Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر، کرفیو کی وجہ سے کتنی فیکٹریز بند ہیں؟ اہم خبر

    مقبوضہ کشمیر، کرفیو کی وجہ سے کتنی فیکٹریز بند ہیں؟ اہم خبر

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ ڈھائی ماہ سے کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں کے معمولات زندگی متاثر ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر، کرفیو کے ڈھائی ماہ، مسجدوں کے منبرو محراب خاموش

    بھارتی میڈیا کے مطابق ضلع پلوامہ کے کھنموہ انڈسٹریل ایریا میں300سے زائد فیکٹریز بند ہیں جس کی وجہ سے فیکٹری مالکان کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

    واضح رہے کہ مودی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد عام کشمیریوں کے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ اسی طرح اکثر فیکٹریز بند پڑی ہوئی ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر، مزاحمتی یوتھ لیگ نے احتجاج کا شیڈول جاری کر دیا

    انڈسٹریل ایریا کھنموہ کے صدر ظہیر احمد نے کہا کہ ‘فیکٹریاں بند رہنے کی وجہ سے انہیں روزانہ تقریباً تین کروڑ کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ان فیکٹریوں میں کام کر نے والے ہزاروں مزدور اور کاریگر بھی بے روزگار ہیں’۔

    مقبوضہ کشمیر، موبائل فون سروس کی بحالی کے بعد ہی اہم سروس بند

    زبیر احمد کے بقول ‘نامساعد حالات کی وجہ سے ہوئے نقصان کی تلافی بہت مشکل ہے۔ نقصانات برداشت کرنے کے علاوہ اکثر کارخانہ دار اور فیکٹری مالکان مختلف بینکوں سے سودی قرض کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ فیکٹریاں بند ہونے کی وجہ سے ان کو کوئی آمدن نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے وہ بینکوں کی قسطیں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر، کرفیو کے ڈھائی ماہ، مسجدوں کے منبرو محراب خاموش

    مقبوضہ کشمیر، کرفیو کے ڈھائی ماہ، مسجدوں کے منبرو محراب خاموش

    مقبوضہ کشمیر میں جمعہ کے دن کرفیو کے ڈھائی ماہ پورے ہوگئے ہیں۔مسلسل ڈھائی ماہ سے پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع 6 سو سالہ پرانی اور مقبوضہ وادی کی سب سے بڑی تاریخی جامع مسجد کے منبر ومحراب خاموش ہیں ۔ہزاروں فرزندان توحید نماز جمعہ کی ادائیگی اور خطبہ جمعہ کے فیض سے محروم ہورہے ہیں۔ دوسری طرف حکام نے پائین شہر کے بعض علاقوں بشمول نوہٹہ میں پابندیاں عائد کر کے لوگوں کو تاریخی جامع مسجد کی طرف جانے سے روک دیا تھا۔

    مقبوضہ کشمیر، مزاحمتی یوتھ لیگ نے احتجاج کا شیڈول جاری کر دیا

    بھارتی میڈیا کے مطابق جمعہ کے دن تاریخی جامع مسجد کے اردگرد سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا تھا اور جامع مسجد کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا تھا تاکہ کوئی بھی نمازی مسجد کی طرف نہ آ سکے۔ اسی طرح جامع مسجد کے اردگرد کی سڑکوںکو بھی خاردار تار اور چوکوں پر سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں سے سیل کیا گیا تھا۔اس طرح لوگوں کی آزادانہ نقل وحمل کو محدود کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ جامع مسجد کے خطیب حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق پانچ اگست سے نظر بند ہیں۔ میر واعظ کو پانچ اگست کو گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں انہیں اپنی رہائش گاہ پر ہی خانہ نظر بند رکھا گیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، خواتین مظاہرہ کے حوالے سے اہم خبر آگئی

    دوسری طرف مقبوضہ وادی میں مسلسل 75 ویں دن بھی معمولات زندگی متاثر رہے، بازار بند اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب تھی۔ وادی میں ٹرینیں بھی گزشتہ ڈھائی ماہ سے مسلسل بند ہیں۔ متعلقہ حکام کے مطابق ریلوے کی سروس کو پولیس و مقامی انتظامیہ کی طرف سے موصولہ ہدایات کے پیش نظر معطل کیا گیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، موبائل فون سروس کی بحالی کے بعد ہی اہم سروس بند

