Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف: پولیس چوکی غیر فعال، جرائم میں اضافہ، شہری عدم تحفظ کا شکار

    اوچ شریف: پولیس چوکی غیر فعال، جرائم میں اضافہ، شہری عدم تحفظ کا شکار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) تھانہ اوچ شریف کی حدود میں قومی شاہراہ پر واقع پولیس چوکی مقبول شہید کی غیر فعالیت کے باعث علاقے میں چوری، ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کے لیے یہ چوکی محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس بڑھ رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، چوکی مقبول شہید گزشتہ کچھ عرصے سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر بند ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کچے کے علاقوں سے یہاں گزر کر وارداتیں کر رہے ہیں۔ کپاس کے سیزن کے دوران آڑھتی اور بیوپاری حضرات روزانہ لٹنے پر مجبور ہیں۔ چوکی کی عمارت اب چوروں، ڈاکوؤں اور نشے کے عادی افراد کا مرکز بن چکی ہے، جہاں سے یہ عناصر دیگر ملحقہ علاقوں میں جرائم کی وارداتیں کرتے ہیں۔

    اہل علاقہ نے احتجاج کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر چوکی مقبول شہید کو دوبارہ فعال بنایا جائے اور پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں، تاکہ شہری سکھ کا سانس لے سکیں اور علاقے میں امن و امان بحال ہو۔

  • اوچ شریف: سیوریج کے گندے پانی سے سبزیوں کی کاشت، عوام میں تشویش

    اوچ شریف: سیوریج کے گندے پانی سے سبزیوں کی کاشت، عوام میں تشویش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف میں سیوریج کے گندے پانی سے بڑے پیمانے پر سبزیوں کی کاشت کا انکشاف ہوا ہے۔ اس مضر صحت سبزیوں کو مقامی سطح پر استعمال کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں میں بھی سپلائی کیا جا رہا ہے، جس کے باعث شہریوں کی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ علاقے کے لوگ اس غیر ذمہ دارانہ عمل پر شدید پریشان ہیں اور اسے انسانی صحت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    مقامی ذرائع کے مطابق حسینی چوک اور اس کے گرد و نواح کے رقبے پر سیوریج کے گندے پانی سے سبزیاں کاشت کی جا رہی ہیں۔ یہاں اگائی جانے والی سبزیوں کو اوچ شریف کے مختلف بازاروں میں فروخت کے لیے بھیجا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں عوام ان مضر صحت سبزیوں کے کھانے پر مجبور ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان سبزیوں کے استعمال سے متعدد خطرناک امراض جیسے کہ ہیپاٹائٹس، معدے کے امراض اور جلدی مسائل میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    تشویش کی بات یہ ہے کہ میونسپل کمیٹی اوچ شریف کی جانب سے کاشتکاروں کو گندے پانی کی سپلائی پر مبینہ طور پر معاوضہ بھی وصول کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے بلاخوف و خطر سیوریج کا پانی فصلوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ عمل سرکاری افسران کی چشم پوشی اور عدم توجہی کے سبب جاری ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صحت عامہ کے تحفظ کے لیے اقدامات کی سخت کمی ہے۔

    اوچ شریف کے باشعور عوام نے اس غیر ذمہ دارانہ عمل پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیا جائے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ گندے پانی سے سبزیوں کی کاشت پر فوری پابندی عائد کی جائے اور میونسپل کمیٹی کو گندے پانی کی فراہمی کے حوالے سے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ علاوہ ازیں عوامی صحت کو لاحق خطرات کے پیش نظر حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ شہر میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور مضر صحت سبزیوں کی فروخت کے سلسلے کو روکا جائے۔

    شہریوں کی جانب سے اس سنگین معاملے پر جلد اقدامات نہ کیے جانے کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دی گئی ہے تاکہ حکام کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کرائی جا سکے۔

  • اوچ شریف:کپاس کی لکڑیوں سے بھری ٹرالیاں، شہر کی خوبصورتی اور شہریوں کی جان کیلئے خطرہ

