Baaghi TV

Category: کشمیر

  • پہلے عسکریت پسند بھیجے جاتے تھے اب پاکستان کرونا بھیج رہا ہے، بھارتی ہرزہ سرائی

    پہلے عسکریت پسند بھیجے جاتے تھے اب پاکستان کرونا بھیج رہا ہے، بھارتی ہرزہ سرائی

    پہلے عسکریت پسند بھیجے جاتے تھے اب پاکستان کرونا بھیج رہا ہے، بھارتی ہرزہ سرائی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت سرکار نے کرونا کے مریضوں کا الزام بھی پاکستان پر لگا دیا

    مقبوضہ کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ کہ پاکستان پہلے صرف عسکریت پسند بھیجتا تھا اب اس نے کورونا وائرس کے مریضوں کو بھی بھیجنا شروع کردیا ہے۔

    ڈی جی پولیس نے مزید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ بھارت میں انفیکشن پھیلائیں گے۔ پاکستان کورونا وائرس کے مریضوں کو ایکسپورٹ کررہا ہے۔ یہ سچ ہے اور یہ تشویش کی بات ہے۔ دنیا مہلک وبائی بیماری سے لڑ رہی ہے ، پاکستان بھارت کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 426 ہو گئی ہے، جن میں جموں سے56 اور کشمیر سے 351کیسزہیں۔ لداخ میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 19 ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈائون کے دوران ناکہ بندی،علاقہ بندی اور سڑکوں کی تار بندی جاری ہے پولیس نے لاک ڈائون کی خلاف ورزی کی پاداش میں4دکانداروں کو حراست میں لیکر جنوبی کشمیر میں39گاڑیاں ضبط کیں ۔البتہ وادی کے80ریڈ زونوں میں نقل و حرکت پر مکمل طور پر پابندی عائد ہے اور کوئی چھوٹ نہیں دی گئی ہے۔ نقل و حرکت کے حوالے سے محدود علاقوں میں ڈرون کیمروں سے نگرانی کی جارہی ہے۔

    شہر کے مقابلے میں دیگر قصبوں، ضلع صدر مقامات اور دیگر دہی علاقوں میں کوئی نرمی نہیں دی جارہی ہے۔دہی علاقوں اور قصبوں میں کہیں سبزی نہیں بنتی، گوشت نہیں مل رہا ہے۔ پولیس نے دفعہ144کے تحت جاری امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنیکی پاداش میں کاروائی جاری رکھی۔لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں مائسمہ پولیس نے 2دکانداروں کو حراست میں لیکر انکے خلاف دو کیس ایف آئی آر نمبر 11اور 12 درج کرلیا ۔

    اونتی پورہ پولیس نے سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کی پاداش میں10موٹر سائیکلوں سمیت 36گاڑیوںکو ضبط کیا۔القمرآن لائن کے مطابق کے مطابق اونتی پورہ پولیس اسٹیشن کے تحت آنے والے علاقے میں12 گاڑیوں کو ضبط کیاگیا ۔پولیس اسٹیشن پانپور کے علاقے میں سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کے مرتکب 3 گاڑیاں اورایک موٹرسائیکل کو ضبط کر لیا گیا۔ پولیس اسٹیشن کھریو کے علاقے میں 5 گاڑیوں اور 9 موٹر سیائیکلوں کو ضبط کر لیا گیا اور پولیس اسٹیشن ترال کے علاقے میں6 گاڑیوں کو ضبط کر لیا گیا۔

    جموں کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کا ایک دور دراز گاوں ، جس کی آبادی 400 کے لگ بھگ ہے ،سب سے بڑے کورونا وائرس ہاٹ سپاٹ کے طور پر سامنے آیا ہے۔کم سے کم 30 کوویڈ سے متاثرہ مریضوں کے ساتھ یہ پہلا گاوں ہے جہاں پوری آبادی کو کورونا وائرس کے پھیلا وسے لڑنے کے لئے قرنطینہ کردیا گیا ہے۔