    مقبوضہ وادی کے تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کی سرگرمیاںمسلسل معطل ہیں۔ انتظامیہ کی طرف سے تعلیمی اداروں کو کھولنے کے اعلانات کے باوجود تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل شروع نہیں ہوسکا کیونکہ اکثر اداروں میں سیکورٹی فورسز کے قبضہ میں ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر، مسلسل دسویں جمعہ کو نماز جمعہ نہ ہو سکا

    اگرچہ پیر کے روز سے پوسٹ پیڈ موبائل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم بعدازاں یہ بھی ایک اعلان ہی ثابت ہوا۔اس سے اگلے روز ہی ایس ایم ایس سروس بند کر دی گئی ۔موبائل کی پری پیڈ سروس اور انٹرنیٹ سروس بھی ابھی تک بحال نہیں ہو سکی۔انٹرنیٹ سروس کی بند ش سے مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صحافی اور طلبا سب سے زیادہ متاثرہ ہوئے ہیں۔

    اسی طرح قابض انتظامیہ نے حریت قائدین کے ساتھ ساتھ بھارت نواز سیاستدانوں کو بھی اس بار نہیں بخشا۔بھارت نواز سیاستدان بھی نظربند یا قید ہیں۔ ریاست کے تین سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی گرفتارہیں جبکہ نیشنل کانفرنس کے صدر اور تین بار وزیر اعلیٰ بننے والے ڈاکٹر فاروق عبداللہ پرپی ایس اے کا قانون لاگو کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ مودی حکومت نے پانچ اگست کو مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم اورآرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کردیا تھا۔ اس اعلان سے ایک دن قبل ہی مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی بند کر دی گئی تھی۔

  • میرپور و گردونواح میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے

    میرپور و گردونواح میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے

    میرپور و گردونواح میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میرپورآزاد کشمیر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ شہری گھروں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد شروع کر دیا، شہری زلزلے کے مسلسل جھٹکوں کی وجہ سے خوف و ہراس کا شکار ہو چکے ہیں.

    میرپور میں چند روز قبل آںے والے زلزلے کی تباہی ابھی ختم نہیں ہوئی ،متاثرین کھلے آسمان تلے ہیں، آزاد کشمیر اور وفاقی حکومت زلزلہ متاثرین کی مدد کر رہی ہے تا ہم ابھی تک لوگوں کی مشکلات کم نہیں ہوئیں دوسری جانب زلزلے کے مسلسل آفٹر شاکس کی وجہ سے شہری خوف میں مبتلا ہیں.

    زلزلے سے کتنا نقصان ہوا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے تفصیلات جاری کر دیں

    وزیر اعلی پنجاب کی صدر آزاد کشمیر کو زلزلہ متاثرین کی مدد کیلئے ہر ممکن تعاون کی پیشکش

    آرمی چیف کا زلزلہ متاثرہ علاقوں‌ کا دورہ، سول انتظامیہ کی معاونت سے صورتحال معمول پر لانے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ پنجاب میر پور پہنچ گئے، کہا پنجاب حکومت مشکل وقت میں زلزلہ متاثرین کے ساتھ ہے


    دوسری جانب ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ‏زلزلے کے بعد ہونے والی اموات کی تعداد39ہوگئی،‏زلزلے میں زخمی افراد کی تعداد 614 ہے،زلزلےسے450 گھروں کو نقصان پہنچا ،135گھروں کوشدیدنقصان جبکہ315کوجزوی نقصان پہنچا،

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے مزید کہا کہ اگلے ہفتے سے زلزلہ متاثرین کو فنڈز ملنا شروع ہوجائیں گے،حکومت نے ایراکواین ڈی ایم اے میں ضم کرنےکا فیصلہ کیا ہے،2005سے ابھی تک حکومت پاکستان نے کئی اقدامات کیے ہیں،حکومت پاکستان قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کرے گی،زلزلہ متاثر یں کی بحالی تک ساتھ کھڑے ہیں،

  • مقبوضہ کشمیر، مزاحمتی یوتھ لیگ نے احتجاج کا شیڈول جاری کر دیا

    مقبوضہ کشمیر، مزاحمتی یوتھ لیگ نے احتجاج کا شیڈول جاری کر دیا

    مقبوضہ کشمیر میں مزاحمتی یوتھ لیگ نے اگلے ہفتہ کے لیے احتجاجی شیڈول کا اعلان کر دیا ہے ۔ لیگ نے مقامی لوگوں سے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر: کرفیوکا 72 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم ، کشمیریوں کی مزاحمت جاری

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوتھ لیگ کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں پوسٹر تقسیم کیے گئے ہیں جن میں لوگوں سے باہر نکل کر احتجاج کرنے کا کہا گیا ہے۔ احتجاجی شیڈول کے مطابق جمعہ کے دن اقوام متحدہ کے آفس، ہفتہ کو جامع مسجد، اتوار کو لال مسجد، سوموار کو عیدگاہ جبکہ جمعرات کو مخدوم صاحب پر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔ شیڈول میں منگل اور بدھ کو ان علاقوں میں سول کرفیو کا کہا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، موبائل فون سروس کی بحالی کے بعد ہی اہم سروس بند

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل تین ماہ سے جاری کرفیو کے دوران موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو 3 ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، احتجاج کے دوران کتنی خواتین کو گرفتار کیا گیا؟

  • آزاد کشمیر حکومت 27 اکتوبر کو کیا کرنے جا رہی ہے ،وزیراعظم آزاد کشمیر نے اعلان کر دیا

    آزاد کشمیر حکومت 27 اکتوبر کو کیا کرنے جا رہی ہے ،وزیراعظم آزاد کشمیر نے اعلان کر دیا

    آزاد کشمیر حکومت 27 اکتوبر کو کیا کرنے جا رہی ہے ،وزیراعظم آزاد کشمیر نے اعلان کر دیا

    اسلام آباد ۔ 17 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے دفتر کا دورہ کیا اور مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی تازہ ترین صورتحال پر حریت رہنمائوں سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور اعلان کیا کہ 27 اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر پر ہندوستانی فوج کشی کے خلاف ریاست گیر احتجاج کیا جائے گا۔

    راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء کو ہندوستان نے کشمیر میں غیر قانونی طورپر اپنی فوجیں اتاری تھیں اس موقع پرآزادکشمیر کے تمام شہروں قصبوں میں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کے داخلے کے دن کو یوم سیاہ کے طور پرمنایا جائے گا۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو اڑہائی ماہ ہو گئے وادی قید خانے کا منظر پیش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری معشیت کو 5 اگست سے بعد اب تک دو ارب ڈالر سے زائدکا نقصان ہوا ہے۔

    مودی ہٹلر بن چکا، کشمیر کی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، راجہ فاروق حیدر

    راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے پاس جو کچھ تھا سب تحریک آزادی کشمیر میں لٹا دیا ہے۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ جب عزت اور غیرت پر حرف آنے کا امکان ہو تو اسباب کی پروا نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی آبی دہشت گردی کی دھمکی اس کے اصل عزائم کی عکاس ہے۔ حریت کانفرنس آزادکشمیر کی سیاسی قیادت کی تحریک آزادی کشمیر میں بھرپور حصہ ڈالنے کے لیے راہنمائی کرے۔

    بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکیوں پر پاک فوج کا کرارا جواب

    پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے بیان کو بے بنیاد قراردے کرمستردکردیا

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینرز سید فیض نقش بندی عبداللہ گیلانی کنونیرز نے کہا کہ راجہ فاروق حیدر کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ 5اگست کے بعد وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کشمیریوں کی امنگوں اور امیدوں کے مطابق کردار ادا کیا۔ حریت قائدین نے کہا کہ لبریشن فرنٹ کے دھرنے کے معاملے کو جس انداز سے آزادکشمیر حکومت بالخصوص راجہ فاروق حیدر خان نے حل کیا اس پر انہیں مبارکباد دیتے ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر، خواتین مظاہرہ کے حوالے سے اہم خبر آگئی

    مقبوضہ کشمیر، خواتین مظاہرہ کے حوالے سے اہم خبر آگئی

    مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں گذشتہ روز مودی حکومت کے خلاف متعدد خواتین نے مظاہرہ کیا تھا۔ مظاہرہ مقبوضہ سے آرٹیکل 370 اورآرٹیکل35 اے ہٹائے جانے کے خلاف کیا گیا تھا۔

    مقبوضہ کشمیر، احتجاج کے دوران کتنی خواتین کو گرفتار کیا گیا؟

    بھارتی میڈیا کے مطابق مظاہرے میں مقبوضہ وادی کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی بہن ثریا اور بیٹی صفیہ نے بھی شرکت کی تھی۔ان دونوں کو دیگر خواتین سمیت پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔

    اطلاعات کے مطابق ثریا اور صفیہ کے ساتھ ساتھ 11 دیگر خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا تھا اور پھر ان سب خواتین کو منگل کے دن ہی عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا تھا۔ ان سب خواتین کو گذشتہ رات ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، مظاہرہ کے دوران سابق وزیراعلیٰ کی بہن اور بیٹی بھی گرفتار

    واضح رہے کہ ان خواتین کو دفعہ 107 کے تحت 10 ہزار روپے مچلکے اور 40 ہزار روپے کی ضمانتی رقم کی ادائیگی کے بعد رہا کیا گیا۔

    مقبوضہ کشمیر، موبائل فون سروس کی بحالی کے بعد ہی اہم سروس بند

    یاد رہے کہ جموں و کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلیٰ 5 اگست سے سرینگر میں نظر بند ہیں، ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا تھا، اب پہلی بار حکومت نے واضح کیا ہے کہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی اسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، احتجاج کے دوران کتنی خواتین کو گرفتار کیا گیا؟

    مقبوضہ کشمیر، احتجاج کے دوران کتنی خواتین کو گرفتار کیا گیا؟

    مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کے سول لائنز کے علاقے میں خواتین کی بڑی تعداد نے احتجاج کیا۔ پولیس نے پرامن احتجاج کے دوران متعد د خواتین کو گرفتار کر لیا۔

    مقبوضہ کشمیر، مظاہرہ کے دوران سابق وزیراعلیٰ کی بہن اور بیٹی بھی گرفتار

    بھارتی میڈیا کے مطابق سری نگر میں سول سوسائٹی کی جانب سے سول لائنز کے علاقے میں احتجاج کیا گیا ۔ احتجاج مقبوضہ جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے خلاف کیا گیا ۔احتجاج میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، جن میں مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی ہمشیرہ ثریا متو اور اور بیٹی صفیہ عبداللہ نے بھی شرکت کی۔

    اس دوران پولیس نے فاروق عبداللہ کی بہن اور بیٹی سمیت 13خواتین کو گرفتار کر کے سنٹرل جیل منتقل کر دیا ۔گرفتا رہونے والی خواتین میں سماجی کارکن سشوبھا بروے بھی شامل ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر، پیلٹ گن کے چھروں سے زخمی نوجوان شہید ہو گیا، کشمیریوں‌ کا شدید احتجاج

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ کے مطابق خواتین کو نقص امن میں رخنہ ڈالنے اور امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق سرینگر میں خواتین کا ایک گروپ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے خلاف پر امن احتجاج کر رہا تھا۔ مظاہرین میں خواتین کارکن اور معروف ماہرین تعلیم بھی شامل تھیں۔

    مقبوضہ کشمیر، آرٹیکل 370کو ختم کرنے کے خلاف احتجاج جاری، 6افراد زخمی

    یاد رہے کہ جموں و کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلیٰ 5 اگست سے سرینگر میں نظر بند ہیں، ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا تھا، اب پہلی بار حکومت نے واضح کیا ہے کہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی اسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

  • ایک اور کشمیری صحافی کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا

    ایک اور کشمیری صحافی کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا

    بھارت کے نئی دہلی ایئرپورٹ پرایک اور کشمیری صحافی کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا۔ اس سے پہلے گوہر گیلانی اور شاہ فیصل کو ملک سے باہر جانے نہیں دیا گیا تھا۔

    بھارتی پولیس نے کشمیری صحافی کو گرفتار کرلیا

    بھارتی میڈیا کے مطابق کشمیری صحافی بلال احمد بھٹ نے دعوی کیا ہے کہ ان کو دہلی ایئرپورٹ پر ملائشیا جانے والے طیارے میں سوار ہونے نہیں دیا گیا۔

    بلال احمد بھٹ کے مطابق انہیں بغیر کسی وجہ کے حکام نے ملیشیا جانے سے روک دیاگیا۔ان کے بقول جب انہیں ایئرپورٹ پر روکا گیا تو وہ اپنے آپ کو ایک مجرم کی طرح محسوس کر رہے تھے۔

    کشمیریوں کی کوئی عید نہیں ، شاہ فیصل کے بیان نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا

    واضح رہے کہ اس سے قبل کشمیری صحافی اور قلمکار گوہر گیلانی کو جرمنی جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔گوہر جرمنی کی میڈیا سروس ڈچ ویلی کے ایک پروگرام میں شامل ہونے کے لیے جرمنی جارہے تھے۔

    کشمیری رہنما شاہ فیصل بھی گرفتار، حالات کشیدہ ہوگئے

    اسی طرح کہ رواں ستمبر کے آغاز میں جموں و کشمیر پیپلز مومنٹ کے سربرا شاہ فیصل کو بھی ملک سے باہر جانے نہیں دیا گیا۔فیصل کو امریکہ کے شہر بوسٹن جانا تھا لیکن ان کوایئرپورٹ پر ہی روک دیا گیا۔