    اوچ شریف:کپاس کی لکڑیوں سے بھری ٹرالیاں، شہر کی خوبصورتی اور شہریوں کی جان کیلئے خطرہ

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان ) اوچ شریف میں کپاس کی لکڑیوں سے بھری ٹرالیاں،شہر کی خوبصورتی اور شہریوں کی جان کیلئے خطرہ بن گئی ہیں

    تفصیل کے مطابق شہر میں کپاس کی لکڑیوں سے بھری اوور لوڈ ٹرالیوں کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ یہ ٹرالیاں نہ صرف شہر کی گرین بیلٹ کو تباہ کر رہی ہیں بلکہ شہریوں کی جان کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

    یہ ٹرالیاں شہر کے اہم علاقوں جیسے للووالی پل، حسینی چوک اور غوث الاعظم چوک سے گزرتی ہوئی الشمس چوک تک پہنچتی ہیں۔ سڑک کے کنارے لگے درختوں اور پودوں کو یہ ٹرالیاں روند ڈالتی ہیں جس سے شہر کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کے کچھ اہلکار ان ٹرالی والوں سے رشوت لے کر انہیں شہر میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔ دوسری طرف میونسپل کمیٹی کا عملہ بھی اس مسئلے پر آنکھیں بند کرکے اسے نظرانداز کر رہا ہے۔

    ان اوور لوڈ ٹرالیوں کی وجہ سے شہر میں حادثات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹرالیاں نہ صرف دیگر گاڑیوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خود ان ٹرالیوں کے ڈرائیوروں کی جان کو بھی خطرہ ہے۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کی خوبصورتی اور شہریوں کی جان کو بچانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

  • اوچ شریف: وضوخانے سے متصل بجلی کا کھمبا مدرسے کے طلبہ اور نمازیوں کے لیے خطرہ بن گیا

    اوچ شریف: وضوخانے سے متصل بجلی کا کھمبا مدرسے کے طلبہ اور نمازیوں کے لیے خطرہ بن گیا

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان ) خستہ حال بجلی کے کھمبے سے مدرسے کے طلبہ اور نمازیوں کو خطرہ، فوری تبدیلی کا مطالبہ

    تفصیل کے مطابق اوچ شریف کے علاقے امیر آباد میں مدرسہ عربیہ امیر المدارس کے وضو خانے کے قریب بجلی کا کھمبا خستہ حالی کے باعث کسی بھی وقت گرنے کا خطرہ بن چکا ہے، جس سے مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں اور نمازیوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ مقامی رہائشیوں عبد الحمید خان، سمیع اللہ، عبد الستار، حماد، اعظم اور ارشاد احمد نے بتایا کہ واپڈا کو متعدد بار اس کھمبے کے حوالے سے شکایات دی گئیں، لیکن واپڈا کی جانب سے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

    رہائشیوں کا کہنا ہے کہ واپڈا ملازمین نے کھمبے کی تبدیلی کے لیے مبینہ طور پر رقم کی ڈیمانڈ کی، جو ان کے لیے ادا کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیا جائے اور مدرسے کے نزدیک موجود خطرناک کھمبے کو تبدیل کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ علاقے کے مکینوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

  • اوچ شریف:نلکا اڈہ،عباسیہ لنک کینال کا خستہ حال پل، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

    اوچ شریف:نلکا اڈہ،عباسیہ لنک کینال کا خستہ حال پل، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان)نلکا اڈہ پرعباسیہ لنک کینال کا خستہ حال پل، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

    تفصیل کے مطابق اوچ شریف کے نواحی علاقے نلکا اڈہ میں واقع عباسیہ لنک کینال کا پل خستہ حالی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے عوام کوآمدورفت میں شدید خطرات لاحق اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پل کی ٹوٹ پھوٹ اور حفاظتی جنگلوں کی عدم موجودگی کے باعث روزانہ ہزاروں افراد کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ اس پل کو روزانہ استعمال کرنے والے مقامی رہائشی عبد اللہ، عبد الستار، مظہر حسین، نادر محمد، یعقوب اور ناصر حسین نے میڈیا کو بتایا کہ "ہم روزانہ خوف کے سائے میں پل عبور کرتے ہیں، اگرخدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟”

