Baaghi TV

Category: کشمیر

  • حکومت سے UGC کے  ہدایات کے مطابق طلبا کو فروغ دینے کی اپیل:جے اینڈ کے اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن

    حکومت سے UGC کے ہدایات کے مطابق طلبا کو فروغ دینے کی اپیل:جے اینڈ کے اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن

    مظفرآباد :جے اینڈ کے اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے حکومت سے UGC کے ہدایات کے مطابق طلبا کو فروغ دینے کی اپیل کی،اطلاعات کے مطابق طلبہ کی حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ، جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے آج حکومت سے اندرونی اسائنمنٹ امتحان منعقد کرکے طلباء کو یو جی سی کے اصولوں کے مطابق فروغ دینے کی تاکید کی۔ ایسوسی ایشن کے ترجمان ناصر کھویہامی نے کہا کہ حکومت اپنے موجودہ سیمسٹر میں طلباء کو داخلی تشخیص کی بنیاد پر ان کی ترویج کرے تاکہ انھیں آگے کا واضح راستہ دیا جاسکے اور جب بھی صورتحال معمول پر آئے گی ، آئندہ سمسٹروں کے لئے آف لائن کلاسز کا انعقاد کیا جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تمام سیمسٹرز کے UG اور PG طلبا کو داخلی تشخیص کی بنیاد پر ترقی دی جائے اور آن لائن امتحانات نہیں کروائے جائیں کیونکہ بہت سے لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہوسکتی ہے

    انہوں نے کہا کہ اعلی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی (4 جی سروسز) پر لگاتار پابندی کی وجہ سے کشمیری طلباء اپنے آن لائن امتحانات میں شریک نہیں ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ، تیز رفتار انٹرنیٹ رابطے کی عدم دستیابی نے طلبہ کے آن لائن طبقات کے عمل کو رکاوٹ اور روک دیا ہے۔ تعلیم کا شعبہ وادی کشمیر میں بدترین شکار رہا ہے ، اور انٹرنیٹ خدمات ختم ہونے سے طلباء کو گھر میں تعلیم حاصل کرنے اور اپنے تصورات کو صاف کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ خدمات پر مستقل پابندی کی وجہ سے طلباء موضوعات اور ابواب سیکھنے کے قابل نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور بالآخر وہ ہندوستان کے دوسرے خطوں کے طلباء سے مقابلہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔کھویہامی نے کہا کہ آن لائن کلاس اور امتحان پسماندہ پس منظر کے طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک رکھتے ہیں۔ انہوں نے کالجوں اور یونیورسٹیوں پر زور دیا کہ وہ یونیورسٹی گرانٹ آف کمیشن کی جانب سے امتحانات منعقد کرنے اور طلباء کو اگلے سمسٹر میں ترقی دینے کے لئے جاری کردہ اصولوں پر عمل کریں۔

    5 اگست 2019 سے علمی نقصان کی مقدار ناقابل برداشت اور ناقابل تلافی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کالج اور یونیورسٹیاں طلبا کو داخلی اسائنمنٹ رپورٹس اور ان کے پچھلے سمسٹر گریڈ پر ترقی دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیز رفتار انٹرنیٹ رابطے کی عدم استحکام نے طلباء کے آن لائن طبقات کے عمل کو روکا ہے اور روک دیا ہے اور اس عالمی وبائی صورتحال نے طلباء کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

    ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سکریٹری خادم خان نے کہا کہ طلباء کے قیمتی وقت کو بچانے کے لئے ، تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں کو یو جی سی کے اصولوں پر عمل کرنے چاہئے اور پروٹوکول کے مطابق کشمیری طلباء کو اگلے سمسٹر میں ترقی دیں۔ انہوں نے حکومت سے طلباء کی درخواست پر دھیان دینے کی اپیل کی۔

  • مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے ساتھ لڑائی میں شہید ہونے والے مجاہدین کی تعداد 5 ہوگئی

    مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے ساتھ لڑائی میں شہید ہونے والے مجاہدین کی تعداد 5 ہوگئی

    سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج کی جارحیت میں مزید 5 نوجوان شہید ہوگئے اس طرح صرف رواں ماہ میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد 23 ہوگئی۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع شوپیاں کے علاقے زین پورہ میں بھارتی فوج نے داخلی و خارجی راستوں کو بند کرکے گھر گھر تلاشی کے نام پر بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں، اس دوران قابض بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے 5 نہتے کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    جارحیت پسند بھارتی فوج نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ شہید ہونے والے نوجوانوں کی لاشوں کو بھی لواحقین کے حوالے نہیں کیا جس سے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور اہل محلہ نے شاہراہ کو بلاک کرکے بھارتی فوج کے خلاف شدید احتجاج کیا، مظاہرین نے جدوجہد آزادی کشمیر کے حق میں نعرے بلند کیے۔

    دوسری جانب بھارت نواز کٹھ پتلی انتظامیہ نے شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پانچوں نوجوان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشترکہ آپریشن کے دوران مقابلے میں مارے گئے تاہم اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے اس بھونڈے دعوے کو بے نقاب کردیا۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ مقبوضہ وادی کے اضلاع شوپیاں، پلوامہ، پونچھ اور راجوڑی میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کی تعداد 23 ہوگئی ہے۔

  • میں سانس نہیں لے سکتا کی طرح میں نہیں دیکھ سکتا، درجنوں کشمیری طلباء جنکی بینائی بھارتی فوج نے چھین لی

    میں سانس نہیں لے سکتا کی طرح میں نہیں دیکھ سکتا، درجنوں کشمیری طلباء جنکی بینائی بھارتی فوج نے چھین لی

    میں سانس نہیں لے سکتا کی طرح میں نہیں دیکھ سکتا، درجنوں کشمیری طلباء جنکی بینائی بھارتی فوج نے چھین لی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، بھارتی فوج کا مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و تشدد جاری ہے . وہ درجنوں کشمیری جوان جن کی بینائی بھارتی فوج نے پیلٹ گن سے چھین لی انہوں نے ٹویٹر پر دنیا کو پیغام دیاہے کہ "‌ میں دیکھ نہیں‌سکتا ، جیسےامریکی سیاہ فام کی موت پر اس نے کہا تھا کہ میں سانس نہیں‌لے سکتا. یاد رہے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں آٹھ ہزار سے زائد کشمیری پیلٹ گن کا شکار ہوئے، 18 ماہ کی ننی حبا کی ایک آنکھ بھی پیلٹ گن سے ضائع ہوئی۔

    پیلٹ گن ایک مہلک ہتھیار ہے۔ جس کی گولیوں میں لوہے کے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے بال ہوتے ہیں۔ جس کو فائر کرنے کے بعد کارتوس سے نکلنے والے چھرے نما بال چاروں سمت پھیل جاتے ہیں۔

    پیلٹ گن عام طورپر شکار کے لئے استعمال ہوتی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی جانب سے یہ ہتھیار انسانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔بھارتی فوج نے کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال پہلی بار سال 2010 میں کیا جس میں درجنوں کشمیری شہید ہوئے اور سینکڑوں اپنی بینائی سے محروم ہو گئے۔فروری 2018 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیلٹ گن کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جولائی 2016 سے اب تک آٹھ ہزار سے زائد کشمیری پیلٹ گن سے زخمی ہو چکے ہیں جب کہ 128 افراد مکمل طور پر اپنی آنکھوں سے ہی محروم ہو گئے ہیں۔سری نگر کی 18 ماہ کی معصوم حبہ بھی اس مہلک ہتھیار کا نشانہ بنی۔ جس سے اس کی دائیں آنکھ ضائع ہو گئی۔

  • بھارتی فوج کے مظالم جاری :مقبوضہ کشمیر،شوپیان میں آپریشن کے دوران2 کشمیری نوجوان شہید

    بھارتی فوج کے مظالم جاری :مقبوضہ کشمیر،شوپیان میں آپریشن کے دوران2 کشمیری نوجوان شہید

    سرینگر :بھارتی فوج کے مظالم جاری :مقبوضہ کشمیر،شوپیان میں آپریشن کے دوران2 کشمیری نوجوان شہید،اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع کے ریبن امام صاحب علاقے میں ایک آپریشن کے دوران فورسز اہلکاروں اور عسکریت پسندوں کے درمیان جاری جھڑپ میں 2 کشمیری عسکریت پسندوں کے شہید ہونے کی اطلاع ہے۔ سرکاری طور پر ابھی تصدیق نہیں ہوسکی ہے ۔

    فورسز اہلکاروں کی ٹیم میں فوج کی 1 آر آر، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس شامل ہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ریبن علاقے میں عسکریت پسندوں کے چھپے ہونے کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے پورے علاقہ کو محاصرے میں لے کر تلاشی کارروائی شروع کردی۔

    فورسز اہلکار جب ایک رہائشی مکان کی طرف تلاشی کرنے کے غرض سے آگے بڑھنے لگے تو اس مکان میں چھپے عسکریت پسندوں نے فورسز اہلکاروں پر زبردست فائرنگ شروع کردی ۔ فورسز اہلکاروں نے پوزیشن سنبھال کر جوابی کاروائی شروع کی جس میں2 نوجوان کشمیری عسکریت پسندوں کے شہید ہونے کی اطلاع ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق آپریشن شروع ہوتے ہی ضلع میں انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا گیا ہے۔ریبن امام صاحب علاقے میں جھڑپ کے مقام پر نوجوان جمع ہوئے جو سکیورٹی فورسز اہلکاروں پر زبردست پتھرا کر رہے تھے۔ پتھراو کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے فورسز اہلکار وں نے پیلٹ اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

  • گلگت بلتستان خالی کرو ، مودی کی پاکستان کو دھمکی

    گلگت بلتستان خالی کرو ، مودی کی پاکستان کو دھمکی

    گلگت :گلگت بلتستان خالی کرو ، مودی کی پاکستان کو دھمکی،اطلاعات کےمطابق بھارتی حکومت نے پاکستان کو خبردار کیا ہےکہ وہ گلگت بلتستان کی تاریخی حیثیت اوراس کے صدیوں پرانے ورثے کو تبدیل نہ کرے ، بھارتی حکومت کی طر ف سے یہ دھمکی دی گئی کہ بھارت اس کوشش کو نہ تو تسلیم کرتا ہے اورنہ ہی اس کی اجازت دیتا ہے ،

     

    بھارتی حکومت کی طرف سے جاری بیان مٰیں کہا گیا ہےکہ چلاس اور شمالی علاقہ جات میں بدھ مت کے قدیم تاریخی ورثے موجود ہیں پاکستان ان پرکسی قسم کا حق نہیں رکھتا ، پاکستان کو چاہہے کہ وہ ایسی کسی بھی کوشش سے دوررہے جس سے بھارت کی جغرافیائی اثرات پڑتے ہوں

     

    ادھر دوسری طرف حکومت  پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہےکہ بھارت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے معاملات میں دخل اندازی کرے ، وزارت خارجہ کی ترجمان نے بھارتی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئےکہا کہ پاکستان ان تاریخی ورثوں کی حفاظت کرنا چانتا ہے

     

    یاد رہےکہ گلگت بلتستان میں یہ تاریخی ورثہ بہت پرانا ہے جس کو متعارف کروانے کےلیے حکومت پاکستان نے سیاحت کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے یہی وجہ ہے  کہ ابھی فیصلہ ہی ہوا تھا کہ کورین بدھ راہبوں نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بدھ مذہب کے قدیم آثار کا دورہ کیا اور بدھ کے مجسمے کے سامنے مذہبی رسومات ادا کیں، جس سے سیاحت کی ترقی کے نئے در کھل گئے ہیں۔

    کرتا پور راہداری کھلنے اور قدیمی ہندو مندروں کی بحالی کے حکومتی اعلان کے بعد بدھ مت کے پیروکاروں نے پاکستان کا رخ کر لیا ہے۔

    گلگت بلتستان میں مذہبی سیاحت کے مواقع نے بدھ مت کے پیروکاروں کی توجہ حاصل کر لی۔ کورین بدھ راہبوں نے گوتم بدھ کے مجسمے کے سامنے مذہبی رسومات ادا کیں، جس سے سیاحت کی ترقی کے نئے در کھل گئے ہیں۔

    گلگت میں آٹھویں صدی عیسوی میں پہاڑی چٹان پر بنائے گئے بدھا کے نو فٹ طویل مجسمے پر کورین بدھ راہبوں نے حاضری دی اور مذہبی رسومات ادا کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ٹیکسلا میں بھی موجود بدھ مت کے آثار کا بھی دورہ کیا۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ بدھ مت کے پیروکاروں نے اجتماعی طور پر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا دورہ کیا ہے۔ زائرین نے نگر اور ہنزہ میں واقع سیاحتی اور تاریخی مقامات کی سیر بھی کی اور قدیم شاہراہِ ریشم اور راکاپوشی کے نظارے کیے۔ان کے اعزاز میں صوبائی حکومت نے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا اور روایتی مہمان نوازی کی۔

    گلگت بلتستان میں بدھ مت دور کے آثار بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں پہاڑی چٹانوں پر بدھ کے مجسمے، تحریریں اور نقوش شامل ہیں۔

     گلگت بلتستان میں بدھ مت دور کے آثار صدیوں بعد  بھی محفوظ حالت میں ہیں جنھیں دیکھنے سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں آتی ہے۔ ضلع دیامر میں دریائے سندھ کے اطراف چار لاکھ سے زائد تحریریں اور نقوشِ ہیں جو دنیا میں چٹانی نقاشی (راک کارونگ) کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔

    محقق اور کئی کتابوں کے مصنف شیرباز برچہ کے مطابق  کارگاہ بدھ دنیا میں بدھا کا دوسرا نایاب مجسمہ ہے جو آٹھویں صدی  میں بدھ مت کے پیروکاروں نے چٹان کو تراش کر بنایا تھا۔ ایسا ہی ایک مجسمہ لداخ میں بھی ہے۔

    کورین وفد کو بریفنگ دینے والے شیرباز برچہ کے مطابق کارگاہ بدھ کو بدھ مت میں خاص مقام حاصل ہے جس کی وجہ سے زائرین خصوصی طور پر یہاں زیارت کے لیے حاضری دیتے ہیں اور مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔

    محمد عالم سیاحت کے شعبے سے وابستہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’ بدھ مت راہبوں کی گلگت  آمد سے علاقے میں مذہبی سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا۔ گلگت بلتستان میں اس حوالے سے بےپناہ مواقع موجود ہیں۔ یہاں مختلف موسموں میں بدھ مت کے ماننے والے خصوصی طور پر یہاں آتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں امن و امان کی بہتر صورت حال سے سیاحت کا شعبہ بہتری کی جانب گامزن ہے اس لیے یہاں مذہبی سیاحت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔‘

    محمد اشرف عشور ہوٹلنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے مذہبی سیاحت کے مواقع سے فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

    ایسے ممالک جہاں بدھ مت کے پیروکاروں کی بڑی تعداد آباد ہے وہاں ان مواقع کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کرنے اور ویزا پالیسیوں میں آسانیاں پیدا کرنے سمیت مقامی سطح پر بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے سے مذہبی سیاحت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

    کورین زائرین کی آمد کو مقامی صحافیوں سے خفیہ رکھا گیا جس پر مقامی سینیئر صحافی منظر شگری کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان پرامن علاقہ ہے یہاں آنے والے وفد کی آزاد میڈیا میں کوریج کے ذریعے یہاں کے امن و امان اور مذہبی رواداری کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا اچھا موقع تھا جسے ضائع کر دیا گیا۔

    ساتویں صدی کے آخر میں بدھ اِزم نے گلگت بلتستان میں قدم رکھا۔ اِسلام سے پہلے بلتستان کے لوگ بدھ مت اور بون مذہب کے ماننے والے تھے۔ آج بھی اس خطے میں کئی جگہوں پر بدھ آثار ملتے ہیں جن میں منتھل بدھا کی چٹان اور ہنزہ کی مقدس چٹان سرِ فہرست ہیں۔ اسکردو سے ست پارہ جھیل کی طرف جاتے ہوئے گرینائٹ کی ایک بڑی چٹان پر گوتم بدھا کی مختلف اشکال کندہ ہیں۔

