Baaghi TV

Category: کشمیر

  • بھارت میں ایک اور کشمیری نوجوان پر حملہ

    بھارت میں ایک اور کشمیری نوجوان پر حملہ

    ممبئی :بھارت میں ایک اور کشمیری نوجوان پر حملہ،باغی ٹی وی کے مطابق بھارت میں کشمیریوں پرحملوں کا سلسلہ جاری ہے اوررات ایک کشمیری نوجوان پرہندوانتہا پسندوں نے بہت زیادہ تشدد کرکے اسے شدید زخمی کردیا ہے ،

    باغی ٹی وی کے مطابق محمد عدنان نامی 25 سالہ نوجوان کشمیری تاجرجس کا تعلق سری نگر سے ہے اور وہ کسی کام کے سلسلے میں ممبئی آئے ہوئے تھے ، ان کو اس وقت تین انتہا پسند ہندووں کی طرف سے سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب وہ سحری کرنے کے لیے محمد علی روڈ پرکسی ہوٹل کی طرف جارہے تھے ،

     

     

    https://twitter.com/ashoswai/status/1262129849273126914

    انتہا پسند ہندووں نے محمد عدنان نامی کشمیری کو گالیاں بھی دیں اورداڑھی بھی نوچی اس کے علاوہ جسم پرتشدد سے بہت زیادہ نشانات پڑگئے ہیں‌، عدنان کا کہنا ہےکہ پولیس نے ابھی تک ان مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی

    عدنان کہتے ہیں کہ وہ جب اپنے اپارٹمنٹ کی طرف جارہے تھے تو اس دوران تین ہندو نوجوان میرے پاس اورمجھے کشمیری کہہ کرمیرے اوپرسخت تشدد شروع کردیا

    ذرائع کے مطابق آج دواور واقعات میں ہندوانتہا پسندوں نے دوکشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اورمفاد پرست ہونے کا طعنہ دیا

  • پاکستان قیامت تک کشمیر نہیں لے سکتا، بنگلہ دیش کو یاد رکھو: گوتم گھمبیر

    پاکستان قیامت تک کشمیر نہیں لے سکتا، بنگلہ دیش کو یاد رکھو: گوتم گھمبیر

    نئی دہلی :پاکستان قیامت تک کشمیر نہیں لے سکتا بنگلہ دیش کو یاد رکھو،بھارت کے سابق کرکٹراورموجودہ رکن اسمبلی گوتم گھمبیرکی پاکستان کو دھمکی ، باغی ٹی وی کے مطابق بھارت کے سابق کرکٹراورموجودہ رکن اسمبلی نے پاکستان کو کشمیر کے حوالے سے ایک طعنہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان قیامت تک کشمیرنہیں لے سکتا

     

     

    باغی ٹی وی کے مطابق گوتم گھمبیر نے یہ طعنہ اس وقت دیا جب ایک طرف بھارت کے زیرقبضہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی پھراپنے عروج پرپہنچ چکی ہے، گوتم نے نے اپنے اس طنزیہ پیغام میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ ،وزیراعظم عمران‌ خان اورشاہد آفرید سے کہا ہے کہ وہ بھارت کے وزیراعظم مودی کا مقابلہ کرتے ہیں

    گوتم گھمبیر کہتے ہیں کہ 70 سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے تم کشمیر کو نہیں لے سکے اب کیسے لے سکتے ہو، گوتم گھمبیرنے مزید کہا کہ پاکستان کو بنگلہ دیش کو کس طرح بھارت نے پاکستان سے چھینا یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ بھارت اپنے دشمن کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے ،

  • مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوج اورکشمیری حریت پسندوں کے درمیان شدید لڑائی جاری،بھارتی فوج کو بڑے پیمانے پرجانی نقصان

    مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوج اورکشمیری حریت پسندوں کے درمیان شدید لڑائی جاری،بھارتی فوج کو بڑے پیمانے پرجانی نقصان

    سری نگر : بھارتی فوج کے ،ظالم سے تنگ کشیریوں کا بھارتی فوج پر جوابی حملہ ، باغی ٹی وی کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کشمیر حریت پسندوں اوربھارتی فوج کے درمیان شدید ترین لڑائی ہورہی ہے،

    سری نگر سے ذرائع کے مطابق یہ معرکہ آج صبح شروع ہوا اورآخری اطلاعات تک یہ لڑائی ابھی جاری تھی، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارتی فوج کی مدد کے لیے بڑی کمک جاری ہے ، اور ان علاقوں میں جنگی ہیلی کاپٹرز بھی کشمیری حریت پسندوں پرشیلنگ کررہےہیں

    سری نگر سے ذرائع کے مطابق بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ فوج کا کشمیری حریت پسدنوں سے اس وقت آمنا سامنا ہوا جب ان کو اس علاقے میں کشمیری حریت پسندوں کے موجود ہونے کی اطلاع ملی ، اطلاعات کے بعد جب بھارتی فوج اس علاقے میں پہنچی تو دوبدولڑائی شروع ہوگئی

    ادھر ذرائع کے مطابق جموں کے آئی جی پولیس مکیش سنگھ کا کہنا ہےکہ بھارتی فوجیوں کے مرنے کی اطلاعات ہیں اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بڑی تعداد میں بھارتی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں

    ادھر بھارتی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل انند نے جموں میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اس معرکے میں بھارتی فوج کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے ، وزارت دفاع کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی فوج کی کشمیری حریت پسندوں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا ، بھارتی فوج کے تازہ دم دستے بھی کمک کے طور پربھیج دیئے گئے ہیں

  • مقبوضہ کشمیرمیں مسلح تحریک عوام کی حمایت سے چل رہی ہے۔ بھارتی فوج کے سابق جنرل کا اعتراف

    مقبوضہ کشمیرمیں مسلح تحریک عوام کی حمایت سے چل رہی ہے۔ بھارتی فوج کے سابق جنرل کا اعتراف

    سرینگر : مقبوضہ کشمیرمیں مسلح تحریک عوام کی حمایت سے چل رہی ہے۔ بھارتی فوج کے سابق جنرل کا اعتراف ،اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کے ناردرن آرمی کے سابق کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)ڈی ایس ہوڈانے کہا ہے کہ ایک جانب تیز رفتار انٹرنیٹ بند ہو اور دوسری جانب مخالف مواد کا توڑ نہ ہو تو بات نہیں بن سکتی۔لوگوں کی حمایت کے بغیر کہیں کوئی مسلح شورش 30 برسوں تک باقی نہیں رہتی۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جنرل ڈی ایس ہوڈا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر تنازع کو اکثر پاکستانی افواج کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے چھیڑے ہوئے ہماری جانب کی سرحد کے علیحدگی پسندوں اور راشی سیاستدانوں کے حمایت یافتہ ‘پراکسی وار’، جس کے تحت کچھ گمراہ اور بنیاد پرست مقامی نوجوانوں نے بندوق اٹھائی ہے، کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، لیکن اس سے کشمیر میں مسئلے کی پوری تصویر بھی سامنے نہیں آتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا طویل المدتی حل تلاش کرنے کے لیے ہمیں پاکستان کی حمایت کو کمزور اور تشدد کے جاری واقعات کو قابو کرنے کی کوششوں کے علاوہ سِول آبادی اپنی توجہ مرکوز کرنا ہوگی اور اس سے پہلے کہ کوئی میری طرف سے ‘دہشت گردی کی بجائے ‘شورش’ کا لفظ استعمال کرنے پر کوئی اعتراض کرے، میں واضح کرنا چاہوں گا کہ دہشت گردی بھی شورش میں استعمال ہونے والا ایک ہتھیار ہی ہے۔

    جنرل ڈی ایس ہوڈا کے مطابق ‘انسدادِ شورش کو اکثر ‘دل و دماغ’ کا کھیل قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان آپریشنز میں دل سے زیادہ دماغ کا کام ہوتا ہے۔ آج کی دنیا میں جہاں اطلاعات، پروپیگنڈہ اور فرضی خبر کی بہتات ہے، تنازعات میں اصل مقابلہ لوگوں کے دماغ کو اثر انداز کرنے کا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ‘حکومت اور دہشت گرد، دونوں اطلاعاتی حکمتِ عملی کے ذریعہ لوگوں کو اپنی جانب لانے اور ان کا بھروسہ جیتنے کے لیے مقابلے کی ایک دوڑ میں ہیں۔ فوجی زبان میں ہم اسے ‘انفارمیشن وار فیئر’ یا بیانئے کی لڑائی ‘بیٹل آف نیریٹیوز’ کہتے ہیں،

