Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    کشمیر ایشو اور کے فریقین کے کرداروں پر تجزیہ!!!
    محمد عبداللہ کی تحریر

    مقبوضہ جموں و کشمیر پر پر ویسے تو قیام پاکستان کے وقت ہی بھارت نے تقسیم ہند کے سبھی اصولوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اپنی افواج داخل کرکے جابرانہ قبضہ کرلیا تھا اور مسلسل کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا تھا لیکن جب سے نریندر مودی بھارت میں برسر اقتدار آیا ہے تب سے کشمیر کے مسلمانوں پر حالات مزید تنگ سے تنگ ہوتے چلے جا رہے ہیں. مودی نے اپنے پہلے دور حکومت میں وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالتے ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے اس کو بھارت میں ضم کرے گا اور بالآخر دوسری بار وزیراعظم بننے کے بعد پانچ اگست دو ہزار انیس کو نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا اور اس فیصلے پر ردعمل سے بچنے کے لیے جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی افواج میں یکلخت اضافہ کرکے جموں و کشمیر میں مکمل طور پر کرفیو نافذ کردیا. مقبوضہ وادی کے حالات سے بیرونی دنیا کی آگاہی اور مقامی لوگوں کے بیرونی دنیا سے روابط کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے لیے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور ہر طرح کے ذریعہ مواصلات کو بند کردیا گیا. کشمیری مسلمان اس سے قبل ہی بھارتی افواج کی سنگینوں تلے مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے مگر اس طویل ترین کرفیو اور ہر طرح کی بندش نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی، بیرون ممالک موجود کشمیریوں کے اپنے پیاروں سے روابط مکمل طور پر منقطع ہوچکے تھے اور کسی کو نہیں پتا تھا کہ ان کے عزیز و اقارب کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا بھارتی افواج کے جبر اور ریاستی دہشت گردی کی تاب نہ لاتے ہوئے اس فانی دنیا کو الوداع کہہ چکے ہیں.
    مودی نے اس انتہائی اقدام کے لیے بڑی زبردست ٹائمنگ کا انتخاب کیا ہے. ایک طرف تو پاکستان ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے پھنسا ہوا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں سیاسی انتشار اور اکھاڑ پچھاڑ نے بھارت کو اس فیصلے کو کرنے میں خاصی مدد دی ہے. کشمیریوں کا دنیا میں واحد وکیل پاکستان تھا اور ہے لیکن اس موقع پر پاکستانی بھی سوائے آہ و فغاں کرنے کے کچھ نہ کر سکے کہ انٹرنیشنل پریشر اور ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا اترنے کے چکر میں کشمیر کے نام لیواؤں کو پس دیوار زنداں دھکیل دیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پوری حکومتی مشینری تمام تر افرادی اور مادی وسائل کے باوجود بھی کشمیر پر ایک قابل ذکر احتجاجی پروگرام تک نہ کرسکی. یہ بڑی حیران کن صورتحال تھی کہ مذہبی جماعتوں کی کال پر ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ کشمیر کی آواز بنتے تھے مگر بہت بڑے بڑے سیاسی جلسے اور دھرنے کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومتی مشینری ہونے کے باوجود بھی کشمیر پر عوام کو جمع کرنے میں ناکام رہی ہے. وزیراعظم کے حکم پر دو تین دفعہ جمعہ کے بعد آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا بھی دشوار لگا اور بالآخر وہ بھی چھوٹ گیا. کشمیر پر بھارتی قبضے کے حوالے سے آجاکر پاکستان کے پلڑے میں وزیراعظم پاکستان کی دو چار تقاریر ہیں اور بڑا زبردست موقف ہے لیکن پتا نہیں کیا وجوہات ہیں کہ پاکستان اس موقف کو عالمی سطح پر پھیلانے سے قاصر ہے.
    مسئلہ کشمیر پر میرے خیال سے چار فریق بنتے ہیں ان میں سے دو تو ڈٹے ہوئے ہیں ان میں سے ایک انڈیا کہ اس نے انتہائی قدم تک اٹھالیا کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت، عالمی سطح پر متنازع حیثیت سب کو بالائے طاق رکھتے کشمیر کو بھارت کے اندر ضم کرلیا ہے اور اب اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی پلاننگ چل رہی ہے تاکہ کل کو دنیا کے مجبور کرنے پر اگر رائے شماری کروانی بھی پڑے تو کشمیر ہاتھ سے نہ جائے اس کے لیے بھارت کے ذرائع ابلاغ اور حتیٰ کہ فلم انڈسٹری ملکی اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کر رہی ہے ایسی موویز بنائی جا رہی ہیں کہ جن میں دکھایا جا رہا ہے کہ ہندو پنڈتوں پر ظلم کرکے ان کو کشمیر سے نکالا گیا تھا اور وہ اب اپنے گھروں کو واپس جانا چاہ رہے ہیں اسی طرح دوسرا اور سب سے متاثر فریق اہل کشمیر ہیں جو اب تک قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں مگر آزادی کے سوا ان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا، وہ عزم و استقامت کے پہاڑ بن کر اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن اور کرفیو بھی ان کے عزم و استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکا جبکہ تیسرا فریق عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کا فورم مسئلہ کشمیر پر مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور انسانیت کے کسی بڑے قتل عام کے منتظر ہیں ان کی مجرمانہ خاموشی انڈیا کی ہی مددگار ثابت ہورہی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا چوتھا اور اہم فریق پاکستان کہ جس کی بقاء مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے وہ دعوے تو بلند و بانگ رکھتا ہے اور بہت کچھ کرنا بھی چاہتا ہے مگر کچھ بھی کر نہیں پا رہا یا کرنا نہیں چاہ رہا. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی پر وزیراعظم پاکستان اور بالخصوص وزیر خارجہ ایک لمحہ بھی ٹک نہ بیٹھتے اور مسلسل لابنگ کرتے عالمی فورمز کو متحرک کرتے، عالمی کانفرنسز اور پریس کانفرنسز کا انعقاد کرتے، اقوام عالم کو مسئلہ کشمیر پر قائل کرنے کے لیے ہنگامی دورے کیے جاتے مگر پتا نہیں وہ کونسی وجوہات ہیں کہ جن کی بنیاد پر پاکستان اب تک نہ تو لابنگ کرسکا، نہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرسکا یہاں تک کہ ڈھنگ کی کوئی ڈاکیومنٹری یا مووی تک بنا سکا جو عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کو اجاگر کرتی. بلاشبہ مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقاریر بہت جاندار اور بہترین موقف کی حامل ہیں مگر جہاں ریاستوں کی بقاء کا مسئلہ ہو وہاں دو چار تقاریر تک محدود نہیں رہا جاتا وہاں عملی اور ہنگامی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں اور جراتمندانہ فیصلے لینے پڑتے ہیں وگرنہ تاریخ معاف نہیں کیا کرتی.

