بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا نے محبوبہ مفتی کو دہشت گرد قرار دیا جائے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا نے مطالبہ کیا ہے کہ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کو دہشت گرد قراردیا جائے ،کیونکہ محبوبہ مفتی عسکریت پسندوں کی زبان بول رہی ہیں. شیو سینا کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایسی سرگرمیاں برداشت نہیں کرنا چاہئے۔
واضح رہے کہ محبوبہ مفتی نے بھارت کی جانب سے کشمیر میں فوج کی تعیناتی، کرفیو پر احتجاج کیا تھا
محبوبہ مفتی نے کہا کہ آج کشمیریوں کے لئے سیاہ ترین دن ہے ، محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا کہ مودی سرکار کا یہ فیصلہ غیر قانونی، غیر آئینی اور یکطرفہ ہے .
محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ بھارت کے ارادے واضح ہو چکے ہیں وہ مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے
مقبوضہ کشمیرمیں مسلمان اکثریت ختم کرنے کی گھناؤنی سازش بے نقاب ہو چکی ہے، مودی سرکار نے آرٹیکل 370اے ختم کرنے کابل راجیہ سبھامیں پیش کر دیا ہے. اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کے بعد اجلاس تھوڑی دیر کے لئے ملتوی کر دیا گیا.
آرٹیکل 35 اے کی منسوخی سے کشمیر میں غیر کشمیر ی آ کر آباد ہوں گے، ہندوؤں کو کشمیر میں زمیںیں خریدنے کی اجازت ملے گی اور بھارت کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازشن کی جائے گی، دفعہ 35 اے کے مطابق غیر کشمیری کشمیر میں نوکری حاصل کرنے، جائیداد خریدنے کے مجاز نہیں .
آرٹیکل 35 اے کی آڑ میں کشمیری عوام کو دبانے کی بھارتی سازش جہاں کشمیریوں سے ان کی شناخت کا حق چھین لے گی، وہیں وادی میں قتل عام کا بازار بھی مزید بڑھ سکتا ہے .
واضح رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مزید 70 ہزار فوج طلب کر لی، کشمیر میں کرفیو نافذ ،سیاسی رہنماوں کو بھی گھروں میں نظر بند کر دیا گیا، تعلیمی اداروں میں امتحانات ملتوی کر دئیے گئے،
بھارتی فوج نے کشمیر کو قید خانے میں بدل دیا ہے، دیہاتوں میں بھی ہزاروں کی تعداد میں فوجیوں کو پہنچا دیا گیا ہے، بھارت سرکار نے مزید 70 ہزار فوج مقبوضہ کشمیر طلب کر لی ہے، غیر معینہ مدت کے لئے مقبوضہ کشمیر مٰیں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا، سیاسی رہنما گھروں میں نظر بند کر دئیے گئے، حریت رہنما پہلے ہی جیلوں میں قید ہیں.
بھارت سرکار نے کشمیریوں پر جلسے جلوس و احتجاج کرنے پر بھی پابندی لگا دی ہے،وادی کی تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے