Baaghi TV

Category: کشمیر

  • نو ماہ تک کشمیر میں لاک ڈاؤن پر خاموشی، پہلے کرونا کی وجہ سے دنیا میں لاک ڈاؤن اور اب امریکہ میں کرفیو

    نو ماہ تک کشمیر میں لاک ڈاؤن پر خاموشی، پہلے کرونا کی وجہ سے دنیا میں لاک ڈاؤن اور اب امریکہ میں کرفیو

    سری نگر:نو ماہ تک کشمیر میں لاک ڈاؤن پر خاموشی، پہلے کرونا کی وجہ سے دنیا میں لاک ڈاؤن اور اب امریکہ میں کرفیو،باغی ٹی وی کے مطابق کشمیر میں بھارتی مظالم پرچپ رہنے والے اور کشمیر میں کرفیو اورلاک ڈاون جیسے ہتھکنڈوں پرمجرمانہ خاموشی رکھنے والے امریکہ پروہی کیفیت طاری ہوگئی ہے جو جس قسم کی کیفیت کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی طرف سے پیدا کی گئی تھی

    ذرائع کے مطابق 5 اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد جس طرح بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کی چیخ وپکارپرعالمی برادری نے خاموشی اختیارکی اورخاص کرامریکہ جیسی عالمی قوت نے اس موقع مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون ختم کرنے اور کرفیو اٹھانے کے حوالے سے بھارت کو مجبورنہ کیا توآج خود امریکہ اسی کیفیت سے دوچارہے

     

    باغی ٹی وی کے مطابق ویسے تو مقبوضہ کشمیر پربھارتی تسلط کو پون صدی ہوچکی ہے لیکن پچھلے سال 5 اگست کو بھارت نے جو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی ہے اس کے بعد تو کشمیریوں کی زندگی اورمشکل ہوگئی ہے ،پہلے کشمیری گھروں سے باہرنکل کر احتجاج لیا کرتے تھے تاہم نو ماہ ہوچکے ہیں کشمیریوں کے دروازوں پربھارتی فوجی بندوق لے کر کھڑے ہیں اورگھر سے باہرجھانکنے بھی نہیں دیتے

     

    اس دوران مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر سے کشمیریوں اور کشمیریوں سے محبت کرنے والوں نے عالمی برادری سے خصوصی اپیلیں کیں کہ کشمیرمیں سے بھارتی قابض افواج کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کو روکے خصوصا امریکہ جیسی عالمی طاقت سے مطالبات سامنے آئے لیکن امریکہ نے کوئی پرواہ تک نہیں

     

    ذرائع کے مطابق پچھلے سال 5 اگست سے لیکر اب تک 300 سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے ، زخمی کشمیریوں کی تعداد بھی کم نہیں ، لیکن اس کے باوجود امریکہ جیسی عالمی طاقت کو کوئی احساس نہیں ہوا

     

    بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کو تحریک آزادی کی صدا کو دبانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے قانون میں تبدیلی کی اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کے نئے دور کا آغاز کیا، ویسے تو کشمیریوں پر ظلم و ستم برسوں پہلے شروع ہوا تھا اور کشمیر کی تقسیم اور بندر بانٹ اونے پونے داموں کرنے کا آغاز کیا گیا تھا مگر ان سب کے باوجود کشمیریوں کی صدائے حریت بھی برسوں سے ہی گونج رہی ہے۔

     

    بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کیا اور لاک ڈاؤن کے دوران موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی اور پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا اور قرار داد اکثریت کی بنیاد پر منظور کرلی گئی۔

     

    بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے لیے آرڈیننس پر دستخط کیے تاہم اس کا نفاذ گزشتہ سال ہی اکتوبر میں کردیا گیا۔

     

    بھارتی حکومت نے 5 اگست کے اقدام سے دو روز قبل دہشت گردی کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے تمام غیر ملکی اور ملکی سیاحوں کو جموں و کشمیر چھوڑنے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی 10 ہزار اضافی فوج بھی وادی میں بھیج دی جبکہ مزید 25 ہزار نفری کو بھی طلب کیا گیا، بھارتی حکومت کے اس اعلان کے ساتھ ہی سیاحوں نے بھی مقبوضہ وادی سے واپسی شروع کی، دہشت گرد حملے کے خطرات کی وارننگ جاری کرنے پر وادی میں موجود ہزاروں سیاح اور طلبا میں خوف و ہراس پھیل گیا اور واپسی کے لیے قطاریں لگ گئیں، ہزاروں سیاحوں نے سری نگر ایئرپورٹ کا رخ کیا جن میں سے اکثریت کے پاس ٹکٹ بھی نہیں تھے۔