  • تحریک آزادی کشمیر درحقیقت تحریک تکمیل پاکستان ہے، سردار عتیق

    تحریک آزادی کشمیر درحقیقت تحریک تکمیل پاکستان ہے، سردار عتیق

    تحریک آزادی کشمیر درحقیقت تحریک تکمیل پاکستان ہے، سردار عتیق

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قائد مسلم کانفرنس و سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ 5 فروری پاکستانی اور کشمیری عوام کی یکجہتی کے تجدید کا دن ہے، 5 فروری دنیا بھر کی توجہ اہل پاکستان کے کشمیر پر جذبات کی جانب متوجہ کررہا ہے، پاکستانی اور کشمیری عوام کی یکجہتی لازوال اور بے مثال ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے اپنے ویڈیو پیغام میں کیا۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ آج 5 فروری پاکستانی اور کشمیری عوام کی یکجہتی کے تجدید کا دن ہے،5 فروری دنیا بھر کی توجہ اہل پاکستان کے کشمیر پر جذبات کی جانب متوجہ کررہا ہے۔  جموں وکشمیر اور پاکستان فطری، تاریخی اور جغرافیائی رشتوں میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، پاکستانی اور کشمیری عوام کی یکجہتی لازوال اور بے مثال ہے۔

    سردار عتیق نے کہا کہ حق خود ارادیت کے حصول سے کم کوئی بھی چیز کشمیریوں کو تحریک سے باز نہیں رکھ سکتی۔ مسئلہ کشمیر برصغیر پاک و ہند کا نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے، تحریک آزادی کشمیر درحقیقت تحریک تکمیل پاکستان ہے۔جلد یا بدیر بھارت کو کشمیر سے جانا ہے۔ جموں وکشمیر پر آزادی کا سورج طلوع ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جموں وکشمیر کے عوام جنوب ایشیاء کے محفوظ مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    یوم یکجہتی کشمیر، پاک فوج نے جاری کیا کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے ملی نغمہ "کشمیر ہوں میں”

    یوم یکجہتی کشمیر پر علی امین گنڈا پور نے کی قوم سے بڑی اپیل، کیا کہا؟

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    مودی سرکار نےتمام حریت قائدین، سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر رکھا ہے،احتجاج کرنے والے اور گھروں سے نکلنے والے ہزاروں کشمیریوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے. مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو اس شرط پر رہا کرنے کا کہا تھا کہ وہ رہائی کے بعد خاموش رہیں گے. اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے لیکن عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی نے مودی سرکار کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    یکجہتی کشمیر،جماعت اسلامی کی ہوں گی ملک بھر میں ریلیاں، شیڈول جاری

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

     

  • یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    پانچ فروری اہل پاکستان یوم یکجہتی کشمیر جوش و جذبے کے ساتھ منائیں گے اور اس عہد کی تجدید کریں گے کہ بھارت کے جابرانہ تسلط کے خاتمے اور کشمیر کی مکمل آزادی تک مظلوم کشمیریوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے دارالحکومت مظفر آباد جائیں گے اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔

    یوم یکجہتی کے موقع پر آزاد کشمیر کو پاکستان سے ملانے والے پلوں پر بھی انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی۔ صبح 10 بجے مظلوم کشمیری خواتین اور بچوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اسلام آباد میں اقوام متحدہ دفتر کے باہر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی۔

    ہر سال 5فروری کو پاکستان دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور کشمیر کاز کو اجاگر کرنے کے لئے ملک گیر سطح پر یوم یکجہتی کشمیر مناتا ہے ، بدھ کو ملک بھر میں مائیں ، بہنیں ،بیٹیاں ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کشمیری ماﺅں اور بہنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دنیا کو پیغام دیں گی کہ دنیا ان کی عصمت دری ،حرمت کی پامالی اور انکے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر روکے ، اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سامنے اسلام آباد میں رہنے والی ہماری مائیں ،بہنیں اور بیٹیاں جن کا زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق ہے بھرپور شرکت کر کے ثابت کرینگی کہ یہ مسئلہ ہمارا اپنا مسئلہ ہے ۔

    دن 2 بجے صحافی برداری نیشنل پریس کلب کے باہر مقبوضہ وادی میں میڈیا پر عائد پابندیوں کے خلاف اور کشمیر میں کام کرنے والے صحافیوں سے اظہار یکجہتی کرے گی۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر شیخ رشید لال حویلی راولپنڈی میں جلسہ سے خطاب کریں گے جبکہ جماعت اسلامی زیر اہتمام دن 11 بجے لیاقت باغ سے کمیٹی چوک تک یکجہتی کشمیر ریلی نکالی جائے گی۔

    بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور کئی ماہ سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے رواں سال یوم یکجہتی کشمیر معمول سے ہٹ کر منایا جائے گا۔ اس دن کی مناسبت سے یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرا کیا جائے گا۔ دن 10 بجے ایک منٹ کے لئے خاموشی اختیار کی جائے گی جس کا وزارت داخلہ کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان کے احکامات کی روشنی میں رواں سال یوم یکجہتی کشمیر کی تقریبات کا آغاز 27 جنوری سے کر دیا گیا تھا۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں ریلیوں سے صوبائی وزیراعلیٰ خطاب کریں گے جبکہ ہر ضلع کی سطح پر ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔

    وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں سٹی برانڈنگ کے سلسلے میں مختلف مقامات پر کشمیر میں ظلم وستم کو تصویری صورت میں نمایاں کیا گیا ہے۔ دارلحکومت کے اہم پلوں کو یوم یکجہتی کے بینروں سے سجانے کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے مواد اپ لوڈ کیا جا رہا ہے۔

    تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور ریلوے سٹیشنوں پر یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے بینرز آویزاں کئے گئے ہیں۔ پی ٹی اے کی جانب سے یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے 10 کروڑ خصوصی ایس ایم ایس بھیجے جائیں گے۔ وفاقی تعلیمی اداروں میں مباحثے اور مضمون نویسی کے مقابلے ہوں گے۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کے زیر اہتمام خواتین کے مابین ہاکی اور مردوں کے فٹ بال میچ کا انعقاد کیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ مختلف شہروں میں سٹی برانڈنگ کی گئی ہیں۔ اسلام آباد میں سینٹورس مال اور صفا گولڈ مال میں کشمیر سیل کے زیر اہتمام خصوصی ڈیسک قائم کئے گئے ہیں جبکہ یہاں پر دستخطی مہم کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ ایوان اقبال لاہور میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے تصاویری نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تمام آرٹ گیلریوں میں تصاویری نمائش کا اہتمام کر دیا گیا ہے۔ تمام فارن مشنز میں یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں خصوصی پروگرامات منعقد کئے جائیں گے

