Baaghi TV

Category: کشمیر

  • پاکستان ڈی پورٹ کیے جانے سے  قبل عمررسیدہ شخص کی واہگہ بارڈر پر موت

    پاکستان ڈی پورٹ کیے جانے سے قبل عمررسیدہ شخص کی واہگہ بارڈر پر موت

    ایک عمر رسیدہ اور ضعیف شخص جسے مقبوضہ جموں کشمیر سے پاکستان ڈی پورٹ کرنے کے لیے لایا گیا تھا، اٹاری واہگہ بارڈر پر اچانک گر کر جاں بحق ہوگیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری نژاد معمر شخص عبدالحمید بٹ 80 کی دہائی کے آخر میں پاکستان سے مقبوضہ جموں کشمیر واپس گیا تھا اور وادی کشمیر میں آباد ہوا تھا۔ تاہم اسے بھارتی پولیس زبردستی لے گئی اور ملک بدری کے لئے سرحد پر بھیج دیا جہاں وہ اچانک دم توڑ گیا۔اس کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے جایا گیا ہے۔ اس سے قبل پولیس نے متعدد افراد کو ڈی پورٹ کیا۔

  • پہلگام فالس فلیگ،کشمیر میں ایک اور فیک انکاونٹر بے نقاب

    پہلگام فالس فلیگ،کشمیر میں ایک اور فیک انکاونٹر بے نقاب

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے فیک انکاونٹرز کی ایک اور شرمناک حقیقت سامنے آئی ہے، جس کے تحت ایک اور بے گناہ کشمیری شہری، الطاف لالی کو بھارتی فوج نے جعلی انکاونٹر میں شہید کر دیا۔ یہ واقعہ 22 اپریل 2025 کو پیش آیا، جب بھارتی فوج نے الطاف لالی کو ان کے گھر سے اغوا کیا تھا، اور بعد میں دعویٰ کیا کہ وہ عسکریت پسند کمانڈر تھا۔

    مقبوضہ کشمیر کی ایک رہائشی خاتون نے اس فیک انکاونٹر کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ "پہلے میری بہن کو فون آیا اور کہا گیا کہ آپ پولیس سٹیشن آ کر الطاف لالی کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔” خاتون نے مزید بتایا کہ ان کی بہن کو پولیس نے تو چھوڑ دیا لیکن الطاف لالی کو نہیں چھوڑا۔ بعد ازاں، ان کی فیملی کو شام 6 بجے بلایا گیا اور بتایا گیا کہ الطاف لالی کا انکاونٹر ہو گیا ہے۔اس موقع پر کشمیر کی اس رہائشی خاتون نے سوالات اٹھائے کہ "اگر الطاف لالی ایک عسکریت پسند تھا تو وہ اپنے گھر میں کیسے رہ رہا تھا؟” اس نے مزید کہا کہ "ہم آواز اٹھا رہے ہیں لیکن ہماری آواز کوئی نہیں سنتا۔” انہوں نے بتایا کہ الطاف لالی کو ایک دور دراز جگہ لے جا کر مارا گیا، جہاں اس کی لاش تک کو نہیں دیکھا جا سکتا۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے جعلی انکاونٹرز اور ماورائے عدالت قتل کی حقیقت عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکی ہے۔ گزشتہ سال کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت 1989 سے اب تک 7 ہزار سے زائد کشمیریوں کا ماورائے عدالت قتل کر چکا ہے۔اس سے قبل، بھارتی فوج نے 24 اپریل 2025 کو بھی فیک انکاونٹر میں محمد فاروق اور محمد دین کو شہید کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھارتی فوج کے جھوٹے انکاونٹرز کی حقیقت پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے بے گناہ کشمیریوں کو جعلی انکاونٹرز میں قتل کرنے کے واقعات نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی کا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ عالمی برادری کو بھارت کی ان غیر انسانی کارروائیوں کا نوٹس لینا ہوگا تاکہ کشمیری عوام کو ان ظلم و ستم سے نجات مل سکے۔بھارتی فوج کے فیک انکاونٹرز کی حقیقت اب دنیا کے سامنے آ چکی ہے اور کشمیری عوام اپنی آواز اٹھا رہے ہیں، مگر عالمی سطح پر اس کے خلاف کارروائی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • پہلگام حملے کے پیچھے چھپا بھارت کا دہشتگرد چہرہ بے نقاب

    پہلگام حملے کے پیچھے چھپا بھارت کا دہشتگرد چہرہ بے نقاب

    پہلگام حملے کے پیچھے چھپا بھارت کا دہشتگرد چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے مزید 5 کشمیریوں کے گھر تباہ کر دئیے، ان مکانات کو دھماکہ خیز مواد لگا کر اڑایا گیا، تباہ کیے گئے مکانات عام کشمیری لوگوں کے تھے، تباہ ہونے والے گھر عامر نذیر وانی ، جمیل احمد، عدنان صفی ڈار، عامر احمد اور فاروق احمد کے والدین کے تھے، دھماکوں سے درجنوں قریبی مکانات کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا،گزشتہ 3 دن میں 7 کشمیریوں کے آبائی گھروں کو تباہ کر دیا گیا،بھارتی فوج کی ناپاک کاروائی سے کئی خاندان بے گھر اور شدید پریشانی میں مبتلا ہیں،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کا مقصد کشمیریوں کے عزم کو توڑنا اور اجتماعی سزا دینا ہے، بھارت کشمیری مسلمانوں کی زمیں ہتھیانے کیلئے اسرائیلی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، بھارت کشمیریوں کے گھروں کو مسمار کر کے اُنہیں بے گھر کر رہا ہے، یہ مہم مودی حکومت کے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ ہے، بھارت کا مقصد کشمیری عوام کو بے گھر اور بے دخل کرنا اور علاقے کے مسلم اکثریتی تشخص کو تبدیل کرنا ہے،

    کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں کشمیر شاخ نے مودی کی زیرقیادت بھارت کی ہندوتوا حکومت کی طرف سے پہلگام واقعے کی آڑ میں حریت پسند کشمیریوں کے گھروں کو مسمار کرنے اور ہزاروں بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی شدید مذمت کی ہے،کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیر شاخ نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مودی حکومت اس طرح کی ریاستی دہشت گردی کے ذریعے کشمیریوں کو بے گھر اور ہراساں کر رہی ہے تاکہ اُنہیں بھارت کی غلامی تسلیم کر نے پر مجبور کیا جاسکے۔ بیان میں کہا گیا کہ واقعہ پہلگام افسوسناک ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ تاہم اس المناک واقعے کو کشمیری عوام کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا اور ان کے گھروں کو تباہ کرنا انتہائی قابلِ مذمت اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ، انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مودی حکومت کی یہ پالیسی مقبوضہ جموں کشمیر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے اور حق خودارادیت کے لئے کشمیریوں کی جائز آواز کو دبانے کی مذموم کوشش ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ہزاروں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کی گرفتاری اور اُنہیں عقوبت خانوں میں ڈالنا ایک ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف ان کے اہل خانہ اذیت کا شکار ہیں بلکہ پوری کشمیری قوم میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔بیان میں اقوام عالم اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ بھارتی حکومت کے غیرقانونی اور غیر آئینی اقدامات کو روکنے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق حل کرانے کے لئے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں مزید تاخیر دنیا کے امن کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور اس سے خطے میں ایٹمی جنگ کا خطرہ ہر وقت منڈلاتا رہیگا۔ بیان میں عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

    دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیر شاخ کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ ،زاہد اشرف ، زاہد صفی اور دیگر نے حق خودارادیت کے حصول کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے اپنے بیانات میں کہا کہ کشمیری عوام بھارتی جبر و استبداد کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کی حمایت کرے اور انہیں ان کا بنیادی حق دلوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

  • پہلگام میں حملہ آور سخت نگرانی کے باوجود کیسے پہنچے؟کشمیری صحافی

    پہلگام میں حملہ آور سخت نگرانی کے باوجود کیسے پہنچے؟کشمیری صحافی

    کشمیری صحافی نے بھارتی سیکیورٹی نظام پر بڑا سوال اٹھا دیا

    کشمیری صحافی نےسوال کیا کہ "پہلگام میں حملہ آور سخت نگرانی کے باوجود کیسے پہنچے؟”7 سے 12 لاکھ بھارتی فوجی تعینات، پھر بھی سیکیورٹی ناکام کیوں؟ ،”ایک عام شہری کو دس بار چیک کیا جاتا ہے، مگر حملہ آور بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچ گئے؟”،سخت ترین سیکیورٹی کے باوجود پہلگام میں دہشتگردی کیوں ممکن ہوئی؟،”کیا بھارتی فوج صرف عام کشمیریوں کی تلاشی کے لیے ہے؟” ،”حملہ آور کہاں سے آئے؟ انہوں نے درجنوں چیک پوسٹس کیسے عبور کیں؟” "کیا یہ حملہ اندرونی سہولت کاری کے بغیر ممکن تھا؟”اتنی بھاری نفری کے باوجود سیکیورٹی میں اتنا بڑا خلا کیوں؟ –

    بھارتی فوج کی کارکردگی اور نیت، دونوں پر کشمیری عوام سوال اٹھا رہے ہیں،ان سوالات نے بھارت کی ممکنہ سازش اور فالس فلیگ آپریشن کا پردہ فاش کر دیا

  • پہلگام حملہ، سری نگر کے رہائشی  نےبھارتی پروپیگنڈے کا دیا منہ توڑ جواب

    پہلگام حملہ، سری نگر کے رہائشی نےبھارتی پروپیگنڈے کا دیا منہ توڑ جواب

    مقبوضہ کشمیر پہلگام فالس فلیگ حملہ پر سری نگر کے ایک کشمیری نے اہم ترین سوال اٹھا دیے

    پہلگام حملے کے حوالے سے سری نگر کے رہائشی نےبھارتی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا ہے، سری نگر کے رہائشی کا کہنا ہے کہ یہ گورنمنٹ فیلئیر ہے، انٹیلیجنس اور سیکیورٹی فیلئیر ہے ،مقبوضہ کشمیر چھوٹا سا علاقہ ہے یہاں 7 لاکھ سے زائدفوج ہے، حملے کے وقت وہ کہاں تھی کیا کر رہی تھی،حملے کے وقت امت شاہ کیا کر رہا تھا ، وقف بل ہو یا اور معاملہ اسے صرف مسلمانوں کیخلاف بولنا آتا ہے،یہ حملہ پر امن کشمیریوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے،کشمیریوں کو بدنام کرنا بند کرو،یہ حملہ پہلے جیسے فالس فلیگ آپریشنز جیسا ہی ہے، جیسے چھتی سنگھ پورہ کا واقعہ کیا گیا یہ بھی ویسا ہی ہے،یہاں دال گیٹ میں جو گرینیڈ حملہ ہوا وہ کس نے کیاتھا، اس کی رپورٹ کہاں ہے،پہلگام حملے کی تفصیلی تحقیقات ہونی چاہئے،میں یہاں لال گیٹ کا رہائشی ہوں، میں 1990 سے دیکھ رہاہوں یہاں کیا ہو رہا ہے،کشمیریوں نے تو 1990 میں بھی کسی سیاح کو ہاتھ نہیں لگایا، جب یہاں سیکیورٹی والے یہاں چل نہیں سکتے تھے،

  • مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوج کا پروفیسر پر تشدد،تحقیقات کا حکم،مقدمہ درج

    مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوج کا پروفیسر پر تشدد،تحقیقات کا حکم،مقدمہ درج

    بھارتی فوج نے جمعہ کے روز ایک یونیورسٹی پروفیسر کے الزام کے بعد تحقیقات کا حکم دیا ہے جس میں کہا گیا کہ فوجیوں نے انہیں جموں و کشمیر کے راجوری ضلع کے ایک گاؤں میں گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے بھی فوج کے نامعلوم اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

    پروفیسر لِیاقت علی نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں رات کے وقت لائن آف کنٹرول کے قریب واقع گاؤں لام میں فوجیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں انہیں سر میں چوٹیں آئیں۔ ایک ویڈیو میں خون بہتا ہوا پروفیسر بھی دکھایا گیا ہے جو آن لائن وائرل ہوئی۔سابق وزیرِ اعلیٰ اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "ایسے افراد ایک معزز ادارے کی شہرت کو ان کے ناقابل قبول اور ظالمانہ سلوک سے داغدار کرتے ہیں”۔

    مذکورہ واقعہ رات گئے اس وقت پیش آیا جب پروفیسر علی اور ان کے کچھ رشتہ دار، جن میں فوج اور آئی ٹی بی پی میں کام کرنے والے کزن بھی شامل تھے، اپنے کسی رشتہ دار کی شادی کی تقریبات میں شرکت کے بعد کالاکوٹ واپس آ رہے تھے۔

    فوج کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ "ایک حساس علاقے میں عسکریت پسندوں کی ممکنہ نقل و حرکت کی اطلاع پر سرچ آپریشن جاری تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، جب پروفیسر علی کو روکا گیا تو انہوں نے فوجیوں سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ان کے ساتھ جھگڑا ہوا۔ تاہم، تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور اگر کسی اہلکار کا مس کنڈکٹ ثابت ہوا تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔”

    پروفیسر علی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ "میری پوری فیملی فوج میں ہے اور میں ہمیشہ اس پر فخر کرتا تھا۔ لیکن آج جو کچھ ہوا، اس نے میری عزت نفس کو ہلا کر رکھ دیا۔ بغیر کسی وجہ کے، اور بغیر کسی سوال کے مجھے مارا گیا۔”پروفیسر علی نے مزید کہا، "اس واقعے نے مجھے ایک خوفناک حقیقت کا احساس دلایا: اگر نظام چاہے تو کسی بھی انسان کو بغیر ثبوت، بغیر ٹرائل، اور بغیر انصاف کے ‘انکاؤنٹر’ کر سکتا ہے۔ کوئی معذرت اس زخم کو نہیں بھر سکتی۔ صرف ایک سوال باقی ہے کہ کیا اب انصاف صرف یونیفارم والوں کا حق بن چکا ہے؟”

    پروفیسر علی کو میڈیکل کالج جموں میں ضروری ٹیسٹ کرانے کے بعد چھ ٹانکے لگے۔

    محبوبہ مفتی نے اس واقعہ پر فوج سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ "ایسے افراد معزز ادارے کی شہرت کو نقصان پہنچاتے ہیں اپنے ناقابل قبول اور طاقت کے بے جا استعمال سے۔”سابق جے کے بی جے پی صدر رویندر رائنا نے پروفیسر علی کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ "قانون کا احترام سب پر لازم ہے اور کسی کو بھی قانون سے بالا تر نہیں سمجھا جا سکتا۔ جو بھی اس واقعے کا ذمہ دار ہے، وہ قانون کے مطابق سزا بھگتے گا۔”

  • مقبوضہ کشمیر ،ماہ رمضان میں فیشن شو کا انعقاد

    مقبوضہ کشمیر ،ماہ رمضان میں فیشن شو کا انعقاد

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام گلمرگ میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران ایک فیشن شو کے انعقاد پر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کے بعد مختلف حلقوں میں غصہ اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    اس فیشن شو کو فحاشی اور ریاستی ثقافتی اقدار کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔ کئی عوامی شخصیات اور مذہبی رہنما اس کی مذمت کر رہے ہیں اور اس کے انعقاد کو غیر مناسب قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس معاملے کو لے کر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور لوگ اس کو رمضان جیسے مقدس مہینے میں نہ صرف ناقابلِ قبول بلکہ انتہائی بے حیائی سمجھ رہے ہیں۔فیشن شو کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں جن میں "نیم برہنہ” مرد اور خواتین برف پر چل رہے ہیں۔ ان تصاویر کو دیکھ کر عوام نے سخت تنقید کی اور کہا کہ اس شو نے ریاست کی ثقافتی اقدار کو تباہ کر دیا ہے۔

    سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللّٰہ نے اس فیشن شو پر سخت ردِعمل ظاہر کیا اور فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو تصاویر اور ویڈیوز انہوں نے دیکھی ہیں، ان میں مقامی روایات اور مذہبی اقدار کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ عمر عبداللّٰہ نے کہا کہ رمضان کے مہینے میں اس قسم کی سرگرمیاں عوام کے غصے کو بڑھا سکتی ہیں اور وہ اس معاملے میں مکمل تحقیقات کے حق میں ہیں۔ انہوں نے 24 گھنٹوں میں اس سلسلے میں مکمل رپورٹ طلب کی ہے اور اس معاملے میں سخت کارروائی کی توقع بھی ظاہر کی ہے۔

    سری نگر کی جامع مسجد کے خطیب اور حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے بھی اس فیشن شو کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس شو کو "شرم ناک” اور "ناقابلِ برداشت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں اس طرح کے پروگراموں کا انعقاد وادی کی صوفیانہ اور مذہبی اقدار کے خلاف ہے۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ اس بے حیائی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس میں ملوث افراد کو فوری طور پر جوابدہ ٹھہرا کر سخت کارروائی کی جائے۔

    یہ واقعہ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر بھی عوامی ردِعمل کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ صارفین نے اس تقریب کے منتظمین اور حکومتی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں ایسی سرگرمیاں ہرگز قابلِ قبول نہیں۔

  • نیلم ویلی میں برفانی اور مٹی کے تودوں سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی کا آپریشن مکمل

    نیلم ویلی میں برفانی اور مٹی کے تودوں سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی کا آپریشن مکمل

    پاک فوج نے نیلم ویلی میں برفانی اور مٹی کے تودوں سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی کے لیے ایک کامیاب آپریشن مکمل کیا ہے جس سے مقامی آبادی کو بڑی راحت ملی ہے۔ یہ آپریشن اس وقت شروع کیا گیا جب مختلف علاقوں میں برفانی اور مٹی کے تودوں کی وجہ سے سڑکوں کی آمدورفت معطل ہو گئی تھی۔

    نکرون سیکٹر میں مرنات اور ہلمت کے درمیان برفانی تودے گرنے سے سڑک کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ پاک فوج نے فوری طور پر برف ہٹانے کا عمل شروع کیا اور سڑک کو دوبارہ کھول دیا، جس سے مقامی عوام کو سفر کی سہولت فراہم کی گئی۔ جام گڑھ سے پھلاوائی کے راستے میں بھی برفانی تودے گرنے کے باعث سڑک بند ہو گئی تھی۔ پاک فوج کی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے برف ہٹا کر راستہ کھول دیا اور آمدورفت کو ممکن بنایا۔ کیل سیکٹر میں شیخ بیلہ سے کیل کناری کے درمیان مٹی کے تودے گرنے سے سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی تھی۔ پاک فوج نے فوری طور پر مٹی کے تودے کو ہٹایا اور سڑک کو دوبارہ قابل استعمال بنایا، تاکہ مقامی افراد کی نقل و حمل کی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔

    پاک فوج نے اپنی ضروری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے برف اور مٹی کے تودوں کو ہٹا کر مقامی آبادی کے لیے آمدورفت کے راستے کھولے۔ اس کارروائی کا مقصد عوام کی سہولت اور اشیائے ضروریہ کی بروقت ترسیل کو یقینی بنانا تھا۔مقامی لوگوں نے پاک فوج کے فوری اور موثر اقدامات پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے اور ان کی محنت کی قدر کی ہے، جس سے علاقے میں نقل و حمل کی مشکلات کا خاتمہ ہوا۔ پاک فوج کی یہ کارروائیاں عوامی خدمت اور ملکی استحکام کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو رہی ہیں۔

  • بھارتی فوج کی گاڑی کھائی میں گرنے سے دو سپاہی ہلاک، دو زخمی

    بھارتی فوج کی گاڑی کھائی میں گرنے سے دو سپاہی ہلاک، دو زخمی

    جموں و کشمیر کے ضلع باندی پورہ میں ہفتے کے روز ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جس میں دو فوجی جوان ہلاک ہوگئے جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک فوجی ٹرک سڑک سے پھسل کر گہری کھائی میں جا گرا۔ زخمی سپاہیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔گزشتہ ماہ بھی اسی طرح کا ایک حادثہ پیش آیا تھا، جس میں پانچ فوجی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے تھے۔ یہ حادثہ جموں و کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں پیش آیا تھا جب فوجی ٹرک 300 فٹ گہری کھائی میں جا گرا۔

    اس حادثے پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے حادثے پر تعزیت پیش کی۔کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے بھی حادثے میں مرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ زخمی سپاہیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ ان کے خاندانوں کے ساتھ میری گہری ہمدردی ہے۔”

    مقامی حکام نے بتایا کہ حادثے کے مقام پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے مناسب انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ فوج نے اس حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس کے اسباب کا پتہ چلایا جا سکے۔

    ڈیٹنگ ایپس پر 700 خواتین سے پیسہ بٹورنے والا 23 سالہ نوجوان گرفتار

    شرپسند عناصر کرم میں امن بحالی کے عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

  • اکھنور ،بھارتی فوج کا تربیت یافتہ کتا”فینٹم”مقابلے میں ہلاک

    اکھنور ،بھارتی فوج کا تربیت یافتہ کتا”فینٹم”مقابلے میں ہلاک

    مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کے ساتھ مقابلے میں بھارتی فوج کا کتا”فینٹم”ہلاک ہو گیا ہے

    بھارتی فوج کے تربیت یافتہ کتے فینٹم کی ہلاکت کی خبر وائٹ نائٹ کور نے دی، وائٹ نائٹ کور کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کے دستے جب عسکریت پسندوں کے خلاف مقابلہ کر رہے تھے اسی دوران ایک گولی فینٹم کو آ کر لگی، جس سے کتا زخمی ہو گیا، طبی امداد کے لیے کتے کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم کتا ہلاک ہو گیا، بھارتی فوج کے تربیت یافتہ فینٹم کی ہمت، وفاداری اور لگن کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ہم اپنے حقیقی ہیرو کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں یہ بیلجیئم کا میلینوئی کتا تھا، جو 25 مئی 2020 کو پیدا ہوا تھا۔بھارتی فوج کے مطابق اس آپریشن کے دوران ایک عسکریت پسند کی بھی موت ہوئی ہے جبکہ اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے

    بھارتی میڈیا کے مطابق پیر کی صبح عسکریت پسندوں نے جموں کے اکھنور سیکٹر میں بھارتی فوج کے ایک قافلے پر فائرنگ کی تھی جس کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا تھا، جموں کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بٹل کے علاقے آسن مندر کے قریب تین عسکریت پسندوں کو دیکھا ہے جن میں سے ایک مارا گیا ہے جبکہ دو کی تلاش جاری ہے.

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی فوج کا تربیت یافتہ کتا فینٹم انتہائی وفادار،بہادر اور ذہین تھا، فینٹم کو عسکریت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن میں لے جایا جاتا تھا، وہ اپنی فوجی ٹیم کے ساتھ مل کر کئی اہم مشن میں حصہ لے چکا تھا اور اس کی وفاداری اور ہمت نے اسے سب کا پسندیدہ بنا دیا تھا۔تازہ ترین کاروائی میں بھی بھارتی فوج فینٹم کو ساتھ لائی تھی تا کہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کاپتہ لگایا جا سکے، تاہم مقابلے کے دوران ایک گولی لگنے سے فینٹم کی موت ہو گئی ہے،بھارتی فوج کے تربیت یافتہ کتے فینٹم کی ہلاکت سے بھارتی فوج کے پورے کیمپ میں افسردگی پھیل گئی ہے

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی "نازیبا ویڈیو”کی ہلچل تیسرے روز بھی جاری

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک کی عمران خان سے ملاقات کی تصویر وائرل

    مناہل ملک سے قبل کس کس پاکستانی کی ہوئی "نازیبا ویڈیو”لیک

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل