Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • پسند کی شادی: جوڑےکو 2 روز بعد دلہن کے والد نےگھر میں گھس کر قتل کردیا

    پسند کی شادی: جوڑےکو 2 روز بعد دلہن کے والد نےگھر میں گھس کر قتل کردیا

    لاہور: نوشہروفیروز کے علاقے محراب پور میں غیرت کے نام پر بھائی نے بہن اور چچی کو قتل کر دیا۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق محراب پور کے گاوں چانڈیو محلہ میں ملزم نے اپنی بہن اور چچی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا، ملزم بگا چانڈیو کو محراب پور پولیس نے جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا،مقتول خواتین کی لاشیں اسپتال منتقل کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    قبل ازیں لاہور کے علاقے ستوکتلہ میں گھر میں موجود 2 خواتین نند اور بھاوج کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا تھا،شان نامی ملزم نے 25 سالہ بیوی حنا اور 24 سالہ بہن سحرش کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کے بعد فرار ہو گیا تھا، اہل محلہ کا کہنا تھا کہ ملزم شام کو اپنی اہلیہ حنا اور بہن سحرش کے کردار پر شبہ تھا،پولیس کی فرانزک ٹیم نے شواہد اکھٹے کرنے کے لاشیں پوسٹ مارٹم کیلئے اسپتال کے مردہ خانے منتقل کر دیں۔

    دوسری جانب بہاولنگر کے نواحی گاؤں میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو شادی کے دو روز بعد قتل کر دیا گیاپولیس کے مطا بق دلہن کے والد نے ساتھیوں سمیت دلہا کے گھر میں گھس کر فائرنگ کردی جس سے دونوں دلہا اور دلہن جاں بحق ہوگئے، مقتو ل لڑکا لڑکی نے دو روز قبل پسند کی شادی کی تھی، لڑکی کا باپ بیٹی اور داماد کو قتل کرکے فرار ہوگیاآئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آرپی اوبہاولپور سے رپورٹ طلب کر لی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

  • بہاولپور: شاداب کالونی کھوکھر چوک میں گھر کو آگ لگ گئی

    بہاولپور: شاداب کالونی کھوکھر چوک میں گھر کو آگ لگ گئی

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان)بہاولپور کی شاداب کالونی کھوکھر چوک میں گھر کو آگ لگ گئی

    تفصیل کے مطابق بہاولپور کی شاداب کالونی کھوکھر چوک میں ایک گھر کو آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ ریسکیو سٹاف کے مطابق گھر کے مکین استری جلتی چھوڑ کر باہر چلے گئے تھے اور گھر کو لاک کر دیا تھا۔ استری کی گرمی کی وجہ سے کمرے میں موجود ضروری ساز و سامان، بشمول صوفے اور پردے، آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔

    ریسکیو سٹاف نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا، جس سے مزید نقصان ہونے سے بچا لیا گیا۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ریسکیو حکام نے شہریوں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ گھر چھوڑتے وقت بجلی کے آلات کو بند کرنے کی احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

  • اوچ شریف: حضرت عبد القادر ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے 506ویں سالانہ عرس کی شاندار تقریب

    اوچ شریف: حضرت عبد القادر ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے 506ویں سالانہ عرس کی شاندار تقریب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف میں 506واں سالانہ عرس مبارک حضرت عبد القادر ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی تقریب شاندار انداز میں منائی گئی۔ اس روحانی تقریب کی صدارت مخدوم پیر سید سہیل حسن گیلانی نے کی، جو اس مزار کی روایات میں خاص مقام رکھتے ہیں۔

    تقریب کا آغاز مزار مبارک کے غسل سے ہوا، جس کے بعد قرآن کریم کی تلاوت اور چادر پوشی کی رسم ادا کی گئی۔ ملک بھر سے آئے ہوئے علماء کرام، مشائخ اور ثناء خوانوں نے عقیدت کے نذرانے پیش کیے۔ مخدوم سید سہیل حسن گیلانی نے اپنے خطبے میں حضرت غوث الاعظم کی عظمت اور مقام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جس نے شرکاء میں روحانی جوش و خروش پیدا کیا۔

    پہلے روز، ثناء خوانوں نے نعتیہ کلام پیش کیے جبکہ علماء کرام نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر تفصیل سے گفتگو کی۔ مفتی محمد سجاد لودراہ اور مفتی عبدالغفار سعیدی نے سلسلہ قادریہ کے اسلام میں کردار کو اجاگر کیا، جسے حاضرین نے گہرائی سے سنا۔

    تقریب کی میزبانی پیر اکرم شاہ گیلانی اور ملک سعید عرف ملک کالو نے احسن طریقے سے انجام دی۔ مخدوم زادہ سید محمد رحمان حسن گیلانی المعروف بابا سائیں کی موجودگی نے محفل کی رونق کو مزید بڑھایا۔ عرس کی اختتامی دعا کے بعد لنگر غوثیہ تقسیم کیا گیا، جس نے لوگوں کے درمیان محبت اور اتحاد کو فروغ دیا۔

    تقریب کا اختتام اس وقت ہوا جب مخدوم سید سہیل حسن گیلانی نے مزار کو عرق گلاب سے غسل دیا اور امت مسلمہ کی کامیابی اور خانوادہ گیلانیہ کی خوشحالی کے لیے دعا کی۔

    حضرت عبد القادر ثانی رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ قادریہ کے مشہور بزرگوں میں سے ایک ہیں، جو اپنے علم، تقویٰ، اور روحانی قوتوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ حضرت عبد القادر ثانی کو "غوثِ اوچ” بھی کہا جاتا ہے، اور وہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی سلسلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا اور سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں، جو صدیوں سے دنیا بھر میں لاکھوں مسلمانوں کی روحانی تربیت کا ذریعہ بن رہا ہے۔

    حضرت عبد القادر ثانی رحمۃ اللہ علیہ اوچ شریف میں رہائش پذیر رہے اور یہاں پر انہوں نے اپنی زندگی کے کئی اہم سال گزارے۔ اس علاقے کو روحانی لحاظ سے بڑی اہمیت حاصل رہی ہے، کیونکہ یہاں کئی صوفی بزرگوں نے دین کی تبلیغ کی اور لوگوں کو روحانی راستے پر گامزن کیا۔ حضرت عبد القادر ثانی کی روحانی تعلیمات اور تبلیغ نے اوچ شریف کو ایک مقدس مقام میں تبدیل کر دیا، جہاں سے دین اسلام کی روشنی دور دور تک پھیلائی گئی۔

    اوچ شریف کا علاقہ تاریخی طور پر ایک اہم علمی و روحانی مرکز رہا ہے، جہاں صوفی بزرگوں، علماء اور مشائخ نے لوگوں کی رہنمائی کی۔ حضرت عبد القادر ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے عرس مبارک کی تقریبات اسی تاریخی پس منظر کا حصہ ہیں، جہاں ہر سال لاکھوں زائرین عقیدت کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔ ان تقریبات کا مقصد حضرت عبد القادر ثانی کی تعلیمات کو زندہ رکھنا اور ان کے پیغام کو عام کرنا ہے۔

    حضرت عبد القادر ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دور میں نہ صرف لوگوں کو دین اسلام کی طرف راغب کیا بلکہ انہیں اتحاد، محبت، اور امن کا درس دیا۔ ان کی زندگی کا مقصد انسانیت کی خدمت اور لوگوں کو اللہ کی طرف متوجہ کرنا تھا۔ اس تاریخی پس منظر میں، ان کا مزار آج بھی لوگوں کے لیے روحانی تربیت اور برکت کا مرکز ہے، جہاں لوگ ان کے فیض سے مستفید ہوتے ہیں۔

    اوچ شریف کی تاریخی حیثیت اور حضرت عبد القادر ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان کا سالانہ عرس مبارک ایک عظیم روحانی اجتماع میں تبدیل ہو گیا ہے، جہاں لوگ نہ صرف اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں بلکہ روحانی تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔

  • اوچ شریف: ناکارہ سیوریج سسٹم، عوام کی زندگی اجیرن

    اوچ شریف: ناکارہ سیوریج سسٹم، عوام کی زندگی اجیرن

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان ) شہر قدیم اوچ شریف کے ہاتھی بازار میں ناکارہ سیوریج سسٹم کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ گلیوں میں گندے پانی کا جمع ہونا معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے رہائشیوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا ہے اور کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے صحت کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہے۔ کئی لوگ تو اپنی جائیدادیں بیچنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

    شہر کے نوجوانوں نے میڈیا کے ذریعے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جلد از جلد سیوریج سسٹم کی مرمت نہ کی گئی تو وہ سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

    شہریوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ تاریخی شہر کی ثقافت اور صحت کی حفاظت کے لیے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف ان کی روزمرہ زندگی متاثر کر رہا ہے بلکہ شہر کی قدیم روایات کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اوچ شریف کی شناخت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

  • اوچ شریف: تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا کامیاب انعقاد

    اوچ شریف: تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا کامیاب انعقاد

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگارحبیب خان) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام موضع رسول پور میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا کامیاب انعقاد ہوا۔ اس اہم کانفرنس میں عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جن میں علماء، طلباء، اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔

    کانفرنس میں مختلف نامور علماء کرام نے ختم نبوت کے موضوع پر پراثر اور مدلل خطابات کیے۔ مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اپنے خطاب میں ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور نوجوانوں کو اس حوالے سے آگاہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شہنشاہ خطابت حضرت مولانا سید ابوبکر شاہ نے ختم نبوت کے پیغام کو معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے بنیاد قرار دیا۔

    اجتماع کی صدارت حضرت مولانا رشید احمد عباسی نے کی، جنہوں نے اتحاد امت پر زور دیا اور دین کی حفاظت کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر شعراء کرام نے بھی نعتیہ کلام پیش کیا، جس سے محفل میں روحانی رنگ بھر گیا۔

    شرکاء نے ختم نبوت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا عزم کیا اور اس پیغام کو مزید آگے بڑھانے کا عہد کیا۔ کانفرنس میں یہ بات زور دی گئی کہ مسلمانوں کو اپنے عقائد کی حفاظت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اتحاد کو بھی فروغ دینا چاہیے۔

    یہ اجتماع 32 سال سے جاری ہے اور اس سال بھی لوگوں میں دینی بیداری اور اتحاد کی فضاء پیدا کرنے میں کامیاب رہا۔

  • اوچ شریف:پٹرولنگ پولیس کی شاندار کارروائی، اشتہاری ملزم گرفتار

    اوچ شریف:پٹرولنگ پولیس کی شاندار کارروائی، اشتہاری ملزم گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) پٹرولنگ پولیس خیر پور ڈاھا نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران مطلوب بی کیٹگری کے اشتہاری ملزم محمد جنید کو گرفتار کر لیا۔ سب انسپکٹر محمد جاوید اور اے ایس آئی محمد ساجد کی سربراہی میں ناکہ بندی کے دوران ملزم کی شناخت ہوئی اور اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، محمد جنید کئی سنگین جرائم میں ملوث تھا اور اس کی گرفتاری علاقے میں موجود دیگر جرائم پیشہ افراد کے لیے انتباہ ہے۔ سب انسپکٹر محمد جاوید نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد علاقے میں امن و امان برقرار رکھنا اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

    علاقے کے عوام نے پولیس کی اس کارروائی کو سراہا اور کہا کہ اس سے ان کی حفاظت میں مزید بہتری آئے گی۔ پولیس نے شہریوں کو بھی تاکید کی ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کی مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی ایسی ناکہ بندیاں جاری رہیں گی تاکہ جرائم کا سدباب کیا جا سکے اور عوام کو ایک محفوظ معاشرہ فراہم کیا جا سکے۔

  • اوچ شریف:کپاس چنوائی کیلئے جانے والی ٹرالی کو حادثہ ، 6 افراد زخمی

    اوچ شریف:کپاس چنوائی کیلئے جانے والی ٹرالی کو حادثہ ، 6 افراد زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف کے مضافاتی علاقے بستی مقبول آرائیں میں تیز رفتاری کے باعث کپاس کی چنائی کے لیے جانے والی خواتین سے بھری ہوئی ایک ٹرالی الٹ گئی، جس سے 2 مرد اور 4 خواتین شدید زخمی ہو گئیں۔ یہ افسوسناک واقعہ بکھری چوک کے قریب پیش آیا۔

    حادثے کے وقت ٹرالی میں 30 افراد سوار تھے، جن میں زیادہ تر کا تعلق قریبی دیہات سے تھا۔ ٹرالی کے الٹنے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ زخمیوں میں ٹرالی کا ڈرائیور بھی شامل ہے، جس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    تمام زخمیوں کو ریسکیو ٹیموں کی جانب سے فوری طبی امداد کے بعد قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ حادثے کی وجہ بظاہر تیز رفتاری بتائی جا رہی ہے۔

  • اوچ شریف: کپاس کی فصل پر سفید مکھی کا شدید حملہ، کاشتکار پریشانی میں مبتلا

    اوچ شریف: کپاس کی فصل پر سفید مکھی کا شدید حملہ، کاشتکار پریشانی میں مبتلا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) جنوبی پنجاب میں کپاس کی فصل پر سفید مکھی کے حملے میں تیزی آنے سے کاشتکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس حملے کی وجہ سے سینکڑوں ایکڑ پر کاشت کی گئی کپاس کی فصلیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، اور کاشتکار معاشی دباؤ میں مبتلا ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ سفید مکھی کے علاوہ ناقص زرعی ادویات اور غیر معیاری سپرے بھی فصل کی بربادی کا سبب بن رہے ہیں۔

