Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی مظالم سے تنگ کشمیریوں کے ہاتھوں کرنل، میجر سمیت ایک سپشل آپریشن گروپ (SOG)انچارج ہلاک

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی مظالم سے تنگ کشمیریوں کے ہاتھوں کرنل، میجر سمیت ایک سپشل آپریشن گروپ (SOG)انچارج ہلاک

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:بھارتی مظالم سے تنگ کشمیریوں کے ہاتھوں کرنل، میجر سمیت ایک سپشل آپریشن گروپ (SOG)انچارج ہلاک۔،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کمشیر میں جہاں ایک طرف کرونا وائرس تباہیاں پھیلا رہا ہوا تو دوسری طرف وہاں پہلے سے موجود بھارتی فوج نے اپنے مظالم میں شدت پیدا کردی ہے ، جس سے تنک آکرکشمیری نوجوانوں نے بھارتی فوج پرایک زوردارجوابی حملہ کیا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق آج ہندواڑہ میں بھارتی فوج کو اس وقت سخت نقصان اٹھانا پڑا جب بھارتی فوج گھرگھرتلاشی کے نام پرکشمیریوں مردوخواتین کی شناخت پریڈ کروا رہی تھی ، اس دوران کشمیری نوجوانوں نے بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آکرایک شدید جوابی حملہ کیا ، اس حملے میں بھارتی فوج کو سخت نقصان اٹھانا پڑا ،اطلاعات کےمطابق ہندواڑہ عسکریت پسندوں کے حملے میں کرنل، میجر سمیت ایک سپشل آپریشن گروپ (SOG)انچارج ہلاک ہوئے ہیں‌

     

    ادھر سی این این کے مطابق یہ جھڑپ کپواڑہ کے شمالی علاقے میں ہوئیں جہاں یہ نقصان ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے، مزید کتنے بھارتی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے اس کی تفصیلات آنا ابھی با قی ہیں‌

    شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں کرناہ سیکٹر میں حادثاتی طور پر آگ لگنے سے ایک آرمی کا جوان ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا۔ایک اہلکار نے ساوتھ ایشین وائر کوبتایا کہ فوج کے دونوں جوانوں کو علاج کے لئے لے جایا گیا تھا لیکن ان میں سے ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ہے جبکہ دوسرا سری نگر کے بادامی باغ چھانی میں زیر علاج ہے۔سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کپواڑہ ، شریام امبارکر نے بھی ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ حادثاتی طور پر آگ لگنے سے دونوں فوجی جوان زخمی ہوگئے۔

    جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ٹہاب علاقے میں عسکریت پسندوں نے سی آر پی ایف گاڑی پر گرینیڈ حملہ کیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سی آر پی ایف کی 183 بٹالین کی گاڑی پر عسکریت پسندوں نے گرینیڈ پھینکا جس سے گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

    تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لیا اور تلاشی مہم جاری ہے۔

  • لاک ڈاون کے دوران مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے ریپ کے 16  واقعات

    لاک ڈاون کے دوران مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے ریپ کے 16 واقعات

    لاک ڈاون کے دوران مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے ریپ کے16 واقعات
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر میں محکمہ سوشل ویلفیئر نے جموں وکشمیر ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ لاک ڈاون کے دوران خواتین کی عصمت دری کے 16اور64 بدسلوکی کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    خواتین کی طرف سے تشدد کی 65 کالیں موصول ہوئیں۔پرنسپل سیکرٹری ، محکمہ سوشل ویلفیئر نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنوری تا مارچ ، 2020 کے دوران ، جموں و کشمیر میں گھریلو تشدد کے 81 واقعات درج کئے گئے ہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہاکہ محکمہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ ، ریلیف ، بحالی اور تعمیر نوحکومت جموں و کشمیر نے تمام ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کے لئے خصوصی طور پر ہر قرنطینہ سینٹر میں 10 بستروں نامزد کریں ۔

    امیت گپتا ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے ڈپٹی کمشنروں کے ذریعہ گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کے محفوظ مقامات کی نشاندہی کرنے والے آرڈر پر عدالتوں کی توجہ مبذول کروائی۔چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس رجنیش اوسوال کے ڈویژن بینچ نے کہاکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ 24 مارچ 2020 سے 24 اپریل 2020 تک ایمرجنسی نمبر 181 پر متاثرہ افراد کی طرف سے مجموعی طور پر 1314 کالیں موصول ہوئی ہیں ، جن میں سے 65 خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق ہیں اور ان پر قانونی کاروائی شروع کی گئی ۔

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

    بھارت سن لے، جنگیں اسلحہ سے نہیں جذبہ حب الوطنی سے لڑی جاتی ہیں، ترجمان پاک فوج

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاکستان نے بھارت کو کشمیر میں حملے کی منصوبہ بندی کی دی اطلاع…اورپھر ہو گیا حملہ

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    باقی 956 کالیں تارکین وطن مزدوروں کی تھیں، جو لاک ڈان کی وجہ سے پریشانی میں تھے۔

    کشمیر میں بھارتی دہشت گردی، وزیراعظم نے اٹھائی ایک بار پھر آواز،دنیا سے کیا بڑا مطالبہ

  • کشمیر میں بھارتی دہشت گردی، وزیراعظم نے اٹھائی ایک بار پھر آواز،دنیا سے کیا بڑا مطالبہ

    کشمیر میں بھارتی دہشت گردی، وزیراعظم نے اٹھائی ایک بار پھر آواز،دنیا سے کیا بڑا مطالبہ

    کشمیر میں بھارتی دہشت گردی، وزیراعظم نے اٹھائی ایک بار پھر آواز،دنیا سے کیا بڑا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی آڑ میں مودی سرکار فاشسٹ ہندووتوا نظریے پرعمل پیراہے

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر می آرایس ایس کی بالادستی کا نظریہ اور جنگی جرائم جاری ہیں،مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کی آڑ میں مودی سرکارفاشسٹ ہندوتوا نظریے پرعمل پیراہے،بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں جنیوا کنوشن کی خلاف ورزی کررہی ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے،مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کررہی ہے،آر ایس ایس کی بالا دستی کا نظریہ اور جنگی جرائم جاری ہیں،مقبوضہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کا تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے،عالمی برادری کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف اقدامات کرے،عالمی برادری کی ذمےداری ہےکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لے.

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

    بھارت سن لے، جنگیں اسلحہ سے نہیں جذبہ حب الوطنی سے لڑی جاتی ہیں، ترجمان پاک فوج

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاکستان نے بھارت کو کشمیر میں حملے کی منصوبہ بندی کی دی اطلاع…اورپھر ہو گیا حملہ

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    کرونا لاک ڈاؤن،دنیا والو…اب کشمیریوں کی تکالیف کا اندازہ ہو گیا ہو گا. وزیراعظم

  • مقبوضہ کشمیر:شوپیان میں 17گھنٹے طویل معرکہ، تین کشمیری شہید ،مارٹر شیلنگ سے کئی مکان تباہ

    مقبوضہ کشمیر:شوپیان میں 17گھنٹے طویل معرکہ، تین کشمیری شہید ،مارٹر شیلنگ سے کئی مکان تباہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیان میں 17گھنٹے طویل معرکہ جاری رہا، تین کشمیری شہید ہو گئے جبکہ بھارتی فوج کی جانب سے مارٹر شیلنگ سے کئی مکان تباہ ہو گئے

    مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیان میلہورہ زینہ پورہ گائوں میں منگل کو 7روز کے دوران دوسرے 17گھنٹے طویل معرکے میں جھڑپ میں 3عسکریت پسند غازی ابراہیم ، برہان کوکا اور ناصر بھٹ شہید ہو گئے۔جبکہ فوج اور پولیس کے 2اہلکار زخمی ہوئے

    بھارتی فوج کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کے نیتجے میں ایک جواں سال خاتون شہنواز بانو زوجہ فاروق احمد کوک ابھی دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں اور ایک نوجوان پیلٹ لگنے سے بھی زخمی ہوا۔

    جھڑپ کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مذکورہ گاؤں میں 22اپریل کو اسی طرح کی ایک جھڑپ میں 4نوجوان شہید ہوئے تھے۔ منگل کی سہ پہرآپریشن شروع ہوتے ہی ضلع شوپیان اور پلوامہ میں انٹر نیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھی۔ میلہورا شوپیاں میں آپریشن میں شہید ہونے والے 2افراد کی لاشیں برآمدکرلی گئی ہیں جبکہ تیسرے کی تلاش کے لئے آپریشن صبح نو بجے تک جاری تھا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس ذرائع نے کو بتایا کہ انہیں میلہورہ زینہ پورہ گائوں میں 4سے 5عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملی،جن میں انصار غزوة الہند کے ڈپٹی کمانڈر ابوبکر برہان کوکا بھی شامل ہیں ، جس کے بعد55آر آر اور178بٹالین سی آر پی ایف نے علاقے میں‌ آپریشن کیا،

    پولیس نے بتایا کہ سہ پہر چار بجے کے قریب گائوں کا محاصرہ کیا گیا اور سبھی ممکنہ راستوں کو بند کر کے تلاشی کارروائی شروع کی گئی۔ جب فورسز اہلکار مشتبہ مکان کے نزدیک پہنچ گئے تو طرفین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جو رات 2 بجے تک جاری رہا۔

    مقامی لوگوں نے بتایا کہ بھارتی فوج نے مکان پر مارٹر شیلنگ بھی کی جس سے زوردار دھماکے ہوئے اور خوف و ہراس پھیل گیا۔افطاری کے وقت فائرنگ کا سلسلہ کچھ منٹ کیلئے تھم گیا لیکن رات 8بجے کے بعد ایک بار پھر شدید لڑائی شروع ہوئی جو دس بجے تک جاری رہی۔کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی معرکہ آرائی رات 2بجے کے بعد تک جاری رہی۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق کئی رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا ۔ میلہورہ گائوں میں ہی 22اپریل کو مسلح جھڑپ ہوئی تھی جس میں 4عسکریت پسند شہید ہوئے تھے۔ماہ رمضان کے چار روز میں لگاتار جھڑپیں ہوئی ہیں۔ جونہی مسلح جھڑپ شروع ہوئی تو مقام جھڑپ کے نزدیک سینکڑوں لوگ آنے کی کوشش کرنے لگے اور جب انہیں روکا گیا تو وہ مشتعل ہوئے اور تشدد پر اتر آئے۔ پتھرائو کرنے والے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور جب مظاہرین نے پتھرائو میں شدت کی تو پیلٹ کا استعمال کیا گیا جس کے دوران آصف احمد ولد نثار احمد ساکن وچی زخمی ہوا۔

  • مقبوضہ کشمیر میں کرونا سے اموات میں اضافہ

    مقبوضہ کشمیر میں کرونا سے اموات میں اضافہ

    مقبوضہ کشمیر میں کرونا سے اموات میں اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے دار الحکومت سرینگر میں ایک خاتون کی کورونا وائرس کے باعث موت واقع ہوئی جس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں اموات کی مجموعی تعداد 8 ہو گئی ہے

    سرینگر کے رینا واری علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا چند روز قبل کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، تاہم منگل ان کی موت واقع ہوئی ۔ دوسری جانب پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 19نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرونا مریضوں کی مجموعی تعداد 565 ہو گئی ہے جن میں سے 381 ایکٹو کیسز ہیں جبکہ 176 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں

    مقبوضہ کشمیر میں اب تک 68,262افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ ان میں 6,364 افراد کو سرکاری قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے ،255 افراد کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔381 مریضو‌ں کو ہسپتال آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ 9,082 افراد کو گھروں میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر : مزید دو کشمیری شہید، 3 لاکھ غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل جاری،کشمیریوں کی طرس سے سخت ردعمل جاری

    مقبوضہ کشمیر : مزید دو کشمیری شہید، 3 لاکھ غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل جاری،کشمیریوں کی طرس سے سخت ردعمل جاری

    نئی دہلی: مقبوضہ کشمیر : مزید دو کشمیری شہید، 3 لاکھ غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل جاری،کشمیریوں کی طرس سے سخت ردعمل جاری ،اطلاعات کے مطابق مودی سرکارمسلم دشمنی کی پالیسی پر کاربند، مقبوضہ وادی کی آبادی کے تناسب کو بدلنے کا گھناؤنا اقدام سامنے آ گیا، تین لاکھ غیر مقامی افراد کو کشمیر کے ڈومیسائل جاری کردیے، ڈومیسائل حاصل کرنے والوں میں ایک بھی مسلمان شامل نہیں ہے۔ دوسری طرف قابض بھارتی فوج نے مزید دو کشمیریوں کو شہید کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق انتہا پسند نظریے پرکاربند نریندر مودی کی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو بسانے کے منصوبے پر عمل در آمد شروع کردیا ہے، نئی دہلی نے ایک متنازعہ قانون کا سہارا لے کر مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے تین لاکھ غیر مقامی افراد کو مقبوضہ وادی کے ڈومیسائل جاری کردیے۔ نئے ڈومیسائل حاصل کرنے والے تمام تین لاکھ افراد ہندو ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید 14 لاکھ افراد ڈومیسائل کے حامل ہو سکتے ہیں۔

    مودی سرکار کے فیصلے پر مقبوضہ کشمیر میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، حریت قیادت اور کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ فیصلے کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں تعینات آٹھ لاکھ بھارتی فوجیوں اور 6 لاکھ دیگر غیر مقامی افراد کو بھی کشمیری شہریت دی جاسکتی ہے تاکہ مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جاسکے۔

    مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت کی گارنٹی دینے والی آئینی شق دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو گزشتہ سال مودی سرکار نے بیک جنبش قلم ختم کردیا تھا۔ ان آئینی شقوں کی رو سے مقبوضہ وادی میں کسی غیر کشمیری کو زمین خریدنے یا وہاں کی شہریت حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی،کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض بھارتی فوج نے ریاستی دہشتگردی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے مزید دو کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق دو نوجوانوں کو ضلع شوپیاں میں شہید کیا گیا، شوپیاں کے علاقے ملہورا میں آپریشن کے دوران قابض بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں کے گھروں کو بھی نقصان پہنچایا، مظلوم کشمیریوں کے خلاف ظالم بھارتی فوجیوں کا آپریشن تاحال جاری ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز بھی قابض بھارتی فوجیوں نے ضلع کلگام میں مزید تین نوجوانوں کو شہید کیا تھا، گزشتہ دو روز کے دوران قابض بھاتری فوجیوں نے 9 کے قریب نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے۔

  • عربوں کا احتجاج رنگ لے آیا ، امریکہ نے بھارت میں اقلیتوں پر تشدد کے خلاف نوٹس لے لیا

    عربوں کا احتجاج رنگ لے آیا ، امریکہ نے بھارت میں اقلیتوں پر تشدد کے خلاف نوٹس لے لیا

    واشنگٹن: عربوں کا احتجاج رنگ لے آیا ، امریکہ نے بھارت میں اقلیتوں پر تشدد کے خلاف نوٹس لے لیا،اطلاعات کے مطابق مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی گئی جس میں بھارت کو پہلی مرتبہ اقلیتوں کیلئے خطرناک ملک قرار دے دیا گیا جبکہ پاکستان میں متعدد مثبت پیشرفتوں کا اعتراف کیا گیا ہے ۔

    تفصیلات کے مطابق امریکی کمیشن کی سالانہ رپورٹ جاری کی گئی ہے، یہ رپورٹ مذہبی آزادی پر مبنی ہے، اس رپورٹ میں بھارت کو پہلی مرتبہ اقلیتیوں کیلئے خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے ، بھارت سی پی سی ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔

     

    سالانہ رپورٹ میں متنازعہ بھارتی شہریت بل پر امریکی کمیشن نے شدید تنقید کی اور بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیے جانے پر شدید تنقید کی۔ رپورٹ میں امریکی کانگریس کو بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر سماعت جاری رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔اسی رپورٹ میں پاکستان میں متعدد مثبت پیشرفتوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔ جن میں کرتار پور راہداری کھولنا، پاکستان کا پہلا سکھ یونیورسٹی کھولنا، ہندو مندر کو دوبارہ کھولنا، توہین مذہب الزامات پر سپریم کورٹ اوراقلیتوں کے خلاف امتیازی مواد کے ساتھ تعلیمی مواد پر نظر ثانی کے پاکستانی حکومتی اقدامات بھی شامل ہیں۔

    امریکی کمیشن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 2019 کی رپورٹ میں بھارت مذہبی آزادی کے نقشے میں تیزی سے نیچے آیا۔ 2019 میں بھارت میں اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں دوسری مدت کے لیے حکومت بنانے کے بعد بی جے پی نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا، بی جے پی حکومت نے اقلیتوں پر تشدد اور عبادتگاہوں کی بے حرمتی کی کھلی اجازت دی۔

    امریکی کمیشن رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بی جے پی کے حکومت میں گاؤ کشی کے نام پر موب لنچنگ معمول بن گئی، بھارتی حکومت تاحال اقلیت مخالف پالیسیوں پر کاربند ہے۔

    امریکی رپورٹ میں بھارت کو خصوصی تشویش والے ممالک کی فہرست میں ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے، مذہبی آزادی کے خلاف کام کرنے والے بھارتی حکام پر پابندی کی بھی سفارش کی گئی ہے، اقلیتوں کے خلاف تشدد کی مانیٹرنگ کے لیے فنڈ قائم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں امریکی سفارتخانہ اقلیتی کمیونٹی کے ساتھ روابط بڑھائے اور مذہب مخالف جرائم کی مخالفت کرے۔

  • مقبوضہ کشمیر بھارتی فوج کےمظالم رمضان المبارک میں بڑھ گئے  ،حاملہ خاتون کے ساتھ براسلوک

    مقبوضہ کشمیر بھارتی فوج کےمظالم رمضان المبارک میں بڑھ گئے ،حاملہ خاتون کے ساتھ براسلوک

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر بھارتی فوج کےمظالم رمضان المبارک میں بڑھ گئے ،حاملہ خاتون کے ساتھ براسلوک،اطلاعات کے مطابق ایک کشمیری حاملہ خاتون سکالر بھارتی جبر کاشکار،ضمانت پہ رہائی کے بعد جعلی کیس میں پھر گرفتارکرکے جیل بھیج دیا ہے

     

    باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی عدالتیں بھارتی فوج کی ڈکٹیشن پرفیصلے دیتی ہیں ایک طرف بھارتی عدالتیں کشمیریوں کے بارے میں قانونی تقاضے پورے کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں تو دوسری طرف بھارتی عدالتیں فوج کی مرضی کے بغیرکوئی فیصلہ نہیں کرپاتیں‌

    ذرائع کے مطابق مذکورہ کشمیری حاملہ خاتون اس وقت سخت تکلیف میں ہیں‌ ایک طرف بھارتی فوج کے مظالم کی وجہ سے پریشان ہیں تو دوسری طرف بھارتی عدالتوں کے غیرانسانی فیصلوں سے پریشان ہیں ، حالیہ واقعہ میں بھی یہی کھیل کھیلا گیا ہے

  • بھارتی فوج کے مظالم رمضان المبارک میں بھی نہ رک سکے ، دو کشمیری نوجوانوں کوشہید کردیا

    بھارتی فوج کے مظالم رمضان المبارک میں بھی نہ رک سکے ، دو کشمیری نوجوانوں کوشہید کردیا

    سرینگر:بھارتی فوج کے مظالم رمضان المبارک میں بھی نہ رک سکے ، دو کشمیری نوجوانوں کوشہید کردیا ،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں جمعہ کی رات جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے خار پورہ ارونی علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے آپریشن کے دوران دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ایک پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق علاقے میں آپریشن اس وقت ہوا جب کولگام ضلع کے پولیس کانسٹیبل سرتاج احمد ایتو کو نامعلوم بندوق برداروں نے اغوا کیا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور تلاشی مہم شروع کر دی۔تلاشی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو نوجوان شہید ہو گئے۔

    وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے چاڈورہ علاقے میں قائم سی آر پی کیمپ پر نامعلوم افراد نے گرینیڈ حملہ کیا ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سی آر پی ایف ترجمان نے بتایا کہ کے مطابق چاڈورہ کے ڈونی واری علاقے میں قائم سی آر پی ایف کیمپ پر نامعلوم افراد نے ایک گرینیڈ پھینکا ۔ اس حملے میں تین سی آر پی ایف جوان زخمی ہوئے ہیں جنہیں علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور تلاشی مہم شروع کی۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے جمعے کو پلوامہ قصبے میں لوگوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے بعد علاقے میں بھارتی فورسز اہلکاروں اور لوگوںکے درمیان جھڑپیںہوئیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے جامع مسجد پر چھاپہ مارا اور توڑ پھوڑکی ۔ بھارتی پولیس اور فوجیوںنے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولے داغے جسکے بعد مظاہرین اور بھارتی فورسز اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔جھڑپوںکے دوران متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ قابض فورسز اہلکاروں نے قصبے میں کئی نوجوان گرفتار کر لیے اور املاک کو نقصان پہنچایا۔

    ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں رواں سال سرکاری فوج کی عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں جیش محمد اور لشکر طیبہ کے متعدد اعلی کمانڈروں سمیت پچاس عسکریت پسند شہید کئے گئے ہیں۔جبکہ سترہ حکومتی فورسزکے اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے پچھلے چار ماہ کے دوران نو عام شہریوں کو بھی ہلاک کیا۔عسکریت پسندوں میں جیش محمد ،لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر بھی شامل ہیں۔

    ان50 عسکریت پسندوں میں سے 18 کو کورونا وائرس کے پھیلاو پر قابو پانے کے لئے لگائے جانے والے لاک ڈاون کے دوران ختم کیا گیا۔القمرآن لائن کے مطابق جنوبی کشمیر میں ضلع اننت ناگ کے ڈیلگام کے علاقے میں سرکاری فوج کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں لشکر طیبہ کے ضلعی کمانڈر مظفر احمد بھٹ سمیت چار عسکریت پسند شہید ہوئے جن کا تعلق تحریک لبیک اور حزب المجاہدین تنظیموں سے تھا۔

    25 جنوری کو ، جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے ترال کے علاقے میں سرکاری فوج اور عسکریت پسندوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں جیش محمد کشمیر کے سربراہ قاری یاسر سمیت تین عسکریت پسند شہید ہوگئے جبکہ تین فوجی زخمی ہوگئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق23 جنوری کو ضلع پلوامہ کے علاقے کھریو میں ایک دوسرے اعلی عسکریت پسند کمانڈر ابو سیف اللہ عرف ابو قاسم کی شہادت ہوئی۔

    9 اپریل کو ، جیش محمد کے اعلی کمانڈر سجاد نواب ڈار کو سرکاری فوج نے شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے سوپور میں شہید کردیا۔جموں و کشمیر کے ڈوڈہ کے علاقے گنڈانہ میں 15 جنوری کو حکومتی افواج کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے میں حزب المجاہدین کے ایک اعلی کمانڈر ہارون وانی کی شہادت ہوئی۔14 مارچ سے لاک ڈاون کے دوران 18 عسکریت پسند شہید ہوئے۔

    اسی عرصے کے دوران سترہ حکومتی اہلکار ہلاک ہوگئے ، جن میں 13 فورس اہلکار ، تین اسپیشل پولیس آفیسر اور ایک پولیس اہلکار شامل ہیں۔2019 میں جموں و کشمیر میں 160 عسکریت پسند شہید اور 102 کو گرفتار کیا گیا تھ

  • کشمیری صحافیوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ بند کیا جائے کے آئی آر کے سربراہ کی ا قوام متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل الطاف وانی

    کشمیری صحافیوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ بند کیا جائے کے آئی آر کے سربراہ کی ا قوام متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل الطاف وانی

    پریس ریلیز
    جمعرات،23 اپریل 2020

    کشمیری صحافیوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ بند کیا جائے کے آئی آر کے سربراہ کی ا قوام متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل

    کالے قوانین کے ذریعہ صحافیوں کو ہراساں کرنے اور دھمکانے کے لاامتناعی سلسے کے فی الفور خاتمے کا مطالبہ

    اسلام آباد: انسانی حقوق کے معروف کارکن اور چیئرمین کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر) الطاف حسین وانی نے بھارتی قابض حکام کے ہاتھوں کشمیری صحافیوں پر جاری ظلم و ستم کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کالے قوانین کے ذریعہ صحافیوں کو ہراساں کرنے اور دھمکانے کے لا متناعی سلسے کے فی الفور خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے آزادی اظہار رائے کے نام ایک خط میں کے آئی آر کے سربراہ نے کہا ہے کہ کشمیر میں میڈیا کو دبانہ اور اچھے اورنامور صحافیوں کو خاموش کرنا بھارتی قابض فوج اورحکام کے لئے ایک نیا معمول بن گیا ہے۔ مزاحمتی خطے میں صحافیوں کو ہراساں کرنے اور دھمکانے کے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے وانی نے نشاندہی کی کہ بدنام زمانہ غیر قانونی ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت اب تک کئی نامور علاقائی اور بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ کام کرنے والے درجنوں صحافیوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے یو اے پی اے کے خطرناک پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ”یہ بھارتی پارلیمنٹ کی طرف سے پاس کردہ وہ مہلک قانون ہے، جو حکومت کو کسی بھی شخص کو عملی طور پر دہشت گرد قرار دینے کی طاقت دیتا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایکٹ حکومت کو ناپسندیدہ افراد کو دہشت گرد قرار دینے کے لئے مفت لائسنس فراہم کر دیتا ہے اور انہیں دو سے دس سال کی مدت کے لئے جیل بھیجنے کا جوازفرارہم کرتا ہے جو آزادی اظہار رائے کے لئے نہایت ہی خطرناک ہے۔

    وانی نے کہا، ”یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اس کالے قانون کے تحت کشمیری صحافیوں کو پولیس اسٹیشنوں میں طلب کیا جاتاہے اور انہیں اپنے ذرائع ظاہر کرنے اور ان کی کہانیاں بیان کرنے پر مجبور کیا گیا۔” انہوں نے کشمیری صحافیوں کے خلاف درج ایف آئی آر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا مسرت زہرہ، گوہر گیلانی، پیرزاد عاشق ان درجنوں مشہور صحافیوں میں شامل ہیں جن پر حال ہی میں یو اے پی اے کے بدنام زمانہ ایکٹ کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل، انہوں نے بتایا کہ، ہندوستانی حکام نے اگست 2018 میں یو اے پی اے کے تحت ایک اورابھرتے ہوئے صحافی آصف سلطان کو گرفتار کیا تھا جبکہ قاضی شبلی کو پی ایس اے کے تحت بغیر کسی الزام یا مقدمے کی سماعت کی جارہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک اور صحافی کامران یوسف پر بھی یو اے پی اے کے تحت الزام عائد کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح کے واقعات کی ایک طویل فہرست ہے جس میں ممتاز صحافیوں کو تھانوں میں طلب کرکے انکی تضحیک کی گئی اور بعض صحافیوں کو زدوکوب بھی کیاگیا تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیر کو ایک lawless state میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں کسی کے ساتھ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

    انہوں نے صحافیوں پر بھارت کے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ”صحافیوں پر زبردست دباؤ ڈالا گیا ہے، انہیں پولیس کی طرف سے اکثر طلب کیا جاتا ہے، اور انہیں بغیر کسی وجوہ کے زدکوب، ذلیل اور ہراساں کیا جاتا ہے۔انکا کہان تھا کہ یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا، ”میڈیا سے وابستہ افراد کا یہ حق ہے کہ وہ خطے میں رونماہونے والے واقعات کو رپورٹ کریں اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا فریضہ آزادانہ طور پر سرانجام دیں،” انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں پر قدگن لگانا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ اظہار رائے کے حق پر ایک ظالمانہ حملہ ہے جس کا ذکر انسانی حقوق کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی اور علاقائی معاہدوں بشمول universal declaration of human rights, International Covenant on Civil and Political Rights (ICCPR), International Covenant on Economic, Social and Cultural Rights (ICESCR) اوردیگر قوانین میں شامل ہے۔

    انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے آرٹیکل 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،“ہر ایک کو آزادنہ اظہار رائے کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں کسی مداخلت کے بغیر رائے قائم کرنے اور کسی بھی میڈیا کے ذریعے اور کسی بھی محاذ سے قطع نظر معلومات اور نظریات کی تلاش، حاصل کرنے اور فراہم کرنے کی آزادی شامل ہے۔

    انہوں نے کشمیری صحافی برادری کی حالت زار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، مقبوضہ کشمیر میں صحافی کے علاوہ ناشر حضرات بھی کافی عرصے سے طوفان کی ذد میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ1990سے اب تک بہت سارے صحافی فرائض کی انجام دہی کے دوران کشمیر میں مارے گئے ہیں۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ ” صحافیوں، مصنفین اور بلاگرز کے قتل میں ملوث افراد کا کبھی احتساب نہیں کیا گیا”۔

    خواتین صحافیوں کی اتھک محنت اوربہادری کی تعریف کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ”آسیہ جیلانی، انسانی حقوق کی کارکن اور واحد خاتون صحافی ہیں جو 20 اپریل، 2004 کو 30 سال کی عمر میں کپواڑہ میں انتخابات کی نگرانی کرتے ہوئے IED کے حملے میں شہید ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ریاست ان سامراجی ہتھکنڈوں کا استعمال کرکے میڈیا کودبانے اور کشمیر کی ہر سچی آواز کو خاموش کرنے کے لئے ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی آئی ہے۔

    بھارت کے ان اقدامات کو آزادنہ اظہاررائے اورمیڈیا کی آزادی کے حوالے بین لاقوامی قوانین اور معیار کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے وانی نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ قابض حکام کی جانب سے آزادی اظہار رائے کے حق کو روکنے کی کوشش کا موثر نوٹس لیں۔ انہوں نے یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کے ذریعہ صحافیوں کو ہراساں کرنے اور دھمکانے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند کو کشمیریوں کے خلاف ہونے والے جرائم کا جوابدہ ہونا چاہئے۔

    For more information, please contact Altaf Wani (+41 77 9876048 / saleeemwani@hotmail.com)