Baaghi TV

Category: کشمیر

  • باکمال لوگوں کی لاجواب سروس نے کمال ہی کردیا،یوم یکجہتی کشمیرکے لیے پی آئی اے کا انوکھا انداز

    باکمال لوگوں کی لاجواب سروس نے کمال ہی کردیا،یوم یکجہتی کشمیرکے لیے پی آئی اے کا انوکھا انداز

    کراچی:باکمال لوگوں کی لاجواب سروس نے کمال ہی کردیا،یوم یکجہتی کشمیرکے لیے پی آئی اے کا انوکھا انداز،اطلاعات کےمطابق قومی ایئر لائن نے 5 فروری کو یوم کشمیر پر فضائی مسافروں کے لیے انوکھی پیش کش کا اعلان کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق کل پانچ فروری کا دن پاکستان میں کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے طور پر منایا جا رہا ہے،کل یوم کشمیر پر پی آئی اے اپنے مسافروں کی تواضع کشمیری چائے اور پلاؤ سے کرے گی، کشمیری چائے اور پلاؤ پی آئی اے کی تمام پروازوں میں پیش کیے جائیں گے۔

    پی آئی اے کے مطابق کشمیری کھانے سے مسافروں کی تواضع کا مقصد کشمیریوں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا اور پانچ فروری کو ان کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنا ہے۔یوم یکجہتی کشمیر، 5فروری کوصبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی

    ادھر وزیر اعظم عمران خان نے کور کمیٹی کے اجلاس میں 5 فروری کو کشمیر ڈے بھرپور انداز میں منانے کی ہدایت کرتے ہوئے کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لیے ملک بھر میں تقریبات کا فیصلہ کیا تھا اور کہا تھا کہ کشمیری بہن بھائیوں کی آواز دنیا بھر میں اٹھائیں گے۔

  • مقبوضہ کشمیر: بھارت نوازسیاسی رہنما رہا ہونے لگے،4 کشمیری رہنما رہا

    مقبوضہ کشمیر: بھارت نوازسیاسی رہنما رہا ہونے لگے،4 کشمیری رہنما رہا

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر: بھارت نوازسیاسی رہنما رہا ہونے لگے،4 کشمیری رہنما رہا،اطلاعات کےمطابق بھارت کی طرف سے بھارت کے سات کمپرومائز کرنے والے کشمیریوں کورہا کرنے کا سلسلہ جاری ہے،اسی سلسلے میں مقبوضہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے اتوار کے روز چار کشمیری سیاسی رہنماوں کو رہا کیا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ان سیاسی رہنماں کو جموں و کشمیر میں پانچ اگست کو دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد نظر بند کیا گیا تھا۔ رہا کیے گئے رہنماوں میں نیشنل کانفرنس کے عبدالمجید لارمی، غلام نبی بھٹ اور ڈاکٹر محمد شفیع شامل ہیں۔ ان لوگوں کو سرینگر کے ایم ایل اے ہاسٹل سے رہا کیا گیا۔ایک اوررہنما محمد یوسف بھٹ کو بھی آج ہی رہا کیا گیا ہے۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے بھی بھارت کئی کشمیری رہنماوں کو رہا کرچکا ہےاوریہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارت ان کشمیری رہنماوں کورہا کرنے پررضا مند ہوتا ہے جوبھارتی قبضے پررضامندی کااظہارکردیں

  • بھارتی فوجیوں کی غنڈہ گردی،17 سالہ کشمیری طالبہ کوگھسیٹ کرگھرسے لے گئے ، 91 سالہ باپ راہ تکتے تکتے وفات پاگیا

    بھارتی فوجیوں کی غنڈہ گردی،17 سالہ کشمیری طالبہ کوگھسیٹ کرگھرسے لے گئے ، 91 سالہ باپ راہ تکتے تکتے وفات پاگیا

    جموں :بھارتی فوجیوں کی غنڈہ گردی،17 سالہ کشمیری طالبہ کوگھسیٹ کرگھرسے لے گئے ، 91 سالہ باپ راہ تکتے تکتے وفات پاگیا،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں کئی والدین اپنے جگرپاروں کے جدائی کے غم میں اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے ۔

    ذرائع کےمطابق ضلع ڈوڈہ کے علاقے دھار کاستی گڑھ سے تعلق رکھنے والے 91برس کے غلام محمد کا انتقال ہو گیا ہے جن کی 17سالہ FAکی طالب علم جوان بیٹی ممتازہ کو بھارتی فوجی اہلکاروں نے 2000 میں اغوا کر لیا تھا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بیس سال قبل سردی کے موسم میں رات کے اندھیرے میں گھر میں داخل ہوکر جواں سال بیٹی کو گھسیٹ کر گھر کے باہر نکالاگیااور فوجی اہلکار ان کے گھر والوںکو گھر میں بند کرکے ممتازہ کو اپنے ساتھ زبردستی لے گئے ۔

    20سال تک بیٹی کی بازیابی اور انصاف کیلئے غلام محمد نے کئی مرتبہ قابض انتظامیہ و دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے دروازے پر دستک دی ۔قابض انتظامیہ کی طرف سے اسے خاموش رہنے پر چھ لاکھ روپے کی پیش کش بھی کی جو لاپتہ ممتازہ کے والد نے ٹھکرادی ۔ڈوڈہ کے مقامی اخباری رپورٹر حمید نائیک اور رقیب کے مطابق ممتازہ کی ایک بہن فریدہ نے یہ منظر اپنی آنکھوں دیکھا تھا جب ممتازہ کو گھر سے بھارتی فوجی بے رحمی سے زبردستی گھسیٹ کر لے گئے تھے۔19سالہ فریدہ بھی اپنی چھوٹی بہن کے غم میں زندگی کی بازی ہار گئی ۔

    یہ تو صرف کاستی گڑھ ڈوڈہ کے 91سالہ بزرگ غلام محمد بٹ کی بیٹی کی جدائی کا قصہ ہے ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایسی کئی خواتین ہیں ۔جو بھارتی قابض فوجیوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں ۔ان کے والدین اور بھائی بہیں ان کے جدائی کے غم میں روز جیتے اور روز مرتے ہیں ۔

    ڈوڈہ کے ایک صحافی خالد شبیر کا کہنا ہے کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر دنیا کا وہ بدنصیب خطہ ہے جہاں نوجوان لڑکیوں کو اہل خانہ کے سامنے اغوا کیا جاتاہے۔ راہ چلتی مسلم طالبات کو ہراساں و پریشان کیا جاتا ہے ۔درندہ صفت بھارتی فوجی اہلکار مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے طول و عرض میں دندناتے پھرتے ہیں ۔اور معصوم شہریوں کو ہراساں کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ۔

  • سرینگر:جنت نظیروادی میں زندگی کوقیدہوئے 182 واں روز،سرینگرمیں دھماکہ بھارتی فوج کوجانی نقصان کی اطلاعات

    سرینگر:جنت نظیروادی میں زندگی کوقیدہوئے 182 واں روز،سرینگرمیں دھماکہ بھارتی فوج کوجانی نقصان کی اطلاعات

    سرینگر:سرینگر:جنت نظیروادی میں زندگی کوقیدہوئے 182 واں روز،سرینگرمیں دھماکہ بھارتی فوج کوجانی نقصان کی خبریں موصول ہورہی ہیں ،ادھر اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیرمیں کرفیواورلاک ڈاؤن 182ویں روزمیں داخل ہوگیا جبکہ وادی میں ادویات اورخوراک کی قلت تاحال برقرار ہے۔

    ذرائع کےمطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے پرتاپ پارک میں گرینیڈ دھماکے اس دھماکے میں چھ افراد زخمی ہوگئے جن میں دو سی آر پی ایف اور چار عام شہری شامل ہیں زخمی حوالدار راجو بسواس اور کانسٹیبل ایس کے پٹنائک ہیں۔فوری طور پر انہیں مقامی اسپتال میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا ہے۔راجو بسواس کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے جبکہ ایس کے پٹنائک زیر علاج ہے۔

    سری نگر سے ذرائع کےمطابق پنکج کمار سنگھ، سی آر پی ایف پی آر او نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ چارلی 71 کے دو اہلکار معمولی طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دو عام شہری بھی معمولی طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ تمام زخمی افراد خطرے سے باہر ہے اور اس وقت قریب کے اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آی اے)نے اتوار کی صبح جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے۔ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ این آئی اے کی دو ٹیموں نے شوپیان ضلع کے مانی ہل بٹہ پورہ اور ملڑیرہ ترکہ وانگام علاقے میں تین جگہوں پر چھاپہ مارا ہے۔

    ذرائع کے مطابق این آئی اے نے رفیع راتھر جو حال ہی میں نیشنل ہائی وے پر نوید بابو اور ڈی ایس پی دیویندر سنگھ کے ساتھ پکڑا گیا، کے گھر میں چھاپہ مارا ۔ اس کے علاوہ ملڑیرہ ترکہ وانگام میں حزب المجاہدین کے رکن عادل احمد پال کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا۔ذرائع سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ این آئی اے نے ایک بی جے پی کے سر پنچ طارق احمد میر کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی۔

    سری نگر سے ذرائع کےمطابق کے مطابق بھارتی دفاعی حکام نے اس کا الزام عسکریت پسندوں پر لگایا ۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کے بعد علاقے میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور تلاشی مہم جاری ہے۔

    ادھر مقبوضہ وادی کشمیرمیں بھارت کی طرف سے مسلط کردہ غیر انسانی لاک ڈاؤن اور مواصلاتی بندش کے باعث مسلسل 182ویں روز بھی معمولات زندگی بدستور مفلوج ہیں۔ سڑکیں سنسان، وادی میں دکانیں، کاروبار، تعلیمی مراکز بند ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور ایک کروڑ سے زائد افراد دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید ہیں۔

    وادی میں نام نہاد سرچ آپریشن اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہےاور بھارتی فوج نے گزشتہ ہفتے سات نہتے کشمیریوں کو شہید کردیا ۔وادی میں خوراک اور ادویات کی قلت بھی برقرار ہے ۔ بھارت نے مظلوم کشمیریوں پر ظلم وبربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور ہزاروں کشمیریوں سمیت مقبوضہ وادی کی سیاسی قیادت کو بھی جیلوں میں بند کر رکھا ہے ۔

    وادی میں موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔ دوسری جانب مودی سرکار کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے میں ناکام ہےکشمیری کرفیو توڑ کر سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ 5اگست کو مودی سرکار نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کو ختم کر کے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر دیا تھا اور بھارت نے کشمیریوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

  • پلوامہ اور بانڈی پورہ کے علاقے باغ میں فوج کے سخت سردی کی تاریک راتوں میں  سرچ آپریشن 

    پلوامہ اور بانڈی پورہ کے علاقے باغ میں فوج کے سخت سردی کی تاریک راتوں میں سرچ آپریشن 

    مقبوضہ کشمیر:پلوامہ اور بانڈی پورہ کے علاقے باغ میں فوج کے سخت سردی کی تاریک راتوں میں سرچ آپریشن ،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیرکے اضلاع پلوامہ اور بانڈی پورہ کے علاقے باغ میں فوج نے محاصرے اور سرچ آپریشن شروع کئے ہیں۔

    سری نگر سے آمدہ اطلاعات کےمطابق ہفتے کی شام جنوبی ضلع پلوامہ کے چندگام تہب علاقے میں سکیورٹی فورسز نے تلاشی مہم شروع کی۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر فوج کے 55 آر آر اور ایس او جی کی مشترکہ ٹیم نے چندگام تہب علاقے کی جانب جانے والے تمام راستوں کو سیل کر دیا اور تلاشی مہم شروع کر دی۔

