Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر 2019 بھی شہادتوں اورقربانیوں میں گزرگیا،بھارتی فوج کے مظالم جاری 210 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر 2019 بھی شہادتوں اورقربانیوں میں گزرگیا،بھارتی فوج کے مظالم جاری 210 کشمیری شہید

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر 2019 بھی شہادتوں اورقربانیوں میں گزرگیا،بھارتی فوج کے مظالم جاری 210 کشمیری شہید.اطلاعات کےمطابق سال 2019 حریت کانفرنس نے بھارتی مظالم کے اعدادوشمار سامنے لے آئی۔

    کشمیری رہنما عبدالحمید لون کی طرف سے جاری تفصیلات کےمطابق سال 2019 میں بھارتی قابض افواج نے خواتین اور کم عمر بچوں سمیت 210 کشمیریوں کو شہید کردیا 2019 میں بھارتی قابض افواج نے 15 خواتین کو بیواہ کیا ۔اور لگ بھگ 70 خواتین کی بے حرمتی کی گی ۔64 بچوں کو یتیم کیا گیا ۔

    بھارتی فوج کی طرف سے مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور اس سال بھارتی فوج نے 2500 شہریوں کو بھارتی فوج نے وحشیانہ تشدد سے زخمی اور اپاہج کیا جبکہ 850 کشمیریوں کو پلیٹ گن کا نشانہ بناکر زخمی کیا گیا۔جن میں 150 افراد ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہوئے ہیں ۔یہ بھی بتایا گیاہے کہ 250 مکانات تباہ کئے گئے۔1100 گاڑیوں، موٹر سائیکل اور رکشوں کو بھارتی فوج نے تباہ کیا۔

    سال 2019 میں 1005 مظاہرے کئے گئے ہیں ۔سال 2019 میں عاشورہ، عیدامیلادنبی سمیت کئ مذہبی تقریبات کو بھارتی فوج نے منانے نہیں دیا اور جامع مسجد سری نگر سمیت کئی مساجد میں 19 مرتبہ نماز جمعہ ادا نہیں کرنے دی گئی ۔سال 2019 میں انٹرنیٹ کی بندش اور سخت پابندیوں نے کشمیریوں کو سالہاسال پیچھے دھکیل دیا گیا .سال 2019 میں 5 اگست کے بعد 120 مقامی اخبارات اور رسالوں کی بندش سمیت پاکستان، ایران، ترکی اور ملیشیا کی ٹیلیویژن نشریات کو مکمل بند کیا گیا ۔

  • مقبوضہ کشمیرکی بھارتی انتظامیہ نے 5   ہم نوا  ممبران اسمبلی کورہا کردیا

    مقبوضہ کشمیرکی بھارتی انتظامیہ نے 5 ہم نوا ممبران اسمبلی کورہا کردیا

    نئی دہلی:مقبوضہ کشمیرکی بھارتی انتظامیہ نے 5 ہم نواممبران اسمبلی کورہا کردیا،اطلاعات کےمطابق جموں کشمیر کے 5 پہلے ممبران اسمبلی کو رہا کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ اگست مہینہ میں آرٹیکل370کی منسوخی کے بعد سے یہ لیڈر حراست میں تھے۔ان کے بارے میں یہ معلوم ہوا ہےکہ بھارت نے ان کو کچھ مراعات دے کرخاموش رہنے کے معاہدے پررہا کیا ہے

    ذرائع کےمطابق جن کشمیری رہنماوں کوابھی تک رہا نہیں کیا گیا ان میں سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ اب بھی حراست میں ہیں۔ رہا شدہ رہنماوں میں دو لیڈر پی ڈی پی کے، دو نیشنل کانفرنس کے اور ایک آزاد امیدوارہیں ، جن کےنام یہ ہیں‌ اشفاق جبر،غلام نبی بھٹ ، بشیر میر ، ظہور میر اور یاسر ریشی ۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے اتوار کو پی ڈی پی نے جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماوں کی رہائی کی اپنی درخواست دہرائی تھی۔ ساتھ میں پارٹی نے کہا تھا کہ اس علاقہ میں موجودہ صورتحال جمہوری فکر کو زک پہنچارہی ہے یہ سراسر آمریت پر مبنی عمل ہے ۔