     

    • اس موقع پر بھارتی فوج نے کشمیریوں پر ریاستی تشدد بھی جاری رکھا اور 3 اگست کو ضلع بارامولا اور شوپیاں میں محاصرہ کرکے آپریشن کے دوران 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا، بھارتی فوجی نے ایک روز قبل ہی اسی علاقے میں نوجوان زینت الاسلام کو بھی قتل کیا تھا، یہ کارروائی اگست میں پھیلنے والے اندھیرے کی نوید بھی تھی جو طویل جبر کی رات کا پیش خیمہ بنی،یوں 3 اگست سے ہی کشمیریوں پرظلم کی نہ مٹنے والے رات شروع کردی گئی

    امریکہ جو اس وقت ایک نہیں کئی بحرانوں کی زد میں ہے ، ایک طرف کرونا سے تباہی مچی ہوئی ہے دوسری طرف مقبوضہ کشمیر سے نظریں چرانے والے امریکہ کو وہی صورت حال درپیش ہے ،

     

     امریکہ میں کرونا کی وجہ سے مظاہرے

        
    آدھی سے زیادہ دنیا ابھی تک لاک ڈاؤن میں ہے اور بہت احتیاط کے ساتھ آہستہ آہستہ معیشت کے پہیے کو چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    ان ریاستوں میں لوگ لاک ڈاؤن کے خلاف گذشتہ چند دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں جس میں اب میں شدت آتی جا رہی ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی تصاویر میں امریکی ریاستوں میں جاری احتجاجی مظاہروں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے جس میں شہری لاک ڈاؤن کی پرواہ کیے بغیر سینکڑوں کی تعداد میں سراپا احتجاج ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مختلف ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے خلاف بڑھتے ہوئے مظاہروں کی حمایت کر رہے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان تمام ریاستوں میں ڈیموکریٹس کے گورنرز ہیں، تاہم انہوں نے اوہائیو اور اوٹاوا کا نام شامل نہیں کیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے معیشت کو کھولنے کے لیے دی گئی گائیڈ لائنز میں ریاستوں کے گورنرز کو لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا اختیار دیا تھا۔

    لیکن جمعے کو اپنی ٹویٹ میں انہوں نے کہا ’مشی گن، منی سوٹا اور ورجینیا کو آزاد کرو‘، جس پر ان ریاستوں میں ڈیموکریٹس رہنماؤں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق رواں ہفتے جن امریکی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے ہوئے ان میں ورجینیا، منی سوٹا، ٹیکساس، مشی گن، کیلفورنیا اور واشنگٹن شامل ہیں اور یہ سلسلہ دیگر ریاستوں تک بھی پھیل رہا ہے۔

    دوسرے ممالک کی نسبت امریکہ میں کورونا متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اب تک سات لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جب کہ 40 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

     

    اس وقت کرونا سے ایک لاکھ سے زائد امریکی ہلاک ہوچکے ہیں ، آج امریکہ سے ملنے والے اعدادوشمار کے مطابق اب تک 10575 امریکی کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں

     

    جبکہ کرونا وائرس کے شکارہونے والے امریکیوں کی تعداد 18 لاکھ 17 ہزارسے تجاوز کرچکی ہے،

     

    کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ کو اب تک 5 کھرب ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے ، یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ کرونا کی وجہ سے 50 لاکھ سے زائد امریکی روزگار سے محروم ہوچکے ہیں ، جبکہ پہلے ہی اڑھائی کروڑ امریکی نوکریوں کی تلاش میں ادھر ادھر گھوم رہے تھے

     

    یہ تو کرونا کی وجہ سے ہونا والے نقصان کا ابتدائی تخمینہ ہے ، دوسری طرف امریکہ میں ذات پات اوررنگ ونسل کی بنیاد پر بہت زیادہ لڑائیاں ہوتی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ چند دن قبل ایک سفید     فام امریکی پولیس والے کے ہاتھوں ایک سیاہ فام کے قتل کے بعد پھوٹنے والے ہنگاموں نے امریکہ کی رہی سہی کسر نکال دی اوراب تک 17 ریاستوں کے 29 بڑے شہروں میں کرفیو نافذ ہے ،

     

     

    کشمیر میں کرفیو اورلاک ڈاون پرنظریں چرانے والے امریکہ کو بالکل ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے اورمہذب امریکہ جو دنیا کو چھوٹی چھوٹی بات پرجھاڑ پلا دیتا تھا اب اپنے ملک کے حالات اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ اپنے ہی شہیریوں کے خلاف فوج اتارکران کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں

     

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کرونا کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے علاوہ جو نقصان ان مظاہروں اورہنگاموں کی صورت میں ہوا ہے اس کا تخمیہ بھی 35 ارب ڈالرز سے زائد ہے اوریہ بھی بتایا جارہا ہےکہ ان فسادات مین اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں

     

      امریکہ اپنے انجام کی طرف رواں دوان : مظاہروں میں شدت، 17 ریاستوں کے 29 شہروں میں کرفیو نافذ،حالات پھربھی بے قابو,اطلاعات کے مطابق امریکا میں ایک پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر ہونے والے پر تشدد مظاہروں کے بعد 17 ریاستوں کے 29 شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔

     

    پولیس کی برسائی جانے والی گولیاں اور شیلز لگنے سے متعدد لوگ زخمی ہوئے—تصویر: اے پی

     

    غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار نے اس کی گردن پر اس سختی سے اپنا گھٹنا رکھا ہوا تھا کہ وہ آخر کار سانس نہ آنے کی وجہ سے دم توڑ گیا تھا۔

    جس کے بعد مینیا پولس شہر میں ہنگامہ مچ گیا اور مشتعل مظاہرین گھروں سے نکل آئے، پولیس اسٹیشنز سمیت کئی عمارتوں کو آگ لگائی، کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور اسٹورز کو لوٹ لیا گیا۔

    اس کے علاوہ مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگادی اور براہِ راست پتھراؤ بھی کیا جبکہ پولیس کی جانب سے ان پر ربر کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیلز برسائے گئے۔

     

    احتجاج کا یہ سلسلہ پر امن انداز میں شروع ہوا تھا جو پولیس کے ساتھ جھڑپوں اور اشتعال انگیزی میں تبدیل ہوا اور برسوں سے پولیس کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی مذمت کے لیے یہ بے امنی اس وقت ایک قومی رجحان کا روپ دھار چکی ہے۔

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق حکام نے 17 ریاستوں کے 29 شہروں میں کرفیو نافذ کرنے کے بعد ڈسٹرک کولمبیا سمیت درجنوں ریاستوں میں نیشنل گارڈ کو طلب کرلیا گیا ہے۔

    جن شہروں میں کرفیو نافذ کی گیا ان میں لاس اینجلس، میامی، اٹلانٹا، شگاگو، منی پولس، سینٹ پاؤل، کلیولینڈ، کولمبس، پورٹ لینڈ، فلاڈیلفیا، پٹس برگ، چارلسٹن، کولمبیا، نیش ولے اور سالٹ لیک سٹی شامل ہیں۔

    احتجاج کے دوران مظاہرین جارج فلائیڈ کے دم توڑتے ہوئے الفاظ ’مجھے سانس نہیں آرہی‘ کے نعرے لگاتے نظر آئے اور اب تک کی کشیدہ صورتحال میں مختلف ریاستوں میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

    علاوہ ازیں پولیس کی برسائی جانے والی گولیاں اور شیلز لگنے سے متعدد لوگ زخمی ہوئے جبکہ انڈیانا پولس میں ایک شخص کی ہلاکت بھی ہوئی۔

    ادھر 4 روز سے منی پولس میں جاری آتش زنی، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے باعث جنگ عظیم دوم کے بعد پہلی مرتبہ منی سوٹا نیشنل گارڈ کو پوری طرح متحرک کردیا گیا۔

    منی سوٹا میں نیشنل گارڈ کو متحرک کردیا گیا—تصویر: اے پی
     

    اس سلسلے میں منی سوٹا گورنر کا کہنا تھا کہ گارڈز کی تقرری ضروری تھی کیوں کہ بیرونی جارحیت پسند جارج فلائیڈ کی ہلاکت پر ہونے والے احتجاج کو انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

    اس کے علاوہ غیر معمولی طور پر پینٹاگون کی جانب سے بیان سامنے آیا کہ منی سوٹا کے گورنر کی جانب سے امن برقرار رکھنے میں مدد کی درخواست کرنے کی صورت میں فوجی دستوں کو 4 گھنٹوں کے نوٹس پر الرٹ رہنے کا کہہ دیا گیا ہے۔

    امریکا میں کئی ہفتوں سے جاری کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد سڑکوں پر مظاہرین کی بڑی تعداد کی موجودگی نے بحرانی کیفیت کو ہوا دی ہے۔