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    کرونا لاک ڈاؤن، مودی کے بھارت میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق عہدیداروں نے بتایا کہ 30 گاوں میں متعدی وائرس کے مثبت ٹیسٹ کر چکے ہیں ، جبکہ مزید 400 کے ٹیسٹ جاری ہیں۔حکام کا خیال ہے کہ گاں میں ایک ایسے شخص سے وائرس پھیل گیا جس کے ٹیسٹ کے نتائج اس کی موت کے بعد مثبت آئے۔ تب تک ، وہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد سے رابطے میں رہاتھا ، جس میں اس کے اپنے خاندان کے 11 افراد بھی شامل ہیں ۔اس علاقے میں اسپیشل ڈیوٹی آفیسر شاہنواز بخاری نے بتایا ، "اس گاوں سے ایک موت کی اطلاع ملی تھی جس کی کوئی سفری اور رابطہ کی تاریخ نہیں تھی۔ کسی کو بھی شبہ نہیں تھا کہ وہ کوویڈ 19 کا مریض ہوسکتا ہے۔

    "ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اب علاقے کو سیل کردیا ہے اور گاوں میں صفائی ستھرائی کے کارکن گلیوں اور مکانات کو صاف کر رہے ہیں۔ ضلع بانڈی پورہ میں کورونا وائرس کے 91 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں – یہ جموں و کشمیر میں سب سے زیادہ ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کے مظالم جاری، 4 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کے مظالم جاری، 4 کشمیری شہید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے

    مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیان کے زینہ پورہ سب ڈویژن کے علاقے ملہورہ وچی میں منگل کی رات بھارتی فوج اور مجاہدین میں جھڑپ ہوئی،4 مجاہدین شہید ہو گئے ۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ چار مجاہدین ، پلوامہ کے بشار شاہ (اسامہ)، شوپیاں کے طارق بھٹ (لقمان )پلوامہ کے وکیل ڈار (عاصم )اور بارہ مولا کے عزیر بھٹ (قاسم)کا تعلق انصار غزوہ الہند تنظیم سے تھا۔

    پاکستان نے بھارت کو کشمیر میں حملے کی منصوبہ بندی کی دی اطلاع…اورپھر ہو گیا حملہ

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    مقبوضہ کشمیر، کرونا کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھنے لگی، اموات کتنی ہو گئیں؟

    بھارتی فورسزنے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے،ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی فوج نے علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی جس کے بعد علاقے کو سکیورٹی فورسز نے محاصرے میں لیا۔محاصرے کے دوران فورسز اہلکاروں اور مجاہدین کے مابین تصادم شروع ہوا۔تصادم شروع ہوتے ہی ضلع میں انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا گیا ۔

    مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ برس ماہ اگست سے کرفیو نافذ ہے جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثت کا خاتمہ کیا تھا تا اہم اب کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن مزید سخت کیا گیا ہے،بھارتی پولیس نے متعدد صحافیوں کو بھی حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی اور کام کرنے سے روک دیا۔ بھارتی فوج نے خاتون صحافی سمیت 3 صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرکے انہیں گرفتار کیا ہے.

    کرونا لاک ڈاؤن،دنیا والو…اب کشمیریوں کی تکالیف کا اندازہ ہو گیا ہو گا. وزیراعظم

  • کشمیری دہری آزمائش میں ایک طرف کرونا تو دوسری طرف بھارتی مظالم ،خاتون صحافی کوگرفتارکرلیا

    کشمیری دہری آزمائش میں ایک طرف کرونا تو دوسری طرف بھارتی مظالم ،خاتون صحافی کوگرفتارکرلیا

    سری نگر:کشمیری دہری آزمائش میں ایک طرف کرونا تو دوسری طرف بھارتی مظالم ،خاتون صحافی کوگرفتارکرلیا،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں پولیس نے خاتون صحافی مسرت زہرا کو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

    غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سری نگر کی رہائشی فوٹو جرنلسٹ 26 سالہ مسرت زہرا پر فیس بک پر نوجوانوں کو ریاست مخالف جرائم کے لیے اکسانے کا مواد پوسٹ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق انھیں مستند ذرائع سے خبر ملی تھی مسرت زہرا فیس بک پر مجرمانہ انداز میں ریاست مخالف پوسٹس کررہی ہیں۔

    مسرت زہرا نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ گزشتہ برسوں کے دوران شائع ہونے والے کام کو فیس بک پر دوبارہ پوسٹ کرنے پر درج کیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیریوں کی منزل بہت قریب ہے ، بس ایک دھکے کی ضرورت ہے ، کشمیرپراپنا قبضہ مستحکم کرنے والا بھارت اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکے گا

