Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کے مظالم جاری، 4 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کے مظالم جاری، 4 کشمیری شہید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے

    مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیان کے زینہ پورہ سب ڈویژن کے علاقے ملہورہ وچی میں منگل کی رات بھارتی فوج اور مجاہدین میں جھڑپ ہوئی،4 مجاہدین شہید ہو گئے ۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ چار مجاہدین ، پلوامہ کے بشار شاہ (اسامہ)، شوپیاں کے طارق بھٹ (لقمان )پلوامہ کے وکیل ڈار (عاصم )اور بارہ مولا کے عزیر بھٹ (قاسم)کا تعلق انصار غزوہ الہند تنظیم سے تھا۔

    پاکستان نے بھارت کو کشمیر میں حملے کی منصوبہ بندی کی دی اطلاع…اورپھر ہو گیا حملہ

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    مقبوضہ کشمیر، کرونا کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھنے لگی، اموات کتنی ہو گئیں؟

    بھارتی فورسزنے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے،ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی فوج نے علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی جس کے بعد علاقے کو سکیورٹی فورسز نے محاصرے میں لیا۔محاصرے کے دوران فورسز اہلکاروں اور مجاہدین کے مابین تصادم شروع ہوا۔تصادم شروع ہوتے ہی ضلع میں انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا گیا ۔

    مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ برس ماہ اگست سے کرفیو نافذ ہے جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثت کا خاتمہ کیا تھا تا اہم اب کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن مزید سخت کیا گیا ہے،بھارتی پولیس نے متعدد صحافیوں کو بھی حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی اور کام کرنے سے روک دیا۔ بھارتی فوج نے خاتون صحافی سمیت 3 صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرکے انہیں گرفتار کیا ہے.

    کرونا لاک ڈاؤن،دنیا والو…اب کشمیریوں کی تکالیف کا اندازہ ہو گیا ہو گا. وزیراعظم

  • کشمیری دہری آزمائش میں ایک طرف کرونا تو دوسری طرف بھارتی مظالم ،خاتون صحافی کوگرفتارکرلیا

    کشمیری دہری آزمائش میں ایک طرف کرونا تو دوسری طرف بھارتی مظالم ،خاتون صحافی کوگرفتارکرلیا

    سری نگر:کشمیری دہری آزمائش میں ایک طرف کرونا تو دوسری طرف بھارتی مظالم ،خاتون صحافی کوگرفتارکرلیا،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں پولیس نے خاتون صحافی مسرت زہرا کو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

    غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سری نگر کی رہائشی فوٹو جرنلسٹ 26 سالہ مسرت زہرا پر فیس بک پر نوجوانوں کو ریاست مخالف جرائم کے لیے اکسانے کا مواد پوسٹ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق انھیں مستند ذرائع سے خبر ملی تھی مسرت زہرا فیس بک پر مجرمانہ انداز میں ریاست مخالف پوسٹس کررہی ہیں۔

    مسرت زہرا نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ گزشتہ برسوں کے دوران شائع ہونے والے کام کو فیس بک پر دوبارہ پوسٹ کرنے پر درج کیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیریوں کی منزل بہت قریب ہے ، بس ایک دھکے کی ضرورت ہے ، کشمیرپراپنا قبضہ مستحکم کرنے والا بھارت اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکے گا

  • مقبوضہ کشمیر میں دو فوٹو جرنلسٹ بھارتی فوج کے ہاتھوں تشدد کا شکار

    مقبوضہ کشمیر میں دو فوٹو جرنلسٹ بھارتی فوج کے ہاتھوں تشدد کا شکار

    مقبوضہ کشمیر میں دو فوٹو جرنلسٹ فورسز کے ہاتھوں تشدد کا شکار

    سرینگر(باغی ٹی وی )جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں پیر کے روز دو فوٹو صحافیوں کو مبینہ طور پر ہندوستانی سنٹر ریزرو پولیس پرسنلز (سی آر پی ایف) کے ہاتھوں میہندی کڈیل۔اشاجی پورہ بائی پاس روڈ اسلام آباد میں چیکنگ پوائنٹ پر ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق شاہ جنید فوٹو جرنلسٹ کی حیثیت سے روزنامہ آفتاب اور منیب الاسلام روزنامہ روشنی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

