Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی جاری، 3 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی جاری، 3 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی جاری، 3 کشمیری شہید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں ہفتے کے روز بھارتی فوج نے سرچ آپریشن میں میں چارنوجوانوں کو شہید کردیا ہے.

    بھارتی فوج، پولیس نے ہفتے کو صبح کولگام کے منژگام گاوں ہارڈمنڈ گوری میں مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا۔ جس کے دوران گھروں میں گھس کر خواتین سے بد تمیزی بھی کی گئی، بھارتی فوج نے تین کشمیریوں کو شہہید کیا ہے، جن کی شناخت اعجاز احمد نائکو ساکنہ چندر، شاہد صادق ملک ساکنہ کھل نور آباد اور عادل احمد ٹھوکر ساکنہ پمبئی کولگام کے طور پر ہوئی ہے.

    جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں جمعے کی رات سے جگہ جگہ تلاشی کی کاروائیاں کی جارہی تھیں۔اورکئی دنوں سے بھارتی فوج کی جانب سے مختلف علاقوں کا محاصرہ کیا جارہا تھا،علاقے کی طرف جانے والے تمام راستوں کو خار دار تاروں سے سیل کردیا گیا۔ جمعے کے روز مقبوضہ کشمیر میں 6نوجوانوں کو عسکریت پسندوں کی مدد کے الزام میں گرفتار کر لیا گیاتھا۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں اب تک بھارتی فوج نے مختلف آپریشنز میں26واقعات میں45نوجوانوں کو شہید کیا ہے ۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 11اور مارچ میں 8افراد شہید کئے گئے۔

  • عمران خان عجیب انسان ہےکہ ایک طرف کرونا سے لڑرہا ہے تو دوسری طرف کشمیرکے لیے بھارت سے نبردآزما ہے ، بھارتی میڈیا

    عمران خان عجیب انسان ہےکہ ایک طرف کرونا سے لڑرہا ہے تو دوسری طرف کشمیرکے لیے بھارت سے نبردآزما ہے ، بھارتی میڈیا

    نئی دہلی :عمران خان عجیب انسان ہےکہ ایک طرف کرونا سے لڑرہا ہے تو دوسری طرف کشمیرکے لیے بھارت سے نبردآزما ہے ، اطلاعات کے مطابق بھارتی میڈیا نے آج پاکستانی وزیراعظم کے کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت مٰں بدلنے کی بھارتی حکومت کی کوششوں کوجس طرح آڑے ہاتھوں لیا ہے اس پربھارتی میڈیا نے بھی عمران خان کوآڑےہاتھوں لیا ہے

    ذرائع کےمطابق بھارتی میڈیا نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے آج کے بیان پرتعجب کااظہارکرتے ہوئے کہا ہےکہ عجیب معاملہ ہے کہ ایک طرف پاکستان میں کرونا وائرس بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے اوردوسری طرف پاکستانی وزیراعظم عمران خان کشمیریوں کے حقوق کا راگ الاپ رہا ہے،

    تمام بھارتی ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے انداز سے عمران خان کے آج کے بیان پرتبصرہ کیا ہے، دی ہندو، ہندوستان ٹائمز،ٹائمز آف انڈیا،انڈیا ٹوڈے سمیت درجنوں اخبارات اور ایسے ہی الیکٹرانک میڈیا پربھی یہی گفتگو چل رہی ہےکہ یہ کیسا وزیراعظم ہےکہ وہ ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پراپنی طاقت آزما رہا ہے

    یاد رہےکہ آج وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھارت کی طرف سے کشمیرمیں مسلم اکثریت کواقلیت میں بدلنے کی بھارتی حکومت کی کوشش کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ خبرداربھی کیا ہےکہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی برداشت نہیں کرے گا

  • بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کواقلیت میں بدلنے سے بازرہے ،وزیراعظم عمران خان کی بھارت کو وارننگ

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کواقلیت میں بدلنے سے بازرہے ،وزیراعظم عمران خان کی بھارت کو وارننگ

    اسلام آباد :بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کواقلیت میں بدلنے سے بازرہے ،وزیراعظم عمران خان کی بھارت کو وارننگ ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر جاری بیان میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہندوستان ہندوتوا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ نیا جموں وکشمیر تنظیم نو آرڈر 2020 چوتھے جنیوا کنونشن کی واضح خلاف ورزی ہے۔ ہندوستان کی اس کوشش کو مسترد کرتے ہیں اور ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرتا رہے گا۔

     

    وزیر اعظم نے کہا کہ بھارتی حکومت کا یہ تازہ ترین غیر قانونی اقدام کا وقت خاص طور پر قابل مذمت ہے کیونکہ وہ بی جے پی کے ہندوتوا بالادستی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کورونا وبائی مرض پر بین الاقوامی توجہ کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو ہندوستان کی طرف سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی پر روکنا ہوگا۔

  • اقوام عالم کشمیریوں کے خلاف بھارت کی آئینی دہشت گردی کا نوٹس لے: الطاف حسین وانی

    اقوام عالم کشمیریوں کے خلاف بھارت کی آئینی دہشت گردی کا نوٹس لے: الطاف حسین وانی

    اسلام آباد: انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے کشمیریوں کے خلاف ہندوستان کی آئینی دہشت گردی کا موثر نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے معروف سیاسی و سماجی رہنما اور نیشنل فرنٹ کے سینیر وائس چیرمین الطاف حسین وانی نے ڈومیسائل رولز میں ترمیم سے متعلق ہندوستانی وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کے حالیہ نوٹیفکیشن پر کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس سے کشمیری عوام کے خلاف ایک گہری سازش قرارد دیا ہے جس کا مقصد مسلم اکثریتی ریاست کی جداگانہ حیثیت اور شناخت کو کمزور کرنا ہے۔

    وانی نے بدھ کے روز یہاں جاری ایک بیان میں کہا، ‘کشمیر مخالف قانون دراصل بی جے پی حکومت کی اس گھناؤ نی سازش کی ایک کڑی ہے جس کے تحت مودی سرکار آر ایس ایس کے دیرینہ مطالبے پر عمل کرتے ہوئے مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرکے مقبوضہ خطے کی منفرد اور جداگانہ حیشیتت کو ختم کرناہے۔

    یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ، ڈومسائل رولزمیں حالیہ ترامیمی ایکٹ کے تحت، کوئی بھی شخص جو 15 سال تک جموں و کشمیر میں مقیم رہا ہے یا اس نے ریاست میں سات سال تعلیم حاصل کی ہے، اور کلاس 10 یا کلاس 12 کی امتحان میں حاضر ہوا ہے، وہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اہل ہوگا۔. نوٹیفکیشن کے مطابق، نئے قانون کے تحت وہ گیزیٹیڈ اور نان گیذیٹیڈ پوسٹ لیول کی سرکاری ملازمتوں کے لئے درخواست دے سکے گے۔

    ایم ایچ اے کے آرڈر کو آرٹیکل 35 اے اور 370 کے خاتمے کا تسلسل قرار دیتے ہوئے وانی نے کہا کہ کشمیر کے ڈومیسائل قانون میں حالیہ ترمیم غیر کشمیری اور غیر ریاستی باشندوں کو کشمیر میں آباد کرنے کا ایک منظم منصوبہ ہے۔

    وانی نے آرٹیکل 35 اے کو منسوخ کرنے کے پیچھے ہندوستان کے محرکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ”جہاں تک ریاست میں غیر ریاستی باشندوں کو آباد کرنے کے ہندوستانی منصوبے کا تعلق ہے تو آرٹیکل 35-A واحد آئینی اور قانونی رکاوٹ تھا جس سے مودی سرکارکشمیر میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں رکاوٹ سمجھتی تھی”۔ ”اس تازہ حکم کی بدولت، ہندوستان نے عملی طور پر بیرون ملک مقیم افراد کو ریاست میں مستقل طور پر آباد ہونے کے علاوہ جموں و کشمیر میں پہلے سے موجود ملازمتوں کے دعویدار بننے کے لئے بھی راہ ہموار کردی ہے، جہاں بڑھتی ہوئیبے روزگاری ایک سنگین مسئلہ بن کر ابھری ہے۔ جے کے این ایف رہنماؤں نے مزید کہا کہ یہ ایکٹ ان مقامی نوجوانوں کے مفادات کے خلاف ہے جن کو متعدد مشکل چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں سے بے روزگاری وہ ایک بنیادی مسئلہ ہے جس کا وہ گذشتہ کئی برسوں سے سامنا کررہے ہیں۔

    انکا کہنا تھا کہ نئے قانون کے متنازعہ علاقے جموں و کشمیر میں ملازمت حاصل کرنے والے بیرونی افراد ریاست میں زمین خریدنے کے حق کا بھی دعوی کریں گے۔ انہوں نے اسے ریاست میں آبادیاتی تبدیلیوں کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر سول سروسز ایکٹ میں ترمیم سے ہزاروں کشمیری بے روزگار ہوجائیں گے۔ جموں و کشمیر املاک کے حقوق کو کچی آبادیوں کے ایکٹ 2012 میں ہونے والی ترامیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ”جموں و کشمیر کے مستقل رہائشیوں ” کے الفاظ کو ایکٹ میں جان بوجھ کرحذف کر دیا گیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ جموں و کشمیر میں کچی آبادی کو مناسب مکانات مل سکتے ہیں۔

    وانی نے کہا حالیہ ترامیمی ایکٹ ایک سنگین معاملہ ہے جس کے ذریعے بھارت اسرائیلی طرز پر کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کے لئے الگ کالونیاں قائم کرنا چاہتا ہے۔انکا کہنا تھات کہ۔ ہندوستانی حکومت کشمیریوں کو زیر اورانہیں اپنے تابع لانے کے لئے ان سیسب کچھ چھیننے پر تلا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو کشمیریوں کے خلاف ہندوستان کی آئینی دہشت گردی کا موثر نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر مخالف قوانین نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی اعلان کی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی بھی خلاف ورزی ہے۔ جو ہندوستان اور پاکستان دونوں کو متنازعہ علاقے کی حیثیت میں ردوبدل سے واضح طور پر منع کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک جابر ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے ابھر رہی ہے جس کا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرنا وطیر ہ بن چکا ہے.

    For more information, please contact Altaf Wani (+41 77 9876048 / saleeemwani@hotmail.com)

  • ایک طرف دنیا کرونا سے نبرد آزما تو دوسری طرف بھارت نے کشمیریوں‌سے ایک اورہاتھ کردیا

    ایک طرف دنیا کرونا سے نبرد آزما تو دوسری طرف بھارت نے کشمیریوں‌سے ایک اورہاتھ کردیا

    کراچی:ایک طرف دنیا کرونا سے نبرد آزما تو دوسری طرف بھارت نے کشمیریوں‌سے ایک اورہاتھ کردیا ،اطلاعات کےمطابق بھارت نے گزیٹ نوٹی فیکشن جاری کردیا جس کے تحت جو جموں و کشمیر میں 15 سال سے مقیم ہے وہ اپنے ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقے کو اپنا آبائی علاقہ قرار دے سکے گا۔

    الجریزہ اور گلف نیوز کے مطابق بھارت کی جانب سے مذکورہ اقدام مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 8 ماہ بعد سامنے آیا ہے۔اس ضمن میں بھارت نے گزیٹ نوٹی فیکشن جاری کردیا۔واضح رہے کہ نئی دہلی نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے مقبوضہ کی خصوصی حیثیت گزشتہ برس 5 اگست کو منسوخ کردی تھی۔بھارت کے نئے قوائد کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں سخت تنقید کا سامنا ہے۔

    جموں و کشمیر سول سروسز ایکٹ میں واضح کیا کہ ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقہ کو اپنا آبائی علاقہ قرار دینے والا شخص کے لیے ضورری ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے وسطی علاقے میں 15 سال تک رہائش اختیار کی ہو یا 7 سال کی مدت تک تعلیم حاصل کی ہو یا علاقے میں واقع تعلیمی ادارے میں کلاس 10 یا 12 میں حاضر ہوا اور امتحان دیے ہوں۔

    اس سے قبل مذکورہ جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ 35 اے میں شہری سے متعلق تعریف درج تھی کہ وہ ہی شخص ڈومیسائل کا مستحق ہوگا جو مقبوضہ علاقے میں ریلیف اینڈ ریبلٹیشن کمشنر کے پاس بطور تارکین وطن رجسٹرڈ ہو۔

    آئین کی دفعہ 3 اے میں مرکزی حکومت کے عہدیداران بشمول آل انڈیا سروسز آفیسرز، پی ایس یوز اور مرکزی حکومت کے خود مختار ادارے کے عہدیداران، پبلک سیکٹر کے بینکوں و مرکزی جامعات کے عہدیداران، مرکزی یونیورسٹیوں کے عہدیداران اور مرکزی حکومت کے تسلیم شدہ تحقیقی اداروں کے بچے بھی شامل ہیں ’جنہوں نے جموں و کشمیر میں 10 سال کی مدت تک خدمات انجام دی ہیں یا ایسے والدین کے بچے جو سیکشن میں کسی بھی شرائط کو پورا کرتے ہیں۔

    اس دوران مقبوضہ کشمیر میں پیدا اور بڑے ہونے والوں کی حالت زار پر سے متعلق ایک واقعہ پیش آیا جب وائرس کی وجہ سے بھارت کے لاک ڈاؤن سے بچنے کے لیے ایک شخص نے خود کو مردہ ظاہر کیا اور چار لوگوں کے ہمراہ ایمبولینس میں نکلنے کی کوشش کی۔

    پولیس نے بتایا کہ حکیم دین مقبوضہ جموں کے ایک ہسپتال میں سر میں معمولی چوٹ لگنے کی وجہ سے زیرعلاج تھا جب ایک ایمبولینس ڈرائیور نے 70 سالہ شخص کو اپنی جعلی موت ظاہر کرنے کی تجویز دی تاکہ چوکیوں سے نکلا جا سکے۔

  • آزاد کشمیر میں بھی کرونا کے مریضوں میں اضافہ، کتنے مریض سامنے آ گئے

    آزاد کشمیر میں بھی کرونا کے مریضوں میں اضافہ، کتنے مریض سامنے آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر مین بھی کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے، آزاد کشمیر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے

    وزیر صحت آزادکشمیر نے مزید 3 مریضوں کی تصدیق کر دی ہے، 2 مریضوں کا تعلق بھمبر جبکہ 1 کا پلندری سے ہے، 3 مریضوں کے اضافے کے بعد مریضوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے

    آزاد کشمیر میں کرونا وائرس کے مریضوں میں سے چھ کی شناخت کرلی گئی ہے۔ میر پور کے 3، بھمبر کے 2، پلندری کا ایک مریض شامل ہے،

    آزاد کشمیر میں کرونا وائرس کے اب تک 147 افراد کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں. وزیر صحت آزاد کشمیر ڈاکٹر نجیب کا کہنا ہے کہ یونین کونسل کہ سطح پر 700 کمیٹیاں بنا دی ہیں ، کمیٹیاں مرکزی کنٹرول روم سے مسلسل رابطے میں رہیں گی جسکے لئے آئی ٹی بورڈ نے سافٹ ویئر بنا دیا ہے ،آزادکشمیر میں کورونا ٹیسٹ کرنے کہ استعدا میں اضافہ کر رہے ہیں

    واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں کرونا وائرس کے مریض سامنے آنے کے بعد لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے شہریوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اگر شہری عمل نہیں کریں گے تو سختی کی جائے گی.

    آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کی خصوصی ہدایت پر جموں کشمیر ہاوس اسلام آباد میں کرونا سے نمٹنے کیلیے کوآرڈینیشن بہتر بنانے کیلیے مرکزی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔ مرکزی کنٹرول سیل جس کے سربراہ خود وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان ہیں وزیر اطلاعات ، مسلم لیگ ن کے چیف آرگنائزر راجہ مشتاق احمد منہاس اور ایس ڈی ایم اے کے وزیر احمد رضا قادری کو کنٹرول روم کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں

  • مقبوضہ کشمیر ،انٹرنیٹ پر پابندی ،کرونا وائرس سے شہریوں کی صحت شدید خطرے میں

    مقبوضہ کشمیر ،انٹرنیٹ پر پابندی ،کرونا وائرس سے شہریوں کی صحت شدید خطرے میں

    مقبوضہ کشمیر ،انٹرنیٹ پر پابندی ،کرونا وائرس سے شہریوں کی صحت شدید خطرے میں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی وزارت صحت نے مقبوضہ کشمیر میں ڈاکٹروں کو کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے ایک آن لائن تربیتی سیشن میں شرکت کی دعوت دی ہے تا ہم مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے کئی ڈاکٹر اس سیشن میں شرکت نہیں کر سکے

    کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے آن لائن تربیتی سیشن میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں طبی عملے کے پاس زیادہ معلومات نہیں کیونکہ وہاں انٹرنیٹ بند ہے اور باہر سے کسی بھی معلومات تک ان کی رسائی نہیں.

    مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے کرونا وائرس کے لاک ڈاؤن سے قبل ہی کرفیو نافذ کر رکھا تھا اور علاقے میں انٹرنیٹ فورجی بند کر رکھا تھا جس کی وجہ سے کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیوں پر بھارتی فوج نے ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کر رکھا ہے،انٹرنیٹ کی بندش پر متعدد تنظیموں نے انٹرنیٹ کی بحالی کی درخواست کی تا ہم بھارت سرکار نے انٹرنیٹ بحال نہیں کیا، مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کا نہ صرف آپس میں بلکہ بیرون دنیا کے ساتھ بھی رابطہ منقطع ہے

    کشمیر میں ڈاکٹروں کی تنظیم کے صدر ڈاکٹر سہیل نائک کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی علامات کے بارے میں بھارت سرکار کی جانب سے جو ہدایات دی گئی ہیں ان پر کام نہیں ہو سکتا اسکی وجہ انٹرنیٹ کی بندش ہے،ہم ویڈیوز کے ذریعے طبی عملے کی تربیت کرنا چاہتے ہیں لیکن ٹو جی کی وجہ سے ویڈیوز کی سپیڈ نہیں ہوتی اور اکثر وہ چل نہیں پاتیں جس کی وجہ سے ہم طبی عملے کی تربیت نہیں کر سکتے.

    انسانی حقوق کے گروپ انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے بھارتی حکام کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کشمیر میں انٹرنیٹ کی سپیڈ کو کرونا وائرس کے خطرے سے نمٹنے کے لئے بڑھایا جائے،انٹرنیٹ کی بندش نے اسکول کے بچوں کی تعلیم میں بھی رکاوٹ پیدا کردی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں آل پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر ، جی این وار نے کہا کہ اس تنظیم نے اپنے اسکولوں میں پڑھنے والے 650000 بچوں کے لئے آن لائن کلاسیں تیار کیں لیکن یہ سب کوشش بے سود ہے۔ ہم انٹرنیٹ کی وجہ سے طلبا سے رابطہ قائم کرنے سے قاصر ہیں۔ اورمواد کو ڈان لوڈ کرنے سے قاصر ہیں۔بھارت کی وفاقی وزارت داخلہ کی کشمیر میں پالیسی ذمہ ذمہ دار اور ترجمان وسودھا گپتا نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

    مقبوضہ کشمیر میں ٹنگمرگ سے تعلق رکھنے والے کورونا وائرس کے مریض جن کا پیر کے روزسی ڈی ہسپتال سرینگر میں انتقال ہوگیا تھا، کے اہلخانہ نے بتایا کہ سرینگر کے سینے کے امراض کے ہسپتال میں ان کے ساتھ جانوروں کی طرح سلوک کیا گیا۔ مرحوم کے بیٹے ریاض احمد صوفی نے میڈیا کو بتایا کہ ڈاکٹروں اور پیرامیڈکل عملے نے انہیں نظرانداز کیا ۔

    انہوں نے کہاکہ مریض کو دوائیوں کی فراہمی کے لئے ہمیں کسی بھی حفاظتی لباس کے بغیر کورونا وائرس کے وارڈ میں جانے کو کہا گیا ۔ ان کے والد طبی لاپرواہی کی وجہ سے چل بسے کیونکہ ہسپتال میں ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا ۔ مرحوم کے اہل خانہ کو بارہمولہ میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جہاں ان کی رپورٹوں کا انتظار ہے۔

    سی ڈی ہسپتال سرینگرمیں مریضوں کے لواحقین نے شکایت کی ہے کہ ہسپتال میں ان کے لئے سہولیات موجود نہیں ہیں۔سی ڈی ہسپتال میں ایک مریض کے ایٹنڈنٹ محمد الطاف نے بتایا کہ کورونا وائرس کے لگ بھگ 12 مریض اسپتال میں موجود ہیں لیکن یہاں پر طبی عملے کو انفیکشن کا شدید خطرہ ہے کیونکہ انتظامیہ انہیں کوئی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ اگر ڈاکٹرز ، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کوروناوائرس سے متاثر ہوجائیں تو ان کے شدید بیمار ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ لگتا ہے کہ اس وائرس سے دیگر متاثرین سے زیادہ خطرہ صحت سے متعلق کارکنوں کو ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکن ، خاص طور پر فرنٹ لائن پر کام کرنے والے کارکنوں کو وائرس سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت میں کرونا وائرس سے 30 ہلاکتیں ہو چکی ہیں.

    مقبوضہ کشمیر، کرونا کے 54 مریض، 2 ہلاکتیں،ریاستی مشنری کرونا سے بڑا خطرہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل

  • مقبوضہ کشمیر، کرونا کے 54 مریض، 2 ہلاکتیں،ریاستی مشنری کرونا سے بڑا خطرہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل

    مقبوضہ کشمیر، کرونا کے 54 مریض، 2 ہلاکتیں،ریاستی مشنری کرونا سے بڑا خطرہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل

    مقبوضہ کشمیر، کرونا کے 54 مریض، 2 ہلاکتیں،ریاستی مشنری کرونا سے بڑا خطرہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بھارت پر کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاو ن کے دوران ضبط و تحمل سے کام لینے پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی مشینری کورونا وائرس سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اویناش کمار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت کو اس وبا سے نمٹنے کیلئے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی بجائے عوام دوست اقدامات کرنے چاہئیں۔ ہیومن رائٹس واچ ایشیاکی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے بھی بھارتی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا خاص خیال رکھے ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں انتظامیہ نے 14کشمیری نظربندوں کی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندکالعدم قراردیتے ہوئے انہیں سرینگر سینٹرل جیل سے رہا کر دیا ہے جنہیں گزشتہ سال اگست میں بھارت کی طرف سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد گرفتار کیاگیا تھا۔حریت رہنما شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی،میاں عبدالقیوم، محمد یاسین خان ،نعیم احمد خان، محمد الطاف شاہ اورایازمحمد اکبر سمیت بڑی تعداد میں حریت رہنمااور کارکن جموں وکشمیر اوربھارت کی مختلف جیلوں میں نظربندہیں۔اسکے علاوہ سابق کٹھ پتلی وزیر اعلی اور پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی ، سابق آئی اے ایس افسر اور جموںوکشمیر پیپلز موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر فیصل اور سیاست دان بھی مسلسل زیر حراست ہیں۔

    جموں کشمیر سالویشن موومنٹ کے صدر اور کشمیری رہنما الطاف احمد بٹ نے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس کی تیزی سے پھیلتی ہوئی وبا کی طرف مبذو ل کراتے ہوئے غیرقانونی طورپر نظربند تمام کشمیری نظربندوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں اسلامی تنظیم آزادی جموںو کشمیرنے بھی کورونا وائر س کی مہلک وبا کے پیش نظر بھارت کی جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند حریت رہنمااور کارکنوں کی فوری رہائی پر زوردیا ہے

    جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ میں واقع اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے دو بلاکوں کو انتظامیہ نے قرنطینہ مراکز میں تبدیل کیا ہے تاکہ مضافاتی علاقوں اور بیرون ریاست سے آئے ہوئے لوگوں کو آسولیشن میں رکھا جائے۔ قرنطینہ سینٹر میں صفائی ستھرائی کا فقدان ہے۔مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے قرنطینہ سینٹر میں رکھے گئے افراد مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق قرنطینہ میں رکھے گیے افراد نے شکایت کی ہے کہ انہیں بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں اور نہ ہی کورونا وائرس سے بچنے کے پروٹوکول پر عمل کیا جا رہاہے۔ قرنطینہ سینٹر میں موجود پوچھل پلوامہ کے ایک شخص سید عمرنے فون پر بتایا کہ ہمیں قرنطینہ کا عمل فضول لگ رہا ہے کیونکہ قریبا ڈیڑھ سو افراد کے لیے ایک ہی بیت الخلا رکھا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سینٹرز کی عدم دستیابی اور ٹھنڈے پانی سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔جب یہ معاملہ تحصیلدار اونتی پورہ زبیر احمد کے نوٹس میں لایا تو انہوں نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ اونتی پورہ میں قائم قرنطینہ سینٹر وادی کا بہترین سینٹر ہے۔

    جموں و کشمیر میں 6465 افراد قرنطینہ میں رکھے گئے ہیں جن میں 3200 افراد حکومت کی جانب قائم کئے گئے مراکز میں طبی نگہداشت میں رکھے گئے ہیں۔جنوبی ضلع پلوامہ میں انتظامیہ نے ایک نجی اسکول سولیس انٹرنیشنل اسکول میں قریبا 40 افراد کو قرنطینہ میں رکھا ہے۔یہ قرنطینہ مراکز نہیں بلکہ گندگی کے مراکز ہیں۔قرنطینہ میں رکھے گئے افراد کی شکایات کو صحیح قرار دیتے ہوئے اسکول کے مالک میر وسیم حنیف کا کہنا ہے کہ انہوں نے انتظامیہ کو کووڈ 19 سے درپیش بحران کے مدنظر رضاکارانہ طور اپنے اسکول کو قرنطینہ مرکز کے لیے پیش کیا تاہم انکے مطابق یہ بات سچ ہے کہ اسکول میں کوئی غسل خانہ نہیں جبکہ 20 یورینل موجود ہیں۔ ہم نے ان خامیوں کے متعلق ضلع انتظامیہ کو باخبر کیا ہے لیکن متعلقہ حکام نے اس جانب سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے اہلکار کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے کے گئے اقدامات کے نام پر پہلے سے محصور کشمیریوں کو بڑے پیمانے پر ہراساں کررہے ہیں۔ سرینگر اور دیگر قصبوں میں سڑکوں پراور گلی کوچوں میںتعینات بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار پابندیوں کے نام پر لوگوں کے ساتھ بہیمانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں .

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد 54 ہوگئی ہے۔کشمیر میں مزید چار کیسز مثبت پائے گئے۔ کشمیر ڈویژن میں 29جبکہ جموں سے 12کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ جموں میں مزید 3 افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے ہیں۔لداخ میں وائرس سے 13افراد متاثرہوئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں کووڈ -19 سے متاثرہ افراد میں سے دو کی موت ہوئی ہے، جبکہ دو متاثرہ افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔ کورونا کے مثبت کیسز میں دو کمسن بچے بھی شامل ہیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جموں و کشمیر میں اب تک 6,465 ایسے افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جو یا تو بیرون ممالک سے واپس آئے ہیں یا مشتبہ افراد کے رابطے میں آئے ہیں۔ خطے میں 3,260 افراد کو ہوم کورنٹائن جبکہ 307 افراد کو ہسپتال کورنٹائن میں رکھا گیا ہے۔ جن افراد کو اپنے گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے ان کی تعداد 2163 ہیں جبکہ 735 افراد نے 28 دن کی نگرانی کی مدت پوری کی ہے۔اب تک 588 نمونے جانچ کے لیے بھیجے گئے ہیں جن میں سے 542 نمونوں کی رپورٹ منفی پائی گئی ہے اور اب تک 38 افراد کے نمونے مثبت پائے گئے ہیں جبکہ 8 افراد کی رپورٹ آنا باقی ہے۔

    مقبوضہ وادی کشمیر میں لاک ڈائون کے نتیجے 12ویں دن ہو کا عالم رہا۔دار الحکومت سرینگر لالچوک ،سول لائنز کے علاوہ ڈائون ٹاون میں سڑکوں اورچوراہوں پرخاردار تاریںنصب کی گئی تھیں۔ ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہی۔ بازارنہیں کھلے اور لوگوں کی آمد و رفت معطل رہی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ضروری خدمات فراہم کرنے والے محکموں کوتمام ضروری سہولیات فراہم رکھنے کی ہدایت دی ہے ۔انہوں نے مذکورہ علاقوں میں رہنے والے مقامی اور غیر مقامی مزدورں کو ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔مقبوضہ جموں کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ دفعہ144کے تحت امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کی پاداش میں اب تک 337ایف آئی آر کا اندراج کرکے 627 افراد کوگرفتارکیا گیا ہے۔ اور650سے زائد گاڑیوں کو ضبط کیا گیا۔

    جموں میں پابندیوں کی وجہ سے دیہات اور قصبوں میں عوامی مسائل بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ۔پورے صوبہ کی سڑکیں سنسان ہیں جبکہ کچھ مقامات پر لوگ پیدل سفر بھی کرتے ہیں ۔متعدد دیہات میں جہاں غذائی اجناس کی قلت کی شکایت موصول ہونا شروع ہو چکی ہیں وہیں دستیاب ضروری اشیا کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے اور زائدقیمتیں وصول کی جارہی ہیں ۔ساوتھ ایشین وائر کے جموں کے نمائندے شبیر حسین کے مطابق جموں شہر کیساتھ خطہ چناب ،پیر پنچال اور دیگر اضلاع میں جہاں معیاری سبزیوں اور میوہ جات کی شدید قلت ہے، وہاں ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے ۔سامبا،کٹھوعہ اور ادہم پور اضلاع میں انتظامیہ کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں ۔لاک ڈائون کے سبب کشتواڑ ضلع میں دودھ ،سبزی و کھانے پینے کی دیگر اشیا کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ دوکانداروں نے بھی عوام کو لوٹنا شروع کر دیا ہے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:ایک طرف کرونا تو دوسری طرف بھارتی فوج کا کشمیری نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد ،ظلم کی انتہا

    مقبوضہ کشمیر:ایک طرف کرونا تو دوسری طرف بھارتی فوج کا کشمیری نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد ،ظلم کی انتہا

    مقبوضہ کشمیر:مقبوضہ کشمیر:ایک طرف کرونا تو دوسری طرف بھارتی فوج کا کشمیری نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد ،کشمیری بھارتی فوج کے مظالم سے انتہائی تنگ ،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں کورونا لاک ڈاون کے دوران پولیس کا شہریوں پر بہیمانہ تشدد،اخلاقیات سے پولیس اہلکاروں کی نازیبا ویڈیوز منظر عام پرآنےسخت ردعمل آنا شروع ہو گیا ہے

    عالمی مہلک وبا کورونا وائرس کے پھیلا کو روکنے کے سبب وادی کشمیر میں بھی مکمل لاک ڈاون کا سلسلہ جاری ہے ۔اس کرفیو کے باعث اگر لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں تو پولیس اہلکار ان پر بہیمانہ تشدد کرتے ہیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق شمالی کشمیر کے بارہمولہ قصبے سے ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جہاں کئی پولیس اہلکار ایک شخص کو لاٹھی سے پیٹ رہے ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ایک گھر کے تین افراد لاک ڈاون میں دلینہ سے سنگرامہ کی جانب گاڑی میں سوار جارہے تھے۔ سنگرامہ میں پولیس ناکے کے پاس جب ان کی گاڑی کو روکا گیا اور پوچھا گیا کہ آپ کرفیو پاس کے بغیر گھر سے کیوں نکلے تو انہوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی جس کے سبب پولیس اہلکاروں نے ان پر لاٹھیاں برسائیں۔

    پولیس نے دونوں باپ بیٹے کو حراست میں لیا ہے اور دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ جس میں سوپور سے تعلق رکھنے والا ایک پولیس اہلکار لوگوں سے نہایت نازیبا الفاظ میںگھروں کے اندر رہنے کی اپیل کر تے ہوئے نظر آ رہا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سوپور پولیس ایس ایس پی جاوید اقبال نے پولیس اہلکار کے خلاف کاروائی کرنے کی یقین دہانی کی ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جموں و کشمیر کے جنوبی ضلع کولگام کے علاقے ریڈونی بالا میں مقامی نوجوان معراج الدین بٹ ولد محمد اکبر بٹ ساکنہ ریڈونی بالا پر اس وقت بندوق برداروں نے حملہ کیا جب وہ اپنے گھر میں موجود تھا۔

    مقامی لوگوں نے اسے نزدیکی ہسپتال منتقل کیااور بعدازاں اننت ناگ ضلع ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔اس دوران سکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لیا ہے اور حملہ آور کی تلاشی شروع کردی۔

  • بھارتی فوج کشمیریوں کو قرنطینہ کے بہانے گرفتار کرنے لگی

    بھارتی فوج کشمیریوں کو قرنطینہ کے بہانے گرفتار کرنے لگی

    جموں: بھارتی فوج کشمیریوں کو قرنطینہ کے بہانے گرفتار کرنے لگی,اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں کرونا کے خلاف مہم کا بہانہ بنا کر کشمیر ی نوجوانوں کو گرفتار کرنے لگی ہے،

    ادھر ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں کورونا وائرس سے متاثر شخص کی موت کے بعد جموں و کشمیر انتظامیہ مزید متحرک ہو گئی ہے۔ضلع ڈوڈہ میں انتظامیہ نے تین مشتبہ افراد کو ہسپتال قرنطینہ داخل کیا ہے۔ تینوں افراد نے دو ہفتہ قبل متوفی شخص سے ملاقات کی تھی۔

    ضلع ہسپتال ڈوڈہ کی انتظامیہ نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ مشتبہ افراد کو 14دن کے لئے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے ۔ضلع کے کیمونٹی سینٹر میں قائم کیے گئے قرنطینہ سینٹرز میں 35 افراد کو رکھا گیا ہے، چند روز 100 بیڈس پر مشتمل ایک اور قرنطینہ مرکز قائم کیا گیا ہے۔ڈاکٹرز قرنطینہ میں رکھے گیے افراد کی مستقل نگرانی کر رہے ہیں۔

    ضلع میں اس مہلک وبا کے پیش نظر تمام تر اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور انتظامیہ نے دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لاکر بندشیں عائد کی ہیں جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں کورونا وائرس سے متاثر شخص کی موت کے بعد جموں و کشمیر انتظامیہ مزید متحرک ہو گئی ہے۔ضلع ڈوڈہ میں انتظامیہ نے تین مشتبہ افراد کو ہسپتال قرنطینہ داخل کیا ہے۔

    تینوں افراد نے دو ہفتہ قبل متوفی شخص سے ملاقات کی تھی۔ضلع ہسپتال ڈوڈہ کی انتظامیہ نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ مشتبہ افراد کو 14دن کے لئے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے ۔ضلع کے کیمونٹی سینٹر میں قائم کیے گئے قرنطینہ سینٹرز میں 35 افراد کو رکھا گیا ہے،

    چند روز 100 بیڈس پر مشتمل ایک اور قرنطینہ مرکز قائم کیا گیا ہے۔ڈاکٹرز قرنطینہ میں رکھے گیے افراد کی مستقل نگرانی کر رہے ہیں۔ضلع میں اس مہلک وبا کے پیش نظر تمام تر اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور انتظامیہ نے دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لاکر بندشیں عائد کی ہیں

    ادھرمقامی کشمیر یوں کاکہنا ہے کہ بھارتی فوج درجنوں کشمیری نوجوانوں کو قرنطینہ کے بہانے گرفتار کر کے نامعلوم مقام کی طرف لے گئی ہے