    اس سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں جمعے کو فوج اور پولیس نے مشترکہ طور پر جنرل بس اسٹینڈ اور باغ بانڈی پورہ میں سرچ آپریشن شروع کیا۔بانڈی پورہ کے جنرل بس اسٹینڈ اور باغ بانڈی پورہ کو فوج نے اس وقت محاصرے میں لیا جب فوج کو علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی خبر ملی جس کے بعد بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی گئی۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جمعے کی رات تک عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا ۔کشمیر کو بیرونی دنیا سے جوڑنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ پر نگروٹہ کے مقام پر پر جمعہ کی صبح سیکورٹی فورسز نے فائرنگ میں تین نوجوانوں کو شہید کردیا جبکہ جموں وکشمیر پولیس کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا- 

    اس سے قبل جمعرات کو شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے علاقے بمہامہ میں سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران ایک نوجوان فیاض احمد میر ولد ثنا ء اللہ میر کو گرفتار کر لیا۔پولیس کے مطابق فیاض حزب المجاہدین کا ایک سرگرم کارکن ہے۔ 

    مقبوضہ کشمیر میں ضلع پلوامہ ، کپواڑہ اور بڈگام میں بدھ سے جاری ایک آپریشن کے دوران بھارتی فوجیوں نے شہریوں کو تشدد اور مارپیٹ کا نشانہ بنایا۔
    بدھ کی شام پلوامہ کے علاقے اَرِیہال،کریم آباداورچنڈھارہ اور شمالی ضلع کپواڑہ کے علاقے کرہامہ، لال پورہ،مُقم لولاب میں سکیورٹی فورسز نے تلاشی مہم شروع کی۔جو کہ جمعرات کے روز رات کو ختم ہوئی۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ذرائع نے کہا کہ راشٹریہ رائفلز، جموں و کشمیر کے اسپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف کے جوانوں نے خفیہ اطلاع کے بعد بڈگام کے آراپورا، چاڈُورا میں مشترکہ مہم شروع کی۔

  • بھارتی مظالم کا سلسلہ رک نہ سکا : بھارتی فوج نے نئے سال کے پہلے مہینے میں 21 کشمیریوں کو شہید کیا

    بھارتی مظالم کا سلسلہ رک نہ سکا : بھارتی فوج نے نئے سال کے پہلے مہینے میں 21 کشمیریوں کو شہید کیا

    سری نگر:بھارتی مظالم کا سلسلہ رک نہ سکا : بھارتی فوج نے نئے سال کے پہلے مہینے میں 21 کشمیریوں کو شہید کیا،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے نئے سال کے پہلے مہینے میں 21 کشمیریوں کو شہید کیا ہے اورہزاروں کی تعداد میں کشمیریوں کوزخمی بھی کیا گیا ہے

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سال 2020 کے پہلے مہینے میں ہی بھارتی اہلکاوں کی مختلف کارروائیوں میں 21 کشمیری شہید ہوگئے جبکہ بھارتی اہلکاروں کے مختلف اقدام جیسے پیلٹ گن سے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کے نتیجے میں 14 کشمیری بُری طرح زخمی ہوئے۔

    کشمیری میڈیا سروس کے مطابق قابض بھارتی فوج نے مختلف کارروائیاں کرکے کشمیری شہریوں اور حریت رہنما سمیت 104 افراد کو گرفتار بھی کیا۔ گرفتار ہونے والے شہریوں میں زیادہ تر تعداد کشمیری نوجوانوں کی ہے۔علاوہ ازیں بھارتی اہلکاروں نے ایک مہینے کے دوران پانچ گھروں پر چھاپے مارے، سامان کو نقصان پہنچایا اور تین خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی۔

    خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کو جیل بنے 181 روز گزر گئے ہیں اور وادی میں قابض بھارتی حکومت کی پابندیاں برقرار ہیں۔سخت سردی میں کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ دواؤں کی قلت بھی ہوگئی ہے۔

