Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈیرہ غازی خان: پل سیدن شاہ روڈ کی تعمیر کی منظوری، عوام میں خوشی کی لہر

    ڈیرہ غازی خان: پل سیدن شاہ روڈ کی تعمیر کی منظوری، عوام میں خوشی کی لہر

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی.سٹی رپورٹر، جواد اکبر)حلقہ پی پی 287 کے عوام کے لیے ایک اہم ترقیاتی خوشخبری سامنے آئی ہے، جب پل سیدن شاہ کے قریب پانچ کلومیٹر سے زائد طویل شاہراہ کی تعمیر کی باضابطہ منظوری دی گئی۔ اس موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کی میزبانی علاقے کی معروف سماجی و سیاسی شخصیت سردار اللہ نواز خان گوپانگ نے کی، جنہیں لغاری گروپ کا معتبر رکن سمجھا جاتا ہے۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ سردار اللہ نواز گوپانگ نے اپنے خطاب میں اس منصوبے کو علاقے کے لیے "نئی زندگی کی نوید” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سڑک کی تعمیر سے عوام کو آمدورفت میں آسانی، اور مقامی معیشت، زراعت و تجارت میں بہتری آئے گی۔

    تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی اسمبلی کے رکن و پارلیمانی سیکرٹری برائے زراعت سردار اسامہ فیاض لغاری تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس خان لغاری کی مشاورت سے حاجی غازی، سکھیرا آرائیں، سیدن بستی سمیت دیگر علاقوں میں متعدد ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ "کوٹ چھٹہ تا دراہمہ روڈ” کا منصوبہ بھی جلد شروع ہوگا، جو علاقے کی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔

    سردار اسامہ لغاری نے عوام سے اتحاد و اتفاق قائم رکھنے اور انتشار پسند عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے کی اپیل کی۔ تقریب کے دوران سردار اللہ نواز گوپانگ نے علاقے کے دیگر دیرینہ مسائل سے بھی آگاہ کیا، جن پر سردار اسامہ لغاری نے موقع پر ہی متعلقہ محکموں کو فوری کارروائی کی ہدایت جاری کی۔

    اختتام پر شرکاء نے اس اہم پیش رفت اور میگا پراجیکٹس کے اعلان پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سردار اسامہ لغاری اور لغاری خاندان کی عوامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

  • ڈیرہ غازی خان: سپربند منصوبے میں میگا کرپشن دوبارہ بے نقاب، تین سال بعد بھی وہی کہانی، وہی کردار

    ڈیرہ غازی خان: سپربند منصوبے میں میگا کرپشن دوبارہ بے نقاب، تین سال بعد بھی وہی کہانی، وہی کردار

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ) سپربند منصوبے میں میگا کرپشن دوبارہ بے نقاب، تین سال بعد بھی وہی کہانی، وہی کردار
    ڈیرہ غازی خان کے علاقے سمینہ میں واقع سپربند آر ڈی 148 کی حالیہ تباہی نے ایک بار پھر تین سال قبل پیش آئے سپربند 138 کے میگا کرپشن اسکینڈل کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اُس وقت بھی کروڑوں روپے کا فنڈ جاری ہونے کے باوجود زمینی سطح پر کوئی کام نہ کیا گیا تھا، اور آج بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ تین سال قبل باغی ٹی وی نے اس اسکینڈل کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا تھا، مگر متعلقہ اداروں اور افسران نے بجائے اصلاح کے، محض عارضی تبادلوں اور فرضی انکوائریوں کے ذریعے معاملے کو دبا دیا۔

    سپربند 138 کی مرمت کے لیے 108.3 ملین روپے کی لاگت سے منصوبہ منظور ہوا، جس کا ٹھیکہ "رانا ٹریڈرز” کو دیا گیا، جس کے مالک کا تعلق ساہیوال سے تھا۔ متعلقہ افسران کی ملی بھگت سے اس کنٹریکٹر کو 55.6 ملین روپے ایڈوانس میں جاری کیے گئے، مگر سپربند پر عملی طور پر کوئی کام نہ ہو سکا۔ کام نہ ہونے کے باوجود پیسے جاری کیے جانا اس بات کی دلیل تھی کہ محکمہ انہار کے اندرونی افسران اس مبینہ کرپشن میں برابر کے شریک تھے۔ وقت مقررہ پر کام شروع نہ ہونے کی وجہ سے 2021 میں اسی بند کا بیشتر حصہ دریا بُرد ہو گیا۔ ریزیڈنٹ انجینئر محمد حنیف اور ان کی ٹیم نے موقع پر جا کر معائنہ کیا اور اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ کام شروع ہی نہیں ہوا، مگر پھر بھی ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی۔

    اب 2025 میں سپربند آر ڈی 148 کی تباہی نے معاملے کو پھر زندہ کر دیا ہے۔ ایک بار پھر وہی کنٹریکٹر، وہی طریقہ کار، اور وہی محکماتی غفلت دیکھی جا رہی ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ بند میں دراڑیں کافی عرصے سے موجود تھیں، محکمہ انہار کو کئی بار زبانی و تحریری طور پر آگاہ کیا گیا، مگر کسی نے توجہ نہ دی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران کو معلوم تھا کہ بند کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے، لیکن وہ جان بوجھ کر خاموش رہے تاکہ جب بند ٹوٹے تو مرمت و بحالی کے نئے فنڈز کے نام پر ایک اور کرپشن کا موقع میسر آئے۔

    محکمہ انہار کے بعض افسران، جن میں مجاہد کلیم (XEN)، رشید جروار، عزیز زنگلانی، ارسلان اور خاص طور پر عاقب جاوید کا نام شامل ہے، ان تمام معاملات میں مرکزی کردار سمجھے جا رہے ہیں۔ عاقب جاوید، جو بیک وقت تین عہدوں پر تعینات ہے، اس پر پہلے بھی کرپشن کے الزامات عائد ہو چکے ہیں۔ حیران کن طور پر یہ شخص پہلے پنجاب پولیس میں سب انسپکٹر تھا اور مگر بعد ازاں محکمہ انہار میں ایس ڈی او جیسے اہم عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔ موجودہ وقت میں وہ کنسٹرکشن، مشینری، اور ڈیزائن سب ڈویژنز تینوں کا انچارج ہے۔

    تین سال قبل اس کرپشن کی تہہ میں ایک اور پہلو بھی چھپا ہے، اور وہ ہے ریت اٹھانے کا غیر قانونی عمل۔ سپربندوں کے اردگرد سے ریت اٹھانے کے ٹھیکے دیے گئے تھے ، جس سے بند کی بنیادیں مزید کمزور ہو گئیں۔ ٹھیکیداروں کو بااثر وڈیروں اور سیاستدانوں کی پشت پناہی حاصل تھی، جنہیں بدلے میں مچھلیاں، رشوت اور تحائف پہنچائے جاتے تھے۔ بند کی مرمت کے لیے جو پتھر استعمال کیے گئے، وہ بھی بغیر کسی جال کے دریا میں یوں ہی پھینک دیے گئے، جس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔

    بند ٹوٹنے کے بعد متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی مساجد میں اعلانات کروا کر لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کا کہا گیا، جبکہ محکمہ کے افسران کئی گھنٹے تاخیر سے موقع پر پہنچے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بند ٹوٹنے کے بعد ٹھیکیدار نے چند صحافیوں کو بھی رشوت کی پیشکش کی، تاکہ یہ معاملہ میڈیا پر نہ آئے۔ مگر بعض ذمہ دار صحافیوں نے وہ ویڈیوز ریکارڈ کیں، جن میں بغیر کسی جال کے بہتے پانی میں پتھر ڈالے جا رہے ہیں — جو کہ محض کرپشن کا طریقہ ہے، تحفظ کا نہیں۔

    عوام کا کہنا ہے کہ سپربندوں کی تباہی کوئی قدرتی آفت نہیں، بلکہ یہ انتظامی غفلت، بدانتظامی اور منظم کرپشن کا نتیجہ ہے۔ تین سال قبل جن سوالات کو میڈیا نے اٹھایا، آج بھی وہی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں: ایڈوانس رقم دینے کے بعد کام کیوں نہ ہوا؟ ذمہ داروں کو سزا کیوں نہ ملی؟ رانا ٹریڈرز کو دوبارہ ٹھیکے کیسے ملے؟ اور تین سال بعد بھی عوام کی زمینیں، گھر، اور فصلیں کیوں ڈوب رہی ہیں؟

    متاثرین اور شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت فوری طور پر اس میگا کرپشن اسکینڈل کی عدالتی انکوائری کا حکم دے، اور ان تمام افسران، ٹھیکیداروں، اور سرپرست سیاستدانوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، وگرنہ مستقبل میں اس سے بھی بڑے سانحات جنم لے سکتے ہیں۔

  • ڈی جی خان میں ڈی پی اوز کے اعزاز میں الوداعی تقریب

    ڈی جی خان میں ڈی پی اوز کے اعزاز میں الوداعی تقریب

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹرجواد)ڈیرہ غازی خان میں ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ڈیرہ غازی خان سید علی اور ڈی پی او مظفرگڑھ ڈاکٹر رضوان احمد خان کے اعزاز میں ایک پروقار الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ یہ تقریب جمخانہ کلب میں منعقد ہوئی جہاں دونوں افسران کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز اور سوینئرز پیش کیے گئے۔

    اس تقریب میں کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری کے ساتھ ساتھ ریجن کے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ پولیس افسران، ڈپٹی کمشنرز، سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، سیف سٹی اتھارٹی، پولیس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    مقررین نے دونوں افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سید علی اور ڈاکٹر رضوان احمد خان نے اپنے اپنے اضلاع میں جرائم کے خاتمے، عوامی اعتماد کی بحالی اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ دونوں افسران نے دیانتداری، فرض شناسی اور بہترین قیادت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب-خیبر پختونخوا بارڈر پر دہشت گردوں کے خلاف اور مظفرگڑھ میں کچے کے جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف ان کی کارروائیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

    تقریب کے اختتام پر شرکاء نے دونوں افسران کی آئندہ ذمہ داریوں میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  • ڈی جی خان میں صفائی مہم کا دائرہ قبرستانوں اور مساجد تک پھیل گیا

    ڈی جی خان میں صفائی مہم کا دائرہ قبرستانوں اور مساجد تک پھیل گیا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹر شاہد خان)ڈیرہ غازی خان میں ڈائیوو کمپنی (ڈی ڈبلیو ایم سی) کی صفائی مہم شہر اور دیہات کے علاوہ اب قبرستانوں اور مساجد تک بھی پہنچ گئی ہے۔ آج کمپنی کے کارکنان نے یونین کونسل نمبر 17 کے غوثیہ قبرستان میں صفائی کا کام انجام دیا۔ اس دوران قبرستان کے اندر جھاڑیوں کو کاٹا گیا اور قبروں کی صفائی کی گئی۔

    ڈی ڈبلیو ایم سی کے ڈی ایم نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے "صاف ستھرا پنجاب” ویژن کے تحت شہر، گلی محلوں، دیہات اور قبرستانوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ اب مساجد کی صفائی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبرستان میں موجود درختوں کو ہفتہ وار پانی دیا جائے گا اور اس ویژن کے تحت شہر اور محلوں کی تمام مساجد کو ری پینٹ بھی کیا جائے گا۔

  • ایک جرأت مند باب اختتام کو پہنچا . ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی کو سلامِ الوداع

    ایک جرأت مند باب اختتام کو پہنچا . ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی کو سلامِ الوداع

    ڈیرہ غازی خان ( باغی ٹی وی نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈیرہ غازی خان میں جرأت، بہادری اور پیشہ ورانہ دیانت کا ایک روشن باب اپنے اختتام کو پہنچا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سید علی نے اپنے تبادلے کے موقع پر SDPOs، SHOs، برانچ انچارجز اور دیگر پولیس افسران و اہلکاروں سے الوداعی ملاقات کی۔ اس موقع پر فضا جذبات سے لبریز تھی اور ہر چہرے پر قائدانہ صلاحیتوں سے بھرپور ایک افسر کے جانے کا ملال نمایاں تھا۔

    پولیس اسٹاف نے ڈی پی او سید علی کی بے باک قیادت، مثالی نظم و ضبط اور جرائم کے خلاف ان کی ناقابلِ فراموش جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ سید علی نے اپنے دورِ تعیناتی میں نہ صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف فرنٹ لائن قیادت کی بلکہ جرائم پیشہ گروہوں، منشیات فروشوں اور خطرناک ڈاکوؤں کے خلاف بھی فیصلہ کن کارروائیاں کیں۔

    ڈی پی او سید علی کا سب سے نمایاں کارنامہ فتنۂ خوارج کے خلاف ان کی جرات مندانہ مہم تھی، جس میں انہوں نے جان کی پروا کیے بغیر فرنٹ لائن پر کمانڈ کی۔ ان کی قیادت میں ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری دیکھی گئی، عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہوا، اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا گیا۔

    عوامی حلقوں، صحافتی اداروں اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی ڈی پی او سید علی کی خدمات کو سراہتے ہوئے نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کیا گیا۔ انہیں "جرأت، فرض شناسی اور انصاف کی علامت” قرار دیا جا رہا ہے، اور ان کے جانے کو ایک خلا تصور کیا جا رہا ہے جسے پُر کرنا آسان نہ ہوگا۔

    ڈی پی او سید علی کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ ڈیرہ غازی خان کو اپنی عملی زندگی کا قابلِ فخر باب سمجھیں گے، اور جہاں بھی رہیں گے، عوام کی خدمت اور قانون کی عملداری کو مقدم رکھیں گے۔

  • ڈیرہ غازی خان: چہلم شہدائے کربلا ، سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات کو حتمی شکل

    ڈیرہ غازی خان: چہلم شہدائے کربلا ، سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات کو حتمی شکل

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر جواد اکبر) ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شہداء کربلا کے چہلم کے موقع پر سیکیورٹی، سہولیات اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان امیر تیمور، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل قدسیہ ناز، اسسٹنٹ کمشنرز، متعلقہ محکموں کے افسران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے ہدایت دی کہ چہلم کے جلوس اور مجالس کے لیے سیکیورٹی اور سہولیات عاشورہ کی طرز پر فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی کنٹرول روم کو مکمل فعال رکھا جائے گا جبکہ سیف سٹی اور دیگر سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کا موثر نظام نافذ کیا جائے گا۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلع بھر میں چہلم کے موقع پر 12 مجالس اور 4 جلوس برآمد ہوں گے جن کے لیے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے مزید ہدایت دی کہ ضلعی امن کمیٹی کے اراکین، منتظمین اور رضاکاروں کے ساتھ قریبی روابط رکھے جائیں تاکہ امن و امان اور سہولیات کے انتظامات مؤثر انداز میں یقینی بنائے جا سکیں۔

  • یومِ شہداء پولیس: ڈیرہ غازی خان میں شہداء کو خراجِ عقیدت، ڈی پی او سید علی کی شرکت

    یومِ شہداء پولیس: ڈیرہ غازی خان میں شہداء کو خراجِ عقیدت، ڈی پی او سید علی کی شرکت

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر: شاہد خان)یومِ شہداء پولیس کے موقع پر ڈیرہ غازی خان پولیس کی جانب سے ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ان عظیم سپاہیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے ملک و قوم کے تحفظ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ دیا۔

    تقریبات میں ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی، ایس ڈی پی او سٹی، ڈی ایس پی ٹریفک سمیت دیگر پولیس افسران، اسکولوں کے طلباء، شہریوں اور میڈیا نمائندگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    تقریب کے دوران ڈی پی او سید علی نے شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کیں، جبکہ شرکاء نے بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے شمعیں جلا کر ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب میں شہداء کے درجات کی بلندی اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

    اس موقع پر باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی او سید علی نے کہا:”شہداء پولیس ہمارا فخر اور قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی لازوال قربانیاں ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتی رہیں گی۔ یومِ شہداء ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آج جو آزادی اور امن ہمیں میسر ہے، وہ ان ہی جانبازوں کی بے مثال قربانیوں کا نتیجہ ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا:”ہم ہر لمحہ شہداء کی فیملیز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا دکھ ہمارا دکھ ہے، اور ان کا فخر ہمارا فخر۔”

    یومِ شہداء پولیس کے موقع پر منعقدہ یہ تقریب نہ صرف پولیس شہداء کی قربانیوں کا اعتراف ہے بلکہ نئی نسل کو ان کی قربانیوں سے روشناس کرانے کا ذریعہ بھی ہے۔

  • تونسہ اور ڈیرہ غازی خان میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند،  نشیبی علاقے زیرِ آب، سیلابی خطرہ منڈلانے لگا

    تونسہ اور ڈیرہ غازی خان میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، نشیبی علاقے زیرِ آب، سیلابی خطرہ منڈلانے لگا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں تونسہ اور ڈیرہ غازی خان کے متعدد کچے علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں جبکہ مزید بستیوں اور زرعی زمینوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں تیزی کے باعث شادن لُنڈ، کالا، کالاکالونی، دری ڈھولے والی، شاہ صدر دین، پیر عادل، لاڈن، دری میرو، دراہمہ، سمینہ سادات، جھوک اُترا، جکھڑ امام شاہ اور شیرو جیسے دریا کنارے آباد نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونے لگا ہے۔

    متعدد علاقوں میں فصلیں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ رہائشی آبادیوں میں بھی پانی گھسنے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق کچی آبادیوں کے علاوہ پکی بستیوں میں بھی سیلابی ریلے پہنچنے کا خطرہ ہے، تاہم تاحال خاطر خواہ اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تونسہ میں 15 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں تاکہ متاثرین کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے، تاہم بیشتر مکین اب بھی اپنے گھروں اور مال مویشیوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق مکینوں کو بار بار خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کے پیش نظر نقل مکانی کر لیں، لیکن وہ اپنے گھروں، فصلوں اور جانوروں کو چھوڑنے سے گریزاں ہیں۔

    تونسہ کےعلاقے میں متعدد خاندان کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں، تاہم اس عمل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نہ صرف رسائی کے راستے متاثر ہو چکے ہیں بلکہ نقل مکانی کے دوران قیمتی سامان بھی ضائع ہو رہا ہے۔

    محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول ذرائع کے مطابق دریا میں پانی کا بہاؤ تاحال بڑھ رہا ہے اور آئندہ چند روز مزید خطرناک ہو سکتے ہیں۔ نشیبی علاقوں کو خالی کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، تاہم مکینوں کے انکار کے باعث خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

    عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے اربابِ اختیار صرف فوٹو سیشن کرکے کاغذی کارروائیاں مکمل نہ کریں بلکہ عملی طور پر فیلڈ میں نکلیں، زمینی حقائق کا جائزہ لیں اور فوری و مؤثر اقدامات کریں تاکہ قیمتی جان و مال کے نقصان سے بچا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: وڈور روڈ چار ماہ سے زیر تعمیر، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    ڈیرہ غازی خان: وڈور روڈ چار ماہ سے زیر تعمیر، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈیرہ غازی خان میں گرلز کالج کے سامنے واقع وڈور روڈ گزشتہ تقریباً چار سے پانچ ماہ سے ری کنسٹرکشن کے لیے توڑا گیا ہے، مگر تاحال اس کی تعمیر مکمل نہیں ہو سکی، جس کے باعث مقامی شہریوں اور راہگیروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ ٹوٹا پھوٹا روڈ اب شہریوں کے لیے درد سر بن چکا ہے۔

    بارشوں کے دنوں میں اس روڈ پر پانی جمع ہو جاتا ہے، جس سے صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔ دن بھر ٹریکٹر ٹرالیوں کا رش بھی اس روڈ پر رہتا ہے، جو متعدد حادثات کا باعث بن چکا ہے۔ افسوسناک طور پر، ان حادثات میں کئی نوجوان شہری اور بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ پہلے ہی یہ روڈ سنگل تھا، اور اب اسے توڑ کر شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ٹھیکیداروں کی نااہلی، غفلت اور مبینہ کرپشن کی وجہ سے یہ روڈ تاحال مکمل تعمیر نہیں ہو سکا ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں وڈور روڈ کے علاوہ دیگر تمام کارپیٹڈ روڈز کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ مقامی شہریوں نے انتظامیہ سے پرزور اپیل کی ہے کہ ٹھیکیداروں کی کرپشن کا شکار اس روڈ کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ شہریوں کو مزید مشکلات سے نجات مل سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی کمشنر کا سپورٹس کمپلیکس منصوبے کا معائنہ، جلد تکمیل کی ہدایت

    ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی کمشنر کا سپورٹس کمپلیکس منصوبے کا معائنہ، جلد تکمیل کی ہدایت

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد نے گورنمنٹ جامع ہائی سکول میں زیر تعمیر سپورٹس کمپلیکس منصوبے کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ امیر مسلم اور ایکسیئن بلڈنگز محمد وقاص نے منصوبے کی تفصیلات پر مبنی بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ یہ سپورٹس کمپلیکس حال ہی میں واگزار کرائے گئے سرکاری رقبے پر تعمیر کیا جا رہا ہے جس میں کرکٹ ارینا، والی بال کورٹ اور دیگر کھیلوں کی سہولیات شامل ہوں گی۔

    ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ منصوبے کی تکمیل میں تیزی لائی جائے تاکہ طلبہ اور شہریوں کو جلد از جلد صحت مندانہ سرگرمیوں کے مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سپورٹس کمپلیکس نہ صرف گورنمنٹ کمپری ہینسو ہائی سکول کے طلبہ بلکہ شہر کے دیگر نوجوانوں کے لیے بھی کھیل اور تفریح کا مثبت ذریعہ ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل نوجوانوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے لیے ناگزیر ہیں اور ایسے منصوبے معاشرے میں مثبت تبدیلی کا سبب بنتے ہیں۔