اسلام آباد (نمائندہ باغی ٹی وی)آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری محمدیٰسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویشناک رخ اختیار کرچکی ہے، رمضان المبارک کے دوران بھی مظالم میں تیزی آچکی ہے، نماز تراویح کیلئے بھی مساجد کو بند کیاجارہاہے اور ان کو مذہبی فریضے سے روکا جارہا ہے۔ ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام تاریخ کے مشکل ترین وقت سے گزر رہے ہیں لیکن بے پناہ جبر اور مظالم کے باوجود انکے حوصلے پست نہیں ہوئے ،دن بدن تحریک مزاحمت مضبوط ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیریوں کی آزادی کے دن قریب ہیں ،۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں عروج پر ہیں اقوام متحدہ کشمیر کا تنازع حل کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے اور بھارتی افواج کے جبروتشدد ظلم و بربریت کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے ۔بھارتی افواج نے پوری وادی مقتل گاہ بنا دیامقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی، حریت قیادت کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا ۔پوری وادی میں کرفیو نافذہے ،بھارتی وزیراعظم نے الیکشن جیتنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم اور بربریت کے ذریعے پوری وادی کو قبرستان میں تبدیل کررہا ہے ،انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے پانی ،خوراک اور زرعی ترقی کے تمام راستے کشمیر سے ہو کر گزرتے ہیں ۔ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی تھی پیپلزپارٹی اقتدار اور اپوزیشن ہر دور میں مسئلہ کشمیر کو صف اول کے طور پر رکھا،ہم آج بھی بھٹو شہید کے اسی فلسفے اور عزم کو دھراتے ہیں ،عالمی برادی جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے ،کشمیریوں کی عظیم جدوجہد کو سراہتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وقت آگیا ہے اب وہ اپنا وعدہ پورا کرے۔ انہوں نے کہا کہ سات دہائیوں پہلے کشمیریوں سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا گیا اور اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ اپنے وعدے کو پورا کرے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلائے۔ ایسا کرنا خطے اور عالمی امن کے لئے اشد ضروری ہے۔
Category: کشمیر

وزیر اعظم آزادکشمیر کی گالی آڈیوٹیپ لیکس انتہائی شرمناک ہے مستعفی ہوں.سردارعتیق احمدخان
مظفرآباد( شفقت حسین)سربراہ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس اور سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی آڈیولیکس کو انتہائی شرمناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے 13مئی سے آزادکشمیر بھر میں عزت بچاﺅ تحریک کا اعلان کردیا۔تمام ضلعی وتحصیل ہیڈکوارٹرز اور پریس کلبوں کے سامنے خواتین کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر وزیراعظم کے خلاف احتجاج مظاہرے کیے جائیں گے۔فاروق حیدر فوری طورپر مستعفی ہوکر قوم سے معافی مانگیں اور اپنا بوریا بستر گول کریں۔شہباز شریف فاروق حیدر کو صدارت سے فارغ کر کے پاکستان طرز پر نائب صدور وں کا اعلان کریں۔آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کا قیام نظریاتی دہشتگردی کے لیے تھا وقت نے ثابت کیا کہ یہ بات درست ثابت ہوئی۔گزشتہ روز سینٹرل پریس کلب میں سابق سینئر بیوروکریٹ اور کالم نگار سردار سلیم چغتائی کی مسلم کانفرنس میں شمولیت کے اعلان کے موقع پر پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے قائد نے کہا کہ سردار سلیم چغتائی ایک موثر شخصیت ہیں جن کی شمولیت سے پارٹی کو فائدہ ہوگا۔انہیں خوش آمدید کہتا ہوں،سردار سلیم کا شامل ہونا مسلم کانفرنس کے لیے نیک شگون ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس نے کشمیری عوام کو جمہوری شعور دیا ۔گلگت بلتستان کو آزادی دلوائی،قرارداد الحاق پاکستان پیش کر کے کشمیریوں کو ان کے مستقبل کے فیصلے کا حق دیا۔لارڈ ماﺅنٹ بیٹن سے لے کر آج تک مسلم کانفرنس کی حیثیت مسلمہ ہے آج مقبوضہ کشمیر میں الحاق پاکستان کے حامی اور خود مختار پاکستان کے حامی دونوں ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم اٹھاکر کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگارہے ہیں۔یہی مجاہد اول کا پیغام تھا جو مقبوضہ کشمیر کے بچے بچے تک پہنچ چکا ہے یہی ہماری کامیابی ہے۔آزادکشمیر اس وقت بدترین دور سے گزر رہا ہے ،خواتین ،علماءاور بڑے قدر آور شخصیات کی کوئی عزت نہیں کی جارہی۔وزیراعظم کی آڈیولیک میں خواتین کو نازیبا گالیاں دی گئیں جس کی مذمت کرتے ہیں اور یہ قابل مواخذہ ہے جبکہ سردار سکندر حیات جیسے قد آور شخصیت کو مردہ گھوڑا اور ستر سال سے سیاست میں حصہ لینے والے بزرگ وزیر راجہ عبدالقیوم کا پائپ چورکہا گیا جبکہ مولوی کا بیٹا کہہ کر ایک نوجوان کو گالی دی یہ علماءکی توہین ہے جس کے خلاف صرف مسلم کانفرنس ہی نہیں عنقریب خواتین،تاجران ،علماءاور وکلاءبھی سڑکوں پر نکلیں گے۔فاروق حیدر کی حکومت میرٹ اور انصاف کا قتل عام کررہی ہے مگر جس دن سنٹرل پریس کلب کے سامنے مسلم کانفرنس اور پی ٹی آئی کی خواتین نے عزت بچاﺅ نعرے کے تحت وزیراعظم کے خلاف جلوس نکالے اسی دن ریاست میں بھونچال پیدا ہونا چاہیے تھا آج بچاﺅ بچاﺅ کے نام سے دھرنے اور مظاہرے کرنے والوں کو عزت بچاﺅ کے لیے نکلنا چاہیے۔ڈیم راتوں رات نہیں بنتے بلکہ سال لگتے ہیں نیلم جہلم پراجیکٹ کا پہلا سروے 1963ءمیں ہوا تھا جب میں نے 600منی ڈیمز بنانے کا منصوبہ دیا تو اس وقت بھارت نیلم جہلم کے خلاف سازشیں کررہا تھا۔ایک طرف منظور پشتین پاکستان کے خلاف زبان استعمال کررہا ہے اور دوسری طرف چند لوگ پاکستان اور قومی اداروں کے خلاف زبان استعمال کرتے ہیں جو افسوسناک ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جلد وزیراعظم آزادکشمیر کی دیگر آڈیولیکس منظر عام پر آئیں گی جس میں وہ خواجہ فاروق اور حنیف اعوان کے ساتھ گفتگو میںنہایت شرمناک انداز اپنائے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خفیہ اداروں کو آزادکشمیر کے معاملات پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور ٹیلفونوں سمیت تمام معاملات کو مانیٹر کرنا چاہیے جس نے بھی وزیراعظم کا ٹیلیفون ٹیپ کیا اسے خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ اسے داد تحسین کے طورپر سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنا چاہیے۔آج مسلم لیگ ن میں بیٹھی خواتین سے کہتا ہوں کہ وہ کس حالت میں جماعت کے اندر بیٹھی ہیں اور وزراءسے کہتا ہوں کہ وہ اس شرمناک آڈیو ٹیپ کے بعد کس حیثیت سے کابینہ میں بیٹھے ہیں اور برداشت کررہے ہیں۔آزادکشمیر میں شرافت کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے جب گھر کا سربراہ ہی لوگوں کی عزت تار تار کرنے لگ جائے تو باقی کیا عالم ہوگا۔آزادکشمیر کا پانی کسی نے نہیں روکا یہ ہندوستان نے روکا ہے ہندوستان کے خلاف مظاہرے کرنے چاہئیں۔حکومت پاکستان کو آزادکشمیر کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔یہ مسلم لیگ ن کی خصلت ہے کہ اس نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے آزادکشمیر کو تختہ مشق بنائے رکھا۔رکن اسمبلی کی حیثیت سے حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتاہوں کہ وہ آزادکشمیر کے معاملات کے مداخلت نہ کرے۔مقبوضہ کشمیر میں ظلم وبربریت جاری ہے اقوام متحدہ میرواعظ عمر فاروق،سید علی گیلانی سمیت پوری کشمیری قیادت سے سکیورٹی واپس لینے کا نوٹس لے کر انہیں سکیورٹی فراہم کرے۔بھارت نے کئی کشمیری قائدین سے سکیورٹی لے کر انہیں شہید کیا ہے اب کی بار بھی سانحہ ہوسکتا ہے اس لیے اقوام متحدہ اپنی سکیورٹی فراہم کرے۔سردار عتیق احمد خان نے پاکستان اور آزادکشمیر کے تاجروں سے مطالبہ کیا کہ وہ یورپ طرز پر رمضان المبارک میں قیمتوں میں کمی کریں حالانکہ یورپ میں غیر مسلم آبادہیں مگر وہ جذبہ خیر سگالی کے تحت مسلمانوں کے لیے قیمتوں میں تخفیف کرتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ فاروق حیدر نے آڈیو میں مسلم کانفرنس میں شامل ہونے والی نصرت درانی کا نام لے کر انہیں گالیاں دیں اس کی مذمت کرتے ہیں اور اس پر شدید افسوس ہے۔نصرت درانی وہ خاتون ہیں جنہوں نے مسلم لیگ ن کو آزادکشمیر بھر میںکامیاب کرنے میں اپنا کردار اداکیا اور آج وزیراعظم ان کا نام لے کر انہیں نازیبا گالیاں دے رہے ہیں جو کہ شرمناک ہے۔انہوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کے بارے میں کہا جارہاہے کہ آڈیو لیک کی تو بتایا جائے کہ جلسوں میں خراٹے لے کر سونے اور یورپ میں غلط جگہوں پر بیٹھنے کی جو ویڈیو وائرل ہوتی رہیں وہ کون کرتا رہا۔آزادکشمیر کا سا را انتظام پاکستان کے پاس ہے اور اقوام متحدہ نے اسے یہ اختیار سونپ رکھا ہے۔وزیراعظم کی حرکات کسی صورت ناقابل معافی ہیں و ہ فوراً مستعفی ہوں بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کر کے اسمبلی فورم پر لے جایا جائے گا۔آج کابینہ کے اہم وزراءاور سردار سکندر حیات خود وزیراعظم پر عدم اعتماد کرچکے ہیں۔فاروق حیدر بتائیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی وحشت اور بربریت کے وقت ان کی والدہ جواں سال بیگم راجہ حیدر خان نے کس طرح خواتین کے حقوق کے ساتھ مردوں کے حقو ق کا بھی تحفظ کیا اور آزادکشمیر میں مثال قائم کی۔فاروق حیدر کو اور کسی کا نہیں اپنی والدہ کا ہی خیال رکھنا چاہیے تھا۔فاروق حیدر کی گفتگو کسی وزیراعظم کی نہیں کسی مدہوش شخص کی گفتگولگ رہی ہے اور ایک چھوٹے ملازم ڈرائیور کو دو ٹکے کا کہہ کر پورے ڈرائیور طبقے کی توہین کی گئی ہے اور اس کی بھی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور یہ وہی ڈرائیور ہے جس نے پورے مظفرآبادشہر میں ہر گاڑی پر فاروق حیدر کے سٹیکر لگاکر اس کی کمپین چلائی ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ علم نہیں کہ آڈیو لیک وزیراعظم ہاﺅس سے لیک ہوئی ہے یا کسی وزیرکے گھر سے جس نے بھی کی خراج تحسین کا مستحق ہے۔

مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف کشمیریوں کی ہڑتال
مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں کشمیری کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت کے خلاف آج ہفتہ کو مکمل ہڑتال ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے گزشتہ روز سوپور میں سرچ آپریشن کے دوران ایک کشمیری کو شہید کر دیا تھا جس کی وجہ سے آج ہفتہ کو بھی مقامی کشمیریوں نے بھارت سرکار کے خلاف احتجاج کیا ہے. ہڑتال کی وجہ سے تمام دکانیں بند اور سڑکیں ویران ہیں. تعلیمی ادارے بھی بند ہیں.

جمعہ پڑھنے آنیوالے کشمیریوں پر بھارتی فوج کی پیلٹ گن سے فائرنگ، چھ کشمیری زخمی
بھارتی فوج کی جانب سے رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کو نماز جمعہ کے موقع پر کشمیریوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سرینگر کے علاقے نوبٹہ میں جمعہ کو بھارتی فوج نے جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لئے آنے والے کمشیریوں پر تشددکیا، جب کشمیریون نے مزاحمت کی تو بھارتی فوج نے کشمیریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی ،پیلٹ بھی فائر کئے اور آنسو گیس کے شیل بھی پھینکے جس سے چھ کشمیری جوان زخمی ہو گئے، جنہیں علاج کے لئے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا
واضح رہے کہ شوپیاں میں بھی بھارتی فوج نے جمعہ کی صبح سرچ آپریشن کےد وران ایک کشمیری کو شہید کیا ہے.

سستا بازار عوام کی سہولت کے لیے لگایا گیاہے .عوام ریٹ لسٹ کے مطابق قیمت اداکریں.خواجہ اعظم رسول
مظفرآباد( شفقت حسین) ایڈمسٹریٹر بلدیہ خواجہ اعظم رسول نے کہا کہ رمضان المبارک میں غریب آدمی کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ستے اور معیاری بازار لگاکر عوام کو سہولت دے رہے ہیں ۔انہوںنے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریٹ لسٹ کے مطابق اشیاءخوردونوش خریدیں۔ اگر کوئی ریٹ لسٹ سے ہٹ کر فروخت کرتا ہے تو اسکی بلدیہ شکایت سیل میں تحریری درخواست دیں تاکہ ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے ۔وزیر اعظم آزاد کشمیر کی ہدایت پر شہر میں ستے بازارلگا کر عوام کو رےلف دیا جارہا ہے ۔بلدےہ مظفرآباد میں شہرےوں کی خدمت میں دن رات کام کررہے ہیں صفائی ستھرائی کے شعبہ صفائی دو شفٹوں میں کا م کا کررہے ہیں اتوار کے دن بھی بلدیہ ملازمین شہر یوں کی آسانی کے لیے ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں ۔

رمضان میں بھی بھارتی فوج کے مظالم، ایک کشمیری شہید
بھارت سرکار نے رمضان المبارک میں بھی کشمیریوںپر مظالم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے،شوپیاں کے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج نے ایک کشمیری کو شہید کر دیا.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے رمضان المبارک میں بھی کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، سرچ آپریشن کے نام پر چادرو چار دیواری کا تقدس پامال کیا جاتا ہے، بھارتی فوج نے جمعہ کو شوپیاں میں سرچ آپریشن کے دوران امشی پورہ گاوں میں ایک کشمیری کو شہید کر دیا. جس کی شناخت سوپور ماڈل ٹائون کے رہنے والے اشفاق احمد صوفی عرف عبد اللہ بھائی کے طورپر ہوئی . بھارتی فوج کی جانب سے بے گناہ کشمیری نوجوان کی شہادت پر کشمیریوں نے بھر پور احتجاج کیا، تمام کاروباری و تعلیمی ادارے بند جبکہ سڑکوں سے گاڑیاں بھی غائب ہوگئیں.

وزیراعظم آزادکشمیر کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع
مظفرآباد(شفقت حسین )وزیراعظم کی آڈیو لیکس کے خلاف آزاد کشمیر بھر میں مظاہرے جاری‘ فاروق حیدر پر استعفیٰ کے لئے دباؤ بڑھ گیا‘ آبائی شہر مظفرآباد میں بھی مظاہروں کا سلسلہ شرو ع‘ آزاد کشمیر تحریک انصاف مظفرآباد کے زیر اہتمام آزادی چوک میں وزیراعظم فاروق حیدر کی متنازعہ گفتگو کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور ”گو فاروق گو“ کے نعرے لگائے گئے۔ وزیراعظم کے اپنے آبائی اضلاع بشمول دارالحکومت مظفرآباد میں احتجاجی مظاہرے ۔جس میں تحریک انصاف کے مرکزی سینئر نائب صدر خواجہ فاروق احمد، تقدیس گیلانی، جواد گیلانی،چن شاہ، مظہر اعوان، زین کھوکھر،انجینئر خواجہ حذیفہ، فیضان نقوی، اجمل مغل، ساجد قریشی، عدیل میر، فیضان عباسی، بلال سواتی، ودیگر شریک تھے۔ مقررین کے خطاب سے قبل شرکاء نے وزیراعظم فاروق حیدر خان کے خلاف نعرے لگائے اور خواتین کے حوالے سے ان کی گفتگو کی مذمت کی گئی۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سینئر نائب صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ وزیراعظم بلا تاخیر وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دیں اور ساری قوم خصوصاً خواتین سے معافی مانگیں۔ اب وزیراعظم کو اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی، سیاسی جواز باقی نہیں بچا ہے۔خواجہ فاروق نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کرپشن، برادزی ازم کے خلاف ہم چپ رہے مگر خواتین کی عزت و احترام پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔وزیراعظم کے نازیبا الفاظ سے متعلق آڈیو سے اس پار مقبوضہ کشمیر میں کیا پیغام گیا ہوگا۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ آڈیو لیکس میں وزیر کے ساتھ گفتگو اور سابق وزیراعظم سکندر حیات سمیت لوگوں کے حوالے سے الزامات خصوصاً سیاسی کارکن خاتون کے حوالے سے شرمناک گفتگو نے سب کے سرشرم سے جھکا دیئے ہیں۔ وزیراعظم کے صوابدیدی آسامیوں پر تعینات ان کے آفیسر اور ہم نوالہ، ہم پیالہ گروہ کے ارکان کی طرف سے صورتحال پر شرمسار ہونے کے بجائے کھلے عام دھمکیاں دی جارہی ہیں اور شرمناک گفتگو کو جائز قرار دینے کی مہم جاری ہے۔ وزیراعظم فاروق حیدر کی ایماء پر سوشل میڈیا پر اصلاح اور اخلاقیات کیخلاف دھمکیوں کا سلسلہ عروج پر ہے۔ یہ سب ایوان وزیراعظم کی ہدایات پر ہورہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم نے بھی مودی والا انداز اختیار کرلیا ہے اور ان کے کارندے سوشل میڈیا پر آر ایس ایس کا چہر بن کر انتہاء پسندی، بدتہذیبی کی ریس لگائے ہوئے ہیں۔

بھارتی فوجیوں کی بارہمولہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی
سرینگر(باغی مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہمولہ گوہان میں بھارتی فوج نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کردی ہے.جس سے عوام میں شدید خوف پایا جاتا ہے .کیونکہ جب بھی اس طرحکی کارروائی ہوتی ہے تو عام نوجوانوںکو ٹارگٹ کرکے قتل کیا جاتاہے .لوگوںکی املاک جلائی جاتی ہیں . بارہ مولہ گوہان میںبھارتی فوج کی 46راشٹریہ رائفلز، پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی53ویں بٹالین سے وابستہ اہلکاربڑے پیمانے پر اس اس آپریشن میںحصہ لے رہے ہیں،جب سے بھارت کا انتخابی ڈرامہ فلاپ ہوا ہے بھارتی فورسز کی جانب سے پرتشدد کاررائیوں میں اضافہ ہوگیاہے ۔

16مئی سے ہفتہ شہداء منایا جائے گا.میرواعظعمر فاروق
سرینگر(باغی مانیٹرنگ ڈیسک)حریت کانفرنس(ع) کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق نے 16مئی سے شروع ہونے والے ہفتہ شہداءکے سلسلے میں پروگراموں کو حتمی شکل دینے کے لیے سرینگر میں عوامی مجلس عمل، انجمن اوقاف جامع مسجد اورانجمن نصرت الاسلام کے ایک مشترکہ اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں ہفتہ شہداءشہید کشمیری رہنماﺅں میرواعظ مولوی محمد فاروق ،خواجہ عبدالغنی لون اور حول قتل عام کے شہداءکو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منایا جائےگا۔میرواعظ مولوی محمد فاروق کو نامعلوم افراد نے 21مئی 1990ءکو سرینگر میں ان کی رہائشگاہ پر فائرنگ کرکے شہید کیا تھاجس کے بعد بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے علاقے حول میں ان کے جنازے پر اندھا دھند فائرنگ کرکے 70افراد کو شہید کردیا تھا۔ خواجہ عبدالغنی لون کو2002ءمیں اسی دن نامعلوم حملہ آوروں نے اس وقت فائرنگ کرکے شہید کیا جب وہ مزار شہداءعید گاہ سرینگر میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے بعد واپس جارہے تھے۔ اجلاس میں عوامی مجلس عمل ، انجمن اوقاف جامع مسجد اور انجمن نصرت الاسلام کے ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہفتہ شہداءکے سلسلے میں پروگراموں کو حتمی شکل دی گئی۔ تما م شرکاءنے کہاکہ اس سال بھی ہفتہ شہداءروایتی جوش وجذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔

غلامی کی زنجیروں میں جکڑی نہتی کشمیری قوم منبع ہدایت سے دور نہ ہو ،علی گیلانی
سرینگر(باغی مانیٹرنگ ڈیسک)بابائے حریت سید علی گیلانی نے رمضان المبارک کی آمد پر مسلمانانِ جموں وکشمیرسمیت تمام عالم اسلام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ روزوں کا یہ مقدس مہینہ جہاں عبادات اور تزکیہ نفس کی ایک اعلیٰ ترین مشق ہے وہیں یہ امت کو اپنے گردونواح میں مستحق افراد کی خبرگیری اور معاونت کی تلقین بھی کرتا ہے۔ یہ بابرکت مہینہ ہمیں نہ صرف حق وباطل کے معرکوں کی یاد تازہ کراتا ہے بلکہ ذہنی طور اس میں شرکت کے لیے آمادہ بھی کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ امت مسلمہ کی زبوں حالی اور جموںوکشمیر کی ابتر صورتحال ایک حساس فرد کو خون کے آنسو رُلانے کے لیے کافی ہے۔ یہاں کی بدحالی اور افراتفری ہماری آئندہ نسل کے لیے سوہان روح بنی ہوئی ہے۔سید علی گیلانی نے کہاکہ سیاسی بے یقینی اور غلامی کی بدترین زنجیروں میں جکڑی نہتی کشمیری قوم کو ہرگزاپنے منبع ہدایت سے دور نہیں ہونا چاہےے۔رمضان المبارک کے مہینے میں روزے رکھ کر، تراویح پڑھ کر، تلاوت قرآن،صدقہ و خیرات اور دیگر اضافی عبادات کرنے کے باوجود اگر ہم حق وباطل کے درمیان فرق کرنے اور ان کو پرکھنے کی صلاحیت سے اسی طرح محروم رہے جس طرح رمضان سے پہلے تھے تو اس بابرکت مہینے کے ذریعے ہم اپنی زندگی کی تاریکیوں کو روشن کرنے میں ناکام ہوجائیں گے اور اس ماہ کی ظاہری عبادات کے باوجود ہم بحیثیت ملّت اپنا وجود منوانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔









