Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈیرہ غازیخان:بلوچستان میں مسافروں کا قتل، لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ

    ڈیرہ غازیخان:بلوچستان میں مسافروں کا قتل، لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ

    ڈیرہ غازیخان( باغی ٹی وی رپورٹ)بلوچستان میں دہشتگردوں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کیے گئے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافروں کی لاشیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔ اس دلخراش واقعے پر ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے جبکہ مقتولین کے ورثا غم سے نڈھال ہیں۔

    ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے لاہور آنے والی دو مسافر بسوں اے کے موورز اور سپر میختر کو 10 جولائی 2025 کی شام 5 بج کر 30 منٹ پر بلوچستان کے ضلع ژوب میں نامعلوم دہشتگردوں نے روکا۔ ان مسلح حملہ آوروں نے شناختی کارڈ چیک کیے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 12 مسافروں کو بسوں سے اتار کر الگ کیا۔ بعدازاں 9 مسافروں کو شناخت کی بنیاد پر فائرنگ کر کے بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ تین افراد معجزاتی طور پر بچ نکلے۔

    بلوچستان کے سرحدی علاقے میں یہ واقعہ پیش آنے کے بعد کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے فوری طور پر بلوچستان انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ مقتولین کی لاشیں بلوچستان پنجاب سرحدی علاقے "بواٹہ” پر تحصیلدار و کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس محمد اسد خان چانڈیہ نے وصول کیں۔ اس موقع پر ڈی پی او سید علی، اے ڈی سی آر عثمان بخاری، اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ لاشوں کو سرکاری ایمبولینسز کے ذریعے ریونیو افسران کی نگرانی میں متعلقہ اضلاع کی جانب روانہ کر دیا گیا۔

    کمشنر اشفاق احمد اور ڈپٹی کمشنر عثمان خالد کی نگرانی میں شہداء کے جسد خاکی بلوچ لیوی لائنز ڈیرہ غازی خان سے روانہ کیے گئے۔ تمام لاشوں کی حوالگی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔

    شہداء کی شناخت اور تعلق:
    1. جابر طور اور عثمان طور (دو سگے بھائی) تحصیل دنیا پور ضلع لودھراں جواپنے والد نذیر طور کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
    2. محمد عرفان ولد غلام اکبر ڈیرہ غازی خان۔
    3. صابر حسین ولد محمد ریاض کامونکی، ضلع گوجرانوالہ۔
    4. محمد آصف ولد سلطان چوک قریشی (ٹیچر)۔
    5. غلام سعید ولد غلام سرور خانیوال
    6. محمد جنید لاہور
    7. محمد بلال ولد عبد الوحید اٹک۔
    8. بلاول گجرات
    یہ افسوس ناک واقعہ بلوچستان اور پنجاب کے سنگم پر واقع کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو پہلے ہی بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کی جانب سے تھریٹس موصول ہو چکی تھیں، جس کے نتیجے میں بارڈر ملٹری پولیس، بلوچ لیوی فورس اور دیگر اداروں کو ہائی الرٹ کیا گیا تھا۔

    اس افسوسناک واقعے کے بعد کمشنر اشفاق احمد چوہدری، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد اور کمانڈنٹ اسد خان چانڈیہ نے بلوچستان سے ملحقہ تمام بارڈر پوائنٹس خصوصاً بواٹہ، فورٹ منرو، کھر اور دیگر اہم راستوں پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ بارڈر ملٹری پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ تمام مشکوک گاڑیوں اور افراد کی سخت تلاشی لی جا رہی ہے۔

    پنجاب سے بلوچستان جانے والی تمام ٹریفک کو تا حکم ثانی بواٹہ چیک پوسٹ پر روک دیا گیا ہے۔ تمام داخلی و خارجی راستوں پر پیدل گشت، موبائل وائرلیس ٹیمز اور ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔

    کمشنر اشفاق چوہدری اور ڈپٹی کمشنر عثمان خالد نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ انتظامیہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معصوم شہریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور حکومت مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے شہداء کے اہلخانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ ہر ضلع کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرہ خاندانوں سے مکمل تعاون کیا جائے اور لاشوں کی تدفین و دیگر انتظامات سرکاری سطح پر کرائے جائیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: خستہ حال عمارتوں کے سروے کا فیصلہ، ضلعی انتظامیہ متحرک

    ڈیرہ غازی خان: خستہ حال عمارتوں کے سروے کا فیصلہ، ضلعی انتظامیہ متحرک

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) حکومتِ پنجاب کی ہدایت پر ڈیرہ غازی خان میں خستہ اور بوسیدہ عمارتوں کے خلاف اہم اقدام اٹھا لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل قدسیہ ناز نے میونسپل کارپوریشن اور تمام میونسپل کمیٹیوں کے سربراہان کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا ہے، جس میں ان سے اپنی متعلقہ حدود میں موجود خطرناک اور بوسیدہ عمارتوں کا فوری سروے مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس سروے کا مقصد انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور ممکنہ حادثات سے قبل حفاظتی اقدامات کرنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ سروے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر ادارہ اپنی حدود میں واقع عوامی، رہائشی اور تجارتی عمارتوں کا مکمل اور جامع جائزہ لے۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کا کہنا تھا کہ جن عمارتوں کو خطرناک قرار دیا جائے گا، انہیں گرانے کے لیے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ کی اس کارروائی کو شہری حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ بروقت سروے اور عملی اقدامات سے ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے گا۔

  • ڈیرہ غازی خان: یوم عاشور پر 11 ہزار اہلکار تعینات، سیکیورٹی ریڈ الرٹ

    ڈیرہ غازی خان: یوم عاشور پر 11 ہزار اہلکار تعینات، سیکیورٹی ریڈ الرٹ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواداکبر) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر ڈیرہ غازی خان ریجن میں 10 محرم الحرام یومِ عاشور کے موقع پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کی سربراہی میں جاری کیے گئے ریڈ الرٹ پلان کے تحت چاروں اضلاع میں مجموعی طور پر 449 روایتی اور لائسنس یافتہ جلوس اور 481 مجالس کی حفاظت کے لیے غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی پلان کے تحت 40 ڈی ایس پیز، 79 انسپکٹرز، 446 سب انسپکٹرز سمیت 11 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکاران تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کے ہمراہ پاک فوج اور رینجرز کے دستے بھی فیلڈ میں موجود ہیں۔ ایلیٹ فورس، کوئیک ریسپانس فورس، پنجاب کانسٹیبلری، ہائی وے پٹرول، اور 2943 رضاکار (Volunteers) بھی سیکیورٹی ڈیوٹی میں معاونت کر رہے ہیں۔

    آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان خود فیلڈ میں موجود ہیں اور حساس امام بارگاہوں، مجالس اور مرکزی جلوسوں کے روٹس پر سیکیورٹی اقدامات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کے احکامات پر تمام اضلاع میں جلوس کے راستوں پر آنے والی گلیوں اور سڑکوں کو خاردار تاروں اور بیریئرز کے ذریعے مکمل سیل کر دیا گیا ہے، جب کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور اسپیشل برانچ کے ذریعے سکریننگ اور سکیننگ کا عمل بھی جاری ہے۔

    ریجن بھر میں 1290 سی سی ٹی وی کیمروں، سرویلنس گاڑیوں اور ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔ جلوس کے راستوں پر موجود بلند عمارتوں پر سنائپرز تعینات کیے گئے ہیں، اور سادہ لباس اہلکاروں کو بھی سول پوشاک میں ڈیوٹی پر مامور کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی پر فوری ردِ عمل ممکن ہو۔

    بین الصوبائی سرحدوں اور چیک پوسٹوں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت سیکیورٹی چیکنگ اور جدید سائنسی طریقہ کار کے تحت اسکیننگ کا عمل جاری ہے۔

    آر پی او نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام ضلعی پولیس سربراہان خود فیلڈ میں موجود رہیں اور سیکیورٹی پلان پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، اسلحہ کی نمائش، لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی یا کسی بھی قانون شکنی پر بلاتفریق فوری کارروائی کے احکامات دیے ہیں۔ سپروائزری افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو حساسیت سے آگاہ کرتے ہوئے مکمل بریفنگ دیں، اور طے شدہ معاہدوں، روٹس اور اوقات کی مکمل پابندی کو یقینی بنائیں۔

    یومِ عاشور کے موقع پر امن و امان کی فضا کو قائم رکھنے کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر متحرک اور الرٹ ہیں۔

  • ڈی جی خان سمیت ملک بھرمیں 6 اور 7 جولائی کو شدید بارشیں، اربن فلڈ کا الرٹ، بلوچستان ،نالوں میں طغیانی

    ڈی جی خان سمیت ملک بھرمیں 6 اور 7 جولائی کو شدید بارشیں، اربن فلڈ کا الرٹ، بلوچستان ،نالوں میں طغیانی

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواداکبر) محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 6 اور 7 جولائی کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں شدید موسلادھار بارشوں کا امکان ہے جس کے نتیجے میں مقامی ندی نالوں میں طغیانی، شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ اور دیگر خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بالخصوص مری، گلیات، مانسہرہ، کوہستان، ایبٹ آباد، چترال، دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، نوشہرہ، صوابی، مردان، اسلام آباد، راولپنڈی، ڈی جی خان، شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور بلوچستان کے علاقوں میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، جہاں برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔

    شہری علاقوں میں اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، نوشہرہ اور پشاور جیسے نشیبی علاقے شدید بارشوں سے متاثر ہو سکتے ہیں اور ان کے زیر آب آنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ نشیبی علاقوں سے گریز کریں اور اپنی حفاظت کے لیے حفاظتی اقدامات بروقت مکمل کریں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتے کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور حبس زدہ رہنے کا امکان ہے، تاہم کشمیر، شمال مشرقی پنجاب، خطہ پوٹھوہار، بالائی خیبر پختونخوا، جنوب مشرقی سندھ اور شمال مشرقی و جنوبی بلوچستان میں بعض مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان بھی موجود ہے۔ رات کے وقت ان علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اتوار کے روز بھی صورتحال کم و بیش ایسی ہی رہے گی اور کشمیر، وسطی و بالائی پنجاب، خیبر پختونخوا، جنوب مشرقی سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقے بارشوں کی لپیٹ میں رہیں گے۔

    بلوچستان میں مون سون کا دوسرا اسپیل شروع ہو چکا ہے، جہاں بارکھان، کوہلو اور خضدار میں موسلادھار بارشوں سے جل تھل ہو گیا ہے۔ گزشتہ رات سے اب تک بارکھان میں 17 ملی میٹر اور خضدار میں 6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ 4 سے 8 جولائی تک صوبے کے 20 اضلاع میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ ان بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی اور اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں اب تک بلوچستان میں آبی ریلوں اور آسمانی بجلی گرنے سے 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جب کہ خضدار اور زیارت میں ایک درجن سے زائد مکانات زمین بوس ہو چکے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے نے اس صورتحال پر فوری ردعمل دیتے ہوئے متعلقہ اضلاع میں امدادی سامان روانہ کر دیا ہے اور اپنے عملے کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ندی نالوں، ڈیمز اور پکنک پوائنٹس سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر سیاحوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ محفوظ علاقوں میں رہیں اور موسم کی صورت حال پر نظر رکھیں۔ اگرچہ ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی اور مرطوب موسم جاری ہے، تاہم کئی مقامات پر گرج چمک اور بارش سے وقتی ریلیف مل رہا ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسلام آباد سیدپور میں سب سے زیادہ 75 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، راولپنڈی کے شمس آباد اور کچہری میں 28 ملی میٹر، لاہور میں 1 ملی میٹر، شیخوپورہ 9، سیالکوٹ 5، چکوال 4، کوٹلی 14، مظفرآباد 7، بالاکوٹ 9، قلات 7 اور مٹھی 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ درجہ حرارت کے لحاظ سے نوکنڈی میں سب سے زیادہ 47 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ چلاس، سبی، جیکب آباد اور دالبندین میں درجہ حرارت 45 سے 46 ڈگری تک رہا۔

    حکام نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں، تاکہ کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ طغیانی، سیلابی ریلے، بجلی گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات اس وقت حقیقی موجود ہیں، لہٰذا ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

  • ڈیرہ غازیخان: ایم پی اے محمد حنیف پتافی اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے بلاک 45 کی امام بارگاہ کا دورہ کیا

    ڈیرہ غازیخان: ایم پی اے محمد حنیف پتافی اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے بلاک 45 کی امام بارگاہ کا دورہ کیا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر جواد اکبر) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر رکن پنجاب اسمبلی محمد حنیف پتافی اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے بلاک 45 کی امام بارگاہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈی پی او سید علی، اسسٹنٹ کمشنر تیمور عثمان، اور چیف آفیسر ضلع کونسل جواد الحسن گوندل سمیت دیگر ضلعی افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔

    دورے کے دوران ایم پی اے اور ضلعی انتظامیہ نے عزادار کمیٹیوں اور مقامی منتظمین سے ملاقاتیں کیں اور محرم الحرام کے جلوسوں کے روٹس، مجالس کے مقامات، سیکیورٹی، صفائی اور دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ عزاداروں کو صاف پانی، طبی امداد، ٹریفک مینجمنٹ اور فول پروف سیکیورٹی سمیت تمام شہری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    ایم پی اے محمد حنیف پتافی، ڈپٹی کمشنر عثمان خالد اور ڈی پی او سید علی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران مذہبی عقیدت و احترام، امن و امان، اور بین المذاہب ہم آہنگی کا قیام ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں امن کمیٹیوں اور مقامی منتظمین کا تعاون قابلِ ستائش ہے اور ضلعی حکومت اس تعاون کو مزید مؤثر بناتے ہوئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق عزاداروں کو بہترین سہولیات کی فراہمی اور مذہبی تقاریب کے پرامن انعقاد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری ہیں۔

  • ملک بھر میں بارشوں کا الرٹ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

    ملک بھر میں بارشوں کا الرٹ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواداکبر) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 6 سے 10 جولائی تک ملک بھر میں شدید بارشوں، آندھی، طوفان اور متعدد علاقوں میں ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق شدید موسمی حالات کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

    ترجمان این ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ پنجاب کے اضلاع اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، میانوالی، سرگودھا، خوشاب، گوجرانوالہ، گجرات، فیصل آباد، لاہور، قصور، اوکاڑہ، ملتان، خانیوال، بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان میں آندھی اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

    خیبرپختونخوا میں دیر، سوات، چترال، کوہستان، شانگلہ، بونیر، بٹگرام، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، ملاکنڈ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، مردان، ہری پور، بنوں اور کوہاٹ میں گرج چمک اور طوفانی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    گلگت بلتستان کے علاقوں گلگت، اسکردو، ہنزہ، استور، دیامر، گانچھے اور شگر میں شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے مظفرآباد، وادی نیلم، راولا کوٹ، حویلی اور باغ میں بھی شدید بارشیں متوقع ہیں۔

    سندھ کے شہروں سکھر، نوابشاہ، کشمور، حیدرآباد، کراچی، تھرپارکر، میرپورخاص، عمرکوٹ، سانگھڑ، جامشورو، ٹنڈو الٰہ یار، ٹھٹہ، بدین، مٹھی، گھوٹکی، خیرپور، شکارپور، لاڑکانہ، جیکب آباد اور دادو میں تیز بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ، ژوب، زیارت، قلات، خضدار، آواران، بارکھان، جعفرآباد، کوہلو، سبی، ڈیرہ بگٹی، لورالائی، لسبیلہ اور نصیرآباد میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات کی ہدایت کی ہے، جبکہ عوام کو بھی احتیاط برتنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

    ادارے نے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو خاص طور پر ہوشیار رہنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں 1122 یا متعلقہ ضلعی کنٹرول روم سے فوری رابطے کی ہدایت کی ہے۔

  • پیر عادل: سات محرم کا مرکزی جلوس، عزاداری و لنگر کا وسیع انتظام

    پیر عادل: سات محرم کا مرکزی جلوس، عزاداری و لنگر کا وسیع انتظام

    پیرعادل (باغی ٹی وی،نامہ نگارباسط علی )ملک بھر کی طرح ڈیرہ غازی خان کے علاقے پیر عادل میں بھی محرم الحرام کی مناسبت سے علم پاک کا مرکزی جلوس مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ برآمد ہوا۔ جلوس مرحوم فدا حسین فوجی کے گھر سے برآمد ہوا اور مقررہ روایتی راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ کاظمیہ پیر عادل پر اختتام پذیر ہوا۔

    جلوس سے قبل مجلسِ عزاء سے ذاکر اہل بیت سید حسین شاہ، مولانا حافظ ابوزر غفاری اور حافظ مدثر عباس نے خطاب کیا۔ مجلس کے بعد عزاداروں نے ماتم داری کی اور مختلف ماتمی سنگتوں جن میں "قائم آل محمد”، "انتظار حجت”، "غلامان معصومین”، "آل اللہ”، "کاروانِ علمدار” اور "سقائے معصومہ” شامل تھیں، نے نوحہ خوانی کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    جلوس کے اختتام پر بانی جلوس منتظر مہدی کی جانب سے لنگر کا وسیع انتظام کیا گیا۔ سیکیورٹی انتظامات مکمل طور پر فعال رہے اور جلوس پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔

  • ڈیرہ غازی خان: ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائیاں، جون میں 8231 افراد کو امداد

    ڈیرہ غازی خان: ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائیاں، جون میں 8231 افراد کو امداد

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر، جواد اکبر)ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائیاں، جون میں 8231 افراد کو امداد

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان انجینیئر احمد کمال کی زیر صدارت گزشتہ ماہ کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں جون 2025 کے دوران ادارے کی مجموعی کارکردگی پر تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ ریسکیو 1122 نے جون کے مہینے میں 828 روڈ ٹریفک حادثات، 66 آتشزدگی، 221 لڑائی جھگڑوں، 6008 میڈیکل ایمرجنسیز، 5 عمارتیں گرنے کے واقعات، پانی میں ڈوبنے کے 7 کیسز اور 1064 متفرق نوعیت کے حادثات میں بروقت ریسپانس دیتے ہوئے امدادی سرگرمیاں سر انجام دیں۔ مجموعی طور پر 8231 مریضوں کو ریسکیو کیا گیا جن میں سے 5171 افراد کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ 2918 زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

    انجینیئر احمد کمال نے بتایا کہ تمام ایمرجنسیوں میں ریسپانس ٹائم کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا گیا، جو ادارے کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے۔ تاہم، انہوں نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ادارے کو موصول ہونے والی 40798 کالز میں سے 26831 کالز غیر متعلقہ، 8 غلط اور 13 جھوٹی کالز تھیں۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ریسکیو 1122 کے ایمرجنسی نمبرز کا استعمال صرف حقیقی ضرورت کے وقت کیا جائے، کیونکہ جھوٹی یا غیر ضروری کالز نہ صرف ادارے کا وقت ضائع کرتی ہیں بلکہ اصل ایمرجنسی میں کسی کی جان بچانے میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہیں۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے یقین دلایا کہ ریسکیو 1122 اپنی خدمات کا معیار مزید بہتر بنانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے اور عوام کے تعاون سے ہی ہنگامی صورتحال میں مؤثر ردعمل یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: محرم الحرام میں عزاداروں کو سہولیات کی فراہمی، سیکیورٹی و صفائی انتظامات سخت، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد متحرک

    ڈیرہ غازی خان: محرم الحرام میں عزاداروں کو سہولیات کی فراہمی، سیکیورٹی و صفائی انتظامات سخت، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد متحرک

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر ضلع ڈیرہ غازی خان میں محرم الحرام کے دوران عزاداروں، مجالس اور ماتمی جلوسوں کے لیے مثالی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد خود انتظامات کی نگرانی میں پیش پیش ہیں اور ڈی پی او سید علی سمیت متعلقہ افسران کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے لیے فول پروف سیکیورٹی، صفائی ستھرائی، سٹریٹ لائٹس کی مرمت، اور پانی و بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ جلوسوں کے منتظمین اور مقامی علماء کرام سے مسلسل رابطہ رکھا جائے اور ان کی مشاورت سے انتظامات کو حتمی شکل دی جائے۔

    سیکیورٹی کے حوالے سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں، جب کہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی پلان جاری کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہنگامی طبی امداد کے لیے موبائل میڈیکل یونٹس اور ریسکیو ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح امن و امان، بین المسالک ہم آہنگی اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور انتظامات پر عملدرآمد کی خود نگرانی کی جائے گی۔

  • ڈیرہ غازی خان: زہریلے آم تلف، کیمیکل پکڑ گیا، 94 ہزار جرمانہ

    ڈیرہ غازی خان: زہریلے آم تلف، کیمیکل پکڑ گیا، 94 ہزار جرمانہ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)آم کو زبردستی پکانے کے لیے ممنوعہ کیمیکل کیلشیم کاربائیڈ کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بھرپور کارروائی، ڈائریکٹر آپریشنز شہزاد مگسی کی سربراہی میں 216 مقامات پر انسپکشن کی گئی، جہاں سے 117 کلو کاربائیڈ اور 95 کلو آم ضبط کر کے موقع پر تلف کر دیے گئے۔

    انسپکشن کے دوران فروٹ منڈیوں، باغات اور پھل بردار گاڑیوں کو چیک کیا گیا۔ زہریلے کیمیکل کے استعمال پر 94 ہزار روپے کے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔

    ترجمان کے مطابق یہ آپریشن ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی محمد عاصم جاوید کی خصوصی ہدایت پر کیا گیا تاکہ عوام تک محفوظ اور صحت بخش خوراک پہنچائی جا سکے۔

    ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ آموں کو کیلشیم کاربائیڈ سے پکانا قانونی اور انسانی صحت کے خلاف جرم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زہریلے آم کینسر، معدے، گردے اور اعصابی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔

    انہوں نے تاجروں اور باغبانوں کو خبردار کیا کہ قدرتی طریقے سے آموں کو پکانے کی روایت کو اپنایا جائے، ورنہ قانونی کارروائی سے گریز ممکن نہیں ہوگا۔