Baaghi TV

Category: کشمیر

  • آزاد جموں و کشمیر کا 77 واں یوم تاسیس  ملی جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے

    آزاد جموں و کشمیر کا 77 واں یوم تاسیس ملی جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے

    مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کا 77 واں یوم تاسیس آج ملی جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے،24اکتوبر 1947 کو آزاد جموں و کشمیر ایک آزاد ریاست بنی، یہ دن کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کی علامت ہے۔

    باغی ٹی وی : آزاد کشمیر کے 77 ویں یوم تاسیس کے موقع پر صبح کا آغاز دعائیہ تقریبات سے ہوا، دعائیہ تقریبات میں پاکستان اور کشمیر کی سلامتی اور شہدا کشمیر کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی اس موقع پر مظفرآباد میں پاک فوج کے جوانوں نے 21 توپوں کی سلامی دی، توپوں کی سلامی کے بعد پاکستان اور آزاد کشمیر زندہ آباد کے نعرہ بھی لگائے گئے۔

    واضح رہے کہ 24 اکتوبر 1947 کو ظالم ڈوگرہ حکمرانوں کے تسلط کے خلاف کشمیری مسلمانوں نے مسلح جدوجہد کر کے ریاست جموں و کشمیر کا ایک حصہ آزاد کروایا تھا، یہ دن ’غازی ملت‘ سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں قائم ہونے والی پہلی انقلابی حکومت کی یادگار ہے سردار ابراہیم نے 1947 میں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی جو ایک اہم تاریخی لمحہ تھا تاریخی لحاظ سے کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت تھی جبکہ 1947 میں کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کا الحاق بھارت سے کر دیا تھا۔

    ناکام احتجاج: بلوچ یکجہتی کمیٹی کا تربت میں مظاہرین کو ورغلانے میں ناکامی

    بھارت کے قبضے کے خلاف کشمیریوں نے 1947 میں تحریک آزادی شروع کی اور مقامی رہنماؤں نے اس علاقے کے لیے الگ شناخت اور حکومت قائم کرنے کی کوشش کی، 1947 میں کشمیری عوام اور قبائلی لشکر نے مل کر بھارتی افواج کے خلاف کھڑے ہونے کی جرات کی۔

    24 اکتوبر 1947 کو کشمیریوں نے مظفر آباد میں اپنی حکومت کا اعلان کیا، یوم تاسیس 1947 کی وہ عظیم تاریخ کی یاد دلاتا ہے جب کشمیری عوام نے اپنی خود مختاری کا اعلان کیا، آزاد کشمیر کی جنگ آزادی میں کشمیری عوام نے بھارتی تسلط کے خلاف بھرپور مزاحمت کی۔

    پاکستان کی جانب سے انقرہ میں ہونے والے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت

    24 اکتوبر 1947 کو سردار ابراہیم خان کی قیادت میں آزاد حکومت قائم ہوئی، آزاد کشمیر حکومت کا قیام، مظلوم کشمیریوں کی فتح اور خودمختاری کی جانب یہ پہلا قدم تھا آزاد جموں و کشمیر حکومت کا قیام کشمیری عوام کے جذبے اور قربانیوں کا نتیجہ تھا،آزاد جموں و کشمیر کا حکومتی ڈھانچہ پاکستان کی طرز پر ہے، جس میں ایک آزاد ایگزیکٹو، قانون سازی اور عدلیہ شامل ہیں، یہ ایک خود مختار ریاست ہے جس کا اپنا صدر، وزیر اعظم، اور پرچم ہے، جو اپنی خود مختاری کا دفاع کرتی ہے۔

  • مقبوضہ جموں و کشمیر میں عمرعبداللہ  آج وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں عمرعبداللہ آج وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے

    سری نگر:مقبوضہ جموں و کشمیر میں عمرعبداللہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔

    باغی ٹی وی : حلف برداری کی تقریب میں کانگریس کے سرکردہ رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے، عمرعبداللہ دوسری باراس منصب پر فائز ہونے جا رہے ہیں،نیشنل کانفرنس کی یہ حکومت کانگریس کی حمایت سے بنے گی جس نے انتخابات سے پہلے اتحاد کیا تھا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریب میں کانگریس کی جانب سے صدر ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی (قائد حزب اختلاف)، مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی، تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن ، جھارکنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین اور پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی اور عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال سمیت دیگر کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