    کشمیریوں کے قاتل کے ساتھ میں بیٹھوں ،بالکل ممکن نہیں،شاہ محمود قریشی کا بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    مودی سرکار نےتمام حریت قائدین، سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر رکھا ہے،احتجاج کرنے والے اور گھروں سے نکلنے والے ہزاروں کشمیریوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے. مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو اس شرط پر رہا کرنے کا کہا تھا کہ وہ رہائی کے بعد خاموش رہیں گے. اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے لیکن عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی نے مودی سرکار کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

  • قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے کشمیروں کیساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی

    قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے کشمیروں کیساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی

    اسلام آباد:قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی کشمیروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔اطلاعات کےمطابق سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا جس میں قرارداد قائد ایوان شبلی فراز نے پیش کی

    ذرائع کے مطابق اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان پاکستانی عوام کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی بہادر کو سلام کرتا ہے۔ قرارداد کے مطابق آزادی کے حصول کے لیے بھارتی تسلط کے خلاف کشمیری عوام کی جدوجہد کو سنہری حروف میں لکھا جائے گا، مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو ختم کرنے کے حوالے سے بھارت کی غیر قانونی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔

    قرارداد میں مطالبہ کیاگیا کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کے خلاف مظالم پر نریندر مودی اور آر ایس ایس کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلایا جائےقرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی عوام، حکومت اور پارلیمنٹ کشمیری عوام کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے، بھارت کا جنگی جنون علاقائی امن اور استحکام کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے اور بین الاقوامی برادری اقوام متحدہ کی قرارداوں کی خلاف ورزی کا نوٹس لے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔یاد رہے کہ 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے گا اور ملک میں بھر میں کشمیری بہن بھائیوں سے یکجہتی کے لیے ریلیاں اور مظاہرے کیے جائیں گے۔

  • کشمیری نوجوانوں کو چُن چُن کر مارا جارہا ہےاوردنیا چپ ہے :صدرآزاد کشمیرسردار مسعود خان

    کشمیری نوجوانوں کو چُن چُن کر مارا جارہا ہےاوردنیا چپ ہے :صدرآزاد کشمیرسردار مسعود خان

    اسلام آباد: کشمیری نوجوانوں کو چُن چُن کر مارا جارہا ہےاوردنیا چپ ہے،اطلاعات کےمطابق صدر آزاد کشمیر مسعود خان نے کہا ہے کہ دوران کرفیو کشمیری نوجوانوں کو چُن چُن کر مارا جارہا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق صدر آزاد کشمیر مسعود خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم و محکوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی بین الاقوامی تحریک بن چکی ہے، مقبوضہ کشمیر کے محاصرے کو 185 دن ہوچکے ہیں، بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کشمیریوں کے اغوا کی تصدیق کرچکے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق صدر آزاد کشمیر سردارمسعود خان نے کہا کہ بھارتی فورسز کشمیری خواتین کی بے حرمتی کررہی ہیں، سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر سے متعلق غیررسمی اجلاس منعقد کرچکی ہے، کشمیریوں کی نسل کشی روکنے کے لیے تاحال ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔محصور کشمیریوں کے لیے تاحال انسانی راہداری قائم نہیں کی جاسکی ہے، کشمیریوں کی نسل کشی روکنے کی ذمہ داری اقوام متحدہ پر عائد ہوتی ہے۔

    صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت کو جارحیت سے باز رکھنے کی ذمہ داری اقوام متحدہ پر عائد ہوتی ہے، مسئلہ کشمیر کے حل میں تاخیر سے دنیا کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔خیال رہے 5 اگست کے بعد سے مقبوضہ کشمیرمیں لاک ڈاؤن برقرار ہے، شدیدسردی میں کشمیری دواؤں، کھانے پینے کی اشیا کے بحران کا شکار ہے جبکہ تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز بند ہے اور انٹرنیٹ، موبائل سروس بدستور معطل ہے۔

    مقبوضہ کشمیر کے بیشتر علاقوں میں بھارتی فوجی نام نہاد سرچ آپریشن کی آڑ میں گھروں میں گھس کرخواتین کو ہراساں اور نوجوانوں کو گرفتارکررہے ہیں جبکہ کرفیو اور پابندیوں کے باعث اب تک مقامی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔

  • کشمیریوتھ الائنس وفد کی قومی اسمبلی کےکشمیرپربلائےگئےاجلاس میں شرکت،پی ٹی آئی کشمیریوں کی آزادی کےلیےمخلص ہے،مجاہد گیلانی

    کشمیریوتھ الائنس وفد کی قومی اسمبلی کےکشمیرپربلائےگئےاجلاس میں شرکت،پی ٹی آئی کشمیریوں کی آزادی کےلیےمخلص ہے،مجاہد گیلانی

    اسلام آباد:کشمیر یوتھ الائنس کے وفد کی قومی اسمبلی کے کشمیرپربلائے گئے اجلاس میں شرکت،پی ٹی آئی کشمیریوں کی آزادی کے لیے مخلص ہے، کشمیریوتھ الائنس کا کشمیریوں کی بھرپورحمایت اوران کی آزادی کے لیے کوششوں پرعمران خان کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ کسی حکومت نے کشمیریوں کی کھل کراورمخلص بن کرکوشش کی ہے ،

    باغی ٹی وی کے مطابق کشمیر یوتھ الائنس کے وفد نے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی دعوت پر قومی اسمبلی کے کشمیر پر بلائے گئے خصوصی سیشن میں شرکت کی، وفد کی قیادت صدر کشمیر یوتھ الائنس ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی کررہے تھے، جبکہ صدر یوتھ پارلیمنٹ عبید قریشی، سیکرٹری جنرل کشمیر یوتھ الائنس رضی طاہر، نائب صدر کشمیر یوتھ الائنس ڈاکٹر اسامہ ظفر، جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والی طالبات شازیہ اور رقیہ سمیت کشمیری طلبہ و طالبات وفد کا حصہ تھے،

    باغی ٹی وی کےمطابق سپیکر قومی اسمبلی نے کشمیری نوجوان قیادت کے وفد کو خوش آمدید کہا، وفد کی موجودگی کشمیر سے اظہار یکجہتی کیلئے قرارداد منظور کی گئی، پارلیمنٹ کے سیشن کے بعد کشمیر یوتھ الائنس کے وفد نے چیئرمین کشمیر کمیٹی فخرامام سے ملاقات کی، اس موقع پر فخر امام نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان اپنا کردار ادا کرتی رہے گی جب تک کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع نہیں ہوتا۔

  • 84افراد شہید،ہزاروں زخمی،11 ہزارگرفتار،یوم یکجہتی کشمیر پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے خصوصی رپورٹ،

    84افراد شہید،ہزاروں زخمی،11 ہزارگرفتار،یوم یکجہتی کشمیر پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے خصوصی رپورٹ،

    سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں 84افراد شہید،ہزاروں زخمی،11 ہزارگرفتار، اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سال 5اگست کو خطے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد سے 5فروری ،یوم یکجہتی کشمیر تک مقبوضہ کشمیر میں 84افراد کو شہید کیا گیا جن میں آٹھ عام شہری تھے۔شہریوں میں 2 خواتین اور4 بچے بھی شامل ہیں۔ جبکہ 7 افراد کو دوران حراست شہید کیا گیا۔ 18لوگ ایسے تھے جو کہ نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے۔

    یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر جاری ساوتھ ایشین وائر کی رپورٹ کے مطابق صرف دسمبرمیں 25 اور جنوری میں 19افراد شہید ہوئے ۔مقبوضہ کشمیر میں 5اگست سے آج تک 38بھارتی سکیورٹی اہلکار ہلاک اور491زخمی ہوئے۔

    پانچ اگست کو مرکز کی مودی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد انتظامیہ نے کشمیر میں ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا تھا تاکہ اس دفعہ کی منسوخی کے بعد وادی میں امن و امان برقرار رہے۔ 11629افراد کو مختلف کاروائیوں میں گرفتار کیا گیا۔جن میں سے صرف اگست کے مہینے میں گیارہ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جبکہ 50سے زائد عمارتوں کو تقریباًچھ سو مختلف آپریشنز کے دوران سیکورٹی فورسز نے بارودی مواد سے اڑا دیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس عرصے میں زیادہ آپریشنز مقبوضہ کشمیر کے اضلاع سرینگر، کُپواڑہ ، ہِندوَاڑہ، رفیع آباد، پَٹَن، چاڈُورہ، کنگن ، تَرَال ، اَوَنتی پورہ ، بیج بِہاڑَہ، شوپِیاں، کُلگام ، رام بن، کِشتواڑ، ڈوڈہ میں کئے گئے۔مختلف آپریشنز میں مشتعل مظاہرین کی طرف سے سیکورٹی فورسز پر پتھراو کے 10سے زائد واقعات پیش آئے۔بھارتی فوج ، پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروںکی طرف سے آپریشنز میں مظاہرین پر فائرنگ ، پیلٹ گن اور آنسو گیس سے تقریباً 900افراد زخمی ہوئے۔

    پانچ اگست 2019کے بعد سے بھارتی حکومت نے 412 افراد پر "بدنام زمانہ” قانون پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا اور ان میں سے بیشتر افراد بیرونی ریاستوں کی جیلوں میں بند ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق تشدد کے مختلف واقعات میں 4بچوں کی ہلاکت بھی ہوئی ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حراست کے دوران بچوں کو مسلح افواج کے ہاتھوں غیر قانونی اور ناجائز نظربندیوں ، ناجائز سلوک ، جس میں تشدد بھی شامل ہے ، کا سامنا کرنا پڑا۔ساوتھ ایشین وائر کی اس رپورٹ میں جنسی تشدد کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔جس میں تقریباً51کشمیری خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔اسی عرصے میں ہندوستانی مسلح افواج اور کشمیر حریت پسندوں کے مابین فائرنگ کے چھ سو سے زائد واقعات بھی پیش آئے۔

    اس رپورٹ میں میڈیا پر پابندیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ، جس میں صحافیوں کو مار پیٹنے کے متعدد واقعات پیش آئے۔ جسمانی حملوں کے علاوہ صحافیوں کو بھی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

    5اگست سے آج تک مقبوضہ کشمیر میں سرینگر کے نواحی علاقے نوہٹہ میں واقع چھ سو سالہ قدیم اور وادی کی سب سے بڑی عبادت گاہ کی حیثیت رکھنے والی تاریخی جامع مسجد میں مسلسل 19 جمعے نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔اس سال سے قبل جولائی 2017میں رمضان کے مہینے میں جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی کبھی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ڈوگرہ دور کے زوال کے بعد پہلی مرتبہ رمضان کے آخری جمعہ ،جسے جمعتہ الوداع کہا جاتا ہے،کو بھی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔

    1842میں سکھ دورکے آخری گورنر شیخ انعام الدین کے دورمیں اس تاریخی مسجد کو کھولا گیا تاہم اس دوران مسلسل11برسوں تک مسجد میں صرف نماز جمعہ ہی ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس دوران جمعہ کو کچھ گھنٹوں کیلئے ہی مسجد کو کھولا جاتا تھا اور بعد میں بند کیا جاتا تھاتاہم1898کے بعد ہی مسجد کو کھولا گیا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق 2016میں حزب کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد بھی اس مسجد کو قریب چار ماہ تک بند کردیا گیا اور یہاں نماز کی اجازت نہیں دی گئی تاہم 2017میں پہلی بار جامع مسجد کو رمضان کے متبرک مہینے میں پہلے بھی جمعہ کے موقعہ پر،پھر جمعتہ الوداع کے خصوصی موقعہ پر بند کیا گیا تھا۔

    5اگست 2019سے 2020کے یوم یکجہتی کشمیر کے عرصے کے دوران مقبوضہ کشمیرطویل ترین مواصلاتی لاک ڈاون کا شکارپہلا علاقہ بن گیا۔کشمیر میں ابھی تک دو بار ایسا ہوا ہے جب سرکار نے 100دنوں کے زائد عرصے سے یہاں کے لوگوں کو انٹرنیٹ سے محروم رکھا۔

    خبررساں ادارے ساتھ ایشین وائر نے اپنی خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ 5اگست سے پہلے 2016میں عسکریت پسند برہان وانی کی شہادت کے بعد ہونے والے عوامی احتجاج کے دوران اس وقت کی بی جے پی – پی ڈی پی مخلوط سرکار میں 133دنوں تک انٹرنیٹ سروسز پر پابندی رہی۔ البتہ براڈبینڈ سروس کو چھ دنوں کے بعد بحال کر دیا تھا، جس وجہ سے عوام کو زیادہ پریشانیوں کا سامنا نہیں رہا۔

    رواں سال 5اگست سے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کیے جانے کے ساتھ ہی مواصلاتی نظام پر بدترین پابندیاں نافذکر دی گئیں۔جو 5اگست سے 2019کے آخری دن تک جاری رہیں۔ جن کا دورانیہ 149دن رہا۔

    ساتھ ایشین وائر نے اپنی خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ جموں و کشمیر میں 2016 کے بعد سے مواصلات کے شٹ ڈاون کے مجموعی طور پر 183 واقعات ریکارڈ کئے گئے ۔

    رواں سال کے آغاز سے ہی سرحد پر کشیدگی کا ماحول ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اگست 2019میں مجموعی طور پر سرحد پر پاکستان اور بھارتی افواج کی طرف سے گولہ باری کے307 واقعات پیش آئے۔ ستمبر میں 292، اکتوبر میں 351، نومبر میں 304 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی اور جبکہ دسمبر اور جنوری میں بھی یہ تعداد 300 سے تجاوز کرگئی۔

