Baaghi TV

Category: خواتین

  • جاپان گورنمنٹ کی طرف سے منڈی بہاؤالدین کے لئے گرانٹ جاری

    جاپان گورنمنٹ کی طرف سے منڈی بہاؤالدین کے لئے گرانٹ جاری

    رپورٹ (کاشف تنویر ) تفصیلات کے مطابق جاپان گورنمنٹ نے ایم پی اے منڈی بہاؤالدین حمیدہ وحیدالدین کی کوششوں کی وجہ سے حنا ڈیولپمنٹ کونسل کے پلیٹ فارم سے منڈی بہاؤالدین کے ترقیاتی کاموں کے لئے 42218 ڈالرز کی گرانٹ کا اعلان کیا ہے.

  • وہ 7 مصروفیات جن سے آپ بچوں کی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کرسکتے ہیں

    وہ 7 مصروفیات جن سے آپ بچوں کی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کرسکتے ہیں

    اس وقت ہم کورونا وائرس جیسے بڑے مسئلے سے دو چار ہیں حکومت پاکستان کا گھروں میں رہنے اور غیر ضروری گھروں سے باہر نہ نکلنے اور سوشل سرگرمیاں بالکل ختم کر دینے کا فیصلہ بالکل بجاہے بچوں کو سکولز وحیرہ سے چھٹیاں ہو چکی ہیں جس پر وہ بہت خوش ہیں نعرے لگا رہے ہیں کہ پڑھنا نہیں پڑے گا امتحان نہیں دینے پڑے لیکن والدین کے لئے یہ ایک بڑا مسئلہ ہے کہ بچوں کے ساتھ یہ وقت کیسے گزاریں یا کیسے مل کر رہ سکتے ہیں اس کے لئے FEEL EDUCATION کے ممبر (فاؤنڈیشن آف ایفیکٹیو ایجوکیشن اینڈ لرننگ) کے ممبر انجنئیر نوید قمر نے مندرجہ ذیل سات ٹپس بتائی ہیں جن پر عمل کر کے آپ بچوں کے ساتھ اچھا وقت گزار سکتے ہیں
    https://www.youtube.com/watch?v=k1a6Z33PWMs&feature=youtu.be
    1: یہ وقت آپ کے لئے بہت سنہری ہے کیونکہ اس میں آپ کو بچوں کے ساتھ مل کر بیٹھنے کھانے اور ان کے خیالات کو جاننے کا موقع مل سکے گا بچوں کے ساتھ مصروفیت کے باعث آنے والا فاصلہ کم کر نے کے لئے بھی یہ سنہری وقت ہے

    2: بچوں کی باتیب سنیں ان کے خیالات جانیں بجائے غصہ کرنے ڈانٹنے اور ان کی حوصلہ شکنی اور ٹوکنے کے ان کی باےوں کو غور سے سنیں اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں

    3: گھر میں بہت سارا میٹریلز ایسا ہوتا ہے جو خراب ہوتا ہے جیسے کمپیوٹر کی ڈسکس موبائل فون ٹیب گھڑی یا ایسا دوسرا بہت سا سامان جو قابل استعامل نہیں ہوتا وہ بچوں کو دیں وہ اسے کھولیں دیکھیں اور تجربے کریں اسے سمجھنے کی کوشش کریں اس طرح سے انہیں بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملے گا

    4: بچوں کی انٹلکچوئل ضرورت کو پورا کرنے کے لئے نہ صرف ان سے سوالات کریں بلکہ ایسی گیمز کھیلیں جن سے بچوں کی ذہنی صلاحیت بڑھجاتی ہے یا ایک ذہنی چیلنج ہو جیسے شطرنج وغیرہ

    5:اپنے بچوں کو رات کو سونے سے پہلے کہانیاں سنائیں جو ہمیں ہمارے بڑے سنایا کرتے تھےان کہانیوں کے ذریعے بچوں میں دانائی دانشمندی پیدا کیا کرتے تھے ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے بچوں کو اپنے بچپن کے واقعے اور کہانیاں سنائیں یا قرآن مجید سے انبیاء کرام کے واقعات شیخ سعدی کی کہانیاں یا استوریز بکس یا تاریخ کی کہانیاں سنائیں روا کی ایک کہانی ضرور بچوں کو سنانی چاہیئے

    : اگر بچے انٹر نیٹ پر بزی رہنا چاہتے ہیں بجائے روکنے کے ہم انہیں گائیڈ کریں کہ کونسی ویبسائٹ اور اچھے یوٹیوب چینلز ان کے لئے بہتر ہیں جیسے سائنس آرٹس اور کورسیرہ کے چینلز جوائن کر لیں یا اپنا یو ٹیوب چینل بنائیں اور اس میں اچھی اچھی ویڈیوز بنا کر لانچ کریں لیکن اس کا ٹائم محدود ہونا چاہیئے اپنے گھروں کی چھتوں دیوراوں پر پودے لگانے کی کوشش کریں کچن گارڈننگ کریں یہ بھی بہت ہی دلچسپ سرگرمی ہے

    7: بچوں سے گھر کے کام کروائیں کیونکہ اکثر بچوں کے کام خراب کرنے کے ڈر سے والدین بچوں کو کچن وغیرہ کے کاموں میں شامل نہیں کرتے جس سے بچے کاموں سے دور ہو جاتے ہیں اور انہیں کام کرنے کی عادت نہیں رہتی اس لئے بچوں کو گھر کے کاموں میں شریک کریں

    یہ تمام سرگرمیاں تعلیم کا حصہ ہیں بچے ان کے ساتھ زیادہ تعلیم یافتہ ہو جاتے ہیں آپ ان مصروفیات سے بچوں کی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کرسکتے ہیں

    آج کل کے تیزی سے بدلتے حالات میں بچوں کی اچھی پرورش والدین کی اہم اور بڑی ذمہ داری

  • گھر میں ہینڈ سینیٹائزر بنانے کا سستا اور آسان طریقہ

    گھر میں ہینڈ سینیٹائزر بنانے کا سستا اور آسان طریقہ

    کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا کردہ صورتحال کی وجہ سے میڈیکل سٹورز اور مارکیٹس میں ہینڈ سینیٹائزر مہنگے داموں فروخت ہومے کی وجہ سے عام انسان کی پہنچ سے دور ہیں ان حالات کے پیش نظر میڈیکل سے منسلک لوگ گھر بنانے کے مخلتلف آسان اور سستے طریقے بتا رہے ہیں جن میں ڈاکٹر نسیم جاوید کا تحریر کردہ ایک نسخہ درج ذیل ہے
    اجزاء:

    اسپرٹ پچاس ملی لیٹر

    ایلو ویرا جیل 10 ملی لیٹر یا دو چمچ یا ایک ملی لیٹر دیٹول سلیوشن

    عرق گلاب یا صندل خوشبو کے لئے حسب ضرورت

    ترکیب:
    50ملی لیٹر اسپرٹ(یہ آپ کو میڈیکل اسٹور سے مل جائے گی۔مجبوری میں ہارڈوئیر شاپ سے بھی لے سکتے ہیں لیکن اس کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی) 10ملی لیٹر (یا دوچمچے) ایلوویرا جیل(کوار گندل کا گُودا)اس اسپرٹ میں مکس کرلیں اور تھوڑا پانی ملا لیں خوشبو کے لئے گلاب/صندل یا کوئی بھی ایسنس ملا سکتے ہیں ایلوویرا نہ ملے تو ایک ملی لیٹر ڈیٹول سلوشن ڈال کر مکس کرلیں
    آپکا سینیٹائزر تیار ہے

  • ہمیشہ خوبصورت اور کم عمر نظر آنے کے لئے چند عادتیں ترک کر دیں

    ہمیشہ خوبصورت اور کم عمر نظر آنے کے لئے چند عادتیں ترک کر دیں

    ہم اپنے اردگرد ایسی خواتین کو دیکھتے ہیں جو 40یا 50سال کی ہونے کے باوجود نہ صرف خوبصورت اور پرکشش نظر آتی ہیں بلکہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ جواں بھی دکھائی دیتی ہیں اس کی بنیادی وجہ ان کی روزمرہ کی عادتیں ہیں

    اس کے برعکس ہم اکثر ایسی خواتین کو دیکھتے ہیں جو 25سال کی ہونے کے باوجود 30یا35برس کی محسوس ہوتی ہیں اس کی وجہ وہ عادتیں ہیں جن سے لاعلمی ہمیں تیزی سے بڑھاپے کی جانب راغب کررہی ہوتی ہیں جواں عمر نظر آنے کے لیے دنیا بھر میں امیر افراد مختلف جتن کرتے ہیں مگر چند عام عادات کو ترک کردینابڑھتی عمر کے اثرات کو ظاہر ہونے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے وہ عادات کونسی ہیں آئیے ان کے بارے میں جانتے ہیں

    ایک وقت میں مختلف کام سرانجام دینا:
    اکثر خواتین کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ایک وقت میں کئی کام کرنا پسند کرتی ہیں اور اس خوبی کو وہ اپنے لیے فخر کی بات سمجھتی ہیں لیکن آپ کی اس عادت کاخمیازہ آپ کے جسم کو ادا کرنا پڑتا ہے بہت زیادہ تناؤ جسمانی خلیات کو نقصان پہنچانے اور عمر کی رفتار بڑھانے کا سبب بنتا ہےاس لیے کوشش کریں کہ آپ ایک وقت میں ایک ہی کام کریں

    خوبصورت بھنویں حسین اور دلکش آنکھوں کی ضامن


    ورزش کرنا :
    روزانہ ورزش کرنے سے عمر کے بڑھتے اثرات کو بھی بآسانی چھپایا جاسکتا ہے لیکن ہم میں سے زیادہ تر افراد ورزش صرف اس وقت کرتے ہیں جب ان کا وزن بڑھ جائےچند ہفتے جم جوائن کرنے سے آپ صرف چند پاؤنڈ وزن میں کمی لاپاتی ہیں تاہم روزانہ ورزش کرنے کا معمول بنالیا جائے تو یہ آپ کا وزن بڑھنے نہیں دے گی ساتھ ہی آپ کو فٹ، چست اورموٹاپے جیسی بیماریوں سے دور رکھے گی

    دوستوں کو وقت نہ دینا:
    ہم اپنی زندگی کی مصروفیات میں اس قدر مگن ہوجاتے ہیں کہ اکثر دوست احباب بہت پیچھے رہ جاتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دوستوں کے ساتھ گزارا گیا وقت جسم پر عمر کے اثرات کی روک تھام کیلئے مددگار ثابت ہوتا ہے وہ خواتین جو صرف مصروفیات کے سبب ذہنی تناؤ کا شکار رہتی ہیں ان پر عمر کے اثرات وقت سے پہلے ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں

    سونے کا انداز:
    عام طور پر اوندھے منہ سونا اکثر افراد کی عادت ہے لیکن آپ کے سونے کا انداز بھی آپ کے چہرے کی رعنائی دور کرنے اور جھریاں پڑنے کا سبب بن سکتا ہے لہذا ہمیشہ خیال رکھیں کہ کبھی اوندھے منہ نہ سو ئیں اور سیدھا لیٹ کر سونے کو اپنی عادت بنائیںچہرے پر تکیے کا دبائو بھی جھریوں کا باعث بن سکتا ہےاس لیے سوتے وقت آرام کیلئے چہرے پر کسی قسم کا تکیہ یا کشن رکھنے سے گریز کریں

    آپ کی جلد کیلئے کون سا ماسک بہتر رہے گا؟


    بیٹھنے کا انداز:
    ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنا بہت ہی زیادہ عام عادت ہے اور اکثر لوگ بیٹھنے کے دوران اس پر توجہ بھی نہیں دیتےلیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے سے ہائی بلڈپریشر، ٹانگوں پر ورم اور دوران خون متاثر ہونے جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں ،اس کے علاوہ جو لوگ آڑے ترچھے انداز میں بیٹھتے ہیں ان کا انداز بھیجسمانی بناوٹ متاثرکرنے ریڑھ کی ہڈی میں درد اور چکنائی میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے

    موئسچرائزر کو نظر انداز کرنا:
    آپ کو اپنی عمر سے بڑا دکھانے والی ایک عادت موئسچرائزنگ کو نظر انداز کرنا بھی ہے ہر انسان کی جلد کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں کہیں کسی کی جلد بے حد آئلی ہوتی ہے تو کسی کی بے حدخشک موئسچرائزنگ کی صورت میں جلد کی نمی کو برقرار رکھا جاسکتا ہے نمی کی کمی جلد کی سطح کو خشک کر دیتی ہے جو جلد پر زائد جھریوں کو نمودار کردیتی ہے لیکن باقاعدگی سے موئسچرائزنگ کرنے سے آپ کی جلدنرم رہتی ہے اور جھریاں بننے کے عمل کو ختم کر دیتی ہے

    زیادہ میٹھا نقصان کا باعث:
    زیادہ میٹھا کھانا وزن میں اضافے کے ساتھ ساتھ آپ کے چہرے کی عمر بڑھا نے، آنکھوں کے نیچے حلقے اور جھریوں کا سبب بن جاتا ہے طبی ماہرین اس بارے میں رائے دیتے ہیں کہ چینی ہمارے خلیات میں رچ بس جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں چہرے سے سرخی غائب ہوجاتی ہے

