Baaghi TV

Category: کشمیر

  • بھارتی گولہ باری سے شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ کیلئے تاحیات وظیفہ

    بھارتی گولہ باری سے شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ کیلئے تاحیات وظیفہ

    وادی نیلم پہنچنے پر عوام کا وزیر اعظم آزاد کشمیر کا بھرپور استقبال۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے وادی نیلم کنٹرول لائن پر عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کنٹرول لائن پر بھارتی گولہ باری سے شہید ہونے والے اہل خانہ کیلئے تاحیات وظیفہ کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی گولہ باری سے شہیدوں کے بیواؤں کیلئے تین ہزار فی کس کے حساب ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا. وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اڑھائی ارب روپے کی لاگت سے مختلف منصوبہ جات کا سنگ بنیاد رکھا.انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن پر بسنے والے بہادر عوام کو سلام پیش کرتے ہیں. وادی نیلم کے عوام بھارتی جارحیت تین دھائیوں سے مقابلہ کررہے ہیں۔ راجہ فاروق حیدر نے مزید کہا کہ بزدل ہندوستانی فوج معصوموں کو اس لیے نشانہ بناتی ہے کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں لیکن پاک فوج ہماری آزادی کی محافظ فوج ہے۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول اور آزادکشمیر کے عوام دفاع وطن کے لیے آخری دم تک پال فوج کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

  • کشمیر کے حوالے سے ترک صدر کا بیان، بھارت غصہ سے لال پیلا ہو گیا

    کشمیر کے حوالے سے ترک صدر کا بیان، بھارت غصہ سے لال پیلا ہو گیا

    جموں و کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے بیان پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ ٹی ایس ترومورتی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کااحترام کرنا سیکھنا چاہئے۔
    ترومورتی نے ٹوئٹ کیا’’ہم نے مرکز کے زیر کنٹرول ریاست جموں اور کشمیر کے حوالہ سے ترکی کے صدر کے بیان کو پڑھا ہے اوران کا ہندوستان کے اندرونی معاملات میں ان کی مداخلت قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے، اور اپنی پالیسیوں پر غور کرنا چاہئے‘‘۔
    خیال رہے ترک صدر رجب طیب اردگان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کشمیر پر ایک بار پھر کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے اور جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مسئلہ اور بھی سنگین ہوگیا ہے۔

  • مسئلہ کشمیرو فلسطین حل نہ ہونے سے عالمی اداروں کی ساکھ کو نقصان ہوا: ترک صدرکی جنرل اسمبلی میں‌ دھواں‌ دارتقریر

    مسئلہ کشمیرو فلسطین حل نہ ہونے سے عالمی اداروں کی ساکھ کو نقصان ہوا: ترک صدرکی جنرل اسمبلی میں‌ دھواں‌ دارتقریر

    نیویارک : مسئلہ کشمیرو فلسطین حل نہ ہونے سے عالمی اداروں کی ساکھ کو نقصان ہوا: ترک صدرکی جنرل اسمبلی میں‌ دھواں‌ دارتقریر ،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر و فلسطین حل نہ ہونے سے عالمی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں سالانہ اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث مختلف ممالک کے سربراہان مملکت بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کررہے ہیں۔ ویڈیو لنک پر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسئلہ کشمیر پر دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔

    ذرائع کے مطابق طیب اردوان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے امن و استحکام میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہ مسئلہ آج تک حل نہیں ہوسکا۔طیب اردوان نے کہا کہ اگرمسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا توپھران اداروں کے وجود کی کوئی حیثیت نہیں ہے

    ترک صدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات نے مسئلہ کو پیچیدہ کردیا ہے، ہم اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حامی ہیں۔

    طیب اردوان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بالخصوص کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔

    مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بھی ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین بھی پیچیدہ ہوگیا ہے لیکن آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بیت المقدس کے ساتھ قیام ہی مسئلہ فلسطین کا واحد حل ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کو بااختیار بنانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے جب کہ ایران جوہری پروگرام تنازع عالمی قوانین کےمطابق سفارتکاری اوربات چیت سے حل ہونا چاہیے۔

    ذرائع کے مطابق ترک صدرطیب اردوان نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ نیوزی لینڈ حملے کی تاریخ 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی یکجہتی کا دن قرار دے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ سال بھی ترک صدر طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا تھا۔

  • ہیڈ مرالہ میں نہر مرالہ راوی لنک کینال سے بھارتی مسلم نوجوان کی لاش برآمد

    ہیڈ مرالہ میں نہر مرالہ راوی لنک کینال سے بھارتی مسلم نوجوان کی لاش برآمد

    سیالکوٹ کے قریب ہیڈ مرالہ میں نہر مرالہ راوی لنک کینال میں موترہ کے قریب تشدد سے ہلاک ہونے والے ایک بھارتی شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ لاش کے کپڑوں کی جیب سے ایک رقعہ اور سات سو بھارتی روپے کے کرنسی نوٹ بھی برآمد ہوئے ہیں۔ لاش سے ملنے والے رقعہ میں لکھاہے کہ میں ایک مسلمان ہوں۔ میرا تعلق مقبوضہ
    کشمیر کے علاقہ بھرداں کلاں سے ہے اور تشدد سے تنگ آ کردریا میں چھلانگ لگا کر خود کشی کر رہا ہوں۔ مرنے والے شخص نے خودکشی کرنے پر خدا سے معافی بھی مانگی ہے۔ دریں اثنا بھارتی مقبوضہ کشمیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی سیکیورٹی فورسز نے ایک مسلم نوجوان کو ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش دریا میں بہا دی جو پاکستان پہنچ گئی۔ ذرائع کے مطابق جموں کے علاقہ بھرداں کلاں کا رہائشی مسلم نوجوان گزشتہ چار روز سے لاپتہ تھا جس کی رپورٹ مقامی تھانے میں بھی کرائی گئی سیکیورٹی فورسز نے نوجوان کو شہید کرنے کے بعد اسے خودکشی کا رنگ دیتے ہوئے اس کی جیب میں ایک رقعہ ڈال کر اس کی لاش کودریا میں بہا دیا جو پاکستان پہنچ گئی۔ لاش کو موترہ پولیس کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ 

  • اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔ شاہ محمود قریشی

    اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔ شاہ محمود قریشی

    اقوام متحدہ کی پچھترویں سالگرہ کے موقع پر، اپنے خطاب کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اہم بیان۔
    میرا نقطہ نظر یہ تھاکہ آج اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔ ہمیں ان اصولوں اور مقاصد کو دیکھنا ہو گا جن کے باعث، اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعدامن و استحکام اور تنازعات کا حل کیلئے ایک عالمی پلیٹ فارم کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی جو اس ادارے کی بنیاد بنی۔ آج اگر ہم نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سے ایسے تنازعات نظر آئیں گے جو حل طلب ہیں۔ دو تنازعات ان میں نمایاں طور پر دکھائی دیں گے جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہیں ایک مسئلہ کشمیر اور دوسرا مسئلہ فلسطین۔ میں نے اپنے خطاب میں جہاں اقوام متحدہ کی کامیابیوں کا ذکر کیا وہاں ان کی تنازعات کی طرف توجہ دلائی۔ اقوام متحدہ ہو، سلامتی کونسل ہو انہیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اگر ان تنازعات کے حل کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تو کیوں نہیں ہوئی؟ اور ہمیں کیا کرنا چاہیے

  • وزیر اعظم جنرل اسمبلی کے پچھترنویں اجلاس میں کشمیر کی صورتحال دنیا بھر کے سامنے رکھیں گے۔ وزیرخارجہ

    وزیر اعظم جنرل اسمبلی کے پچھترنویں اجلاس میں کشمیر کی صورتحال دنیا بھر کے سامنے رکھیں گے۔ وزیرخارجہ

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیرِ صدارت خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کا چھٹا اجلاس وزارتِ خارجہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی اشتعال انگیزی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف، پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون بیرسٹر ملیکہ بخاری ، سیکرٹری قانون راجہ نعیم اکبر ، سمیت سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ اس موقعہ پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کو پس پشت ڈالتے ہوئے بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل پایمالیوں اور لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ انتہائی تشویشناک ہے۔ ہم، بی جے پی حکومت کی ہندوتوا پالیسیوں اور بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے پوری دنیا کو باخبر رکھے ہوئے ہیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت اپنے جارحانہ عزائم کے سبب پورے خطے کے امن و امان کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ بھارت کے انسانی حقوق کی پایمالیوں سے متعلقہ جرائم کی فہرست بہت طویل ہوتی جارہی ہے۔ نہتے کشمیریوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے کیلئے عالمی برادری کو آگے آنا ہوگا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے پچھترنویں(75th) اجلاس کے موقع پر اپنے خطاب میں کشمیر کی صورتحال دنیا بھر کے سامنے رکھیں گے اور عالمی برادری کی توجہ بھارتی مظالم کی طرف مبذول کروائیں گے۔ پاکستان، مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اٹھاتا رہے گا جب تک کشمیریوں کو اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں ان کا جائز حق، حق خود ارادیت انہیں مل نہیں جاتا۔

  • بھارت نےطاقت کے ناجائز استعمال کر کے آسام، جوناگڑھ، حیدرآبادکی ریاستوں پر قبضہ کیا۔ آفریدی

    بھارت نےطاقت کے ناجائز استعمال کر کے آسام، جوناگڑھ، حیدرآبادکی ریاستوں پر قبضہ کیا۔ آفریدی

    بھارت نے طاقت کے ناجائز استعمال کر کے آسام، جوناگڑھ، حیدرآباد کی ریاستوں پر قبضہ کیا۔ شہر یار آفریدی کا عالمی یوم امن پر ٹویٹ۔ انہوں نے کہا کہ اب بھارت کشمیر پر قبضہ مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان اس کی اجازت نہیں دے گا۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ اقوام متحدہ کو کشمیریوں کی رائے شماری کو یقینی بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لئے کوشاں ہے۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف زمین پر سب سے بڑی جنگ لڑی۔ آفریدی نے کہا کہ پاکستان نے افغان امن عمل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ہم نےہندوستان کے ساتھ امن برقرار رکھنے کیلئے مثالی اقدامات اٹھائے لیکن بالادست ہندوستانی ڈیزائن بڑی رکاوٹ ہے

  • شوپیاں انکاؤنٹر،شہید نوجوانوں کے والدین کا بھارتی فوجی اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    شوپیاں انکاؤنٹر،شہید نوجوانوں کے والدین کا بھارتی فوجی اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    شوپیاں انکاؤنٹر،کشمیری نوجوانوں کے والدین کا بھارتی فوجی اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیاں میں فیک انکاؤنٹر میں شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کے والدین نے بھارتی فوج کے اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے

    بھارتی فوج نے 18 جولائی کو شوپیان کے علاقے ایمشی پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران تین نوجوانوں کوشہید کرنے کے بعد انہیں عسکریت پسند قرار دیا تھا ۔ تاہم بعد میں شہید ہونے والے نوجوانوں کے اہلخانہ نے ان کی شناخت امتیاز احمد ، ابرار احمد اور محمد ابرار کے نام سے کی تھی جو جموں خطے کے ضلع راجوری سے مزدوری کی غرض سے وادی کشمیر آئے تھے۔

    اہلخانہ نے بھارتی فوج کی طر ف سے جاری کردہ تصویروں کے ذریعے اپنے پیاروں کی شناخت کی تھی۔ قابض بھارتی فوج نے گذشتہ روز اعتراف کیا کہ یہ نوجوان راجوری کے رہائشی تھے۔

    مقتول نوجوانوں کے ایک رشتہ دار محمد سلیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ تینوں مزدوری کی تلاش میں شوپیان گئے تھے جہاں بھارتی فوج نے انہیں جعلی مقابلے میں مار دیا۔ ڈی این اے نمونوں کی جلد از جلد تصدیق ہونی چاہئے تاکہ ہمیں اپنے بھائیوں کی لاشیں مل سکیں ۔

    شہید نوجوان امتیاز احمد کے والد صابر حسین نے کہا کہ بھارتی فوج کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے قتل کے اس گھناؤنے جرم میں ملوث اپنے اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا اعلان کرے۔ میں اپنے بیٹے اور دو بھتیجوں کے لئے انصاف چاہتا ہوں ۔

    مقتول نوجوانوں کے چچا لال حسین نے کہا کہ ان کے تین مطالبات ہیں، ہمیں اپنے پیاروں کی میتیں لوٹائی جائیں تاکہ ہم آبائی قبرستان میں انکی تدفین کرسکیں ، جعلی مقابلے میں ملوث اہلکاروں کو پھانسی کی سزا دی جائے اور یہ بیان واپس لیا جائے کی ہمارے لڑکے عسکریت پسند تھے۔

    شوپیاں انکاؤنٹر، اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کارروائی کی، بھارتی فوج مان گئی

  • شوپیاں انکاؤنٹر،  اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کارروائی کی، بھارتی فوج مان گئی

    شوپیاں انکاؤنٹر، اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کارروائی کی، بھارتی فوج مان گئی

    شوپیاں انکاؤنٹر، اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کارروائی کی، بھارتی فوج مان گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں ہونے والے تصادم کے معاملے میں بھارتی فوج نے اعتراف کر لیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کارروائی کی تھی۔

    بھارتی فوج نے اس معاملے کی تحقیقات کی ہے اور اس میں پتا چلا ہے کہ موجود شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اس معاملے میں آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) کی حد پار کی ہے۔ انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق جمعے کو فوج کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس معاملے میں آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    سکیورٹی فورسز نے 18 جولائی کو دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے امشی پورہ گاؤں میں ہوئے ایک انکاؤنٹر میں تین جنگجو شہید ہوگئے تھے۔ اس انکاؤنٹر کے بعد سوشل میڈیا میں ایسی رپورٹس آنے لگيں کہ انکاؤنٹر میں مارے جانے والے افراد کا تعلق در اصل جموں کے ضلع راجوری سے ہے، جو امشی پورہ گاؤں میں لاپتہ ہوگئے تھے۔

    سری نگر میں دفاعی ترجمان راجیش کالیا کے مطابق فوج نے سوشل میڈیا رپورٹس کے بعد تفتیش شروع کردی تھی۔ انھوں نے کہا کہ انڈین فوج انتہا پسندی کے خلاف کارروائیوں کے دوران اخلاقی اقدار پر عمل پیرا ہونے کے لیے پُرعزم ہے۔یہ تفتیش ریکارڈ چار ہفتوں میں مکمل کر لی گئی۔

    سری نگر میں فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران ملنے والے ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران ضابطوں کو توڑا ہے۔ فوج کی تفتیش میں پتا چلا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ 1990 میں دیے جانے والے اختیارات کی حد سے تجاوز کرتے ہوئے کارروائی کی اور انھوں نے سپریم کورٹ سے منظور شدہ چیف آف آرمی سٹاف کے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کی ہے۔

    تحقیقات کے دوران ملنے والے ابتدائی شواہد کے مطابق، امشی پورہ کے انکاؤنٹر کے دوران شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کے نام امتیاز احمد ، ابرار احمد اور محمد ابرار ہیں۔ یہ تینوں جموں کے راجوری کے رہائشی تھے۔ پولیس کو ان تینوں کی ڈی این اے رپورٹ کا انتظار ہے۔ اب یہ تفتیش بھی کی جارہی ہے کہ آیا ان تینوں نوجوانوں کے کسی بھی شدت پسندی کی سرگرمی میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں یا نہیں۔

    پاکستان نے شوپیاں میں جعلی مقابلے میں مزید چار کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل اور محرم الحرام کے دوران مذہبی جلوسوں اور مجالس پر پابندیوں کی شدید مذمت کی تھی، دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران قابض بھارتی فوج نے جعلی مقابلوں اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت تقریباً تین سو بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو قتل تشدد جبری گمشدگیوں اور نظر بندیوں کے ذریعے محکوم رکھنے کے بھارت کے غیر انسانی ہتھکنڈے ماضی میں بھی ناکام رہے ہیں اور مستقبل میں بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا تسلسل کشمیریوں کے عزم کو توڑ نہیں سکتا اور نہ ہی انہیں اپنے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کے حصول کی ان کی جدوجہد کو دبا سکتا ہے جس کا وعدہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں میں بھی کیا گیا ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں کے خلاف سنگین جرائم پر بھارت کا محاسبہ کرے ۔

  • مقبوضہ کشمیر میں پولیس نے تین بے گناہ افراد کو گرفتار کر لیا

    مقبوضہ کشمیر میں پولیس نے تین بے گناہ افراد کو گرفتار کر لیا

    بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس نے ضلع راجوری میں جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین بے گناہ مجاہدین کو گرفتار کر کے ان کی تحویل سے اسلحہ و گولہ باردو برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
    جموں پولیس زون کے انسپکٹر جنرل مکیش سنگھ نے یو این آئی کو بتایا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے ضلع راجوری میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ یہ تینوں افراد لشکر طیبہ نامی تنظیم سے وابستہ ہیں اور کشمیر سے راجوری آئے ہوئے تھے۔
    دریں اثنا پولیس ذرائع نے بتایا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے راجوری کے گورین بالا علاقے میں 18 اور 19 ستمبر کی شب ایک آپریشن کے دوران تین افراد کو گرفتار کیا اور ان کی تحویل سے اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کرنے کا دعوی کیا۔
    انہوں نے گرفتار شدگان کی شناخت راہل بشیر عرف ایان بھائی ساکن پلوامہ، عامر جان عرف حمزہ ساکن کاکہ پورہ پلوامہ اور حافظ یونس وانی عرف زبیر ساکن شوپیاں کے بطور کی ہے۔
    گرفتار شدگان کی تحویل سے برآمد شدہ اسلحے میں 2 اے کے 56 رائفلز، 6 اے کے میگزین، 2 چینی پستول، 3 پستول میگزین، 4 گرینیڈ اور ایک لاکھ روپے نقدی شامل ہیں۔