Baaghi TV

Category: کشمیر

  • بھارت مکار بھی ہے اورجھوٹا بھی ،پہلے شرارت کرتا ہے پھرپراپیگنڈہ ، بازآجائے اپنی ان حرکتوں سے ،ڈی جی آئی ایس آر

    بھارت مکار بھی ہے اورجھوٹا بھی ،پہلے شرارت کرتا ہے پھرپراپیگنڈہ ، بازآجائے اپنی ان حرکتوں سے ،ڈی جی آئی ایس آر

    راولپنڈی :بھارت مکار بھی ہے اورجھوٹا بھی ،پہلے شرارت کرتا ہے پھرپراپیگنڈہ ، بازآجائے اپنی ان حرکتوں سے ،ڈی جی آئی ایس آر،اطلاعات کےمطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ بھارت پہلے شرارت کرتا ہے پھرمکاری کے ذریعے پراپیگنڈہ لیکن اس کے باوجود دنیا جان چکی ہے ،

     

    یہ سب میرے اختیارمیں ہے ،کرونا سے پریشان ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم اعلان کرکے دنیا کوحیران

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ گزشتہ روز بھارتی فوج کی پندرہویں کور کے کمانڈر نے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں پاکستان پر دراندازی اور لائن آف کنٹرول فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کے بے بنیاد اور لغو الزامات لگائے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ درحقیقت بھارتی الزامات صرف دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی والی جگہوں پر جانے کی اجازت دی اور مستقبل میں بھی پاکستان ان اقدامات کو مزید منصفانہ طریقے سے جاری رکھے گا، تاکہ حقائق دنیا کے سامنے لائے جا سکیں۔

    بچا لواپنے بزرگوں کوکرونا سے ، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اہم نصحیت کردی

    اپنے ردعمل میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ بھارتی حکومت گزشتہ سال اگست کے غیر منصفانہ اقدامات کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے میں مکمل ناکامی پر ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے بھارت واضح حکمت عملی مرتب کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    بھارتی حکومت کو چاہئے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کے باب کو بند کرے اور کورونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے جامع حکمت عملی لائے تاکہ اندرون ملک سے اٹھنے والی آوازوں سے منفی ہتھکنڈوں کی بجائے بہتر طریقے سے نمٹ سکے۔

  • لاک ڈاون جہنم میں جائے، شراب نوشی جاری رہنی چاہئے، یہ ہے 2020 کا بھارت ، عمرعبداللہ برس پڑے

    لاک ڈاون جہنم میں جائے، شراب نوشی جاری رہنی چاہئے، یہ ہے 2020 کا بھارت ، عمرعبداللہ برس پڑے

    سرینگر:لاک ڈاون جہنم میں جائے، شراب نوشی جاری رہنی چاہئے، یہ ہے 2020 کا بھارت ، عمرعبداللہ برس پڑے ،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں سابق حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھارت میں دہرے معیارپرسخت غصے کا اظہارکیا ہے ،

    باغی ٹی وی کےمطابق عمر عبداللہ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کشمیر واد ی میں لوگوں کو لاک ڈائون کے دوران اشیائے ضروریہ کی دکانات کو کھولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جبکہ بھارت کی بعض ریاستوں میں شراب کی دکانوں کو لازمی خدمات میں شامل کیا جارہا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق عمر عبداللہ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ لاک ڈاون جہنم میں جائے، شراب نوشی جاری رہنی چاہئے۔ عمر عبداللہ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر بھارتی اخبارہندوستان ٹائمز اور ایک خبر رساں ایجنسی کے دو ٹوئٹس پوسٹ کئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ میگھالیہ اور آسام حکومتوں نے شراب کی دکانوں کو پیر سے کھلے رہنے کی اجازت دی ہے۔

  • کشتواڑ: رہا شدہ ملزم کے حملے میں دوپولیس افسر ہلاک،اونتی پورہ میں سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ

    کشتواڑ: رہا شدہ ملزم کے حملے میں دوپولیس افسر ہلاک،اونتی پورہ میں سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ

    سرینگر: کشتواڑ: رہا شدہ ملزم کے حملے میں دوپولیس افسر ہلاک،اونتی پورہ میں سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ ،اطلاعات کے مطابق جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں دو حملہ آوروں نے ، جن میں ایک جنسی زیادتی کا رہاشدہ ملزم تھا،نے دو پولیس افسروں پر کلہاڑی سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق دوسرا اہلکار بعد میں ہسپتال میں چل بسا۔ پولیس نے کہا کہ’ کورونا وائرس کے پھیلاو کے پیش نظر 20 دن قبل عصمت دری کے ملزم عاشق حسین کو رہا کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق پیر کوکشتواڑ کے دیچھن علاقے میںدو اسپیشل پولیس آفیسرز باسط اقبال اور وشال پرعاشق حسین نے ایک اور ملزم کے ساتھ اس وقت حملہ کیا جب وہ دونوں پہاڑی علاقے کی طرف تیز رفتار موبائل سگنل کے غرض سے گئے تھے تاکہ وہ اپنے موبائلز کو ریچارچ کرسکیں ۔

    علاقے کے ایک پولیس اہلکار اعجاز احمد وانی نے بتایاکہ ملزمان ہلاک ہونے والے اہلکاروں سے اسلحہ بھی لے کر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔پچھلے 48 گھنٹوں کے دوران اس علاقے میں پولیس پر یہ دوسرا حملہ ہے ۔

    اونتی پورہ میں عسکریت پسندوں نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ ملنگ پورہ علاقے میں ناکہ پر پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ جماعت پر پیر کی شام فائرنگ کی۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس کے ایک سینئرافسر نے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے اونتی پورہ کے علاقے ملنگ پورہ میں مشترکہ پارٹی پر حملہ کیا۔ مشترکہ جماعت نے جوابی کاروائی کی جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

  • طاقت کے نشے میں‌ دھت "انڈیا” نہتے مسلمانوں پر ظلم وستم سے باز نہ آیا، حکومت پاکستان اس عالمی دہشت گرد کو نکیل ڈالنے میں بری طرح ناکام ھے. سروے

    طاقت کے نشے میں‌ دھت "انڈیا” نہتے مسلمانوں پر ظلم وستم سے باز نہ آیا، حکومت پاکستان اس عالمی دہشت گرد کو نکیل ڈالنے میں بری طرح ناکام ھے. سروے

    نیلم آزاد کشمیر (عطاءالرحمن) دنیا کرونا کی وباء سے پریشان ہے مگر طاقت کے نشے میں‌ دھت "انڈیا” نہتے مسلمانوں پر ظلم وستم سے باز نہ آیا. پچھلے تین روز سے نیلم میں عالمی دہشتگرد بھارت کی جانب سے آئے روز فائرنگ معمول بن گیا ھے۔ایک طرف پوری دنیا کرونا جیسے عالمی وبا سے خوفزدہ ہیں اور اس سے لڑ رہے ہیں۔دوسری جانب دنیا جہاں کا کمینہ بزدل گھس بیٹھیا بھارت آے روز کشمیر کے معصوم شہریوں پہ گولے برسا رہا ہے بارود اور دھویں کے اس کھیل میں دونوں جانب معصوم کشمیریوں کی زندگیاں عزاب بنای جا رہی ہیں۔
    لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بناے گئے 10×10 فٹ کے مورچوں میں جاتے ہیں کہ گولہ بارود سے خود کو بچا سکیں مگر دس پندرہ افراد کا اکٹھا رہنا کرونا آیٕسولیشن کے حفاظتی قانون کو توڑ دیتا ہے ۔جس طرف بھاگیں موت آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی اور دکھای دے رہی ھے۔ہر لحاظ سے موجودہ حکومت بری طرح ناکام ہے وفاقی حکومت تو اس عالمی دہشت گرد کو نکیل ڈالنے میں بری طرح ناکام ھے خارجہ پالیسی صفر ھے مفاہمتی دم ہلانے والی پالیسی پہ عمل پیرا ہے مگ ریاستی حکومت بھی بری طرح ناکام وہ دفاہی حکمت عملی ہو یا کرونہ ہر لحاظ سے ناکام ھے ۔
    کئی بار بارڈر پہ رہنے والے بے گناہ معصوم و مظلوم لوگوں کے لیے آر۔سی۔سی بنکر کے اعلانات ہوے مگر عمل وفاقی حکومت کی طرح جھوٹے سپنے ہی نکلے۔برداشت کی سب حدیں اب پار ہو چکی ہیں.
    اور اگر حکومتی سطح پر اس بزدل خونخوار وحشی درندے کو نکیل نہیں ڈالی جا سکتی اور امن کو بحال نہیں کیا جا سکتا تو عوام آخری حد تک جا سکتی ہے لاک ڈاون توڑنا پڑے گا یا پھر امن کے لیٕے حکومتیں وفاقی اور ریاستی حکومت مل کر کوی حکمت عملی بنإیں تاکہ روز روز کے اس عزاب سے جان چھوٹ جائے۔
    مشرف کے دور میں اگر سیز فإیر ہو سکتا ہے تو اب کیوں نہیں۔ مگر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے والا اور دشمن کو اسی کے لہجے میں سمجھانے والا اب شاید کوی نہیں۔مشرف سے لاکھ اختلاف مگر وہ ہمارا ہیرو ھے۔اس کے دور میں نیلم ویلی سمیت پورے کشمیر کے بارڈر پر امن رہے اور لوگوں نے سکون دیکھا.

  • مقبوضہ کشمیر، کرونا کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھنے لگی، اموات کتنی ہو گئیں؟

    مقبوضہ کشمیر، کرونا کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھنے لگی، اموات کتنی ہو گئیں؟

    مقبوضہ کشمیر، کرونا کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھنے لگی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہےل گزشتہ 24 گھنٹوں میں 21 نئے مثبت کیس سامنے آئے جس کے بعد مثبت کیسز کی کل تعداد 245 ہوگئی مقبوضہ کشمیر میں چار کرونا مریضوں ک کی موت ہوچکی ہے۔

    لداخ میں کورونا وائرس کے کل کیسز کی تعداد 15 ہے جن میں اب تک گیارہ افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق لداخ میں مزید چھ نمونے کوروناوائرس کے لیے منفی پائے گئے اور یہ تمام افراد ضلع لیہہ کے رہنے والے ہیں اوران میں سے چار ایران سے آئے ہوئے تھے۔ اس طرح مقبوضہ جموں وکشمیر اور لداخ میں کل کیسز کی تعداد 260ہو گئی ہے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں پچھلے دس دنوں میں دوسو سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 9 مارچ کو پیش آیا تھا۔ ان کیسزکو 50 کی حد تک پہنچنے میں قریب تین ہفتوں کا وقت لگا تھا۔ اگلے پانچ دنوں میں کیسز نے 200کا ہندسہ عبور کر لیا۔

  • ایک طرف کرونا کی تباہ کاریاں تودوسری طرف بھارتی فوج کا ظلم وتشدد جاری ، کپواڑہ کے لوگ احتجاج کرتے گھروں سے نکل آئے

    ایک طرف کرونا کی تباہ کاریاں تودوسری طرف بھارتی فوج کا ظلم وتشدد جاری ، کپواڑہ کے لوگ احتجاج کرتے گھروں سے نکل آئے

    لاہور:ایک طرف کرونا کی تباہ کاریاں تودوسری طرف بھارتی فوج کا ظلم وتشدد جاری ، کپواڑہ کے لوگ احتجاج کرتے گھروں سے نکل آئے،باغی ٹی وی کےمطابق مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری اس وقت تاریخ کے مشکل ترین دورسے گزررہے ہیں

    باغی ٹی وی کےمطابق بھارتی فوج نے سرحدی ضلع کپواڑہ میں کشمیریوں کا جینا حرام کردیا ہے اورگرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے ، یہ بھی اطلاعات ہیں‌کہ بھارتی فوج کرونا کے بہانے نوجوانوں کواٹھا کرٹارچرسیلوں میں لے کرجارہے ہیں

    ادھرمقبوضہ وادی سے اطلاعات کےمطابق کپواڑہ کے عوام نے بھارتی فوج کی طرف سے پاکستانی علاقوں میں فائرنگ کے خلاف بھارتی فوجی کے سامنے آکراحتجاجی مظاہرے بھی کیئے ہیں‌

    کپواڑہ سے ذرائع کے مطابق بھارتی فوج کی ظالمانہ کاروائیوں کے خلاف مردوخواتین گھروں سے باہرنکل آئے بھارتی فوج کے خلاف نعرے لگاکرپاکستان کے ساتھ اپنی محبت کا کھل کراظہارکیا

  • اقوام متحدہ بھارت کونئےڈومیسائل سمیت کشمیرمخالف قوانین منسوخ کرنے پرپابندکرے،الطاف حسین کا سیکرٹری جنرل کے نام خط

    اقوام متحدہ بھارت کونئےڈومیسائل سمیت کشمیرمخالف قوانین منسوخ کرنے پرپابندکرے،الطاف حسین کا سیکرٹری جنرل کے نام خط

    اسلام آباد: اقوام متحدہ بھارت سے کہہ دے کہ نئے ڈومیسائل سمیت کشمیرمخالف تمام قوانین منسوخ کردے ،الطاف حسین وانی کا سیکرٹری جنرل کے نام خط،اطلاعات کےمطابق سینیر حریت رہنما اور چیئرمین کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر) الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹرس سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ نئے ڈومیسائل قانون سمیت کشمیر مخالف ان تمام قوانین کو فی الفور منسوخ کرے جو اقوام متحدہ کی ان تمام قراردادوں کے خلاف ہیں جوتنازعہ کشمیر کے ایک منصفانہ حل کے لے بنیاد ی فریم ورک فراہم کرتی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے نام ایک میمورنڈم میں کے آئی آر کے سربراہ نے جموں و کشمیر کے لئے حکومت ہند کے متعارف کروائے گئے نئے قوانین کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا انہیں مسئلہ کشمیر کے ان قوانین کو بین الاقوامی عہد ناموں کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل، انسانی حقوق کے ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ، ہیومن رائٹس کونسل کے صدر الزبتھ ٹیچ فسلبرگر، ممبر ممالک اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ ہندوستان پر دباؤ ڈالے کہ وہ ان قوانین کو کالعدم قراردے جو 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

    وانی نے بین الاقوامی عہد ناموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قابض ریاستوں کو مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی کردار کو تبدیل کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ ” ریاست جموں و کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے مابین بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور یہ جنیوا کنونشن اور ہیگ ریگولیشنز 1907 کے تحت آتا ہے، جو قابض ریاستوں کو مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی کردار کو تبدیل کرنے سے منع کرتا ہے”۔ وانی نے کہا، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے متعلق بین الاقوامی عہد نامہ کے دستخط ہونے کے ناطے، شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی عہد نامہ، اور کشمیر ہند سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادیں ان معاہدوں میں طے شدہ کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے قانونی اور اخلاقی طور پر پابند ہیں۔.

    وانی نے ہندوستانی حکومت کے خطرناک عزائم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ”ریاست کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی بھارتی خواہش اس دن سے ہی عمل میں لائی گئی جب اس نے 1947 میں جموں و کشمیر کے علاقے پر زبردستی قبضہ کیا تھا”۔ انہوں نے کہا کہ ”جموں میں مسلم آبادی کے تناسب کو کم کرنے کا باقاعدہ آغاز 1947 میں کیا گیا تھا جب کشمیر میں ہندوستانی فوجی داخل ہوئی تھی”، انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے کشمیری مسلم نوجوانوں کو قتل کرنا، مردم شماری کے اعداد و شمار میں ہیرا پھیری جیسے ہتھکنڈوں کو ریاست کی ڈیموگرافی بدلنے کے لئے ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔

    کشمیر کی جداگانہ شناخت پر روشنی ڈالتے ہوئے وانی نے اپنے میمورنڈم میں کہا کہ، ” مقبوضہ جموں و کشمیر کے 22 اضلاع ہیں جنں 12.5 ملین افراد آباد ہیں۔ ان 22 اضلاع میں سے، مسلم اکثریتی 17 اضلاع ہیں – کشمیر کے 10، جموں میں چھ اور لداخ میں، تین ہندو اکثریتی اضلاع ایک بودھ اکثریتی ضلع ہے۔مقبوضہ کشمیر میں مسلم آبادی سے متعلق اعدادوشمار کو توڑ مروڈ کر پیش کرنے کی بھارتی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے وانی اس بات کی نشاندہی کی کہ ”مقبوضہ ہندوستان میں مسلمان آبادی کی شرح قریب 1961 کی طرح ہی ہے جبکہ ہندوستان میں مسلم اکثریت کی شرح 1916میں 10%،اور70میں 14.23% بڑھ گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مسلم آبادی کے تناسب میں کمی کی سب سے بڑی وجہ بھارت کے ہاتھوں کشمیریوں کے خلاف نسل کشی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا گیا ہے کہ 1947 کے بعد غیر ریاستی باشندوں کو ریاست کے متعدد اضلاع میں آباد کرنا اور باالخصوص جموں صوبے میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب میں کمی کی بنیادی وجہ مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت ہے۔