    پارٹی نے کہا کہ موجودہ صورتحال ایمرجنسی کے دنوں کی یادوں کو تازہ کر تی ہے۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے جنرل سکریٹری اور ایم ایل سی کے سابق رکن سریندر چودھری نے کہا کہ امن قائم کرنے کے لئے، حکومت کو موجودہ صورتحال پر غور کرنا چاہئے جو بہت سنگین اور تشویشناک ہیں۔ یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جموں کشمیر کے حراست میں رکھے گئے سیاسی رہنماوں کو رہا کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    اجلاس میں جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعلی مفتی محمد سعید کی چوتھی برسی منانے کے لئے کئے جا رہے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چودھری نے حکومت سے جموں کے ساتھ ساتھ کشمیر کے بھی کسانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کی گزارش کی، جنہیں اس موسم سرما کے آغاز میں شدید برف باری اورکثیر بارش کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانے پڑے ہیں ۔

  • جموں و کشمیر بھارت کا  کشمیریوں پراحسان؟ پانچ  ماہ  بعد ایس ایم سروس جزوی بحال

    جموں و کشمیر بھارت کا کشمیریوں پراحسان؟ پانچ ماہ بعد ایس ایم سروس جزوی بحال

    سری نگر: جموں کشمیربھارت کا کشمیریوں پراحسان؟پانچ ماہ بعد ایس ایم سروس جزوی بحال کرنے کااعلان کیاہے،لیکن دوسری طرف پتہ چلا ہےکہ بھارتی انتظامیہ جھوٹ سے کام لے رہی ہے اورچند مقامات پرجزوی طورپربحال کرنے کے بعد بار بار اس میں تعطل پیدا کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق سری نگرمیں نئی بھارتی انتظامیہ کی طرف سے کشمیریوں کےلیے ایس ایم سروس بحال کرنے کا جواعلان کیا ہے اس اعلان کے جواب میں کشمیریوں نے اسی وقت یہ واضح کردیا تھا کہ بھارتی انتظامیہ جھوٹ سے کام لے رہی ہے بعض علاقوں میں جوجزوی سروس بحال کی گئی ہے وہ بھی باربارمعطل کی جارہی ہے، جبکہ پوری وادی میں انٹرنیٹ ابھی تک غیرفعال ہے،

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ بھارت کی طرف سے 5 اگست کوکشمیرکوہتھیانے کے بعد سے لیکراب تک نظام زندگی بالکل مفلوج ہے ،انٹرنیٹ سروس کے ساتھ ساتھ موبائل سروس بھی بند ہے اوربعض علاقوں میں تولوگوں کے گھروں پرچھاپے مارکریہ چیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ عوام کے پاس کون کون سے موبائل ہیں ، سمیں کس کمپنی اورکے نام پر ہیں

  • یومِ شہدائے کشمیر: اب بھارتی کشمیر میں تعطیل نہیں ہوا کرے گی،نئی بھارتی انتظامیہ کا فیصلہ

    یومِ شہدائے کشمیر: اب بھارتی کشمیر میں تعطیل نہیں ہوا کرے گی،نئی بھارتی انتظامیہ کا فیصلہ

    سری نگر: یومِ شہدائے کشمیر: اب بھارتی کشمیر میں تعطیل نہیں ہوا کرے گی،اطلاعات کے مطابق کشمیر کی انتظامیہ نے ایک اور متنازعہ فیصلے کے تحت شہدائے کشمیر کی یاد میں 13 جولائی کو منائی جانے والی سرکاری تعطیل ختم کر دی ہے۔

    جموں و کشمیر حکومت نے سال 2020ء کے لیے جو کیلنڈر جاری کیا ہے اُس میں 5 دسمبر کو کشمیری لیڈر شیخ محمد عبد اللہ کے یومِ پیدائش کی چھٹی کو بھی منسوخ کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، 26 اکتوبر کو ‘یومِ الحاق’ کے موقعے پر سرکاری تعطیل منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ 1947ء میں اس دن ریاست کے مطلق العنان ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ مشروط الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔ شیخ عبداللہ نے مہاراجہ کے اس فیصلے کی تائید و حمایت کی تھی۔