    ذرائع کے مطابق جنرل ہوڈا نے بتایا کہ ‘اس لڑائی میں دہشت گرد، جو بنیادی طور فیک نیوز پر انحصار رکھتے ہیں وہ فائدے میں ہیں۔ونسٹن چرچل نے کہا ہے ‘اے لائی گیٹس ہاف وے ارانڈ دی ورلڈ بیفور دی ٹروتھ ہیز اے چانس ٹو گیٹ اِٹس پنٹس آن(سچائی کو جب تک پتلون پہننے کا موقع ملتا ہے ایک جھوٹ آدھی دنیا کا چکر کاٹ کے آگیا ہوتا ہے)۔چرچل نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب عالمی مواصلات ریڈیو اور ٹیلی گرافی پر مبنی تھیں۔ آج اسمارٹ فونز کی بدولت پلک جھپکنے میں بات چند منٹ میں دنیا بھر میں پہنچ جاتی ہے۔

    جنرل ڈی ایس ہوڈا نے کہا کہ ‘ہمیں ان لوگوں کی باتوں میں ہرگز نہیں آنا چاہیے جو فوج کے ہاتھ کھول دئیے جانے اور کشمیری آبادی پر بمباری کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ طاقت کا اضافی استعمال اکثر ایسے حالات پیدا کرتا ہے جس میں دہشت گردوں کے لیے مزید بھرتی کرنے کا ماحول تیار ہوجاتا ہے۔القمرآن لائن کے مطابق انہوں نے کہا کہ ‘بعض تنظیمیں بھارت کے انسانی حقوق کے معاملات سے نپٹنے میں شفافیت ہونے سے انکار کرتی ہیں۔گویا کہ قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن ہمیں مختلف اختلافی آوازوں کو سرسری طور دبانا بھی نہیں چاہیے۔ ان معاملات سے نپٹنے میں شفافیت کی وجہ سے سرکار کی اعتباریت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    جنرل ہوڈا نے بتایا کہ ‘جموں و کشمیر کی عوام کو ان کے مذہبی عقائد اور ان کی تہذیبی شناخت کو لاحق کسی بھی خطرے کے حوالے سے یقین دہانی کرانا بہت اہم چلینج ہے۔ پاکستان اور علیحدگی پسند مسلسل ان خدشات پر کھیلتے رہے ہیں اور دفعہ 370کے ارد گرد گھومنے والے مسائل، شہریت ترمیمی قانون اور راوں برس ماہ فروری میں دہلی میں ہونے والے تشدد نے انہیں مزید موقع فراہم کیا ہوا ہے۔

    ڈی ایس ہوڈا کے مطابق ‘بدقسمتی سے حکومت نے پاکستان کے پروپیگنڈہ کا توڑ کرنے یا اپنا بیانیہ سامنے لانے میں سستی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک جانب جموں و کشمیر میں بظاہر فرضی خبروں کو روکنے کے لیے، تیز رفتار انٹرنیٹ بند ہے تو دوسری جانب باقی ملک میں شدت پسند مسلم مخالف مواد کے خلاف کارروائی کیے جانے کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے۔ مقامی لوگوں کے جذبات کا خیال رکھنے کے لیے سرکار کی مواصلت غیر موجود یا پھر غیر موثر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ‘یہ سمجھنا بھی لازمی ہے کہ ایک موثر بیانیہ فقط پیغام رسانی سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس کی حمایت میں، اس پیغام سے مطابقت رکھنے والی، نظر آنے والی کارروائیاں بھی لازمی ہیں۔ اگر ہمدردی اور معاشی ترقی کے وعدوں کے ساتھ قابلِ فہم پروگراموں کی تعمیل نہ کی جائے تو اس کا بہت کم اثر ہوگا۔