    اسٹرا کا ستعمال :
    کولڈ ڈرنکس یا کسی بھی قسم کے مشروبات کے لیے گلاس کے بجائے اسٹرا کا استعمال نہیں کرنا چاہئےکیونکہ اس کا استعمال آپ کے چہرے پر لکیریں اور جھریاں پڑنے کاسبب بنتا ہے بیوٹی ایکسپرٹس کی رائے کے مطابق کسی بھی مشروب کا استعمال گلاس سے ہی کیاجانا چاہیے
    https://login.baaghitv.com/unglion-sy-fungus-k-daagh-khatam-karney-k-tareeqy/
    گردن اور ہاتھوں پاؤں پر توجہ بھی ضروری:
    ہم میں سے اکثر خواتین خوبصورت اور کم عمر نظر آنے کے لیےچہرے کی جلد کا تو بے حد خیال رکھتی ہیں لیکن گردن کو بھول جاتی ہیں جس کے نتیجے میںگردن کا رنگ چہرے سے مختلف لگتا ہے اس کی جِلدلچک دارہوجاتی ہے اور جھریاں پڑنے سے آپ پر بڑھاپے کے اثرات نمایاں ہوجاتے ہیں عمر بڑھنے کے ساتھ گردن پر لائنیں زیادہ نمایاں ہونے لگتی ہیں جنہیں اچھے سے اچھا میک اَپ آرٹسٹ بھی نہیں چھپا پاتا اسی لئے چہرے کے ساتھ گردن کو بھی اتنی ہی توجہ دی جائے چہرے پر مساج کے وقت گردن کا مساج بھی ہر گز نہ بھولیں جبکہ اینٹی ایجنگ ماسک چہرے پر لگانے کے ساتھ ساتھ گردن پر بھی اپلائی کیا جائے یہی بات ہاتھوں کیلئے بھی ہے جو خواتین کی شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں لازمی نہیں کہ صرف چہرہ ہی خوبصورت لگے ہاتھ اور پاؤں پر بھی خصوصی توجہ دینی ہوتی ہے لہٰذا مینی کیور اور پیڈی کیور کا بھی خاص خیال رکھا جائے دھوپ میں نکلتے وقت ہاتھ اور پیروں پر بھی سن بلاک لازمی لگائیں

  • جو کے پانی کے چند حیران کن فوائد

    جو کے پانی کے چند حیران کن فوائد

    تاریخ کے ماہرین کے مطابق “جو” پہلا اناج ہے جو انسان نے تقریباً دس ہزار سال پہلے کاشت کرنا شروع کیااور آج “جو” دنیا کی پانچویں بڑی فصل ہے جسے ساری دنیا میں ہی کاشت کیا جاتا ہے اور اتنے بڑے پیمانے پر اس کی کاشت کی وجہ اس اناج کی بے پناہ افادیت ہے حدیث کا علم رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ستو (جو کا پاوڈر) کی افادیت کے متعلق 21 سے زائد احادیث موجود ہیں

    جو کا استعمال بطور خوراک کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے مگر آب جو یعنی جَو کے پانی کے بہترین فوائد کا ذکر درج ذیل ہیں جسے پڑھ کر آپ جان پائیں گے کہ یہ ہماری صحت پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے
    https://login.baaghitv.com/magical-benefits-of-rice-water/
    جو کے پانی کے فوائد:
    جو کا پانی مشروبات کا بادشاہ ہےاور اس میں صحت کے لیے بےشمار فائدے ہیں کیونکہ یہ نیوٹریشنز سے بھرپور ڈرنک ہے خاص طور پر اس میں سلوبل اور نان سلوبل فائبر کی ایک بڑی مقدار کے علاوہ بیشمار منرلز (کیلشیم ، آئرن، مگنیشیم، میگنیز، زنک، کاپر) وغیرہ شامل ہوتے ہیں اور بہت سے وٹامنز کیساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈینٹس اور پائتھو کیمیکلز شامل ہوتے ہیں جو دل کی بیماریوں اور شوگر کی بیماری میں انتہائی مفید ہوتے ہیں
    آئیے جانتے ہیں کہ ہمیں اسے اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ کیوں بنانا چاہیے

    جسم سے فالتو مادوں کا اخراج:
    جو کے پانی کا روزانہ استعمال ہمارے جسم سے فاضل مادوں کو خارج کرنے میں مدد کرتا ہے یہ ہماری آنتوں کی صفائی کرتا ہےجو کے پانی میں ایک خاص قسم کی شوگر (بیٹا گلوکین) شامل ہوتی ہے جوہمارے جسم کے اندرونی نظام کے فاضل مادوں کی صفائی کر دیتی ہے

    پیشاب کی نالی کی انفیکشن ختم کرتا ہے:
    جو کا پانی ایک قدرتی دوائی ہے جو پیشاب کی نالی کی انفیکشن ختم کرنے کے لیے صدیوں سے استعمال ہو رہی ہے طبیب حضرات مریض کو روزانہ جو کے پانی کے کچھ گلاس پلاتے ہیں جب تک انفیکشن ختم نہ ہوجائے اس کے علاوہ طب یونان اور طب ایوردیک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گُردوں کی پتھری کو توڑ کر پیشاب کے راستے خارج کر دیتا ہے
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-green-tea/
    نظام ہضم درست کرتاہے:
    جو کے پانی میں شامل سلوبل اور نان سلوبل فائبر خوراک کو ہضم کرنے اور فُضلے کی مقدار بڑھا کر اُسے خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ڈائریا اور قبض کے مریضوں کے لیے انتہائی مُفید ثابت ہوتی ہے اور الیکٹرولیٹس کا بیلنس ٹھیک کر کے نظام میں موجود انفیکشن کو ختم کرتا ہے

    وزن کم کرتا ہے:
    بڑھے ہوئے وزن کو کم کرنے لیے آب جو اکسیر کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ اس میں دو قسم کی فائبر موجود ہوتی ہے اور یہ فائبر ہمارے معدے کو بھرا رکھتی ہے جس سے ہم بار بار بھوک لگنے کی شکایت سے بچے رہتے ہیں یہ ہمارے جسم کی چربی کو پگھلاتی ہے اور خوراک کو جلد ہضم کرتی ہے
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-water/
    کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کنٹرول کرتا ہے:
    آب جو میں شامل فائبر اور بیٹا گلوکین بڑھے ہوئے کولیسٹرول کو کم کرنے کے علاوہ خوراک سے شوگر کو خون میں تیزی سے شامل ہونے سے روکتی ہے اور ٹائپ 2 کے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہےآب جو میں ایسے کیمیا شامل ہیں جو ہمارے جسم کے درجہ حرارت کونارمل کرتے ہیں اور ہمارے دل کو مضبوط اور توانا کرتے ہیں

    ڈپریشن ختم کرتا ہے:
    جسم میں غم اور اداسی پیدا کرنے والے ہارمونز کی مقدار بڑھنے کی صورت میں ہم ذہنی تناؤ اور پریشانی جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں آب جو ان بڑھے ہُوئے ہارمونز کو کنٹرول کرتا ہے اور ہماری طبیعت کو خوشگوار بناتا ہے