    تاہم، حکومت نے ریاست کے جموں خطے کی مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے اس مطالبے کو نہیں مانا کہ 23 ستمبر کو، جو مہاراجہ ہری سنگھ کا یومِ پیدائش ہے، عام تعطیل کا اعلان کیا جائے۔ بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ہم خیال تنظیمیں اس مطالبے کی تائید کرتیآئی ہیں۔ ڈوگرہ مہاراجوں کا تعلق جموں سے تھا جموں و کشمیر کے سرمائی صدر مقام جموں میں ‘نیگوشیبل انسٹرومینٹ ایکٹ 1881’ کے تحت کیلنڈر 2020ء کے لیے سرکاری تعطیلات کی جو فہرست جاری کی گئی ہے اس میں سب سے پہلے 13 جولائی کی تعطیل ختم کر دی گئی ہے۔

    یومِ شہدائے کشمیر کب اور کیوں منایا جاتا ہے؟13 جولائی 1931ء کو مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج نے سری نگر کی مرکزی جیل کے باہر نہتے کشمیریوں پر گولی چلائی تھی، جس کے نتیجے میں 22 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ یہ لوگ ایک غیر مقامی شخص عبدالقدیر خان پر بغاوت کے الزام میں چلائے جانے والے ‘ان کیمرہ’ مقدمے کے سلسلے میں جیل کے باہر جمع ہوئے تھے۔

    عبدالقدیر نے جو کشمیر کی سیاحت پر آئے ہوئے ایک برطانوی شہری کے ساتھ خانساماں کے طور پر سرینگر آیا ہوا تھا شہر کی خانقاہِ معلیٰ میں منعقدہ جمعے کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کو مہاراجہ کی حکومت کے “ظلم و جبر” کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کے لیے کہا تھا اور مہاراجہ کے محل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی ہر اینٹھ کو اکھاڑ کر اسے زمین بوس کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

    سرینگر کی مرکزی جیل کے باہر پیش آنے والے خونریزی کے واقعے کے پس منظر میں 13 جولائی کو یومِ شہدائے کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس دن کشمیر کے دونوں حصوں میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور یہ عام تعطیل کا دن بھی ہے۔ ریاست کے باہر بھی، بالخصوص پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں اس دن کو بڑے احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

    جموں و کشمیر کو آئینِ ہند کی دفعہ 370 کے تحت حاصل خصوصی پوزیشن کے خاتمے اور ریاست کو براہِ راست نئی دہلی کے کنٹرول والے علاقے بنانے کے 5 اگست کے فیصلے پر اس سال 31 اکتوبر سے باضابطہ عملدرآمد ہونے سے پہلے ریاست کا اپنا آئین اور پرچم تھے۔ اس پرچم کا رنگ سرخ تھا جو 13 جولائی 1931 کے شہدا کے خون کی عکاسی کرتا تھا۔ تاہم، بعد میں اسے مزدوروں اور محنت کشوں کی ترجمانی کی علامت کے طور پر بھی تسلیم کیا گیا۔

    13 جولائی کی چھٹی کو منسوخ کرنے کے فیصلے پر کشمیریوں نے شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ان کی تاریخ کو مسخ کرنے اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی ایک اور دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔ سرینگر کے ایک شہری عبد المجید بانڈے نے بتایا “5 اگست کو بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کی نیم آئینی خود مختاری کو اس کے عوام کی مرضی کے خلاف ختم کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے بنا دیا۔ تازہ فیصلہ اس زخم پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ وہ کشمیری مسلمانوں کو پشت بہ دیوار کر رہے ہیں”۔

    سرکردہ مورخ اور مصنف ڈاکٹر عبد الاحد نے کہا “تاریخ کے تمام جائز اور قابلِ قبول اصولوں، نکتہ ہائے نظر اور حقائق کے تحت سرینگر کی مرکزی جیل کے باہر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے وہ لوگ شہدا کے طور پر یاد کیے جانے کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایک مطلق العنان حکمران اور اس کی جابر و ظالم انتظامیہ کے خلاف اپنی آواز اُٹھائی تھی”

  • مقبوضہ کشمیر:جموں میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن، کشمیری پریشان

    مقبوضہ کشمیر:جموں میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن، کشمیری پریشان