    انہوں نے یادداشت میں مزید کہا کہ ریاست کی آبادیاتی تشکیل کو تبدیل کرنے اور حق خودارادیت کے لئے عوامی تحریک کو مایوس کرنے کی اپنی کوششوں میں، ہندوستان کی یکے بعد دیگرے حکومتوں نے ظالمانہ اقدامات اپنائے جن میں بے گناہ لوگوں کے قتل، لاپتہ، لاپتہ اور غیر عدالتی اقدامات شامل ہیں۔ قتل اور جبری نقل مکانی شامل ہیں۔

    ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ ان قوانین کو منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ ریاست کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کیا گیا۔ انکا کہناتھاکہ، ”یہ سب کچھ ہندوؤں کے دیرینہ مطالبہ کو پورا کرنے کے لئے کیا گیا تھا تاکہ مسلم اکثریتی علاقوں میں زمین / جائیداد کی خریداری پر پابندی کو ختم کیا جاسکے اور خطے میں بڑے پیمانے پر آباد کاروں کی آمد کو متحرک کیا جاسکے۔”

    ”یہ آئینی جارحیت موجودہ مسلم اکثریت کو تحلیل کر کے تنازعہ کو بے اثر کرنے کی بھارتی حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے، اس طرح اس خطے پر نئی دہلی کے اثر کو مستحکم کرنے اور تنازعہ کی شدت کو بتدریج کم کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے”،میمورنڈم میں مزید کہا گیا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے لئے بی جے پی حکومت نے ریاست کی آبادیاتی تشکیل کو تبدیل کرنے کے لئے متعدد اقدامات کیے۔

    ”ایک ایسے وقت میں، جب پوری دنیا COVID-19 کی وبائی بیماری سے لڑنے میں مصروف تھی، بی جے پی حکومت نے کشمیریوں پر ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی کے ذریعے ایک ایسے وقت پر وار کیا ہے جب پوری دنیا COVID-19 کی وبائی بیماری سے لڑنے میں مصروف تھی۔

    ”ڈومیسائل رولز میں تبدیلی کے شرمناک عمل سے کشمیری عوام میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے اور مقامی لوگوں سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے لئے ایک سازش ہے جس کا مقصدانہیں ان کے وسائل، ملازمت، شناخت، ثقافتی، زمین اور دیگر حقوق سے محروم کرنے کے علاوہ ریاست کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔وانی نے کہا کہ ہندوستان کی طرف سے کیے جانے والے آئینی حملوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کو آباد کرنا بی جے پی حکومت کے حالیہ اقدام کاواحد مقصد ہے جسے کے تحت کشمیر کی ۰۷ سالہ شناکت کو ختم کردیا گیا ۔

    کے آئی آر کے سربراہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام جو تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود اپنے حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، امید کرتے ہیں کہ عالمی برادری اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کرے گی۔

  • بھارت کشمیریوں پرمظالم سے بازآجائے، کرونا سے بچاو کےلیے مقبوضہ کشمیر میں طبی سامان کی کمی پر پاکستان کا اظہار تشویش

    بھارت کشمیریوں پرمظالم سے بازآجائے، کرونا سے بچاو کےلیے مقبوضہ کشمیر میں طبی سامان کی کمی پر پاکستان کا اظہار تشویش

    اسلام آباد:بھارت کشمیریوں پرمظالم سے بازآجائے، مقبوضہ کشمیر میں طبی سامان کی کمی پر پاکستان کا اظہار تشویش،اطلاعات کےمطابق دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 170 کورونا وائرس کے کیسز سامنے اانے اور 5 ہلاکتوں کے باوجود وہاں طبی سامان اور معاونت کی کمی پر پاکستان کو ’گہری تشویش‘ ہے۔

    ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ بھارت کے اندر اور دنیا بھر سے آنے والی آوازیں جموں و کشمیر کے عوام پر غیر انسانی ظلم کی مذمت کرتی رہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’حال ہی میں ایک مشترکہ بیان میں انسانی حقوق کی 6 بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بات کی تاکید کی کہ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے اقدامات میں ہر فرد کے انسانی حقوق کا احترام کرنا چاہیے اور 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں گرفتار تمام سیاسی قیدیوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور ان تمام افراد کو فوری طور پر رہا کرنا چاہیے۔

    دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ ’ان تنظیموں نے اپنے مشترکہ بیان میں بھارت کو بین الاقوامی قوانین کے تحت قیدیوں کی جسمانی اور دماغی صحت اور تندرستی کو یقینی بنانے کی یاد دہانی کرائی تھی‘۔انہوں نے خطے میں نئے ڈومیسائل قوانین کی بھی مذمت کی جس کے تحت کوئی بھی شخص مقبوضہ کشمیر میں 15 سال سے موجود ہے وہ اس علاقے کا ڈومیسائل حاصل کرسکے گا۔

    دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ ’یہ قانون بھارت کی طرف سے مقبوضہ وادی میں غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی کرکے آباد کرنے کا ایک اور غیر قانونی اقدام ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’عالمی سطح پر صحت کے حوالے سے جاری بحران کے اس وقت میں (قانون کو تبدیل کرنا) خاص طور پر قابل مذمت عمل ہے کیونکہ وہ عالمی برادری کی کورونا وائرس پر توجہ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور بھارتیا جنتا پارٹی کے مذموم ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں‘۔

  • شعیب اختراپنے کپتان کا فرمان”پہلے کشمیر” بھول گئے ، بھارت سے کرکٹ سیریز کھیلنے کی تجویز پیش کردی

    شعیب اختراپنے کپتان کا فرمان”پہلے کشمیر” بھول گئے ، بھارت سے کرکٹ سیریز کھیلنے کی تجویز پیش کردی

    لاہور:شعیب اختراپنے کپتان کا فرمان”پہلے کشمیر” بھول گئے ، بھارت سے کرکٹ سیریز کھیلنے کی تجویز پیش کردی،اطلاعات کےمطابق کورونا متاثرین کی امداد کیلیے شعیب اختر نے پاک بھارت ون ڈے سیریز کی تجویز پیش کردی۔

    ایک انٹرویو میں سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب اختر نے کہاکہ روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے مقابلے دنیا بھر میں شائقین کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں، دونوں ملک 3 ایک روزہ میچز کی سیریز کھیل کر آمدنی برابر تقسیم کرکے ضرورت مندوں کی مدد کرسکتے ہیں،

    پاکستان کے سابق سٹارکرکٹرشعیب اخترنے اس حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہےکہ اس سیریزکا نتیجہ کچھ بھی ہو دونوں ٹیموں کی جیت ہوگی، پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے لیے کھیلیں گے، ایسا پہلی بار ہوگا کہ کسی ٹیم کے پرستار بھی ہار پر دلبرداشتہ نہیں ہوں گے، ویرات کوہلی کی سنچری پر ہم اور بابر اعظم کی تھری فیگر اننگز پر بھارتی خوش ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کورونا وائرس کی وجہ سے موجودہ حالات اس کی اجازت نہیں دیتے لیکن جتنی جلد ممکن ہو سیریز کا انعقاد کرکے فلاحی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں، کرکٹ کے ذریعے دونوں ملکوں کے محروم طبقے کا دکھ کم کرنے میں مدد ملے گی

    انھوں نے تجویز پیش کی کہ کرکٹرز کو چارٹرڈ فلائٹ سے دبئی پہنچا کر مقابلوں کا انعقاد کیا جا سکتا ہے، اگر سیریز ممکن ہوجائے تو دونوں ملکوں کے کرکٹ اور سفارتی تعلقات میں بہتری آئے گی۔

  • کشمیری بچوں پلانے کے لیے دودھ نہیں ملے گا،ایک طرف کرفیوتودوسری طرف لاک ڈاون بھارتی فوج ظالم بن گئی

    کشمیری بچوں پلانے کے لیے دودھ نہیں ملے گا،ایک طرف کرفیوتودوسری طرف لاک ڈاون بھارتی فوج ظالم بن گئی

    سری نگر:کشمیری بچوں پلانے کے لیے دودھ نہیں ملے گا،ایک طرف کرفیوتودوسری طرف لاک ڈاون بھارتی فوج ظالم بن گئی ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاون مزید سخت ہونے کے باعث علاقے میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی سخت قلت پیدا ہوگئی ہے اور کشمیری تازہ سبزیوں، پھلوں کیساتھ ساتھ دودھ اور روٹی سے محروم ہو رہے ہیں جبکہ بچوں کی غذائی اشیابھی نایاب ہو چکی ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مسلسل محاصرے اور کرفیو جیسی پابندیوں کے سبب لوگوں میں ذہنی دباو میں اضافہ ہو رہا ہے اوربنیادی سہولیات کے فقدان کے نتیجے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ سرینگر سول لائنز کے کئی علاقوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ بھارتی انتظامیہ انہیں کورونا سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اپنانے کیلئے کہہ رہی ہے لیکن لوگ گھروں میں بھوک پیاس سے مر رہے ہیں۔ القمرآن لائن کے مطابق عالی کدل سے تعلق رکھنے والے غلام محمد نے بتایا کہ لوگوں کے گھروں میں تازہ سبزیاں، سبزیاں اور دودھ موجود نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ نانبائیوں نے بھی اپنی دکانیں بند کر رکھی ہیں جبکہ دودھ کی ہوم ڈیلوری بھی نہیں ہورہی ہے۔

    متعدد علاقوں میں دودھ سپلائی کرنے والوں کو بھی روک دیا گیا۔ شہر سرینگر میں اس وقت جو دودھ پہنچ رہا ہے وہ چاڈورہ ، پلوامہ ، بڈگا م اور دیگر علاقوں سے آتا ہے اور دودھ سپلائی کرنے والوں کو روکنے سے شہر میں دودھ کی کمی ہونے کا امکان ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق حیدرپورہ ، صنعت نگر ، چھان پورہ ، باغات ، برزلہ ، بمنہ ، ایچ ایم ٹی سمیت کئی علاقوں سے لوگوں نے بتایا کہ کئی دودھ والے ان کے گھروں تک موٹر سا ئیکلوں اور سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں پر دودھ لاکر گھروں میں سپلائی کرتے ہیں لیکن کرفیو کی وجہ سے سیکورٹی حکام نے دودھ سپلائی کرنے والوں کو روک دیا ہے۔

    القمرآن لائن کے مطابق کئی دود ھ فروشوں نے بتایا کہ وہ شہر آنے سے قاصر ہیں کیونکہ انہیں نوگام اور دیگر علاقوں سے شہر میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ایس ایس پی سرینگر حسیب مغل کا کہنا ہے کہ دودھ فروخت کرنے والوں کو محکمہ خوراک یا ضلع ترقیاتی کمشنر سے کرفیو پاس حاصل کرنا چاہئے ۔

    مقبوضہ کشمیر سے ذرائع کےمطابق شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے لازمی ضروریات کی دکانیں بھی مکمل طور پر بند کروا رکھی ہیں اور دکانیں محض چند گھنٹوں کیلئے بھی کھولنے کی اجازت نہیں دے رہی ۔ عابد احمد نامی شہری نے بتایا کہ بچوں کی پیکڈ (packed)غذائی اشیا بھی دستیاب نہیں ہیں۔

    بھوپال میں زیرتعلیم کشمیرکے چالیس طلبا لاک ڈائون کے نتیجے میں کسمپرسی کی حالت میں ہیں اورانہوں نے مقبوضہ جموں کشمیرانتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ان کی کشمیرواپسی کیلئے اقدام کئے جائیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بھوپال کی شری ستیہ سائیں یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس کرنے والے کپوارہ کے طالب علم نے کہ کشمیری طالب علم بہت پریشان ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کی وجہ سے ان کا یہاں کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ارشادنے بتایا کہ بھوپال کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیرتعلیم طلبا جن کی تعداد 40ہے،اولڈ بھوپال کملا پارک فلیٹ میں مقیم ہیں اوراب ان کے پاس کھانے پینے کی تمام چیزیں ختم ہوگئی ہیں اوریہاں دودھ کے سواکچھ نہیں ملتا ۔