    لیسکو سب ڈویژن بہادر پورہ قصور خود کش بمبار کی طرح خطرناک

    اس سے قبل وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ وہ نئی دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے ہوتے ہوئے آرٹیکل 370 کی بحالی ممکن نہیں ہے ملک میں کبھی نہ کبھی تو حکومت بدلے گی، کبھی نہ کبھی تو ایک نئی حکومت آئے گی اور ایسی حکومت آئے گی جس کے ساتھ بیٹھ کر ہم کم سے کم بات کر پائیں گے۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی کی حکومت نے اگست 2019 میں انڈین آئین سے آرٹیکل 370 کا حذف کردیا تھا جس کے تحت اس کے زیرِ انتظام کشمیر کو نیم خودمختار حیثیت اور خصوصی اختیارات حاصل تھے۔

    خیبر سپورٹس فیسٹیول 2024 کا شاندار اختتام،کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم

  • مقبوضہ کشمیر،مجاہدین کے پاس جدید اسلحہ،ڈرون،گوریلا وار،بھارتی فوج کی نیندیں حرام

    مقبوضہ کشمیر،مجاہدین کے پاس جدید اسلحہ،ڈرون،گوریلا وار،بھارتی فوج کی نیندیں حرام

    مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مجاہدین کی کاروائیوں سے بھارتی سرکار اور بھارتی فوج پریشان ہو چکی ہے، آئے روز مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی کاروائیوں نے بھارتی فوج کے حوصلے پست کر دیئے ہیں، بھارتی فوج کشمیری مجاہدین کا مقابلہ کرنے سے کترا رہی ہے

    کشمیر میں فریڈم فائٹرز جدید ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں، جن میں M4 اسالٹ رائفلز اور اسٹیل کی گولیاں شامل ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی فوجی سازوسامان سے حاصل کیے گئے ہیں۔ یہ امریکی اسلحہ افغانستان سے ایران کے راستے ممکنہ طور پر بھارت پہنچا ،جوممکنہ طور پر سمندری راستوں کے ذریعے اسمگلنگ کے فعال نیٹ ورکس کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ہندوستانی سیکورٹی فورسز کو فریڈم فائٹرز کی گوریلا جنگی حکمت عملیوں سے کافی چیلنجز کا سامنا ہے، جو درست حملے کرتے ہیں اور پھر ناہموار پہاڑی علاقے میں پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔جن کو بھارتی فوج تلاش نہیں کر پاتی او رپھر سرچ آپریشن کے نام پر کشمیریوں پر تشدد کیا جاتا ہے، چادرو چاردیواری کا تقدس پامال کیا جاتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں فریڈم فائٹرز نے بہتر آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے، ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے ہتھیار،نقدی سمیت دیگر اشیا مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین تک پہنچائی جا رہی ہیں، قابل ذکر بات یہ ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب کوئی قابل ذکر سرگرمی نہیں پائی گئی ،کشمیری عسکریت پسند اپنی کارروائیوں کو ریکارڈ کرنے کے لیے باڈی کیمروں کا استعمال کر رہے ہیں، جس میں ایک بھارتی افسر کا سر قلم کرنے سمیت گھات لگانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر گردش کر رہی ہیں، ہندوستانی فوجی حکام ان گروہوں کے بارے میں انٹیلی جنس جمع کرنے میں دشواریوں کا اعتراف کرتے ہیں، جس سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ فوج کی کوششوں کے لیے مقامی حمایت کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    تنازعہ نئے علاقوں میں پھیل رہا ہے، جیسے کہ جموں صوبہ، ایک ہندو اکثریتی علاقہ جس میں مجاہدین کے کم حملے ہوتے تھے تا ہم اب جموں میں مجاہدین کے حملے بڑھ چکے ہیں، مختلف مذہبی اور نسلی گروہوں میں بدامنی بڑھ رہی ہے، سکھ اور ہندو کمیونٹیز بھی بھارتی سیکورٹی فورسز سے عدم اطمینان کا اظہار کر رہی ہیں۔عسکریت پسند لچکدار حکمت عملی اپنا رہے ہیں،حملہ کرتے ہیں اور پھر تیزی سے غائب ہو رہے ہیں، اور پھر دوسرے مقامات پر حملہ کرنے کے لیے دوبارہ سامنے آ جاتے ہیں، ہندوستانی فوج کے عہدیداروں نے کشمیری مجاہدین کی بڑھتی ہوئی غیر متوقع کاروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، کچھ لوگوں نے بدلتی ہوئی صورتحال پر بے چینی اور خوف کے احساس کا اعتراف کیا ہے۔

    جموں کشمیر میں بھارتی مجاہدین کے حملوں پر دی گارڈین نے لکھا کہ انتخابات سے قبل کشمیر میں حریت پسندوں کے حملوں کی نئی لہر نے بھارتی افواج کو حیران کر دیا۔ ⁠انٹرنیشنل میڈیا نے بھارتی افواج اور حکومت کا بیانیہ اڑا کے رکھ دیا ، ⁠ایلس پیٹرسن نے گارڈین میں لکھا کہ حریت پسندوں نے بھارتی فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں۔ گارڈین میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق حریت پسند پہلے سے کہیں زیادہ پُر عزم ہیں جبکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کا مورال پست ترین سطح پر ہے۔ کشمیری مجاہدین جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔ ⁠ہندوستانی افواج کشمیری مجاہدین کی گوریلا جنگی حکمت عملیوں سے حیران ہو گئی ہیں جس میں عسکریت پسند اپنے اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بناتے ہیں اور ناہموار پہاڑی علاقے میں غائب ہو جاتے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے بڑھتے حملوں‌پر بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس بھی مودی سرکار پر سیخ پا ہو چکی ہے،کانگریس کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں مجاہدین کے حملوں کو روکنے میں مودی سرکارناکام ہو چکی ہے، کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے سری نگر میں پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مودی تیسری مدت کے لئے وزیراعظم بنے تب سے مقبوضہ کشمیر میں 98 دونوں میں 25 حملے ہو چکے ہیں،مودی سرکار نے دعویٰ کیا تھا کہ کشمیر میں امن ہو گا لیکن اب امن کہاں ہے،98 دنوں میں ہونے والے 25 حملوں میں 21 سیکورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 28 زخمی ہوئے ہیں،جموں میں امن تھا لیکن اب وہاں بھی حملے ہو رہے ہیں،

    جموں کشمیر،آئی ایس آئی کیلئے کام کرنے کا الزام لگاکر5 سرکاری اہلکار برطرف

    جموں حملے،بھارت نے نااہلی تسلیم کر لی،دو افسران کو عہدے سے ہٹا دیا

    پاک فوج کیخلاف پروپیگنڈہ،من گھڑت کہانی،ریان گرم اور مرتضیٰ کیخلاف ہو گی قانونی کاروائی

    بھارتی میڈیا کا پاک فوج کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ بے نقاب

    جموں ،بڑھتے حملوں کے بعد بھارتی فوج کے خصوصی دستے تعینات

  • یوم دفاع سے قبل مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی آرمی چیف کے پوسٹر آویزاں

    یوم دفاع سے قبل مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی آرمی چیف کے پوسٹر آویزاں

    کشمیریوں کی پاکستان سے محبت،یوم دفاع سے قبل پاکستان کے آرمی چیف کے مقبوضہ کشمیر میں پوسٹر لگ گئے

    پاکستانی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے مقبوضہ کشمیر کے ہائی سیکیورٹی زونز میں پوسٹر لگنے کے بعد بھارتی فوج، سیکورٹی اداروں میں خوف و ہراس پھیل گیا،نامعلوم افراد کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں حساس بھارتی فوجی تنصیبات کے ارد گرد پاکستانی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے پوسٹر لگا دیے گئے ہیں۔یہ پوسٹرز سری نگر جموں ہائی وے سمیت ، ہندوستانی ریلوے سٹیشنوں اور انتہائی سیکورٹی والے علاقوں میں آویزاں ہیں۔ہائی سیکیورٹی والے علاقوں میں پاکستانی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی حمایت میں پوسٹرز نے ہندوستانی فوج اور دیگر ہندوستانی اداروں میں خاصی تشویش پیدا کردی ہے

    بھارتی سیکورٹی اداروں نے پاکستانی آرمی چیف کے پوسٹر لگانے والوں کی تلاش شروع کر دی ہے،

    فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    شرپسند عناصر عوام اور مسلح افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    مضبوط جمہوریت کے لیے درست معلومات کا فروغ لازمی ہے۔آرمی چیف

    ارشد ندیم کے اعزاز میں جی ایچ کیو میں تقریب

  • پاکستان کے یوم آزادی پر جموں میں عسکریت پسندوں کا حملہ،بھارتی فوج کا کیپٹن ہلاک

    پاکستان کے یوم آزادی پر جموں میں عسکریت پسندوں کا حملہ،بھارتی فوج کا کیپٹن ہلاک

    پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر جموں کشمیر میں کاروائی، کشمیری عسکریت پسندوں کے حملے میں بھارتی فوج کا کیپٹن ہلاک ہو گیا ہے

    جموں و کشمیر کے ڈوڈا ضلع کے اسار جنگلاتی علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران 48 راشٹریہ رائفلز کے کیپٹن دیپک سنگھ ایک کارروائی میں مارے گئے ہیں آپریشن دہشت گردوں کی تلاش کے لئے شروع کیا گیا تھا، اس دوران کشمیری عسکریت پسندوں کے ساتھ بھارتی فوج کا مقابلہ ہو گیا، کشمیری عسکریت پسندون کی جانب سے حملے کے دوران کیپٹن دیپک سنگھ ہلاک ہو گیا ہے،بھارتی میڈیا کے مطابق سیکورٹی اداروں کو کئی اشیاء بشمول ایک امریکن ایم 4 اسالٹ رائفل برآمد کی گئی ہے تاہم عسکریت پسند موقع سے فرار ہو گئے ہیں، سیکورٹی فورسز انہیں گرفتار نہیں کر سکا،

    دوسری جانب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی زیر صدارت جموں و کشمیر میں عسکریت پسندوں کے بھارتی فوج پر بڑھتے حملوں کے حوالہ سے ایک اجلاس ہوا، دفاع کے سکریٹری گریردھر ارامانے، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول، آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی، ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل پراتیک شرما اور سیکورٹی سے متعلقہ ایجنسیوں کے سربراہان میٹنگ میں موجود تھے۔راج ناتھ سنگھ نے بھارت کے یوم آزادی سے ایک روز قبل اجلاس بلایا،جو ساؤتھ بلاک میں ہوا،عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر بھر میں سیکورٹی فورسز کو یوم آزادی سے قبل ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

    10 اگست کو اننت ناگ میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم دو فوجی اور ایک عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔یہ انکاؤنٹر اننت ناگ کے کوکر ناگ کے جنرل علاقے میں ہندوستانی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کے مشترکہ آپریشن کے دوران شروع ہوا تھا،حوالدار دیپک کمار یادو اور لانس نائک پروین شرما نے اننت ناگ میں ڈیوٹی کے دوران اپنی جانیں قربان کیں۔حالیہ مہینوں میں، جموں میں حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس میں کٹھوعہ میں فوجی قافلے پر حملہ اور ڈوڈا اور ادھم پور میں جھڑپیں شامل ہیں۔جولائی میں، وزارت داخلہ نے لوک سبھا میں کہا تھا کہ اس سال 21 جولائی تک   11 واقعات اور 24 انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں سمیت 28 لوگ مارے گئے ہیں،

    جموں کشمیر،آئی ایس آئی کیلئے کام کرنے کا الزام لگاکر5 سرکاری اہلکار برطرف

    جموں حملے،بھارت نے نااہلی تسلیم کر لی،دو افسران کو عہدے سے ہٹا دیا

    پاک فوج کیخلاف پروپیگنڈہ،من گھڑت کہانی،ریان گرم اور مرتضیٰ کیخلاف ہو گی قانونی کاروائی

    بھارتی میڈیا کا پاک فوج کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ بے نقاب

    جموں ،بڑھتے حملوں کے بعد بھارتی فوج کے خصوصی دستے تعینات

  • جموں حملے،بھارت نے نااہلی تسلیم کر لی،دو افسران کو عہدے سے ہٹا دیا

    جموں حملے،بھارت نے نااہلی تسلیم کر لی،دو افسران کو عہدے سے ہٹا دیا

    جموں کشمیر میں مقامی کشمیریوں‌کے بڑھتے حملوں کو روکنے میں ناکامی پر مودی سرکار نے دو افسران کے خلاف کاروائی کی ہے، اور انہیں عہدے سے ہٹا دیا ہے

    مودی سرکار نے ڈی جی بارڈر سیکورٹی فورس نتن اگروال کو ڈی جی کے عہدے سے ہٹا یا ہے اور انہیں اصل کیڈر یعنی کیرالہ کیڈر میں واپس بھیج دیا گیا، اسپیشل ڈی جی وائی بی کھرانیہ کو بھی عہدے سے ہٹا کر اڈیشہ کیڈر میں واپس بھیج دیا گیاہے۔

    جموں کشمیر میں مقامی کشمیری عسکریت پسندوں کے حملوں کا الزام مودی سرکار نے پاکستان پر لگایا تھا تا ہم اب مودی سرکار نے افسران کی نااہلی تسلیم کر لی کیونکہ وہ حملوں کو روکنے میں ناکام رہے اور دو افسران کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں عہدوں سے ہٹایا گیا ہے.بارڈر سیکورٹی فورس، بی ایس ایف کی ذمہ داری بین الاقوامی سرحد اور ایل او سی کی حفاظت ہے لیکن بی ایس ایف حملوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، آئے روز کشمیر میں حملے مسلسل بڑھ رہے ہیں

    1989 بیچ کے کیرالہ کیڈر کے آئی پی ایس افسر نتن اگروال نے گزشتہ برس جون میں بارڈر سیکورٹی فورس کے نئے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالا تھا،تاہم وہ کشمیرمیں جاری عسکریت پسندی کو ختم نہ کر سکے جس کی وجہ سے انہیں جموں سے ہٹا دیا گیا ہے.

    بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ ماہ نتن اگروال اور کھرانیانے ایل او سی کا دورہ کیا تھا، کئی اہم اجلاسوں کی صدارت کی تھی، اور حکم دیا تھا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیاں بڑھائی جائیں لیکن اسکے مقابلے میں عسکریت پسندوں نے جارحانہ انداز دکھایا اور جموں میں کوئی دن ایسا نہیں گزر رہا جس دن بھارتی فوج پر حملہ نہ ہوا ہو.

    بھارتی وزارت داخلہ نے ایس ایس بی کے ڈائرکٹر جنرل دلجیت سنگھ چودھری کو اگلے حکم تک بی ایس ایف کے ڈی جی کی اضافی ذمہ داری دے دی ہے،۔ 1990 بیچ کے آئی پی ایس افسر دلجیت سنگھ نے اس سال جنوری میں ایس ایس بی ڈائرکٹر جنرل کے طور پر اپنا عہدہ سنبھالا تھا،

    رواں برس جموں کے علاقوں راجوری، پونچھ، ریاسی، اودھم پور، کٹھوا اور ڈوڈہ میں بھارتی فوج کے 11 اہلکاروں سمیت 22 افراد جان سے جا چکے ہیں، سرحد پر تعینات بی ایس ایف نے کسی طرح کی دراندازی سے صاف انکار کیا ہے اس کے باوجود حملے ہو رہے ہیں،

    پاک فوج کیخلاف پروپیگنڈہ،من گھڑت کہانی،ریان گرم اور مرتضیٰ کیخلاف ہو گی قانونی کاروائی

    بھارتی میڈیا کا پاک فوج کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ بے نقاب

    میں نے خلیل الرحمان قمر کو ہنی ٹریپ نہیں کیا،آمنہ کی درخواست ضمانت دائر

    خلیل الرحما ن قمر کیس،آمنہ عروج کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جیل بھجوا دیا گیا

    نازیبا ویڈیو”لیک” ہونے سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا،خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

  • کپواڑہ،بھارتی فوج پر حملہ،ایک فوجی ہلاک،میجر سمیت چار زخمی،الزام پاکستان پر لگ گیا

    کپواڑہ،بھارتی فوج پر حملہ،ایک فوجی ہلاک،میجر سمیت چار زخمی،الزام پاکستان پر لگ گیا

    جموں کشمیر، بھارتی فوج کے لئے "جہنم” بن گیا، آئے روز عسکریت پسندوں کے حملوں نے بھارتی فوج کے حوصلے پست کر دیے، فوجیوں کی ہلاکتوں کے بعد بھارت نے ہمیشہ کی طرح پاکستان پر الزام تراشی کی ،حالانکہ جموں میں کشمیری عسکریت پسند ہی بھارتی فوج کے خلاف برسرپیکار ہیں

    آج صبح جموں کے علاقے کپواڑہ،کمکاری میں بھارتی فوج پر مقامی عسکریت پسندوں نے حملہ کیا، اس حملے میں بھارتی فوج کا ایک اہلکار جہنم واصل جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیاہے، واقعہ کے بعد بھارتی فوج نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، حملے میں‌بھارتی فوج کا میجر بھی زخمی ہوا ہے،اس دوران بھارتی فوج نے ایک عسکریت پسند کو شہید کر دیا، جس کے بعد بھات نے الزام عائد کیا کہ حملہ آور پاکستانی تھا،

    کپواڑہ میں گزشتہ تین دنوں کے دوران عسکریت پسندوں کا بھارتی فوج پر یہ دوسرا بڑا حملہ ہے،منگل 23 جولائی کو بھی کپواڑہ میں بھارتی فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم ہوا تھا۔ پچھلے کچھ ہفتوں سے جموں و کشمیر کے کسی نہ کسی ضلع میں تقریبا روزانہ عسکریت پسند بھارتی فوج پر حملہ کر رہے ہیں، بھارتی میڈیا دعویٰ کر رہا ہے کہ جموں کشمیر کے پہاڑی اضلاع کے بالائی علاقوں میں 40 سے 50 پاکستانی عسکریت پسندوں کے ہونے کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد سیکورٹی فورسز سرچ آپریشن کر رہی ہے

    جموں کشمیر میں مقامی کشمیری عسکریت پسندوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد بھارتی فوج نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے ہمیشہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا،اور جھوٹے فالس فلیگ آپریشن کئے، بھارتی فوج کی جانب سے مقامی کشمیریوں کی تذلیل، بدسلوکی کے بعد بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان بھارتی فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور آئے روز بھارتی فوج پر حملے کرتے نظر آتے ہیں،بھارتی فوج جموں کشمیر میں کشمیریوں کے گھروں کو نہ صرف جلاتی ہےبلکہ نوجوانوں‌کو بھی اغوا کر لیتی ہے،

    برسوں پہلے بھارت نے پروپیگنڈہ اور جھوٹے فلیگ آپریشنز کی مہم شروع کی، معصوم کشمیریوں کو قتل کیا، ان کی شناخت کو چھپایا گیا اور بعد میں پاکستان پر الزام لگا دیا گیا،حالیہ کپواڑہ فالس فلیگ آپریشن بھارت کی طرف سے اپنی ناکامیوں کا الزام پاکستان پر ڈالنے کی ایک اور کوشش ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کشمیر میں اپنا کنٹرول کھو رہا ہے، کیونکہ مقامی لوگ ان اقدامات کے خلاف بے خوف ہو کر اٹھ کھڑے ہو رہے ہیں۔

    جموں و کشمیر پولیس کے حکام کے مطابق جموں خطہ میں امن تھا لیکن عسکریت پسند پھر متحرک ہو گئے،جموں کے مغربی حصے میں کٹھوعہ سانبہ علاقے میں ہونے والے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکریت پسند سرحدی علاقوں میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں، یہ علاقے جموں کا حصہ ہونے کے باوجود فوج کی مغربی کمان کے تحت آتے ہیں جو انسداد دہشت گردی آپریشن نہیں کرتی،بھارتی میڈیا کے مطابق جموں میں بڑھتے حملوں میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کا نام لیا جا رہا ہے، پولیس کے مطابق جموں خطے میں تقریباً تمام حملے غیر ملکی عسکریت پسندوں نے کیے ہیں.

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • جموں ،بڑھتے حملوں کے بعد بھارتی فوج کے خصوصی دستے تعینات

    جموں ،بڑھتے حملوں کے بعد بھارتی فوج کے خصوصی دستے تعینات

    جموں میں‌ عسکریت پسندوں‌کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں نے بھارتی فوج کو پریشان کر دیا،جموں میں حملوں کے بعد فوج کی بریگیڈ تعینات کر دی گئی ہے تو وہیں خصوصی کمانڈوز کا ایک دستہ بھی تعینات کر دیا گیا ہے

    جموں میں حالیہ چند دنوں میں کشمیری عسکریت پسندوں نے بھارتی فوج پر پے درپے حملے کیے ہیں، ان حملوں میں بھارتی فوج کو ہزیمت اٹھانا پڑی ہے، عسکریت پسند کاروائی کرتے ہیں، اپنے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں اور پھر روپوش ہو جاتے ہیں، گزشتہ دنوں جموں میں ایک حملے کے دوران کیپٹن سمیت 5 بھارتی فوجی مارے گئے تھے،اس سے قبل ایک حملے میں 5 فوجی ہلاک ہوئے تھے، رواں برس 11 فوجی جموں میں ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بھارتی فضائیہ کا اہلکار بھی شامل ہے،دوسری جانب جموں میں بھارتی فوج عسکریت پسندوں کی تلاش میں ہے تا ہم رواں برس اب تک صرف 5 عسکریت پسندوں کو بھارتی فوج نشانہ بنا چکی ہے،

    پانچ اگست 2019 میں آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت جموں کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد جموں میں عسکریت پسندوں کی کاروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج پانڈے نے 2023 میں کہا تھا کہ جموں میں‌عسکریت پسندی پر قابو پا لیا گیا ہے، 2018 تک اس علاقے میں امن تھا تا ہم ابھی بھی کچھ حالات بہتر نہیں ہیں، 2022 اور 2023 میں جموں کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پر تین تین حملے ہوئے ، لیکن رواں برس ان حملوں میں اضافہ ہو چکا ہے، ابھی چھ ماہ میں ہی جموں میں بھارتی فوج پر آٹھ حملے ہو چکے ہیں، بھارتی میڈیا کے مطابق جموں میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافے کی ایک وجہ 2021 کے بعد وہاں فوجی تعیناتی میں کمی تھی۔

    جموں و کشمیر پولیس کے حکام کے مطابق جموں خطہ میں امن تھا لیکن عسکریت پسند پھر متحرک ہو گئے،جموں کے مغربی حصے میں کٹھوعہ سانبہ علاقے میں ہونے والے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکریت پسند سرحدی علاقوں میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں، یہ علاقے جموں کا حصہ ہونے کے باوجود فوج کی مغربی کمان کے تحت آتے ہیں جو انسداد دہشت گردی آپریشن نہیں کرتی،بھارتی میڈیا کے مطابق جموں میں بڑھتے حملوں میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کا نام لیا جا رہا ہے، پولیس کے مطابق جموں خطے میں تقریباً تمام حملے غیر ملکی عسکریت پسندوں نے کیے ہیں.

    جموں میں فوج پر بڑھتے ہوئے حملوں‌پر بھارت کی سیاسی جماعتیں بھی مودی سرکار پر تنقید کر رہی ہیں، کانگریس نے بھی سوال اٹھایا ہے تو وہیں اویسی بھی برہم ہوئے ہیں، سوشل میڈیا پر بھی مودی سرکار پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے،کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے مودی سرکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک کے بعد ایک ایسے خوفناک واقعات انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہیں یہ مسلسل د حملے جموں و کشمیر کی خستہ حالی کو ظاہر کر رہے ہیں بی جے پی کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ ہمارے فوجی اور ان کے اہل خانہ بھگت رہے ہیں۔ کانگریس رہنما جے رام رمیش کا کہنا تھا کہ صرف جموں میں گذشتہ 78 دنوں میں 11 حملے ہوئے ہیں یہ بالکل نئی چیز ہے۔ ہم تمام سیاسی جماعتوں کو اس کے خلاف ایک موثر اجتماعی ردعمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، لیکن یہ سوال بھی پوچھا جانا چاہیے کہ خود ساختہ غیر حیاتیاتی وزیر اعظم اور خود ساختہ چانکیہ (مراد امت شاہ) کے ان تمام بڑے دعوؤں کا کیا ہوا؟

    جموں میں بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد فوج کی ایک بریگیڈ کو تعینات کر دیا گیا ہے، جموں میں 3,000 فوجیوں اور 500 خصوصی دستوں سمیت بریگیڈ سطح کی فورس کو تعینات کی گئی ہے،یہ تعیناتی 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35-A کی منسوخی کے بعد سے خطے میں عسکریت پسندی سے متعلق واقعات کی ایک سیریز کے بعد ہوئی،بھارتی آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی جموں میں سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہیں آج وہ جموں کا دورہ کریں گے اور صورتحال کا جائزہ لیں گے،

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • مقبوضہ کشمیرسمیت دنیا بھرمیں مقیم کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں

    مقبوضہ کشمیرسمیت دنیا بھرمیں مقیم کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ)مقبوضہ کشمیرسمیت دنیا بھرمیں مقیم کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں ،کشمیریوں نے آج ہی کے دن 1947ء کو پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا۔

    19 جولائی 1947ء کو آبی گزر سرینگر کے مقام پر بانی صدر آزاد جموں و کشمیر غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور ہوئی لیکن 26 اکتوبر 1947 کو کشمیر کے مہا راجا نے عوامی خواہشات کے برخلاف بھارت سے الحاق کا اعلان کر دیا جس کے بعد سے اب تک کشمیری عوام نے تکمیل پاکستان کیلئے قربانیوں کی عظیم داستانیں رقم کی ہیں۔

    یوم الحاق پاکستان کے موقع پر دنیا بھر میں تقاریب اور مظاہروں کا اہتمام کیا جائے گا، بھارتی مظالم اور قبضے سے آزادی اور جموں و کشمیر کا پاکستان سے الحاق یقینی بنانے کیلئے جدوجہد تیز کرنے کے عہد کی تجدید بھی کی جائے گی۔

    آزاد کشمیر کے وزیر جاوید احمد بٹ نے کہا ہے کہ بھارت سے مکمل آزادی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے پاکستان کیساتھ الحاق تک کشمیری عوام آج بھی اپنے آباؤ اجداد کی طرح مختلف محاذوں پر جدوجہد آزادی میں مصروف ہیں۔

    انہوں نے کہا بھارت کشمیریوں کو ان کے پیدائشی حق سے محروم رکھنے کیلئے مقبوضہ جموں وکشمیر میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے، صرف 90 کی دہائی سے اب تک بھارت نے 97 ہزار کشمیریوں کو بے دردی سے شہید کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق 7 دہائیوں میں 5 لاکھ سے زائد کشمیریوں نے مقبوضہ وادی کی آزادی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا

    بھارتی سکیورٹی فورسز کے بدترین مظالم اور کٹھ پتلی انتظامیہ کے ہتھکنڈے بھی کشمیریوں کے دلوں سے پاکستان کی محبت نہیں نکال سکے ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر،ہندویاتریوں کی بس پر فائرنگ،10 ہلاک ،33 زخمی

    مقبوضہ کشمیر،ہندویاتریوں کی بس پر فائرنگ،10 ہلاک ،33 زخمی

    مقبوضہ کشمیر میں ہندویاتریوں کی بس پر فائرنگ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہو گئے ہیں

    مقبوضہ کشمیر میں واقعہ اتوار کو پیش آیا جب ہندو یاتریوں کی بس پر فائرنگ کی گئی،واقعہ عین اسوقت ہوا جب بھارتی وزیراعظم مودی اپنے عہدے کا حلف لے رہے تھے،فائرنگ کے بعد بس ڈرائیور سے بے قابو ہو کر کھائی میں گر گئی جس کی وجہ سے ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں،بھارتی پولیس کے مطابق ہندو یاتری ریاسی میں واقع شیوکوٹری مندر سے کاٹرا واپس جا رہے تھے،پولیس نے مقامی دیہاتیوں کی مدد سے بس میں سوار ہندویاتریوں کو کھائی سے باہر نکالا اور طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا، لاشوں کو بھی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے.

    بھارتی میڈیا کے مطابق دو نقاب پوش ملزمان نے ہندو یاتریوں کی بس پر فائرنگ کی اور فرار ہو گئی، ڈرائیور کو گولی لگی اور وہ زخمی ہوا جس کے بعد بس اس کے کنٹرول میں نہ رہی اور کھائی میں گری، واقعہ ریاسی اور راجوری اضلاع کے سرحد پر ہوا،پولیس کا کہنا ہے کہ بس پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے،واقعہ میں ہلاک ہونے والے ہندو یاتریوں کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے.

    ملزمان اچانک سامنے آئے اور فائرنگ کرنا شروع کر دی، سنتوش کمارورما
    بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بس پر فائرنگ کے واقعہ میں یوپی کے رہائشی سنتوش کمارورما بھی زخمی ہوئے ہیں، سنتوش نے میڈٰیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بس پر ہم شیو کھوڑی سے کٹرا کی طرف جا رہے تھے جب بس پر گولیاں چلیں،ملزمان اچانک سامنے آئے اور فائرنگ کرنا شروع کر دی،تقریبا بیس تک فائرنگ ہوتی رہی،ڈرائیور کو گولی لگی اور بس کھائی میں گر گئی، فائرنگ کرنے والوں میں سے ایک ہمارے سامنے تھا جبکہ باقی اطرا ف سے گولیاں آئیں لیکن کوئی سامنے نہیں تھا، ملزمان نے بیس منٹ وقفے وقفے سے فائرنگ کی،اور فرار ہو گئے.

    یوپی کے ہی رہائشی نیلم گپتا کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے کتنے لوگ تھے کوئی اندازہ نہیں،بس کھائی میں گرنے کی وجہ سے ہم نہیں دیکھ سکے، بس میں چالیس مسافر تھے جن میں بچے بھی شامل تھے، حملے میں میرے شوہر ،بہنوئی، بھابی بھی زخمی ہوئی ہیں.

    بس میں سوار ایک اور یاتری جو واقعہ میں زخمی ہوا نے میڈیا کو بتایا کہ کم از کم چھ سات فائرنگ کرنے والے لوگ ہوں گے، انہوں نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا، بس کو گھیر کر فائرنگ کی گئی، جب بس کھائی میں گری تو اسکے بعد بھی فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا،

    لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے ہندویاتریوں کی بس پر حملے کے بعد کا صورتحال کا جائزہ لیا ہے،انہوں نے ہدایت کی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنائیں اس گھناؤنے فعل کے پیچھے جو بھی ہے اسے جلد سزا دی جائے گی۔

    ریاسی جیسے محفوظ علاقے میں بس پر فائرنگ،بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن،پاکستان پر الزام لگائے جانے کا امکان
    مقبوضہ کشمیر میں بس پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد قوی امکان ہے کہ ماضی کی طرح بھارت پاکستان پر الزام عائد کرے گا.مودی اپنی کمزور حکومت کے قدم جمانے اوربھارت کے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئےاس حملے کا الزام بھی پاکستان پر لگا دیں گے، ماضی میں بھی بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے اس طرح کے الزامات عائد کرچکا ہے،بالاکوٹ حملہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے یہاں یہ بات بھی حیران کن ہے کہ ضلع ریاسی پڑوسی علاقوں راجوری اور پونچھ کے مقابلے میں محفوظ علاقہ ہے ۔ یہاں پر اس طرح کے واقعہ کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن ہے ، جس کا سیاسی فائدہ اٹھایا جائے گا ،نریندر مودی اپنی کمزور حکومت سے توجہ ہٹانے کیلئے اس قدر سنگدل ہو چکا ہے کہ وہ اپنے ہندو یاتریوں کو بھی قتل کرکے اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرے گا ۔ انھیں اس طرح کی چالوں کی بجائے بھارت کے اندرونی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