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:جموں میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن،کشمیری پریشان ، بھارتی فورسز نے جموں میں رامبن کے علاقے بٹوٹ مارکیٹ میں ایک کارڈن اور سرچ آپریشن شروع کیا ہے جو آخری اطلاعات آنے تک جاری تھا۔

    بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع جموں میں ہائی وے پر بٹوٹ ڈوڈہ کے علاقے میں ایک گاڑی پر فائرنگ بھی کی۔
    جموں سے ساوتھ ایشین وائر کے نمائندے شبیر حسین کے مطابق فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر کے رمبن ، ڈوڈا اور گاندربل کے علاقوں میں پرتشدد محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کو جاری رکھاہوا

    یاد رہےکہ یہ اس ہفتے میں تیسری بار آپریشن ہورہا ہے جس کی وجہ سے کشمیری بہت زیادہ پریشان ہیں اورسخت سردی میں ان کو گھروں سے نکال کرکھلے میدان میں بڑی بڑی دیر رکھا جاتا ہے

  • صحافت کے لئےایک پریشان کن خاموشی ،مقبوضہ کشمیر میں صحافت کا گلا گھونٹ دیا گیا

    صحافت کے لئےایک پریشان کن خاموشی ،مقبوضہ کشمیر میں صحافت کا گلا گھونٹ دیا گیا

    سری نگر:صحافت کے لئےایک پریشان کن خاموشی ،مقبوضہ کشمیر میں صحافت کا گلا گھونٹ دیا گیا،تفصیلات کےمطابق5 اگست کو بی جے پی کی حکومت نے آرٹیکل 370 کو کالعدم قرار دینے اور ریاست کو دو مرکز علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد ، موبائل اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ سمیت ٹیلیفون سروسزبالکل معطل ہیں ،

    اس خطے میں مواصلات کا مکمل لاک ڈاؤن کر دیا۔اگرچہ 14 اکتوبر کو دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد پوسٹ پیڈ موبائل نیٹ ورک پر پابندی ختم کردی گئی ، لیکن پری پیڈ فون ، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ سروسز تقریباًپانچ ماہ سے زیادہ عرصے سے بند ہیں۔

    مواصلاتی بلیک آوٹ نے کشمیر میں اطلاعات کی فراہمی اور آزاد صحافت کا گلا گھونٹ دیا۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد عائد پابندیوں کے ابتدائی ہفتوں میں ، مقامی اخبارات کی اشاعت کو کئی دنوں تک معطل کرنا پڑا۔

    12 اگست سے کئی دن تک کشمیر میں کوئی انگریزی اور اردو روزنامہ شائع نہیں ہوسکا۔ تمام نمایاں مقامی روزناموں نے بمشکل چار سے آٹھ صفحات کے ساتھ ، کم کاپیاں شائع کرنا شروع کردیں۔

    متاز مقامی انگریزی روزناموں میں شائع مواد سے سینسر شپ اور پریس پر حکومتی دباوکا اندازہ ہوتا ہے۔ کشمیر کے سب سے کثیر الاشاعت روزنامے گریٹر کشمیر نے 5 اگست کے بعد مہینوں تک کشمیر کی صورتحال پر اداریے کی اشاعت سے گریز کیا ۔

    اس کے علاوہ معروف صحافیوں کے مضامین ، کالموں اور اداریوں میں مواصلات کی بندش اور انسانیت سوز بحران پر بالکل بھی کچھ نہیں لکھا گیا۔ القمرآن لائن کے مطابق ہزاروں مقامی نوجوانوں کی گرفتاری ، جنوبی کشمیر میں نوجوانوں پر تشدد اور معذور ہونے کے بارے میں کوئی خبریں شائع نہیں کی گئیں۔

    یک ممتاز مقامی روزنامہ کے ایڈیٹر نے کہا کہ ان مقامی صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے 5 اگست کے بعد کشمیر پر سرکاری موقف اور حکومتی لائن پر چلنے سے انکار کر دیا۔اخبار ٹیلیگراف کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایک سینئر پولیس افسر نے اگست میں کشمیر کی صورتحال کے بارے میں ایک تصویری مضمون شائع ہونے کے بعد اخبارکے دفتر میں جاکر مدیران کی سخت سرزنش کی جس کے بعد انگریزی کے کسی بھی روزنامے میں ایسا کوئی مضمون شائع نہیں ہوا۔

    5 اگست سے وادی میں انٹرنیٹ سروسز بند ہونے کے بعد زیادہ تر مقامی روزناموں کے آن لائن ایڈیشن تین ماہ سے زیادہ عرصے تک معطل رہے۔ صرف ایک مقامی روزنامے کشمیر مانیٹر نے کشمیر کے باہر سے اپنے ویب ایڈیشن کو اپڈیٹ کیا۔

    بعدازاں ، حکومت نے محکمہ اطلاعات کے ذریعہ سری نگر کے ایک ہوٹل میں قائم ایک عارضی میڈیا سنٹر میں انٹرنیٹ کی محدود سہولت فراہم کی۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق اس کے بعد میڈیا سنٹر کو انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے دو چھوٹے کمروں میں منتقل کردیا گیا جہاں سیکڑوں صحافیوں کو چند منٹ کی انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ ایک اور مقامی صحافی نے بتایا کہ ان جیسے کتنے ہی لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے اور سٹوریز فائل کرنے کے لئے نئی دہلی جاناپڑتا تھا۔

    پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ نمائندوں کی دن بھر کی تیار کردہ خبروں، تجزیوں، تبصروں اور رپورٹوں کی پہلے ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں کی جانب سے باضابطہ طور جانچ پڑتال کی جاتی ہے کہ خبر کس نوعیت کی ہے، اس میں کیا لکھا گیا ہے۔ ویڈیو یا بائٹ کس طرح کی ریکارڈ کی گئی ہے۔القمرآن لائن کے مطابق اس وجہ سے اب جنوبی کشمیر میں کام کر رہے مختلف میڈیا اداروں سے منسلک نمائندگان کو روزانہ اسی طرح کے طرز عمل سے گزر کر ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں حکام ھمکیوں کا بھی سہارا لیتے ہیں۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق 14 اگست کی رات ، گریٹر کشمیر کے ایک رپورٹر ، عرفان ملک کو پولیس نے جنوبی کشمیر کے ترال ضلع میں اپنے گھر سے اٹھایا اور ایک مقامی پولیس اسٹیشن میں بند کردیا۔ جنہیں احتجاج کے بعد ، اسے 17 اگست کو رہا کردیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

    کشمیر میں 5 اگست سے پہلے ہی میڈیا پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں شروع کی گئی تھی۔ ساؤتھ ایشین وائر نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے)نے چند ماہ قبل انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر کے پرنٹر اور پبلشر رشید مخدومی کو دلی طلب کیا اور ان سے کئی روز تک تفتیش کی۔ اسکے بعد اسی اخبار کے مدیر فیاض کلو کو بھی ایسے ہی مراحل سے گزارا گیا۔

    گریٹر کشمیر کے مدیران کی دہلی طلبی کے بعد ایک اور انگریزی روزنامہ کشمیر ریڈر کے مالک و مدیر حاجی حیات محمد بٹ کو این آئی اے ہیڈکوارٹر طلب کیا گیا۔اردو روزنامہ آفاق کے مدیر غلام جیلانی قادری کو بھی پولیس نے ایک چھاپے میں انکی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ قادری کو تیس برس پرانے کیس میں وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔ ایک اور کشمیری صحافی ، آصف سلطان اگست 2018 سے نظربند ہیں۔ انہوں نے عسکریت پسند کمانڈر برہان وانی پر ایک مقامی میگزین کے لئے ایک سٹوری لکھی تھی ۔

    انٹلیجنس ایجنسیوں اور پولیس نے متعدد دیگر صحافیوں کو 5 اگست کے بعد فائل شدہ رپورٹس کے سورسزکے بارے میں طلب کرکے ان سے پوچھ گچھ کی جس سے مقامی رپورٹرز اور ایڈیٹرز میں خوف کی فضا پیدا ہوگئی ۔

    دو تنظیموں نیٹ ورک آف وومین ان میڈیا ، انڈیا اور فری سپیچ کولیکٹو(ایف ایس سی) نے4 ستمبر "کشمیر کی انفارمیشن ناکہ بندی” کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ان تنظیموں کی دو رکنی ٹیم نے کشمیر میں میڈیا پر مواصلاتی کریک ڈاون کے اثرات کے تعین کے لئے پانچ دن (30 اگست سے 3 ستمبر تک )کشمیر میں گزارے۔ اس ٹیم نے سری نگر اور جنوبی کشمیر میں 70 سے زیادہ صحافیوں ، نمائندوں اور اخبارات اور نیوز ویب سائٹوں کے ایڈیٹرز سے بات کی ، جس میں مقامی انتظامیہ کے ممبران اور شہری بھی شامل تھے۔

    رپورٹ کے مطابق کشمیر میں میڈیا کی ایک مایوس کن اور مایوس کن تصویر سامنے آئی ۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ٹیم نے کی نگرانی ، غیر رسمی تفتیش اور حتیٰ کہ ان صحافیوں کی گرفتاری کا مشاہدہ کیا جو ایسی خبریں شائع کرتے ہیں جو حکومت یا سیکیورٹی فورسز کے لئے منفی سمجھی جاتی ہیں ۔

    اخبار کی اشاعت کے لئے دستیاب سہولیات اور سرکاری اشتہارات کو ختم کر دیاگیا، اسپتالوں سمیت منتخب علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندی لگا دی گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق ، "ایک پریشان کن خاموشی ہے جو اظہار رائے کی آزادی اور میڈیا کی آزادی کے لئے زہر قاتل ہے۔”

  • کشمیر کے روایتی لباس ‘فرن’کو امریکہ پہنچانے والی سعدیہ مفتی کے عزم اورہمت کوسلام

    کشمیر کے روایتی لباس ‘فرن’کو امریکہ پہنچانے والی سعدیہ مفتی کے عزم اورہمت کوسلام

    سرینگر:کشمیر کے روایتی لباس ‘فرن’کو امریکہ پہنچانے والی سعدیہ مفتی کے عزم اورہمت کوسلام،تفصیلات کے مطابق24 سالہ کشمیری فیشن ڈیزائنر سعدیہ مفتی نے روایتی کشمیری لباس ‘فرن ‘ کو عالمی سطح پر شناخت دینے کا ارادہ کیا ہے۔

    فرن کشمیر کی ثقافت کی ایک اہم علامت ہے جس کا زیادہ تر استعمال سردیوں کے موسم میں کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا لباس ہے جو انسانی بدن کو گردن سے ٹخنوں تک ڈھانپتا ہے۔ القمرآن لائن کے مطابق کشمیر میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں فرن کا استعمال کثریت سے کرتی ہیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ اول اس کو ایک مہذب اور شرم و حیا کا لباس سمجھا جاتا ہے۔ دوم اس کے پہننے کے بعد عورتوں کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔

    سعدیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک تجربے کے طور پر اپنے ڈیزائن کئے ہوئے روایتی کشمیری فرن کو ای کامرس ویب سائٹ ‘کشمیر باکس ڈاٹ کام’ پر فروخت کے لئے رکھااور انہیں اس وقت بے انتہا مسرت ہوئی جب انہیں باضابطہ طور پر ملک اور بیرون ملک سے آڈرز موصول ہونے لگے۔

    ذرائع کے مطابق سعدیہ کہتی ہیں ‘جب مجھے امریکہ سے روایتی کشمیری فرن کا پہلا آڈر موصول ہوا تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔ اور میری خوشی اس وقت دوگناہوگئی جب فرن ملنے پر اسی امریکی خاتون نے مزید دو فرن کے لئے آڈر بک کیا۔

    نوجوان فیشن ڈیزائنر سعدیہ نے ایک سال ایک ماہ قبل سری نگر کے مصروف ترین تجارتی مرکز جہانگیر چوک کے نزدیک واقع شاپنگ کمپلیکس ‘سارا سٹی سنٹر’ میں ‘ہینگرز ۔۔۔دی کلوزیسٹ'(Hangers The Closet)کے نام سے خواتین کے ملبوسات کا ایک اسٹور کھول کر کاروباری زندگی میں قدم رکھا ،ساوتھ ایشین وائرکے مطابق ان کا کہنا ہے ‘میں چاہتی ہوں کہ میرے اسٹور کے بنائے ہوئے کشمیری فرن کو بین الاقوامی سطح پر شناخت ملے ۔

    میرا کشمیری فرن کو دنیا تک پہنچانے کا مقصد محض پیسہ کمانا نہیں ہے ۔ جو فرن میں آن لائن فروخت کرتی ہوں ان میں منافع کی شرح میں نے بہت ہی کم رکھی ہے۔ کشمیری فرن ایک خوبصورت اور دلکش لباس ہے جس کو کشمیری شال کی طرح بین الاقوامی سطح پر فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

    سعدیہ کہتی ہیں کہ ان کے اسٹور میں فی الوقت چار افراد سعدیہ کا ہاتھ بٹاتے ہیں، جن میں دو لڑکیاں کڑھائی کے کام کے ساتھ وابستہ ہیں جبکہ ایک مرد درزی ہے۔اپنے ملبوسات کے کولیکشن میں روایتی کشمیری فرن کو شامل کرنے کے تجربے کے بارے میں وہ کہتی ہیں ‘سال 2015 کے اواخر میں سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی میں نے تجربے کے طور پر اپنے اسٹور میں تقریبا 60 کشمیری روایتی فرن رکھے اور میرا تجربہ کامیاب ثابت ہوا۔

    ان میں سے تقریبا 90 فیصد فروخت ہوگئے ۔ یہ سب میں نے خود ڈیزائن کئے تھے۔ اِن پر کڑھائی، دبکہ اور تلہ کا خوبصورت کام ہوا تھا۔اور ان کو میں نے مخصوص کشمیری اور ویسٹرن ٹچ دیا تھا۔فرن کی آن لائن سیل میرا دوسرا تجربہ تھا جس کی کامیابی نے مجھے بے انتہا خوش کردیا۔

    سعدیہ مفتی نے گورنمنٹ وومنز کالج سری نگر سے گریجویشن کی ہے اور فی الوقت اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی کے فاصلاتی نظام تعلیم کے ذریعے انٹرنیشنل بزنس میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک فیشن ڈیزائنر بننے کے لئے کسی مخصوص ڈگری کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک تخلیقی سوچ انسان کو فیشن ڈیزائنر بناتی ہے۔

    سعدیہ مفتی کہتے ہیں کہ اس نے اپنے ملبوسات کے اسٹور کے نام ‘ہینگرز ۔۔۔دی کلوزیسٹ'(Hangers The Closet) کے بارے میں بتایا کہ میں چاہتی ہوں کہ میرے ڈیزائنز ہر ایک عورت کی الماری میں موجود ہینگرز پر آویزاں رہیں

  • پاکستان نے دہشتگردوں کوشکست دی،امریکہ افغانستان میں پاکستان کے بغیرکامیاب نہیں ہوسکتا

    پاکستان نے دہشتگردوں کوشکست دی،امریکہ افغانستان میں پاکستان کے بغیرکامیاب نہیں ہوسکتا

    لاہور: ’امریکہ افغانستان میں امن چاہتا ہے تو اسے ہماری بات سننا چاہئے‘گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ ہم نے دہشت گردی کو شکست دی ہے، امریکہ افغانستان میں امن چاہتا ہے تو اسے ہماری بات سننا چاہئے۔

    تفصیلات کے مطابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری فوج اور قوم کی گراں قدر خدمات ہیں۔گورنر پنجاب نے کہا کہ سی پیک میں شامل پنجاب کے منصوبے نہایت اہم ہیں، سی پیک کے منصوبے پنجاب سے کہیں زیادہ ہیں، جس میں گوادر پورٹ نہایت اہم ہے۔

    چوہدری محمد سرور نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ امن چاہتا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ جنگ کبھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ بھارت جان لے کسی بھی در اندازی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ پاکستانی عوام اور افواج ملک کے تقدس کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔

    گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں، مودی کے ہوتے ہوئے امن کی توقع نہیں ہے۔ فاشسٹ آدمی کبھی امن کی بات نہیں کرتا۔ بھارت کی ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ دہشت گردانہ ذہن کی عکاس ہے، مختلف ہتھکنڈوں سے بھارت خطے کے امن کو داؤ پر لگانا چاہتا ہے۔

  • کشمیری مسلمان کواحتجاج مہنگا پڑا،عرب امارات نےجیل میں ڈال دیا،صدرآزادکشمیرکے نام ماں کا خط

    کشمیری مسلمان کواحتجاج مہنگا پڑا،عرب امارات نےجیل میں ڈال دیا،صدرآزادکشمیرکے نام ماں کا خط

    دبئی:کشمیریوں پرمظالم،کشمیری مسلمان کواحتجاج مہنگا پڑا،عرب امارات نےجیل میں ڈال دیا،اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ایک کشمیری پردیسی کوکشمیریوں پرہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرنے پرجیل میں ڈال کرانسانی حقوق کی پامالی کردی

    باغی ٹی وی کے مطابق عمران اکبرولد سید اکبرتحصیل تھوراڑضلع پونچھ کے رہائشی عرصہ دس سال سے عرب امارات میں محنت مزدوری کی غرض سے کام کررہے ہیں. اطلاعات کے مطابق چند ماہ قبل جب عرب امارت کی حکومت نے بھارتی وزیراعظم نریندرامودی کوکشمیری مسلمانوں پرمظالم اوران کے قتل عام کے باوجود اعلیٰ اعزاز سے نواز تو عمران اکبر نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیریوں کے زخموں پرنمک چھڑکنے کے مترادف ہے ،

    ذرائع کے مطابق اس دوران متحدہ عرب امارات کی حکومت نے عمران اکبرکوگرفتارکرکے وسبا جیل کی اندھیر کوٹھڑی میں بند کردیا جس کا کئی ماہ تک پتہ ہی نہیں چل سکا.ذرائع کے مطابق بڑی تگ ودو کے بعد جب پتا چلا کہ عرب امارات کی حکومت نے انہیں مودی کے خلاف احتجاج کرنے پرگرفتارکیا ہے،اطلاعات کے مطابق عرب امارات کی حکومت نے اس کی رہائی سے انکار کردیا،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عمران اکبر کے خلاف مقدمہ 6129 کے تحت درج کیا ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق عمران اکبر کے والدہ نے صدر آزاد کشمیرسردار مسعود احمد خان کے حضوردرخواست کی ہےکہ برائے مہربانی کرکے اس کی رہائی کروائی جائے ،یہ بھی معلوم ہے کہ عرب امارات نے عمران اکبرسے ملاقات کے سلسلے میں تعاون کرنے سے انکار کردیا ہے

  • کشمیر کے مسئلے پرحکمرانوں کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ ملک علی حسن

    کشمیر کے مسئلے پرحکمرانوں کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ ملک علی حسن

    گوجرانوالہ:کشمیر کے مسئلے پرحکمرانوں کی خاموشی مجرمانہ ہے،اطلاعات کے مطابق رہنما کشمیر یوتھ الائینس ملک علی حسن نے کہا ہے کہ کشمیروں کے خون سے غداری کا حساب ہمارے حکمرانوں کو دینا ہو گا۔ کشمیر کی صورتحال کی ذمہ دار تمام جماعتیں ہیں اور وہ کسی کو بھی اس سے بری الذمہ نہیں سمجھتے۔

    ترکی کی پہلی الیکٹرک سمارٹ کار: صدرطیب ایردوان کل افتتاح کریں‌ گے

    رہنما کشمیر یوتھ الائینس ملک علی حسن کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کے سب سے زیادہ ذمہ دار عمران خان اور ان کی ٹیم ہے۔ حکومت کی ناقص پالیسیوں اور کمزور خارجہ پالیسی کے باعث مودی سرکار کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی جرات کر رہی ہے،

    کرسمس کی کوئی پرواہ نہیں،فرانس میں کرسمس مسافرین سرگرداں

    رہنما کشمیر یوتھ الائینس ملک علی حسن نےکہا کہ اس تمام ٹولے کو خون کے ایک ایک قطرے کا حساب دینا ہو گا۔ یوتھ رہنما نے گوجرانوالہ میں کشمیر کے حوالے سے جلد کنونشن منعقد کرنے کا اشارہ دیا۔

    چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے میں 6 فوجی ہلاک