    یاد رہے کہ وادی میں 5اگست سے کرفیو نافذ ہے ۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی گذشتہ دو ماہ سے بند ہے۔ مقبوضہ وادی میں تمام بھارت نواز سیاستدان بھی گذشتہ دو ماہ سے نظر بند یا قید ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ فاروق عبداللہ اپنے ہی گھر میں نظربند ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر، مظاہرہ کے دوران سابق وزیراعلیٰ کی بہن اور بیٹی بھی گرفتار

    مقبوضہ کشمیر، مظاہرہ کے دوران سابق وزیراعلیٰ کی بہن اور بیٹی بھی گرفتار

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں آج خواتین نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج کے دوران مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ اور بھارت نواز سیاست دان کی بہن اور بیٹی کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

    مقبوضہ کشمیر، مسلسل دسویں جمعہ کو نماز جمعہ نہ ہو سکا

    بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے اور آرٹیکل 370 ہٹانے کے خلاف سری نگر میں زبردست مظاہرہ کیا گیا۔ لال چوک میں ہونے والا یہ مظاہرہ سول سوسائٹی کی طرف سے کیا گیا۔

    مظاہرہ میں مقبوضہ وادی کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی بہن ثریا اور بیٹی صفیہ کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ احتجاجی مظاہرہ میں خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

    مقبوضہ کشمیر میں پتھر بازی کے کتنے واقعات ہوئے؟

    واضح رہے کہ مودی حکومت کا مسلسل دعوی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ اپنے دعوی کو سچا ثابت کرنے کے لیے حکومت نے پرانی تصاویر کا سہارا بھی لیا ہے۔ مقبوضہ وادی کی صورت حال بھارتی بیانیہ سے مکمل طور پر مختلف ہے۔

    مقبوضہ کشمیر : ہیومن رائٹس واچ ایک بار پھر بھارتی مظالم پر بول پڑا

    بھارتی حکومت کے ایک سرکاری نوٹ کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں پتھر بازی کے 306 مختلف واقعات رونما ہوئے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز نے اپنی ایک دستاویز میں پتھر بازی کے ان واقعات میں 100 سیکورٹی اہلکار کے زخمی ہونے کا ذکر کیا ہے جن میں 89 کا تعلق نیم فوجی دستوں سے ہے۔

    یاد رہے کہ وادی میں 5اگست سے کرفیو نافذ ہے ۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی گذشتہ دو ماہ سے بند ہے۔ مقبوضہ وادی میں تمام بھارت نواز سیاستدان بھی گذشتہ دو ماہ سے نظر بند یا قید ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ فاروق عبداللہ اپنے ہی گھر میں نظربند ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر، موبائل فون سروس کی بحالی کے بعد ہی اہم سروس بند

    مقبوضہ کشمیر، موبائل فون سروس کی بحالی کے بعد ہی اہم سروس بند

    مقبوضہ کشمیر میں موبائل فون سروس کی بحالی کے کچھ گھنٹوں بعد ہی موبائل کی ایک اہم سروس کو بند کر دیا گیا۔

    مقبوضہ کشمیر: کرفیوکا 72 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم ، کشمیریوں کی مزاحمت جاری

    این ڈی ٹی وی کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایس ایم ایس سروس کو بند کر دیا گیا ہے

    این ڈی ٹی وی کے مطابق جموں و کشمیر میں ایس ایم ایس خدمات کو بند کر دیا گیا ہے۔گذشتہ روز 71 دن کے بعد موبائل کی پوسٹ پیڈ سروس بحال کی گئی تھی۔ سروس بحالی کے کچھ گھنٹے بعد ہی ایس ایم ایس سروس بند کر دی گئی۔

    بھارت کے صوفی مشن کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں کیا سلوک ہوا؟

    واضح رہے کہ پیر کے روز 71دن بعد پوسٹ موبائل فون کی سروس بحال کی گئی تھی تاہم انٹرنیٹ سروس ابھی بھی بند ہے۔ دوسری جانب لاکھوں کشمیری اب بھی موبائل فون استعمال نہیں کرسکتے کیونکہ پری پیڈ سروس ابھی بھی معطل ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، طلبہ کی مشکلات میں مزید اضافہ کیسے

    یاد رہے کہ 5اگست کو مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا۔ اس سے ایک دن قبل یعنی 4اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی تھی۔