Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • لیہ ۔ پورنوگرافی سیکنڈل،متاثرہ خاتون کے 46 ناموں کا انکشاف

    لیہ ۔ پورنوگرافی سیکنڈل،متاثرہ خاتون کے 46 ناموں کا انکشاف

    لیہ ۔ پورنوگرافی سیکنڈل،متاثرہ خاتون کے 46ناموں کا انکشاف ہوا ہے ،ایڈیشنل آئی جی کی جوائینٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ کو داد دی اورتمام ٹیم کی کارکردگی کوسراہتے ہوئے نقدانعام اور تعریفی سرٹیفیکیٹ دینے کااعلان۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ملتان میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس جنوبی پنجاب ڈاکٹر احسان صادق کی صدارت میں لیہ پورنوگرافی کیس پر جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا،ایڈیشنل آئی جی نے کیس سے جڑے تمام مشتبہ کرداروں کو گرفتار کر نے کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ وقوعہ کے مرکزی ملزم سمیت تمام کی گرفتاری اور پورنوگرافی کیلئے استعمال ہونے والے کتے کو حراست میں لینا پولیس کی بڑی کامیابی ہے ۔مقامی اخبار روزنامہ نیا کل ملتان کے مطابق ایس پی ربنواز تلہ نے تفتیش میں پیشرفت سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کیس میں ملوث فیض بھلڈ کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جس نے وقوعہ میں مرکزی کردار ادا کیا ،ملزم فیض نے متاثرہ کرن سے وقوعہ کے دن سے لے کر 20اگست تک 14426سیکنڈ کال کی اور متاثرہ خاتون کرن کے 46فرضی نام بنانے میں کردار ادا کیا ،م

    لزم فیض کی لالچ میں وصول کردہ رقم پولیس نے برآمد کرنے کے ساتھ ملزمان سے لیپ ٹاپ بھی برآمد کر لیا ہے جس سے تفتیش کے عمل کو مزید وسعت دی جارہی ہے اورڈیٹا کا تجزیہ کیا جارہا ہے جس سے مزید انکشافات متوقع ہیں۔ایڈیشنل آئی جی کی جوائینٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ کو داد دی اورتمام ٹیم کی کارکردگی کوسراہتے ہوئے نقدانعام اور تعریفی سرٹیفیکیٹ دینے کااعلان کیا ہے۔

  • ڈیرہ . سیلاب زدگان کی امداد کیلئے ننکانہ صاحب سے رفاہی تنظیم کے کارکنان امداد لیکر پہنچ گئے

    ڈیرہ . سیلاب زدگان کی امداد کیلئے ننکانہ صاحب سے رفاہی تنظیم کے کارکنان امداد لیکر پہنچ گئے

    ڈیرہ غازیخان میں سیلاب زدگان کی امداد کیلئےننکانہ صاحب سے رفاہی تنظیم کے کارکنان امداد لیکر پہنچ گئے
    باغی ٹی وی رپورٹ: سیلاب زدگان کی امداد کیلئےننکانہ صاحب سے رفاہی تنظیم کے کارکنان امداد لیکر پہنچ گئے جنہوں نے خود متاثرہ علاقوں میں جاکر امدادی سامان تقسیم کیا ،مزید دیکھئے اس ویڈیو میں
    .

  • دریائے سندھ میں طغیانی ،ہزاروں ایکڑ فصلیں زیر آب ،8 لاکھ کیوسک سیلاب کے ریلے کا خطرہ

    دریائے سندھ میں طغیانی ،ہزاروں ایکڑ فصلیں زیر آب ،8 لاکھ کیوسک سیلاب کے ریلے کا خطرہ

    دریائے سندھ میں طغیانی ،ہزاروں ایکڑ فصلیں اور وسیع علاقہ زیر آب آگیا
    باغی ٹی وی رپورٹ،ڈیرہ غازیخان میں دریائے سندھ میں طغیانی سے کچہ بیٹ علاقے جن میں شادن لنڈکے دریائے سندھ کی پٹی میں واقع نشیبی علاقے ،شاہ صدردین،پیرعادل،موضع لاڈن ،کلے والی ،موضع کوٹلہ میرحسین،موضع بیٹ ملانہ،موضع نوریہ کوریہ شرقی اور موضع نوریہ کوریہ غربی کامشرقی حصہ،موضع دراہمہ کے دریائی علاقے،موضع سکھیراارائیں،سمینہ سادات کے قریبی علاقوں کے علاوہ جکھڑامام شاہ اوربیٹ بیت والاکے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔

    سیلاب سے ہزاروں ایکڑ کپاس،جوار،مونگی اور دیگر فصلیں تباہ ہوگئیں سیلاب سے متاثر ہونے والے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مکامات پر منتقل ہوناشروع ہوگئے ہیں۔ڈیرہ غازیخان اور گردونواح میں وقفے وقفے سے بارش ہے ،ایک ہفتے سے جاری بارشوں سے عوام کوکافی مشکلات کا سامناکرناپڑ رہا ہے اس کے علاوہ بارش کے باعث کوہ سلیمان کے دامن سے نکلنے والی رود کوہی کے سیلابی ریلوں میں طغیانی آئی ہوئی ہے جس سے نشیبی علاقے زیرآب آئے ہوئے ہیں،ڈیرہ غازیخان کی ضلعی انتظامیہ کوہ سلیمان کی رودکوہیوں کے سیلاب سے نمٹنے میں مصروف ہے ،جس کے باعث ضلعی انتظامیہ نے ابھی تک دریائے سندھ میں فلڈ کی وارننگ جاری نہیں کی ہے

    جبکہ پروونشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی نے مسلسل ہونے والی بارشوں کی وجہ سے ڈیرہ غازیخان اورراجن پورمیں دریائے سندھ میں سیلاب آنے کی وارننگ جاری کی ہوئی ہے،جس میں کہاگیا ہے دریائے سندھ کے نزدیکی نشیبی علاقوں میں سیلاب آسکتاہے۔دوسری تازہ ترین اپڈیٹ کے مطابق ضلع غازی خان میں رود کوہیوں کے ساتھ دریائی سیلاب کا شدید خدشہ ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے کہا کہ دریائے سندھ میں ساڑھے آٹھ لاکھ کیوسک سیلابی ریلا کی پیشنگوئی کی گئی ہے جو 22 اگست کو ہیڈ تونسہ سے گزرے گا اور کسی بھی وقت ضلع کو متاثر کرسکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے کہا کہ دریائے سندھ کے سیلاب نشیبی علاقے زیر آب آسکتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان شہر کے تمام سرکاری ادارے ریلیف کیمپس میں تبدیل کردئیے گئے ہیں اور 55 مختلف مقامات پر فلڈ ریلیف کیمپس کی تیاری کے بھی احکامات جاری کردئیے گئے ہیں ۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان شہر میں موجود یونیورسٹی ،کالجز اور سکولوں کی عمارتوں کو فلڈ ریلیف کیمپس میں تبدیل کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے سیلاب سے تین لاکھ کی آبادی اور 200 مواضعات متاثر ہوسکتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے عوام سے کہا کہ وہ دریا کے نشیبی علاقے فوری طور خالی کردیں۔عوام اپنی جان و مال کے تحفظ کےلئے بروقت محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں۔عوام کے انخلاء کےلئے 200 سے زائد گاڑیاں محفوظ مقامات پر پہنچا دی گئی ہیں۔

  • ڈیرہ غازیخان ۔ کوہ سلیمان ، فلڈریلیف آپریشن کیلئے فوج سے ہیلی کاپٹرطلب

    ڈیرہ غازیخان ۔ کوہ سلیمان ، فلڈریلیف آپریشن کیلئے فوج سے ہیلی کاپٹرطلب

    ڈیرہ غازیخان ۔ کوہ سلیمان ، فلڈریلیف آپریشن کیلئے فوج سے ہیلی کاپٹرطلب
    باغی ٹی وی رپورٹ۔لینڈسلائیڈنگ،رابطہ سڑکیں ٹوٹ جانے کے باعث فلڈریلف سرگرمیوں مشکلات کے باعث،ڈیرہ غازیخان کی ضلعی انتظامیہ نے کوہ سلیمان کے دشوار گزار علاقوں میںفلڈریلیف آپریشن کیلئے فوج سے ہیلی کاپٹرطلب کرلئے ہیں ۔ڈپٹی کمشنرمحمدانور بریار نے کہاہے کہ ہیلی کاپٹروں کیلئے پاک فوج کوباقاعدہ لیٹرلکھ دیاہے اور پاک فوج سے ہیلی کاپٹر طلب کرلیاہے،انہوں نے کہاکہ بارشوں اور پہاڑی تودے گرنے سے کوہ سلیمان میں راستے منقطع ہیں، خیمے،خشک راشن اور دیگر امدادی سامان کی ترسیل میں مشکلات سامناہے،سیلابی پانی میں پھنسے لوگ ہماری مدد کے منتظر ہیں،ڈپٹی کمشنر محمد انور بریارنے کہاکہ کھرڑ بزدار ،بارتھی زین،رفورٹ منرو اور دیگر کوہ سلیمان کے دیگر علاقوں میں ہیلی کاپٹر سروس کی فوری ضرورت ہے تاکہ ضروری امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایاجاسکے،ڈپٹی کمشنر محمد انور بریارنے لکھے گئے لیٹرمیں کہاکہ ہیلی کاپٹر کے ساتھ عملہ اور ریکسیورز بھیجے جائیں ،پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک کو ہیلی کاپٹر سروس کیلئے فوکل پرسن مقررکردیاگیاہے جبکہ میدانی علاقوں میں ضلعی انتظامیہ کی فیلڈ فورس متحرک ہے،ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ کوہ سلیمان کے اکثریت علاقوں میں راستے منقطع ہیں،وڈور،سخی سرور،سنگھڑ اور دیگر رود کوہیوں میں تاریخ کے سب سے بڑے سیلابی ریلے آئے،اس وقت تک سیلاب زدگان میں 25 جولائی سے 20 اگست تک 10200 خیمے ،5900 آٹا کے تھیلے تقسیم کئے گئے ہیں،پہاڑی اور میدان کے دسترس والے علاقوں میں18000 خشک راشن ،قورمہ اور پلا ئو کی 1600 دیگیں، 4000 منرل واٹر،3200 مچھر دانیاں،520 کمبل اور 25 ہائی جین کٹس بھی تقسیم کی گئیں۔

  • کوہ سلیمان سیلاب ،راجن پور ڈوبنے کا خطرہ، شہریوں کومحفوظ مقام پرمنتقل ہونے کاحکم۔

    کوہ سلیمان سیلاب ،راجن پور ڈوبنے کا خطرہ، شہریوں کومحفوظ مقام پرمنتقل ہونے کاحکم۔

    کوہ سلیمان سیلاب ،راجن پورڈوبنے کاخطرہ، شہریوں کومحفوظ مقام پرمنتقل ہونے کاحکم۔
    بین الصوبائی شاہراہیں بند، 72 گھنٹے کی مسلسل بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے ایک مرتبہ پھر قومی شاہراہ N-70 راکھی گاج کے مقام پر مکمل بند،سینکڑوں گاڑیاں مسافر پھنس گئے
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔راجن پور کی ضلعی انتظامیہ کی طرف اعلانات کئے جارہے ہیں کہ رودکوہی درہ چھاچھڑاورکاہاسلطان کاسیلابی ریلاکسی بھی وقت راجن پورشہرمیں مغربی طرف سے کسی بھی وقت داخل ہوسکتاہے ،جس کی وجہ راجن پورشہرکوشدیدخطرہ ہے اس لئے شہری فوراََمحفوظ مقامات پرمنتقل ہوجائیں،راجن پور مساجد میں اعلانات شروع، شہر خالی کرنے کا حکم شہری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے لگے ،
    <
    ڈیری غازی خان جام پور، فاضل پور اور راجنپور سمیت ملک بھر میں بارشیں اور سیلابی ریلوں کی تباہ کاریاں جاری،متاثرین بے یارومددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور،ڈیرہ غازی خان کوہ سلیمان فورٹ منرو میں 72 گھنٹے کی مسلسل بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے ایک مرتبہ پھر قومی شاہراہ N-70 راکھی گاج کے مقام پر مکمل بند،سینکڑوں گاڑیاں مسافر پھنس گئے۔اس وقت کوہ سلیمان کی تقریبا تمام رودکوہیوں میں پانی کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے باٹھی رود کوہی کا پانی اس وقت جھوک بودو کراس کر رہا ہے اور لتڑا رودکوہی کا پانی لعلانی کراس کر رہا ہے ،شمتالہ سے بھی پانی آ رہا ہے جو باٹھی رودکوہی میں شامل ہو گامٹھوان لہڑ کا پانی بھی پہلے سے زیادہ بتایا جا رہا ہے اور کنوہاں رودکوہی اس وقت کوہر کراس کر رہی ہے،درہ وڈور سے بہت بڑا سیلابی ریلا اس وقت موضع بیلہ سے گزر رہا ہے

    گدپور، لوہار والا، پائگاہ، معموری،چوٹی سیفن کے نزدیکی آبادیاں اور ٹریکٹر فیکٹری ایریا کے نشیبی علاقے سیلاب کی زدمیں آسکتے ہیں،سخی سرور کوہ سلمان کے پہاڑی علاقوں میں بارشوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ تا حال جاری ہے سخی سرور ندی سے سیلابی ریلہ گزر رہا ہے، تھانہ سخی سرور پولیس اور بارڈر ملٹری پولیس تھانہ سخی سرور کی طرف سے سیلابی ریلے ندی میں نہانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ایس ایچ اوز کی جانب سے اہلکار تعینات کر دئیے گئے ہیں جبکہ کچھ پوائنٹ پر خار دار تاریں بھی لگا دی گئی ہیں۔

  • بلوچ لیوی فورس کے ملازمین سے سوتیلی جیساسلوک

    بلوچ لیوی فورس کے ملازمین سے سوتیلی جیساسلوک

    بلوچ لیوی فورس کے ملازمین سے سوتیلی جیساسلوک ، سکیل اپ گریڈ نہ ہوسکے،بلوچ لیوی اور پنجاب پولیس کی تنخواہوں کے تما م کوڈ ایک ہی ہیں
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔بلوچ لیوی ڈیرہ غازی خان کے ملازمین آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور بلوچ لیوی ڈیرہ غازی خان1901 میں معرضِ وجود میں آئی اور تاحال تحصیل کوہ ِ سلیمان ٹرایبل ایریا اور جوڈیشل ایریا (میدانی علاقہ)ضلع ڈیرہ غازی خان میں بطور لوکل پولیس ، پنجاب پولیس اور باڈر ملٹری پولیس کے شانہ بشانہ پنجاب پولیس کی کمانڈ میں ڈیوٹی سرانجام دے رہی ہے ۔ بلوچ لیوی ڈیرہ غازیخان انتہائی محنت اور جانفشانی سے اپنے فرائض منصبی سرانجام دیتی ہے قبائلی علاقہ میں جہاں پنجاب پولیس اور بی ایم پی کے اہلکارکارروائیاں کرنے سے گھبراتے ہیں وہاں ان خطرناک علاقوں میںبلوچ لیوی فورس کے جوان سینہ تان کرسماج دشمن عناصرکامقابلہ کرتے ہیں،

    جس کی کئی مثالیں موجود ہیں ان میںملک دشمن عناضر میںبدنا م زمانہ منگھن کلاتھی گینگ ، بگٹی گینگ ،گورچانی گینگ اور لادی گینگ کے اشتہاریوں کے ساتھ ضوان مردی سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے بلوچ لیوی فورس کے 6جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے،ان میں کچھ شہیدوں کوابھی تک سرکاری طورپرشہیدکادرجہ بھی نہیں مل سکا اس کے علاوہ بلوچ لیوی کو مراعات کے معاملے میں کافی عرصے سے نظر انداز کیا جاتا آ رہا ہے جس کی وجہ سے بلوچ لیوی ملازمان کسمپرسی کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ بلوچ لیوی اور پنجاب پولیس کی تنخواہوں کے تما م کوڈ ایک ہی ہیں مگر پنجاب پولیس کے سکیل کی اپ گریڈیشن ہو چکی ہے مگر محکمہ بلوچ لیوی کے ملازمین تا حال اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں۔جس سے بلوچ لیوی کے ملازمین میں اضطراب پایاجاتا ہے کہ حکومت پنجاب، پنجاب پولیس کی طرح بلوچ لیوی ڈیرہ غازی خان کو بھی تمام مراعات(لا اینڈ رڈر الانس ۔ FDA وغیرہ) اور سکیل اپ گریڈیشن کیوں نہیں دی جارہی ۔غریب ملازمین کاحکومت پنجاب اور آئی جی پنجاب پولیس سے فوری نوٹس لینے کامطالبہ۔

  • ڈیرہ ریجن میں سیلاب زدہ علاقوں میں ایمر جنسی نافذ ،آر پی او کے حکم پرپولیس کی تمام ٹرانسپورٹ زیر استعمال، پولیس بسیں فراہم .

    ڈیرہ ریجن میں سیلاب زدہ علاقوں میں ایمر جنسی نافذ ،آر پی او کے حکم پرپولیس کی تمام ٹرانسپورٹ زیر استعمال، پولیس بسیں فراہم .

    ڈیرہ ریجن میں سیلاب زدہ علاقوں میں ایمر جنسی نافذ ،پولیس کی تمام ٹرانسپورٹ زیر استعمال، پولیس بسیں فراہم ، آر پی او کی حکم پر ریزروہائے سمیت پولیس کی اضافی نفری تعینات،آر پی او محمد سلیم کا سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ،پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک کا قبائلی علاقوں کے سیلابی علاقوں کا دورہ،بی ایم پی اور پولیس کے جوان رات بھر سے سیلابی پانی میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان محمد سلیم نے ڈیرہ غازی خان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا ۔آر پی او نے پولیس کی جانب سے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں اور لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا ۔ایس پی انویسٹی گیشن ڈیرہ غازی خان غیور احمد نے سیلاب متاثرین کے لیے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں اورمتاثرہ علاقو ں سے لوگوں کے انخلا کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا ۔

    آر پی او نے شدید بارشوں سے سیلاب کے با عث چاروں اضلاع میں ایمر جنسی نافذ کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ضلعی پولیس افسران کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کردیں ۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورہ کے دوران آر پی او نے حفاظتی بندوں کا معائنہ کر کے پولیس کو حفاظتی بندوں کی نگرانی اور حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی اور حکم جاری کیا کہ غیر قانونی اقدامات کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔آر پی او نے سیلاب زدہ علاقوں میں سیلاب متاثرین کیلئے قائم ریلیف کیمپس کا دورہ کر کے متاثرین کو فراہم کردہ سہولیات اور سیکیورٹی اقداما ت کا جائزہ لیا ۔ دورہ کے دوران آر پی او نے سیلاب متاثرین سے گفتگو کر کے انکے مسائل سنے اور انہیں مسائل کے مکمل حل اور ریلیف کی فراہمی کی یقین دہائی کرائی۔ آر پی او کے احکامات کی روشنی میں ریجن بھر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پولیس کی امدادی و ریلیف کی کارروائیاں جاری ہیں ۔ پولیس ٹیمیں رات بھر سے سیلابی پانی میں گھرے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں جبکہ آر پی او کے حکم سے متاثرہ علاقوں سے لوگوں اور ان کی املاک کی منتقلی کے لیے پولیس کی تمام ٹرانسپورٹ استعمال کی جا رہی ہے ۔

    لوگوں کی منتقلی ایس ایچ اوز کی گا ڑیوں میں بھی جاری ہے اور اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے لیے پولیس بسیں بھی فراہم کی گئی ہیں ۔امدادی سر گرمیوں میں تیزی لانے کیلئے پولیس کی تمام ریزرو ہائے اور اضافی نفری متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں ۔پولیس انتظامیہ ،ریسکیو اور دیگر اداروں کے ہمراہ فرنٹ لائن پر امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ شگافوں کو پر کرنے اور شاہراہوں اور راستوں کی بحالی کر رہی ہے۔

    اس کے علاوہ متاثرین کی فوری مدد اور جان ومال کے تحفظ کیلئے تمام تھانہ جات اورسرکل دفاتر میں قائم ریلیف کیمپس میں متاثرین کو منتقل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔دوسری طرف پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک قبائلی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل اور امداد کی فراہمی کے لیے متحرک ہوگئے ہیں،پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک نے قبائلی علاقوں کے سیلابی علاقوں کا دورہ کیا،

    بارڈر ملٹری پولیس کے تمام تھانے، سکولز مراکز صحت قبائلی لوگوں کے لیے کھول دیا ہے، قبائلی علاقوں میں راستے نہ ہونے پر اونٹوں کے ذریعے امدادی سامان کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک نے کہا بارڈر ملٹری پولیس قبائلی لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔

  • بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات

    بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات

    بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات
    باغی ٹی وی رپورٹ.ڈیرہ غازی خان میں بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات تفصیل کے بی ایم پی سوار الطاف حسین لنڈ جو کہ دوران سروس فوت ہو گیا تھا محکمانہ قانون کے مطابق کوئی اہلکار دوران سروس جب فوت ہو جاتا ہے تو اس کی جگہ اس کا بیٹا یا بیٹی کو قانونی پراسیس مکمل کرنے کے بعد تعینات کیا جاتا ہے اسی قانون کے تحت فوت ہونیوالے سوار (کانسٹیبل) الطاف حسین لنڈ کی بیٹی شہنیلا الطاف نے اپنے والد کی خالی ہونے والی سیٹ پر کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اکرام ملک کو درخواست گزاری کہ مجھے میرے والد کی جگہ پر میری تعیناتی کے آرڈر کیے جائیں جس پر کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اکرام ملک نے قانونی پراسیس مکمل کرنے کے بعد اس کی تعیناتی کے آرڈر جاری کر دئیے اس طرح بارڈر ملٹری پولیس کی تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل بھرتی ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا

  • ڈیرہ غازی خان میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید سیلابی ریلوں کا خطرہ

    ڈیرہ غازی خان میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید سیلابی ریلوں کا خطرہ

    ڈیرہ غازی خان میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید سیلابی ریلوں کا خطرہ ہے-

    باغی ٹی وی : – ڈیرہ غازی خان اور تونسہ شریف میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی ہےڈیرہ غازی خان میں کوہ سلیمان پر موسلادھار بارشوں سے بستی لتڑہ کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا برساتی نالے مٹھوان کا سیلابی ریلا حفاظتی بند بہا کر لےگیا سیلابی ریلا بستی لتڑہ کی شہری آبادی میں داخل ہو گیا متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی شروع ہو گئی۔

    ملک بھرکے مختلف علاقوں میں سیلابی صورت حال سے ہزاروں متاثرین بے گھر

    آئندہ دو سے تین روز کے دوران تونسہ شریف اورکوہ سلیمان کے سلسلہ میں طوفانی بارشوں کا امکان ہے جس سے ضلع بھر کے برساتی ندی نالوں میں شدید طغیانی آسکتی ہےضلع بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے تمام اداروں کے اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، مزید کشتیاں تونسہ منگوالی گئی ہیں۔

    برساتی ندی نالوں سے ملحقہ آبادیوں کے مکینوں نے نقل مکانی شروع کردی، بیشتر خاندان محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔ بیشتر خاندان سڑکیں اور رابطہ پل بہہ جانے کی وجہ سے پیدل اور اونٹوں کے ذریعے ضروری سامان سمیت محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔

    وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، 5 مکانات اور 3 بجلی گھر شدید متاثر،5 افراد…

    سیلاب نے تونسہ شریف میں تباہی مچا دی ہے متعدد بستیاں سیلابی پانی میں ڈوب گئیں۔ سیلابی ریلے میں سب سے زیادہ نقصان تونسہ شریف کے مغرب میں آباد تاریخی قصبے “منگڑوٹھہ” میں ہوا سینکڑوں مکانات اور مال مویشی سیلابی پانی کے ساتھ بہہ گئے-

    اسسٹنٹ کمشنر تونسہ کے مطابق فلڈ ریلیف کیمپوں میں متاثرین کو تین وقت کھانا اور رہائش دی جا رہی ہے، تاہم کئی متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر ہیں ۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری

  • ڈی جی خان اور راجن پور کے ندی نالوں میں طغیانی ،ایمرجنسی نافذ،ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    ڈی جی خان اور راجن پور کے ندی نالوں میں طغیانی ،ایمرجنسی نافذ،ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے ندی نالوں میں طغیانی کے باعث تباہی مچ گئی ،سیلاب زدہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق تونسہ شریف میں بڑے پیمانے پر دیہات اور بستیاں پانی میں گھر گئیں۔ روجھان کی رودکوہی میں پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا، راجن پور میں داجل کو جام پور سے ملانے والا پل ٹوٹ گیا۔ میراں پور سمیت درجنوں دیہات پانی میں ڈوب گئے۔

    ڈی جی خان اور راجنپور اضلاع کے سیلاب زدہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی

    تونسہ میں انڈس ہائی وے ڈوبنے سے سندھ جانے والی ٹریفک رک گئی۔ بلوچستان سے آنے والے سیلابی ریلے سے تین لاشیں بر آمد کی گئیں۔

    ڈی جی خان اور راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کی ہدایت پر ریلیف آپریشن تیز کر دیا گیا۔پنجاب کے ریسکیو، ریونیو، ہیلتھ، لائیو اسٹاک اور دیگر محکمے ہائی الرٹ کر دیے گئے۔

    کمشنر ڈی جی خان کا کہنا ہے کہ ڈی جی خان میں سیلاب سے متاثرہ بین الصوبائی شاہراہ پر ٹریفک بحال کر دی گئی۔ڈی جی خان اور راجن پور میں ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ۔

    ڈی جی خان اور راجن پور کے دونوں اضلاع میں ایک ہزار خیمے نصب کیے گئے ہیں۔فلڈ ریلیف کیمپس میں تین وقت کا کھانا اور ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    کمشنر ڈی جی خان عثمان انور کے مطابق ڈی جی خان اور راجن پور میں امدادی سرگرمیوں کےلیے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں،مویشیوں کی ویکسی نیشن کیلئے فکسڈ کیمپ کے علاوہ موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ سیلاب زدگان کے ضروری علاج معالجہ کی سہولیات کا مکمل انتظام کیا گیا ہے۔

    بھارت نے دریائے راوی میں پانی چھوڑ دیا، سیلاب کا خطرہ

    ادھر توبہ اچکزئی میں کئی گھنٹوں ہونے والی موسلادھار بارش نے ہر طرف پانی پانی کردیا شدید بارشوں سے سیلابی ریلےقلعہ عبداللہ میں داخل ہوگئے جس سے کئی دیہات اور سڑکیں ڈوب گئیں سیلابی ریلے سے باغات اور فصلیں تباہ جب کہ کئی مویشی بہہ گئے، انتظامیہ نے صورتحال خراب ہونےپر شہریوں کی فوری منتقلی شروع کردی۔

    خاران میں 2 لیویز افسران سیلابی ریلے میں بہہ کرجاں بحق ہو گئے جب کہ موسیٰ خیل، دکی، بارکھان اور کوہلو میں سیلاب سے بڑے پیمانے پرتباہی ہوئی موسیٰ خیل میں سیلابی ریلوں سے 100 سے زائد مکانات گرگئے جب کہ 9 افراد جاں بحق ہوگئے ادھر سبی، جیکب آبادریلوے ٹریک زیر آب آگیا جب کہ مسافروں کو گاڑیوں کے ذریعے سبی ریلوےاسٹیشن پہنچایا گیا۔

    دوسری جانب سکھر میں کندھ کوٹ کے قریب دریائے سندھ میں کشتی الٹنے سے 3 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے پولیس کے مطابق کشتی الٹنے کا واقعہ کندھ کوٹ کے دریائی علاقے گھوڑا گھٹ میں پیش آیا جہاں دریائے سندھ پار کرتے ہوئےکشتی الٹ گئی۔

    حادثے کے نتیجے میں کشتی میں سوار تین افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے جن کی لاشیں نکال لی گئی ہیں متاثرہ کشتی میں 8 افراد سوار تھے جن میں سے 5 افراد کو زندہ بچالیا گیاہے۔

    حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھرگیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق اور کز ئی، کرم،ڈی آ ئی خان اور وزیرستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے خیبرپختونخوا، آزادکشمیر ، پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں بیشتر مقا مات پر بارش کا امکان ہے علاوہ ازیں اسلام آباد میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان میں چند مقا مات پر تیزہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے،بارکھان،سبی، ژوب ،قلات ، آواران،خضدار،کیچ، پنجگور،گوادر اور لسبیلہ میں بارش کا امکان ہے میانوالی ،سرگودھا، خوشاب ، بھکر،لیہ ، ڈ یر ہ غا زی خان ، گوجرانوالہ اور گجرات میں بارش متوقع ہے-

    پنجاب میں سیلاب کا خدشہ، وزیر اعلیٰ پنجاب نے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا

    محکمہ موسمیات کے مطابق سیالکوٹ، لاہور، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، جھنگ ،منڈی بہاؤالدین ، نارووال اور فیصل آبا د میں بارش کا امکان ہے ساہیوال، ملتان، بہاولپور، بہاولنگراور رحیم یار خان میں بھی چند مقامات پر بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق تھر پارکر، عمر کوٹ ، میر پور خاص ، بینظیر آباد، بدین ، دادو، حیدر آباد اور کراچی میں بارش متوقع ہے،ٹھٹھہ ، مٹیاری ،جیکب آباد، جامشورو، سکھر،لا ڑ کا نہ ، ٹنڈو جام، ٹنڈ و اللہ یار میں بارش متوقع ہے –

    محکمہ موسمیات کے مطابق ٹنڈو محمد خان، سا نگھڑ، خیر پور، نو شہرو فیروز، کراچی، حیدر آباد، میر پور خاص میں بارش کا امکان ہے دیر،چترال،سوات، مالا کنڈ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور،شانگلہ اور بو نیر میں بارش متوقع ہے جبکہ مردان، پشاور ، نو شہرہ، مہمنڈ، کوہاٹ، بنوں، خیبر، با جوڑ، چار سدہ اور لکی مروت میں بارش کا امکان ہے-

    دوسری جانب ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کااخراج 2لاکھ 18 ہزازکیوسک ہے تربیلا ڈیم سے بجلی کی پیداوار 4888 میگاواٹ ، پانی کی آمد 2لاکھ 96 ہزار کیوسک ہے تربیلا ڈیم میں پانی کا لیول 1547 فٹ ،منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1171 فٹ ہے-

    تونسہ میں سیلاب، حالات پریشان کُن :فوج سےمدد مانگ لی گئی