    نویں صدی کی یہ چٹان آٹھویں اور دسویں صدی کے درمیان بالائی سندھ کی وادی میں قائم بدھ سلطنت کے سنہری دور کی یادگار ہے۔ اس پیلی چٹان پر کندہ شکلوں میں بدھا کو اپنے پیروکاروں کے بیچ میں مراقبے کی حالت میں دکھایا گیا ہے۔1906میں ایک اسکاٹش سیاح ایلا نے اپنی کتاب میں اس چٹان کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروائی۔

    وادی ہنزہ میں کریم آباد کے ساتھ ایک چھوٹا سا قصبہ ہلدیکش کے نام سے آباد ہے جہاں ایک پہاڑی کے اوپر، دریائے ہنزہ کے کنارے بدھ مت کی یہ مقدس کندہ چٹان موجود ہے جو ہزاروں سال قدیم ہے۔ اِس چٹان کے دو حِصے ہیں اور دونوں پر مختلف تصاویر اور عبارتیں کندہ ہیں۔ یہ جگہ ایک زمانے میں بدھ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ حکومت پاکستان نے اسکو اپنی تحویل میں لے کر محفوظ کر رکھا ہے لیکن دریائے ہنزہ میں آنے والے سیلاب اس قدیم ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے رہتے ہیں۔

    پندرھویں صدی میں اسلام کی آمد کے بعد بہت سے بدھسٹ، مسلمان ہو گئے اور جو چند ایک بچے تھے وہ لداخ کی طرف ہجرت کر گئے جہاں آج بھی بدھوں کی اکثریت ہے۔بامیان طرز کا کارگاہ بدھا کا مجسمہ انتہائی اونچائی پر ایک بڑے پہاڑی پتھر میں کریدا گیا ہے۔

    لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ رابطہ سڑک کی حالت انتہائی خراب ہونے کی وجہ سے سیاحوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کو یہاں پہنچنے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کارگاہ بدھا جسے مقامی زبانی میں {یشانی کہتے ہیں بدھ مت کے منفرد آثار قدیمہ میں شمار ہوتاہے۔کارگاہ بدھا کا مجسمہ کارگاہ اور شوکوگاہ دریائی نالوں کے درمیان پہاڑی پرواقع ہے۔

    یہ برماس {برساتی نالہ اور نیپورا بیسن کے قریب واقع ہے۔گلگت کے معتبر ثقافتی ورثہ اور ارد گرد کے علاقوں میں بدھ مت کا پھیلائو شاہرائے ریشم کے ساتھ سے منسلک ہوتا ہے۔اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بدھا کے پیروکاربدھ مت کی عبادت گاہ میں یہاں سے گزر کر قائم پذیر ہوتے تھے۔کارگاہ بدھا کا مجسمہ اور دیگر آثارقدیمہ سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ تیسری صدی سے گیارویں صدی تک گلگت بدھ مت کا بڑا مرکزتصور کیا جاتاتھا۔

    گلگت سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر1930میں کھدائی کے دوران بدھ مت کی عبادت گاہ اور تین عدد سٹوپہ اور سنسکرت کا مسودہ ملا ۔جس سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کارگاہ بدھ مت کی آمداور مذہبی امور ساتویں صدی میں یہاں مکمل ہوگئے تھے۔سنسکرت کی تحریر 1931 میں دریافت ہوئی جبکہ بدھ مت کا مجسمہ 1938 اور 1939 کے درمیان عبادت گاہ کے ساتھ دریافت ہوا جوکہ سطح سمندر سے 400 میٹر بلندی پر واقع ہے۔

    گلگت بلتستان محکمہ سیاحت کے مطابق 19’2018 میں تقریبا پانچ لاکھ سیاحوں نے بدھا کا مجسمہ دیکھنے کے لئے گلگت بلتستان کا رخ کیا۔کارگاہ بدھ کے اردگرد جو سوراخ ہے اس کے بارے میں مقامی لوگوں کے پاس عجیب غریب کہانیاں ہیں یہاں رہائیشوں کا خیال ہے کہ اس علاقے میں ایک آدم خور رہتا تھا اور وہ انسانی جسم کے گوشت کھایا کرتا تھا۔

    اس آدم خور نما انسان سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے لوگ گائوں کے ایک بزرگ سے مدد لینے کیلئے ان کے پاس چلے گئے اور اسے کارگاہ بدھا کے مجسمے کے اردگرد۔ جوسوراخ نظر آرہے اس میں اس آدم خور کو قید کیا گیا۔پاکستان میں عالیشان اور صدیوں پرانے بدھ کے مجسمے، کنندہ چٹانیں اور اسٹوپا موجود ہیں۔کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ کی خاک آٹھ اسٹوپوں میں محفوظ ہوئی تھی جسے بعد میں اشوک اعظم نے اس وقت کی سلطنت کے تمام بڑے شہروں میں اسٹوپے تعمیر کروا کر ان میں یہ خاک محفوظ کردی تھی۔

    یوں یہ خاک84ہزار اسٹوپوں میں رکھی گئی۔ ایسے کئی اسٹوپے سوات اور ملک کے دیگر علاقوں میں موجود ہیں۔کہتے ہیں کہ سوات نے بدھ مت کا عروج دیکھا ہے۔ دورِ ماضی میں دریائے سوات کے کنارے پر سیکڑوں خانقاہیں قائم تھیں جن میں ہزاروں طلبا علم حاصل کرتے تھے۔بدھ مت سے متعلق گندھارا آرٹ نہ صرف ایک فن ہے جو گوتم بدھ کے پتھروں کو عالیشان مجسموں میں ڈھالتا نظر آتا ہے بلکہ یہ ایک عظیم تہذیب کا آئینہ دار بھی ہے۔

    یہ فن پہلی تا ساتویں صدی اپنے کمال پر رہا۔ ہمالیہ پہاڑوں میں منتھل کے مقام پر چٹان کے قریب ہی ایک غار موجود ہے جہاں بدھ مت کے پیروکار اب بھی نروان کے لیے مراقبہ کرتے ہیں۔ہنزہ میںکریم آباد کے قریب دریائے ہنزہ کے کنارے ایک بڑی چٹان موجود ہے جس کی قدامت ہزاروں سال بتائی جاتی ہے۔ چٹان کے دونوں حصوں میں تصاویر اور عبارتیں کندہ ہیں۔ یہ جگہ بھی اب ایک محفوظ ورثہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ مت سوات سے ہی چین گیا تھا۔

    زیادہ تر قدیم آثار بری کوٹ، سیدو شریف اور اوڈیگرام کے آس پاس ہیں۔بری کوٹ سوات میں کھدائی کے دوران گھوڑے پر سوار گوتم بدھ کا بہت بڑا مجسمہ برآمد ہوا تھا جبکہ یہاں ایک چٹان پردوشیروں کے مجسمے بنے ہوئے ہیں جو بظاہر اسٹوپا کی شباہت کے حامل ہیں۔ مینگورہ سے کچھ فاصلے پر ایک اور چٹان بھی موجود ہے جس پر گوتم بدھ کا بہت بڑا مجسمہ بنا ہوا ہے۔

    سوات میوزیم کے قریب بدھ مت کا ایک بہت بڑا معبد بت کدہ موجود ہے۔ یہ معبد تقریبا دوہزار سال پرانا ہے اور اسے اشوک اعظم نے تعمیر کروایا تھا۔اس کے مرکز میں ایک بلند و بالا اسٹوپا تھا اور اس کے گرد 240چھوٹے اسٹوپے بنائے گئے تھے۔ اسٹوپا کے گنبد پر ہمیشہ سات چھتریاں بنائی جاتی ہیں جو سات آسمانوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ مردان کا ضلع تخت بائی گندھارا آرٹ یا بدھ مت کا مرکز ہے۔

    یہاں ایک پہاڑی پر گندھارا طرزِ تعمیر سے آراستہ پورا ایک شہر موجود ہے جو اب عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔ تخت بائی میں موجود آثار کی دریافت کے لیے کھدائی کا آغاز 1836 میں کیا گیا تھا۔ہری بہلول کے آثار بھی 1980 سے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں۔ یہ آثار ایک قلعہ بند شہر کے ہیں۔مردان شہر سے کچھ دور شہباز گڑھی میں کندہ چٹان دیکھی جاسکتی ہے۔

    بدھ مت کی ہر قسم کی باقیات کے حوالے سے پشاور میوزیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ دنیا بھر میں بدھ مت اور بدھ سلطنتوں سے تعلق رکھنے والے نوادارات کا امین ہے، جن میں سیکڑوں مجسمے، سکے، اسٹوپے، برتن وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ناصرف سیاحوں بلکہ تاریخ دانوں اور محققین کے لیے بھی باعثِ کشش مقام ہے۔پنجاب میں بھی بدھ مت کے بے شمار آثار دریافت ہوئے ہیں مثلا ٹیکسلا، اس کے نواحی علاقے اور رحیم یار خان کا کچھ حصہ اس حوالے سے اہم ہے۔

    سندھ میں بھی بدھ مت کے آثار پائے گئے ہیں ۔ضلع دیامر کے سب ڈویژن داریل ستر ہزار نفوس پر مشتمل زرخیز علاقہ ہے تیرہوں صدی میں یہ علاقہ ریاست دردستان کا ہیڈ کوارٹر اور بدھ مت دور میں داریل مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے مرکز رہا ہے داریل میں وادی پھوگچ قراقرم ہائی وے سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں پانچ سوسے750عیسوی میں بدھ مت یونیورسٹی کے نام سے آثار بغیر پتھروں کے سرخ چکنی مٹی سے بنی دیواریں ابھی تک موجود ہیں ان حالات میں جو الزمات بھارت لگا رہے وہ بالکل بے بنیاد ہیں

  • ‘بھارت کی انگلیاں چین کے جوتے تلے آگئیں’بھارتی ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ

    ‘بھارت کی انگلیاں چین کے جوتے تلے آگئیں’بھارتی ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ

    نئی دہلی :‘بھارت کی انگلیاں چین کے جوتے تلے آگئیں’بھارتی ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ کا کہنا ہے کہ بھارت کی انگلیاں چین کے جوتے تلے آگئیں، چین سرحدی جھڑپوں اور محدودجنگ کیلئے تیارہے۔

    تفصیلات کے مطابق معروف بھارتی اخبارمیں بھارتی ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے مودی سرکارپرشدیدتنقید کرتے ہوئے کہا بھارت کی انگلیاں چین کےجوتےتلےآگئیں، مودی سرکار،بھارتی فوج زمین چھن جانےکی تردیدکررہی ہے۔

    ایچ ایس پناگ کا کہنا تھا کہ چین کوکل میجرجنرل سطح مذاکرات میں برتری حاصل ہوگی،سفارتکاری ناکام ہوئی توچین سرحدی جھڑپوں،محدودجنگ کیلئے تیارہے۔

    خیال رہے چین نےلداخ ریجن میں بھارت کو عبرت ناک شکست دے کر علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا،جس کے بعد مودی سرکار نے چین کے معاملے پر خاموشی اختیار کرلی تھی۔

    یاد رہے کہ بھارت نے رواں سال کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد لداخ کے متنازع علاقے کے ساتھ بھی کھیلنے کی کوشش کی تھی جس پر چین نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اور سکم بارڈر پر مزید فوجی تعینات کردیئے تھے۔

    چینی حکام کا کہنا تھا بھارت وادی گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا تھا تو اس دوران چينی فوج نے بھارتی فوج کے ایک دستے کو گرفتار بھی کیا جسے مذاکرات کے بعد رہا کیا گیا۔

    بھارتی آرمی چیف نے فوجی دستے کی گرفتاری کو بھارت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا تھا، جبکہ چین کا کہنا تھا کہ بھارت نے سکم اور لداخ میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی، اگر اس طرح کی خلاف ورزی دوبارہ کی گئی تو بھارت کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا

    واضح ریے بھارت اور چین کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ڈویژن کمانڈر سطح پر ہونے والی مذاکرات کے کئی دور ناکام رہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، مسرت زہرا کا نام سچائی کی جنگ لڑنے والے صحافیوں میں شامل

    مقبوضہ کشمیر، مسرت زہرا کا نام سچائی کی جنگ لڑنے والے صحافیوں میں شامل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں مسرت زہرا کا نام سچائی کی جنگ لڑنے والے صحافیوں میں شامل کر دیا گیا،عالمی میڈیا واچ ڈاگ ون فری پریس کی تازہ فہرست جاری کر دی گئی

    حال ہی میں خبروں کی زینت بنی وادی کشمیر کی جوان سال فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرا کا نام اب دنیا بھر میں سچائی کی جنگ لڑرہے ان صحافیوں میں شمار کیا گیا ہے جنہیں اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتے وقت ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق عالمی میڈیا واچ ڈاگ ‘ون فری پریس کولیشن’ نے رواں مہینے دنیا بھر میں سچ کی لڑائی لڑنیوالے صحافیوں کی ایک فہرست جاری کی جس میں مسرت کو آٹھواں مقام دیا گیا ہے۔

    عالمی میڈیا واچ ڈاگ’ون فری پریس کولیشن’ ہر مہینے اپنی فہرست جاری کرتی ہے جس کے ذریعہ وہ دنیا بھر میں صحافیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی طرف عالمی توجہ دلانے کی کوشش کرتی ہے۔ ٹائم میگزین، الجزیرہ، رائٹرز اور دی واشنگٹن پوسٹ جیسے ادارے اس کولیشن کے ممبران ہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس فہرست میں مسرت کے علاوہ سعودی عرب کے جمال خاشقجی، عظیمجون اسکرو، عبدالخالق عمران، اکرم الولیدی، نوف عبدالعزیز، عرفین حالیسوا جیسے نام شامل ہیں۔

    کولیشن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ہر مہینے جاری کی جارہی فرصت میں کچھ نئے نام ہوتے ہیں اور کچھ پرانے۔
    مسرت کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وادی کی فری لانس فوٹو جرنلسٹ پر یو اے پی اے عاید کیا گیا ہے جس کے تحت ان کو سات سال تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ قانون عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے بنا تھا تاہم اس کا استعمال اب صحافیوں پر بھی کیا جارہا ہے۔

    مسرت زہرا نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ مجھے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر ایک فوٹو شیئر کرنے کی وجہ سے ہراساں کیا گیا۔ مجھ پر یو اے پی ایل کے تحت معاملات درج کیا گیا۔ کشمیر میں صحافی کافی مشکلات میں اپنے پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہمیں اپنا کام انجام دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ عالمی سطح پر کوئی ہمارے لئے آواز بلند کر رہا ہے۔

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلوں پر پابندی لگا دی

    رواں سال 18 اپریل کو مسرت پر یو اے پی اے کے سیکشن 13 اور انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 505 کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ مسرت نے گزشتہ برس دسمبر میں کی گئی ایک اسٹوری کی تصویر فیس بک پر شائع کی تھی جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ ایک عورت کا شوہر 2000 میں مبینہ طور پر بھارتی فوج کی جانب سے ہلاک کیا گیا تھا۔ زہرا نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ دو دہائی بعد بھی یہ عورت اپنے شوہر کو یاد کر کے ذہنی دبا وکا شکار ہوجاتی ہے

    بھارتی افواج کشمیری بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ،5 اگست سے ابتک 13 ہزار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا

  • بھارتی افواج کشمیری بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ،5 اگست سے ابتک 13 ہزار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا

    بھارتی افواج کشمیری بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ،5 اگست سے ابتک 13 ہزار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی افواج کشمیری بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ،5 اگست سے ابتک 13 ہزار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا

    جمعرات کو دنیا نے ‘جارحیت کا شکار معصوم بچوں کا بین الاقوامی دن 2020’ منایا ،جس دوران مقبوضہ وادی کشمیر میں یہ بچے سلاک ڈاون کے بعد سب سے بڑے خطرے کی زد میں ہیں۔ جب سے ہندوستانی حکومت نے یہاں فوج کی تعداد میں زبردست اضافہ کیا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جارحیت کا شکار معصوم بچوں کابین الاقوامی دن ہر سال 4 جون کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کابنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر کے بچوں کی تکالیف کو تسلیم کیاجائے۔

    مقبوضہ وادی کشمیر میں بچوں کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ مقبوضہ وادی میں پانچ دن گزارنے والے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے مطابق ، آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کے بعد راتوں رات تقریبا 13000لڑکوں کو حراست میں لے کر، غیر قانونی طور پر ، یا تو آرمی کیمپوں میں یا تھانوں میں رکھا گیا۔

    ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن جس میں خواتین حقوق کی کارکن کویتا کرشنن ، اکانومسٹ جین ڈریز ، آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمن ایسوسی ایشن کی میمونہ مولا ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (م)کی خواتین کی ونگ کی رکن، اور ایک سماجی کارکن ومل بھائی شامل تھیں،گذشتہ سال 9 اور 13 اگست کے درمیان سری نگر ، سوپور ، بانڈی پورہ ، اننت ناگ ، شوپیان اور پامپور گئے تھے۔

    مشن کی اس رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح5 اگست کے بعد اس طرح کے چھاپوں کے دوران بھارتی فوج کے افسران نے رات کے وقت کم عمر لڑکوں کو اغوا کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی اور جنسی زیادتی کی۔ ان چھاپوں کا واحد مقصد خوف پیدا کرنا تھا۔ خواتین اور لڑکیوں نے مشن کو ان چھاپوں کے دوران مسلح افواج کی جنسی ہراسگی کے بارے میں بتایا۔ والدین پبلک سیکیورٹی ایکٹ کے مقدمات درج ہونے سے خوفزدہ تھے۔ دوسرا خوف یہ تھا کہ ان لڑکوں کو ‘لاپتہ’ کیا جاسکتا ہے – یعنی حراست میں لے کر انہیں کہیں اجتماعی قبروں میں نہ پھینک دیا جائے ۔مشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکام نے لڑکوں کو گرفتار کرتے وقت ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا ، اور کچھ کو قید کے دوران بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن آف امریکن اقلیتی ایسوسی ایشن آف چائلڈ رائٹس سے متعلق کمیٹی کے سامنے پیش کردہ ‘ہندوستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بچوں کی صورتحال ‘ کے عنوان سے ایک اور رپورٹ کے مطابق مقبوضہ علاقے میں غیر معمولی "ہندوستانی قابض افواج اور خفیہ ایجنسیوں نے صرف ان کی کمزوری کی وجہ سے بچے کی زندگی کے کسی بھی پہلو کو نہیں بخشا۔ وہ متعدد جسمانی اور جذباتی بدسلوکیوں ،تشدد اور بے گھر ہونے جیسے خطرات کا سب سے بڑا شکار ہیں۔ بچوں کو ان کے اہل خانہ سے الگ ہوجانے کا زیادہ خطرہ ہے۔ لڑکیوں کو جنسی تشدد ، استحصال اور بدسلوکی کا خطرہ ہوتا ہے۔

    ہندوستانی عوام کی ٹربیونل (آئی پی ٹی)کی ایک اور رپورٹ میں کشمیری بچوں کی حالت زار بھی بیان کی گئی ہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی میں مستقل ہنگاموں نے رہائشیوں خصوصا بچوں کے پورے طرز زندگی کو تبدیل کردیا ہے۔ بچپن کا سارا تصور وادی میں ایک بنیادی تبدیلی لے کر آیا ہے۔ بچے کنڈرگارٹن نہیں جاتے ،نرسری کی نظمیں نہیں سیکھتے ،کھلونوں سے نہیں کھیلتے ہیں ، جیسا کہ عام بچے کرتے ہیں۔ نہ ہی وہ آزاد ماحول میں اپنے والدین کی محبت ،شفقت اور نگہداشت میں پالے گئے ہیں۔

    جموں وکشمیر کے مقبوضہ علاقے میں بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن کے ساتھ بھارتی حکومت کا رویہ ظالمانہ اور قابل مذمت ہے۔ در حقیقت ، کشمیر سے سامنے آنے والی اطلاعات سے یہ واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیریوں کے عزم کو متزلزل کرنے کے لئے بچوں کے خلاف دہشت گردی ایک دانستہ ہتھکنڈہ ہے ، اور اس طرح انہیں تحریک آزادی کی حمایت ترک کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ، ہندوستانی فوج نے گذشتہ 31برس میں 811 کمسن لڑکوں اور لڑکیوں کو شہید کیا۔مقبوضہ کشمیر میں جو عام شہری شہید ہوئے ، ان کی وجہ سے 90ہزار سے زائد بچے یتیم ہوگئے۔گزشتہ ایک سال کے دوران بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے اسکول کے لڑکے اور لڑکیاں بھی زخمی ہوئے ہیں۔ جن میں کچھ پیلٹ گنز کی گولیوں کے زخموں کی وجہ سے مکمل طور پر اپنی ایک یا دونوں آنکھوں میں بینائی کھو چکے تھے۔

    مقبوضہ علاقے کی مختلف جیلوں میں درجنوں لڑکے اور 20 سال سے کم عمر کی کچھ لڑکیاں غیر قانونی نظربند ہیں۔

    مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلوں پر پابندی لگا دی

  • لداخ میں ہندوستانی توسیع پسند انہ عزائم چین کی وجہ سے خاک میں مل گئے

    لداخ میں ہندوستانی توسیع پسند انہ عزائم چین کی وجہ سے خاک میں مل گئے

    لداخ :لداخ میں ہندوستانی توسیع پسند انہ عزائم چین کی وجہ سے خاک میں مل گئے،اطلاعات کے مطابق لداخ میں بھارتی حکومت کچھ عرصہ سے اپنی توسیع پسندانہ سرگرمیوں میں مصروف تھی۔لیکن چینیوں کے ہاتھوں ہزیمت کے بعد بھارت پسپا ہو گیا ہے۔ پاک چین باہمی تعاون نے ہندوستان اور امریکہ کے ارادوں کو ناکام بنایاہے ۔جس کے پاکستان کے حق میں دور رس نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اس دو ٹوک اقدام نے علاقے میں پاکستان اور چین کے لئے مستقبل کی پریشانیوں کو ختم کردیا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے طویل عرصہ سے ہمالیہ اور قراقرم کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے درمیان دولت بیگ اولدائی ایک وسیع و عریض بے آب و گیاہ سرد ریگستان میں دولت بیگ کے نام سے ایک چھوٹا سا فوجی اڈہ قائم کر رکھاتھا جس کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ یہ قراقرم درے سے صرف 8 میل دور ہے جس سے گلگت تک آسانی سے رسائی فراہم ہوتی تھی۔یہ وسیع و عریض میدان ایک طرح کا قدرتی ہوائی مستقر ہے۔

    بھارت فوج اب اس کو ہوائی پٹی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔گذشتہ ایک سال میں ، ہندوستان نے اندرونی سڑک کے نیٹ ورک سے منسلک ہوکر اس اڈے کو اپ گریڈ کیا جس کے پاکستان اور سی پی ای سی کے لئے سنگین نتائج ہوسکتے تھے۔بھارت نے گذشتہ سال اکتوبر میں دربک۔ شیوک۔دولت بیگ تک سڑک تعمیر کی تھی۔ڈی بی او روڈ کو سب سیکٹر شمالی روڈ بھی کہا جاتا ہے ، یہ مشرقی لداخ میں ایک موسمی سڑک ہے جو چین کے ساتھ لائن آف ایکچول کنٹرول کے قریب ہے

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق چین نے پچھلے دو ہفتوں میں ایک شاندار اقدام کیا ، اور گیلوان وادی کے اندر پانچ ہزار فوجیوں نے وادی کے مغربی کنارے پر قبضہ کرلیا جس میں نو تعمیر شدہ دربوک – شیوک – دولت بیگ روڈبھی شامل ہے۔ اب ہوائی راستے کے علاوہ دولت بیگ اڈے کو سپلائی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔

    گیلوان ایک تنگ وادی ہے ، جس کا راستہ چینی فوج نے بند کر دیا ہے۔اس اقدام نے ہندوستانیوں کو ایک انتہائی سنگین الجھن میں ڈال دیا ہے کیونکہ بین الاقوامی کشیدگی میں اضافہ کے ساتھ چینی فوج کی مضبوط موجودگی کو دور کرنا فوجی طور پر بہت مشکل ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ گلوان وادی ہندوستان کی جانب سے لائن آف ایکچول کنٹرول کے بالکل اندر موجود ہے اور اس کے باوجود ہندوستانی اس پر کوئی واویلا نہیں مچارہا جو ان کا معمول ہے۔ موجودہ صورتحال میں وادی گلوان کی اسٹریٹجک اہمیت کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔

    چینیوں کے ہاتھوں سپلائی روڈ پر قابو پانے کے بعد ،دولت بیگ اڈے کی اہمیت کو اب موثر طریقے سے صفر کردیا گیا ہے۔ یہ ایک بہت ہی مثبت پیشرفت ہے۔ پاک چین باہمی تعاون جس نے ہندوستان اور امریکہ کے ارادوں کو ناکام بنایا۔ اور اس کے پاکستان کے حق میں دور رس نتائج برآمد ہوئے ہیں

  • بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی سے 18 نوجوانوں کی شہادت پر پاکستانی عوام میں شدید غم و غصہ ہے،قاری زوار بہادر

    بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی سے 18 نوجوانوں کی شہادت پر پاکستانی عوام میں شدید غم و غصہ ہے،قاری زوار بہادر

     لاہور:بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی سے 18 نوجوانوں کی شہادت پر پاکستانی عوام میں شدید غم و غصہ ہے،اطلاعات کے مطابق جمعیت علماءپاکستان کے رہنماءمفکر اسلام علامہ قاری محمد زوار بہادر نے کہا ہے کہ پوری پاکستانی عوام مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی سے ضلع پلوامہ میں مزید4 نوجوانوں کی شہادت ، تین روز میں 18 نوجوانوں کی شہادت اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے پر شدید غم و غصہ ہے

    انہوں نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برداری اور اقوام متحدہ بھارتی جارحیت کا نوٹس لے ۔ بھارتی دہشت گردی سے اب تک ہزاروں کشمیری شہید ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ بھارت اس وقت لداخ میں چینی افواج کے ہاتھوں بری شکست کے بعد سے بھکلاہٹ کا شکار ہوکراس سے توجہ ہٹانے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں عوام پرظلم و ستم کے پہاڑ توڑرہا ہے اور پاکستان پر جنگ مسلط کرناچاہتا ہے۔ عالمی ادارے تماشائی کا کردارختم کریں ورنہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ سے دنیا بھر کا امن تباہ و برباد ہو سکتا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ تقریبا 10 ماہ سے مقبوضہ کشمیر کو بدترین جیل بنا رکھا ہے نہتے عوام پر بھارتی افواج ظلم وبر بریت جاری رکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے کشمیری بھائیوں کی آزادی کے لئے پاکستان کا بچہ بچہ اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہادیں گے ۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت علماءپاکستان کے رہنماﺅں ملاقات میںکیا اس موقع پر مفتی تصدق حسین ،محمد ارشد مہر،رشید احمد رضوی ،مولانا نصیر احمد نورانی،مولاناحافظ سلیم اعوان اورقاری لیاقت علی رضوی اور دیگر رہنمابھی موجود تھے ۔ قاری زوار بہادر کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم بھارت اور دیگر ملک دشمنوں کے مقابلے میں متحد ہے ۔ ہم کسی کو وطن عزیز کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھنے دیںگے قوم مسلح افواج کے ساتھ ہے اور بھارت کی ہر کارروائی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
     جاری کردہ