    سابق آرمی جنرل نے بتایا کہ ‘حکومت کومقبوضہ جموں و کشمیر میں اطلاعات کے مقابلے کو جیتنے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ اس کے لیے لگن رکھنے والی ایک تنظیم، جس میں سوشل میڈیا اور دیگر مواد کا مفصل جائزہ لینے اور مقامی، علاقائی، قومی اور بین الاقوامی سطحوں پر نافذ کی جانے والی حکمتِ عملی مرتب کرنے کی اہلیت رکھنے والے ماہرین کا عملہ ہو، اس کی ضرورت ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ بھروسہ مند میڈیا پارٹنرز کو شامل کرکے فیک نیوز اور پروپیگنڈہ کا توڑ کیا جانا چاہیے۔بالآخر طاقت کے سارے استعمال کا مقصد لوگوں کے خیالات کو بدلنا یا انہیں اثر انداز کرنا ہوتا ہے۔پاکستان کشمیر میں انفارمیشن آپریشنز کو اپنے بنیادی ہتھیار کے بطور استعمال کرتا ہے جبکہ اس بیانیہ کی حمایت کے لیے دہشت گردی کی حمایت کا سہارا لیا جاتا ہے کہ وہاں لوگوں میں گہرا عدمِ اعتماد ہے۔ہم ایک ‘کاگنیٹیو کانٹیسٹ’ یا علمی مقابلے میں ہیں اور اگر ہم یہ لڑائی دوسرے نشانے (سکینڈری ٹارگٹ)پر توجہ کرتے ہوئے لڑیں گے جبکہ انفارمیشن ڈومین پر غیر مناسب توجہ ہو، ہم کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔

  • بھارتی جارحیت سے دنیا کو آگاہ کرنے کے لئے ریڈیو آزادی کشمیر کا آغاز

    بھارتی جارحیت سے دنیا کو آگاہ کرنے کے لئے ریڈیو آزادی کشمیر کا آغاز

    بھارتی جارحیت سے دنیا کو آگاہ کرنے کے لئے ریڈیو آزادی کشمیر کا آغاز

    سرینگر (باغی ٹی وی ) تحریک آزادی کشمیر کو دنیا کے سامنے پیش کرنے اوربھارتی جارحیت سے آگاہ رکھنے کے لیے ایک نئے شارٹ ویو ریڈیو اسٹیشن کا آغاز کیا گیا ہے۔ترکی سے تعلق رکھنے والے ریڈیو کے ترجمان ڈاکٹر فرحان مجاہد چک نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ ہم ، کشمیر پر بھارتی قبضے کا مقابلہ کرنے کے لئے اسٹریٹجک ، ٹھوس اور بامقصد کوششیں کررہے ہیں۔ ہماری تنظیم کانفرنسوں ، سیمینارز ، لیکچرز کے ساتھ ساتھ تعلیمی اقدامات / تحریر کے ذریعہ شہری مزاحمت اور نافرمانی کے پرامن طریقوں ، سیاسی لابنگ اور شعور بیدار کرنے پر یقین رکھتی ہے تاکہ ہندوستان کے آباد کار نوآبادیاتی منصوبے کو چیلنج کیا جاسکے۔

    اس کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھارتی تسلط کی غیر قانونی ، غیر اخلاقی اور نوآبادیاتی رٹ کوختم کرنا ہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ڈاکٹر فرحان مجاہد چک قطر یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ ان کی کتاب ، ‘اسلام اور پاکستان کی سیاسی ثقافت’ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری تحریک کشمیری نوجوانوں سے وابستہ دنیا کے متعدد شہروں میں موجودہے ۔ ہمارا مقصد کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت (جے آر ایل)کی حمایت کرنا ہے۔
    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ریڈیو آزادی کشمیرشارٹ ویو41 میٹر بینڈ پر 7355 KhZ پر دستیاب ہے ۔

  • سرینگر : بھارتی جارحیت کی آگاہی کیلئے ریڈیو آزادی کشمیر کا آغاز

    سرینگر : بھارتی جارحیت کی آگاہی کیلئے ریڈیو آزادی کشمیر کا آغاز

    سرینگر : بھارتی جارحیت کی آگاہی کیلئے ریڈیو آزادی کشمیر کا آغاز،باغی ٹی وی کے مطابق کشمیری عوام نے تحریک آزادی کشمیر اور بھارتی جارحیت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے اوربھارتی جارحیت کو عوام تک پہنچانےاور اس سے آگاہ رکھنے کے لیے ایک نئے ریڈیو اسٹیشن کا آغاز کردیا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق سری نگر سے یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں‌کہ بھارتی جارحیت سے آگاہ رکھنے کےلیے کشمیری حریت لیڈروں نے ریڈیو آزادی کشمیر کا آغازکرنے کا اعلان کیا ہے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کشمیری عوام کی طرف سے اس اقدام کی بہت زیادہ تعریف کی جارہی ہے اوراس ریڈیو اسٹیشن کی بقا کے لیے نیک تمنائیں اوردعائیں بھی کی ہیں

    ذرائع کے مطابق بھارتی جارحیت کی اگاہی کیلئے ریڈیو آزادی کشمیرFrequency: 7355 KhZ – 41 Meter Band Shortwave ہے

  • مقبوضہ کشمیر، مجاہدین کے حملے میں پولیس اہلکار ہلاک،26 گھنٹوں میں 9 دیہاتوں کا بھارتی فوج نے کیا محاصرہ

    مقبوضہ کشمیر، مجاہدین کے حملے میں پولیس اہلکار ہلاک،26 گھنٹوں میں 9 دیہاتوں کا بھارتی فوج نے کیا محاصرہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے کولگام میں مجاہدین کے حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا

    مقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے فرصل علاقے میں عسکریت پسندوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔

    پولیس ذرایع کے مطابق ہیڈ کانسٹیبل محمد امین ریشی بلیٹ نمبر 329 علاقے میں ڈیوٹی پر تعینات تھاکہ اچانک عسکریت پسند نمودار ہوئے اور پولیس اہلکار پر گولیاں چلائی۔پولیس ترجمان کے مطابق پولیس اہلکار ناکہ پوائنٹ پر فرائض سرانجام دے رہا تھا جب عسکریت پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

    واقعے کے فورا بعد ہی عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

    قبل ازیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بڈگام کے خان صاحب علاقے میں بھارتی فوج نے ہفتہ کی صبح 5 کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    بھارتی فوج نے عسکریت پسندوں کی ایک پناہ گاہ کو بھی تباہ کر دیا اور وہاں سے اسلحہ بارود بر آمد کیا ہے۔ بڈگام پولیس، 53 آر آر اور 153 بٹالین سے وابستہ سی آر پی ایف کی ایک ٹیم نے خانصاحب کے آری زال گاوں سے آپریشن کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ ظہور وانی نامی ایک معاون کو گرفتار کیا۔گرفتار شدہ معاون کی نشاندہی پر عسکریت پسندوں کی ایک پناہ گاہ کا سراغ ملا جہاں سے اسلحہ کے علاوہ مختلف قسم کا مواد بھی بر آمد کیا گیا تحقیقات کے دوران سیکورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے مزید چار معاونین یونس میر، اسلم شیخ، پرویز شیخ اور رحمان لون ساکنان خانصاحب بڈگام کو گرفتار کیا ۔پولیس اسٹیشن خانصاحب میں کیس درج کیا گیا ہے۔

    قبل ازیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے لال چوک میں سیکیورٹی فورسز نے تلاشی کارروائی شروع کر دی ہے۔سرچ آپریشن کے دوران لال چوک جانے والے تمام راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے اور لوگوں کی نقل و حمل بند کر دی گئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے کئی رہائشی گھروں کی تلاشی بھی لی۔ سرچ آپریشن عسکریت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملنے پر شروع کی تھی، تاہم ابھی تک اس آپریشن میں فروسز نے کسی بھی عسکریت پسند کا سراغ نہیں لگایا ہے۔

    شوپیان ضلع میں گزشتہ 26 گھنٹوں کے دوران 9 دیہاتوں کا سخت ترین محاصرہ کیا گیا اور تلاشی کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ گزشتہ 26 گھنٹوں کے دوران جن دیہاتوں میں تلاشی کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ ان میں دیارو کیگام، ملڈیرہ، ویشرو بالا کیلر، درگھڈ، ہیف، ہیر پور سھگو ہندہامہ اور کھاسی پورہ امام صاحب شامل ہیں۔ بھارتی فوج نے ان علاقوں کی ناکہ بندی کر کے یہاں تلاشی آپریشن کارروائی عمل میں لائی۔ اس دوران کئی دیہات میں ڈرون کیمروں کی مدد بھی لی گئی۔

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

     

  • مقبوضہ کشمیر میں کرونا وبا کے بعد لاک ڈاؤن کی آڑ میں نوجوانوں کا قتل

    مقبوضہ کشمیر میں کرونا وبا کے بعد لاک ڈاؤن کی آڑ میں نوجوانوں کا قتل

    مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے یورپین پارلیمنٹ کی ریسرچ سروس کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ مں بھارتی حکومت کے کشمیر کے متعلق اقدامات اور بھارتی مسلمانوں کے ساتھ بد ترین امتیازی سلوک کو موثر انداز میں اُجاگر کیا گیا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ جس کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ابھی ہونا باقی ہے، عالمی برادری کشمیر پر بھارت کے نا جائز اور غیر قانونی اقدامات پر صرف تشویش کا اظہار کرنے کے بجائے ستر سال سے حل طلب اس تنازعہ کو حل کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ہفتہ کے روز یورپین پارلیمنٹری سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بھارت میں بی جے پی حکومت اور اس کی نظریاتی اتحادی آر ایس ایس کی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم اور امتیازی سلوک کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بھارت میں شہریت قانون میں تبدیلی کے نام پر ایسے قوانین لائے گئے کہ اب بھارت میں کسی شہری کے حقوق کا تعین اُس کے مذہب کی بنیاد پر ہو گا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بھارت کے سیکولر ازم کی موت ہے۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی مقبوضہ جموں و کشمیر میں اسرائیل کی طرز پر آبادی کے تناسب میں تبدیلی لانے کے لیے کوشش کر رہا ہے جسے کشمیریوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔اُنہوں نے کہا کہ اب ایسا لگتا ہے کہ جو ہندو ہے بس وہی ہندوستانی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت میں مودی حکومت کے اقدامات کے خلاف عوامی رد عمل کو براہ راست کچلنے کے بجائے مودی اب نسلی اور مذہبی کارڈ کھیلتے ہوئے بھارت میں مسلمانوں مخالف جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کوشش میں وہ کشمیر کے سوال کو اپنی مسلم دشمن مہم میں خاص طور پر استعمال کر رہا ہے۔ بھارت نے گزشتہ سال پانچ اگست کے روز مقبوضہ کشمیر پر حملہ کر کے جو محاصرہ کرفیو اور لاک ڈاون لگایا تھا وہ اب بھی جاری ہے۔ اس محاصرے اور لاک ڈاؤن کے دوران بھارتی فوج نے ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں بند کیا جہاں کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد ان سب کی زندگیاں خطرات سے دو چار ہیں۔ اب کرونا وائرس وبا پھوٹنے کے بعد بھارت نے ایک بار پھر پہلے سے محصور مقبوضہ ریاست میں لاک ڈاؤن نافذ کر کے کشمیر کو ایک بار پھر بند کر دیا ہے۔ اور اس لاک ڈاؤن کی آڑ میں کشمیری نوجوانوں کو روزانہ کی بنیاد پر قتل کر کے اُنہیں دہشت گرد، عسکریت پسند اور علیحدگی پسند کا نام دیا جا رہا ہے۔ یورپین پارلیمانی ریسرچ سروس کی رپورٹ پر مذید تبصرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ رپورٹ کا یہ حصہ خاص طور پر قابل توجہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں جمہوریت، برداشت، قانون کی حکمرانی اور مختلف مذاہب کے مابین ہم آہنگی کا تصور مکمل طور پر اب تبدیل ہو رہا ہے اور اس کی جگہ اب ہندو بالا دستی اور ہندو قوم پرستی نے لے لی ہے جو پورے خطہ کے مستقبل کے لیے ایک خطرہ اور الارم ہے۔

  • بھارتی فوج کی جانب سے کشمیری نوجوانوں کی شہادتیں، ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    بھارتی فوج کی جانب سے کشمیری نوجوانوں کی شہادتیں، ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کی جانب سے بھارت میں کشمیریوں کو قتل عام کرنے کا سلسلہ جاری ہے

    بھارتی فوج نے کشمیر میں نوجوانوں کو ہدف بنا لیا ہے اور بھارتی فوج نوجوانوں کو گھروں میں گھس کر نہ صرف تشدد کرتی ہے بلکہ انہیں شہید کر دیتی ہے، ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو بے گناہ جیلوں میں پابند سلاسل کیا گیا ہے

    ایسے میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیری نوجوانوں کی شہادتوں پر بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے کے لئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹرینڈ #IndiaKillingYouth_IOK ٹاپ پر رہا، جس میں صارفین نے بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا

    بھارتی فوج کی جانب سے ماہ رمضان میں کشمیریوں کے خلاف مظالم میں تیزی آئی ہے، آئے روز سرچ آپریشن کے دوران کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا جاتا ہے ،چادر و چاردیواری کا تقدس پامال کیا جاتا ہے، رواں برس بھارتی فوج نے 50 کے قریب کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا ہے

    سوشل میڈیا صارفین نے بھارتی مظالم کے خلاف ٹرینڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور عالمی دنیا کی جانب بھارتی مظالم کے حوالہ سے توجہ مبذول کروائی

    https://twitter.com/jami9z/status/1261625466789789701

    https://twitter.com/DrAwara/status/1261625292986241024

    https://twitter.com/WaseemRaza51214/status/1261625100153098241

    https://twitter.com/MassiMussebat/status/1261624665132404737

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کمسن بچیوں کی عزتیں غیر محفوظ

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کمسن بچیوں کی عزتیں غیر محفوظ

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کمسن بچیوں کی عزتیں غیر محفوظ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کے ہاتھوں کمسن بچیوں کی عزتیں غیر محفوظ ہو گئیں،کمسن بچی پر بے ہودہ اورفحش تبصرے کرنے پر فوجیوں کے خلاف کشمیری عوام نے مظاہرہ کیا ہے

    ہفتہ کو شمالی کشمیر کے سنگھ پورہ کے علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے ایک کمسن بچی پرفحش تبصرے کرنے کے بعد لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا،فوجیوں کی معافی کے بعد آرمی کے ایک کمانڈنگ آفیسر نے مشتعل ہجوم کو راضی کیا اور اس معاملے کو بڑھنے سے روک دیا ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق خانپھتھ کیمپ میں تعینات 29 راشٹریہ رائفلز کے فوجی سنگھ پورہ کے علاقے میں ایک گاڑی میں گشت کر رہے تھے کہ ایک بھارتی فوجی نے ایک کمسن بچی پر بے ہودہ تبصرے کیے۔ اس لڑکی نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتے ہوئے شور مچایا۔ اسی اثنامیں، بہت سارے لوگ جمع ہوگئے اور آزادی کے حامی اوربھارتی فوج مخالف نعرے بلند کرنے شروع کردیئے۔

    مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اس فوجی کوفوری گرفتارکیا جائے۔ ایک بزرگ نے کہاکہ فحش گفتگو کے بعد ، سپاہی نے اسے دھمکی بھی دی ۔ ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔

    کشمیریوں کی جانب سے احتجاج کے بعد ایس ڈی پی او ظفر مہدی اور چوکی آفیسر میرگنڈ پولیس چوکی محمد اشرف کی سربراہی میں پولیس ٹیم مظاہرین کو راضی کرنے کے لئے جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ ایس ڈی پی او پتن نے کہا کہ وہ اب بھی معاملے کی تصدیق کر رہے ہیں۔ چوکی افسر محمد اشرف نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ اگرچہ فوج کے سپاہی نے کچھ نہیں کیا ، پھر بھی کمانڈنگ آفیسر نے لوگوں سے معافی مانگی اور انھیں تسلی دی۔