    ادھر دارالحکومت واشنگٹن میں بھی سیکڑوں مظاہرین نے محکمہ انصاف کی عمارت کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ’سیاہ فاموں کی جانیں اہم ہیں‘ کے نعرے لگائے، جس کے بعد متعدد افراد وائٹ ہاؤس کی جانب چل پڑے جہاں انہیں بھاری تعداد میں شیلڈز پکڑے پولیس اہلکاروں کا سامنا ہوا۔

    اس ضمن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر لیفیٹ اسکوائر پر جمع ہونے والے مظاہرین نے وائٹ ہاؤس کے پار جنگلے کو توڑنے کی کوشش کی تو ’ان کا استقبال اس طرح کے خطرناک ترین کتوں اور پر آشوب ہتھیاروں سے کیا جائے گا جو شاید ہی میں نے دیکھے ہوں‘

  • جموں و کشمیر: کورونا سے مزید 177 افراد متاثر پولیس اہلکار کا ٹیسٹ مثبت، کٹھوعہ پولیس اسٹیشن بند

    جموں و کشمیر: کورونا سے مزید 177 افراد متاثر پولیس اہلکار کا ٹیسٹ مثبت، کٹھوعہ پولیس اسٹیشن بند

    سرینگر:جموں و کشمیر: کورونا سے مزید 177 افراد متاثرپولیس اہلکار کا ٹیسٹ مثبت، کٹھوعہ پولیس اسٹیشن بند ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے 177 نئے مثبت کیسزسامنے آئے ہیں جن میں 125 کا تعلق کشمیر صوبے اور 52 کا جموں صوبے سے ہیں۔اس طرح علاقے میں مثبت معاملات کی کل تعداد 2341 تک پہنچ گئی ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جموں و کشمیر انتظامیہ کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے 2341 مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے 1405 سرگرم کیسزہیں۔اس وائرس سے 28 افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔ اب 908 افراد شفایاب ہوئے ہیں۔علاوہ ازیں اب تک 165225 افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفری پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ ان میں 36538 افراد کو ہوم کورنٹین میں رکھا گیا ہے جس میں انتظامیہ کی طرف سے چلائے جارہے قرنطینہ مراکز بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ 1405 کو ہسپتال آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ 43514 افراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق 83654 افراد نے 28 روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تک 164581 ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے 30 مئی 2020 کی شام تک 162240 نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ کے پولیس اسٹیشن میں تعینات ایک پولیس اہلکار کا کوروناوائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد مذکورہ پولیس اسٹیشن کو بند کردیا گیا ہے۔اورزنانہ پولیس اسٹیشن کٹھوعہ کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ مذکورہ پولیس اسٹیشن میں تعینات تمام پولیس اہلکاروں کا کورونا ٹیسٹ منفی آنے تک اس کا کام کاج سنبھالے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ایس ایس پی کٹھوعہ ڈاکٹر شیلندر مشرا نے کہا کہ کٹھوعہ پولیس اسٹیشن میں تعینات ایک پولیس اہلکار کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے گرچہ وہ غیر علامتی تھا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ کٹھوعہ پولیس اسٹیشن تب تک بند رہے گا جب تک اس میں تعینات تمام اہلکاروں کے ٹیسٹ منفی آئیں گے۔

  • اننت ناگ میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپ،سرچ آپریشن شروع

    اننت ناگ میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپ،سرچ آپریشن شروع

    سرینگر:اننت ناگ میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپ،سرچ آپریشن شروع،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں سکیورٹی فورسز کو اننت ناگ کے پوش کیری علاقہ میں دو سے تین عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد آرمی، ایس او جی اور سی آر پی ایف نے علاقہ کو محاصرہ میں لے لیا۔جس کے بعد اتوار کو علی الصبح2بجے کے قریب مقبوضہ جموں و کشمیر کے جنوبی ضلع اننت ناگ کے بجبہاڑہ میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہو گیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سکیورٹی فورسز کو اننت ناگ کے پوش کیری علاقہ میں دو سے تین عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملی جس کے بعد آرمی، ایس او جی اور سی آر پی ایف نے علاقہ کو گھیرے میں لے لیا۔
    محاصرے میں پھنسے عسکریت پسندوں نے سکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد مسلح تصادم شروع ہو گیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اننت ناگ میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ۔مکینوں کا کہنا ہے کہ مختصر فائرنگ کے بعد علاقے میں خاموشی چھا گئی۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مجاہدین علاقے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔جس کے بعد آرمی، ایس او جی اور سی آر پی ایف نے علاقہ کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔اس سے قبل کل مقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے علاقے وان پورہ میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان آپریشن کے دوران ایک جھڑپ میں دو مجاہدین شہید ہو گئے ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق یہ جھڑپ صبح7:10پر شروع ہوئی۔وانپورہ کھڈونی کولگام میں گزشتہ روز سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ سے قبل سکیورٹی فورسز نے یہاں چھپے ہوئے عسکریت پسندوں کو خودسپردگی کرنے کی پیش کش کی تھی اور کئی مرتبہ انہیں آگاہ کیا کہ وہ ہتھیار چھوڑ کر باہر آجائیں اور خود سپردگی کر دیں۔اس سلسلہ میں ایک ویڈیو بھی موصول ہوا ہے جس میں سیکورٹی فورسز اہلکار عسکریت پسندوں کو خود سپردگی کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ تاہم عسکریت پسندوں نے پیشکش ٹھکرا دی اور اس کے بعد تصادم شروع ہوگیا۔

    ویڈیو میں پولیس اہلکار یہ کہتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں کہ ‘اندر کوئی ہے، اگر ہے تو باہر آجاو، آپ کو 5 منٹ دیئے جاتے ہیں، 5 منٹ کے اندر اندر باہر آجاو، اگر باہر آئے، تو کپڑے نکال کر آنا، ہتھیار نیچے رکھ کر باہر آنا، آپ کو موقع دیا جا رہا ہے کہ آپ سرینڈر کرو۔’کولگام میں جھڑپ کے مقام کے قریب ہنگامے پھوٹ پڑے ۔ جہاں سرکاری فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران زخمی ہونے والے دو مظاہرین رئیس احمد ولد محمد اشرف اور یاسر حمید ولد عبد الحمید کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع اننت ناگ میں 2000سے اب تک112مختلف واقعات میں 209افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ1040واقعات میں 1443افراد شہید کئے گئے جن میں582شہری شامل ہیں۔ضلع اننت ناگ میں اسی عرصے میں 240سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔اننت ناگ میں4خود کش حملوں میں 8سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 13زخمی ہوئے۔جبکہ 8عسکریت پسند شہید ہوئے۔

  • مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کی درندگی جاری، 2 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کی درندگی جاری، 2 کشمیری شہید

     

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم جاری ہیں، بھارتی فوج نے مزید دو کشمیریوں‌ کو شہید کر دیا ہے

    مقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے علاقے وان پورہ میں بھارتی فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان آپریشن کے دوران ایک جھڑپ میں حزب المجاہدین سے تعلق رکھنے والے دو مجاہدین شہید ہو گئے ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ سی آر پی ایف، ایس او جی، آر آر سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جاری تصادم کے دوران دو عسکریت پسندوں کو گھیرے میں لے لیا گیا تھا.

    کولگام میں یہ تصادم ضلع کے منگام کے علاقے میں دو مجاہدین کی شہادت کے بعد سامنے آیا ہے.

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق حکام نے کہا کہ راشٹریہ رائفلز ، ریاستی پولیس اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں کی ایک مشترکہ ٹیم جنوبی کشمیر کے کولگام کے علاقے وار پورہ میں آپریشن میں شامل تھی۔سرچ آپریشن ابھی جاری ہے اور ضلع میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئیں۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں39واقعات میں88کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22، فروری میں 11، مارچ میں 8، اپریل میں 32 اور مئی میں 15کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    ضلع کولگام میں 2000 سے اب تک 128 واقعات میں 150عسکریت پسنداور 48عام شہری شہید ہوئے ہیں۔جبکہ 38سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے.

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

  • کشمیری تنہا نہیں، ترک تمہارے ساتھ ہیں، طیب اردگان کا دبنگ اعلان

    کشمیری تنہا نہیں، ترک تمہارے ساتھ ہیں، طیب اردگان کا دبنگ اعلان

    انقرہ : کشمیری تنہا نہیں، ترک تمہارے ساتھ ہیں، طیب اردگان کا دبنگ اعلان ،اطلاعات کے مطابق ترک صدر طیب اردوان نے ایک بارپھرکشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونے کا اعلان کردیا ہے ، ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ کشمیر کا درد ہمارے وجود کا درد ہے، اگر اس معاملے پر سب خاموش بھی ہوگئے تب بھی ترکی ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا۔

    ذرائع کےمطابق ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ ترکی ہر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہے۔کشمیری تو ہمارے مسلمان بھائی یہ کیسے ہو سکتا ہےکہ ترکی ان کو پریشانی میں تنہا چھوڑ دے

