Baaghi TV

Category: کشمیر

  • برطانیہ، چیئرمین کشمیر کمیٹی سے وائس چیئرمین کشمیر پارلیمنٹری گروپ کی ملاقات

    برطانیہ، چیئرمین کشمیر کمیٹی سے وائس چیئرمین کشمیر پارلیمنٹری گروپ کی ملاقات

    چیئرمین کشمیر کمیٹی فخر امام سے برطانوی دارالعلوم میں وائس چیئرمین کشمیر پارلیمنٹری گروپ نے ملاقات کی۔ فخرامام نے گروپ کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق آگاہ کیا۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے اقدامات سے متعلق بھی آگاہ کیا۔ اس موقع پر ادارہ انٹرنیشنل اینڈ کلچرل افیئرز کے ڈی جی رانا اطہرجاوید بھی موجود تھے۔

    وزیراعظم آزاد کشمیر سے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی ملاقات

    افضل خان نے پاکستانی کمیونٹی کی کشمیریوں کی حمایت میں جاری سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ افضل خان نے کہا کہ لندن میں مختلف کمیونیٹیزنے بھارتی ظلم و ستم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرے اس بات کامظہرہیں کہ لوگ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ ہیں۔

  • امریکہ، زلفی بخاری کی اوورسیز فاوَنڈیشن اورسکھ برداری کی تنظیموں سے ملاقاتیں

    امریکہ، زلفی بخاری کی اوورسیز فاوَنڈیشن اورسکھ برداری کی تنظیموں سے ملاقاتیں

    وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے امریکہ میں اوورسیز فاوَنڈیشن اورسکھ برداری کی تنظیموں سے ملاقاتیں کیں ۔ ملاقاتوں میں مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر مسائل کے حل پرتحریری سفارشات پیش کی گئیں۔

    جنرل اسمبلی کے باہر بھارت کے خلاف احتجاج، زلفی بخاری کل روانہ ہوں گے امریکہ

    سکھ تنظیموں نے زلفی بخاری کو بتایا کہ مودی کی امریکہ آمد پر احتجاجی پروگرام تیار کرلیاگیا ہے۔ ا س موقع پر زلفی بخاری نے کہا کہ وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کردیاہے۔ ہم مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    یاد رہے کہ زلفی بخاری بھارتی فورسزکی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے چار روزہ دورہ پر نیو یارک میں ہیں۔

  • جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے سرگرم رہنما غلام نبی گنڈانہ وفات پا گئے

    جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے سرگرم رہنما غلام نبی گنڈانہ وفات پا گئے

    مقبوضہ کشمیر میں ، جموں خطے سے جماعت اسلامی کے ممتاز رہنما ، ماسٹر غلام نبی گنڈانہ ، بھارتی ریاست پنجاب کے شہر لدھیانہ میں وفات پا گئے۔

    جماعت اسلامی پر پابندی کی پانچ سال کے لیے توثیق

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 89 سالہ گنڈانہ گذشتہ کچھ عرصے سے بیمارتھے۔ وہ گذشتہ روز لدھیانہ میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی میت کو کشتواڑ کی جامع مسجد محلہ میں واقع اپنے گھر پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر پر پابندی عائد کرنے کے بعد بھارتی حکومت نے جموں میں گنڈانہ کی جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا ۔

    گنڈانہ جماعت اسلامی کے ایک سرگرم رکن تھے اور متعدد عہدوں پر اپنی خدمات سرانجام دیں۔ وہ 1990 میں حریت کانفرنس میں شامل ہوئے ۔تحریک آزادی میں حصہ لینے کی وجہ سے حکام نے ان کے خلاف کشتواڑ پولیس اسٹیشن میں آٹھ ایف آئی آر درج کی تھیں۔ ان کا ایک بیٹا توصیف الحق آزادی کے حامی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میں آج کشتواڑ جیل میں بند ہے۔

    ماسٹر غلام نبی گنڈانہ کی نماز جنازہ آج کشتواڑ کے چوہان گراونڈ میں ادا کی جانی تھی جہاں بڑے اجتماع کی توقع کی جارہی تھی۔ تاہم ، قابض حکام نے لوگوں کو اس کے جنازے میں شرکت سے روکنے کے لئے کرفیو اور دیگر پابندیوں کو مزید سخت کردیاہے۔

    ڈپٹی کمشنر کشتواڑ انگریز سنگھ رانا کے بقول صرف ان کے لواحقین کو گنڈانہ کی تدفین میں شرکت کی اجازت ہوگی۔

  • مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجی کی لاش برآمد

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجی کی لاش برآمد

    مقبوضہ کشمیر میں ، جموں ضلع کے فوجی کیمپ میں ایک ہندوستانی نیم فوجی افسر کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

    بھارتی فوجی نے کتنے فوجیوں کو قتل کر کے خودکشی کی، مقبوضہ کشمیر سے بڑی خبر آگئی

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے افسر کی شناخت اے ایس آئی ایس کے داس کے نام سے ہوئی ۔ ایس کے داس جموںکے چنی رام آرمی کیمپ میں مردہ حالت میں پائے گئے ۔

    ایس کے داس کا تعلق ہندوستان کی ریاست بنگال سے تھا اور سی آر پی ایف کی 174 بٹالین سے وابستہ تھے ۔

  • مقبوضہ کشمیر،سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ  پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار

    مقبوضہ کشمیر،سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار

    بھارتی قابض فوج کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک اور کارروائی،سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کوپبلک سیفٹی ایکٹ کےتحت حراست میں لےلیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ فاروق عبداللہ کو سرینگر میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا ،فاروق عبداللہ کو ابتدائی طور پر 12 دن کے لیے حراست میں لیا گیا ہے،ضرورت پیش آنے پر حراست کی مدت میں 3ماہ کی توسیع کی جاسکتی ہے،

    کالے قانون کے تحت کسی بھی شخص کو 2 سال تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے ،فاروق عبداللہ کو بھارتی سپریم کورٹ میں سماعت سے قبل گرفتار کیا گیا.

    پبلک سیفٹی ایکٹ قانون کے بارے میں تین ماہ قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر کے حوالہ سے جاری رپورٹ میں کہا ہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ قانون عالمی انصاف کے خلاف ہے. بھارت سرکار نے کشمیریوں کی‌آواز کو دبانے کے لئے ہزاروں کشمیریون کو اس ایکٹ کے تحت گرفتار کیا ہوا ہے. عدالتوں سے رہائی کے فیصلے کے بعد بھی کشمیریوں کو رہا نہیں کیا جاتا

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 44 صفحات پر کشمیر کے حوالہ سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2012 سے 2018 کے دوران 210 کشمیری قیدیوں کے مقدمات کا جائزہ لیا ، جن میں سے ستر فیصد مقدمات میں کشمیریوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کہا گیا کہ حریت رہنما مسرت عالم جو ابھی تک جیل میں‌ہیں عدالت نے 28 بار ان کی نظربندی ختم کی اور رہا کرنے کا حکم دیا لیکن بھارت سرکار نے مسرت عالم کو رہا نہیں کیا، کشمیر کے مقامی وکلاء نے ایمنسٹی انٹرنیشنل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سرکار کشمیریون کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ہی گرفتار کرتی ہے کیونکہ اس میں عدالت میں زیادہ جواب نہیں دینا پڑتا.

    ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارتی شاخ کے سربراہ آکر پٹیل کا کہنا ہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ قانون کو فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ اس سبب قیدیوں کا منصفانہ ٹرائل نہیں ہوتا، قیدیوں کو مسلسل سلاخوں کے پیچھے رکھنے کے لیے ان پر نت نئے مقدمات میں پی ایس اے عائد کیا جاتا ہے .

    کشمیر کے حالات کو معمول پر لایا جائے، بھارتی سپریم کورٹ کا بڑّا فیصلہ

    واضح رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس رپورٹ سے متعلق سری نگر میں پریس کانفرنس کرنا تھی، مگر ایمنسٹی انٹرنیشنل کو اجازت نہیں دی گئی تھی جس کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میڈیا کو جاری کر دی .

    واضح رہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ بھارت سرکار کا بنایا گیا ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت کسی بھی شخص کو کوئی تسلیم شدہ جرم کئے بغیر نظر بند رکھا جاتا ہے. بھارتی سپریم کورٹ نے بھی پبلک سیفٹی ایکٹ کوغیرقانونی قرار دیا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت سرکار کشمیر مین یہ قانون استعمال کر رہی ہے.

    قبل ازیں بھارتی سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی حکومت کو حکم دیا کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات معمول پر لائے جائیں، بھارتی سپریم کورٹ نے کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی بھی اجازت دے دی، عدالت نےغلام نبی آزاد کو مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پررپورٹ عدالت پیش کرنے کی بھی ہدایت کی. کانگریس رہنما 4 اضلاع سرینگر،بارہ مولہ، اننت ناگ اور جموں کا دورہ کریں گے

    بھارتی چیف جسٹس گوگوئی نے دوران سماعت کہا کہ ضرورت پڑی تو خود بھی جموں و کشمیر کا دورہ کروں گا،عدالت نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ سے کشمیری بچوں کی صورتحال پر رپورٹ طلب کر لی،

  • وزیراعظم آزاد کشمیرکا جے یو آئی کے مظفرآباد میں کشمیر مارچ کی میزبانی کا اعلان

    وزیراعظم آزاد کشمیرکا جے یو آئی کے مظفرآباد میں کشمیر مارچ کی میزبانی کا اعلان

    جمعیت علماء اسلام آزاد کشمیر کے زیراہتمام کشمیر میں آزادی مارچ 19 ستمبر کو ہو گا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آزادی مارچ کے لئے تیاریاں جاری ہیں،جےیوائی آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل مولانا امتیاز عباسی کی قیادت میں وفد نے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سے ملاقات کی اور انہیں مارچ میں شرکت کی دعوت دی،وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے دعوت قبول کرتے ہوئے آزادی مارچ کی میزبانی کرنے کا اعلان کر دیا.

    راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ مظفرآباد میں ہونے والے آزادی مارچ میں مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت اور کارکنان بھی شریک ہوں گے،

    واضح رہے کہ جمعیت علماء اسلام کا کشمیر مارچ 19 ستمبر کو ہو گا جس سے مولانا فضل الرحمان خطاب کریں گے.

  • کشمیریوں سے یکجہتی ،قبائلی میدان میں آ گئے، پشاور سے مظفرآباد قبائلی افراد کا کشمیر مارچ شروع

    کشمیریوں سے یکجہتی ،قبائلی میدان میں آ گئے، پشاور سے مظفرآباد قبائلی افراد کا کشمیر مارچ شروع

    مظلوم کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے پاکستان کے قبائلی بھی میدان میں آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قبائلی افراد کا کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے آج پشاور سے مظفر آباد تک یکجہتی مارچ ہو گا، پشاور سے مارچ کا آغاز ہو چکا ہے، بڑی تعداد میں قبائلی افراد مارچ میں شریک ہیں، شرکاء نے کشمیری و پاکستانی پرچم اٹھا رکھے ہیں،قبائلی عمائدین اورنوجوان آج مظفرآباد میں جلسہ کرینگے ،ریلی میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہے جو بھارت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں.

    یکجہتی کشمیر مارچ میں شریک قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ کشمیر کے لئے پہلےبھی قربانیاں دی ہیں،آئندہ بھی قربانی سےدریغ نہیں کرینگے ،کشمیر پاکستان کا ہے اور رہے گا، مودی کو پیغام دیتے ہیں کہ قبائلی کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور عملی طور پر ان کی جدوجہد میں شریک ہو سکتے ہیں، مودی سرکار کو کشمیریوں‌ پر ظلم بند کرنا پڑے گا.پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،بھارت کےلئے قبائل عوام ہی کافی ہے، قبائلی عوام نے پہلے بھی کشمیر آزاد کیا تھا ، اس مرتبہ بھی بھارتی افواج کیخلاف لڑیں گے

    قبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کا ظلم و بربریت جاری ہے، کرفیو کو 43 روز ہو گئے ہیں، بھارتی فوج نے کٹھوعہ میں سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کر کے تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے،دو کشمیری جوانوں‌ کو سرچ آپریشن کے دوران شہید کیا گیا جبکہ تیسرے کو گرفتار کر کے تھانے لے جایا گیا اور اس پر اتنا بہیمانہ تشدد کیا کہ وہ شہید ہو گیا..

    تھانے میں شہید ہونے والے کشمیری نوجوان اخلاق کے اہلخانہ کو بھارتی فوج نے فون پر اطلاع دی کی لاش سرکاری ہسپتال سے وصول کر لیں. تین نوجوانوں کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں کہرام مچ گیا، کشمیری گھروں سے باہر نکل آئے اور بھارت سرکار کے خلاف نعرے بازی کی، بھارتی فوج نے کشمیریوں‌ پر پیلٹ برسائے جس سے متعدد کشمیری زخمی ہو گئے

    کرفیو کے 43 روز میں بھارتی فوج دس ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کر چکی ہے، تین کشمیریوں کی شہادت کے بعد کرفیو مزید سخت کر دیا گیا،بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے دوران کشمیری خواتین کو بھی ہراساں کیا.

    وادی کے ہر گلی کوچے پر بھارتی فوجی تعینات ہیں جن کی قائم کردہ چیک پوسٹوں پر خطرناک اسلحہ موجود ہے، کوئی شہری انتہائی ضرورت کے تحت اپنے گھر سے نکلنے کی کوشش کرے تو پیلٹ گنز سے شدید زخمی کر دیا جاتا ہے، ظلم کی انتہا کہ ہسپتالوں میں ادویات تک ختم ہو چکی ہیں اور مریضوں کی حالت انتہائی خراب ہے، آپریشن کرنے کیلئے بھی ضروری سامان مہیا نہیں اس کے باوجود مودی حکومت ذرا سی لچک دینے کو تیار نہیں

  • بھارتی گجرات کے وزیر اعلیٰ کی بھی آزاد کشمیر حوالے پاکستان کو گیڈر بھبھکی

    بھارتی گجرات کے وزیر اعلیٰ کی بھی آزاد کشمیر حوالے پاکستان کو گیڈر بھبھکی

    بھارتی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے بھی پاکستان کو گیڈر بھبھکی لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آزاد کشمیر کو اپنے ہاتھ سے گنوانے کے لیے تیار رہے.

    وزیر اعلیٰ نے وڈوڈارا میں بھارت ایکتا منچ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370 ہٹائی جا چکی ہے. پاکستان والا کشمیر بھی ہمارا ہے. پاکستان کو آزاد کشمیر کو اپنے ہاتھ سے گنوانے کے لیے تیار رہنا چاہیے. اکھنڈ بھارت کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ہم پاکستانی آزاد کشمیر کی طرف بڑھنے کے لیے تیار ہیں. پاکستان کو دہشت گردی کی حمایت کرنا ہو گی بھارت اسے برداشت نہیں کرے گا.

    وزیر اعلیٰ نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو 1971 کی جنگ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان 1971 میں دہلی پر قبضہ کرنے کی شیخی بگھار رہا تھا. لیکن وہ کراچی کو کھونے والا تھا. بنگلہ دیش علیحدہ ہوا. ان کے فوجی ہمارے مہاجر بنے.

    واضح رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ نے گزشتہ ماہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی.

  • پاکستان بھارت کو فضائی حدود سے گزرنے اور استعمال کرنے کی اجازت نہ دے ، میر عتیق الرحمن

    پاکستان بھارت کو فضائی حدود سے گزرنے اور استعمال کرنے کی اجازت نہ دے ، میر عتیق الرحمن

    مظفر آباد : پاکستان اب بھارت کو بار بار نہ آزمائے بلکہ دلیرانہ فیصلے کرے ، پاکستان حکومت کو چاہیے کہ وہ بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود بند کردے ، ان خیالات کااظہار مسلم کانفرنس کے رہنما سابق ٹکٹ ہولڈر میر عتیق الرحمن نے ایک پیغام میان کیا

    میر عتیق الرحمن نے کہا کہ حکومت پاکستان کو چاہئیے کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور مظلو م عوام پر ڈھائے جانے والےظلم اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کرے جس طرح بھارت کے ساتھ تجارت بند کی اسی طرح فضائ حدود بھی بند کرے۔ آخر وہ کیا مصلحت ہے کہ حکومت پاکستان کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و بربریت کو چالیس دن سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے مگر آج بھی فضائ حدود بند نہیں کی گئ۔

    میر عتیق الرحمن نے حکومت پاکستان کو مخاطب ہوتےہوئے کہا کہ اگر ہم خود یہ اقدام نہی کر سکتے تو کسی اور ملک سے ہم کیا توقع کر سکتے ہیں۔ مزید وقت کا انتظار کئے بغیر بھارت کے ساتھ ہر قسم کا بائکاٹ کیا جائے۔ خاص طور پر فضائ حدود پر پابندی عائد کی جائے۔ حالانکہ بھارتی صدر کے طیارے کو گزرنے کی اجازت نہی دی گئی تو اور طیاروں کے لئے کیوں کھلی اجازت ہے۔

  • 1000 کفن پوش، 313 مسلح نوجوان،جماعت اسلامی کا لائن آف کنٹرول عبور کرنے کا پروگرام 27 ستمبر تک مؤخر

    1000 کفن پوش، 313 مسلح نوجوان،جماعت اسلامی کا لائن آف کنٹرول عبور کرنے کا پروگرام 27 ستمبر تک مؤخر

    جماعت اسلامی 27ستمبر کو مظفر آباد میں کشمیریوں سے یکجہتی کرے گی، وزیراعظم کی اپیل اور سراج الحق کی درخواست پر لائن آف کنٹرول عبور کرنے کا پروگرام مؤخر کر دیا گیا ہے

    جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود نے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی 27ستمبر کو مظفرآباد میں پوری قوم کو جمع کر کے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرے گی،حکومت پاکستان سفارتی،سیاسی اور اخلاقی حمایت سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے،او آئی سی کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں بلا کر کشمیر کی آزادی کا روڈ میپ دیا جائے ،آزادکشمیر کے عوام 1947ءکی طرح اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بے تاب ہیں،

    27ستمبر کو وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان سمیت پوری کشمیری قیادت کو دعوت دیں گے،سینیٹر سراج الحق خصوصی خطاب کریں گے 27 ستمبر کو جب وزیراعظم پاکستان عمران خان جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں عظیم الشان کشمیر ریلی منعقد کی جائےگی جس میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سمیت آزاد کشمیر کی تمام قیادت اور حریت کانفرنس کو بھی مدعو کیا جائےگا۔مظفر آباد کی ریلی میں مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی عملی مدد کے لیے نئے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میںپریس کانفرنسسے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر نائب امراءنورالباری،ارشد ندیم ،راجہ جہانگیر خان،سیکرٹری جنرل راجہ فاضل تبسم،جے آئی یوتھ کے صدر نثار احمد شائق سمیت دیگر قائدین ہمراہ تھے۔ ڈاکٹر خالد محمود نے بتایا کہ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی درخواست پرجماعت اسلامی یوتھ نے 21 ستمبر کا پروگرام موخر کر دیا ہے۔جماعت اسلامی یوتھ کے تحت بڑی تعداد میں نوجوان لائن آف کنٹرول کی جانب سے جانا چاہتے ہیں ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے حکومت پاکستان کو ہی کوئی اقدام کرنا ہوگا۔

    ڈاکٹر خالد محمود نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستا ن کو دورہ مظفر آباد کے موقع پر اس صورتحال کا ادراک ہوا۔وزیراعظم نے 27 ستمبر تک روکنے کو کہا ہے چنانچہ وزیراعظم کے اعلان اور سراج الحق کی ہدایت پر جماعت اسلامی یوتھ نے اپنا پروگرام موخر کیا ہے 27 ستمبر کو کوئی اقدام نہ ہوا تو سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں نیا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

    جماعت اسلامی یوتھ آزاد کشمیر کے سربراہ نثار احمد شائق نے اس موقع پر کہا کہ آزاد کشمیر کے ہزاروں نوجوانوں نے 21 ستمبر کو لائن آف کنٹرول کی طرف بڑھنے کا فیصلہ کیا تھا جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی ہدایت پر اس پروگرام کو فی الحال موخر کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً پچاس ہزار نوجوان تیار تھے ایک ہزار کفن پوش اور 313 مسلح نوجوان 21 ستمبر کے پروگرام کے لیے تیار تھے۔انجمن تاجران ،ٹرانسپورٹرزہمارے ساتھ تھے۔ہمارا اندازہ تھا کہ نوجوان اس قدر جذباتی ہیں کہ یہ تعداد ایک لاکھ سے بڑھ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی جماعتوں کے فیصلے کا انتظار کریںگے۔