    جسم میں بیماریوں سے لڑنے کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے:
    اگر ہم جَو کے پانی کو اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں تو آب جو میں شامل قدرتی اینٹی آکسیڈینٹس اور نیوٹریشنز ہمارے جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط کرتے ہیں اور اسے بیماریوں سے لڑنے کی قوت عطا کرتے ہیں اور جراثیموں کو انفیکشن پیدا نہیں کرنے دیتے

    انار کا رس پیٹ کی چربی کم کرنے میں مددگار


    ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتا ہے:
    جو کے پانی میں شامل وٹامنز اورمنرلز خاص طور پر مگینشیم ، فاسفورس، کیلشیم اور کاپر وغیرہ ہماری ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ جو کے جوس میں دودھ سے 11 گنا زیادہ کیلشیم ہوتی ہے جو ہماری ہڈیوں کے لیے انتہائی مُفید ہے

    حاملہ خواتین کے انتہائی مفید :
    جو کے پانی کے طاقتور اجزا حاملہ خواتین کی صحت پر انتہائی اچھے اثرات پیدا کرتے ہیں یہ جہاں خوراک کو جلد ہضم کر دیتا ہے وہاں حاملہ خواتین میں نہار منہ طبیعت کی خرابی پیدا نہیں ہونے دیتا اور ان کا موڈ خوشگوار رکھتا ہے جو کہ ماں اور پیدا ہونے والے بچے دونوں کے لیے ہی انتہائی ضروری ہے

    انیمیا میں انتہائی مفید:
    جسم میں خون کی کمی یعنی انیمیا ایک عام بیماری ہے جو خواتین اور مردوں اور بچوں سب کو متاثر کرتی ہےاور اس بیماری کے پیدا ہونے کی بڑی وجہ جسم میں آئرن اور وٹامن بی کی کمی ہےجو کے پانی میں آئرن اور وٹامن بی 12 کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے اور یہ جہاں خون کی صفائی کرتا ہے وہاں خون کی پیداوار بڑھانے کا باعث بنتا ہے
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-watermelon/
    جلد کے لیے انتہائی مفید :
    جو کے پانی میں شامل زنک ہماری جلد کے زخموں کو جلد بھرنے میں انتہائی کارآمد منرل ہے اور اس میں شامل سلینیم ہماری جلد کی لچک بہتر بناتا ہے اور جلد کو صحت مند اور جوان رکھتا ہے اور چونکہ آب جَو میں اینٹی اینفلامیٹری خوبیاں ہوتی ہیں لہذا اگر اس کے پانی کو چہرے پر لگایا جائے تو یہ جہاں چہرے کے داغ دھبے اور کیل مہاسے ختم کرنے میں مدد کرتا ہے وہاں رنگت کو صاف بناتا ہے اور گورا کرتا ہے

    بالوں کو صحت مند اور لمبا کرتا ہے:
    جو کے پانی میں شامل آئرن اور کاپر جہاں انیمیا کو ٹھیک کرتے ہیں وہاں یہ خون کے سرخ ذرات میں اضافہ کرتے ہیں جس سے بالوں کا گرنا بند ہو جاتا ہے یہ ہمارے جسم میں ایک کیمیا میلانین پیدا کرتا ہے جو بالوں کی اڑی ہوئی رنگت کو ٹھیک کر کے بالوں کا قدرتی رنگ واپس لیکر آتا ہے

    آب جو بنانے کا طریقہ:
    ابن القیوم کے مُطابق جو کی مقدار سے پانچ گنا زیادہ مقدار پانی کی لیکر اس پانی میں جو بگھو دیں اور پھر اسے پکائیں حتی کہ پانی کی مقدار تین گنا رہ جائے اور پھر استعمال کریں فردوس الحکمت میں لکھا ہے کہ جو کی مقدار سے 15 گنا زیادہ پانی ڈالیں اور پھر اس کو پکائیں حتی کے پانی کی مقدار 66.7 فیصد رہ جائے پھر استعمال کریں

    برصغیر پاک و ہند میں استعمال ہونے والا صدیوں پرانا طریقہ:
    جو ¼ کپ لیکر اس میں چار کپ پانی ڈالیں اور اسے جوش آنے تک پکائیں پھر اس میں ایک چٹکی نمک شامل کریں اور دھیمی آنچ پر آدھا گھنٹا پکنے دیں اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد چمچ سے پانی کو ہلائیں اور جو کو دبائیں تاکہ اُس کے تمام اجزا پانی میں شامل ہوجائیں پھر اسے آنچ سے اتار کر چھان کراس میں تھوڑا سا شہد اور لیموں شامل کریں اور ٹھنڈا کر کے پی لیں جو کے پانی میں حسب پسند دارچینی، ادرک، اور زیرہ وغیرہ بھی شامل کرکے اس کی افادیت اور ذائقے میں اضافہ کر سکتے ہیں جو کے پانی کے فائدے حاصل کرنے کے لیے اسے روزانہ استعمال کریں

  • چاولوں کا پانی صحت اور خُوبصورتی کے لئے انتہائی مفید

    چاولوں کا پانی صحت اور خُوبصورتی کے لئے انتہائی مفید

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چاول کی کاشت 2500 قبل مسیح میں چین میں شروع ہوئی اور پھر اس کی کاشت کاری سری لنکا، انڈیا اور پھر یونان کیساتھ ساتھ اسے ساری دُنیا میں ہی پھیل گئی اور اسے خوارک کے لیے کاشت کیا جانے لگا اور آج ہمارا مُلک پاکستان چال کی کاشت کاری میں دنیا کا گیارواں بڑا ملک ہے

    چاول ہمارے دستر خوان کا ایک عام کھانا ہے جو بچوں اور بڑوں سب میں ہی مقبول ہے اسے کئی طریقوں سے پکایا جاتا ہے اور عام طور پر اسے پکانے سے پہلے پانی میں بھگو کر رکھا جاتا ہے اور پکانے سے پہلے اس کا پانی نکال کر پھینک دیا جاتا ہے اور اُسے کوئی اہمیت نہیں دی جاتی

    چاول کے پانی کے صحت اور خُوبصورتی کے متعلق چند زبردست فائدے درج ذیل ہیں جنہیں پڑھ کر آپ پر راز کھلے گا کے چاول کا پانی کبھی بھی پھینکنا نہیں چاہیےکیونکہ یہ ہماری صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے

    مردہ جلد اورجھریوں کے خاتمے کے لئے:
    چاول کا پانی عمر کے بڑھنے کیساتھ چہرے پر پڑنے والے گہرے داغوں کو ختم کرنے کے لیے ایک اکسیر ہے یہ جلد کو سُورج کی شعاعوں سے متاثر ہونے سے بچاتا ہے اور جلد کو ٹائٹ کرکے جلد پر پڑنے والی جھریوں کا خاتمہ کرتا ہے یہ جلد کو ملائم کرنے کیساتھ ساتھ مساموں کا سائز کم کرتا ہے اور چہرے کی رنگت خوبصورت بناتا ہے

    بے داغ اور حسین جلد کے چند اصول


    کیل مہاسوں کے خاتمے کے لئے:
    ہارمونز میں خرابی کی وجہ سے چہرے پر کیل مہاسوں کا نکلنا آج کی ایک عام بیماری ہے جس میں نوجوان بڑی تعداد میں مُبتلا ہوتے ہیں اور پھراس بیماری سے چھٹکارے کے لیے مہنگی ادویات وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں جن میں ایسے کیمکلز بھی استعما ل ہوتے ہیں جو فائد ہ دینے کی بجائے اُلٹا نقصان پہنچاتے ہیں چاول کا پانی کیل مہاسوں کے خاتمے کے لیے ایک قُدرتی دوا ہے جو جلد کے مساموں کو ٹائٹ کر کے کیل مہاسوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسے مہاسوں کے خاتمے کے لیے پہلے فرج میں رکھ کر ٹھنڈا کر لیں اور پھر کسی روئی کیساتھ مہاسوں پر لگائیں بہترین نتائج ملیں گے ورجی یونیورسٹی برسلز میں ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق ایسے افراد جو جلد کی سوزش کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں ان کے لیے چاول کے پانی سے روزانہ دودفعہ نہانا انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے

    بطور فیشل کلینزر:
    چاول کے پانی میں ایسے وٹامنز اور منرلز شامل ہوتے ہیں جو چہرے کے مُردہ سلز کو زندہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور رنگت کو صاف کرنے میں انتہائی مددگار ہوتے ہیں چاول کے پانی سے چہرے کے فیشل کے لیے روئی کو رائس واٹر میں بھگو کر اس سے 2 منٹ تک چہرے کے صفائی کریں اور پھر چہرے کو ہوا سے خُشک ہونے دیں یہ چہرے جلد کو بہترین صفائی دینے کے ساتھ نرم اور ٹون کردے گا

    بالوں کی بہترین نشوونما کے لیے:
    چاولوں کا جڑے ہوئے بالوں کو کھول دیتا ہے اور بالوں کی لچک کو بحال کر کے انہیں خوبصورت شائن دیتا ہے ، بالوں میں شمپو کرنے کے بعد ان میں چاول کا پانی لگائیں یہ جہاں خوبصورت شائن دے گا وہاں بالوں کو تندرست توانا اور لمبا کرنے میں آپ کا مددگار ہوگا انٹرنیشل جنرل آف کاسمیٹک سائنس میں ہونے والی ایک ریسرچ کے نتائج کے مطابق چاول کے پانی سے بال کی جڑوں کی فریکشن کم ہوتی ہےاور یہ سر پر بالوں کو تعداد بڑھاتا ہے

    بالوں میں ہیئر برش کس طرح کرنا چاہیئے؟


    بہترین کنڈیشنر:
    چاول کے پانی میں روز میری یا لیوینڈر یا گُل شمعدانی کا تیل ڈال کر اور اگر یہ تیل میسر نہ ہوں تو سرسوں وغیرہ کا تیل استعمال کر لیں بالوں میں لگائیں اور 10 منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر اسے پانی سے دھو لیں چاولوں میں موجود امائنو ایسڈ جہاں بالوں کو گھنا اور چمکدار بنائیں گے وہاں یہ سر کی جلد کا پی ایچ لیول ٹھیک کریں گے کیونکہ اس میں کوئی کیمیکل اور پرزرویٹیو شامل نہیں ہوتا

  • صحت مند جِلد کے حصول کا دُرست طریقہ کیا ہے؟

    صحت مند جِلد کے حصول کا دُرست طریقہ کیا ہے؟

    اکثرخواتین اپنی جلد کے حوالے سے بہت زیادہ حساس ہوتی ہیں اور اس سلسلے میں دنیا جہاں کے ہر مشورے پر عمل کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خواتین کے پاس موجود کئی ٹوٹکے اور بیوٹی کریمیں یا تو ان کی جِلد کو مزید خراب کردیتی ہیں یا پھر ان کے اثرات محض عارضی ثابت ہوتے ہیں ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر صحت مند جِلد کے حصول کا دُرست طریقہ کیا ہے؟

    ایلفا اور بیٹا ہائیڈروکسی ایسڈز
    اگر جِلد کی سائنس پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ صحت مند جِلد کے لیے دو طرح کے ایسڈز اہم کردار ادا کرتے ہیں ایک ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈز(AHAs) اور دوسرے بِیٹاہائیڈروکسی ایسڈز (BHAs)

    یہ دونوں طرح کے ایسڈز ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود انسانی جلد کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ان میں سے کسی ایک ایسڈ کو دوسرے پر فوقیت نہیں دی جاسکتی کیونکہ یہ جلد کو صحت مند رکھنے کے لیے مختلف ضروریات کو پورا کرتے ہیں

    مارکیٹ میں دستیاب کئی بیوٹی پراڈکٹس کے لیبلز پر آپ کو یہ ایسڈز نظر آئیں گے تاہم کوئی نہیں جانتا کہ یہ ایسڈز جلد کو کس طرح زیادہ صحت مند اور چمکدار بناتے ہیں

    ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈز(AHAs):
    یہ ایسڈزکیمیائی مرکبات کی ایک کلاس ہے جو جلد میں قدرتی طور پر پیدا ہوتے ہیں اور انھیں بیرونی ذرائع سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈزکو ویسے تو کئی ذرائع سے حاصل کیا جاسکتا ہے تاہم انھیں حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ گنا اور دودھ ہے یہ ایسے پودوں سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے جو فروٹ ایسڈز کلاس میں شامل ہیں گنے میں گلائیکولک ایسڈ شامل ہوتا ہے سائنسی لحاظ سے گنے میں موجود ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈزکا مالیکیول سائز سب سے چھوٹا ہوتا ہے اور اسکن کیئر پراڈکٹس میں اس کی یہی قسم سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے چھوٹے مالیکیول سائز کے باعث یہ جلد میں انتہائی انداز میں جذب ہو جاتا ہے

    ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈز کے فوائد:
    یہ جِلد کی بیرونی تہہ ایپی ڈرمس اور گہرائی والی تہہ ڈرمس کے لیےمفید ہیں تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ جلد کے مردہ خلیے اکثر جلد کی بیرونی تہہ پر ٹھہر جاتے ہیں جنھیں ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈزاپنی اکیسفو لیٹیو اثرات کے باعث صاف کردیتے ہیں یہ جلد میں کولاجن کی پیداوار بھی بڑھاتے ہیں جس سے جلد تروتازہ اور جھُریاں دور رہتی ہیں

    بے داغ اور حسین جلد کے چند اصول


    ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈزجلد کی بیرونی تہہ کو ہموار اور رنگت کو صاف رکھتے ہیں جبکہ جلد پر سخت کیمیائی صابن فیس واش اور لوشن وغیرہ کے اثرات کو زائل کرتے ہیں یہ جلدسے جھریوں، گہرے نشانات اور ایکنی کے زخموں کو بھی ختم کرتے ہیں ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈزمیں شامل گلائیکولیک ایسڈ بالخصوص چکنی اور ایکنی والی جِلد پر بہت اثر دکھاتا ہے

    حساس جِلد رکھنے والی شخصیات کی جلد پر ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈزسے جلن کا احساس ہوسکتا ہے اس لیے ایسی شخصیات کو اس کی کم شرح تقریباً4فی صد کے قریب کی حامل مصنوعات کو استعمال کرنا چاہیے ایلفا ہائیڈرو کسی ایسڈزفیس واش، ماسک، سیرم، کریم اورپِیلزمیں موجود ہوتے ہیں

    بِیٹاہائیڈروکسی ایسڈBHAs:
    انھیں سیلائی سیلیک ایسڈ بھی کہا جاتا ہے اور انھیں ایسپرین سے حاصل کیا جاتا ہےسائنس بتاتی ہے کہ بِیٹاہائیڈروکسی ایسڈ نامیاتی (آرگینک) کاربوکسی لیک ایسڈز ہیں اور یہ بِیٹاہائیڈروکسی ایسڈ سے اس لیے مختلف ہیں کیونکہ کاربوکسیل گروپ کی بِیٹا پوزیشن کے ساتھ ایک ہائیڈروکسیل گروپ جڑا ہوا ہے۔ یہ ایک خاصیت اسے بِیٹاہائیڈروکسی ایسڈ سے مختلف بناتی ہے بصورت دیگر دونوں ایسڈز کی بناوٹ ایک جیسی ہے

    آپ کی جلد کیلئے کون سا ماسک بہتر رہے گا؟


    بِیٹاہائیڈروکسی ایسڈ کے فوائد:
    اس کی سب سے عام مثال ایکنی کے خلاف استعمال ہونے والا سیلائی سیلیک ایسڈ ہے۔اس ایسڈ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ چربی اور تیل کو جلد میں جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس لیے یہ چکنی جلد پر بہت مؤثر رہتا ہے سیلائی سیلیک ایسڈاپنی انہی خصوصیات کے باعث اوور دی کاؤنٹرایکنی پراڈکٹس میں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے

    اس میں مساموں میں شامل ہوجانے والے سیبم اور مٹی کو صاف کرنے کی فطری صلاحیت موجود ہے اس طرح یہ مساموں میں پیدا ہونے والے بیکٹیریاز کو بے اثر کرکے جلد پر نشانات نہیں پڑنے دیتا بصورت دیگر یہ بیکٹیریاز آگے چل کر جلد کو خراب کرنے اور قبل از وقت جھریوں کی وجہ بنتے ہیں

    سیلائی سیلیک ایسڈ بیکٹیریا کے خلاف بھی مدافعت پیدا کرتا ہے اور جلد کے سخت پڑجانے والے حصوں کے علاج میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتا ہے۔جن پراڈکٹس میں اس ایسڈ کی شرح زیادہ ہو، وہ مسوں کے علاج میں مفید رہتی ہیں

  • میک اپ برش صاف کرنے کے مختلف طریقے

    میک اپ برش صاف کرنے کے مختلف طریقے

    میک اپ کرنا ایک آرٹ ہے میک اَپ کے لیے رنگوں کا انتخاب اور پھر ان کا استعمال موقع کی مناسبت سے کرنا ضروری ہے گزرے وقتوں میں میک اَپ صرف کاجل، سرمہ، دنداسہ اور پاؤڈر کو ہی سمجھا جاتا تھا یا پھر خواتین گھر کی کچھ اشیا جیسے ملائی، لیموں، دودھ اور اسی قسم کی دیگر قدرتی اشیا کو اپنے حسن وآرائش کیلئے استعمال کرتی تھیں اور سب سے دلچسپ بات تو یہ کہ ان کو بغیر کسی دوسری چیز کی مدد سے انگلیوں اور ہاتھوں سے لگالیا جاتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں میک اَپ کی دنیا میں انقلاب برپا ہوا وہیں میک اپ لگانے کے ٹولز کی بے شماراقسام بھی سامنے آئیں

    خوبصورت بھنویں حسین اور دلکش آنکھوں کی ضامن


    صرف آنکھوں کے میک اپ کے لیے ہی تین سے چار قسم کے برش استعمال ہوتے ہیں اسی طرح بلش آن، لپ اسٹک، فاؤنڈیشن، پرائمر اور بیس وغیرہ کے لیے بھی ایک کے بجائے کئی قسم کے برش استعمال کیے جاتے ہیں لیکن ایک اہم مسئلہ ان برشز اور اشیا کی صفائی کا ہے گھرسے باہرنکلنے سے پہلے میک اپ ٹچ لازمی ہوتا ہے اوروقت کی کمی کے سبب جلد بازی میں میک اپ لگانے کے بعد برش کی صفائی رہ جاتی ہے اس کی وجہ سے جلدی بیکٹیریا، ڈیڈ سیل اور آئل برش میں افزائش پاتے ہیں اورفوراً جلد پراس کے اثرات نظرآجاتے ہیں

    میک اپ برش میں پائے جانے والے بیکٹیریاپہلے دوہفتوں میں ہی تیزی سے افزائش پاتے ہیں یہ بیکٹیریا مساموں کے ذریعے جلد میں داخل ہوکرداغ دھبوں اورایکنی کاسبب بنتے ہیں

    میک اپ برش کسی بھی خاتون کیلئے قیمتی ہتھیار کی مانند ہوتے ہیں کیونکہ انہی کی مدد سے وہ میک اپ کرکے اپنی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں لیکن عام طور پر بیشتر خواتین اپنے میک اپ سیٹ اور میک اپ پراڈکٹس کو تو بہت سنبھال کر رکھتی ہیں مگر میک اپ لگانے والے برشز کو لاپرواہی سے ایک جانب ڈال کر بھول جاتی ہیں اور ان کی صفائی ستھرائی پر دھیان نہیں دیتیں جبکہ میک اپ برشز کو جراثیم سے پاک رکھنے کیلئے ان کی باقاعدگی سے صفائی کرنا بہت ضروری ہے

    بے داغ اور حسین جلد کے چند اصول


    اس طرح نہ صرف آپ کی جلد بیماریوں سے محفوظ رہے گی بلکہ میک اپ برشز بھی کافی عرصے تک چلیں گے جلدی امراض کے ماہرین کی رائے کے مطابق میک اپ برشز کی ہفتہ وار صفائی ضروری ہے لیکن اگر کسی ہفتہ آپ برش دھونا بھول جائیں یا آپ کا خیال ہے کہ جلدی جلدی دھونے سے آپ کے برش خراب ہو سکتے ہیں تو ہر پندرہ دن میں کم از کم ایک بار انہیں ضرور دھوئیں

    آج کل مارکیٹ میں بہت سی اچھی کمپنیوں کے تیار کردہ میک اپ برش کلینرز دستیاب ہیں جو قدرے مہنگے تو ضرور ہیں مگر ان کی کارکردگی یقینا ًبہت اچھی ہے تاہم اگر آپ یہ برش کلینر خریدنا نہیں چاہیں تو گھر میں موجود صابن یا شیمپو سے بھی برش کو دھویا جا سکتا ہے میک اپ برش دھونا زیادہ مشکل کام نہیں تاہم آپ کی سہولت اور رہنمائی کیلئے یہاں میک اپ برش دھونے اور صاف کرنے کا طریقہ مختصراً درج ذیل ہے جس سے آپ کی معلومات میں کچھ نہ کچھ اضافہ ضرور ہوگا

    یوں تو آپ منہ دھونے کے صابن یا عام شیمپو سے بھی میک اپ برشز دھوسکتی ہیں لیکن بے بی شیمپو اس کام کیلئے بہترین ثابت ہوتا ہے فیس پائوڈر اور بلش آن لگانے والے بڑے برشز کو ہمیشہ علیحدہ دھوئیں جبکہ لپ لائن یا آئی شیڈز لگانے والے چھوٹے برشز کو آپ ایک ساتھ بھی دھوسکتی ہیں

    سب سے پہلے تیز دھار پانی سے برش کو دھوئیں پھر ضرورت کے مطابق بے بی شیمپو اس پر لگائیں اگر برش، میک اَپ میں زیادہ لتھڑا ہوا ہے تو شیمپو کے کئی قطرے اس پر ڈالنے ہونگے لیکن اگر یہ زیادہ خراب نہیں تو اس کی صفائی کیلئے ایک ہی قطرہ کافی رہے گا ناب شیمپو کو اچھی طرح برش کے اوپر ملیں اس طرح جھاگ بن جائے گا پھر برش کو دبا کر میک اپ کے ذرات اس میں سے نکالیں

    بالوں میں ہیئر برش کس طرح کرنا چاہیئے؟


    جھاگ کے ساتھ میک اپ کی باقیات بھی باہر نکل جائیں گی اگر برش بالکل صاف ہوگیا ہے تو اسے پانی سے اچھی طرح دھولیں برش دھونے کے بعد اس کے ریشو ں کو دبا کر پانی نکالیں اور پھر اسے جھٹک کر کسی مناسب جگہ پر صاف تولیہ کے اوپر رکھ دیں

    اگر آپ کو لگے کہ برش میں اب بھی خاصا پانی موجود ہے تو دوسرے تولیہ کی مدد سے یا اسی تولیہ کو فولڈ کرکے برش کو تھپتھپائیں اور اسے اچھی طرح خشک ہونے کیلئے کسی ہوادار جگہ پر رکھ دیں برش کو مکمل طور پر خشک ہونے سے پہلے کبھی استعمال نہ کریں اور نہ ہی اسے جلدی خشک کرنے کی خاطر ہیئر ڈرائیر استعمال کریں کیونکہ ان سے برش کے ریشے خراب ہو جاتے ہیں

    برش کو سُکھانے کیلئے اسے تولیہ کے اوپر ہمیشہ سیدھا رکھیں اگر آپ نے برش کو کسی چیز سے ٹکا کر کھڑا کیا ہے تو ایسا کرنے سے برش کے ہینڈل میں پانی جمع ہونے سے اس کے ریشے گل جائیں گے

    برشز دھونے کیلئے رات کا وقت بہترین ہے کیونکہ رات بھر میں برشز اچھی طرح خشک ہوجائیں گے اور آپ صبح انہیں استعمال کرسکیں گی اس بات کا خیال بھی رکھیں کہ برش دھونے کیلئے آپ جو پانی استعمال کریں وہ بالکل صاف ستھرا ہو اگر پانی کے شفاف ہونے پر آپ کو شبہ ہو تو برش دھونے کے بعد آخر میں اس کے اوپر تھوڑا سا پینے کا صاف پانی بہالیں

  • خوبصورت بھنویں حسین اور دلکش آنکھوں کی ضامن

    خوبصورت بھنویں حسین اور دلکش آنکھوں کی ضامن

    خوبصورت بھنویں حسین اور دلکش آنکھوں کی ضامن ہوتی ہیں خوبصورتی کے ساتھ بنی گھنی اور گہرے رنگ کی بھنویں چہرے کو جاذب نظر بناتی ہیں بھنویں مختلف طریقوں سے بنائی جاسکتی ہیں مثلاً ٹوئیزنگ چمنی نماٹول کی مدد سے بالوں کے کھینچنے کے عمل کو ٹوئیزنگ کہتے ہی تھریڈنگ ،ویکسنگ ، یا پھر مشین کے ذریعے لیکن بھنویں بنانے کا سب سے آسان عمل تھریڈنگ ہی ہے جسے ہر دور میں خواتین اپناتی ہیں تھریڈنگ چہرے سے غیر ضروری بال ہٹانےکے عمل کو کہتے ہیں مثلاً بھنویں، اَپر لپ، فور ہیڈ وغیرہ پرموجود بال

    آئی برو تھریڈنگ کا طریقہ یہ ہے کہ آپ دھاگے کو بل دے کر آئی برو کے اضافی بالوں کو اس کے درمیان میں رکھ کر انھیں جڑ سے اُکھاڑ لیں یہی نہیں بیوٹیشن بھی خواتین کو آئی بنانے کے لیے تھریڈنگ کا ہی مشورہ دیتی ہیں

    آنکھوں کی کمزوری اور بینائی کے لئے انتہائی مجرب عمل


    ٹرینڈ کے پیش نظر توآج کل گھنی اور موٹی بھنووں کا فیشن ہے لیکن بیوٹی ایکسپرٹ کی رائے کے مطابق آ ئی برو ہمیشہ آنکھوں کی یا چہرہ بناوٹ کے مطابق ہوں تو زیادہ مناسب ہے، کیونکہ پلکوں اور آئی برو كے درمیان خاصہ خلا موجود ہوتا ہے گر آپ بھی اس سلسلے میں پریشان ہیں کہ کون سا آئی برو شیپ آپ کی آنکھوں کے لیے بہترین ہے تواس سلسلے میں ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ اگر آپ کی وہ ہڈی، جس پر آئی برو موجود ہوتی ہیں بہت باریک ہے تو اِس پر قدرے موٹی آئی برو موزوں رہیں گی اگر آپ اِس سے غیر مطمئن ہیں تو آئی برو کے نیچے موجود چند ایک بل نکال دیجئے اِس میں کوئی مزائقہ نہیں ہے

    یہی نہیں آپ آئی برو پنسل اور تکنیک کے ذریعے بھی اپنی پسند کا شیپ حاصل کر سکتی ہیں گھنی آئی برو کی خواہش مند خواتین اکثرآئی برو پنسل سے آئی برو کوموٹا کرنے کی کوشش کرتی ہیں

    اسی طرح اکثر ایکسپرٹ چہرے کی ساخت کے مطابق بھی آئی برو کے انتخاب کا مشورہ دیتے ہیں مثلاً

    بیضوی چہرے والی خواتین کے لیے curve کے بجائے راؤنڈ شیپ زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے

    گول چہرے والی خواتین کے لیے ایکسپرٹ تیر کی کمان کی مانند آئی بروشیپ بنانے سے منع کرتی ہیں ان کے لیے پرفیکٹ شیپ آئی برو کے عین درمیان میں واضح موڑیا گھماؤکا ہے

    لمبے چہرے والی خواتین کی بھنوں کے لیے فلیٹ شیب بہترین ہے اس سے چہرہ کم لمبا اور تھوڑا بیضوی محسوس ہوتا ہے

    خطرناک بیماریاں جن کی تشخیص آنکھوں سے ہوتی ہے


    احتیاطی تدابیر اور فوائد:
    اس کے فوائد پر بات کریں تو مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اپنانااہم ہیں

    نفاست سے بنی ہوئی آئی برو شیپ آنکھوں کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتی ہے

    آئی برو کو زیادہ نیچے تک سنوارنے سے چہرہ رعب دار لگتا ہے

    کانوں کی طرف زیادہ اونچی آئی برورکھنے سے چہرے پر حیرت کا تاثر پیدا ہوتا ہے

    آئی برو تھریڈنگ کے لیےبہت زیادہ مہارت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ہمیشہ کسی ماہر بیوٹیشن سے آئی برو تھریڈنگ کروائیں اگر ایک بال بھی غلط نکل جائے تو شیپ خراب ہوجاتی ہے کوشش کریں کہ بھنویں زیادہ باریک نہ ہوں خواتین بھنووں کو سیدھا کرنے کے لئے برش استعمال کرتی ہیں لیکن وہ برش اتنی زور سے پھیرتی ہیں کہ اس سے بال ٹوٹ جاتے ہیں کچھ چہرے بے انتہا سادہ ہوتے ہیں جبکہ بعض انتہائی کمپلیکس نقوش رکھتے ہیں کمان دار آنکھوں کی بناوٹ سے مطابقت رکھتی ہوئی بھنویں خوبصورت لگتی ہیں

    بھنویں گھنی کرنے کے چند طریقے:
    بھنویں گھنی کرنے کےلیے خواتین مختلف گھریلو ٹوٹکوں پر عمل کرتی ہیں کچھ ایسے ٹوٹکے شیئر درج ذیل ہیں جن سے ممکنہ طور پر آپ کی بھنویں گھنی ہوسکتی ہیں

    ہیئر اسٹائلسٹ بال لمبے کرنے کے لیے ناریل کا تیل لگانے کا مشورہ دیتے ہیں آپ اس تیل کو بھنویں گھنی کرنے کے لیے بھی استعمال کرسکتی ہیں ناریل کے تیل کو ہلکاگرم کرکے اسے بھنوں پر لگائیں اور اسے رات بھر لگا رہنے دیں

    ایک روئی کا ٹکڑا لیں اسے پیاز کے عرق میں بھگوئیں اور بھنوں پر لگا کر پندرہ سے بیس منٹ تک کے لیے چھوڑ دیں پھر ٹھنڈے پانی سے دھو لیں ایسا کرنے سے بھی بھنویں گھنی ہوں گی

  • بینگن کے حیران کن فوائد

    بینگن کے حیران کن فوائد

    بینگن ایک ایسی سبزی ہے جس میں کیلوری کی تعداد بہت کم ہوتی ہے اور اِس سبزی میں قُدرتی طور پر فائبر، وٹامنز اور معدنیات کی تعداد کثرت سے پائی جاتی ہے بینگن دیگر غذائی اجزاء اور اینٹی آکسیڈینٹ کی خصوصیات سے بھی مالامال ہوتا ہے عام طو ر پر بینگن کی دو اقسام ہوتی ہیں جن میں ایک قسم کے بینگن لمبے اور پتلےہوتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے چھوٹے اور گول ہوتے ہیں بینگن ایک ایسی سبزی ہے جس میں بہت سی بیماریوں سے لڑنے کی خصوصیات موجود ہیں یہ کینسر جیسے جان لیوا مرض سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے

    آلو کھانا صحت کے لیے مفید آلو کے حیرت انگیز فائدے


    بینگن میں وافر مقدار میں فائبر موجود ہوتا ہے جو ہمارے کولیسٹرول کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے ایک تحقیق کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ بینگن میں موجود اینٹی آکسیڈینٹ اور کلورجینک ایسڈ ہمارے کولیسٹرل کی سطح کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور اِس کے علاوہ جگر کے مرض کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے اگر آپ کو کولیسٹرول کی بیماری ہے تو اِس کے لیے ضروری ہے آپ اپنی غذا میں بینگن کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں

    بینگن امراضِ قلب سے بچنے کے لیے بھی بہت مفید ہوتا ہے بینگن میں پائے جانے والے فائبر، وٹامن سی، وٹامن بی، پوٹاشیم اور دیگر اینٹی آکسیڈینٹ دل کی بیماریوں کے خطرے سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایک تحقیق کے مطابق بینگن دل کے فعال کو بہتر بناتا ہے اور اِس کے علاوہ کولیسٹرول کی بڑھتی ہوئی سطح کو بھی کم کرتا ہے لہٰذا آپ دِل کی بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لئے آپ اپنی غذا میں بینگن کو لازمی شامل کرلیں

    بینگن میں فائبر اور پولیفینول کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں اور یہ دونوں بلڈ شوگر کی سطح کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، بینگن کو شوگر کے مریضوں کے لیے ایک صحت مند غذا سمجھا جاتا ہے لہٰذا گر آپ شوگر کے مریض ہیں تو آپ اپنی غذا میں بینگن کا استعمال ضرور کریں لیکن ایک بار اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کرلیں

    بینگن میں کینسر سے بچاؤ کی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں، بینگن ہمارے جسم کو کینسر جیسے جان لیوا مرض سے بچاتا ہے اور اگر کسی کو کینسر کا مرض ایک بار لاحق ہوگیا ہے تو یہ سبزی اُس مرض کی دوبارہ نشونما بھی روکتی ہے۔

    بینگن ایک صحت بخش سبزی ہے ہمیں اپنی غذا میں اس کا باقاعدگی سے استعمال کرنا چاہیے تاکہ اس کے فوائد سے مستفید ہوا جاسکے