  • مقبوضہ کشمیر میں دو فوٹو جرنلسٹ بھارتی فوج کے ہاتھوں تشدد کا شکار

    مقبوضہ کشمیر میں دو فوٹو جرنلسٹ بھارتی فوج کے ہاتھوں تشدد کا شکار

    مقبوضہ کشمیر میں دو فوٹو جرنلسٹ فورسز کے ہاتھوں تشدد کا شکار

    سرینگر(باغی ٹی وی )جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں پیر کے روز دو فوٹو صحافیوں کو مبینہ طور پر ہندوستانی سنٹر ریزرو پولیس پرسنلز (سی آر پی ایف) کے ہاتھوں میہندی کڈیل۔اشاجی پورہ بائی پاس روڈ اسلام آباد میں چیکنگ پوائنٹ پر ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق شاہ جنید فوٹو جرنلسٹ کی حیثیت سے روزنامہ آفتاب اور منیب الاسلام روزنامہ روشنی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

    اس سے قبل کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حملہ آوروں نے سوپور کے علاقے نور باغ میں احد بابا کراسنگ کے نزدیک واقع چیک پوسٹ پر سینٹرل ریزرو پولیس فورس اورپولیس کی ایک مشترکہ پارٹی پر فائرنگ کی جس سے 4اہلکار ہلاک اوردوشدید زخمی ہوگئے۔واقعے کے فوراً بعد بھارتی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔
    مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملے میں 4 بھارتی فوجی ہلاک، 2 زخمی،کشمیری بھارتی مظالم کے خلاف نکل آئے

    جموں و کشمیرکی تاریخ میں پہلی بار بھارت شہید کشمیریوں کو خفیہ طور پر دفنانے لگا ہے۔شوپیان میں جمعہ کو شہید کیے گئے دو مقامی مجاہدین کی لاشوں کو ان کے لواحقین کے سپرد نہیں کیاگیا۔

  • COVID19 کی جگہ #Modi_19 نے لے لی

    COVID19 کی جگہ #Modi_19 نے لے لی

    دنیا بھر میں پھیلنے والے خطرناک وائرس کورونا وائرس کوویڈ 19 کی جگہ ٹویٹر ٹرینڈ پر مودی 19 نے لے لی

    باغی ٹی وی : بھارتی وزایراعظم مودی کی مسلمانوں اور اسلام سے دشمنی اور نفرت کسی سے بھی چھپی نہیں ہے مودی کے اسلام مخالف اور مسلمان دشمن پالیسیوں اور بھارت اور کشمیری مسلمانوں کےپر مظالم کی وجہ سے تقریباً پوری دنیا میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اب بات یہاں تک آ پہنچی ہے کہ مودی کے مسلمانوں اور کشمیریوں پر ظلم دیکھتے ہوئے ٹویٹر صارفین نے مودی کو دنیابھر میں پھیلے خطرناک وائرس اور عالمی وباسے تشبیہہ دے ڈالی

    لوگوں نے مودی کو اسلام مخالف پالیسیوں اور مسلمانوں اور یکشمیریوں پر ظلم کی انتہا کی وجہ سے کشمیریوں اور مسلمانوں کے لئے خطرناک وبا کورونا قرار دیا اور اب ٹویٹر پر Covid_19# کی بجائے Modi_19# ٹرینڈ بن گیا ہے

    صارفین نے مودی 19 ٹریںڈ میں مودی کو خوب تنقید کا نشانہ بنا یا اور تنقید بھرے تبصرے کئے
    https://twitter.com/TahreemShah_/status/1251839345411198982?s=19
    ایک تحریم نامی صارف نے لکھا کہ #Modi_19 مسلمانوں کا قاتل ہے اور قاتلوں کا بنگلہ دیش میں ویلکم نہیں کیا جاتا
    https://twitter.com/Sandhu_IVF/status/1251839574894092288?s=19
    چوہدری ذیشان سندھو نامی صارف نے لکھا کہ اللہ معصوم کشمیری شہدا کے خون کے بہنے والے ہر قطرے پر انصاف لائے گا ، انشاء اللہ۔ سرنگ کے دوسری طرف ہمیشہ روشنی رہتی ہے
    https://twitter.com/Amnastic2/status/1251838631112855556?s=19
    آمنہ نامی صارف نے لکھا کہ کشمیرمیں خون بہہ رہا ہے۔ نہ اسکول ، نہ اسپتال ، نہ کھانا ، نہ آزاد سانس ، محاصرہ کو 6 ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ انڈیا نے اسے لفظی جہنم بنا دیا ہے


    ذوالفقار علی بیگل نامی صارف نے انڈین عوام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ہیلو انڈیا لاک ڈاؤن میں رہ کر کیسا لگ رہا ہے
    https://twitter.com/BeingOmmar/status/1251829836936613890?s=19
    عمر خان نامی ایک صارف نے لکھا کہ کب کشمیری مودی جیسی وبائی امراض سے نجات پائیں گے؟
    https://twitter.com/JaveriaRafiq7/status/1251836603129040897?s=19
    جویریہ رفیق نامی صارف نے لکھا کہ سیکولرازم اور_جمہوریت دونوں ہی_آئ ایس آر کی قیادت میں فاشسٹ مودی حکومت کی طرف سے نقاب کشائی کی گئی ہیں


    آمنہ بخاری نامی صارف نے لکھا کہ مقبوضہ کشمیریوں کی نسل کشی بند کرو اور پاگل وائرس میںمبتلا متحرک اور مقبوضہ افواج کو لاک ڈائون کریں


    مبین اشرف طرار نامی صارف نے لکھا کہ آر ایس ایس کے بدمعاش مسلمان کا سر ایسے کاٹ رہے ہیں جیسے وہ انسان یا زندہ مخلوق نہیں ہیں

    ” آسیہ اندرابی کو رہا کرو” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا

    بھارت یہ ناں سمجھے کہ کرونا کی وجہ سے کشمیری اپنے موقف پرکمزورہوگئے ہیں،کشمیرہماراہے،سارے کا سارا ہے ،الطاف حسین

  • مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا

    مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا

    اسلام آباد:مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا ،باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان جہاں ایک طرف کرونا سے لڑرہے ہیں وہاں وہ دوسرے محاذپرکشمیریوں‌اوربھارتی مسلمانوں کےحقوق کے لیے لڑرہے ہیں‌

     

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم پاکستان اپنی تمام ترمصروفیات کے باوجود بھارت کے معاملے پربڑے محترک نظرآتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں پرہونے والے مظالم کے خلاف عمران خان نہ صرف بیان دیتے ہیں بلکہ باقاعدہ ایک مہم جوئی بھی کررہےہیں‌

    آج اپنے تازہ بیان میں انہوں‌ نے کہا ہےکہ بھارت میں مودی سرکار بھارت میں کرونا وائرس کے خلاف اقدامات کرنے میں بالکل ناکام رہا ہےاسی لیئے وہ مسلمانوں‌پرمظالم کرکے توجہ ہٹانا چاہتا ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ وزیراعظم نے مودی کو نازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے جو نازیوں نے یہودیوں کے خلاف نسلی امتیاز کیا تھا

    وزیراعظم کہتے ہیں‌کہ ہزاروں افرادکوبھوک/مصائب میں پھانسنے والی اپنی ناکام کروناپالیسی کیخلاف ردعمل سےتوجہ ہٹانے کیلئےمودی سرکارکا جان بوجھ کرمسلمانوں کونشانہ ستم بنانا ویسا ہی ہے جیساجرمنی میں نازیوں نے یہودیوں کیساتھ کیا۔نسلی بالادستی کےنظریے ہندوتوا سے مودی سرکار کےگہرے تعلق کا یہ ایک اور ثبوت ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملے میں 4 بھارتی فوجی ہلاک، 2 زخمی،کشمیری بھارتی مظالم کے خلاف نکل آئے

    مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملے میں 4 بھارتی فوجی ہلاک، 2 زخمی،کشمیری بھارتی مظالم کے خلاف نکل آئے

    سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملے میں 4 بھارتی فوجی ہلاک، 2 زخمی،کشمیری بھارتی مظالم کے خلاف نکل آئے ،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں مجاہدین کے ایک حملے میں بھارتی پیراملٹری فورسز کے4اہلکار ہلاک اور2 زخمی ہوگئے۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حملہ آوروں نے سوپور کے علاقے نور باغ میں احد بابا کراسنگ کے نزدیک واقع چیک پوسٹ پر سینٹرل ریزرو پولیس فورس اورپولیس کی ایک مشترکہ پارٹی پر فائرنگ کی جس سے 4اہلکار ہلاک اوردوشدید زخمی ہوگئے۔واقعے کے فوراً بعد بھارتی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔

    جموں و کشمیرکی تاریخ میں پہلی بار بھارت شہید کشمیریوں کو خفیہ طور پر دفنانے لگا ہے۔شوپیان میں جمعہ کو شہید کیے گئے دو مقامی مجاہدین کی لاشوں کو ان کے لواحقین کے سپرد نہیں کیاگیا۔

    جموں وکشمیر پولیس کے مطابق شوپیان کے رہنے والے دو کشمیریوں کی لاشیں سرینگر کے ہسپتال میں کورونا کی جانچ کے بعد شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ پہنچائی گئیں جہاں ان کی تدفین عمل میں لائی گئی۔یہ قدم وادی میں کووڈ 19 کے پھیلاؤکے پیش نظرکیاگیاہے۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بارہمولہ سے وابستہ کوروناوائرس کا70 سالہ بزرگ مریض ہسپتال میں انتقال کرگیاجس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کورونا سے اموات پانچ ہو گئی ہیں۔کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 346تک پہنچ گئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں کورونا ریڈ زون علاقوں کی تعدادبڑھ کو 80ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب بھارتی پنچاب کے ضلع پٹھانکوٹ کے مختلف قرنطینہ مراکز میں قرنطینہ کی مدت مکمل ہونے کے باوجودگھروں کو واپس نہ بھیجنے پر لگ بھک بارہ سو کشمیری محنت کشوں نے مقبوضہ علاقے میں اپنے گھروں کو واپسی کیلئے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔

    حریت تنظیموں اور حریت رہنماؤں نے بھارتی فوج کے محاصرے اور تلاشی کی بڑھتی کارروائیوں پرتشویش اوروبا کے پیش نظر جیلوں میں غیرقانونی طور پر نظر بند کشمیریوںکی رہائی کامطالبہ کیا۔

  • ” آسیہ اندرابی کو رہا کرو” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    ” آسیہ اندرابی کو رہا کرو” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    ” آسیہ اندرابی کو رہا کرو” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    باغی ٹی وی :آسیہ اندرابی کو رہا کرو ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ، مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور حریت کاا ستعارہ سمجھی جانے والی عظیم خاتون آپا سیدہ آسیہ اندرابی کی رہائی کے سلسلے میں ٹویٹر پر جاری ٹرینڈ ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہو گیا ہے آسیہ اندرابی اور ان کے خاوند نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی اور بھارت سے نجات حاصل کرنے میں‌صرف کر دی ہے ، ان کی زندگی کا بیشتر حصہ اب جیل اور کال کوٹھڑی میں گزرا ہے. بھارتی افواج کے مظالم و جور کا جواں ہمتی سے مقابلہ کرنے والوں کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھر سے آواز اٹھی ہے اور ان کی رہائی کا تقاضا کیا گیا ہے.

    شبیر شاہ، مسرت عالم، آسیہ اندرابی عدالت کے حکم پر جیل منتقل

    واضح رہے کہ دختران ملت کی چیئرپرسن سیدہ آسیہ اندرابی 2017 سے دہلی میں قید ہیں، انہیں مودی سرکار نے پاکستان کا پرچم اٹھانے اور پاکستان زندہ باز کے نعرے لگانے کے جرم میں غداری کا مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا ہوا ہے،25 مارچ 2015 کو آسیہ اندرابی نے کشمیر میں پاکستان کا قومی ترانہ گاتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرایا۔ بعد ازاں اسی سال پاکستان کے یوم آزادی پر دختران ملت کی چیئرپرسن نے ایک تقریب میں پاکستانی پرچم لہرایا، 12 ستمبر 2015 کو حریت پسند رہنما سیدہ آسیہ اندرابی نے ایک گائے ذبح کر کے اس کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں گائے کا گوشت فروخت کرنے کی پابندی پر احتجاج کیا تھا،سیدہ آسیہ اندرابی کے شوہر ڈاکٹر قاسم فکتو بھی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں.

    حریت رہنما مسرت عالم 2010 سے جیل میں ہیں، انہیں عدالتی حکم کے باوجود رہا نہیں کیا جاتا ،یاسین ملک کی جماعت پر پابندی لگا کر بھارت سرکار نے انہیں گرفتار کیا ہوا ہے.
    کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانے والی آسیہ اندرابی کی رہائشگاہ کو سربمہر کر دیا گیا

  • بھارت یہ ناں سمجھے کہ کرونا کی وجہ سے کشمیری اپنے موقف پرکمزورہوگئے ہیں،کشمیرہماراہے،سارے کا سارا ہے ،الطاف حسین

    بھارت یہ ناں سمجھے کہ کرونا کی وجہ سے کشمیری اپنے موقف پرکمزورہوگئے ہیں،کشمیرہماراہے،سارے کا سارا ہے ،الطاف حسین

    اسلام آباد: انٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ نےایک آن لائن سیمینارکا اہتمام کیا جس میں کشمیری ماہرین رائے لی گئی کہ وہ اس امکان کا جائزہ لیں کہ کورونا کی وبا کے دوران عالمی توجہ کشمیرکی صورتحال سے دور نا ہو جائے۔ یہ ایک مخمصہ ہے جس کا سامنا بہت سے انسانی حقوق کے کارکنوں اور پالیسی ساز افراد کو درپیش ہے۔ اس ویبنار میں دنیا کے ایک ایسے خطے پر توجہ مرکوز کی گئی جو کہ جدید تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن بھگت رہا ہے، جہاں اسی لاکھ سے زائد افراد آزادانہ طور پر نقل و حرکت اور انٹرنیٹ جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔

    انسانی حقوق کے بین الاقوامی کارکنوں ، صحافیوں، اور کشمیری، پاکستانی اور او آئی سی سمیت دوسرے بڑے ممالک کے سفارت کاروں نے گذشتہ چند مہینوں سے مسئلہ کشمیر پر عالمی توجہ حاصل کرنے کے لئے سخت محنت کی ہے۔ تاہم اس ضمن میں اب کچھ تشویش پائی جارہی ہے کہ عالمی وبا کشمیر پر بین الاقوامی دلچسپی کو متاثر کر سکتی ہے۔ کشمیر ایک طویل عرصے سے عالمی راڈار سے دور تھا لیکن 2016 کے بعد دوبارہ عالمی مسئلے کے طور پر سامنے آیا۔ اقوام متحدہ نے 2018 اور 2019 میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر دو جامع رپورٹیں جاری کیں۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد پارلیمانوں نے حالیہ عرصے میں کشمیر کی صورتحال پر سماعتیں کیں۔ بین الاقوامی میڈیا کی بدولت مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم اور سیاسی بحران کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی بے مثال ہے۔

    تاہم کشمیر پر اس ساری عالمی توجہ کو کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ کشمیری کارکن اور پالیسی ماہرین نے ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعے 5 اگست 2019 کے بعد کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کورونا وائرس کے دوران اور اس کے بعد کی دنیا کو مسئلہ کشمیر پر آگاہ رکھنے کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

    آن لائن سیمینار کا عنوان تھا، "مسئلہ کشمیر کا کورونا وائرس اور دیگر مسائل سے پس پردہ جانے کا خدشہ: کیا پالیسی اختیار کرنی چاہئے”۔ جبکہ سیمینار کے شرکاء میں کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی، نمل یونیورسٹی کے شعبہ گورننس اینڈ پبلک پالیسی کے سربراہ ڈاکٹر وقاص علی کوثر، یونیورسٹی آف کوٹلی سے پروفیسر شگفتہ اشرف، کل جماعتی حریت کانفرنس سے ایڈووکیٹ پرویز شاہ اور وائی ایف کے انٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر احمد قریشی شامل تھے۔

    اس بحث کے دوران ایک اہم نکتہ ڈاکٹر وقاص علی کوثر کی طرف سے سامنے آیا جس نے اس خیال کو مسترد کیا کہ موجودہ وبائی صورتحال کشمیر کو عالمی توجہ سے دور کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعہ کشمیر نے گذشتہ سات دہائیوں کے دوران متعدد عروج اور زوال دیکھے ہیں اور اس سارے عرصے میں خطے میں موجود قابض بھارتی انتظامیہ اور فوج تحریک آزادی کو دبانے میں ناکام رہی ہے۔ ڈاکٹر وقاص نے کہا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی مستحکم ہے اور اس لئے وبائی مرض پر عالمی توجہ کشمیر کو پس منظر میں نہیں جانے دے گی۔

    الطاف حسین وانی، جو کہ مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے سیاستدان اور ماہر ہیں، کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کے مستقل نمائندے خلیل ہاشمی نے 9 اپریل 2020 کو ایک ویڈیو کانفونس کے دوران اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ کے سامنے اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ کشمیریوں کے خلاف بھارت کی طرف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں پہلے کی نسبت کورونا وبا کے دوران اور زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ الطاف وانی کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات اور کوریج اس بات کی تصدیق ہیں کہ وبائی مرض کے باوجود عالمی سطح پر نیوز کوریج میں کشمیر کو ایک طرف ہٹانا ممکن نہیں ہے۔

    مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ پرویز شاہ نے شرکاء اور دیگر آن لائن سامعین کو کشمیر کے لاک ڈاون اور مواصلاتی پابندیوں سے متعلق مقبوضہ خطے کے اندر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔

    وائی ​​ایف کے، کے نمائندے احمد قریشی نے انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور پالیسی ساز ماہرین کے مابین اس بحث و مباحثے کی ضرورت پر زور دیا کہ وبائی مرض اور لاک ڈاؤن کے معاملات پر عالمی مباحثہ اور توجہ کو کشمیر سے کیسے جوڑا جائے۔ کشمیر کا خطہ لاک ڈاؤن کے زیر اثر رہا ہے اور لاکھوں افراد تاحال انٹرنیٹ اور دیگر رابطے کے سافٹ وئیر استعمال کرنے سے محروم ہیں۔ احمد قریشی کا مزید کہنا تھا کہ اس سے معمول کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ جس کے باعث مقبوضہ کشمیر میں نا صرف نفسیاتی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

    پروفیسر شگفتہ اشرف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر جوز سنگر کا بھارتی اخبار دی ہندو کو انٹرویو، جس میں انہوں نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ کشمیر پر اپنے سخت رویوں میں نرمی لائیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ کورونا کے وبائی مرض کے باوجود عالمی توجہ کشمیر پر مرکوز ہے۔ پروفیسر شگفتہ نے مسئلہ کشمیر کو قومی اور عالمی سطح پر اجاگر رکھنے کے لیے کشمیر پر کام کرنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں اور حکومت پاکستان کے لئے متعدد تجاویز بھی پیش کیں۔

    وائے ایف کے – انٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ(یوتھ فورم فار کشمیر)، ایک غیر جانبداربین الاقوامی این جی او ہے جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پُر امن حل کیلئے کوشاں ہے۔

  • تہاڑ جیل حریت خواتین کوکھانا پہنچانے والی  لیڈی پولیس کانسٹیبل کو کرونا وائرس،حریت رہنماوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

    تہاڑ جیل حریت خواتین کوکھانا پہنچانے والی لیڈی پولیس کانسٹیبل کو کرونا وائرس،حریت رہنماوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

    سری نگر:تہاڑ جیل کی لیڈی پولیس کانسٹیبل کو کرونا وائرس،حریت رہنماوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں بھی کرونا مریضوں کا انکشاف ہوا ہے، اس سسلسلے میں جیل پولیس اہلکاروں کو کرونا کی شکایات سامنے آئی ہیں


    باغی ٹی وی کے مطابق تہاڑ جیل میں اس بات کا انکشاف اس وقت جب ایک لیڈی پولیس اہلکارنے اپنی طبیعت کے خراب ہونے کا اظہارکیا ، اس لیڈی پولیس اہلکارکے ٹیسٹ لیئے گئے تو پتہ چلا کہ اسے کرونا وائرس منتقل ہوگیا ہے

    تہاڑجیل سے ذرائع کےمطابق مذکورہ لیڈی پولیس آفسیر جیل میں قید تین حریت خواتین رہنماوں کو کھانا پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتی تھی ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس پولیس اہلکارکی دیگرساتھیوں کو بھی کرونا وائرس کی شکایت ہوسکتی ہے،

    ادھرکشمیری رہنماوں نے تشویش ظاہر کی ہےکہ یہ بھارت کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کے ذریعے وہ حریت رہنماوں کوانتہائی غلط طریقوں سے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے،