Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • سیلاب زدگان ہماری بھرپور توجہ کے مستحق ہیں۔مبشرلقمان

    سیلاب زدگان ہماری بھرپور توجہ کے مستحق ہیں۔مبشرلقمان

    سیلاب زدگان ہماری بھرپورتوجہ کے مستحق ہیں۔مبشرلقمان
    ہمارے نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں اٹھائے نوکری کیلئے دردرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں،آنے والا وقت ڈیجیٹل میڈیاکاہے،باغی ٹی وی پاکستان کا سب سے بڑاڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورک ہے جو5زبانوں میں خبریں نشراورشائع کررہاہے۔
    باغی ٹی وی رپورٹ:ڈیرہ غازیخان،پاکستان کے معروف اور سینئراینکرپرسن اور باغی ٹی وی کے CEOمبشرلقمان سیلاب سے متاثرہ ضلع ڈیرہ غازیخان میں موجود ہیں وہ اپناپروگرام” کھراسچ ” وہیں سے کررہے ہیں اور سیلاب متاثرین سے مل رہے ہیں اور ان کی مشکلات سے عوام ،اہل دل، صاحب ثروت افراد کوآگاہ کررہے ہیں ۔ ڈیرہ غازیخان میں ان کے قیام کے دوران میری یعنی ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی بیوروچیف سائوتھ پنجاب اور سینئرصحافی دوستوں بیوروچیف روزنامہ نیاکل ملتان چوہدری شکیل احمد ،بیوروچیف روزنامہ مرکزاسلام آبادمنظورخان لغاری کے ہمراہ جناب مبشرلقمان صاحب سے تقریباََ03:30گھنٹے سے زائدملاقات ہوئی ،

    اس ملاقات میں ملکی سیاست سے لیکر نوجوانوں کے مسائل اور سیلاب زدگان کی بحالی اوردیگراہم ایشوزپر کھل کربات ہوئی ۔جناب مبشرلقمان نے بتایاکہ سیلاب سے ہونے والی تباہی وبربادی وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں ،جتنانقصانات بتائے جارہے ہیں وہ بہت کم ہیں،سیلاب زدگان ہماری بھرپورتوجہ کے مستحق ہیں ،

    ہمیں ان کی بحالی کیلئے بھرپورکام کرنے کی ضرورت ہے،یہ کتناخوفناک منظرہوگاجب وہ سوئے تھے وہ شاہ تھے جب وہ اٹھے توگدابن چکے تھے، انہوں نے بتایاکہ ایک توسیلاب متاثرین کے گھرتباہ ہوئے ہیں دوسرا اُن کی سیلابی پانی کے کٹائو سے زمین بھی چھن گئی ہیں ،سیلاب متاثرین کی جہاں بستیاں تھیں اب وہ 20/25فٹ گہرے نالوں میں تبدیل ہوچکی ہیں،ڈیرھ ،دوماہ بعدسردیاں آجائیں گی تومتاثرین ٹینٹوں میں کیسے جی پائیں گے،ہم سب کوملکر خوراک اور راشن کے ساتھ ان کی مستقل رہائش کیلئے چھت کاانتظام کرناہوگا۔مبشرلقمان نے اس ملاقات میں بتایا کہ یہ کتنا بڑاالمیہ ہے کہ ہمارے نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں اٹھائے نوکری کیلئے دردرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں،ان نوجوانوں کے کتنے خواب ہوں گے ،جوحکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ چکناچورہوچکے ہیں،ستم تویہ ہے کہ کرپشن ،دھونس دھاندلی ،اقرباء پروری نے میرٹ نے کوگالی بنادیا ہے،

    اعلی تعلیم یافتہ نوجوان لیبرکی طرح مزدوری کرنے مجبورہیں ،حکمرانوں کو نوجوانوں کے مسائل کے حل پرتوجہ دینی چاہئے ۔مبشرلقمان نے ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ڈیجیٹل میڈیاایک حقیقت ہے،آنے والاوقت ڈیجیٹل میڈیا کاہے پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیاکہیں پیچھے چلے گئے ہیں،اسی ضرورت کے پیش نظرہم نے باغی ٹی وی کی بنیاد رکھی جوکہ پاکستان کا سب سے بڑاڈیجیٹل میڈیانیٹ ورک ہے جواس وقت 5زبانوں میں خبریں نشراورشائع کررہاہے،جن پانچ زبانوں خبریں نشراورشائع کی جارہی ہیںان میں اردو،انگریزی ،پشتو،دری اورچائنیززبان شامل ہے۔ہماری کوشش ہے عوام تک روائتی خبروں کی بجائے حقیقت پرمبنی خبریں بروقت پہچائیں۔

  • روجھان سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہوا،حکومت کوبھی انسانی بنیادوں پرامداد دینی چاہیے:دوست مزاری

    روجھان سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہوا،حکومت کوبھی انسانی بنیادوں پرامداد دینی چاہیے:دوست مزاری

    روجھان:روجھان سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہوا،حکومت کوبھی انسانی بنیادوں پرامداد دینی چاہیے:دوست مزاری سابق ڈپٹی اسپیکرپنجاب اسمبلی بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک بہت بڑے زمیندار بھی ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس علاقے میں متاثرین کی مدد تو کررہی ہے مگرسیاسی بنیادوں پر ، جبکہ یہ حالات سیاست کرنے کے نہیں انسانی ہمدردی سب سے پہلے ہے

     

    اس سلسلے میں باغی ٹی وی کےسنیئررپورٹرفیض چغتائی جوکہ اس وقت راجن پور، ڈیرہ غازی خان اورتونسہ کے علاقوں میں سیلاب سے متاثرین خاندانوں سے مل رہے ہیں اور ان کے مسائل جان رہے ہیں اس وقت ڈیرہ غازی خان کے اس علاقے میں موجود ہیں جوسیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہوا ہے ،

     

    یہ روجھان کا علاقہ ہے جس علاقے سے دوست محمد مزاری تعلق رکھتے ہیں‌، دوست مزاری کا کہنا ہے کہ حکومت امداد کو سیاسی بنیادوں پرتقسیم کررہی ہے ، جبکہ اس علاقے کا ہرخاندان متاثرہے ، حکومت کو چاہیے کہ ایک مکمل سروے کرے اور پھرمتاثرین کوان کی ضروریات کے مطابق امداد دے تاکہ متاثرین پھر سے زندگی کی دوڑ میں شامل ہوسکیں

    تونسہ راجن پور،اور روجھان سیلاب سے تباہی،نواحی علاقے بستیاں زیر آب، متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔

    بارشوں کے باعث 27 ہزار 860 ایکڑ پر کاشت فصلیں متاثر ہو گئیں، راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کی سفارش ، آبیانہ، زرعی انکم ٹیکس سمیت سرکاری واجبات اور قرض معاف کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

  • ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

    ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

    سینئرصحافی اور اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کوہ سلیمان میں ایک بھی سیاسی جماعت کا ابھی تک کیمپ نظر نہیں آیا بڑے دکھ کی بات ہے کہ جن لوگوں کی وجہ سے سیاست دان ایوان اقتدار میں آتے ہیں . ابھی حضرت نے فرمایا کہ قدرتی آفت ہے مگر میں پوری طرح متفق نہیں ہوں ان سے ،یہ ہماری کوتاہیاں ہیں ،نالائقیاں اور چوریاں ہیں ان لوگوں کی جو ہمارے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں.

    کوہ سلیمان میں الخدمت فاوندیشن کی جانب سے امدادی کیمپ میں متاثرین سیلاب سے خطاب کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ جو بند ٹوٹے ہوئے ہیں یہ آپ کو بھی پتا ہے اور مجھے بھی پتا ہے کہ کیوں ٹوٹے ہوئے ہیں؟،انہوں نے کہا کہ 63 ارب روپے ڈی جی خان کیلئے پچھلے وزیراعلیٰ نے لگائے تھے، مجھے تو اس میں سے 63 روپے بھی کہیں لگے نظر نہیں آئے.

    مبشر لقمان نے کہا کہ میں کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہوں اور نا ہی میں کوئی سیاسی بیان دے رہا ہوں ،میں ایک عام شہری کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں،مبشر لقمان نے کہا کہ اگر میرے بچوں نے یہ پانی پینا ہو جو آپ لوگ پی رہے ہیں تو یہ بہت خوف ناک ہو گا،انہوں نے کہا کہ اگر میرے بچوں کو وہی سہولیات ہوں جو یہاں پر ہیں تو مجھے بڑا دکھ ہو گا.

    انہوں نے کہا کہ اس ڈی جی خان سے ایک صدر پاکستان ، دو پیجاب کے وزیراعلی ،دو گورنر اور 20 وزیر آچکے ہیں اور ڈی جی خان لگتا ہے کہ 20 ویں صدی میں ہے.مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ الخدمت والے تو ہیں یہاں اور کام کر رہے ہیں،لبیک والے بھی یہاں کام کر رہے ہیں اور دعوت اسلامی والے بھی کام کر رہے ہیں.اگر کوئی کام نہیں کر رہا تو سیاسی جماعتیں کام نہیں کر رہی ہیں.

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں ، یہ لوگ اورہم لوگ تو ریلیف کا کام ہی کر سکتے ہیں.انہوں نے کہا کہ آپ کیلئے ریلیف کے بعد اصل امتحان بحالی کا ہے ،دو ماہ کے بعد یہ ٹینٹ ختم ہو جائیں گے اور دو مہینے کے بعد موسم کی شدت شروع ہو جائے گی.

    انہوں نے کہا کہ ایک مہینے کے بعد میڈیا بھی اپنا منہ موڑ لے گا،کبھی کوئی شہباز گل کی کہانی آجائے گی ،کبھی کوئی آجائے گی تو اس وقت میں متاثرین سیلاب کے ساتھ ہونا الخدمت کا بہت بڑا کام ہو گا کہ آپ ان کی بحالی کیلئے کام کریں ، ہم آپ کی آواز ارباب اختیار اور باقی لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں.

    مبشر لقمان نے کہا کہ لوگ مدد کر رہے ہیں اور کرنا چاہ بھی رہے ہیں مگر انہیں اعتبار نہیں ہے کسی پر کہ وہ مدد کس کے ذریعے کریں؟ یعنی جتنے لوگ اعلانات کر رہے ہیں. مجھے کئی لوگوں نے کہا امریکہ اور یورپ سے کہ ہم مدد کرنا چاہتے ہیں اور پیسے بھیجنا چاہ رہے ہیں کہ تمھارے کس اکاونٹ میں بھیجیں،تو میں نے ان کو تین اکاونت دیئے ہیں ،ایک میں نے الخدمت کا اکاونٹ دیا ،دوسرا تحریک لبیک کا اکونٹ ہے اور تیسرا پاکستان آرمی کا اکاونٹ ہے یہ اکاونٹس لے لیں، ان کے علاوہ مجھے کسی پر اعتبار نہیں ہے.

    مبشر لقمان نے سیلاب ذدگان سے کہا کہ اللہ تعالی آپ کی مشکلیں آسان کرے اور ہمارا جو امتحان ہے اس میں ہمیں سرخرو کرے،ہمارا یہ بھی امتحان ہے کہ ہم کس طرح سے آپ کے دست وبازو بنتے ہیں، یہ پوری قوم کا امتحان ہے. اللہ تعالی ہم کو ایسی تمام آفتوں سے بچا کے رکھے. آمین

  • سیلاب متاثرین کی مدد و بحالی ہم سب کی قومی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔فیصل شاہکار

    سیلاب متاثرین کی مدد و بحالی ہم سب کی قومی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔فیصل شاہکار

    سیلاب متاثرین کی مدد و بحالی ہم سب کی قومی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔فیصل شاہکار
    پنجاب پولیس کے 6ہزار سے زائد جوان صوبہ بھر میں سیلاب زدگان کی معاونت کیلئے شب و روز مصروف عمل ہیں ۔آئی جی پنجاب
    باغی ٹی وی رپورٹ۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب فیصل شاہکار نے کہاہے کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے بد ترین سیلاب کا سامنا کر رہا ہے، متاثرین کی مدد و بحالی ہم سب کی قومی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ آئی جی پنجا ب نے کہاکہ مشکل وقت میں سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کے لیے پنجاب پولیس تمام وسائل کا استعمال یقینی بنارہی ہے اور سیلاب سے متاثرہ شہریوں کی مدد، تحفظ اور انہیں سہولیات دینے کیلئے دیگر ضلعی و حکومتی اداروں کے شانہ بشانہ ہے۔ آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے کہا کہ پنجاب پولیس کے 6ہزار سے زائد جوان صوبہ بھر میں سیلاب زدگان کی معاونت کیلئے شب و روز مصروف عمل ہیں اور ڈی جی خان، راجن پور، میانوالی، لیہ، بھکر، مظفر گڑھ سمیت دیگر متاثرہ اضلاع میں پولیس سیلاب زدگان کی مدد کیلئے متحرک ہے۔

    آئی جی پنجاب نے کہا کہ ریسکیو ریلیف ورک میں پولیس کی 400گاڑیاں، 288بائیکس، 74موٹر بوٹس اور دیگر وسائل ریسکیو ورک میں حصہ لے رہے ہیں، پنجاب پولیس کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں 388ریلیف کیمپس لگائے گئے جبکہ متاثرہ علاقوں کے 743دیہاتوں کو خالی کروایا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے کہاکہ 20ہزار 6سومتاثرین سیلاب اور 6ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف ورک جاری رہے گا۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ دریائی چیک پوسٹوں پرتعینات پولیس ٹیمیں الرٹ ہیں اور پولیس کی تمام موٹر بوٹس متاثرین کی مدد اور ریلیف ورک میں مصروف ہیں۔ آئی جی پنجاب نے سیلاب کے دوران ریسکیو ورک میں اچھی کارکردگی کرنے والے پولیس افسران و اہلکاروں کو شاباش دیتے ہوئے کہاکہ وہ خدمت خلق کے جذبے سرشار ہوکر متاثرین کی خدمت و مدد میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج ڈیرہ غازی خان میں سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے موقع پر افسران و اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے ڈیرہ غازی خان کے مختلف مقامات پر سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اورسیلاب زدگان کی مدد کیلئے جاری پولیس ریسکیو اینڈ ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔آر پی او ڈیرہ غازی خان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پولیس کی امدادی کاروائیوں بارے آگاہ کیاآئی جی پنجاب کو نشیبی علاقوں میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں اور تازہ ترین صورتحال بارے بریفنگ دی۔ آئی جی پنجاب نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی، پنجاب پولیس کی جانب سے راشن بیگز بھی تقسیم کیے۔ آئی جی پنجاب نے آر پی او آفس میں سیلاب کے دوران بہترین فیلڈ ورک سے عوام کی خدمت کرنے والے پولیس افسران و اہلکار وں میں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ پہلے سے زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کی خدمت و سہولت کیلئے سرگرم رہیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی ساتھ پنجاب، آر پی او ڈی جی خان اور ڈی پی او ڈی جی خان سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

  • تونسہ : وہواکے قریب سیلاب  سے متاثرہ بستی واجان کے مکین بے سہاراکھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور۔

    تونسہ : وہواکے قریب سیلاب سے متاثرہ بستی واجان کے مکین بے سہاراکھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور۔

    تونسہ : وہواکے قریب سیلاب سے متاثرہ بستی واجان کے مکین بے سہاراکھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور۔
    ہمارے ہاں کوئی حکومتی نمائندہ ،نہ این جی او اور نہ میڈیا کے نمائندے پہنچے،ہم بے یارومددگارحالات کے جبرکامقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازیخان کی تحصیل تونسہ شریف کوسیلاب سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا،سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے حکومت اورخیراتی ادارے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔اس کے باوجود کئی ایسے علاقے ہیں جہاں سیلاب متاثرین کی امدادکیلئے کوئی حکومتی نمائندہ ،نہ این جی او اور نہ میڈیا کے نمائندے پہنچے سکے ہیں

    ان میں سے تحصیل تونسہ کے علاقے وہوا کے قریب انڈس ہائی وے18کلو میٹر مغرب میں دامن کوہ میں واقع ایک بستی واجان جویونین کونسل لاکھانی پنجاب پولیس کے تھانہ وہوا کی حدود میں ہے،اس بستی سیلابی ریلے سے بہت نقصان پہنچا اس بستی کے بیشتر کچے مکان گرچکے ہیں بچ گئے ہیں وہ رہنے کے قابل نہیں ہیں،اس بستی کے سیلاب متاثرین تک آج تک کوئی خوراک ،امدادی سامان اور سرچھپانے کیلئے ٹینٹ حکومت یا کسی این جی او کی طرف سے نہیں دئے گئے ،اس علاقے کے سیلاب متاثرین کاصرف ایک ہی مطالبہ ہے کوئی ہمارے علاقے میں آئے اور دیکھے ہم کس طرح کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ،ان سیلاب متاثرین کامطالبہ کہ ہمیں سرچھپانے کیلئے ٹینٹ مہیا کئے جائیں۔

  • بین الصوبائی کوئٹہ روڈ  آئے روز لینڈ سلائنڈنگ سے ناکارہ ہوچکا ہے ،ایمرجنسی فنڈزجاری کرکے بحال کیاجائے۔ عبد السلام ناصر

    بین الصوبائی کوئٹہ روڈ آئے روز لینڈ سلائنڈنگ سے ناکارہ ہوچکا ہے ،ایمرجنسی فنڈزجاری کرکے بحال کیاجائے۔ عبد السلام ناصر

    بین الصوبائی کوئٹہ روڈ آئے روز لینڈ سلائنڈنگ سے ناکارہ ہوچکا ہے ،ایمرجنسی فنڈزجاری کرکے بحال کیاجائے۔ عبد السلام ناصر
    باغی ٹی وی رپورٹ.ڈیرہ غازیخان قومی شاہراہ کوئٹہ روڈ پر روزانہ پانچ ہزار سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں گزرتی ہیں راکھی گاج کے مقام پر آئے روز لینڈ سلائنڈنگ سے روڈ کئی کئی دنوں تک بلاک رہتا ہے جس سے ڈرائیورز اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔پچھلے کئی دنوں سے راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر لینڈ سلائنڈ نگ سے روڈ بند تھا ، دو ڈرائیورز کی اموات بھی ہوئی ہیں، ایمبلنسوں میں مریض اور میتیں پھنسی ہو ئی تھی ،ٹرکوں میں لوڈ لاکھوں مالیت کی سبزیاں اور فروٹ خراب ہو گئے اور مسافروں کے لیے کھانے پینے کے سامان کا بھی مسئلہ درپیش تھا، یہ پہاڑی سلسلے کا روڈ بالکل ناکارہ ہو چکا ہے آئے روز حادثات معمول بن چکے ہیں ٹریفک ہر وقت جام رہتی ہے اس روڈ کو ہنگامی بنیاد پر فنڈز جاری کیئے جا ئیں اور لینڈ سلائنڈنگ میں جان بحق ہونے والے ٹرک ڈرائیورز کے لواحقین کی مالی امداد کی جا ئے ۔ یہ بات گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر عبد السلام ناصر ، جنرل سیکرٹری ملک خالد محمود ، سینئر نائب صدر حاجی بلال علیانی نے پریس کلب ڈیرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ ہماراعلاقہ قدرتی آفات کا شکار ہے ہر طرف فلڈ آیا ہوا ہے ہم نے پہلے ہی دن سے خود جا کر انتظامیہ کوآفر کی کہ آپ کو جہاں بھی گڈز ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہے ہم اپنی ٹرانسپورٹ مہیا کرتے ہیں راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر 7جگہوں سے لینڈ سلائنڈ نگ ہوئی بڑے بڑے پتھر گرے ہیں جس سے روڈ مکمل طورپر بند ہو گیا تھا , پہلے دو دن بحالی کے لیے کوئی انتظامات نہیں کیئے گئے تھے ہم نے موقع پر جا کر بھاگ دوڑ کی کمشنر ڈیرہ اور ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کی اس دوران ہم نے وفاقی وزیرمواصلات مولانا اسدمحمود سے رابطہ کیا ان کی ذاتی دلچسپی اورضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کے بعد روڈ کی بحالی پر کام شروع ہوا ہے وفاقی وزیرمواصلات مولانا اسدمحمود کے حکم پر فوراً بھاری مشینری موقع پر روانہ کرکے کام شروع کر وا دیا گیا ۔چھ دن مسلسل کام کرنے سے روڈ بحال ہوگیاجس پرہم وفاقی وزیرمواصلات مولانا اسدمحمود کاشکریہ اداکرتے ہیں اورانہیں دعوت دیتے ہیں وہ فورٹ منرو تشریف لائیں اور بین الصوبایی روڈ کی حالت زار خود ملاحظہ فرمائیں۔دوسری اس روڈ کی بحالی میں بارڈر ملٹری پولیس کا اہم کردار ہے پولیٹیکل اسسٹنٹ اکرام ملک نے دن رات اپنی نگرانی میں کام کرایا اور مشکلات اس گھڑی میں موجود رہے اور اپنا کردار ادا کیا نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے بھی بھرپور کردار ادا کیا انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسد محمود اس روڈ کی تعمیر کے لیے فوری طور پر فنڈز جاری کرائیں۔

  • چوٹی زیریں،پی ٹی آئی ایم این اے محمد خان لغاری کی بے حسی پرووٹرپھٹ پڑے

    چوٹی زیریں،پی ٹی آئی ایم این اے محمد خان لغاری کی بے حسی پرووٹرپھٹ پڑے

    ڈیرہ غازی خان چوٹی زیریں ، ممبرقومی اسمبلی سردار محمدخان لغاری نے بے حسی کی انتہاکردی اپنے حلقہ انتخاب کے سیلاب متاثرین کی اشک شوئی کیلئے پانچ منٹ بھی نہ نکال سکے ،ووٹرپھٹ پڑے، ویڈیو دیکھئے

  • بس بہت ہوگیا،یہاں سے نکل جاؤ،تمہاری کرپشن سے ہمارے علاقے ڈوبے ہیں۔رضاربانی کھر

    بس بہت ہوگیا،یہاں سے نکل جاؤ،تمہاری کرپشن سے ہمارے علاقے ڈوبے ہیں۔رضاربانی کھر

    بس بہت ہوگیا،یہاں سے نکل جائو،تمہاری کرپشن سے ہمارے علاقے ڈوبے ہیں۔ رضاربانی کھر چیف انجینئرپربرس پڑے
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ گذشتہ روز چیف انجینئرمحکمہ انہار ڈیرہ غازیخان ڈویژن ساجد رضوی جب مظفرگڑھ کے علاقے میں گئے تو ان کاآمناسامناپیپلزپارٹی کےایم این اے قومی حلقہ این اے 183 مظفرگڑھ رضاربانی سے ہوگیاتو انہوں نے چیف انجینئرساجدرضوی سے کہا تم یہاں کیا کرنے آئے ہوتمہاری کرپشن کی وجہ ہمارے علاقے سیلاب میں ڈوب گئے ،تمہیں رانالیاقت کے علاوہ اور کوئی ٹھیکیدارنہیں ملتا،بس بہت ہوگیا،مزیدڈرامے بازیاں بندکرو،یہاں سے نکل جائو،مظفرگڑھ میں سیلاب پررضاربانی کھر چیف انجینئرساجدرضوی اور ایکسئن امیر تیمور سے شدید ناراضگی کااظہارکیا اوران پرغصہ ہوئے اورانہیں علاقے سے نکل جانے کاکہا۔
    ویڈیو میں دیکھاجاسکتا ہے کہ وہ کس طرح غصہ کا اظہارکررہے ہیں


    دوسری طرف گذشتہ روز ہفتہ کے دن ڈیرہ غازیخان میں رانا لیاقت ٹھیکیدار نے چیف انجینئرساجدرضوی سے ان کے آفس میں ملاقت کی ،ذرائع کاکہنا ہے کہ ایک بار پھرایمرجنسی ورک کے نام پر رانالیاقت کوایڈوانس میں بھاری رقم جاری کرنے کیلئے ایکسئن اورایس ڈی او زین شکیل کوکہہ دیاہے،راناٹریڈرزکامالک ٹھیکیدار رانا لیاقت وہی ہے جس کی کرپشن کی سپربندلنک نمبرآرڈی 138اور آرڈی 165کودریائے سندھ نے واش کردیا ہے ،جس کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی .

  • ڈیرہ غازی خان میں  بارش کا سلسلہ جاری، برساتی ندیوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ

    ڈیرہ غازی خان میں بارش کا سلسلہ جاری، برساتی ندیوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ

    ڈیرہ غازی خان میں بارشوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جس سے برساتی ندیوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ سیلاب سے کچے مکانات تباہ ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : ڈیرہ غازی خان میں گزشتہ رات سے شہر اورکوہ سلیمان میں بارش کا سلسلہ جاری ہے جہاں وڈوربرساتی ندی میں اونچے درجے کا سیلابی ریلا گزررہا ہے جبکہ مزید بارش سے برساتی ندیوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    ڈی جی خان کے سخی سرور روڈ پر حفاظتی بند ٹوٹنے سے کوئٹہ روڈ پر قریبی بستیاں زیر آب آگئیں قبائلی علاقوں میں نویں روزبھی زمینی راستے منقطع ہیں اور قبائلی علاقوں میں 90 فیصد کچے گھروں کو نقصان پہنچا ہےجہاں ریلیف کا کام جاری ہے ڈی جی خان میں گرڈو کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ سے پنجاب بلوچستان شاہراہ تاحال بند ہے۔

    ادھر کوئٹہ کے علاقے نواں کلی بائی پاس پر برساتی ریلےگھروں میں داخل ہوگئےپروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پی ڈی ایم اے اور پولیس کی ریسکیو ٹیمیں علاقے میں موجود ہیں جنہوں نے خواتین اور بچوں سمیت 20سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا ہے-

    دوسری جانب کوہلو اور ماوند میں رات گئے سے بارش جاری ہے جہاں کوہلو میں مسلسل بارش سے متعدد علاقوں میں لوگ محصور ہوگئے ہیں جبکہ درجنوں کچے مکانات گرنے سے لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں کوہلومیں ضلعی انتظامیہ کےپاس خیموں کی قلت ہے اور متاثرین حکومتی امدادکےمنتظر ہیں۔

    لیویز حکام کا کہنا ہے کہ کوہلوکی بیجی ندی میں گزشتہ روزبہہ جانے والے 2 افرادکی تلاش تاحال جاری ہے،کوہلو کاکوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان سے زمینی رابطہ آج 12 ویں روز بھی منقطع ہے۔

    مون سون بارشوں اور سیلاب سے تباہیاں،300 بچوں سمیت900 سے زائد اموات،اور5 لاکھ کے قریب مکانات تباہ

    مستونگ شہر اور گرد و نواح میں رات سے موسلادھار بارش جاری ہے جس سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے اور سیلاب متاثرین کی مشکلات بڑھ گئیں۔

    جبکہ اندرون سندھ میں بارش کی تباہ کاریوں سےمتاثرہ افرادکراچی پہنچ گئےاندرون سندھ سے آنے والے سیلاب متاثرین کو کراچی کے علاقے سچل گوٹھ میں واقع سرکاری اسکولوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔

    متاثرین نے بتایا کہ ان کا تعلق ضلع نوشہرو فیروز کے شہر محراب پور سے ہے، وہ اپنی جانیں بچا کر یہاں پہنچے ہیں، محراب پور میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، پہلے دن کھانا نہیں ملا تھا،کل سےکھانا ملنا شروع ہوا ہے سیلاب کی وجہ سے ان کے مال مویشی بھی بہہ گئے ہیں۔

    ادھر محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی کہ کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مطلع ابر آلود رہنے کا امکان ہے اور شہر میں گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے۔

    چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ مون سون سسٹم سندھ میں موجود ہے، سسٹم کا مرکز بالائی سندھ کے قریب ہے، مون سون سسٹم کے زیر اثربالائی اور وسطی سندھ میں آج شام تک بارش کا امکان رہے گا کراچی میں شام یا رات کے وقت ہلکی بارش اور بوندا باندی کا امکان ہے جبکہ مون سون سسٹم کے زیر اثر بلوچستان کے جنوبی اور شمال مشرقی اضلاع میں 26 اگست تک بارش کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے شہر میں 24 اور 25 اگست کو بارش کی پیشگوئی کی تھی جس کے پیش نظر حکومت سندھ نے صوبے بھر کے تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

    راولپنڈی میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

  • ہم بھی خوبصورت تھے،سیاست نے بیڑا غرق کردیا: زرتاج گل

    ہم بھی خوبصورت تھے،سیاست نے بیڑا غرق کردیا: زرتاج گل

    ہم بھی خوبصورت تھے،سیاست نے بیڑاغرق کردیا: زرتاج گل
    زرتاج گل کے شوہر ہمایوں خان کے ہمراہ ایک نجی چینل کو دیے گئے انٹرویو کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔ڈیرہ غازیخان سے منتخب ایم این اے پاکستان تحریک انصاف کی رہنماسابق وفاقی وزیرموسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کا کہنا ہے کہ انہیں شوہر نے کبھی تحفہ نہیں دیا اور تعریف بھی زیادہ نہیں کرتے۔زرتاج گل کے شوہر ہمایوں خان کے ہمراہ نجی ٹی وی جی این این کی جانب سے زرتاج گل کے پرانے انٹرویو کی ویڈیو حال ہی میں اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس پر شیئر کی گئی، جس میں انہوں نے کھل کر سیاسی زندگی سمیت اپنے فیشن اور خوبصورتی پر بات کی۔ان کے انٹرویو کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔

    دورا ن انٹرویو سابق وفاقی وزیرموسمیاتی تبدیلی زرتاج گل جہاں شوہر کی تعریفیں کرتی ہوئی نظر آئیں وہیں شوہر سے شکوہ بھی کیا کہ انہوں نے مجھے کبھی تحفہ نہیں دیا ہے، نہ جانے کن خواتین کو تحفے دیتے ہیں۔خوبصورتی سے متعلق بات کرتے ہوئے زرتاج گل کا کہنا تھا کہ سیاست نے بیڑا غرق کردیا ہے، ہم بھی کسی زمانے میں خوبصورت ہوا کرتے تھے، شروع میں خواہش تھی کہ شوہر تعریف کریں لیکن شروع سے اوقات میں رکھا زیادہ تعریف نہیں کرتے۔اس سے قبل اکتوبر29 ، 2020ء لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے زرتاج گل سے سوال کیا تھاکہ کیا آپ کا حسن قدرتی ہے یا کسی کریم کا کمال ہے؟ صحافی کے اس سوال پراس وقت پہلے وہ شرمائیں پھر مسکرا دیں پھر کہا کہ میں قبائلی ہوں لیکن اب مجھ میں پہلے جیسی بات نہیں رہی سیاسی جدو جہد میں قدرتی حسن اتنا ہی بچا ہے اب تو میری کلاس فیلوز بھی مجھے نہیں پہنچانتیں کہتی ہیں کہ یہ وہی ہے لیکن گھر والوں کے لئے میں آج بھی خوبصورت ہوں-