  • کشمیریو!عمران خان تمہیں آزادی کی منزل دلا کررہیں گے ،افریقی عمران خان کے بڑے مداح ،عالمی لیڈرسمجھتے ہیں‌،موزی ڈلامنی

    کشمیریو!عمران خان تمہیں آزادی کی منزل دلا کررہیں گے ،افریقی عمران خان کے بڑے مداح ،عالمی لیڈرسمجھتے ہیں‌،موزی ڈلامنی

    اسلام آباد :کشمیریو! پاکستانی وزیراعظم عمران خان تمہیں آزادی کی منزل دلا کررہیں گے ،میں نے عمران خان سے بڑھ کرمخلص نہیں دیکھا،اطلاعات کےمطابق عظیم سیاستدان نیلسن منڈیلاکےداماد بھی کشمیریوں کی حمایت میں سامنے آگئے اور اہل کشمیر کی آواز کو اٹھانے کیلئے وزیراعظم عمران خان کی کاوشوں کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا جنوبی افریقہ کشمیر پر پاکستان کیساتھ ہے۔

    ذرائع کےمطابق عظیم سیاستدان نیلسن منڈیلاکےداماد موزی ڈلامنی نے پارلمینٹ ہاؤس کا دورہ کیا ، جہاں ان کی فیصل جاوید سے ملاقات ہوئی ، ملاقات میں اہل کشمیرپرجاری بھارتی مظالم پر بات چیت ہوئی، فیصل جاوید نے نیلسن منڈیلاکے داماد موزی ڈلامنی کا پارلیمان آمد پر خیر مقدم کیا، جنوبی افریقہ کے سینیٹرماگو دو لیلیٰ بھی نیلسن منڈیلا کے داماد کے ہمراہ تھے۔

    ملاقات میں پاکستان اورجنوبی افریقہ کےمابین کرکٹ پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ، نیلسن منڈیلا کے داماد نے کہا نیلسن منڈیلا کشمیرکےحوالےسےواضح مؤقف رکھتےتھے، اہل کشمیرکےجذبات سےآگاہ ہیں اورانہیں بخوبی سمجھتےہیں، جنوبی افریقہ کشمیر پر پاکستان کیساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ افریقی لوگ عمران خان کودنیا کا ایک لیڈرکے طورپرمانتے ہیں‌

    نیلسن منڈیلا کے داماد موزی ڈلامنی نے اہل کشمیر کی آواز کو اٹھانے کیلئے وزیراعظم کی کاوشیں کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا وزیراعظم کی نیلسن منڈیلا سےملاقات تاریخی موقع تھی، جنوبی افریقہمیں وزیراعظم عمران خان کےبہت سےمداح ہیں، جنوبی افریقاکی کرکٹ ٹیم جلدپاکستان کادورہ کرےگی۔

  • اقوام متحدہ نے مشرقی تیمورکامسئلہ حل کیا،لیکن اسے کشمیرمیں مظالم نظرنہیں آتے،یہ دہرامعیارقبول نہیں ، شیریں مزاری

    اقوام متحدہ نے مشرقی تیمورکامسئلہ حل کیا،لیکن اسے کشمیرمیں مظالم نظرنہیں آتے،یہ دہرامعیارقبول نہیں ، شیریں مزاری

    اسلام آباد:اقوام متحدہ نےمشرقی تیمورکامسئلہ حل کیا،لیکن اسے کشمیرمیں مظالم نظرنہیں آتے،یہ دہرامعیارقبول نہیں ،اطلاعات کےمطابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ مشرقی تیمور اور مسئلہ کشمیر کا معاملہ ایک جیسا ہے تاہم یو این نے مشرقی تیمور کا مسئلہ حل کیا اور کشمیر کا نہیں۔

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق اسمبلی میں خطاب کے دوران شیریں مزاری نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ابھی بہت زیادہ جدوجہد کی ضرورت ہے، وزارت خارجہ اکیلا مسئلہ کشمیر اجاگر نہیں کر سکتا، پارلیمنٹیرینز کو بھی جانا چاہیے، اقوام متحدہ کو بار بار مسئلہ کشمیر یاد دلانا ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر حکومت نے کچھ نہیں کیا یہ کہنا عملی طور پر درست نہیں، مسئلہ کشمیر کو حکومت نے بہت کم وقت میں اجاگر کیا ہے، اس کے لیے پارلیمنٹیرینز کو بھی بیرون ملک بھیجنا ہوگا، تاہم بغیر تیاری کے پارلیمنٹیرینز کو باہر بھیجیں گے تو نتیجہ صفر آئے گا، کشمیر کا کیس لڑنے کے لیے کشمیر کی تاریخ جاننا ضروری ہے۔

    شیریں مزاری نے کہا کہ یو این ہیومن رائٹس کمیشن کو بھی مسئلے پر خط لکھا گیا ہے، جب تک یو این میں قرارداد نہیں آئے گی تو کمیشن نہیں بن پائے گا، وفاقی وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری نے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ میری منسٹری نے خواتین اور بچوں کے حقوق پر 18 اسپیشل مینڈیٹ کو خط لکھا، کہ بھارت کی فوج خواتین پر تشدد کر رہی ہے، خواتین سے زیادتی کو بہ طور ہتھیار استعمال کیا گیا، اس جرم پر ان ملٹری فورسز کو سزا ملنی چاہیے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر پہلی بار پاکستان کا مؤقف پوری دنیا نے قبول کیا، کشمیر ایشو پر یو این میں دو میٹنگز ہوئیں جن میں اس پر غور ہوا، یورپی یونین پارلیمنٹ میں بھی 2 بار کشمیر ایشو پر بات ہوئی، جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی، بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دنیا مذمت کر رہی ہے، بھارت کا اصل چہرہ سامنے لانا پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، مسئلہ کشمیر سے متعلق عالمی سطح پر بھارت کے مؤقف کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

  • قومی اسمبلی میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور،حکومت کا کشمیریوں کی بھرپورسفارتی مدد جاری رکھنے کا اعلان

    قومی اسمبلی میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور،حکومت کا کشمیریوں کی بھرپورسفارتی مدد جاری رکھنے کا اعلان

    اسلام آباد:قومی اسمبلی میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور،حکومت کا کشمیریوں کی بھرپورسفارتی مدد جاری رکھنے کا اعلان،اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

    اسلام آباد سے ذرائع کےمطابق آج اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہوئی۔چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے قرارداد پیش کی جس میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

    سردار نصر اللہ دریشک نے کم حاضری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ میری پچاس سالہ سیاسی زندگی کا سب سے اہم ایشو کشمیر ہے، آج قومی اسمبلی کا خالی ایوان ہماری منافقت کا اعلان کررہا ہے، کل تک آرمی ایکٹ،اٹھارہویں ترمیم، تنخواہوں کے معاملہ پر یہ ایوان کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، کاش آج ہم کشمیر پر بھی اسی طرح اکٹھے ہوجائیں۔

    عبدالقادرپٹیل کا کہنا تھا کہ ٹرمپ افغانستان سے بھاگنے کے چکر میں آپ کو کشمیر پر باربار ثالثی کی پیشکش کررہا ہے، ٹرمپ ہمارا مسئلہ کیوں حل کرائے گا، اپنے اندر کے اتحاد کی بجائے ہم باہر سے مدد لینے چلے ہیں، بتائیں اگر لڑیں گے نہیں تو قراردادوں سے مسئلے کا حل ہوجائے گا، سعودی عرب میں کشمیر کی آزادی کیلیئے دعا کیوں نہیں ہوتی، جن کے حکم پر ہم ملائیشیا کانفرنس نہ گئے وہ سعودی عرب میں کشمیر کے لئے دعا تو کرادیا کریں۔ مولانا عبدالشکور نے کہا کہ صرف کشمیر نہیں پورے بھارت کے مسلمان ظلم کا شکار ہیں،عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا چاہئے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی اہم رہنما شیریں مزاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت نے کشمیر پر کچھ نہیں کیا، حکومتی کوششوں سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے متعدد بار کشمیر کے حوالےسے بیانات آئے، سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا، یورپی یونین نے بھارتی اقدامات کی مذمت کی، آزاد کشمیر میں اقوام متحدہ کی امن فورس موجود ہے، ہمیں مقبوضہ کشمیر میں بھی اقوام متحدہ کی امن فورس تعینات کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔

    وفاقی وزیرفواد چوہدری نے کہا کہ جو چائے بھارت کو پلائی تھی اب تک اس کی گرمی محسوس ہوتی ہوگی، آئندہ ایسی کوئی حرکت کی تو پھر مزہ چکھائیں گے، وہ جنگ چاہتے ہیں تو ہمیں لڑنا بھی آتا ہے اور امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم امن چاہتے ہیں لیکن عزت کا سودا نہیں کریں گے۔ علی گوہر نے کہا کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے جسے آزاد کرا کے رہیں گے۔