    کئی کسانوں نے بتایا کہ انہیں مناسب معلومات اور حکومتی امداد کی کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے وہ درست علاج یا حفاظتی اقدامات نہیں کر پا رہے۔ فصلوں کی حالت مزید بگڑتی جا رہی ہے، اور کسانوں کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ کاشتکاروں نے الزام لگایا کہ محکمہ زراعت کی جانب سے غیر معیاری ادویات کی فروخت کے حوالے سے کی گئی شکایات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    کاشتکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ زراعت فوری مداخلت کرے اور کسانوں کو مناسب مشاورت اور رہنمائی فراہم کرے تاکہ وہ اپنی فصلوں کو بچانے کے لیے موثر سپرے اور دیگر حفاظتی اقدامات کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہیں کیے تو انہیں بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا، جو ان کی معیشت کو برباد کر سکتا ہے۔

    کاشتکاروں نے حکومت سے فوری طور پر مسائل کو سنجیدگی سے لینے اور مناسب حل فراہم کرنے کی امید ظاہر کی ہے، تاکہ وہ اپنی محنت سے حاصل ہونے والی فصل کو بچا سکیں اور معاشی تباہی سے محفوظ رہ سکیں۔

  • اوچ شریف:پٹرول سستا، کرائے وُہی، شہریوں کو   فائدہ کیوں نہ ہوا؟ذمہ دارکون؟

    اوچ شریف:پٹرول سستا، کرائے وُہی، شہریوں کو فائدہ کیوں نہ ہوا؟ذمہ دارکون؟

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے باوجود، اوچ شریف اور اس کے گرد و نواح میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایے جوں کے توں برقرار ہیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں کمی سے انکار کر دیا ہے، اور بعض مقامات پر تو اضافی کرایہ بھی وصول کیا جا رہا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر وہ اس مسئلے سے دوچار ہیں، مگر حکام کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔ ایک مقامی شہری کا کہنا تھا، "جب پٹرول کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو کرایے کیوں نہیں کم ہو رہے؟” انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ عوامی مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے، جس سے لوگوں میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے۔

    شہریوں کی تنظیموں نے ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کرایوں میں کمی کی جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم ہو۔ شہریوں نے احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر فوری طور پر مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو وہ سڑکوں پر نکل کر اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

    یہ صورتحال عوامی عدم اطمینان میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، اور شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس مسئلے کا فوری نوٹس لے کر کرایوں میں کمی کو یقینی بنانا چاہیے۔ بصورت دیگر، عوام کا احتجاج شدت اختیار کر سکتا ہے، جو حکومت کی ساکھ پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

  • اوچ شریف کی چنری, ثقافتی ورثہ یا تاریخ کا ایک صفحہ؟

    اوچ شریف کی چنری, ثقافتی ورثہ یا تاریخ کا ایک صفحہ؟

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگارحبیب خان) چنری کا کاروبار حالیہ دنوں میں شدید بحران کا شکار ہے، جس کی بڑی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور معاشی مسائل ہیں۔ چنری، جو مذہبی مزارات اور شادی بیاہ کی تقریبات میں اہمیت رکھتی تھی، اب کم طلب کی شکار ہو چکی ہے۔ یہ چنری خاص طور پر سرائیکی ثقافت کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر سابق ریاست بہاولپور میں، جہاں عباس نگر گاؤں میں رنگ برنگی چنریاں تیار کی جاتی ہیں۔

    چنری نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مقبولیت رکھتی تھی، مگر موجودہ اقتصادی حالات اور مہنگائی نے اس کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ چولستان کی خواتین صدیوں سے اس فن کو اپنائے ہوئے ہیں اور اسے نسل در نسل منتقل کرتی آرہی ہیں، تاہم اب ان کی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں مل رہا، جس کی وجہ سے یہ روایتی فن ماند پڑتا جا رہا ہے۔

    چنری بنانے کے عمل میں چھ سے آٹھ میٹر کپڑا درکار ہوتا ہے، اور اسے مکمل کرنے میں ایک سے دو دن لگتے ہیں۔ یہ کام نہایت محنت طلب اور وقت لینے والا ہے، لیکن اس کے باوجود خواتین کو ان کی محنت کا مناسب صلہ نہیں مل رہا۔ کاروباری افراد زیادہ منافع کماتے ہیں، جبکہ خواتین کی آمدنی انتہائی کم ہے۔

    مقامی رہائشیوں اور کاریگر خواتین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کی محنت کو صحیح قدر دی جائے اور چنری کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں، تاکہ یہ اہم ثقافتی ورثہ زندہ رہے اور نئی نسل بھی اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو چنری کا یہ روایتی فن اور کاروبار مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے۔

    انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقامی خواتین کی محنت کی قدر کی جائے اور چنری کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ اس فن کو زندہ رکھا جا سکے اور مقامی معاشرتی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کیا جا سکے۔