    اس سے قبل کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حملہ آوروں نے سوپور کے علاقے نور باغ میں احد بابا کراسنگ کے نزدیک واقع چیک پوسٹ پر سینٹرل ریزرو پولیس فورس اورپولیس کی ایک مشترکہ پارٹی پر فائرنگ کی جس سے 4اہلکار ہلاک اوردوشدید زخمی ہوگئے۔واقعے کے فوراً بعد بھارتی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔
    مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملے میں 4 بھارتی فوجی ہلاک، 2 زخمی،کشمیری بھارتی مظالم کے خلاف نکل آئے

    جموں و کشمیرکی تاریخ میں پہلی بار بھارت شہید کشمیریوں کو خفیہ طور پر دفنانے لگا ہے۔شوپیان میں جمعہ کو شہید کیے گئے دو مقامی مجاہدین کی لاشوں کو ان کے لواحقین کے سپرد نہیں کیاگیا۔

  • COVID19 کی جگہ #Modi_19 نے لے لی

    COVID19 کی جگہ #Modi_19 نے لے لی

    دنیا بھر میں پھیلنے والے خطرناک وائرس کورونا وائرس کوویڈ 19 کی جگہ ٹویٹر ٹرینڈ پر مودی 19 نے لے لی

    باغی ٹی وی : بھارتی وزایراعظم مودی کی مسلمانوں اور اسلام سے دشمنی اور نفرت کسی سے بھی چھپی نہیں ہے مودی کے اسلام مخالف اور مسلمان دشمن پالیسیوں اور بھارت اور کشمیری مسلمانوں کےپر مظالم کی وجہ سے تقریباً پوری دنیا میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اب بات یہاں تک آ پہنچی ہے کہ مودی کے مسلمانوں اور کشمیریوں پر ظلم دیکھتے ہوئے ٹویٹر صارفین نے مودی کو دنیابھر میں پھیلے خطرناک وائرس اور عالمی وباسے تشبیہہ دے ڈالی

    لوگوں نے مودی کو اسلام مخالف پالیسیوں اور مسلمانوں اور یکشمیریوں پر ظلم کی انتہا کی وجہ سے کشمیریوں اور مسلمانوں کے لئے خطرناک وبا کورونا قرار دیا اور اب ٹویٹر پر Covid_19# کی بجائے Modi_19# ٹرینڈ بن گیا ہے

    صارفین نے مودی 19 ٹریںڈ میں مودی کو خوب تنقید کا نشانہ بنا یا اور تنقید بھرے تبصرے کئے
    https://twitter.com/TahreemShah_/status/1251839345411198982?s=19
    ایک تحریم نامی صارف نے لکھا کہ #Modi_19 مسلمانوں کا قاتل ہے اور قاتلوں کا بنگلہ دیش میں ویلکم نہیں کیا جاتا
    https://twitter.com/Sandhu_IVF/status/1251839574894092288?s=19
    چوہدری ذیشان سندھو نامی صارف نے لکھا کہ اللہ معصوم کشمیری شہدا کے خون کے بہنے والے ہر قطرے پر انصاف لائے گا ، انشاء اللہ۔ سرنگ کے دوسری طرف ہمیشہ روشنی رہتی ہے
    https://twitter.com/Amnastic2/status/1251838631112855556?s=19
    آمنہ نامی صارف نے لکھا کہ کشمیرمیں خون بہہ رہا ہے۔ نہ اسکول ، نہ اسپتال ، نہ کھانا ، نہ آزاد سانس ، محاصرہ کو 6 ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ انڈیا نے اسے لفظی جہنم بنا دیا ہے


    ذوالفقار علی بیگل نامی صارف نے انڈین عوام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ہیلو انڈیا لاک ڈاؤن میں رہ کر کیسا لگ رہا ہے
    https://twitter.com/BeingOmmar/status/1251829836936613890?s=19
    عمر خان نامی ایک صارف نے لکھا کہ کب کشمیری مودی جیسی وبائی امراض سے نجات پائیں گے؟
    https://twitter.com/JaveriaRafiq7/status/1251836603129040897?s=19
    جویریہ رفیق نامی صارف نے لکھا کہ سیکولرازم اور_جمہوریت دونوں ہی_آئ ایس آر کی قیادت میں فاشسٹ مودی حکومت کی طرف سے نقاب کشائی کی گئی ہیں


    آمنہ بخاری نامی صارف نے لکھا کہ مقبوضہ کشمیریوں کی نسل کشی بند کرو اور پاگل وائرس میںمبتلا متحرک اور مقبوضہ افواج کو لاک ڈائون کریں


    مبین اشرف طرار نامی صارف نے لکھا کہ آر ایس ایس کے بدمعاش مسلمان کا سر ایسے کاٹ رہے ہیں جیسے وہ انسان یا زندہ مخلوق نہیں ہیں

    ” آسیہ اندرابی کو رہا کرو” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا

    بھارت یہ ناں سمجھے کہ کرونا کی وجہ سے کشمیری اپنے موقف پرکمزورہوگئے ہیں،کشمیرہماراہے،سارے کا سارا ہے ،الطاف حسین

  • مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا

    مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا

    اسلام آباد:مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا ،باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان جہاں ایک طرف کرونا سے لڑرہے ہیں وہاں وہ دوسرے محاذپرکشمیریوں‌اوربھارتی مسلمانوں کےحقوق کے لیے لڑرہے ہیں‌

     

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم پاکستان اپنی تمام ترمصروفیات کے باوجود بھارت کے معاملے پربڑے محترک نظرآتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں پرہونے والے مظالم کے خلاف عمران خان نہ صرف بیان دیتے ہیں بلکہ باقاعدہ ایک مہم جوئی بھی کررہےہیں‌

    آج اپنے تازہ بیان میں انہوں‌ نے کہا ہےکہ بھارت میں مودی سرکار بھارت میں کرونا وائرس کے خلاف اقدامات کرنے میں بالکل ناکام رہا ہےاسی لیئے وہ مسلمانوں‌پرمظالم کرکے توجہ ہٹانا چاہتا ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ وزیراعظم نے مودی کو نازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے جو نازیوں نے یہودیوں کے خلاف نسلی امتیاز کیا تھا

    وزیراعظم کہتے ہیں‌کہ ہزاروں افرادکوبھوک/مصائب میں پھانسنے والی اپنی ناکام کروناپالیسی کیخلاف ردعمل سےتوجہ ہٹانے کیلئےمودی سرکارکا جان بوجھ کرمسلمانوں کونشانہ ستم بنانا ویسا ہی ہے جیساجرمنی میں نازیوں نے یہودیوں کیساتھ کیا۔نسلی بالادستی کےنظریے ہندوتوا سے مودی سرکار کےگہرے تعلق کا یہ ایک اور ثبوت ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملے میں 4 بھارتی فوجی ہلاک، 2 زخمی،کشمیری بھارتی مظالم کے خلاف نکل آئے

    مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملے میں 4 بھارتی فوجی ہلاک، 2 زخمی،کشمیری بھارتی مظالم کے خلاف نکل آئے

    سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملے میں 4 بھارتی فوجی ہلاک، 2 زخمی،کشمیری بھارتی مظالم کے خلاف نکل آئے ،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں مجاہدین کے ایک حملے میں بھارتی پیراملٹری فورسز کے4اہلکار ہلاک اور2 زخمی ہوگئے۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حملہ آوروں نے سوپور کے علاقے نور باغ میں احد بابا کراسنگ کے نزدیک واقع چیک پوسٹ پر سینٹرل ریزرو پولیس فورس اورپولیس کی ایک مشترکہ پارٹی پر فائرنگ کی جس سے 4اہلکار ہلاک اوردوشدید زخمی ہوگئے۔واقعے کے فوراً بعد بھارتی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔

    جموں و کشمیرکی تاریخ میں پہلی بار بھارت شہید کشمیریوں کو خفیہ طور پر دفنانے لگا ہے۔شوپیان میں جمعہ کو شہید کیے گئے دو مقامی مجاہدین کی لاشوں کو ان کے لواحقین کے سپرد نہیں کیاگیا۔

    جموں وکشمیر پولیس کے مطابق شوپیان کے رہنے والے دو کشمیریوں کی لاشیں سرینگر کے ہسپتال میں کورونا کی جانچ کے بعد شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ پہنچائی گئیں جہاں ان کی تدفین عمل میں لائی گئی۔یہ قدم وادی میں کووڈ 19 کے پھیلاؤکے پیش نظرکیاگیاہے۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بارہمولہ سے وابستہ کوروناوائرس کا70 سالہ بزرگ مریض ہسپتال میں انتقال کرگیاجس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کورونا سے اموات پانچ ہو گئی ہیں۔کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 346تک پہنچ گئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں کورونا ریڈ زون علاقوں کی تعدادبڑھ کو 80ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب بھارتی پنچاب کے ضلع پٹھانکوٹ کے مختلف قرنطینہ مراکز میں قرنطینہ کی مدت مکمل ہونے کے باوجودگھروں کو واپس نہ بھیجنے پر لگ بھک بارہ سو کشمیری محنت کشوں نے مقبوضہ علاقے میں اپنے گھروں کو واپسی کیلئے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔

    حریت تنظیموں اور حریت رہنماؤں نے بھارتی فوج کے محاصرے اور تلاشی کی بڑھتی کارروائیوں پرتشویش اوروبا کے پیش نظر جیلوں میں غیرقانونی طور پر نظر بند کشمیریوںکی رہائی کامطالبہ کیا۔

  • ” آسیہ اندرابی کو رہا کرو” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    ” آسیہ اندرابی کو رہا کرو” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    ” آسیہ اندرابی کو رہا کرو” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    باغی ٹی وی :آسیہ اندرابی کو رہا کرو ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ، مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور حریت کاا ستعارہ سمجھی جانے والی عظیم خاتون آپا سیدہ آسیہ اندرابی کی رہائی کے سلسلے میں ٹویٹر پر جاری ٹرینڈ ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہو گیا ہے آسیہ اندرابی اور ان کے خاوند نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی اور بھارت سے نجات حاصل کرنے میں‌صرف کر دی ہے ، ان کی زندگی کا بیشتر حصہ اب جیل اور کال کوٹھڑی میں گزرا ہے. بھارتی افواج کے مظالم و جور کا جواں ہمتی سے مقابلہ کرنے والوں کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھر سے آواز اٹھی ہے اور ان کی رہائی کا تقاضا کیا گیا ہے.

    شبیر شاہ، مسرت عالم، آسیہ اندرابی عدالت کے حکم پر جیل منتقل

    واضح رہے کہ دختران ملت کی چیئرپرسن سیدہ آسیہ اندرابی 2017 سے دہلی میں قید ہیں، انہیں مودی سرکار نے پاکستان کا پرچم اٹھانے اور پاکستان زندہ باز کے نعرے لگانے کے جرم میں غداری کا مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا ہوا ہے،25 مارچ 2015 کو آسیہ اندرابی نے کشمیر میں پاکستان کا قومی ترانہ گاتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرایا۔ بعد ازاں اسی سال پاکستان کے یوم آزادی پر دختران ملت کی چیئرپرسن نے ایک تقریب میں پاکستانی پرچم لہرایا، 12 ستمبر 2015 کو حریت پسند رہنما سیدہ آسیہ اندرابی نے ایک گائے ذبح کر کے اس کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں گائے کا گوشت فروخت کرنے کی پابندی پر احتجاج کیا تھا،سیدہ آسیہ اندرابی کے شوہر ڈاکٹر قاسم فکتو بھی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں.

    حریت رہنما مسرت عالم 2010 سے جیل میں ہیں، انہیں عدالتی حکم کے باوجود رہا نہیں کیا جاتا ،یاسین ملک کی جماعت پر پابندی لگا کر بھارت سرکار نے انہیں گرفتار کیا ہوا ہے.
    کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانے والی آسیہ اندرابی کی رہائشگاہ کو سربمہر کر دیا گیا

  • بھارت یہ ناں سمجھے کہ کرونا کی وجہ سے کشمیری اپنے موقف پرکمزورہوگئے ہیں،کشمیرہماراہے،سارے کا سارا ہے ،الطاف حسین

    بھارت یہ ناں سمجھے کہ کرونا کی وجہ سے کشمیری اپنے موقف پرکمزورہوگئے ہیں،کشمیرہماراہے،سارے کا سارا ہے ،الطاف حسین

    اسلام آباد: انٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ نےایک آن لائن سیمینارکا اہتمام کیا جس میں کشمیری ماہرین رائے لی گئی کہ وہ اس امکان کا جائزہ لیں کہ کورونا کی وبا کے دوران عالمی توجہ کشمیرکی صورتحال سے دور نا ہو جائے۔ یہ ایک مخمصہ ہے جس کا سامنا بہت سے انسانی حقوق کے کارکنوں اور پالیسی ساز افراد کو درپیش ہے۔ اس ویبنار میں دنیا کے ایک ایسے خطے پر توجہ مرکوز کی گئی جو کہ جدید تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن بھگت رہا ہے، جہاں اسی لاکھ سے زائد افراد آزادانہ طور پر نقل و حرکت اور انٹرنیٹ جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔

    انسانی حقوق کے بین الاقوامی کارکنوں ، صحافیوں، اور کشمیری، پاکستانی اور او آئی سی سمیت دوسرے بڑے ممالک کے سفارت کاروں نے گذشتہ چند مہینوں سے مسئلہ کشمیر پر عالمی توجہ حاصل کرنے کے لئے سخت محنت کی ہے۔ تاہم اس ضمن میں اب کچھ تشویش پائی جارہی ہے کہ عالمی وبا کشمیر پر بین الاقوامی دلچسپی کو متاثر کر سکتی ہے۔ کشمیر ایک طویل عرصے سے عالمی راڈار سے دور تھا لیکن 2016 کے بعد دوبارہ عالمی مسئلے کے طور پر سامنے آیا۔ اقوام متحدہ نے 2018 اور 2019 میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر دو جامع رپورٹیں جاری کیں۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد پارلیمانوں نے حالیہ عرصے میں کشمیر کی صورتحال پر سماعتیں کیں۔ بین الاقوامی میڈیا کی بدولت مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم اور سیاسی بحران کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی بے مثال ہے۔

    تاہم کشمیر پر اس ساری عالمی توجہ کو کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ کشمیری کارکن اور پالیسی ماہرین نے ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعے 5 اگست 2019 کے بعد کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کورونا وائرس کے دوران اور اس کے بعد کی دنیا کو مسئلہ کشمیر پر آگاہ رکھنے کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

    آن لائن سیمینار کا عنوان تھا، "مسئلہ کشمیر کا کورونا وائرس اور دیگر مسائل سے پس پردہ جانے کا خدشہ: کیا پالیسی اختیار کرنی چاہئے”۔ جبکہ سیمینار کے شرکاء میں کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی، نمل یونیورسٹی کے شعبہ گورننس اینڈ پبلک پالیسی کے سربراہ ڈاکٹر وقاص علی کوثر، یونیورسٹی آف کوٹلی سے پروفیسر شگفتہ اشرف، کل جماعتی حریت کانفرنس سے ایڈووکیٹ پرویز شاہ اور وائی ایف کے انٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر احمد قریشی شامل تھے۔

    اس بحث کے دوران ایک اہم نکتہ ڈاکٹر وقاص علی کوثر کی طرف سے سامنے آیا جس نے اس خیال کو مسترد کیا کہ موجودہ وبائی صورتحال کشمیر کو عالمی توجہ سے دور کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعہ کشمیر نے گذشتہ سات دہائیوں کے دوران متعدد عروج اور زوال دیکھے ہیں اور اس سارے عرصے میں خطے میں موجود قابض بھارتی انتظامیہ اور فوج تحریک آزادی کو دبانے میں ناکام رہی ہے۔ ڈاکٹر وقاص نے کہا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی مستحکم ہے اور اس لئے وبائی مرض پر عالمی توجہ کشمیر کو پس منظر میں نہیں جانے دے گی۔

    الطاف حسین وانی، جو کہ مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے سیاستدان اور ماہر ہیں، کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کے مستقل نمائندے خلیل ہاشمی نے 9 اپریل 2020 کو ایک ویڈیو کانفونس کے دوران اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ کے سامنے اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ کشمیریوں کے خلاف بھارت کی طرف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں پہلے کی نسبت کورونا وبا کے دوران اور زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ الطاف وانی کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات اور کوریج اس بات کی تصدیق ہیں کہ وبائی مرض کے باوجود عالمی سطح پر نیوز کوریج میں کشمیر کو ایک طرف ہٹانا ممکن نہیں ہے۔

    مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ پرویز شاہ نے شرکاء اور دیگر آن لائن سامعین کو کشمیر کے لاک ڈاون اور مواصلاتی پابندیوں سے متعلق مقبوضہ خطے کے اندر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔

    وائی ​​ایف کے، کے نمائندے احمد قریشی نے انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور پالیسی ساز ماہرین کے مابین اس بحث و مباحثے کی ضرورت پر زور دیا کہ وبائی مرض اور لاک ڈاؤن کے معاملات پر عالمی مباحثہ اور توجہ کو کشمیر سے کیسے جوڑا جائے۔ کشمیر کا خطہ لاک ڈاؤن کے زیر اثر رہا ہے اور لاکھوں افراد تاحال انٹرنیٹ اور دیگر رابطے کے سافٹ وئیر استعمال کرنے سے محروم ہیں۔ احمد قریشی کا مزید کہنا تھا کہ اس سے معمول کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ جس کے باعث مقبوضہ کشمیر میں نا صرف نفسیاتی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

    پروفیسر شگفتہ اشرف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر جوز سنگر کا بھارتی اخبار دی ہندو کو انٹرویو، جس میں انہوں نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ کشمیر پر اپنے سخت رویوں میں نرمی لائیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ کورونا کے وبائی مرض کے باوجود عالمی توجہ کشمیر پر مرکوز ہے۔ پروفیسر شگفتہ نے مسئلہ کشمیر کو قومی اور عالمی سطح پر اجاگر رکھنے کے لیے کشمیر پر کام کرنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں اور حکومت پاکستان کے لئے متعدد تجاویز بھی پیش کیں۔

    وائے ایف کے – انٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ(یوتھ فورم فار کشمیر)، ایک غیر جانبداربین الاقوامی این جی او ہے جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پُر امن حل کیلئے کوشاں ہے۔

  • تہاڑ جیل حریت خواتین کوکھانا پہنچانے والی  لیڈی پولیس کانسٹیبل کو کرونا وائرس،حریت رہنماوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

    تہاڑ جیل حریت خواتین کوکھانا پہنچانے والی لیڈی پولیس کانسٹیبل کو کرونا وائرس،حریت رہنماوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

    سری نگر:تہاڑ جیل کی لیڈی پولیس کانسٹیبل کو کرونا وائرس،حریت رہنماوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں بھی کرونا مریضوں کا انکشاف ہوا ہے، اس سسلسلے میں جیل پولیس اہلکاروں کو کرونا کی شکایات سامنے آئی ہیں


    باغی ٹی وی کے مطابق تہاڑ جیل میں اس بات کا انکشاف اس وقت جب ایک لیڈی پولیس اہلکارنے اپنی طبیعت کے خراب ہونے کا اظہارکیا ، اس لیڈی پولیس اہلکارکے ٹیسٹ لیئے گئے تو پتہ چلا کہ اسے کرونا وائرس منتقل ہوگیا ہے

    تہاڑجیل سے ذرائع کےمطابق مذکورہ لیڈی پولیس آفسیر جیل میں قید تین حریت خواتین رہنماوں کو کھانا پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتی تھی ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس پولیس اہلکارکی دیگرساتھیوں کو بھی کرونا وائرس کی شکایت ہوسکتی ہے،

    ادھرکشمیری رہنماوں نے تشویش ظاہر کی ہےکہ یہ بھارت کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کے ذریعے وہ حریت رہنماوں کوانتہائی غلط طریقوں سے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے،

  • شہریار آفریدی چیئرمین کشمیر کمیٹی مقررکردیئے گئے ،کشمیری خوش ہوگئے

    شہریار آفریدی چیئرمین کشمیر کمیٹی مقررکردیئے گئے ،کشمیری خوش ہوگئے

    اسلام آباد:شہریار آفریدی چیئرمین کشمیر کمیٹی مقرر،اطلاعات کے مطابق اسپیکرقومی اسمبلی اسدقیصر نے سید فخر امام کا بطور چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی استعفیٰ قبول کرکے ان کی جگہ وزیرمملکت شہریار آفریدی کو کشمیرکمیٹی کا چیئرمین مقررکر دیا۔

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق سید فخر امام کا بطور چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی استعفیٰ کا اطلاق 15 اپریل 2020 سے ہوگا۔فخر امام نے وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک بننے کے بعد کمیٹی کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔

    ترجمان کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیرمملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کو کشمیر کمیٹی میں سید فخر امام کی جگہ بطور رکن شامل کرکے چیئرمین بھی مقرر کردیا جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں ردو بدل کرتے ہوئے بعض وفاقی وزراء کے قلمدان تبدیل کیے تھے۔

    وزیراعظم نے فخر امام کو کابینہ میں شامل کرکے وفاقی وزیر برائے فوڈ اینڈ سیکیورٹی تعینات کیا اور شہریار آفریدی سے وزیرمملکت برائے انسداد منشیات کا عہدہ واپس لے لیا تھا تاہم بعد ازاں انہیں یہ عہدہ دوبارہ تفویض کردیا گیا۔

    دوسری طرف کشمیریوں کا کہنا ہےکہ انہیں‌بہت زیادہ خوشی ہوئی ہے اورانہیں امید ہے کہ اب تحریک آزادی کشمیر میں مزید تیزی آئے گی