجی رات کے وقت دکانوں کو آگ لگا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد کشمیریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرکے تحریک آزادی سے ان کی توجہ ہٹانا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے گذشتہ پندرہ دنوں کے دوران ضلع بڈگام کے بیروہ کے علاقے میں کم از کم 15 دکانوں کو نذر آتش کردیا۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ فوجیوں نے 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب بیروہ میں بس اسٹینڈ کے قریب بارہ دکانوں کوآگ لگائی۔ اس سے قبل اسی بازار میں غلام محمد رنگروٹ ، پرویز احمد وازہ اور مشتاق احمد بٹ کی دکانوں کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا۔

  • آرٹیکل 370کیس سماعت، ریاستی حکومت کی سخت سرزنش

    آرٹیکل 370کیس سماعت، ریاستی حکومت کی سخت سرزنش

    بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370کے حوالے سے سماعت پانچ نومبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

    آرٹیکل 370، کیس کی سماعت کب ہو گی، خبر آ گئی

    دوران سماعت اعلیٰ عدالت نے ریاستی حکومت کی سخت سرزنش بھی کی۔ تین رکنی بنچ نے مودی حکومت سے پوچھا کہ وہ کتنے دنوں کے لئے ریاست میں پابندی چاہتی ہے؟

    بنچ کے مطابق مقبوضہ وادی میں پہلے ہی سے دو ماہ پابندی جاری ہے۔ جسٹس رمن نے مودی حکومت کوکہاکہ آپ پابندی لگائے رکھ سکتے ہیں لیکن آپ کو اپنے فیصلوں کا تجزیہ کرنا ہوگا۔

    بھارتی سپریم کورٹ: آرٹیکل 370 اور 35 اے کیس کی سماعت کیلئے بنچ تشکیل

    دوسری جانب بھارتی حکومت کے وکیل کے مطابق ریاست میں 90 فیصد پابندیاں ہٹالی گئی ہیں اور ان کا روزانہ کی بنیاد جائزہ لیا جارہا ہے۔
    بھارتی اعلیٰ عدالت نے مودی حکومت اور ریاستی انتظامیہ سے یہ بھی پوچھا کہ آپ کب تک پابندیاں لگا کر رکھیں گے؟ ہمیں ایک ٹائم فریم بتائیں۔

    آرٹیکل 370نہیں تو کشمیر کے بھارت سے رشتے بھی ختم، بھارت نواز کشمیری کا بڑا اعلان

    واضح رہے کہ آرٹیکل 370 سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے لیے بھارتی سپریم کورٹ کے جج این وی رمن کی سربراہی میں آئینی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔ پانچ رکنی آئینی بینچ میں جسٹس رمن ، جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس آر سبھاش ریڈی، جسٹس بی آر گوئئی اور جسٹس سوریہ کانت شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370کے ہٹائے جانے کو مختلف جماعتوں اور شخصیات نے بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، نئے موبائل کنکشن کے حصول کے لیے ایک اور قد غن لگ گئی

    مقبوضہ کشمیر:پولیس کی تصدیق کے بغیر نیا موبائل کنکشن جاری نہیں ہوگا

    تفصیلات کے طابق : مقبوضہ جموں وکشمیر میں پولیس نے ٹیلی کام آپریٹرز سے کہا ہے کہ وہ پولیس کی تصدیق مکمل کیے بغیر صارفین کو کوئی نیا سم کارڈ جاری نہ کریں۔
    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو ہدایات جاری کیں کہ ان کی سروسز کا غلط استعمال ہونے کی صورت میں ، کمپنی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
    ٹیلی کام آپریٹرز نے اب مناسب تصدیق کے بعد ہی پوسٹ پیڈ سم کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پولیس تصدیق کے ساتھ ساتھ کمپنی کا اپنا طریقہ کار(Know Your Customer) (کے وائی سی)بھی شامل ہے۔
    ایئر ٹیل کے ایک عہدیدار نے ساؤتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کو پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی صارف کو بغیر تصدیق کے سم کارڈ جاری نہ کریں۔ ٹیلی کام آپریٹرز نے پری پیڈ سم کارڈز کو پوسٹ پیڈ کنکشن میں تبدیل نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
    حکام نے 70 دن کے وقفے کے بعد 14 اکتوبر کو 40 لاکھ سے زیادہ پوسٹ پیڈ فون بحال کئے تو اس کے بعد لوگو ں میں پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ میں کروانے کا رجحان بڑھ گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں 40 لاکھ پوسٹ پیڈ صارفین اور 26 لاکھ سے زیادہ پری پیڈ صارفین ہیں۔

    وزیراعظم نے مریم کو نواز سے ملاقات کی اجازت کس کے دباؤ پر دی؟

    براڈ بینڈ ، موبائل فون سروسزاور انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلات کو 5 اگست کو معطل کردیا گیا ، جب بھارت نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر خصوصی حیثیت ختم کردی اور ریاست کو دو مرکز علاقوں میں تقسیم کردیا۔
    ایک سینئر پولیس آفیسر نے ساؤتھ ایشین وائر کوبتایا کہ انہوں نے ٹیلی کام کمپنیوں سے کہا ہے کہ کوئی نیا سم کارڈ جاری کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کے مناسب طریقہ کار پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا ، "اگر ٹیلی کام کمپنیوں نے پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ کنکشنز میں تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔”

    مریم نواز والد سے مل کر رو پڑیں،نواز شریف نے کیا کہا؟

    کشمیر بھر میں پوسٹ پیڈ کنکشن کی بحالی کے ایک ہفتہ بعد ، سینکڑوں افراد نئے پوسٹ پیڈ سم کارڈ حاصل کرنے یا پری پیڈ کارڈ کو پوسٹ پیڈ کنکشن میں تبدیل کرنے کے لئے جیو ، ایرٹیل ، بی ایس این ایل ، ووڈافون ، آئیڈیا اور دیگر آپریٹرز کے شورومزپر امڈآئے تاہم ، بہت سے صارفین مایوس لوٹے کیونکہ تمام ٹیلی کام کمپنیوں نے سموں کی پوسٹ پیڈ میں تبدیلی سے انکار کردیا تھا۔

    نواز شریف بیرون ملک "اڑان” بھرنے کے لئے تیار

  • مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہونا یو این او کے کردار اور افادیت پر سوالیہ نشان ہے۔ ڈاکٹر غلام مصطفی

    فیصل آباد(محمد اویس)اقوام متحدہ کا عالمی امن یقینی بنانے کیلئے کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن کشمیر اور وسط ایشیا کے دوبڑے اور امن عالم کو کسی بھی وقت تباہ کردینے والے جھگڑے طے نہ کرسکنا یو این او کے کردار اور افادیت پر سوالیہ نشان ہے۔ عالمی دنیا کو اس مسئلے پر سوچنا ہوگا۔ یہ دونوں مسئلے خاص طور پر کشمیر ایسا ایشو ہے کہ کسی بھی وقت چنگاری سے شعلہ بن کر دنیا کے امن کو تہہ و بالا کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار معروف محقق اور ڈیپارٹمنٹ آف ہسٹری و پاکستان سٹڈیز کے انچارج ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب نے ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹیکل سائنس و انٹرنیشل ریلیشنز کے زیر اہتمام عالمی امن میں یو این او کے کردار بارے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یو این او کے قیام کا بنیادی مقصد ہی دنیا میں امن کا قیام یقینی بنائے رکھنا اور اقوام عالم کے مابین دوستانہ و مفاہمانہ تعلقات یقینی بنائے رکھنے اور دنیا بھر کے لوگوں کو پرامن ماحول فراہم کئے رکھنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی طاقتوں امریکہ اور روس کے مابین ہتھیاروں کی دوڑ ختم کروانے میں اہم کردار ادا کرکے اقوام متحدہ نے یہ ذمہ داری نبھائی ہے اس کے علاوہ بھی متعدد معاملات میں اقوام متحدہ کا کردار مثالی رہا ہے مگر کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل کی بائیس قراردادیں منظور کروانے کے باوجود مسئلے کو حل نہ کروا سکنا اس کی بڑی ناکامی ہے۔ کشمیر ایک ایسا ایشو ہے جو کسی بھی وقت عالمی امن کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ سیمینار سے ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹیکل سائنس کے انچارج ڈاکٹر غلام مصطفی نے بھی خطاب کیا اور اقوام متحدہ کے قیام اور اس کی ضرورت وافادیت پر روشنی ڈالی۔

  • کشمیر میں 80 روز بعد بھی زندگی مفلوج ، ظلم و جبر کے بھارتی پہرے بدستور جاری

    کشمیر میں 80 روز بعد بھی زندگی مفلوج ، ظلم و جبر کے بھارتی پہرے بدستور جاری

    بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سخت عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے لگائے گئے کرفیو اور مواصلاتی قدغن کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں لگا لاک ڈاون 80 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے جبکہ بھارتی پابندیوں کی وجہ سے وادی میں کاروبار اورتعلیمی ادارے مسلسل بند ہیں۔.کے ایم ایس کے مطابق مقبوضہ وادی میں ہر 10 فٹ کے فاصلے پر بھارتی فوج تعینات ہیں، ڈھائی ماہ سے زائد کا عرصہ بیت جانے کے بعد اپنے پیاروں سے دور گھروں میں قید کشمیری عوام میں نفسیاتی مسائل پیدا ہوچکے ہیں۔

    مقبوضہ وادی میں کرفیو اور پابندیوں کے باعث اب تک ہزاروں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں بھارت کے مختلف تعلیمی اداروں کے 132 طلبا اور اساتذہ نے مودی سرکار کو مقبوضہ وادی سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے خط لکھا تھا۔لیکن مودی کی ظالم سرکار نے ان کی درخواست سننےکی بجائے اسے رد ی کی ٹوکری میں ڈال دیا

    خط میں کہا گیا تھا کہ تقریباََ 80 لاکھ کشمیری 2 ماہ سے زائد عرصے سے لاک ڈاؤن کا شکار ہیں اور ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے، موبائل فون اور انٹرنیت سروس بھی بند ہے۔عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام ہے، کشمیری پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

    کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا، وزیراعظم حکم دیں مکمل کردیں گے ، علی محمد خان

    مقبوضہ کشمیر ، بھارتی مظالم کی کہانی بھارتی صحافی کی زبانی

  • مقبوضہ کشمیر، اسکول کو آگ لگا دی گئی

    مقبوضہ کشمیر کے ضلع کولگام کے ہانجی پورہ علاقے میں واقع گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول کو نامعلوم افراد نے آگ لگا دی ۔

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجی دکانوں کو آگ لگانے لگے

    بھارتی میڈیا کے مطابق ابھی تک اسکول سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ فائر بریگیڈ کے عملے نے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن کوششیں بارآور نہیں ہو سکیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کی ایک خبر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی سے خوفزدہ بھارتی فوجی رات کے وقت دکانوں کو آگ لگا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد کشمیریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرکے تحریک آزادی سے ان کی توجہ ہٹانا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، بانڈی پورہ کی جامع مسجد میں پراسرار طور پر آگ بھڑک اٹھی، تیسری منزل کو شدید نقصان

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے گذشتہ پندرہ دنوں کے دوران ضلع بڈگام کے بیروہ کے علاقے میں کم از کم 15 دکانوں کو نذر آتش کردیا ۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ فوجیوں نے 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب بیروہ میں بس اسٹینڈ کے قریب بارہ دکانوں کوآگ لگائی۔ اس سے قبل اسی بازار میں غلام محمد رنگروٹ ، پرویز احمد وازہ اور مشتاق احمد بٹ کی دکانوں کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا۔

    کرفیو کے 51دن، مقبوضہ کشمیر میں کتنے بچے غائب ہوئے، چونکا دینے والی رپورٹ آگئی