    بھارت کی انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 ختم کر کے جموں و کشمیر اور لداخ کو زبردستی بھارتی یونین کا حصہ بنا دیا تھا۔یکم نومبر 2019 سے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور وہاں رہنے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔

    ادھر آج پاک فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور آج بھی بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول(ایل اوسی) کے ستوال سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کر دی جس کی زد میں آ کر امداد پور گاؤں کا 45سالہ رہائشی شدید زخمی ہو گیا۔

    آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے جان بوجھ کر ایل او سی پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا، بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی 45 سالہ شخص کوقریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے بھرپور جواب سے بھارتی توپیں خاموش ہو گئیں۔

    یاد رہے کہ بھارت کی جانب سےلائن آف کنٹرول( ایل او سی) پر فائرنگ معمول بن چکا ہے جس کا مقصد مسئلہ کشمیر اور شہریت بل سے توجہ ہٹانا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کئی بار بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کی باتیں بھی کر چکے ہیں۔

  • ماہ جنوری میں مودی سرکار نے کتنے کشمیریوں کو کیا شہید؟ رپورٹ جاری

    ماہ جنوری میں مودی سرکار نے کتنے کشمیریوں کو کیا شہید؟ رپورٹ جاری

    ماہ جنوری میں مودی سرکار نے کتنے کشمیریوں کو کیا شہید؟ رپورٹ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں نئے سال کے پہلے ماہ جنوری میں 19 کشمیریوں کو شہید کر دیا،

    گزشتہ برس پانچ اگست کو مودی سرکار کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد انتظامیہ نے کشمیر میں ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا تھا گزشتہ برس مودی سرکار نے کل 662 افراد پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کرکے جیلوں میں بند کر دیا ۔پانچ اگست 2019کے بعد سے بھارتی حکومت نے 412 افراد پر "بدنام زمانہ” قانون پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا ہے اور ان میں سے بیشتر افراد بیرونی ریاستوں کی جیلوں میں بند ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں جنوری میں قابض بھارتی فورسز کے ہاتھوں 19 کشمیری شہید ہوئے۔ جن میں ایک 15 سالہ لڑکا تحسین نذیربھی شامل ہے جسے جموں کشمیر پولیس کی بس نے کچل ڈالاتھا۔ بھارتی فوج ، پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے آپریشنز میں مظاہرین پر فائرنگ ، پیلٹ گن اور آنسو گیس سے 11افراد زخمی ہوئے۔اسی مدت کے دوران بھارتی فورسز نے مبینہ طور پر کم از کم111افراد کو گرفتارکیا جن میں زیادہ ترنوجوان شامل ہیں۔ یہ گرفتاریاں مختلف علاقوں میں جاری کم و بیش106سرچ آپریشنز کے دوران کی گئیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جنوری میں مقبوضہ کشمیر کے اضلاع سرینگر، کُپواڑہ ، ہِندوَاڑہ، رفیع آباد، پَٹَن، چاڈُورہ، کنگن ، تَرَال ، اَوَنتی پورہ ، بیج بِہاڑَہ، شوپِیاں، کُلگام ، رام بن، کِشتواڑ، ڈوڈہ میں سرچ آپریشنز کئے گئے۔آپریشنز میں بارودی مواد کے استعمال سے بھارتی فورسز نے چھ عمارتوں کو اڑ ادیا۔جن میں رہائشی مکان بھی تھے۔

    کشمیریوں کے قاتل کے ساتھ میں بیٹھوں ،بالکل ممکن نہیں،شاہ محمود قریشی کا بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    مودی سرکار نےتمام حریت قائدین، سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر رکھا ہے،احتجاج کرنے والے اور گھروں سے نکلنے والے ہزاروں کشمیریوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے. مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو اس شرط پر رہا کرنے کا کہا تھا کہ وہ رہائی کے بعد خاموش رہیں گے. اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے لیکن عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی نے مودی سرکار کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے

  • بھارت کا کشمیریوں پراعتماد اٹھ گیا،سوشل میڈیا کی سروسز کے لیے ہندوستانی ماہرین کو تعینات کردیا

    بھارت کا کشمیریوں پراعتماد اٹھ گیا،سوشل میڈیا کی سروسز کے لیے ہندوستانی ماہرین کو تعینات کردیا

    سرینگر:بھارت کا کشمیریوں پراعتماد اٹھ گیا،سوشل میڈیا کی سروسز کے لیے دلی سے ہندوستانی ماہرین کوتعینات کردیا ،اطلاعات کےمطابق بھارتی انتظامیہ میں برانڈبینڈ سہولیات کو مکمل بحال کرنے سے پہلے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد کرنے کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں انتظامیہ نے کشمیریوں کی فیس بک ، وائٹس اب اور دیگر سماجی رابطوں کی سائٹوںتک رسائی ناممکن بنانے کیلئے نئی دلی اور بنگلور سے آئی ٹی ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم کشمیر طلب کی ہے جسے وی پی این پراکسیزکو بلاک کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ یہ ٹیم ایک خصوصی سافٹ ویئر کو برانڈ بینڈ کے ساتھ منسلک کرے گی جسکے نتیجے میں وی پی این کے ذریعے بھی سوشل میڈیا سائٹس نہیں کھل پائیں گی ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی سرکاری مواصلاتی کمپنی بھارت سنچار نگم لمٹیڈ(بی ایس این ایل)نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ برانڈبینڈ کو بحال کرنے سے قبل سوشل میڈیا کو پوری طرح سے منقطع کیا جائے گا ۔کشمیر میں وی پی این کی مدد سے حکومت کی طرف سے سوشل میڈیا پر پابندی ہونے کے باوجود لوگ باآسانی خود اس پابندی کو ہٹانے میں کافی حد تک کامیاب رہے اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کا استعمال کرتے ہیں ۔

    مرکزی حکومت کی جانب سے 5 اگست کو کشمیر سے آئین ہند کی دفعہ 370 اور 35 اے ختم کئے جانے کے بعد سے قریب 6 ماہ تک مواصلاتی پابندیاں نافذ کردی گئی اور کچھ روز قبل جموں و کشمیر میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر پابندی جاری رکھتے ہوئے 2 جی موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال کردی گئیں تاہم پابندی کے باوجود کشمیری عوام سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر نظر آنے لگے ۔

    جس کے لئے انٹرنیٹ صارفین سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر آنے کے لیے وی پی این یعنی ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک کا استعمال کر رہے تھے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق وی پی این ایسی نیٹ ورک ٹیکنالوجی ہے جو پبلک نیٹ ورک جیسے انٹرنیٹ پر نیٹ ورک کنکشن بناتی ہے۔ اسے استعمال کر کے بلاک کی گئی ویب سائٹس اور سروسز تک رسائی حاصل کرنے میں معاونت ملتی ہے۔

  • بھارتی ریاستی دہشت گردی،3 کشمیری شہید، ایک فوجی ہلاک

    بھارتی ریاستی دہشت گردی،3 کشمیری شہید، ایک فوجی ہلاک

    بھارتی ریاستی دہشت گردی،3 کشمیری شہید، ایک فوجی ہلاک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وادی کشمیر کو بیرون دنیا سے جوڑنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ پر نگروٹہ کے مقام پر پر جمعہ کوعلی الصبح سیکورٹی فورسز نے فائرنگ میں تین نوجوانوں کو شہید کردیا جبکہ جموں کشمیر پولیس کا ایک اہلکار،ایک زخمی ہوگیا-

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جموں سے کشمیر کی طرف آنے والے ایک ٹرک کو نگروٹہ کے بن ٹول پلازہ کی مقام پر پولیس اہلکاروں کے روکنے کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں پولیس کا ایک اہلکار زخمی اور ایک نوجوان ہلاک ہو گیا۔

    آئی جی جموں مکیش سنگھ نے بتایا کہ ٹرک میں سوار باقی افرادجن کی تعداد دو سے تین بتائی جارہی تھی، موقع سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئے- واقعہ کے بعد بھارتی فوج نے پورے علاقے کو محاصرے میں لیکر بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کردیا ۔ بعد ازاں بن ٹول پلازہ کے نزدیک بھارتی فوج اور کشمیری جوانوں کے درمیان تصادم بھی ہوا۔جس میں دو نوجوان شہید ہو گئے۔

    انتظامیہ نے پر سری نگر جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد ورفت روک دی -ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ادھمپور نے احتیاطی طور پر ادھمپور قصبے، ٹکری، منڈ، نیشنل ہائی وے زونز اور چھینانی علاقے کے تمام اسکولز کو بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔ نگروٹہ میں فوج اور جموں وکشمیر پولیس کی اہم تنصیبات واقع ہیں-

    اس سے قبل جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس (ڈی جی پی)دلباغ سنگھ نے بتایاتھا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا گیا ہے جبکہ باقی ملحقہ جنگلاتی علاقے میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    واضح رہے کہ سنجوان ملٹری اسٹیشن 2018 کے حملے کے بعد جموں خطے میں یہ پہلا بڑا حملہ ہے۔ جس میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے.

    کشمیریوں کے قاتل کے ساتھ میں بیٹھوں ،بالکل ممکن نہیں،شاہ محمود قریشی کا بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    مودی سرکار نےتمام حریت قائدین، سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر رکھا ہے،احتجاج کرنے والے اور گھروں سے نکلنے والے ہزاروں کشمیریوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے. مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو اس شرط پر رہا کرنے کا کہا تھا کہ وہ رہائی کے بعد خاموش رہیں گے. اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے لیکن عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی نے مودی سرکار کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے

  • مقبوضہ وادی میں زندگی کوقید ہوئے179 واں دن ،بھارتی فوج کے مظالم جاری ، دنیا پرچپ طاری

    مقبوضہ وادی میں زندگی کوقید ہوئے179 واں دن ،بھارتی فوج کے مظالم جاری ، دنیا پرچپ طاری

    سری نگر:مقبوضہ وادی میں زندگی کوقید ہوئے179 واں دن ،بھارتی فوج کے مظالم جاری ، دنیا پرچپ طاری،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیرمیں کرفیواورلاک ڈاؤن 179ویں روزمیں داخل ہوگیا جبکہ وادی میں ادویات اورخوراک کی قلت تاحال برقرار ہے۔

    مقبوضہ وادی کشمیرمیں بھارت کی طرف سے مسلط کردہ غیر انسانی لاک ڈاؤن اور مواصلاتی بندش کے باعث مسلسل 179ویں روز بھی معمولات زندگی بدستور مفلوج ہیں۔ سڑکیں سنسان، وادی میں دکانیں، کاروبار، تعلیمی مراکز بند ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

    قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور ایک کروڑ سے زائد افراد دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید ہیں۔ وادی میں نام نہاد سرچ آپریشن اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہےاور بھارتی فوج نے گزشتہ ایک ہفتے میں سات نہتے کشمیریوں کو شہید کردیا ۔وادی میں خوراک اور ادویات کی قلت بھی برقرار ہے ۔

    بھارت نے مظلوم کشمیریوں پر ظلم وبربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور ہزاروں کشمیریوں سمیت مقبوضہ وادی کی سیاسی قیادت کو بھی جیلوں میں بند کر رکھا ہے ۔وادی میں موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔ دوسری جانب مودی سرکار کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے میں ناکام ہےکشمیری کرفیو توڑ کر سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ 5اگست کو مودی سرکار نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کو ختم کر کے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر دیا تھا اور بھارت نے کشمیریوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