    پاسبان امت طیب اردوان دنیا کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ سنو! اگر ہر کوئی خاموش ہو تو ہم آواز بلند کریں گے، ترکی آج بھی اپنا تاریخی کردار ادا کرتے ہوئے ملکی شناخت کی تمیز کیے بغیر مظلوم کے ساتھ ہے، دنیا بھر میں آج ترکی سب سے زیادہ مظلوموں کی مدد کرنے والا ملک کہلاتا ہے۔رجب طیب کا کہنا تھاکہ ہمارے اور ملک کے دروازے ہر مظلوم کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے کشمیری بھائیوں کو سالوں سے درپیش مشکلات میں حال ہی اٹھائے گئے یک طرفہ اقدامات سے مزید اضافہ ہوا ہے، یہ مسئلہ مزید خطرناک صورتحال اختیار کرگیا ہے، پہلے سے ہی مشکل حالات میں کشمیریوں سے آزادی اور حاصل شدہ حقوق کو چھیننا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

    ترک صدر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل جھڑپوں یا جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف کے احساس پر مبنی ہے، اس طریقے سے حاصل کیا جانے والا حل تمام فریقین کے مفاد میں ہوگا۔

    رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترکی، مسئلہ کشمیر کو انصاف، امن اور مذاکرات کے ذریعے حل کیے جانے کے موقف پر قائم رہے گا۔

  • مقبوضہ کشمیر، پلوامہ میں کار بم دھماکا

    مقبوضہ کشمیر، پلوامہ میں کار بم دھماکا

    مقبوضہ کشمیر، پلوامہ میں کار بم دھماکا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں فورسز نے دھماکے میں کار کواڑا دیا

    جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے آئین گنڈ راجپورہ علاقے میں جمعرات کی صبح ایک سینٹرو کار زیر نمبر JK08B-1426 سے آئی ای ڈی برآمد کیا گیا.بھارتی فوج نے فوری طور پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کو اطلاع دی جس کے بعد سکیورٹی فورسز اور ڈسپوزل اسکواڈ نے آئی ای ڈی کو کار سمیت اڑا دیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ آئی ای ڈی کے متعلق خفیہ اطلاع ملی تھی۔انہوں نے بتایا کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیموں کو موقع پر بلایا گیا جس کے بعد اسے تباہ کر دیا گیا۔

    عہدیدار نے بتایا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ تاہم آس پاس کے مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔اس سلسلے میں پولیس نے کیس درج کیا ہے اور مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    واضح رہے کہ گزشتہ برس پلوامہ حملے میں چالیس سے زائد بھارتی فوج ہلاک ہو گئے تھے، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگایا تھا اور بھارت نے بالا کوٹ میں سرجیکل سٹرائیک کی ناکام کوشش تھی. 27 فروری کو بھارت کے دو طیارے پاک فضائیہ نے گرائے تھے. پلوامہ حملے کے بعد بھارت کے طیارے بالا کوٹ پے رول گرا کر فرار ہو گئے تھے جس کے بعد اگلے روز پاکستان نے بھارت کے دو طیارے مار گرائےتھے اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا تھا جسے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے رہا کرنے کا اعلان کیا تھا

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

  • بھارتی فوج مجاہدین کی قبروں سے بھی ڈرنے لگی

    بھارتی فوج مجاہدین کی قبروں سے بھی ڈرنے لگی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج مجاہدین کی قبروں سے بھی ڈرنے لگی

    مزاحمتی قائد کے مزار پر لوگوں کی آمد روکنے کے لئے بھارتی اسٹیبلشمنٹ اعلی مزاحمتی رہنما ، ریاض نائیکو کی لاش کو سونامرگ سے نامعلوم مقام پر منتقل کررہی ہے۔

    کشمیری کمانڈ ریاض نائیکو کو 6 مئی 2020کو بھارتی فورسز نے شہید کردیا تھا اور ان کی لاش اہل خانہ کے حوالے نہیں کی گئی تھی تا یم حکام نے انہیں سونامرگ میں واقع ان کے آبائی شہر سے بہت دور دفن کردیا تھا

    بھارتی جارحیت خطے کے امن وسلامتی کوتباہ کرسکتی ہے، وزیراعظم کا دنیا کو انتباہ

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    مغربی اور مشرقی سرحد پر فوج مستعد ،قوم کا دفاع ہر صورت کریں گے، ترجمان پاک فوج

    بھارتی فوج نے ریاض نائیکو کی لاش کو اسلئے نا معلوم مقام پر دفن کیا تا کہ کشمیری شہید مجاہد کی قبر پر نہ جا سکیں، بھارتی فوج کشمیری مجاہدین کی قبروں سے بھی خوفزدہ ہو چکی ہے

    واضح رہے کہ گ بھارتی فوج نے حزب المجاہدین کے کمانڈر ریاض نائیکو کو انکے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شہید کر دیا تھا، کشمیری حریت رہنماؤں محمد اشرف، عمر عادل ڈار، یاسمین راجہ، محمد یوسف نقاش، مسلم لیگ، پیپلز لیگ، طلبہ سمیت دیگر بڑی تعداد نے شہید ہونے والے کشمیری حریت پسندوں ریاض نائیکو اور عادل احمد کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

  • پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں گزشتہ برس 14 فروری 2019 کو ہونے والے پلوامہ حملے کو ابھی تک بھارت نہیں بھلا سکا، پلوامہ حملے کے حوالہ سے بھارت نے اب نیا انکشاف کیا ہے، اس حملے میں سی آ رپی آیف کے 40 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے

    پلوامہ حملہ کیسے کیا گیا اس حوالہ سے بھارتی ادارے ابھی تک تحقیقات کر رہے ہیں اگرچہ بھارتی اپوزیشن جماعتیں کئی بار یہ کہہ چکی ہیں کہ پلوامہ حملہ مودی نے الیکشن جیتنے کے لئے کروایا ، اس حملے کے لئے ایک نئی رپورٹ سامنے آئی ہے حملے میں استعمال ہونے والے بارود کی تحقیقات کرنے والے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ پلوامہ حملہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا

    بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق تحقیقات کرنے والے افسران کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں نے بم بنانے کے لئے سامان کو چوری کیا تھا، عسکریت پسندوں نے پتھر کے خزانوں سے تقریبا پانچ سو جلیٹن چھڑے چوری کی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امونیم نائٹریٹ اور امونیم پاؤڈر کو آس پاس کی دکانوں سے تھوڑی تھوڑی مقدار میں خریدا اسی وجہ سے کسی کو ان پر شک نہیں ہوا،

    بھارتی تحقیقاتی افسران نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندوں نے پلوامہ حملے کے لئے بڑی مقدار میں آر ڈی ایکس پاکستان سے منگوایا تھا

    حکام کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملہ کرنے والے محمد کمانڈر مدثر احمد خان،اوراسماعیل بھائی عرف لمبو ، سمیر احمد ڈار ، شاکر بشیر ماگرے نے کھدانوں سے اور کھیو (پلوامہ)، خنم (سرینگر)، ترال اونتی پورہ اور لیفٹ پورہ علاقوں میں چٹانوں کو توڑنے والی کمپنی میں استعمال ہونے والی جیلیٹن کی چھڑوں کو چوری کیا تھا جو حملے میں استعمال ہوئیں

    جیلٹین چھیڑا جس میں نائٹروگلسرین ہوتا ہے۔ اسے خفیہ ایجنسیوں سے بچانے کے لئے 5 کلو اور 10 کلوگرام کی مقدار میں جمع کیا گیا تھا۔ امونیم نائٹریٹ تقریبا 70 70 کلوگرام اور امونیم پاؤڈر مقامی مارکیٹ سے خریدا گیا تھا،

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    پلوامہ حملے کی تحقیقات کرنے والے فرانزک ماہرین پہلے ہی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ اس حملے میں‌ امونیم نائٹریٹ ، نائٹرو گلسرین اور آر ڈی ایکس استعمال ہوئے تھے۔ پلوامہ حملے کے فورا بعد ہی تمام شواہد اکٹھے کرلئے تھے۔ دھماکہ خیز مواد کو کس طرح جمع کیا گیا اور اس کی ڈلیوری کے پیچھے کون تھے اس پر تحقیقات کی گئی ہیں

    واضح رہے کہ پلوامہ حملے میں چالیس سے زائد بھارتی فوج ہلاک ہو گئے تھے، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگایا تھا اور بھارت نے بالا کوٹ میں سرجیکل سٹرائیک کی ناکام کوشش تھی. 27 فروری کو بھارت کے دو طیارے پاک فضائیہ نے گرائے تھے. پلوامہ حملے کے بعد بھارت کے طیارے بالا کوٹ پے رول گرا کر فرار ہو گئے تھے جس کے بعد اگلے روز پاکستان نے بھارت کے دو طیارے مار گرائےتھے اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا تھا جسے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے رہا کرنے کا اعلان کیا تھا

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

  • جنوبی ایشیا میں سب سے طویل قید کاٹنے والے کشمیری رہنما ڈاکٹر قاسم فکتو کی رہائی کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ

    جنوبی ایشیا میں سب سے طویل قید کاٹنے والے کشمیری رہنما ڈاکٹر قاسم فکتو کی رہائی کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ

    جنوبی ایشیا میں سب سے طویل قید کاٹنے والے کشمیری رہنما ڈاکٹر قاسم فکتو کی رہائی کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ
    باغی ٹی وی : جنوبی ایشیا میں سب سے طویل قید کاٹنے والے کشمیری رہنما ڈاکٹر قاسم فکتو کی رہائی کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا . ڈاکٹر قاسم فکتو کا شمار تحریک آزادی کے کشمیر چوٹی کے رہنماؤں میں ہوتا ہے مگر پچھلے اڑھائی عشروں سے وہ مسلسل بھارتی قید میں ہیں اور جرم فقط آزادی کشمیر کی بات کرنا ہے. واضح رہے کہ ڈاکٹر قاسم فکتو دختران ملت کشمیر کی چیئرمین سیدہ آسیہ اندرابی کے شوہر ہیں اور آسیہ اندرابی بھی کئی سالوں سے بھارتی قید میں ہیں. ہم ڈاکٹر قاسم فکتو کی رہائی کے لیے آج رات 9 بجے ٹویٹر ٹرینڈ کر رہے ہیں آئیے ہمارے ہم آواز ہوکر ڈاکٹر قاسم فکتو کی رہائی اور آزادی کشمیر کے لیے صدا بلند کیجیئے.

    واضح رہے کہ عید کے روز عظیم کشمیری رہنما آپا آسیہ اندرابی اور ڈاکٹر قاسم فکتو کے بیٹے احمد بن قاسم نے اپنے ایک ٹؤیٹ پیغام میں‌کہا کہ جب کہ لوگ عید کی خوشیاں اپنے پیاروں کے ساتھ منا رہے ہیں . مجھے بھارتی فوج نے ایک دن پہلے بتایا کہ آپ کے والد کو اس ایک کال کی بھی مزید اجازت نہیں ہے جو وہ ایک ماہ پعد میری والدہ سے کیا کرتے تھے . بھارتی ظالم فوج نے بہانہ یہ بنایا کہ وہ کال صرف ان کی بیوی کو الاؤ تھی اور وہ بھی جیل میں ہیں‌سو مزید کسی فرد سے بات نہیں ہو سکتی

    #ReleaseDrQasimFaktoo

  • مقبوضہ کشمیر، عید کے دوسرے روز بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں دو کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر، عید کے دوسرے روز بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں دو کشمیری شہید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے کولگام میں بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں دو مجاہدین شہید ہو گئے

    غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع کے منزگام علاقے میں عسکریت پسندوں اور 34 آر آر سمیت سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم کے مابین جھڑپ میں دو مجاہدین شہید ہو گئے ہیں۔

    حاجی پورہ کلگام میں جاری اس تصادم میں انصار غزوہ الہندکے کمانڈر عادل وانی عرف ابراہیم بھائی شہید ہوئے ہیں۔ تصادم کے مقام کے قریب کے قریب نوجوانوں اور سرکاری افواج کے مابین زبردست جھڑپیں ہوئی ہیں ، کولگام اور شوپیان جڑواں اضلاع میں 2 جی انٹرنیٹ معطل کردی گئی ہے

    جھڑپ کے بعد بھارتی فوج نے علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا ہے، گھروں میں تلاشی جاری ہے، اس دوران چادرو چار دیواری کے تقدس کو بھی پامال کیا گیا،کشمیری نوجوان بھی گھروں سے باہر نکل آئے اور بھارتی فوج کے خلاف احتجاج کیا

    قبل ازیں مقبوضہ کشمیر میں ایک آپریشن میں سیکورٹی فورسز نے بڈگام میں ایک مکان کو تباہ کردیا- بھارتی فوج کاکہنا ہے کہ یہ لشکر طیبہ کے ارکان کی پناہ گاہ تھی، سیکورٹی فورسز نے بیروہ سے چار افراد وسیم گنائی۔ فاروق ڈار۔ محمد یسین اور اظہر الدین میر کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے.

    مقبوضہ کشمیر میں عیدکے روز آپریشن کے دوران سری نگر کے علاقے عید گاہ میں ہنگامے پھوٹ پڑےپولیس کی طرف سے بھاری آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی.ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ہفتے نواکدل سری نگر معرکے میں زخمی ہونے والا ایک شہری منظور احمد خان ساکنہ حول سرینگر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا.