بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آج پھر ملک کو یقین دہانی کروائی کہ بھارت مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول پر شریک حیثیت بدلنے کی چین کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ کسی بھی قیمت پر ملک کی پیشانی نہیں جھکنے دی جائے گی۔ مشرقی لداخ کی صورتحال پر راجیہ سبھا میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کو سیاسی، سفارتی اور فوجی سطح پر بھارت کے موقف سے آگاہ کر دیا گیا ہے کہ بھارت تمام مسائل کو پرامن مذاکرات سے حل کرنے کاحامی ہے لیکن ایل اے سی پر شریک حیثیت کو بدلنے کی کسی بھی یکطرفہ کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا،’ ہم نے چین کو سفارتی اور فوجی چینل کے توسط سے آگاہ کروا دیا کہ چین کی سرگرمیاں شریک حیثیت کو یکطرفہ بدلنے کی کوشش ہیں۔ یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ یہ کوشش ہمیں کسی بھی طور منظور نہیں ہے‘۔
Category: کشمیر
-

بھارت چین کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گا
-

بھارتی فوج نے ایک خاتون سمیت چار کشمیریوں کو شہید کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے بٹہ مالو میں بھارتی فوج نے تین نوجوانوں اور ایک خاتون کوشہید کردیا
مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے بٹہ مالو میں بھارتی فوج نے تین نوجوانوں اور ایک مقامی خاتون کوشہید کردیاجبکہ ایک ڈپٹی کمانڈنٹ سی آر پی ایف اور دہ اہلکارزخمی ہوگئے۔ پولیس اور سی آر پی ایف نے مشترکہ طور پر کاروائی کی۔شہید ہونے والی خاتون کوثر ریاض تصادم کے دوران زخمی ہوگئی تھیں۔ جوزخموں کی تاب نہ لاکر چل بسیں
۔زخمی ہونے والے کمانڈنٹ کو 92 بیس ہاسپیٹل میں داخل کرایا گیا ہے۔ جہاں ان کا علاج جاری ہے۔اطلاعات کے مطابق بٹہ مالو علاقے میں حریت پسندوں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد فورسز نے مذکورہ علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی کاروائی شروع کی ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع سرینگر میں آج کے واقعے سے قبل 2000سے اب تک 246مختلف واقعات میں 531افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اسی عرصے کے دوران 729مختلف واقعات میں اس ضلع میں 438 حریت پسندوں اور399عام افراد کو شہید کیا گیا
۔اسی دوران 390سیکورٹی اہلکار بھی اس ضلع میں ہلاک ہوئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق آج کے واقعے سے قبل رواں سال 2 020 میں 98واقعات میں195کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جبکہ 45پولیس، اور فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ مقبوضہ کشمیر میںجاری تحریک آزادی کے دوران 1988سے اب تک 25174حریت پسند، 15142عام شہری اور418نامعلوم افراد مختلف آپریشنز اور بھارتی فوج کے ہاتھوں تشدد میں شہید ہو ئے ہیں۔اسی دوران 6989بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔
-

مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی
شنگھائی تعاون تنظیم کے این ایس ایز اجلاس میں بھارت کی جانب سے اٹھائے جانے والے بلاجواز اعتراض پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اہم بیان۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس کچھ دن قبل ماسکو میں ہوا جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں یہ اصول طے ہے کہ اس فورم پر دو طرفہ معاملات کو نہیں اٹھایا جا سکتا۔ دو طرفہ معاملات کیلئے سائیڈ لائن ملاقاتیں طے ہوتی ہیں۔ ہم نے ایس سی او کے قواعد کی پاسداری کی۔ بھارت نے اس قاعدے کی خلاف ورزی کی اور دو طرفہ معاملے پر اعتراض اٹھایا۔ کل شنگھائی تعاون تنظیم کے این ایس ایز کا اجلاس تھا جس میں بھارت نے پاکستان کے نقشے پر اعتراض اٹھایا جسے مسترد کر دیا گیا چنانچہ اسے ندامت اٹھانا پڑی۔ مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے،اقوام متحدہ کی اس ضمن میں قراردادیں موجودہیں۔ روس نے اجلاس کے میزبان کی حیثیت سے بھی بھارت کے نقطہ نظرکو تسليم نہيں کيا۔ بھارت کے سیکورٹی ايڈوائزر نے اجلاس سے واک آؤٹ کي دھمکی دی اور پھر واک آؤٹ کیا۔ بھارت اپنے رويے سے ہر فورم پر اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔ لداخ کے حوالے سے چین نے بھارت کو بارہا گفتگو کے ذریعے معاملات کو سلجھانے کی پیشکش کی۔ لیکن بھارت نے وہاں بھی جارحیت کا راستہ اختیار کیا اور بھر اسے سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت کی جارحانہ حکمت عملی کو چين نے تسليم نہيں کيا۔ چين نے بھارت کو جارحيت پر جواب دیا
-
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ایک شخص کو شہید کردیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ایک شخص کو شہید کردیا
مقبوضہ جموں و کشمیر میں ، بھارتی فوجیوں نے ضلع بارہمولہ میں لائن آف کنٹرول پر ایک شخص کو شہید کردیا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق فوج نے منگل کے روز دعوی کیا ہے کہ بارڈر سیکیورٹی فورس نے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اوری سیکٹر میں ایک شخص کو شہید کر دیا۔
بھارتی آرمی کے 12 بریگیڈ نے تھانہ اوری میں اطلاع دی کہ اوڑی کے دالنجھا پوسٹ پر بی ایس ایف کی 70 بٹالین کے سپاہی نے ایک شخص کو گولی مار کر شہید کردیا ۔ذرائع کے مطابق ایل او سی کے قریب ایک درخت کے پیچھے چھپے ہوئے ایک شخص کو تلاشی کے لئے کہا گیا ، لیکن وہ بھاگ گیا جس کے بعد اسے بی ایس ایف کے دستہ نے گولی مار دی۔
دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں جموں وکشمیر پولیس نے ضلع گاندربل میں تین نوجوانوں کو گرفتار کیاہے۔پولیس نے الزام لگایا کہ گرفتار شدہ افراد ارشید احمد خان ، ماجد رسول راتھر اور محمد آصف نجار حزب المجاہدین سے وابستہ ہیں۔پولیس کا کہنا ہے ان کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد اور تین دستی بم برآمد ہوئے ہیں۔اس تعلق سے گاندربل پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق فوجیوں نے بارہمولہ ، کپواڑہ ، بانڈی پورہ ، گاندربل ، پلوامہ ، شوپیاں ، راجوری اور سنبہ اضلاع کے مختلف علاقوں میں اپنی فوجی کارروائیوں کو جاری رکھا۔ کارروائیوں کے دوران فوجیوں نے کپواڑہ ، گاندربل اور پلوامہ اضلاع میں بھی نصف درجن سے زیادہ نوجوانوں کو گرفتار کیا۔
حکام نے بارہمولہ کے علاقے سوپور میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی ہے جہاں پر بھی سرچ آپریشن کیاگیا۔ منگل کو بھارتی پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس وقت 233 افراد زیر حراست ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکم مارچ 2020سے لے کر 31اگست تک 138 عسکریت پسندوں کو شہید کیا گیا اورچھ ماہ کے اس عرصے کے دوران ، جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کے 50 اہلکار ہلاک ہو ئے ہیں۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے کہا کہ گذشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر عسکریت پسندی سے متاثر ہے
-

بھارت نے پاکستان کے نقشے پر اعتراض کرکے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی۔ترجمان دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ زاہدحفیظ کا بھارتی وزارت خارجہ امور کے بیان پر ردعمل
پاکستان، شنگھاٸی تعاون تنظیم کو علاقاٸی تعاون کے لئے اہم پلیٹ فارم سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ ہم شنگھاٸ تعاون تنظیم کے چارٹر کے تحت تعمیری اور مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم اپنے کسی ملک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو شنگھاٸ تعاون تنظیم پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج شنگھاٸی تعاون تنظیم کے این ایس ایز کے اجلاس میں بھارت نے پاکستان کے نقشے پر اعتراض کرکے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی۔نقشہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتاہے۔ ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ہم اس معاملے میں بھارت کے بے بنیاد الزامات مسترد کرتے ہیں -

بھارت امریکہ 17 ویں انسدادِ دہشت گردی مشترکہ ورکنگ گروپ کے اعلامیے پر پاکستان کا ردعمل
پاکستان، بھارت- امریکہ مشترکہ ورکنگ گروپ برائے انسداد دہشت گردی کے 17 ویں اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان کے بلاجواز حوالے کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اس حوالے سے اپنے تحفظات امریکی متعلقہ حکام تک پہنچا دیے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام شریک ممالک جنوبی ایشیائی خطے کے امن و امان سے جڑے مسائل کا تذکرہ، زمینی حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے کریں اور یک طرفہ اور حقائق کے منافی آراء سے احتراز کریں۔ ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری اس حقیقت سے اچھی طرح باخبر ہے کہ پاکستان ہندوستان کی ایما اور معاونت پر مبنی سرحد پار سے ہونیوالی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ عالمی برادری پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کاوشوں، قربانیوں اور ان کے نتیجے میں حاصل ہونیوالی کامیابیوں کو بھی تسلیم کرتی ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اس امر کا بارہا اظہار کر چکا ہے کہ آر ایس ایس کے ایجنڈے پر گامزن بی جے پی سرکار کا غیر ذمہ دارانہ رویہ، اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک، مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی، اورپاکستان اور خطے کے دیگرممالک کےخلاف بھارت کاجارحانہ سلوک، پورے جنوبی ایشیائی خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔ عالمی برادری کو بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ خطے کے امن و استحکام کے منافی روش اپنانے سے باز رہے۔
-

بھارتی ہائی کمیشن کی سینئیر سفارتکار کی دفترخارجہ طلبی
بھارتی ہائی کمیشن کی سینئیر سفارتکار کو دفترخارجہ میں طلب کیا گیا۔ پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی سفارتکار کو کہا گیاکہ بھارت کی طرف سے 13 ستمبر کو ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جب کہ بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ سے 3 معصوم شہری شدید زخمی ہوئے۔ بھارتی قابض فوج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر مسلسل بھاری ہتھیاروں سے سول آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ رواں برس بھارت 2245 مرتبہ سیز فایر معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی اشتعال انگیزیوں سے رواں سال ابتک 18 معصوم شہری شہید جبکہ 180 شہری زخمی ہوئے۔ بھارت کی جانب سے معصوم شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا قابل مذمت ہے جب کہ بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی 2003 سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ بھارتی سفارتکار کو یہ بھی کہا گیا کہ بھارت کی اشتعال انگزیزی خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ بھارت ان حرکتوں سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا اس کے علاوہ بھارت اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ بھارت 2003 سیزفائر معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنائے اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین، اقدار کے منافی ہے۔ اقوام متحدہ فوجی مبصر مشن کو ایل او سی پر کام کرنے کی اجازت دے۔
-

بھارتی فوج کی بلااشتعال گولہ باری سے شدید زخمی ہونے والی 11 سالہ بچی شہید
لائن آف کنٹرول پر تتہ پانی درہ شیرخان سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال گولہ باری سے شدید زخمی ہونے والی 11 سالہ بچی شہید ہو گئی۔11 سالہ بچی اقراء دختر سردار قمریز راولپنڈی ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں ہی کہوٹہ کے مقام پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی۔ شہید بچی کی میت آبائی علاقے کے لیے روانہ کر دی گئی۔
-

روسی صدرکی شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے آئے ہوئے وزرائے خارجہ کے ساتھ ویڈیو لنک میٹنگ
روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کی شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے آئے ہوئے ممبر ممالک کے وزرائے کے ساتھ ویڈیو لنک میٹنگ۔ اجلاس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سمیت شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ممبر ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وہاں موجود بھارتی وزیرخاجہ کے علاوہ تمام رکن ممالک کے وزراء خارجہ سے ہاتھ ملایا۔ جب کہ انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے میزبان کی حیثیت سے شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے ماسکو تشریف لانے والے وزرائے خارجہ کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم، علاقائی روابط کے فروغ، اور ممبر ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے حوالے سے انتہائی اہم فورم بن چکا ہے -

شہباز شریف کی لائن آف کنٹرول پر بھارت کی بلا جواز فائرنگ کی شدید مذمت
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے لائن آف کنٹرول پربھارت کی بلا جواز فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے شہید حوالدار لیاقت کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ بھارت عالمی قانون اور دو طرفہ معاہدوں کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا بھارتی فوج کی بزدلی اور غیر پیشہ ورانہ رویے کا ثبوت ہے۔ عالمی برادری بھارت کے جنگی جنون اور جنوبی ایشیا کا امن تباہ کرنے کی کارروائیوں کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھارت کی بلا جواز فائرنگ سے متاثرہ شہریوں سے یک جہتی اورہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جب کہ بھارتی بلا جواز فائرنگ کا بھر پور جواب دینے پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں