Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مودی باز نہ آیا، پاکستان پر کی ایک بار پھر الزام تراشی

    مودی باز نہ آیا، پاکستان پر کی ایک بار پھر الزام تراشی

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی باز نہ آئے، جموں کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ کہتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا سرحد پار سے مقبوضہ کشمیر میں افرا تفری پھیلائی جا رہی ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم کو مقبوضہ کشمیر میں 45 روز کے کرفیو کے بعد بھی چین نہ آیا، 45 روز سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے، بھارتی فوج کشمیر کے چپے چپے پر تعینات ہے، کشمیری گھروں میں محصور ہیں ، احتجاج کرنے والوں پر پیلٹ برسائے جاتے ہیں اور خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کشمیری خواتین نے اپنی حفاظت کے لئے ڈنڈے اٹھا لئے، ان حالات میں بھارتی وزیراعظم مودی نے مہاراشٹر میں جلسہ سے خطاب میں کہا کہ جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے،

    صرف یہی نہیں بلکہ مودی نے حسب سابق پاکستان پر الزام عائد کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں افرا تفری پاکستان پھیلا رہا ہے، مودی نے اسی پر بس نہیں کیا کہا کشمیر کو جنت بنانے کے لئے مدد کی جائے،

    مودی کے خطاب پر کشمیری عوام کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے کشمیر کو جہنم بنا رکھا ہے وہ کشمیریوں کو کرفیو میں رکھ کر اسے کیسے جنت بنانا چاہتا ہے، اگر مودی کشمیر کو جنت بنانا چاہتا ہے تو کرفیو اٹھائے ،خصوصی حیثیت کے خاتمے کا فیصلہ واپس لے اور کشمیریوں‌کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دے.

  • مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاک بھارت مذاکرات ضروری: اقوام متحدہ

    مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاک بھارت مذاکرات ضروری: اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹریس نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے پاک بھارت مذاکرات ضروری ہیں۔ مسٹر گٹریس نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔

    مسئلہ کشمیرپرسعودی عرب اور یواے ای نے مکمل حمایت کی یقین دہانی کروا دی، سب ابہام دورہوگئے، شاہ محمود قریشی

    گٹریس نے مزید کہا اگر دونوں فریق چاہیں تو ان کا دفتر اس معاملے میں ثالثی کرنے کو تیار ہے۔ واضح رہے کہ مسٹر گٹریس کا بیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل آیا ہے۔

    دوسری طرف پاکستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اٹھا نے کی تیاری کر رہا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، سید علی گیلانی کو پریس کانفرنس سے روک دیا گیا

    مقبوضہ کشمیر، سید علی گیلانی کو پریس کانفرنس سے روک دیا گیا

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی کو مقامی پولیس نے پریس کانفرنس کرنے کی اجازت نہیں دی اور تمام صحافیوں کو ان کی رہائش گاہ سے نکل دیا۔

    بھارتی حکومت کشمیر میں کیا کرنے جارہی ہے؟ سید علی گیلانی نے پول کھول دیا، بڑی خبر

    واضح رہے کہ حریت رہنما سید علی گیلانی نے آج اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں کو پریس کانفرنس کے لیے بلایا تھا۔ انتظامیہ کی جانب سے سید علی گیلانی کی حیدرپورہ میں واقع رہائش گاہ پر صبح میں سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے گیلانی کے گھر کی جانب جانے والے تمام راستوں کو سیل کر دیا اور کسی بھی صحافی کو ان کے گھر کے نزدیک جانے کی اجازت نہیں دی۔

    حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی کو چار اگست کو ان کی رہائش گاہ میں نظر بند کر دیا گیا تھا جو سرینگر کے حیدر پورہ میں واقع ہے۔

    یاد رہے کہ ایک طرف تو بھارتی حکومت جمہوریت پسندی اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات کی بہتری کا دعوی کر رہی ہے۔ دوسری حریت رہنماﺅں کو بولنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ۔

  • فاروق عبداللہ پر لگی پی اے سی سے کشمیری حیران، تحریک آزادی بڑھنے کا خدشہ

    فاروق عبداللہ پر لگی پی اے سی سے کشمیری حیران، تحریک آزادی بڑھنے کا خدشہ

    بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ 83 سالہ فاروق عبداللہ پر پی اے سی کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا۔فاروق عبداللہ جموں و کشمیر میں 5 اگست کے بعد سے ہی نظر بند ہیں۔ پی اے سی کے تحت کسی بھی شخص کو 2 سال تک قید رکھا جا سکتا ہے۔ فاروق عبداللہ کے علاوہ ان کے بیٹے اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی گرفتار ہیں اور انھیں کسی سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔

    مقبوضہ کشمیر،سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار

    بھارتی میڈیا کے مطابق نیشنل کانفرنس کے کچھ لیڈروں نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ فاروق عبداللہ پر پی اے سی لگائے جانے سے حیران ہیں۔

    نیشنل کانفرنس کے ایک لیڈر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ ”فاروق صاحب پہلے سے ہی گھر میں نظر بند ہے، لیکن حکومت اب اس حد پر اتر آئے گی، ایسا تصور میں بھی نہیں تھا۔“

    ایک اور نیشنل کانفرنس رہنما نے کہا کہ ”فاروق عبداللہ پر پی اے سی لگا کر بی جے پی نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔“اس لیڈر کے مطابق فاروق عبداللہ بھارتی حکومت کی ’استعمال کرو اور پھینک دو‘والی پالیسی کے شکار بنے ہیں۔ اس لیڈر نے بھی شناخت ظاہر نہ کرنے کی اپیل کی۔

    فاروق عبداللہ کے حوالے سے یونیورسٹی کے ایک طالب علم ذاکر احمد بھٹ کا کہنا تھا کہ ”نیشنل کانفرنس کے ساتھ میری نظریاتی نااتفاقی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اتنے بڑے قد کے لیڈر کو نہیں چھوڑا جا رہا تو کشمیر کے عام لوگوں کا مستقبل کیا ہوگا؟“۔

    واضح رہے کہ 2019 کے لوک سبھا الیکشن مہم کے دوران عمر عبداللہ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو وہ جموں و کشمیر سے پی اے سی قانون کو ختم کر دیں گے۔

  • بھارتی وزیرخارجہ نے بھی دی پاکستان کو گیڈر بھبھکی

    بھارتی وزیرخارجہ نے بھی دی پاکستان کو گیڈر بھبھکی

    بھارتی وزیرخارجہ نے پاکستانی آزاد کشمیر کے حوالے سے بیان دے دیا۔
    راجناتھ سنگھ کی نئی گیڈر بھبھکی، آزاد کشمیر کے متعلق بیان دے دیا
    بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کا ایک ہی موضوع ہے وہ ہے سرحد پار سے ہونے والی ”دہشت گردی“۔

    جے شنکر نے پاکستانی آزاد کشمیر کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کشمیر کے بارے میں ہندوستان کا موقف ہمیشہ ہی واضح رہا ہے اور آگے بھی رہے گا۔ وزیرخارجہ نے کہا ، ”ہم توقع کرتے ہیں کہ ایک دن وہ حصہ (پاکستانی کشمیر) قانونی طور پر ہمارے قبضے میں ہو گا۔“

    کلبھوشن یادیو کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل نہیں کیا ہے۔ ہمارا مقصد یادیو تک رسائی حاصل کرنا اور ان کی خیرت کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا۔ یہ اقدام دراصل بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے کے ذریعے ایک معصوم فرد کو گھر لانے کی سمت میں ایک قدم ہے۔
    قونصلر رسائی، کلبھوشن یادیو نے ایسا کیا کہہ دیا کہ بھارت ہوا پریشان
    واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو بھارت کا جاسوس ہے، جو بلوچستان سے گرفتار ہوا تھا، کل بھوشن یادیو بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے، پاکستان کی عدالت اسے سزائے موقت سنا چکی ہے، بھارت نے کلبھوشن کی رہائی کے لئے عالمی عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن عالمی عدالت میں بھی بھارت کو ناکامی ہوئی، عالمی عدالت نے جاسوس تک صرف قونصلر رسائی کا حکم دیا تھا۔

  • مقبوضہ کشمیر، نظر بند بھارت نواز سیاسی رہنماﺅں کی رہائی کب ہو گی؟ اہم بھارتی شخصیت کا بیان آ گیا

    مقبوضہ کشمیر، نظر بند بھارت نواز سیاسی رہنماﺅں کی رہائی کب ہو گی؟ اہم بھارتی شخصیت کا بیان آ گیا

    بھارتی وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں نظر بند بھارت نواز سیاسی رہنماو¿ں کے بارے میں کہا ہے کہ ان کو 18 ماہ سے بھی کم عرصے میں رہا کیا جائے گا۔
    مقبوضہ کشمیر،سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار

    واضح رہے کہ یہ بھارتی حکومت کے کسی بھی سینیئر عہدیدار کا پہلا بیان ہے جس میں جموں و کشمیر میں نظربند سیاسی رہنماﺅں کی رہائی کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ بھارت نے آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں 10ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار یا نظر بندکیا ہے۔ جن میں بھارت نواز سیاست دان اور سابق وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجی دکانوں کو آگ لگانے لگے

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجی دکانوں کو آگ لگانے لگے

    مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی سے خوفزدہ بھارتی فوجی رات کے وقت دکانوں کو آگ لگا رہے ہیں ۔ اس اقدام کا مقصد کشمیریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرکے تحریک آزادی سے ان کی توجہ ہٹانا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے گذشتہ پندرہ دنوں کے دوران ضلع بڈگام کے بیروہ کے علاقے میں کم از کم 15 دکانوں کو نذر آتش کردیا ہے۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ فوجیوں نے 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب بیروہ میں بس اسٹینڈ کے قریب بارہ دکانوں کوآگ لگائی۔ اس سے قبل اسی بازار میں غلام محمد رنگروٹ ، پرویز احمد وازہ اور مشتاق احمد بٹ کی دکانوں کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا۔

    مقامی لوگوں نے مزید بتایا کہ آتشزدگی کے واقعات سے علاقے میںخوف وہراس پھیل گیا ہے۔مقامی آبادی کے مطابق 05 اگست سے دکانوں اور بازاروں پر ہندوستانی فوجی کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرفیو کی وجہ سے علاقے میں صرف فوجی موجود تھے اور وہ دکانوں کو نذر آتش کررہے تھے۔

  • ترکی نے بھی بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی بند کرنے کا مطالبہ کر دیا

    ترکی نے بھی بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی بند کرنے کا مطالبہ کر دیا

    ترکی نے بھارتی حکومت سے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو فی الفور بند کرنے کی اپیل کی ہے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی حالت زار، سابق رکن اسمبلی کی آنکھوں میں آگئے آنسو

    ترکی کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی کے انسانی حقوق کے جائزاتی کمیشن کے صدر حقان چاوش اولو نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق آئینی شق کو منسوخ کرنے کے بعد رونما ہونے والی پیش رفت نے کشمیر کو دنیا کے حساس ترین علاقوں میں بدل دیا ہے۔

    چاوش اولو کے مطابق کشمیری عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والی اور انسانوں کو اندھا کر دینے والے اسلحہ اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کرنےوالی فوج کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کی گئی۔

    چاوش کا کہنا تھا کہ "غیر جانبدار حقوق انسانی کی تنظیموں کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔”

    چاوش اولو نے مزید کہا کہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی نفری میں خاصا اضافہ کیا گیا ہے اور عوام کا دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔

    انہوں نے آخر میں کہا کہ میں” بھارتی حکومت سے جموں و کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور جارحیت کا فی الفور خاتمہ کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔”

  • تین نوبل انعام یافتگان نے کیا بل اینڈ یلنڈا گیٹس فاونڈیشن سے بڑا مطالبہ

    تین نوبل انعام یافتگان نے کیا بل اینڈ یلنڈا گیٹس فاونڈیشن سے بڑا مطالبہ

    تین نوبل انعام یافتہ شخصیات ، مائیراد مگویری ، توکل عبد السلام اور شیرین عبادی نے واشنگٹن میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاونڈیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، اقلیتوں پر حملوں کے الزام اور گجرات کے ہولناک قتل عام میں مودی کے کردارپر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے ایوارڈ کو منسوخ کردے۔

    نوبل انعام یافتہ افراد نے اپنے مشترکہ خط میں کہا ،”ہمیں یہ جان کر سخت پریشانی ہوئی کہ بل اور میلنڈا گیٹس فاو¿نڈیشن رواں ماہ کے آخر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ایوارڈ دے گی۔”

    خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ ”وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ، بھارت نے انسانی حقوق اور جمہوریت کو مسلسل پامال کیا ہے۔ یہ ہمارے لئے خاص طور پر پریشان کن ہے کیونکہ آپ کی فاونڈیشن کا بیان کردہ مشن زندگی کا تحفظ اور عدم مساوات کا مقابلہ کرنا ہے۔ “
    خط میں کہا گیا ہے کہ آسام اور ہندوستان کے زیر قبضہ کشمیر کی صورتحال شدید تشویش کا باعث ہے۔ آسام میں ، 1.9 ملین ہندوستانیوں کو شہریت سے محروم کردیا گیا ہے۔ اگست سے لے کر اب تک ، کشمیر میں آٹھ لاکھ بھارتی مسلح افواج نے آٹھ ملین کشمیریوں کو بغیر کسی فون یا انٹرنیٹ سروس کے رکھا ہوا ہے ۔

    یاد رہے کہ گیٹس فاﺅنڈیشن 24ستمبر کو وزیراعظم مودی کو ایوارڈ دے گی۔

  • مقبوضہ جموں و کشمیر کی حالت زار، سابق رکن اسمبلی کی آنکھوں میں آگئے آنسو

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی حالت زار، سابق رکن اسمبلی کی آنکھوں میں آگئے آنسو

    مقبوضہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے معاملے پر سی پی آئی ایم لیڈر اور جموں و کشمیر کے سابق رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی اور پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے دہلی میں پریس کانفرنس کی۔
    مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لاک ڈاؤن کو 44 واں روز ، بھارتی فوج نے چوراہوں میں بنکر بنا لیے
    دونوں رہنماﺅں نے پریس کانفرنس میں مودی حکومت کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا۔

    یچوری نے کہا کہ کشمیر کے حالات معمول پر نہیں ہیں۔ کشمیر ایشو اب عدالت کے پاس ہے اور عدالت کو ہی اس پر فیصلہ سنانے کا حق ہے۔ پریس کانفرنس میں مقبوضہ کشمیرکی حالت زار کو بیان کرتے ہوئے یوسف تاریگامی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر دھیرے دھیرے موت کے قریب جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ کشمیر میں بھارت کی فوجی دہشت گردی کا آج 44 واں روز ہے۔ مقبوضہ وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے۔ سری نگر کے چوراہوں پر بھارتی فوج نے بلٹ پروف بنکرز بنا لیے۔ کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے والے عالمی اداروں کے خلاف بھارت کی سازشیں ناکام ہو گئیں، آج یورپی یونین کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہو گی۔