    یہ پل بچوں، بزرگوں اور مزدوروں کے لیے روزمرہ آمدورفت کا اہم راستہ ہے لیکن اس کی خستہ حالت نے یہاں کے باسیوں کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے۔ مقامی رہنماؤں اور اہل علاقہ نے حکومت سے فوری مرمت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پل نہ صرف روزمرہ آمدورفت بلکہ مقامی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہیڈ پنجند اور نلکا اڈہ جیسے تاریخی مقامات کی وجہ سے سیاح بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں لیکن اس پل کی حالت دیکھ کر مایوس ہو جاتے ہیں۔ مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومتی غفلت عوامی مایوسی کا سبب بن رہی ہے اور لوگ اب محفوظ متبادل راستے کی تلاش میں ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

  • اوچ شریف:کھمبوں پرجھولتے تاراور میٹرز، شہریوں کیلئے لٹکتی موت،کب کھلے گی واپڈا آنکھ ؟

    اوچ شریف:کھمبوں پرجھولتے تاراور میٹرز، شہریوں کیلئے لٹکتی موت،کب کھلے گی واپڈا آنکھ ؟

    اوچ شریف(باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان کی رپورٹ) کھمبوں پرجھولتے تاراور میٹرز، شہریوں کیلئے لٹکتی موت،واپڈا کی کب آنکھ کھلے گی؟

    تفصیل کے مطابق اوچ شریف میں شہر بھر میں بجلی کے کھمبوں پر بے ہنگم تاریں اور لٹکتے میٹرز خطرناک صورتحال پیدا کر رہے ہیں، جس کے باعث شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ واپڈا اہلکاروں کی مبینہ عدم توجہی کے باعث یہ تاریں شہریوں کے لیے موت کا سبب بننے لگی ہیں۔

    شہریوں نے شکایت کی ہے کہ بارش یا سپارکنگ کے باعث میٹرز میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی قیمت انہیں چکانی پڑتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعدد بار واپڈا حکام کو صورتحال سے آگاہ کرنے کے باوجود کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واپڈا حکام فوری طور پر لٹکتے میٹرز اور بے ترتیب تاروں کو درست کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر اس مسئلے کا حل تلاش کیا جانا ضروری ہے تاکہ عوام کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • اوچ شریف: اسسٹنٹ کمشنر کا سرپرائز وزٹ، گراں فروشی پردوکانیں سیل

    اوچ شریف: اسسٹنٹ کمشنر کا سرپرائز وزٹ، گراں فروشی پردوکانیں سیل

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) اسسٹنٹ کمشنر کا سرپرائز وزٹ، گراں فروشی کرنے والے تاجروں کی دوکانیں سیل

    تفصیل کےاوچ شریف میں اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ میاں عثمان امین نے اچانک دورہ کیا اور گراں فروشی کی شکایات کا فوری نوٹس لیا۔ انہوں نے شہریوں کی جانب سے آٹے کی زائد قیمت پر فروخت کی شکایت پر ایک ہول سیل کریانہ اسٹور کو سیل کیا۔

    اس کے علاوہ انہوں نے سویٹ شاپس کی چیکنگ کے دوران تین دوکانیں سیل کیں اور ایک دکاندار کو اوپن پیٹرول کی ناقص کوالٹی اور زائد قیمت وصولی پر سزا دی۔

    بہت سے دکاندار گراں فروشی کے باعث بھاگ گئےجبکہ کئی ایک کو وارننگ بھی دی گئی۔ تجاوزات مافیا کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے، اسسٹنٹ کمشنر نے ریڑھی بانوں کو صفائی ستھرائی کے لیے کوڑے دان رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے میونسپل کمیٹی کے ملازمین کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مزید جانفشانی سے کام کرنے کی ہدایت دی۔

  • ادیبہ،شاعرہ ، مترجم اور صحافی،ثمینہ راجہ

    ادیبہ،شاعرہ ، مترجم اور صحافی،ثمینہ راجہ

    ہم کسی چشم فسوں ساز میں رکھے ہوئے ہیں
    خواب ہیں ، خواب کے انداز میں رکھے ہوئے ہیں

    ثمینہ راجہ

    ادیبہ،شاعرہ ، مترجم اور صحافی

    30 اکتوبر 2012: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ثمینہ راجا ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﮔﯿﺮﺩﺍﺭ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯿﮟ ۔ ﺑﺎﺭﮦ ﺗﯿﺮﮦ ﺑﺮﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺳﮯ ﺷﻌﺮ ﮔﻮﺋﯽ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪ ﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﭘﺎﮎ ﻭ ﮨﻨﺪ ﮐﮯ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﺍﺩﺑﯽ ﺟﺮﺍﺋﺪ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺷﻌﺮﯼ ﻭ ﺍﺩﺑﯽ ﻣﺤﻔﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﻗﻊ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﻃﻮﯾﻞ ﻋﺮﺻﮯ ﺗﮏ ﺻﺮﻑ ‘ ﻓﻨﻮﻥ، ﻧﻘﻮﺵ، ﺍﻭﺭﺍﻕ ،ﻧﯿﺎ ﺩﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﭗ، ﺟﯿﺴﮯﺍﺩﺑﯽ ﺟﺮﺍﺋﺪ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﺣﻠﻘﻮﮞ ﺗﮏ ﮨﯽ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺭﮨﯽ ۔ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺟﺪﻭﺟﮩﺪ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﺎﺿﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﻵﺧﺮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻦ ﮐﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻻﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺋﯿﮟ ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺘﻮﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻧﺎﻣﺴﺎﻋﺪ ﺍﻭﺭ ﻧﺎ ﻣﻮﺍﻓﻖ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﺍﺋﻮﯾﭧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺩﻭ ﺍﺩﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻢ ﺍﮮ ﮐﯿﺎ ۔

    1992 ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﺑﯽ ﺟﺮﯾﺪﮮ ﮐﺎ ﺍﺟﺮﺍﺀ ﮐﯿﺎ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺮﺻﮯ ﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺎ ۔ 1998 ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﺑﮏ ﻓﺎﺅﻧﮉﯾﺸﻦ ﮐﮯ ﺭﺳﺎﻟﮯ ﻣﺎﮨﻨﺎﻣﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﻣﺪﯾﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ 1998 ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺩﺑﯽ ﻣﺠﻠﮧ ﺁﺛﺎﺭ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺭﺕ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﯼ ﺍﺭﺩﻭ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻭﺷﻨﺎﺧﺖ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯽ ۔ ﻭﮦ ﮐﺌﯽ ﺑﺮﺱ ﺳﮯ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺍﺩﺑﯽ ﺟﺮﯾﺪﮮ ﺁﺛﺎﺭ ﮐﯽ ﻣﺪﯾﺮ ﮨﯿﮟ ۔
    ﺛﻤﯿﻨﮧ ﺭﺍﺟﮧ ﮐﺎ ﺍﺭﺩﻭ ﺷﺎﻋﺮﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻥ ﻡ ﺭﺍﺷﺪ ﮐﺎ ﺍﺭﺩﻭ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ۔ ﺭﺍﺷﺪ ﮐﻮ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺷﺎﻋﺮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﮯ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦ، ﺍﻭﺭﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻣﻔﺮﺱ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺫﮨﻨﯽ ﺳﻄﺢ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﻋﻮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺎ ﺟﻮ ﻋﺎﻡ ﻓﮩﻢ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﺷﻌﺮﺍ ﮐﻮ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺛﻤﯿﻨﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮯ ﭘﮑﮯ ﻧﺴﻮﺍﻧﯽ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﻠﻨﺪ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﺗﮏ ﮨﯽ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺭﮨﯿﮟ ۔ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺣﻤﺪ ﻧﺪﯾﻢ ﻗﺎﺳﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺑﮯﺷﻤﺎﺭ ﻣﺸﺎﮨﯿﺮ ﮐﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺭﺍﺀ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﻔﺮﺩ ﻣﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯﺍﺭﺩﻭﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺑﻠﮑﮧ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﻣﻨﻈﺮﻧﺎﻣﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺍﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﻣﻘﺎﻡ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔

    ﺷﻌﺮﯼ ﻣﺠﻤﻮﻋﮯ:

    1995 ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺷﻌﺮﯼ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﮨﻮﯾﺪﺍ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮﺍ ۔ ﺗﺐ ﺳﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺠﻤﻮﻋﮯ ، ﮨﻮﯾﺪﺍ – ﺷﮩﺮ ﺳﺒﺎ – ﺍﻭﺭﻭﺻﺎﻝ – ﺧﻮﺍﺑﻨﺎﺋﮯ – ﺑﺎﻍ ﺷﺐ – ﺑﺎﺯﺩﯾﺪ – ﮨﻔﺖ ﺁﺳﻤﺎﻥ – ﭘﺮﯼ ﺧﺎﻧﮧ – ﻋﺪﻥ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ – ﺩﻝ ِ ﻟﯿﻠٰﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺸﻖ ﺁﺑﺎﺩ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺩﻭ ﺿﺨﯿﻢ ﮐﻠﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ ۔

    ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ 30 ﺍﮐﺘﻮﺑﺮ 2012 ﮐﻮ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯽ ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    منتخب کلام:

    ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﭼﺸﻢ ﻓﺴﻮﮞ ﺳﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺧﻮﺍﺏ ﮨﯿﮟ،ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ﺗﺎﺏ، ﺍﻧﺠﺎﻡ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﻻﺗﮯ
    ﻧﺎ ﺗﻮﺍﮞ ﺩﻝ، ﻭﮨﯿﮟ ﺁﻏﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ﺟﻠﺘﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﺮﺍﻏﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﺮﺍﻍ
    ﺟﺐ ﺗﺮﯼ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﻧﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ﺍﮮ ﮨﻮﺍ ! ﺍﻭﺭ ﺧﺰﺍﺅﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
    ﻭﺳﻮﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﺮﯼ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ﺍﮎ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺢ ﺗﻠﮏ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ
    ﺑﯿﺸﺘﺮ، ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺁﻏﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ﮐﭧ ﮐﮯ ﻭﮦ ﭘﺮ ﺗﻮﮨﻮﺍﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﮌ ﺑﮭﯽ ﮔﺌﮯ
    ﺩﻝ ﯾﮩﯿﮟ ﺣﺴﺮﺕ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺁﺝ ﻃﻠﺐ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﯽ
    ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﭼﺸﻢ ﭘﺮ ﺍﻋﺠﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ﮨﻢ ﺗﻮ ﮨﯿﮟ ﺁﺏ ﺯﺭ ﻋﺸﻖ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺣﺮﻑ
    ﺑﯿﺶ ﻗﯿﻤﺖ ﮨﯿﮟ،ﺑﮩﺖ ﺭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ﮨﻢ ﺗﻮ ﯾﻮﮞ ﺍﻟﺠﮭﮯ ﮐﮧ ﺑﮭﻮﻟﮯ ﺁﭖ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﯿﺎﻝ
    ﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮔﺎ ﺑﮭﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺧﯿﺎﻝ

    ﺍﯾﮏ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮈﻭﺑﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ
    ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮩﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﮔﮩﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ

    ﺁﺏ ﺣﯿﺮﺍﮞ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﮑﺲ ﺟﯿﺴﮯ ﺟﻢ ﮔﯿﺎ
    ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ

    ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﮐﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﮨﮯ ﮐﺐ ﮐﺎﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺭﮨﮯ
    ﺟﺐ ﺳﮯ ﮨﻢ ﭘﺮ ﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﺟﺎﻥ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ

    ﻧﻘﺶ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﭘﮧ ﭼﺸﻢ
    ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺧﺎﻧﮧ ﺧﯿﺎﻝ

    ﺷﺎﻡ ﮔﮩﺮﯼ ﮨﻮ ﮐﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﺗﺮﯼ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﻮ ﻟﮕﺎ
    ﺍﮎ ﺧﯿﺎﻝ ﺍﯾﺴﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺍﯾﺴﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺍﯾﺴﺎ ﺧﯿﺎﻝ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺟﮭﻮﭦ ﺳﮩﯽ ﻋﺸﻖ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ
    ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

    ﺧﺎﮎ ﮐﯽ ﻟﻮﺡ ﭘﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮔﯿﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﺮﺍ
    ﺍﺻﻞ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﺗﺮﺍ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﭩﺎﻧﺎ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

    ﺧﻮﺍﺏ ﻋﺮﯾﺎﮞ ﺗﻮ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﺮ ﻭ ﺗﺎﺯﮦ ﮨﮯ
    ﮨﺎﮞ ﻣﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﺎ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

    ﺍﯾﮏ ﺍﮌﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﯿﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ
    ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﮑﺎﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﻮﻕ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

    ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﺁﻧﮑﮫ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﻮﺍ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ
    ﯾﮧ ﺟﮩﺎﻥ ﮔﺰﺭﺍﮞ ﺁﺋﻨﮧ ﺧﺎﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

    ﺩﻝ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺳﺮ ﺩﺳﺖ ﺍﭨﮭﺎ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺧﯿﺮ ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﮐﻮ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ﺻﻔﺤۂ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺗﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻣﭩﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﯽ
    ﭘﻮﺭﯼ ﺍﮎ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﺮ !

    ﺍﺷﮏ ﻏﻢ۔۔۔ ﻗﻄﺮۂ ﺧﻮﮞ۔۔۔ ﺁﺏ ﻣﺴﺮﺕ ﺳﮯ
    ﻣﭩﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ
    ﺭﻧﮓ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﯽ ﻣﻼ۔۔۔ ﺭﻧﮓ ﺗﻤﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ
    ﻣﮑﺘﺐ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺒﻖ ﯾﺎﺩ ﮐﯿﮯ
    ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ
    ﻋﺮﺻﮧٔ ﺯﯾﺴﺖ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﺮﺍﺑﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﮩﺖ
    ﺍﻥ ﺧﺮﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ
    ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﮕﺮ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﯿﮯ
    ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ !

    ﮔﻮﺷﮧٔ ﺭﻧﺞ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﮕﺎﻣۂ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﭘﺮﮮ
    ﮐﻮﻥ ﺍﮎ ﮨﺠﺮ ﮐﮯ ﺷﯿﺸﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ
    ﺗﺮﮮ ﻋﮑﺲ ﺩﻵﺭﺍﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
    ﮐﺲ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﮐﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﭘﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺍﺋﺮﮦٔ ﻧﻮﺭ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ
    ﮐﺲ ﮐﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
    ﺗﻤﻨﺎ ﮐﮯ ﺍﺟﺎﻟﮯ ﺑﮭﯽ۔۔۔ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
    ﺭﻭﺯ ﺭﻭﺷﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ
    ﮐﺲ ﺩﻝ ﮐﮯ ﻣﻀﺎﻓﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺕ،

    ﺗﻮ ﻧﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ
    ﺍﻭﺭ ﺗﺮﯼ ﺧﻮﺩ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﺑﮯ ﺧﺒﺮﯼ ﮐﻮ
    ﻗﺼۂ ﺩﺭﺩ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﯽ
    ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﺳﮯ ﻣﺮﺍ ﺁﺋﯿﻨﮧٔ ﻏﻢ ﺩﮬﻨﺪﻻﯾﺎ
    ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺩﺍﺑﮧٔ ﺩﻭﺭﺍﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﻭ ﻧﺎﺩﯾﺪﮦ ﺭﮨﯽ
    ﺗﮭﯽ

    ﺍﺏ ﺗﮏ
    ﺍﺱ ﺗﻦ ﺯﺍﺭ ﮐﻮ۔۔۔ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ
    ﺩﻝ ﺳﮯ ﻟﭙﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﮏ ﺭﻧﮓ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ
    ﺭﻧﮓ ﻭ ﺭﺍﻣﺶ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﯽ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻟﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ
    ﭘﺮ ﺗﺮﯼ ﺷﮑﻞ ﺑﮭﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﯽ
    ﭘﻮﺭﯼ ﺍﮎ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﺮ

    ﻋﻤﺮ۔۔۔
    ﺟﻮ ﻟﻤﺤﮧٔ ﺟﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ
    ﻋﻤﺮ۔۔۔ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﺗﻤﻨﺎ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ
    ﺑﺲ ﻭﮨﯽ ﻋﻤﺮ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ۔۔۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﯽ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ

    ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ،
    ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺑﻮ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﻮﺟﮭﻞ۔۔۔ ﻧﺸﯿﻠﯽ ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ

    ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ
    ﺟﻮ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﯽ ﺧﺴﺘﮧ ﺗﻤﻨﺎ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ
    ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺯ ﺩﮨﺮﺍ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ
    ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺫﺭﺍ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﻧﮕﺮ ﮨﮯ
    ﺟﮩﺎﮞ ﻟﻮﮒ ﺑﺴﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻤﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ۔۔۔ ﺳﮩﺎﺭﺍ
    ﺩﯾﮯ
    ﻟﻮﮒ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ
    ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ
    ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﻨﮉﯾﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ
    ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﭼﮭﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ۔۔۔ ﺣﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ
    ﭘﺮﺍﻧﮯ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﺷﯿﺎﻧﮯ
    ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﮑﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ
    ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺴﺮﺩﮦ ﻓﺴﺎﻧﮯ،
    ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﻓﺴﺎﻧﮧ
    ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
    ﻧﺸﯿﻠﯽ ﮨﻮﺍﺅﮞ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﻧﮕﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮩﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
    ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺷﻮﺭﯾﺪﮦ ﺧﻮ ﮔﺮﻡ ﻣﻮﺟﻮﮞ ﭘﮧ ﺑﮩﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ
    ﮨﮯ

    ﺳﻤﻨﺪﺭ
    ﻧﮕﺮ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺗﻨﮓ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ
    ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻦ ﮐﮯ ﺗﭙﯿﺪﮦ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﺗﻠﮏ ﺁ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ
    ﺳﻤﻨﺪﺭ۔۔۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﻥ ﯾﺎﺩ ﺳﮯ
    ﺭﻭﺡ ﮐﮯ ﺩﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﺎﻧﮑﺘﺎ ﮨﮯ
    ﺳﻤﻨﺪﺭ۔۔۔ ﻣﺮﮮ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺳﺮﺥ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﺰﻥ
    ﻧﯿﻨﺪ ﮐﮯ ﺯﺭﺩ ﻣﯿﮟ ﻧﻌﺮﮦ ﺯﻥ ﮨﮯ

    ﺳﻤﻨﺪﺭ
    ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﺳﺒﺰ ﭘﺮ ﺧﻨﺪﮦ ﺯﻥ ﮨﮯ
    ﻣﺮﮮ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ۔۔۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﯽ ﺑﻮﺳﯿﺪﮔﯽ ﮐﯽ
    ﺭﺩﺍﺋﯿﮟ
    ﻣﺮﮮ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺧﻨﺪﮦ ﺯﻥ ﮨﯿﮟ۔۔۔ ﯾﮧ ﺗﺎﺯﮦ ﻧﺸﯿﻠﯽ
    ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ
    ﺍﺯﻝ ﮐﺎ ﺳﻤﻨﺪﺭ۔۔۔ ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﺑﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
    ﺍﺑﺪ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﺎ ﺟﺎﺩﻭ
    ﻣﺮﮮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ

    منقول

  • اوچ شریف: اسپیڈ بریکرز کی کمی سے حادثات میں اضافہ، شہری پریشان

    اوچ شریف: اسپیڈ بریکرز کی کمی سے حادثات میں اضافہ، شہری پریشان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار: حبیب خان) شہر کی مصروف سڑکوں پر اسپیڈ بریکرز کی عدم موجودگی کے باعث حادثات معمول بن چکے ہیں جبکہ منچلوں کی تیز رفتاری اور ون ویلنگ نے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسپیڈ بریکرز کی تعمیر وقت کی ضرورت ہے تاکہ حادثات اور قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

    تفصیلات کے مطابق اوچ شریف کی اہم شاہراہوں، جن میں للو والی پل روڈ، علی پور روڈ، خیرپور ڈاہا روڈ اور احمد پور شرقیہ روڈ شامل ہیں، پر اسپیڈ بریکرز نہ ہونے کی وجہ سے تیز رفتار گاڑیاں اور ون ویلنگ کے واقعات عام ہو چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک افسوسناک حادثے میں اوچموغلہ کے رہائشی عاشق کے 8 سالہ بیٹے کو تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی نے کچل دیا، جس سے بچہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ ان سڑکوں پر تعلیمی ادارے اور دیگر اہم مقامات موجود ہونے کے باوجود اسپیڈ بریکرز تعمیر نہیں کیے گئے، جس کے نتیجے میں متعدد حادثات پیش آ چکے ہیں۔ ان حادثات میں کئی افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ متعدد افراد معذوری کا شکار ہو کر محتاجی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    عوامی اور سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور مقامی نمائندوں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر اسپیڈ بریکرز کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکیں۔

  • اوچ شریف: گندم کے بیج کی قیمتوں میں اضافہ، کسان پریشان

    اوچ شریف: گندم کے بیج کی قیمتوں میں اضافہ، کسان پریشان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) گندم کے بیج کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے کسان شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ مافیا کی اجارہ داری کے سامنے انتظامیہ بے بس نظر آ رہی ہے، جبکہ کسانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں گندم کی پیداوار کا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

    مقامی کسانوں نے قیمتوں میں تقریباً سو فیصد اضافے کو "قتلِ عام کے مترادف” قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مافیا کو قابو کرے۔ اوچ شریف مارکیٹ میں پنجاب سیڈ کارپوریشن اور دیگر نجی کمپنیوں نے گندم کے بیج کے نرخ 6000 سے 6300 روپے فی 50 کلوگرام تک بڑھا دیے ہیں، جب کہ 40 کلو بیج کی قیمت 2900 روپے تک پہنچ چکی ہے۔

    کسانوں نے شکایت کی کہ انہیں پہلے جو گندم 2500 روپے فی من فروخت کی گئی تھی، وہی اب دوگنی قیمت پر بطور بیج فروخت ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ استحصال ہے، اور حکومت کی خاموشی ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ کی کوششوں کے باوجود مارکیٹ میں مافیا کا کنٹرول برقرار ہے، جس سے بیجائی کے اخراجات ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔ کسانوں نے حکومت سے فوری طور پر بیج کی قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ گندم کی کاشت جاری رکھ سکیں۔ بصورت دیگر، یہ بحران ملک کی زرعی پیداوار اور معیشت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔

    کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس مسئلے کا جلد حل نہ نکالا تو گندم کی کاشت میں کمی کے باعث خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ حکومت ان کی محنت کا صلہ دے اور زرعی پیداوار میں ان کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے فوری اقدامات کرے۔