آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں خوفناک جرائم اور آخری مرحلہ میں داخل ہونے والی نسل کشی کا شکار کشمیریوں کی طرف سے ایک زور دار عوامی تحریک کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ کشمیریوں کی اندرونی تحریک ہو سکتی ہے جس میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام میں اب یہ احساس زور پکڑ رہا ہے کہ گُھٹ گُھٹ کر زندگی گزارنا شاہد اب ممکن نہیں رہا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ظلم سے لڑتے لڑتے جو اس دنیا سے چلے گئے وہ تو گئے لیکن جو زندہ ہیں وہ بھی زندہ درگور ہیں اور اب اُن کے لیے اپنی وطن کو دشمن کے قبضہ سے دوبارہ حاصل کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچا ہے۔افواج پاکستان کے مجلہ ہلال کے انگریزی ایڈیشنل میں چھپنے والے اپنے ایک خصوصی مضمون میں صدر سردار مسعود خان نے لکھا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمیں حالات کا رُخ موڑنے کے لیے اپنی صفوں کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو ایک بین الاقوامی تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے کثیر الجہتی عالمی فورمز کی بے حسی سے مایوس ہو کر بیٹھنے کے بجائے ان فورمز کے دروازوں پر دستک دینے کا سلسلہ اُس وقت تک جاری رکھنا ہوگا جب تک وہ اپنے دروازے کھول کر ہماری بات سننے کے لیے تیار نہ ہو جائیں۔ ہمیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر مسلسل زور دیتے رہنا چاہئے کہ وہ اپنی قرار دادوں پر عملدرآمد کرنے کے لیے حالات کو سازگار بنائے یا اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب چھ اور سات کے تحت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے مشاورت کا نیا سلسلہ شروع کرے۔ ہمیں بین الاقوامی سطح پر موجود اس تاثر کو ختم کرنا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر علاقائی تنازعہ ہے یادو ملکوں کے درمیان لین دین کا کوئی معاملہ ہے۔ یہ مسئلہ ایک کروڑ چالیس لاکھ انسانوں کی قسمت کا معاملہ ہے جنہوں نے اپنی منزل کا تعین کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں دنیا کی ایسی با اثر پارلیمانز تک پہنچ کر ان کے ساتھ کام کرنا ہو گا جن کا اثر اور وزن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس کے حقوق انسانی کونسل اور بین الاقوامی سول سوسائٹی محسوس کرے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہمارے پاس دس ملین اوورسیز کشمیریوں اور پاکستانیوں کی طاقت اور اُن کا تیزی سے پھیلتا ہوا نیٹ ورک ہے اور جو نہ صرف اپنے سیاسی و معاشی اثر و سوخ سے عالمی رائے عامہ کو تشکیل دینے کی طاقت رکھتے ہیں بلکہ وہ حق و انصاف کی حمایت اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی طرف مائل بھی ہیں۔ اس لیے ہمیں اس طاقت کو کشمیر کاز کے لیے استعمال کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ صدر آزا د کشمیر نے اپنے مضمون میں تحریر کیا ہے کہ ہمیں بھارت کے کشمیر سے متعلق جھوٹے بیانیہ کے غبارہ سے ہوا نکا لنے کے لیے حق اور سچ پر مبنی اپنا بیانیہ بین الاقوامی برادری کے سامنے رکھنا ہو گا اور ہماری کوششیں صرف روایتی اور نئی ابلاغی ذرائع تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمیں نئی ٹیکنالوجیز کی پورٹلز اور اُن اداروں تک بھی پہنچنا چاہیے جہاں تنقیدی سوچ پرورش پاتی ہے۔ صدر ریاست نے تجویز کیا کہ ہمیں قیادت اور سیادت نوجوان مرد و خواتین کو منتقل کرنی چاہیے جو پہلے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر میں خون کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور اُنہیں سیاسی و سفارتی مہم کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب ہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کی بات کرتے ہیں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اِن مظالم کے ذمہ دار بھارت کے ایک ارب تیس کروڑ عوام ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ بھارت میں ایسے پسماندہ اور کچلے طبقات بھی ہیں جن کی اپنی زندگیاں اشرافیہ اور استعماری سوچ رکھنے والوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے دو سو پچاس ملین دلتوں کو کمتر انسان سمجھا جاتا ہے جبکہ بیس کروڑ مسلمانوں کو بھارت چھوڑنے پر مجبور کیا جار ہا ہے اور اِسی طر ح سکھوں، عیسائیوں، قبائلیوں اور معاشی تاریک وطن کو بے ریاستی کے خطرے کا سامنا ہے۔ ان پسماندہ طبقات کی اکثریت بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں ظالمانہ پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتی۔ صدر سردار مسعود خان نے یہ بھی تجویز کیا کہ پاکستان کو سیاسی لحاظ سے مستحکم اور معاشی اعتبار سے مضبوط بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے قلیل المیعاد اور طویل المعیاد منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت کی بی جے پی۔ آرایس ایس حکومت نے بھارت کے سیکولرازم کا نمائشی نقاب اُتار کر اپنے تمام ہمسائیوں خاص طور پر پاکستان اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے خلاف کثیر المحاذی جنگ چھیڑ دی ہے۔ اب بھارت میں باقی جو کچھ بچا ہے وہ جنگجو ئی، تشدد، نفرت، تفاوت اور استثنیٰ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس زہریلہ مرکب کا سب سے زیادہ شکار ہندوستانی عوام ہوں گے لیکن اس سے پہلے ہندو توا کی تباہ کن طاقت زنجیروں میں جکڑی کشمیری قوم کو تباہ کر چکی ہو گی۔ ایسی تباہی کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہو گی۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے بہادر عوام کا یہ عزم ہے کہ تمام تر حیوانیت کے باوجود وہ ہندوستان سے آزادی حاصل کریں گے کیونکہ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے۔
Category: کشمیر

جرمنی : برطانیہ : امریکہ :بیلجئیم میں بھارتی یوم آزادی پر کشمیریوں کا یوم سیاہ، پاکستان سے الحاق کے نعرے، بھرپور احتجاج
اسلام آباد :جرمنی : برطانیہ : امریکہ :بیلجئیم میں بھارتی یوم آزادی پر کشمیریوں کا یوم سیاہ، پاکستان سے الحاق کے نعرے، بھرپور احتجاج،اطلاعات کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں سے اظہاریکجہتی اوربھارتی مظالم کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ساری ہے ،
باغی ٹی وی کے مطابق جرمن دارالحکومت برلن میں بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔ بھارتی سفارتخانے کے سامنے کشمیریوں اور ان کے ساتھ پاکستانی برادری نے بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے کا اہتمام فرینڈز آف کشمیر برلن کے ساتھ برلن کی دیگر سیاسی اور سماجی تنظیموں نے کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے بڑے بڑے بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ مسلسل آزادی کے حق اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔
برلن کے اس مظاہرے کی خاص بات یہ بھی تھی کہ بھارتی سفارتخانہ کے اندر جب آزادی کا جشن منایا جا رہا تھا تو وہیں باہر کشمیریوں کے حق میں جرمن، انگریزی اور اردو زبان میں بھرپور نعرے بازی کی جا رہی تھی۔ اس مظاہرے میں برلن سمیت برانڈنبرگ، ڈریسڈن اور ہیمبرگ سے لوگوں نے شرکت کی۔ جرمنی کے مالیاتی مرکز فرینکفرٹ میں بھی اس حوالے سے ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔
نیویارک میں بھارتی قونصل خانے کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ احتجاج میں پاکستانی‘ کشمیری اور سکھ کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بھارت مخالف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرے میں شریک افراد نے بھارت کے خلاف نعرے لگائے اور کشمیریوں کی آزادی کا مطالبہ کیا
لندن میں بھارتی ہائی کمشن کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے بھارت مخالف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کی بڑی تعداد نے احتجاج میں شرکت کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ جموںو کشمیر میں بربریت ختم کی جائے اور کشمیریوں کو حق خودارادت دیا جائے۔ بھارتی حکومت کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کو ختم کرے۔
تارکین وطن کشمیریوں اور کے حمایتیوں کی ایک بڑی تعداد نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نہتے لوگوں پر بھارتی مظالم کے خلاف ہفتہ کو بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مظاہرے کا انعقاد ’’کشمیر کونسل یورپ ‘‘ نے بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے سلسلے میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ اور دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں کے تعاون سے کیا تھا۔ مظاہرے میں کشمیریوں، پاکستانیوں اور سکھوں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ بیلجیم اور دیگر یورپی ملکوں میں قائم مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
مظاہرے کے شرکا نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں فوجی محاصرہ فوری طورپر ختم اور غیر قانونی طور پر نظر بند تمام کشمیریوں کو مزیدتاخیر کئے بغیر رہا کرے۔ کشمیر کونسل یورپ کے چیئرمین علی رضا سید اور دیگر مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال پر فوری توجہ دے

سماہنی سیکٹر پر بھارتی فورسز کی طرف سے شہری آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ۔ 3 افراد زخمی
کشمیر میں بھارت کی طرف سے فائربندی کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع سماہنی سیکٹر پر بھارتی فورسز نے شہری آبادی کو بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق تین شہری زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں کی شناخت زاہدہ بیگم دختر کرم داد ساکن چاہی ڈھیری . محمد ساجد ولد محمد ارشاد ساکن چاہی کھرانی .اور محمد عبداللہ ولد محمد صضیر ساکن ٹھاکرہ موہڑہ چاہی کے طور پر کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تمام زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل کر دیاگیا ہے جہاں ایک زخمی کی حالت تشویش ناک بیان کی جا رہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر: گائے کو زخمی کرنے کا الزام۔ کٹر ہندوؤں کا مسلم باپ بیٹے پر شدید تشدد
سرینگر:مقبوضہ کشمیر: گائے کو زخمی کرنے کا الزام۔ کٹر ہندوؤں کا مسلم باپ بیٹے پر شدید تشدد،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کے ارناس میں مبینہ گئو رکشکوں کے ایک ہجوم نے مسلم باپ بیٹےکو تشدد کرکے زخمی کر دیا ۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں ہفتے کو پیش آنے والے اس واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جو ان مبینہ گئو رکشکوں نے خود بنواکر وائرل کر دی ہیں۔
پولیس کی ایک پارٹی نے جہاں موقع پر پہنچ کر محمد اصغر کو ہجوم کے پنجوں سے چھڑا لیا وہیں محمد اصغر کا بیٹا جاوید احمد کسی طرح وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ریاسی ریشمی وزیر نے بتایا کہ پولیس نے ارناس میں پیش آنے والے واقعے کے سلسلے میں تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت تین مقدمے درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے لوگوں سے امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملوثین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘سماج اور ملک دشمن عناصر کو صورتحال کا غلط فائدہ اٹھانے کا ہرگز موقع نہ دیں۔ ضلع پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور سوشل میڈیا پر کسی بھی طرح کی افواہوں کو پھیلانے سے گریز کریں’۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع ریاسی کے دور دراز گئو گاری گبر میں ہفتے کے روز اقلیتی طبقے سے وابستہ باپ اور بیٹے کی ہجوم کے ہاتھوں مار پیٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن کی پٹائی ہوئی ہے ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک گائے کو زخمی کیا تھا جبکہ جس اکثریتی طبقے کی وہ گائے تھی اس سے وابستہ ایک ہجوم نے قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔
واقعے میں زخمی ہونے والے محمد اصغر جو مبینہ طور پر اس وقت ضلع ہسپتال ریاسی میں زیر علاج ہیں، کے ایک پڑوسی محمد عباس ملک نے کہا: ‘چند روز قبل اکثریتی طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی گائے ان کی کھیت میں داخل ہوئی تھی اور فصل کو نقصان پہنچایا تھا۔ محمد اصغر کے بیٹے جاوید احمد نے اس گائے کو اپنی کھیت سے باہر نکالنے کے لئے بظاہر اس پر پتھر مارا جس کی وجہ سے وہ معمولی زخمی ہوئی تھی’۔
انہوں نے کہا: ‘جن کی گائے زخمی ہوئی تھی ان کو چاہیے تھا کہ پولیس تھانے میں مقدمہ درج کرتے۔ لیکن انہوں نے تین دن تک انتظار کیا۔ انہوں نے تین دن بعد جاوید کے والد محمد اصغر کو فون کر کے اپنے علاقے میں بلا لیا۔ اصغر نے ان سے کہا کہ میں حرجانہ دینے کے لئے تیار ہوں’۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق محمد عباس نے بتایا کہ اصغر اپنے ساتھ اپنے بیٹے جاوید کو بھی لے گئے تاکہ ان سے معافی مانگی جائے لیکن ان کے بقول اکثریتی طبقہ پہلے سے ہی محمد اصغر اور ان کے بیٹے کو مارنے پیٹنے کا منصوبہ بنا چکا تھا۔
انہوں نے کہا: ‘جیسے ہی اصغر اور ان کا بیٹا وہاں پہنچے تو انہوں نے انہیں بری طرح مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ جہاں جاوید وہاں سے کسی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا وہیں محمد اصغر کو وہ بری طرح پیٹتے رہے۔ اگر وہاں پر پولیس والے نہ پہنچتے تو وہ شاید انہیں مار ہی ڈالتے۔ محمد اصغر اس وقت ضلع ہسپتال ریاسی میں زیر علاج ہے۔ انہیں بازو، پیٹ اور کمر میں سنگین چوٹیں آئی ہیں’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘جب میں نے ارناس میں پولیس عہدیداروں سے بات کی تو انہوں نے پہلے مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے بات کرنے کے بعد معاملے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے’۔

بھارتی جاسوس پکڑا گیا
آزاد کشمیر نکیال پولیس نے راولپنڈی میں خصوصی طور پر کارروائی کر کے بھارت کیلئے جاسوسی کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار شخص کا نام جلال بتایا جارہا ہے۔ اس کے قبضے سے حساس اداروں کے بارے میں معلومات، تصاویر اور لائن آف کنٹرول سے متعلق اہم دستاویزات برآمد کر لی گئی ہیں اس کے علاوہ اس کے قبضے سے جعلی غیر ملکی کرنسی بھی برآمد کی گئی ہے۔

15 اگست یوم سیاہ ….ازقلم محمد عبداللہ گل
73 برس بیت چکے ہیں ایک خوبصورت وادی ظالم کے قبضے میں ہے۔اس خوبصورت وادی کا نام کشمیر ہے اور اس پر ظلم و بربریت کرنے والا ظالم بھارت ہے۔برِصغیر پاک و ہند میں بھی ہندو تو آزاد ہی تھے۔بڑے بڑے عہدے ان کے پاس تھے اور انگریزوں کی چمچہ گری کرنا ان کا کام تھا۔اصل ظلم تو مسلمانوں پر ہوتا تھا۔مسلمان محکوم بنے ہوئے تھے اس ملک میں جس کے وہ کبھی حاکم ہوا کرتے تھے۔
ہندو اور کانگرس نہیں چاہتی تھی کہ پاکستان بنے وہ چاہتے تھے کہ انگریز جب نکلے تو سارے کا سارا برصغیر ہمارے قبضے میں آئے۔لیکن بھارت کا یہ خواب خواب ہی رہ گیا اور قائداعظم کی کوششوں سے پاکستان معرض وجود میں آگیا جو کہ کانگرس اور گاندھی کی شکست تھی۔کشمیر ایک ریاست تھی جس کا راجا ہندو تھا۔لیکن کشمیر میں اکثریت تو مسلمانوں کی تھی۔کشمیر کو حق دیا گیا تھا کہ دونوں میں سے جس ملک کے ساتھ چاہے الحاق کر لے۔
کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے تھے لیکن وہاں کے راجا ہری سنگھ نے چند ٹکے لے کر خود دہلی میں جا بیٹھا اور وادی پر بھارت کا جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ ہو گیا۔اس وقت کشمیر میں 10 لاکھ کے لگ بھگ فوج ہے۔جب مسلہ کشمیر اقوام متحدہ میں گیا تو قرار دادیں منظور کی گئی جن کے مطابق کشمیر میں استصواب رائے کروایا جائے جو کہ آج تک نہ ہو سکا۔کیونکہ بھارت جانتا ہے اگر میں نے استصواب رائے کروا دی تو کشمیری پاکستان سے الحاق کرے گئے۔اس لیے بھارت پر غاصبانہ قبضہ جاری رکھا۔73 سال کا عرصہ گزر گیا بہت سی بہنوں کی عزتیں پامال کی۔لاکھوں ماوں کے سر کے ڈوپتے نوچیں گے۔لاکھوں بچوں کو یتیم کیا۔
لیکن عالمی برادری خاموش کیوں؟
اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کیوں نہیں؟
ہماری امیدیں وابستہ ہیں امریکہ، برطانیہ اور اقوام متحدہ سے جو کہ غیر مسلموں کی پٹھو تنظیم ہے۔اس کا جواب اللہ تعالی نے قرآن مجید میں دیا ہے:-
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘ ؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۱﴾ترجمہ:-
اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہی میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالٰی ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا ۔
آج ہماری دوستیاں امریکہ اور برطانیہ سے ہے اور مودی سے ہے جو کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
ادھر کشمیر میں کل 14 اگست کو صورتحال یہ تھی کہ کرفیو لگا ہوا تھا۔کشمیری بہنوں اور ماوں نے گھر میں خود پرچم سلائی کر کے سرینگر کے چوک میں پاکستان سے محبت کا ثبوت دیا۔کشمیر کے چوک میں نعرے لگے
"جیوے جیوے پاکستان
تیری جان میری جان
پاکستان پاکستان ”کشمیریوں کا پاکستان کے حق میں نعرے لگانا اپنے گھروں کی چھتوں پر پاکستان کے پرچم لہرانا۔اور ریلیاں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران حب پاکستان میں گولیاں اور پیلٹ گنوں کا نشانہ بن کر اپنی آنکھوں کی بینائی کو ضائع کروا لینا الحاق پاکستان کا ثبوت یے۔
آج 15 اگست جو کہ ظالم ملک بھارت کی آزادی کا دن ہے کشمیر کے سرینگر کے لال چوک میں خاموشی طاری ہے۔کشمیری خاموش اس لیے ہیں کیونکہ وہ آج کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔
کشمیر میں تو یہ صورتحال ہے کہ کشمیری نوجوان اور بچے ان کو کچھ نہ ملے تو وہ پتھروں کے ساتھ ہی مقابلہ کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔بھارتی فوج کر بھی کیا سکتی ہے زیادہ سے زیادہ کا آپا آسیہ اندرابی کو گائے زبح کرنے کے جرم میں گرفتار کر سکتی ہے۔
گرفتاری کی صعوبتوں کے باوجود آپا جی کے دل میں پاکستان کی محبت کا بڑھ جانا اس کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان سے الحاق چاہتی ہے۔بزرگ قائد حریت سید علی گیلانی صاحب جو کہ طویل عرصے سے علیل ہے۔علالت کے باوجود ان کو نظربند کرنا اور نظربندی کے دوران بھی ٹویٹ کے ذریعے 14 اگست کو ان کا پاکستان کو مبارک باد دینا بھارت کے ظلم کے خلاف ان کا آواز بلند کرنا پاکستان سے محبت کی علامت ہے۔
آخر کشمیری اور پاکستانی آج کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر کیوں نہ منائے؟آج کے دن بننے والے ملک بھارت نے پاکستان کی شہ رگ کو قیدی بنا رکھا ھے۔کشمیر مسلمانوں کو کھانا نہیں مل رہا۔کشمیری یوم سیاہ اس لیے مناتے ہیں کیونکہ بھارت ظالم نے ان سے اظہار خیال کو حق چھین لیا اور ان کا آئینی،جمہوری حق جو کہ استصواب رائے کا تھا چھین لیا۔ان ظالموں نے کشمیریوں کو ان کے آباواجداد کے ملک میں ہی قید کر دیا۔باہر سے آ کر ان پر قبضہ کر لیا اور ان کی بیٹیوں کی عزتوں کو لوٹا جا رہا ہے۔
یہ وہ۔کشمیر ہے جو اقبال کے تخیل کا مظہر یوں تھا:-
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیراب حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا آغاز کر دینا۔کیونکہ واضح حکم ربی ہے:-
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الۡکُفَّارِ وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾ ٙ
اے ایمان والو! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہیے اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالٰی متقی لوگوں کے ساتھ ہے ۔
ریاست مدینہ کے بانی خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سب مسلمان ایک جسم واحد کی طرح ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دُکھے تو اس کا سارا جسم دُکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم)کاہے کی آزادی اور کون سا جشن آزادی؟ بھارتیو تم مقید ہی کب تھے جو آزاد ہوتے. تم تو قابض تھے صیاد تھے اب بھی ہو..14اگست 1947 بھارت کا یوم شکست تھا اور ان شاء اللہ 2020 ان کا دوسرا یوم شکست ہوگا. جب کشمیر آزاد کرائیں گے.اے اللہ کشمیر کو آزادی نصیب فرما اور ظالموں کو نست و نابود فرما
15 اگست یوم سیاہ ….ازقلم محمد عبداللہ گل

وزیراعظم مودی کا مقبوضہ کشمیر میں جلد انتخابات کرانے کا اعلان:کشمیریوں نے بائیکاٹ کا اعلان کردیا
نئی دہلی : وزیراعظم مودی کا مقبوضہ کشمیر میں جلد انتخابات کرانے کا اعلان:کشمیریوں نے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ،اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں جلد انتخابات کرانے کا اعلان کردیا اور کہا وادی کا اپنا وزیراعلیٰ اور وزرا ہونے چاہییں۔
مقبوضہ وادی سے ذرائع کے مطابق کشمیریوں نے مودی کے اس اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہےکہ نہ وہ صرف ان انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے بلکہ اس کے خلاف بھرپورمزاحمت بھی کریں گے
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت کے 73 ویں یوم آزادی کے موقع پر نئی دہلی ميں لال قلعے کے تاريخی مقام پر اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں حلقہ بندیاں کی جارہی ہیں ، حلقہ بندیوں کا کام مکمل ہونے کے بعد مقبوضہ کشمیرمیں انتخابات کرائے جائیں گے، وادی کا اپنا وزیراعلیٰ اور وزرا ہونے چاہییں۔
خیال رہے بھارت کے یوم آزادی پر آج مقبوضہ وادی میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے، یوم سیاہ پر بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل ہڑتال ہیں، قابض انتظامیہ نے مظاہرے روکنے کے لیے مقبوضہ علاقے میں پابندیوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ مودی سرکار کی جانب سے جموں و کشمیر کی قانونی جداگانہ حیثیت ختم کرنے کا رواں ماہ ایک سال پورا ہو گیا ہے، وادی میں اس عرصہ بدترین لاک ڈاؤن رہا، ہزاروں کشمیری بھارتی فورسز کے تشدد اور فائرنگ سے زخمی ہوئے اور سینکڑوں لاپتا کیے گئے۔

بھارت کا یوم آزادی کشمیرمیں یوم سیاہ بن گیا،کشمیربنے گا پاکستان وادی کشمیرنعروں سے گونج اٹھی
نئی دہلی :بھارت کا یوم آزادی کشمیرمیں یوم سیاہ بن گیا،کشمیربنے گا پاکستان وادی کشمیرنعروں سے گونج اٹھی،اطلاعات کے مطابق بھارت کے یوم آزادی کے موقع کشمیر میں آج عام ہڑتال ہے اور خطے کے باشندے اسے یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔
بھارت کے یوم آزادی پر اس ملک کے زیر انتظام کشمیر میں آج کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر یوم سیاہ منایا جا رہا ہے اور مکمل ہڑتال کی جا رہی ہے اور تمام کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں۔
اس موقع پر سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے فورسز کے اضافی دستے تعینات کئے گئے ہیں۔نئی دہلی سے ذرائع کے مطابق بھارت کو اس وقت سخت ندامت کا سامنا کرنا پڑا جب آج صبح سے ہی وادی میں جگہ جگہ کشمیربنے گا پاکستان کے نعرے گونج رہےہیں
دوسری جانب حریت رہنما یاسمین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا حق نہیں مل جاتا جدوجہد جاری رہے گی ۔

مقبوضہ کشمیر، مجاہدین حملے میں ہلاک اہلکاروں کی لاشوں سے لواحقین نے بھارتی ترنگا اتار کر پھینک دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر کے مضافاتی علاقے نوگام میں جمعہ کے روز عسکریت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہوئے دو پولیس اہلکاروں کی پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب میں دیر ہونے کی وجہ سے رشتہ دار کافی ناراض دکھائی دیے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق خراج عقیدت کی تقریب میں پولیس کے اعلی افسران دیر سے پہنچے جس پر ہلاک اہلکاروں کے رشتہ دار ناراض ہو گئے۔ انہوں نے تابوت پر سے جھنڈا ہٹایا اور لاشیں تقریب سے قبل ہی اپنے گھر لے جانے کی کوشش کی۔
ایک سینیئر پولیس افسر نے ساوتھ ایشین وائر کے سرینگر کے نمائندے کو بتایا کہ ہلاک ہوئے دونوں اہلکار جموں و کشمیر پولیس کے اپنے ساتھی تھے اور ان کے لواحقین بھی ہمارے ہیں۔ تقریب کے دوران سینیئر پولیس افسران کو موقع پر آنے میں کچھ وقت لگا جس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے رشتے دار ناراض ہوئے اور انہوں نے اپنا غصہ بھی ظاہر کیا۔
ایسی صورتحال میں وہ کسی بھی انسان کے لئے یہ ایک عام بات ہے۔ ناراضگی ظاہر کرنا کوئی غلط بات نہیں۔’ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘پولیس کے سینیئر افسران حملے کی وجہ سے پریشان تھے اور صدمے میں بھی تھے۔ اس لیے تقریب میں حاضر ہونے میں کچھ وقت لگا۔ جموں و کشمیر کی پولیس ہمارے شہیدوں کے خاندانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
بھارت کے ترنگے کے ساتھ ہوئی بے حرمتی کے متعلق جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘پرچم کے ساتھ کوئی بے حرمتی نہیں ہوئی۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے رشتہ داروں نے صرف اپنا غصہ ظاہر کرتے ہوئے تابوت پر سے جھنڈا ہٹایا اور لاشیں تقریب سے قبل ہی اپنے گھر لے جانے کی کوشش کی۔ تاہم وہاں موجود پولیس افسران نے انہیں ایسا کرنے سے روکا اور دلاسہ بھی دیا جس کے بعد تقریب مکمل ہوئی اور دونوں اہلکاروں کے جسد خاکی کو اپنے آبائی علاقوں کی طرف روانہ کیا گیا۔
مادر وطن کی سمندری سرحدوں اور ساحلوں کے دفاع کے لیے تیار ہیں، سربراہ پاک بحریہ
پاک بحریہ کے سربراہ کا کریکس اور کوسٹل ایریا میں پاک بحریہ کی تنصیبات کا دورہ
پاک بحریہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار، نیول چیف کا دبنگ اعلان
کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے جدید جنگی ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب
پاکستان بحریہ کا یوم آزادی پرخصوصی نغمہ ”پرچم پاکستان کا” ٹیزر جاری
یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات کا آغاز، مزار قائد، اقبال پر گارڈز کی تبدیلی،صوبوں میں توپوں کی سلامی
پاک بحریہ میں یوم آزادی کی تقریب،اکیس توپوں کی سلامی دی گئی
یوم آزادی، موٹروے پولیس کا قومی شاہرات پر فلیگ مارچ
صحافیوں کو پولیس کی جانب سے اس واقعے کے ویڈیو کو حذف کرنے اور منظر عام پر نہ لانے کی ہدایت دی گئی۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے یہاں موجود صحافیوں سے گزارش کی کہ وہ ان باتوں کا تذکرہ اپنی خبروں میں نہ کریں کیونکہ ایسی باتیں ہر ایک کنبے میں ہوتی ہے۔ جموں و کشمیر پولیس بھی ایک بڑے خاندان کی طرح ہے۔ ناراضگی اور غصہ اپنوں سے ہوتا ہے۔ اس لیے جب ہمارے دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں ان کے رشتہ داروں کو ہمدردی کی ضرورت ہے نہ کہ ان کے زخموں کو کریدنے کی.
یوم آزادی پاکستان ،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز پر حملہ،دو ہلاک

ضلع کونسل ہال میں یوم آزادی کی مرکزی تقریب کا انعقاد
شیخوپورہ( نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے) 73 ویں جشنِ آزادی 14 اگست کے پر مسرت موقع پر ضلع ہذا میں مرکزی تقریب ضلع کونسل ہال شیخوپورہ میں منعقد کی گئی۔تقریب میں صوبائی منسٹر میاں خالد محمود, ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر غازی محمد صلاح الدین,ڈپٹی کمشنر اصغر علی جوئیہ,اے ڈی سی رانا شکیل الرحمن,ایڈیشنل ایس پی کپٹن (ر) عامر خان نیازی اور دیگر ضلعی انتظامیہ و پولیس کے افسران , جنرلسٹ, سیاسی و سماجی شخصیات , اساتذہ, طلباو طالبات اور سول سائٹی کی کثیر تعداد نے شرکت کی

تقریب کے آغاز سے قبل صبح 8:58منٹ پر سائرن بجایا گیا 2 منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے بعد پرچم کشائی کی گئی۔اس موقع پر شیخوپورہ پولیس کے چاک و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیااور سلامی پیش کرتے ہوۓ چبوترے کے سامنے سے گزرے۔
اس موقع پر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گۓ۔ تقریب میں منسٹر میاں خالد محمود, ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرغازی محمد صلاح الدین,ڈپٹی کمشنر اصغر علی جوئیہ اور تحریک انصاف کے راہنما کنور عمران سعید نے خطاب کرتے ہوئے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ ہم ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہیں جو آزاد ماحول میں سانس لے رہے ہیں ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل کے لیے قربان کیا۔ اگر آپ آزادی جیسی نعمت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں توکشمیری عوام سے پوچھیں۔”
اس کے بعد جشن آزادی کی 73 ویں سالگرہ کا کیک کاٹا , پودے لگاۓ اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔
اس کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں مریضوں کی عیادت کی اور تحائف دئے۔ آخر میں ڈسٹرکٹ جیل کے دورہ کے دوران قیدی بچوں اور خواتین میں تحائف بھی دئیے”۔













