Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر : بھارتی فوجی اپنی یونٹ سے لاپتہ ہوگیا

    مقبوضہ کشمیر : بھارتی فوجی اپنی یونٹ سے لاپتہ ہوگیا

    مقبوضہ کشمیر : بھارتی فوجی اپنی یونٹ سے لاپتہ ہوگیا

    باغی ٹی وی :وسطی کشمیر ضلع بڈگام کے علاقے چاڈورہ میں تعینات ایک ایس ایس بی اہلکار کسی کو بتائے بغیر اپنے یونٹ سے نکل کر لاپتہ ہوا ہے جس کے بعد پولیس کے پاس رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ایس ایس بی 14ویں بٹالین سے وابستہ عالم دین ساکن کوترانکا راجوری نامی اہلکار چاڈورہ میں ناگام کیمپ میں تعینات تھا جہاں سے وہ گذشتہ روز لاپتہ ہوا۔

    یونٹ کے کمانڈر نے اس سلسلے میں کیس درج کرایا ہے۔بھارتی فوج نے اس سارے واقعہ کی تصدیق کرنے کے بعد تحقیقات شروع کر دی ہے۔
    دوسری جانب مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایس ایس بی سکیورٹی اہلکار نے خود کو گولی مار کر ہلاک کرلیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق شاستر سیما کے امت کمار نام کے ایک سکیورٹی اہلکار نے خود کو گولی مار کر ہلاک کرلیا ۔

    اس واقعے کے جنوری 2007 کے بعد سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں میں اس طرح کی ہلاکتوں کی تعداد 477 ہوگئی ہے۔

  • پاکستان کسی بھی حال میں کشمیر حاصل کرکے رہے گا۔ صدر آزاد کشمیر

    پاکستان کسی بھی حال میں کشمیر حاصل کرکے رہے گا۔ صدر آزاد کشمیر

    آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی مذموم مقاصد میں ناکام ہوگا اور پاکستان کسی بھی حال میں کشمیر حاصل کرکے رہے گا۔ لاہور سینٹر فار پیس اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام ویبینار سے خطاب میں سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ اگر دنیا میں کہیں بھی ایٹمی جنگ ہونی ہے تو وہ جنوبی ایشیا کے خطے میں ہوگی کیونکہ کشمیر نیوکلئیر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت جنگ کے امکانات اب بہت زیادہ ہیں اور ہندو توا کے خلاف بھرپور طریقے سے مخالفت کرنی ہوگی۔ بھارتی قبضے میں کشمیریوں پر جبر کے موضوع پر ہونے والے ویبینار سے خطاب میں سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کے پامالی خصوصی طور پر عورتوں پر مظالم کے خلاف دنیا بھر کے طرح اب بھارت میں بھی آوازیں اٹھنے میں اضافہ ہوا ہے۔ شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں ان مظالم کے خلاف آواز اٹھنے کی ایک بنیادی وجہ مودودی حکومت کی ہندوتوا پالیسی ہے۔ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بھارت میں بھی لوگوں نے اب ہندوتوا پالیسی کو ماننے سے انکار کردیا ہے اور روشن خیال ہندو بھی اب ہندوتوا سوچ کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ہندوتوا سوچ کے باعث بھارتی آئین کی سیکیولر پہچان کی بھی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ بین الاقوامی طاقتیں بھی کشمیر کے معاملے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں جو ایک بڑی ناکامی ہے۔ سیمینار کے ماڈریٹر اور لاہور سینٹر فار پیس اینڈ ریسرچ کے چئیرمین سابق ایمبیسیڈر شمشاد احمد نے ویبینار کا آغاز اس جملے سے کیا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ہندوتوا سوچ کی عکاس ہے۔ سیمینار سے جموں کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس کے صدر ڈاکٹر نذیر حسین کا کہنا تھا کہ جنگ لازمی ہے۔ اگر جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان نہ ہوئی تو یہ کشمیر کی عوام اور بھارت کے درمیان ہوگی
    مقبوضہ کشمیری میں جاری آزادی کی جنگ لڑنے والے اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ چئیرمین یسین ملک کی اہلیہ مشال حسین ملک کا کہنا تھا کہ کشمیر کا حالیہ اسٹیٹس مودی کی انتخابی کیمپئن کا حصہ تھی اور یہ واضح تھا کہ بھارت اب ہندوتوا کے عمل پر چلے گا۔
    پیس اینڈ کلچر آرگنایزیشن کی چئیرمین مشال مالک کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال اگست میں کئے جانے والا بھارتی قدم کشمیر میں جاری آزادی جنگ لڑنے والوں کے خلاف ایک بھرپور محاز ہے اور اس کے نتائج مستقبل میں بھی اچھے نہیں ہونگے۔
    مشال ملک نے کشمیر میں جاری مظالم کے بارے میں بتایا کہ مسلمانوں کی جائیداد کے کاغذات تبدیل کئے جارہے ہیں۔ مسلمان آبادی کو اقلیتی آبادی میں تبدیل کرنے کی سازش کی جارہی ہے اور وہاں موجود بیوروکریسی کو دہلی کی جانب سے تبدیل کیا جارہا ہے۔ دہلی حکومت مقامی افراد سے تمام اختیارات لیکر دیگر علاقے کےلوگوں میں منتقل کررہی ہے۔ مشعال کا کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات ہندوتوا سوچ کے باعث ہیں۔ مشعال ملک کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر پابندی لگوانے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اقوام متحدہ بھارت کی جانب سے حراست میں لئے گئے افراد کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کے لئے ایک وفد بھیج کر اس کی غیرجانبدار تحقیقات کرے۔

  • سرینگر میں بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا

    سرینگر میں بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا

    سرینگر میں بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قبوضہ جموں و کشمیر میں ، بھارتی فوجیوں نے سری نگر میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق رام باغ علاقے میں سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کا مشترکہ آپریشن جاری ہے۔

    دوسری جانب مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایس ایس بی سکیورٹی اہلکار نے خود کو گولی مار کر ہلاک کرلیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق شاستر سیما کے امت کمار نام کے ایک سکیورٹی اہلکار نے خود کو گولی مار کر ہلاک کرلیا ۔

    اس واقعے کے جنوری 2007 کے بعد سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں میں اس طرح کی ہلاکتوں کی تعداد 477 ہوگئی ہے۔

  • میں پھرکہہ رہا ہوں کہ چین کے تعاون سے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 بحال ہوگا، فاروق عبداللہ

    میں پھرکہہ رہا ہوں کہ چین کے تعاون سے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 بحال ہوگا، فاروق عبداللہ

    سری نگر: میں پھرکہہ رہا ہوں کہ چین کے تعاون سے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 بحال ہوگا،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے 5 اگست 2019 کے اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ چین آرٹیکل 370 کو بحال کرکے کمشیریوں کو خصوصی حیثیت دلائے گا۔

    ذرائع کے مطابق فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ چین نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کی منسوخی کو تسلیم نہیں کیا اور امید ہے کہ چین کی مدد سے اس کو بحال کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جو کچھ وہ لائن آف ایکچوئیل کنٹرول (ایل اے سی) میں کررہے ہیں وہ سب آرٹیکل 370 کی وجہ سے ہے کیونکہ انہوں نے اس کو تسلیم نہیں کیا’۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ’‘مجھے امید ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ان کی مدد سے آرٹیکل 370 بحال ہوگا’۔

    بھارتی وزیر اعظم اور چینی صدر کی گزشتہ برس کی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘میں نے چینی وزیراعظم کو کبھی دعوت نہیں دی، یہ مودی ہی تھے جنہوں نے انہیں دعوت دی اور ان کے ساتھ جھولا جھولے اور چنائی میں ان کے ساتھ کھانا بھی کھایا’۔انہوں نے کہا کہ ‘حکومت نے 5 اگست 2019 کو جو کچھ کیا ہے وہ ناقابل قبول ہے اور مجھے جموں و کمشیر کے مسائل پر پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہیں ہے’۔

    فاروق عبداللہ نے گزشتہ ماہ بھی نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا تھا کہ آج کشمیری خود کو بھارتی شہری نہیں سمجھتے اور نہ ہی وہ بھارتی شہری بننا چاہتے ہیں، وہ غلام ہیں اور چاہیں گے کہ چین حکمرانی کرے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ وہ تمام کشمیری جو پاکستان میں شمولیت کے خلاف تھے اب بھارتی اور چینی بارڈر پر کھڑے ہیں جبکہ جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق اور لداخ میں کی گئیں تبدیلیوں کی وجہ سے چین پہلے ہی غصے میں ہے۔

    فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ ہر کشمیری یہ یقین رکھتا ہے کہ نئے ڈومیسائل قوانین ہندو اکثریت کو خطے میں بڑھانے کے لیے ہیں، کشمیریوں اور باقی بھارت کے درمیان جو خلا پہلے سے تھا اب مزید بڑھتا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کا یہ دعوی کرنا کہ کشمیری عوام نے اگست 2019 میں کی جانے والی اس ترمیم کو مان لیا ہے اور کوئی احتجاج نہیں ہوا یہ مکمل بکواس ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس 5 اگست کو مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو نہ صرف ریاست کے بجائے 2 وفاقی اکائیوں میں تقسیم کیا تھا بلکہ وادی کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے وہاں غیر کشمیریوں کو زمین خریدنے کی اجازت بھی دی تھی

  • افسران کے رویے سے تنگ ایک اور بھارتی فوجی نے خودکشی کرلی

    افسران کے رویے سے تنگ ایک اور بھارتی فوجی نے خودکشی کرلی

    سری نگر: افسران کے رویے سے تنگ ایک اور بھارتی فوجی نے خودکشی کرلی،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں تعینات ایک اور بھارتی فوجی نے خودکشی کرلی۔

    کشمیر میڈیا سروسز کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے علاقے نوگام سیکٹر میں تعینات بھارتی فوجی نے سرکاری رائفل سے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کیا۔رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجی نے اتوار کی صبح خودکشی کی، جس کی اعلیٰ کمانڈ نے بھی تصدیق کردی ہے۔

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوجیوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، فوجی اہلکار ذہنی دباؤ ، سختیوں یا دیگر وجوہات کی بنا کر اپنی جان کا خاتمہ کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق2007 سے اب تک خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد 477 تک پہنچ گئی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج نے مزید 2 کشمیریوں کو کیا شہید

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج نے مزید 2 کشمیریوں کو کیا شہید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 2 نوجوان کشمیری حریت پسند شہید کر دیئے

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کولگام کے یاری پورہ علاقے کے گاوں چینگام کھار ٹینگ میں حریت پسندوں اور بھارتی فورسز کے درمیان تصادم میں 2کشمیری حریت پسند شہید ہو گئے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ہفتہ کی رات جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے یاری پورہ کے گاں چینگام کھار ٹینگ میں عسکریت پسندوں اور بھارتی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔رات بھر جاری یہ تصادم علی الصبح ختم ہوا۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں ستمبر 2020میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں20 کشمیریوں کو شہید کردیا گیا۔ 2020میں سرینگر، شوپیاں، اننت ناگ اور پلوامہ میں مختلف110آپریشنز میں185نوجوان عسکریت پسندوں کو شہید کیا گیا۔ جبکہ مختلف واقعات میں26شہری بھی شہید ہوئے۔مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کشمیر میں سال 1988سے اب تک مجموعی طور پر 40750 شہریوں کو شہید کیا گیا ۔ساوتھ ایشین وائر کی طرف سے مرتب کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2020 کے دوران بھارتی فورسز نے مبینہ طور پر مختلف28واقعات میں کم از کم55افراد کو گرفتارکیا جن میں زیادہ ترنوجوان شامل ہیں۔ یہ گرفتاریاں مختلف علاقوں میں جاری کم و بیش290سرچ آپریشنز کے دوران کی گئیں۔ان آپریشنزمیں10سے زائد رہائشی مکانوں کو بھی تباہ کردیا گیا۔

    شوپیاں انکاؤنٹر، اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کارروائی کی، بھارتی فوج مان گئی

    شوپیاں انکاؤنٹر،شہید نوجوانوں کے والدین کا بھارتی فوجی اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    گذشتہ سال اگست میں نئی دہلی نے آرٹیکل 370کو منسوخ کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند گروپوں کو عملی طور پر کچلنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں کے لئے بھی اپنی سرگرمیاں کرنے کے لئے بہت کم جگہ ہے اور ان میں سے کسی نے بھی ابھی تک نئی دہلی کے جموں و کشمیر کی خودمختاری کو واپس لینے کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف کھلے عام آواز نہیں اٹھائی ہے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں110واقعات میں211کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22 ،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ،مئی میں 16،جون میں 51، جولائی میں 24، اگست میں 20کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 45سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے139واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے 31واقعات میں30شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ22سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں119مختلف واقعات میں 248افراد کو گرفتار کیا گیا۔سرکاری اعداد وشمارکے مطابق2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں 160 حریت پسند وں کوشہید اور 102 کو گرفتار کیا گیا ۔2019 میں مجموعی طور پر 158 حریت پسند شہید کیے گئے جبکہ 2018 میں 254 اور 2017 میں 213 حریت پسند شہید ہوئے تھے۔

  • مقبوضہ کشمیر:شوپیاں  میں 2 کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا

    مقبوضہ کشمیر:شوپیاں میں 2 کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا

    مقبوضہ کشمیر:شوپیاں میں 2 کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیان کے علاقے سوگن میں رات بھر جاری آپریشن میں 2کشمیری حریت پسندوں کو شہید کر دیا گیا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق فورسز اہلکار جن میں فوج کی 44 آر آر سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس شامل ہے، نے منگل کو سوگن علاقے میں حریت پسندوں کے چھپے ہونے کی اطلاع ملنے پر محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائیاں شروع کی۔جس کے دوران تصادم کا آغاز ہو گیا۔جس کے بعد رات بھر جاری تصادم میں دو کشمیری شہید ہو گئے

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں ستمبر 2020میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں20 کشمیریوں کو شہید کردیا گیا۔ 2020میں سرینگر، شوپیاں، اننت ناگ اور پلوامہ میں مختلف110آپریشنز میں185نوجوان عسکریت پسندوں کو شہید کیا گیا۔ جبکہ مختلف واقعات میں26شہری بھی شہید ہوئے۔مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کشمیر میں سال 1988سے اب تک مجموعی طور پر40750 شہریوں کو شہید کیا گیا ۔ساوتھ ایشین وائر کی طرف سے مرتب کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2020 کے دوران بھارتی فورسز نے مبینہ طور پر مختلف28واقعات میں کم از کم55افراد کو گرفتارکیا جن میں زیادہ ترنوجوان شامل ہیں۔ یہ گرفتاریاں مختلف علاقوں میں جاری کم و بیش290سرچ آپریشنز کے دوران کی گئیں۔ان آپریشنزمیں10سے زائد رہائشی مکانوں کو بھی تباہ کردیا گیا۔

    شوپیاں انکاؤنٹر، اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کارروائی کی، بھارتی فوج مان گئی

    گذشتہ سال اگست میں نئی دہلی نے آرٹیکل 370کو منسوخ کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند گروپوں کو عملی طور پر کچلنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں کے لئے بھی اپنی سرگرمیاں کرنے کے لئے بہت کم جگہ ہے اور ان میں سے کسی نے بھی ابھی تک نئی دہلی کے جموں و کشمیر کی خودمختاری کو واپس لینے کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف کھلے عام آواز نہیں اٹھائی ہے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں110واقعات میں211کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ،مئی میں 16،جون میں 51، جولائی میں 24، اگست میں 20کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 45سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے139واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے 31واقعات میں30شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ22سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں119مختلف واقعات میں 248افراد کو گرفتار کیا گیا۔سرکاری اعداد وشمارکے مطابق2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں 160 حریت پسند وں کوشہید اور 102 کو گرفتار کیا گیا ۔2019 میں مجموعی طور پر 158 حریت پسند شہید کیے گئے جبکہ 2018 میں 254 اور 2017 میں 213 حریت پسند شہید ہوئے تھے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کشمیر میں سال 1988سے اب تک مجموعی طور پر40750 شہریوں کو شہید کیا گیا جن میں 25185حریت پسند اور 15565عام شہری شامل ہیں۔ان اعداد و شمار میں 1988سے 2000تک 12396حریت پسنداور 10310عام شہریوں کی شہادت کی تعداد غیر مصدقہ ہے۔1988سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں6990سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

    شوپیاں انکاؤنٹر،شہید نوجوانوں کے والدین کا بھارتی فوجی اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

  • بھارت کاجارحانہ رویہ خطے کے امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ شاہ محمود قریشی

    بھارت کاجارحانہ رویہ خطے کے امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ شاہ محمود قریشی

    وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ بھارت کاجارحانہ رویہ خطے کے امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔پاکستان کے ہم خیال دوست ملکوں کے آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہاکہ انہوں نے بھارتی رویے پراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدر کو متعدد خطوط لکھے ہیں۔ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیرمیں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاحوالہ دیتے ہوئے شاہ محمودقریشی نے کہاکہ پچھلے سال پانچ اگست کو بھارت نے غیرقانونی اوریکطرفہ طورپرعلاقے کی متنازعہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کرکے عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے علاقے میں اضافی فوجی تعینات کئے جوپہلے ہی دنیامیں سب سے بڑا فوجی علاقہ ہے۔کشمیری رہنماوں کوجیلوں میں ڈال کراوربے گناہ نوجوان کشمیریوں کاماورائے عدالت قتل، حق خودارادیت کیلئے جدوجہدکرنے والوں کےعزم کے خاتمے کےلئے ہتھکنڈے ہیں۔یہ حقائق انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں میں عیاں ہیں۔ وزیرخارجہ نے کہاکہ افغانوں کے درمیان مذاکرات کاآغازاہم اورعلاقائی امن کے لئے مثبت پیشرفت ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اس سال کے آغاز میں دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کےلئے سہولت فراہم کی۔ ملکی صورتحال کے بارے میں شاہ محمودقریشی نے کہاکہ کوروناوائرس  کی وبا سے درپیش چیلنج سے قطع نظر موجودہ حکومت کی طرف سے شروع کی گئی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں بہتری آناشروع ہوگئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری ٹیکس وصولی میں تیس فیصداضافہ ہوا جبکہ پہلی دفعہ ترسیلات زر بیس ارب ڈالرسے تجاوزکرگئی ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اعتمادمیں اضافہ ہواہے۔ برطانیہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے وزیرخارجہ نے کہاکہ دونوں ملکوں میں شاندارتعلقات ہیں اوراسے مزید مستحکم کریں گے۔

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کی سینیٹر رحمان ملک کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کی سینیٹر رحمان ملک کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

    سینیٹر رحمان ملک کی سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کے اجلاس میں بھارتی مظالم کیخلاف قرارد متفقہ طور پر منظورکر لی گئی۔ قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم و مسلسل کرفیو کی شدید مذمت کی گئی۔ سینیٹر رحمان ملک نے قرارداد میں اقوام متحدہ کا بھارتی مظالم پر خاموشی پر مایوسی کا اظہار کیا۔سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اقوام متحدہ سے خطاب کی شدید مذمت کی گئی۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ مودی نے گذشتہ 465 دنوں سے کشمیر میں طویل ترین فوجی کرفیو کے حوالے سے اقوام متحدہ نےایک لفظ تک نہیں کہا۔ کمیٹی مظلوم بھارتی مظالم پراقوام متحدہ کی خاموشی و غیر سنجیدہ رویے پر مایوسی کا اظہار کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ افسوس کہ اقوام متحدہ کی کسی بھی رکن نے کشمیر میں بھارتی مظالم پر آواز نہیں اٹھائی۔ مقبوضہ کشمیر مسلسل بھارت کیجانب سے طویل ترین کرفیو میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی اقوام متحدہ سے اپنے سلامتی کونسل کے منظور کردہ قراردادوں پر عمل کروانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے مزید کہا کہ کمیٹی متفقہ طور پر مطالبہ کرتی ہے کہ سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیر سے فوری طور پر بھارتی کرفیو کو ہٹانے کے لئے اقدامات کرے۔

  • بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے  بےگناہ کشمیری نوجوانوں کی میتیں اہلخانہ کے سپرد

    بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے بےگناہ کشمیری نوجوانوں کی میتیں اہلخانہ کے سپرد

    بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے بےگناہ کشمیری نوجوانوں کی میتیں اہلخانہ کے سپرد

    باغی ٹی وی : قابض بھارتی فوج نے دہشت گرد قرار دیکر شہید کیے گئے تین کشمیری نوجوانوں کی میتیں اہلخانہ کے سپرد کر دیں۔

    خبر ایجنسی کے مطابق تینوں کشمیریوں کو بھارتی فوج نے بارا مولا میں دہشتگرد قرار دےکر شہید کیا تھا تاہم تحقیق میں تینوں بے گناہ ثابت ہوئے۔

    بھارتی فورسز نے تینوں کشمیریوں کی قبر کشائی کر کے میتیں اہل خانہ کے سپرد کیں۔مقبوضہ کشمیر میں شہید کیے گئے نوجوانوں کے ورثا کا کہنا ہے کہ ہمارے بچوں کو سفاکی سے قتل کیا گیا، انصاف کے منتظر ہیں اور قاتلوں کو لازمی کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

    بھارتی فوج نے 5 کشمیری نوجوان شہید کردیے


    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تینوں کشمیری مزدوروں کو بھارتی فورسز نے جولائی میں شہید کیا تھا۔کے ایم ایس رپورٹ کے مطابق تینوں کو ضلع راجوڑی میں ان کے آبائی شہر میں سپرد خاک کیا گیا، جنازے میں کشمیریوں نے بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    گزشتہ برس جب سرکاری چھٹیوں کا اعلان کیا گیا تھا تب 13 جولائی اور 5 دسمبر کی چھٹی منسوخ کیے جانے کی وجہ سے وادی کے متعدد سینیئر سیاستدانوں نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے انتظامیہ کے اس فیصلے کی شدید مذمت بھی کی تھی۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سرکاری تعطیلات کی فہرست میں 26 اکتوبر کو شامل کیا گیا ہے۔

    یہ وہ دن ہے جس دن مہاراجہ ہری سنگھ نے 1947 میں بھارت کے ساتھ "انسٹورمنٹ آف ایکسیشن” پر دستخط کیے تھے۔نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکرٹک پارٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ نے 13 جولائی کے دن کو یوم شہدا قرار دیا تھا۔ انہوں نے ڈوگرہ حکومت کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والے 22 شہدا کی یاد میں اس دن کو منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد 1948 سے گزشتہ برس تک 13 جولائی کو سنہ 1931 کے سانحہ میں شہید ہونے والے شہدا کو یاد کیا جاتا ہے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے