Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجی دکانوں کو آگ لگانے لگے

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجی دکانوں کو آگ لگانے لگے

    مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی سے خوفزدہ بھارتی فوجی رات کے وقت دکانوں کو آگ لگا رہے ہیں ۔ اس اقدام کا مقصد کشمیریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرکے تحریک آزادی سے ان کی توجہ ہٹانا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے گذشتہ پندرہ دنوں کے دوران ضلع بڈگام کے بیروہ کے علاقے میں کم از کم 15 دکانوں کو نذر آتش کردیا ہے۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ فوجیوں نے 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب بیروہ میں بس اسٹینڈ کے قریب بارہ دکانوں کوآگ لگائی۔ اس سے قبل اسی بازار میں غلام محمد رنگروٹ ، پرویز احمد وازہ اور مشتاق احمد بٹ کی دکانوں کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا۔

    مقامی لوگوں نے مزید بتایا کہ آتشزدگی کے واقعات سے علاقے میںخوف وہراس پھیل گیا ہے۔مقامی آبادی کے مطابق 05 اگست سے دکانوں اور بازاروں پر ہندوستانی فوجی کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرفیو کی وجہ سے علاقے میں صرف فوجی موجود تھے اور وہ دکانوں کو نذر آتش کررہے تھے۔

  • ترکی نے بھی بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی بند کرنے کا مطالبہ کر دیا

    ترکی نے بھی بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی بند کرنے کا مطالبہ کر دیا

    ترکی نے بھارتی حکومت سے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو فی الفور بند کرنے کی اپیل کی ہے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی حالت زار، سابق رکن اسمبلی کی آنکھوں میں آگئے آنسو

    ترکی کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی کے انسانی حقوق کے جائزاتی کمیشن کے صدر حقان چاوش اولو نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق آئینی شق کو منسوخ کرنے کے بعد رونما ہونے والی پیش رفت نے کشمیر کو دنیا کے حساس ترین علاقوں میں بدل دیا ہے۔

    چاوش اولو کے مطابق کشمیری عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والی اور انسانوں کو اندھا کر دینے والے اسلحہ اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کرنےوالی فوج کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کی گئی۔

    چاوش کا کہنا تھا کہ "غیر جانبدار حقوق انسانی کی تنظیموں کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔”

    چاوش اولو نے مزید کہا کہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی نفری میں خاصا اضافہ کیا گیا ہے اور عوام کا دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔

    انہوں نے آخر میں کہا کہ میں” بھارتی حکومت سے جموں و کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور جارحیت کا فی الفور خاتمہ کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔”

  • تین نوبل انعام یافتگان نے کیا بل اینڈ یلنڈا گیٹس فاونڈیشن سے بڑا مطالبہ

    تین نوبل انعام یافتگان نے کیا بل اینڈ یلنڈا گیٹس فاونڈیشن سے بڑا مطالبہ

    تین نوبل انعام یافتہ شخصیات ، مائیراد مگویری ، توکل عبد السلام اور شیرین عبادی نے واشنگٹن میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاونڈیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، اقلیتوں پر حملوں کے الزام اور گجرات کے ہولناک قتل عام میں مودی کے کردارپر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے ایوارڈ کو منسوخ کردے۔

    نوبل انعام یافتہ افراد نے اپنے مشترکہ خط میں کہا ،”ہمیں یہ جان کر سخت پریشانی ہوئی کہ بل اور میلنڈا گیٹس فاو¿نڈیشن رواں ماہ کے آخر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ایوارڈ دے گی۔”

    خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ ”وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ، بھارت نے انسانی حقوق اور جمہوریت کو مسلسل پامال کیا ہے۔ یہ ہمارے لئے خاص طور پر پریشان کن ہے کیونکہ آپ کی فاونڈیشن کا بیان کردہ مشن زندگی کا تحفظ اور عدم مساوات کا مقابلہ کرنا ہے۔ “
    خط میں کہا گیا ہے کہ آسام اور ہندوستان کے زیر قبضہ کشمیر کی صورتحال شدید تشویش کا باعث ہے۔ آسام میں ، 1.9 ملین ہندوستانیوں کو شہریت سے محروم کردیا گیا ہے۔ اگست سے لے کر اب تک ، کشمیر میں آٹھ لاکھ بھارتی مسلح افواج نے آٹھ ملین کشمیریوں کو بغیر کسی فون یا انٹرنیٹ سروس کے رکھا ہوا ہے ۔

    یاد رہے کہ گیٹس فاﺅنڈیشن 24ستمبر کو وزیراعظم مودی کو ایوارڈ دے گی۔

  • مقبوضہ جموں و کشمیر کی حالت زار، سابق رکن اسمبلی کی آنکھوں میں آگئے آنسو

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی حالت زار، سابق رکن اسمبلی کی آنکھوں میں آگئے آنسو

    مقبوضہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے معاملے پر سی پی آئی ایم لیڈر اور جموں و کشمیر کے سابق رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی اور پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے دہلی میں پریس کانفرنس کی۔
    مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لاک ڈاؤن کو 44 واں روز ، بھارتی فوج نے چوراہوں میں بنکر بنا لیے
    دونوں رہنماﺅں نے پریس کانفرنس میں مودی حکومت کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا۔

    یچوری نے کہا کہ کشمیر کے حالات معمول پر نہیں ہیں۔ کشمیر ایشو اب عدالت کے پاس ہے اور عدالت کو ہی اس پر فیصلہ سنانے کا حق ہے۔ پریس کانفرنس میں مقبوضہ کشمیرکی حالت زار کو بیان کرتے ہوئے یوسف تاریگامی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر دھیرے دھیرے موت کے قریب جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ کشمیر میں بھارت کی فوجی دہشت گردی کا آج 44 واں روز ہے۔ مقبوضہ وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے۔ سری نگر کے چوراہوں پر بھارتی فوج نے بلٹ پروف بنکرز بنا لیے۔ کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے والے عالمی اداروں کے خلاف بھارت کی سازشیں ناکام ہو گئیں، آج یورپی یونین کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہو گی۔

  • آزاد کشمیر پر حملے کی باتیں خطے کو جنگ کی طرف لے جارہی ہیں،صدر آزاد کشمیر

    آزاد کشمیر پر حملے کی باتیں خطے کو جنگ کی طرف لے جارہی ہیں،صدر آزاد کشمیر

    آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کے آزاد کشمیر پر حملے کی باتیں خطے کو جنگ کی طرف لے جارہی ہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ دنیا بھر میں کشمیر میں ہونےوالے مظالم کے خلاف احتجاج کیا گیا ،60ممالک نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے ،ثالثی کا چرچا اور شور ہے اس کے لیے چند شرائط ہونی چاہئیں،ثالثی کے لیے اقوام متحدہ کے اصولوں کو اپنایا جائے،

    صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی دنیا اور سول سوسائٹی نے کشمیر کے معاملے پر آواز اٹھائی ہے،آج یورپین پارلیمنٹ میں بھارتی مظالم پر 12سال بعد بات کی جائے گی.

  • مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لاک ڈاؤن کو 44 واں روز ، بھارتی فوج نے چوراہوں میں  بنکر بنا لیے، وادی جیل بن چکی

    مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لاک ڈاؤن کو 44 واں روز ، بھارتی فوج نے چوراہوں میں بنکر بنا لیے، وادی جیل بن چکی

    کشمیر میں بربریت کو آج 44 واں روز ہے۔ مقبوضہ وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل کا منظر پیش کرنے لگی ۔ سری نگر کے چوکوں اور چوراہوں پر بھارتی فوج نے بلٹ پروف بنکرز بنا لیے

    کشمیر میں بھارت کی فوجی دہشت گردی کا آج 44 واں روز ہے۔ مقبوضہ وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے۔ سری نگر کے چوراہوں پر بھارتی فوج نے بلٹ پروف بنکرز بنا لیے۔ کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے والے عالمی اداروں کے خلاف بھارت کی سازشیں ناکام ہو گئیں، آج یورپی یونین کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہو گی۔
    کرفیو، لاک ڈاؤن، جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات، قابض بھارتی فورسز نے سری نگر کے جہانگیر چوک، بخشی سٹیڈیم، سبزی منڈی چوک میں بلٹ پروف بنکرز بھی قائم کر لئے۔
    وادی کے ہر گلی کوچے پر بھارتی فوجی تعینات ہیں جن کی قائم کردہ چیک پوسٹوں پر خطرناک اسلحہ موجود ہے، کوئی شہری انتہائی ضرورت کے تحت اپنے گھر سے نکلنے کی کوشش کرے تو پیلٹ گنز سے شدید زخمی کر دیا جاتا ہے، ظلم کی انتہا کہ ہسپتالوں میں ادویات تک ختم ہو چکی ہیں اور مریضوں کی حالت انتہائی خراب ہے، آپریشن کرنے کیلئے بھی ضروری سامان مہیا نہیں اس کے باوجود مودی حکومت ذرا سی لچک دینے کو تیار نہیں۔

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو44 روز ہو گئے ہیں،بھارتی حکام نے گذشتہ 44 روز میں دس ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جن میں سابق وزرا اعلی سمیت 200 سے زائد سیاستدان شامل ہیں .بھارتی فوج نے 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو سنگ بازی کے الزام میں گرفتار کیا، ڈیڑھ سو سے زائد کشمیریوں کو عسکریت پسندوں سے تعلق کے الزام پر گرفتار کیا گیا ہے.
    لاکھوں لوگوں کو ادویات اور اشیائے خوراک تک رسائی نہیں جب کہ انٹرنیٹ اور موبائل سروسز مسلسل بند ہیں، اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز اور مقامی کشمیریوں کے درمیان جھڑپیں معمول بن چکی ہیں. تعلیمی ادارے تا حال بند ہیں، سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج کشمیری خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بناتی ہے، کشمیر میں چھ ہفتے گزر گئے کشمیریوں‌کو نماز جمعہ مسجد میں ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی.

  • فاروق عبداللہ کی گرفتاری کو لے کر کانگریس نے کیا بڑا سوال

    فاروق عبداللہ کی گرفتاری کو لے کر کانگریس نے کیا بڑا سوال

    بھارتی کانگریس نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کرنے کی خبر آنے کے بعد مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔
    مقبوضہ کشمیر،سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار
    کانگریس نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ فاروق عبداللہ کو نہ تو حراست میں لیا گیا ہے اور نہ ہی گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ وہ پی ایس اے کے تحت گرفتار ہیں۔ کانگریس نے سوال کیا کہ کیا وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا؟ کیا یہ خصوصی اختیارات کی خلاف ورزی نہیں ہے؟

    یادرہے کہ فاروق عبداللہ کو سرینگر میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا ،فاروق عبداللہ کو ابتدائی طور پر 12 دن کے لیے حراست میں لیا گیا ہے،ضرورت پیش آنے پر حراست کی مدت میں 3ماہ کی توسیع کی جاسکتی ہے۔

  • بھارتی ریاست گجرات سے کشمیریوں کے حق میں بڑی خبر آ گئی

    بھارتی ریاست گجرات سے کشمیریوں کے حق میں بڑی خبر آ گئی

    بھارتی ریاست گجرات کے مختلف مقامات پر ہزاروں لوگوں نے مظلوم کشمیریوں کے حق میں دھرنا دیا اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مجسمے کو نذر آتش دیا۔ احتجاج کے بعد پولیس نے محصور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ان کو چنڈی گڑھ جانے سے روک دیا۔
    بھارت کشمیر میں مواصلاتی نظام بحال کرے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مطالبہ

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے احتجاجی مارچ کو روکنے کے لئے موہالی میں مختلف کسانوں اور طلباءکی یونینوں سے تعلق رکھنے والی خواتین سمیت درجنوں کارکنوں کو بھی حراست میں لیا۔ ان بائیں بازو کے گروپوں نے پنجاب کے گورنر وی پی سنگھ بدنورکے لئے ایک میمورنڈم تیار کیا جس میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی ، کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور مسلح افواج کے خصوصی اختیارات ایکٹ کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

    بھارتی حکومت کی جانب سے مظاہرین کو موہالی پہنچنے سے روکا گیا تاہم ، جہاں بھی انہیں روکا گیا وہاں ہزاروں افراد نے دھرنا دیا۔ یہ دھرنے بنیادی طور پر پنجاب کے جنوب میں بٹھنڈا ، مانسہ ، فریدکوٹ ، مکتسار ، سنگرور ، فیروز پور اور برنالہ اضلاع کے علاوہ موہالی اور ترن ترن کے اضلاع میں دیے گئے جہاں مظاہرین نے وزیر اعظم کے مجسمے کو نذر آتش کیا۔

  • مودی نے صرف کشمیر ہی نہیں‌ پورے بھارت میں ٹائم بم نصب کر دیے ہیں، سردار مسعود خان

    مودی نے صرف کشمیر ہی نہیں‌ پورے بھارت میں ٹائم بم نصب کر دیے ہیں، سردار مسعود خان

    صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکے لوگوں کا عزم ہے کہ وہ آزادی لے کر رہیں گے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق انہوں نے کہا کہ بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا پتا ہے، جنگ کا آغاز ہو چکا ہے، مقبوضہ کشمیر پر حملہ ریاست پاکستان پر حملہ ہے، کشمیری فولاد سے بنی قوم ہے، کشمیری بغیر کسی ہتھیار کے لڑرہے ہیں، مودی نے نہ صرف کشمیر بلکہ پورے بھارت میں ٹائم بم نصب کر دیے ہیں، آزاد کشمیر آزاد ہے اور مقبوضہ کشمیر پر قبضہ ہے،

    سردار مسعود خان نے کہا کہ تصور جہاد کے تمام اصول انسانیت کے حقوق پر مبنی ہیں،

  • 29 سال قبل بھارتی فضائیہ  کے چار اہلکاروں‌ کا قتل، یاسین ملک کو ایک اور جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے کی کوششیں

    29 سال قبل بھارتی فضائیہ کے چار اہلکاروں‌ کا قتل، یاسین ملک کو ایک اور جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے کی کوششیں

    بھارتی ایجنسیوں نے 29 سال قبل قتل ہونے والے ہندوستانی فضائیہ کے چار اہلکاروں کے قتل کے الزام میں‌ جموں‌ کشمیر لبریشن فرنٹ‌ کے چیئرمین اور معروف کشمیری لیڈر محمد یٰسین ملک کو پھنسانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آر ٹی ٹی وی نے آج اس سلسلہ میں ایک تازہ رپورٹ نشر کی ہے جبکہ تین دن قبل جموں کشمیر کی انسداد دہشتگردی کی عدالت (ٹاڈا) نے جے کے ایل ایف لیڈر یاسین ملک کے خلاف 29 سال قبل بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں کے قتل کے مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع کردی ہے، رواں سال مارچ میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی عائد کی گئی تھی،

    بھارتی میڈیا کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ یٰسین ملک پر بھارتی فضایہ کے چار اہلکاروں کے قتل اور اس وقت کے انڈیا کے وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سعید کے اغوا کے الزامات ہیں، اسی طرح ایک رپورٹ میں 1989 میں کشمیری پنڈتوں کے قتل کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے، ہندوستانی فضائیہ کے چار اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ 29 سال بعد پیش کیا جا رہا ہے،اس کیس کی پیروی کرنے والے سرکاری وکیل پوتر سنگھ بھاردواج نے صحافیوں کو بتایا کہ جے کے ایل ایف لیڈر کے خلاف مقدمہ اب اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا، میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر جب ان سے جب پوچھا گیا کہ اس مقدمے کی سماعت میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ملزم اتنے عرصے تک کیس کو ملتوی کرانے کی حکمت عملی اپناتا رہا،اسے سیاسی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