وفاقی اور صوبائی حکومتیں بدل گئیں ،بی ایم پی ڈان کوکوئی تبدیل نہ کرسکا۔لغاری سرداربھی اس کا کچھ نہ بگاڑسکے
بی ایم پی میں لائن آفیسر کی سرپرستی میں منشیات فروشوں کا نیٹ ورک قائم،منشیات فروشوں کوکھلی چھٹی،بارڈر ملٹری پولیس کی تمام چیک پوسٹیں کراس کرکے آنے والامنشیات سمگلر گرفتار ،13 کلو گرام چرس برآمد،مقدمہ درج

باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ، تفصیلات کے مطابق وفاقی اور پنجاب کی بزدارحکومت تبدیل ہوگئی لیکن بزدارسرکارکاخاص بارڈرملٹری پولیس ڈیرہ غازیخان میں تعینات لائن آفیسرنجیب قیصرانی جوکہ کسی ڈان سے کم نہیں ہے عرصہ چارسال سے پوری بی ایم پی پرقابض ہے اور سیاہ سفید کامالک ہے ،ذرایع کاکہناہے کہ لاکھوں روپے لیکر بین الصوبائی چیک پوسٹوں اور تھانوں پر دفعدار(ایس ایچ او )اورعام سوار(کانسٹیبل) تعینات کئے جاتے ہیں،بھاری رقوم کے بدلے سمگلروں کوکھلی چھٹی دی گئی ہے وہ جوچاہیں بلاروک ٹوک جہاں چاہیں لے جاسکتے ہیں

،دوسری طرف ذرائع کایہ کہنا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ سردارعثمان بزدار کا بھائی جوکہ بی ایم پی تمن بزدار کارسالدار ہے جب عثمان بزدار وزیراعلیٰ بناایک دن بھی ڈیوٹی نہیں کی ،لائن آفیسرنجیب قیصرانی اس کافرنٹ مین ہے ،حکومت تبدیل ہونے کے باوجود یہ شخص جوڑتوڑکاماہر اوراتنابااثرہے کہ اسے بی ایم لائن آفیسرکی سیٹ پکی کی ہوئی ہے ،ذرائع کہناہے کہ اس شاطر شخص نے اپنے خاص بندے کے ذریعے صوبائی وزیرخزانہ ووزیربلدیات سرداراویس احمد لغاری کوبھی رام کرلیا۔یہ شخص بی ایم پی کمانڈنٹ پر بھی بھاری ہے جواختیارات ہونے کے باوجود اس شخص کاتبادلہ نہیں کرسکتا ،منشیات سمگلروں سے اس کے مراسم اتنے مضبوط ہیںجس کی مثال گزشتہ روزپیٹرولنگ پوسٹ تونمی موڑ کی کارروائی ہے جنہوںنے بلوچستان سے پنجاب منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے بین الصوبائی منشیات سمگلرعبدالستارکی کارکے خفیہ خانوں سے 13 کلو گرام چرس برآمدکے ملزم کوگرفتارکرلیا۔حالانکہ یہی کابی ایم پی کے چارتھانے اورتین چیک پوسٹیں کراس کرکے پنجاب پولیس کی حدود میں پکڑی گئی۔منشیات سمگلنگ کایہ سلسہ بلاروک ٹوک کئی سالوں سے جاری ہے،ذرائع کاکہناہے گذشتہ کئی سالوں سے کھرفورٹ منرومیں سابق ایس ایچ اوبواٹہ نصراللہ لغاری اورسابق ایس ایچ اواقبال لغاری، عبدالغفور بجرانی ،مظہرقائمانی او رامان اللہ علیانی کے ذریعے چیک پوسٹوں سے پکڑی جانے والی منشیات بیچی جاتی ہیں، سخی سرور میں بی ایم پی اہلکار پرویز کلوئی جو کہ لائن آفیسر نجیب قیصرانی کا دست راست سمجھا جاتا ہے منشیات بیچتاہے جبکہ تونسہ میں منشیات کی سپلائی سرکاری ڈالے پر لائن آفیسرخودلے کرجاتارہاہے جہاں ذوالفقار عرف زلفا قیصرانی جوکہ اشتہاری ملزم قادرا قیصرانی کاکزن ہے ،قادراقیصرانی ریکارڈ یافتہ کرائمنل ہے اس کی ملاقات اسی لائن آفیسر نے سابق بی ایم پی کمانڈنٹ اورموجودہ ڈپٹی سیکرٹری بلدیات حمزہ سالک سے کرائی تھی،ماضی قریب میں لائن آفیسر اسی اشتہاری قادراقیصرانی سے بی ایم پی تھانوں کی خفیہ مانیٹرنگ کرتاہے۔اسی طرح گزشتہ سال تھانہ بوٹہ میں ایس ایچ اونصراللہ لغاری کی تعیناتی کے دوران ایک ٹرک نمبری 7987Kسے چیک پوسٹ بواٹہ پر 89 کلو چرس کی برآمدگی شو کی گئی تھی جبکہ اس کے مقدمہ نمبر 21/21کے ملزمان کو لاکھوں روپے رشوت لیکر موقع پر چھوڑ دیا گیاتھا اسی ٹرک میں موجود ساٹھ کلو چرس اپنے تھانہ کھر اور تھانہ فورٹ منرو کی حدود میں منشیات فروشوں کو پہنچائی جا رہی تھی جس کی اطلاع اس وقت کے کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس حمزہ سالک کو مل گئی تو اس اطلاع پر بی ایم پی کمانڈنٹ نے فوری نوٹس لیااورسرکل آفیسر کریم نواز خان لغاری کوفوری کارروائی حکم دیا، چھٹی پر ہونے کے باوجود سرکل آفیسر کریم نواز خان لغاری نے ایس ایچ او تھانہ کھر امیر حمزہ لغاری کے ساتھ مل کر چھاپہ مار کر ساٹھ کلو چرس مزید برآمد کر لی تھی جس پر اس وقت کے کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس حمزہ سالک نے ایس ایچ او تھانہ بواٹہ نصر اللہ لغاری کو لائن حاضر کر دیا تھا بعد ازاں وہی منشیات اسی مقدمہ کی ضمنی میں ڈال دی گئیں،

لائن آفیسر نجیب قیصرانی کی پشت پناہی سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدارکابھائی بی ایم پی رسالدار عمربزدارکررہاتھا اس وجہ سے اس وقت کے کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس حمزہ سالک کو اس کے محکمانہ کارروائی سے روک دیاگیا،جس کے خلاف آج تک کوئی کارروئی نہ ہوسکی نجیب قیصرانی آج بھی بی ایم پی لائن آفیسرکی کرسی پربراجمان ہے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی تبدیلی بھی اس کاکچھ نہ بگاڑسکی۔

Category: ڈیرہ غازی خان
-

وفاقی اور صوبائی حکومتیں بدل گئیں ،بی ایم پی ڈان کوکوئی تبدیل نہ کرسکا۔لغاری سرداربھی اس کا کچھ نہ بگاڑسکے
-

لادی گینگ گروپ میں تصادم ،خطرناک ڈکیت مجید جنڈواپنے ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک
ڈیرہ غازیخان (ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی کی رپورٹ) بدنام زمانہ لادی گینگ گروپ میں تصادم ،خطرناک ڈکیت مجید جنڈواپنے ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ،جرم اور لاقانونیت کا ایک اور کردار انجام کو پہنچ گیا۔علاقے میں خوشی کی لہر
باغی ٹی وی ،تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازیخان میں اغوا، ڈکیتی، قتل اور پولیس مقابلے سمیت درجنوں وارداتوں میں ملوث لادی گینگ کا خطرناک رکن مجید جنڈو اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک، دوسرا ڈاکو سیف اللہ شدید زخمی ۔ یاد رہے کہ ایک سال قبل رمضان نامی شہری کے اعضا کاٹ کر قتل کرکے ظلم وبربریت کی تاریخ رقم کرنے والے لادی گینگ کا اہم رکن مجید جنڈو اپنے ہی ساتھی عثمان کی فائرنگ سے ہلاک جبکہ ایک اور ڈاکو سیف اللہ شدید زخمی ہو گیا ۔مجید جنڈو گذشتہ برس قانون نافذ کرنیوالے اداروں کوبھی سوشل میڈیاپر دھمکیاں اورگالیاں دیتا رہا،
اسی گینگ نے دو ماہ قبل سیمنٹ فیکٹری کے تین ملازمین کو اغوا کرنے کے بعد کروڑوں روپے نقد تاوان سمیت ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ وصولی کی ڈیل کے بعد مغویوں کو رہا کیا تھا ۔لادی گینگ میں لوٹ مار کے مال پرجھگڑے نتیجے میں آج گروہ کے رکن عثمان نے اپنے ہم خیال ساتھیوں سمیت فائرنگ کرکے مجید جنڈو کو ہلاک جبکہ سیف اللہ کو شدید زخمی کردیا
چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی
ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار
پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار
زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار
-

لمپی سکن وائرس وبا ڈیرہ غازیخان پہنچ گئی،ٹرائبل ایریانشانے پر،قیمتی جانورمرنےلگے
ڈیرہ غایخان:(ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی کی رپورٹ) لمپی سکن وائرس وباء ڈیرہ غازیخان پہنچ گئی ،ٹرائبل ایریانشانے پر،قیمتی جانورمرنے لگے،مویشی پال پریشان۔محکمہ لائیوسٹاک کے آفیسران کی لاپرواہی اوربروقت ویکسینیشن کاعمل شروع نہ کرانے سے ہمارے کئی قیمتی جانور ہلاک ہوگئے ہیں۔مقامی لوگ۔ ڈپٹی ڈائریکٹرڈاکٹرنظام نے فون اٹینڈ نہ کرکے کوئی جواب نہ دیا۔متاثرہ علاقہ میں ہماری موبائل ڈسپنسری اور ٹیم پہنچ گئی ہے ،وہاں پر بیمارجانوروں کاعلاج معالجہ اور ویکسین کاعمل جاری ہے۔
سندھ میں مویشیوں میں لمپی اسکن نامی بیماری سے مرنیوالے جانوروں کی تعداد 162 ہو گئی
باغی ٹی وی ۔تفصیل کے مطابق مویشیوں کی وائرس وبا ء لمپی اسکین سندھ کے بعدپنجاب کے ضلع ڈیرہ غازیخان پہنچ گئی تحصیل کوہ سلیمان کا قبائلی علاقہ تمن بزدار میں مبارکی وگردونواح کے جانور اس موذی وباء کی لپیٹ میں آگئے ہیں،مویشی پال قیمتی جانوروں کے اس موذی بیماری کی وجہ سے ہلاکتوں سے پریشان،اس بیماری کے تدارک اور اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق جاننے کیلئے محکمہ لائیوسٹاک ڈیرہ غازیخان کے ڈپٹی ڈائریکٹرڈاکٹرنظام سے ان کے موبائل فون پر رابطہ کیاتوانہوں نے فون اٹینڈ نہ کرکے کوئی جواب نہ دیا۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹرمحکمہ لائیوسٹاک ڈیرہ غازیخان ڈاکٹرجاویدکمال نے موبائل پررابطہ ہونے پربتایاکہ اس علاقہ میں ہماری موبائل ڈسپنسری اور ٹیم پہنچ گئی ہے ،وہاں پر بیمارجانوروں کاعلاج معالجہ اور ویکسین کاعمل جاری ہے،دوسری جانب مقامی لوگ محکمہ لائیوسٹاک کے کئے گئے اقدامات اور علاجہ کی دی گئی سہولتوں کوناکافی قرار دے دیا، مقامی لوگوں کاکہنا ہے محکمہ لائیوسٹاک کی موبائل وین اورعملہ اس دن ظاہر ہوتاہے جب کسی آفیسر کاوزٹ ہویافوٹوسیشن کراناہوعملی طورپرمحکمہ لائیوسٹاک کے آفیسران کی لاپرواہی اوربروقت ہمارے جانوروں کیلئے ویکسی نیشن کاعمل شروع نہ کرانے سے ہمارے کئی قیمتی جانور ہلاک ہوگئے ہیں ۔
لمپی سکن وائرس ڈیرہ غازی خان پہنچ گیا
ڈی جی خان سے باغی ٹی وی کے نمائندہ @DrMustafa983 کی رپورٹ pic.twitter.com/Xp9v1N0MfY— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) June 19, 2022
یادرہے یہ وائرس کی بیماری خاص طورگائے کواپنی لپیٹ میں لیتی ہے ،جسے مویشیوں کی جلد کی بیماری کہا جاتا ہے، اس بیماری کی نشانیوں میں سب پہلے گائے کی جلد پربڑے بڑے ابھرے نشان دکھائی دیتے ہیں یاپھر چیچک وباء کی طرح گائے کے پٹھوں پر اور گلے پر بڑے بڑے پھوڑے نکلتے ہیں ۔اس وبائی بیماری کے علاج میں تاخیر ہونے کی وجہ سے وہ پھوڑے پھٹ جاتے ہیں اور سارے بدن میں خون جلنا شروع ہو جاتا ہے پھر جانور تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے۔
-

باپ نے بیٹے کے ساتھ ملکر سگی بیٹی کوغیرت کے نام پر ذبح کردیا
ڈیرہ غازی خان: (ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی سے)غیرت کے نام پر لرزہ خیز قتل ،باپ اوربھائی نے ملکر19سالہ لڑکی کوزبح کرڈالاورثا ء کی معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش ،ڈی پی او ڈیرہ غازیخان کافوری ایکشن ،پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج۔ڈی پی او کی ہدایت پر تمام تر حقائق کو چیک کر کے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازیخان کے تھانہ دراہمہ کی حدود موضع گگو میں غیرت کےنام پر لرزہ خیز قتل کاواقعہ رونما ہواہے جس میں19سالہ نوجوان لڑکی مسماة سدرہ بی بی کواس کے والد غلام فرید اوربھائی محمدخالد نے چھریوں کے وارکرکے گردن کاٹ دی، لڑکی نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی ۔
پولیس کے مطابق مسماة سدرہ بی بی کنواری شب در میان 7/8.03.22 کو اغوا ہوئی تھی غلام فریدر ولد م کامل قوم سمین گگوانی نے اپنی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ نا معلوم ملزمان کے خلاف نمبر175/22مورخہ 11.04.22 بجرم 365B ت پ تھانہ وراہمہ درج کروایا تقریبا ایک ماہ قبل غلام فرید والد، غلام اصغر ولد غلام سرور قوم سمین گگوانی رشتہ دار مقامی طور پر مسماة سدرہ مائی کو واپس گھر لے آئے-

اب غلام فرید والد مقتولہ و رشتہ دار غلام اصغر مسماة سدرہ بی بی کے قتل کو چھپانے کے چکر میں ہیں تا کہ قانون گرفت سے بچ جائیں مسماة سدرہ بی بی کا قتل اس کے والد غلام فرید اور رشتہ دار غلام اصغر کی ایما پر محمد خالد نے کیا ہے،جس کامقدمہ ڈی پی او ڈیرہ غازی خان کے حکم پرسب انسپکٹرشاہد منظورکی مدعیت میں بجرم 302,109،311درج کردیاگیا ہے-رکن اسمبلی کے بیٹے نے گاڑی میں کیا لڑکی کے ساتھ گھناؤنا کام،سی سی ٹی وی سے ہوئی…
مقامی لوگوں کاکہناہے کہ مقتولہ مسماة سدرہ بی بی کا قتل اس کے والدغلام فرید نے خودکیا ہے ،منصوبے کے مطابق اس کے بھائی خالد سے اقبال جرم کا کہا گیااوراس مقدمہ قتل مدعی اس کے والدغلام فرید نے بنناتھا،جسے چند ماہ بعد معاف کرکے جیل سے چھڑالینا تھا ان کے منصوبے برعکس سوشل میڈیاپرخبریں آنے کے ڈی پی اوڈیرہ غازی خان محمدعلی وسیم نے فوری ایکشن لے لیااور تمام تر حقائق کو چیک کر کے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لانے حکم جاری کردیا۔
گھر میں گھس کر شوہر کو چھت پر باندھ کر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے دو ملزم گرفتار
-

پی ڈٰ ایم آج ڈیرہ غازی خان میں جلسہ کرے گی
مہنگائی کے خلاف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) آج ڈیرہ غازی خان میں جلسہ کرے گی-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈی جی خان میں جلسے کی تیاریاں جاری ہیں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف خطاب کریں گے۔
مریم نواز جلسہ میں شرکت نہیں کریں گی جلسے کی میزبانی جے یو آئی کرے گی جس کے ایک ہزار سے زائد رضاکار سیکیورٹی کی ڈیوٹی انجام دیں گے۔ ریلوے روڈ پر جلسے کی تیاریاں جاری ہیں۔
مریم نواز اور بھارتی لابی کے درمیان محبت کی مشترکہ داستان:ورلڈ کپ 2019 کی خفیہ محبت کا پھراظہار
جلسہ گاہ میں قائدین کے لیے بیس فٹ چوڑا اور چالیس فٹ لمبا اسٹیج بنایا گیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ پنڈال میں کارکنوں کے لیے بیس ہزار سے زائد کرسیاں لگائی جائیں گی۔ پنڈال میں کارکنوں کے لیے فرشی نشست کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے۔
جو بھی قوم کے ساتھ دھوکہ کرے گا وہ جیل جائے گا:ایف آئی اے کا پٹرولیم مافیازکے خلاف…
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت ناکام ہوچکی، غریب اور مڈل کلاس کے لئے جینا مشکل کردیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں مہنگائی زیادہ ہوتی نظر آرہی ہے۔
مقبوضہ کشمیر: پولیس نے مسلمانوں پر حملو ں کے حلاف احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کر…
-

ڈی جی خان:نجی اکیڈمی میں لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور انہیں بلیک میل کرنے کا انکشاف
ڈی جی خان: ڈیرہ غازی خان میں واقع ایک نجی اکیڈمی میں پڑھنے والی کئی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور انہیں بلیک میل کرنے کا انکشاف ہوا ہے تعلیم کی فراہمی کی آڑ میں چھپے جنسی درندے بے نقاب ہوگئے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان بلاک وی میں قائم نجی اکیڈمی میں بچیوں سے جنسی زیادتی کے گھناؤنے واقعات کا انکشاف ہوا ہے ملزمان ویڈیوز بنا کر بچیوں کو بلیک میل بھی کرتے رہے مطالبہ پورا نہ کرنے پر ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔
پولیس تھانہ سٹی نے جاوید، اسامہ اعوان اور مجاہد سمیت 6 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے نجی اکیڈمی کو سیل کردیا۔ آر پی او فیصل رانا نے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے جس پر ایک ملزم گرفتار ہے جبکہ بقیہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
واقعہ کی تحقیقات کے لیے آر پی او نے ڈی ایس پی سٹی کی سربراہی میں انکوائری ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار
کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب
غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا
واجح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ روز پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی تھانہ غالب مارکیٹ پولیس نے مساج سنٹر پر چھاپہ مارکر 6لڑکیوں اور 7لڑکوں کو گرفتار کیا تھا-
تھانہ غالب مارکیٹ کی حدودمیں صدیق ٹریڈسنٹر میں واقع مساج سنٹر پر پولیس نے چھاپہ مارکارروائی کے دوران حرام کاری کی نیت سے آئے ہوئے 6لڑکیوں ثانیہ بشیر ، سونیا اشرف ،ندا عبدالرئوف ،کومل علی،شاہدہ نواز،نمرہ شہباز اور 7لڑکوں فرحان مجید،رمضان حنیف،سبحان علی شاہ،غلام قمر،شیرازاللہ رکھا،عبدالاحد،حسن اسداللہ کو حراست میں لیا۔انچارج انویسٹی گیشن تھانہ غالب مارکیٹ مقصوداحمدکواطلاع ملی کہ صدیق ٹریڈسنٹرمیں والٹن کی رہائشی زنیرہ نامی خاتون مساج سنٹرکی آڑمیں قحبہ خانہ چلا رہی ہے،
جس پر مخبرکی اطلاع پرچھاپہ مارٹیم بھیجی گئی،جنہوں نے موقع پرپہنچ کرحرام کاری کی تیاری میں مصروف چھ لڑکیوں اورسات لڑکوں کوگرفتارکرلیا،مساج سنٹرکی مالکہ کے قبضے سے مبلغ 15500روپے نقدی قبضے میں لے لئے ،پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد تمام زیر حراست مرد و خواتین کیخلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے تھانہ غالب مارکیٹ منتقل کردیا۔
ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا
یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار
طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی
راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار
طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا
پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار
خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم
مزیدتفتیش کے لئے تفتیشی افسر اے ایس آئی رانا محمدناصر کے حوالے کردیا گیا،انچارج انویسٹی گیشن مقصوداحمدکا کہنا ہے کہ مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کے دھندے کو فروغ دیا جارہا تھا جس کا خا تمہ کرنے کیلئے ایکشن لیا گیا ، انہوں نے کہا ہے کہ مسا ج سنٹر ز کی آڑ میں غیر قانو نی اور غیر اخلاقی حرکا ت کی ہر سطح پر رو ک تھا م کر یں گے۔
قبل ازیں نرس کو ہراساں کرنے والا اوباش حوالات میں بند کر دیا گیا، ایس پی رضا صفدر کاظمی کا کہنا ہے کہ تھانہ ریس کورس پولیس نے نرس کو ہراساں کرنے والے اوباش کو گرفتار کرلیا،سی سی پی او لاہور کے حکم پر مقدمہ درج کر کے ملزم حوالات میں بند کر دیا گیا ،شعیب نامی اوباش نے کام پر جاتی لڑکی کو زبردستی موٹرسائیکل پر بٹھانے کی کوشش کی، لڑکی کے انکار ملزم نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر دی، ملزم لڑکی کا پیچھا کرتا رہا اور مسلسل ہراساں کرتا رہا، ون فائیو کی کال پر فوری ریسپانڈ کرتے ہوئے ملزم کو دھر لیا گیا-
88 قبحہ خانوں پر چھاپوں کے دوران 417 ملزمان گرفتار
لاہور میں خاتون کو رکشہ پر ہراساں کرنے کا ایک اور واقعہ
13 سالہ بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے والے دو ملزمان گرفتار
سوشل میڈیا کے ذریعے لاہور میں لڑکیاں سپلائی کرنے والے ملزمان گرفتار
دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی
منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟
نشہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار
امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل
نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار
-

میرا شہر آج تک پسماندہ کیوں تحریر: محمد ابراہیم
میں ضلع ڈیرہ غازی خان کے حلقہ پی پی 287 ( این اے 190) کا رہائشی ہوں۔ میرے حلقہ میں آج بھی پینے کا صاف پانی بہت سے علاقوں میں نہیں ہے۔ میرے حلقہ میں آج بھی بہت سے علاقوں میں لڑکیوں کا سرکاری سکول نہیں۔ میرے حلقہ میں آج بھی بنیادی صحت کی سہولت موجود نہیں۔ میرے حلقہ میں آج بھی کئی علاقوں میں بجلی موجود نہیں۔ میرے حلقہ کے بہت سے علاقوں میں گیس موجود نہیں۔ میرے بہت سے علاقوں میں امن و امان کی حالت بہت خراب رہتی ہے۔ میرے وسیب میں آج بھی بہت سے سرکاری محکموں میں رشوت اور سفارش عروج پر ہے۔ وغیرہ وغیرہ
آخر میرا وسیب آج تک اتنا پسماندہ کیوں ہے؟ آئیے کچھ تاریخ پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں جس سے ہمیں شاید کچھ باتیں واضح ہو سکیں۔
ہمارے وسیب کی تاریخ کا ذرا جائزہ لیں تو اس حوالے سے بہت کچھ ملے گا لیکن ایک بات جو واضح ہے کہ سردار/وڈیرہ نظام عرصہ دراز سے قائم و دائم ہے۔ اس حوالے سے وسیب میں تمن داری نظام کو دوام حاصل رہا جس کے اثرات آج تک نظر آتے ہیں۔ اس سردار/وڈیرہ نظام کو مضبوط کرنے میں ہر برادری کے چند بڑوں (مالی حیثیت سے مضبوط) نے اپنا کردار ادا کیا۔ جو برادری کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کر کے زیادہ تر اپنے لیے مفادات لیتے رہے اور اپنے من پسند سردار/وڈیرہ کو ہمیشہ خوش رکھتے رہے اور انھیں سیاسی طور پر مضبوط کر کے اسمبلیوں میں بھیجتے رہے جس کا سلسلہ ہمارے حلقہ میں آج بھی جاری ہے۔اس نظام نے سردار/وڈیروں اور برادری کے چند بڑوں کو تو فوائد دیئے لیکن 99۔99 فیصد عام طبقہ بنیادی سہولتوں کو ترستا رہا جو آج کے دور میں بھی جاری و ساری یے۔ جس کی مثال ہمارے وسیب کی پسماندگی سب کے سامنے ہے۔
کیا ہمارے وسیب کے کسی شخص نے اس سے پہلے اس نظام کے خلاف کبھی بغاوت نہیں کی؟ بالکل ایسا نہیں ہے۔ اس حوالے سے کئی لوگوں کی مثالیں موجود ہیں۔اس حوالے سے جس شخصیت نے خاص طور پر اس سردار/وڈیرہ نظام کو ختم کرنے کے لیے حقیقی جدوجہد کی وہ 1970 میں ڈاکٹر نذیر احمد شہید تھے۔ یاد رہے وہ پیشے کے لحاظ سے ایک حکیم تھے اور ایک مشہور ومعروف سماجی شخصیت تھے۔ وہ جماعت اسلامی کے اہم کارکن و رہنما تھے۔ 1970 کے انتخابات میں حلقہ این ڈبلیو 88 ڈی جی خان 1 سے انھوں نے ہمارے حلقہ سے سردار/وڈیروں اور بڑے ناموں کو شکست دی تھی۔ ان میں ایک طاقت ور سردار محمد خان لغاری مرحوم ( والد سابق صدر پاکستان فاروق احمد خان لغاری) تھے۔ اس دور میں ہمارے وسیب کی عوام نے نے ان سردار اور خواجگان کے مقابلہ میں اس عام طبقہ کے سماجی کارکن کو جماعت اسلامی ٹکٹ پر منتخب کروایا۔ یاد رہے میری معلومات کے مطابق وہ جس سیٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تھے وہ سیٹ رمک سے روجھان تک پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے انھیں جلد قتل کروا دیا گیا جس کا خمیازہ آج تک ہمارا وسیب بھگت رہا ہے اور یوں سردار/وڈیرے اس کے بعد مسلسل اقتدار میں آتے رہے ہیں جو سلسلہ آج تک تھم نا سکا۔
اسی طرح 1970 کے الیکشن میں منظور احمد لنڈ نے بھی پی این ڈبلیو 88 پر پی پی پی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور سردار/وڈیرہ نظام کے خلاف اپنی بھرپور مزاحمت کی۔اور اس کے علاوہ بھی کچھ عام طبقہ کے لوگوں نے اپنی سکت کے مطابق کوشش کی جن میں ایک نام ظفر خان بلوچ مرحوم کا ہے جنھوں نے سردار/وڈیروں کے خلاف کافی جدوجہد کی۔ وہ کبھی جیت تو نا سکے لیکن سیاسی حوالے سے سردار/وڈیروں کا خوف کسی حد تک کم کر گئے۔
پھر جنرل الیکشن 2013 میں حلقہ پی پی 242 سے پی ٹی آئی ٹکٹ پر ایک عام طبقہ کے جوان عطاء اللہ خان کھوسہ صاحب نے الیکشن لڑا۔ حالانکہ وہ الیکشن ہار گئے لیکن انھوں نے جس طرح محنت کی اور نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے اس سردار/وڈیرہ نظام کے خلاف جد وجہد کی وہ لائق تحسین ہے جس کے ثمرات آج تک نوجوان قیادت میں موجود ہیں اور وہ اب اپنی سکت کے مطابق کوشش کر رہے ہیں۔ سردار/وڈیرہ نظام کس طرح کام کرتا ہے اور کتنا مضبوط ہےTwitter , @IbrahimDgk1
-

سانحہ ، بائی پاس ڈی جی خان تحریر: محمد ابراہیم
اکرم نے اسلم سےکہا کہ بھائی ماں کے لیےاس عید پر دو سوٹ لیتے ہیں۔ امجد نے بھی ان سے اتفاق کیا۔ لیکن تینوں تھوڑی دیر تک خاموش ہو گئے۔ پھر اسلم نے کہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ ابو جان کے لیے بھی دو سوٹ لیتے ہیں۔ سب نے اتفاق کیا۔ تھوڑے توقف کے بعد امجد بولا ، اپنی تین بہنیں کیا سوچیں گی؟ ان کے لیے بھی دو دو سوٹ لیتے ہیں۔
سب نے اتفاق کیا۔ ماں اور بہنوں کے لیے چوڑیاں بھی خریدنی ہیں۔ سب نے اتفاق کیا۔ جوتے بھی خریدے گئے۔ لیکن جب حساب ہونے لگا تو قربانی اورکرائے کا خرچہ نکال کر ان کے پاس اپنے سوٹوں کی رقم نا ہونے کے برابر تھی۔ تینوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے لیے لنڈے کے دو دو سوٹ لے لیتے ہیں۔ اس کو صحیح دھلوا کر استری کر لیں گے اور یوں ہم اپنوں کے لیے سب چیزیں اچھی والی خرید سکیں گے۔ تینوں بھائیوں نے اتفاق کیا۔ عید سے دو دن پہلے یہ سب چیزیں شاپنگز کر کے ایک بیگ میں رکھ لی گئی۔ ان میں سے ایک کی شادی بھی ہونے والی تھی۔ گھر میں ان تینوں بھائیوں کا بڑی بے صبری سے انتظارہو رہا تھا۔ تینوں بہنوں کی بے چینی انتہاء پر تھی کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ ان کے تین ویر 6 ماہ بعد گھر آ رہے ہیں تو ان کے لیے بہت کچھ لائیں گے۔ ابو نے ان تینوں سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ
سیالکوٹ سے راجن پور براستہ ڈیرہ غازی خان بس آ رہی ہے ہم کل بیٹھ جائیں گے۔ پھر اگلے دن وہ روانہ ہوئے۔ تینوں بہنیں ہر گھنٹہ بعد اپنے ابو سے کہتیں کہ رابطہ کریں کہ وہ کہاں پہنچ گئے ہیں۔ رات بارہ بجے تک انھوں نے رابطہ رکھا۔ پھر کچھ دیر کے لیے نیند آ گئی۔ صبح کی نماز کے وقت جلدی بیدار ہوئیں۔ ابو سے کہا کہ رابطہ کریں۔ پتہ چلا کہ پل قمبر کراس کر لی ہے۔ انتظار بڑھتا جا رہا تھا۔ کوئی ایک گھنٹے بعد ابو کا موبائل بجنے لگا، تو تینوں بہنیں چہک کر والد کے پاس آ بیٹھیں کہ شاید ان کے بھائی قریب پہنچ گئے ہیں۔ لیکن والد صاحب بس سن رہے تھے ، کوئی جواب نہیں دے رہے تھے۔ باپ کے چہرے پر سنجیدگی بہت گہری ہوئی۔ تو تینوں بہنوں نے اپنے ابو سے کہا کہ کیا ہوا ابو، کیا ہوا ابو۔ ابو سے اور کچھ نا بولا گیا، بس یہی کہا "میں بوڑھا ہو گیا ہوں دعا کرو اللہ پاک اس امتحان میں کامیاب کرے”۔ پھر چند لمحہ بعد مزید کالز آتی رہیں۔ ایک کالز پر ابا جی گر پڑے۔ بہنوں کو معلوم ہوا کہ بس کو حادثہ ہو گیا ہے۔ ماں صدمہ سے نڈھال ہوئی۔ بہنوں نے رو رو کر اپنا حال برا کیا۔
چند گھنٹوں بعد ایمبولینس کی آواز آئی۔ سب رشتہ دار آ چکے تھے۔ تھوڑی دیر میں ان تینوں شہزادوں کی لاشوں کو الگ الگ چار پائی پر لایا گیا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ در و دیوار رو رہے تھے۔ آسمان غم میں تھا۔ ماں باپ اور بہنیں ہوش میں نا تھیں۔ وہ شاپنگ بیگ جس میں چھ ماہ کی مزدوری تھی۔ کھولا گیا تو کیا شاندار کپڑے، جوتے اور چوڑیاں تھیں۔ اپنے لیے لنڈے کے وہ سوٹ لائے تھے لیکن ماں باپ اور بہنوں کے لیے بہترین کوالٹی کی چیزیں۔ اللہ اکبر۔
یہ کہانی میرے وسیب کے بیرون شہر و ملک رہنے والے مزدور شہزادوں کی ہے۔ جو اسلام آباد،راولپنڈی سے اپنا خون پسینہ ایک کر کے پتہ نہیں کس طرح اپنوں کو خوش کرتے ہیں۔ خود کڑی دھوپ اور گرمیوں میں کام کرتے ہیں لیکن اپنوں کو ہر سکون دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ خود لنڈے کے کپڑے پہن کر دنیا کو اچھا دکھاتے ہیں لیکن اپنوں کے لیے اصلی کپڑے اور جوتے لاتے ہیں۔
اس سانحہ عظیم پر بھی حکومت وقت نا جاگی تو کب جاگے گی؟؟ یہ قاتل انڈس ہائی وے تونسہ روڈ کب ڈبل کرے گی؟ یہ تیز رفتاری کو کب چیک کرے گی؟ یہ رشوت دے کر لائسنس بنانے اور بنوانے والوں کو کب سخت سے سخت سزا دے گی؟ ہم کب تک اپنے وسیب کے گھروں کو اجڑتا دیکھتے رہیں گے؟
اللہ پاک شہداء سانحہ بائی پاس ڈیرہ غازی خان کے تمام افراد کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ امیننوٹ: یہ میری تحریر سانحہ بائی پاس ڈیرہ غازی خان کے حوالے سے تخیلاتی ہے جس میں ایک گھر کے حقیقی درد کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور حکومت وقت سے چند سخت سوالات پوچھنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں فرضی نام ڈالے گئے ہیں۔.
-

ڈیرہ غازی خان اور اس کے مسائل تحریر: ندرت حامد
ڈیرہ غازی خان شہر کی تاریخ 400 سال پرانی ہے۔ پندرھویں صدی کے وسط میں حاجی خان میرانی نے اپنے بیٹے غازی خان میرانی بلوچ کے نام پر اس شہر کی بنیاد رکھی ۔ ڈیرہ غازی خان چاروں صوبوں کو آپس میں ملاتا ہے یعنی پاکستان کے بالکل درمیان میں ہے ۔ خوبصورتی میں بھی مالامال ہے جس کے مغربی حصے میں بلند و بالا کو سلمان اور مشرقی حصے میں پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ پایا جاتا ہے ۔ ڈیرہ غازی خان سیاسی اعتبار سے بھی کافی اہم راہ پاکستان بننے سے لے کر اب تک کوئی نہ کوئی اہم شخصیت کابینہ میں شامل رہی ۔
بلخ شیر مزاری نون نون لیگ کی حکومت ختم ہوتے نگران وزیر اعظم بنے ان کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔ نومبر 1993 میں فاروق احمد خان لغاری جن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالا جو کہ دسمبر 1997 تک قائم رہا۔ اسی طرح سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ بھی گورنر پنجاب رہے اور ان کے بیٹے دوست محمد خان کھوسہ وزیر اعلی پنجاب رہے جو کہ نون لیگی کارکن ہیں ۔
موجودہ حکومت میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا تعلق بھی اسی شہر محکمہ موسمیات کی وزیر زرتاج گل اور مشیر وزیر صحت جناب حنیف خان پتافی کا تعلق بھی ڈیرہ غازی خان سے ہی ہے ۔
سیاسی لحاظ سے بہت اہم شخصیت رکھنے والے شہر میں ترقی نہ ہونے کے برابر ہوئی۔ حال ہی میں تونسہ روڈ پر ہونے والا حادثہ جس میں تیس لوگوں نے جان کی بازی ہاری۔۔۔۔ یہ حادثہ نہیں بلکہ 70 سال سے ہونے والی نااہلی کا نتیجہ ہے ۔اسی روڈ پر ہر سال سینکڑوں جانیں چلی جاتی ہیں ۔ سڑکیں ہونے کی وجہ سے حادثات ہونا عام سی بات ہے ۔ چاروں صوبوں کو ملانے والا شہر میں سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے ۔ اربوں روپے کی لاگت سے ایک روڈ تعمیر ہوتا ہے اور چھ ماہ بعد اس کی حالت بدترین ہو جاتی ہے ۔ یہ حال صرف تونسہ روڈ کا ہی نہیں بلکہ اندرون اور بیرون شہر کی تمام تمام سڑکوں کا یہی حال ہے ۔اگر تعلیمی لحاظ سے شہر کی ترقی کا جائزہ لے کر 70 سال میں صرف ایک ہی یونیورسٹی بن پائی ۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے بھی میدان نہ ہونے کے برابر ہیں ۔
شہریوں کے لیے پینے کا صاف پانی تک نہیں ۔ پائپ لائن جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی سیوریج کا پانی بھی پینے کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے ۔
اور انتظامیہ کی طرف سے اس بات کا کوئی خاص خیال نہیں رکھا جاتا۔الغرض ہر شہر طرح کے مسائل میں گھرا ہوا ہے ۔ موجودہ حکومت میں بزدار کی زیر نگرانی سات ارب کے ارب روپے کی لاگت سے ابھی تک صرف مختلف جگہوں (چوک) پر مجسمہ لگائے گئے ہیں اور مزید ترقیاتی کام جاری ہے-
@N_Hkhan
-

تحریر: اصغر بلوچ ڈیرہ غازی خان کے سیاحتی مقامات
ڈیرہ غازی خان کا شمار پاکستان کے سیاحتی مقامات میں سے ہوتا ہے
قدرت نے ڈیرہ غازی خان کو سبز پہاڑوں سے ڈھانپ رکھا ہے
آئیں آپکو لیں چلتے ہیں ڈیرہ غازی خان کا مری
یعنی فورٹ منرو
ڈیرہ غازی خان کا فورٹ منرو ڈیرہ غازی خان کے لوگوں کے لیے مری سے کم نہیں ہے جہاں گرمیوں میں بھی شدید سردی ہوتی ہے فورٹ منرو چاروں طرف سے خوبصورت پہاڑوں میں چھپا ہوا علاقہ ہے جس کا حدود بلوچستان سے بھی ملتا ہے اور یہ ٹرائبل ایریا کہلاتا ہے یہ علاقہ بلوچ لیوی کے کنٹرول میں ہوتا ہے
فورٹ منرو میں خوبصورت پہاڑ اور چین کی مدد سے بنایا گیا ایک خوبصورت اسٹیل پل سیاحوں کو اپنی طرف مائل کرتا ہے ڈیرہ غازی خان میں شدید گرمی کی وجہ سے کافی لوگ نقل مکانی کرکے فورٹ منرو چلے جاتے ہیں جہاں گرمیوں کا موسم گزارنے کے بعد واپس آجاتے ہیں
فورٹ منرو میں اونچے سرسبز پہاڑ اور پہاڑوں سے نیچے بادل لوگوں کے دل جیت لیتے ہیں یہاں گرمیوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے
فورٹ منرو میں بارشوں کا سلسلہ ہر دوسرے دن جاری رہتا ہے
ڈیرہ غازی خان فورٹ منرو قدرت کا حسین کرشمہ ہے
پاکستان بھر سے آئے سیاحوں کا دل جیت لیتا ہے
اگر آپ بھی اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو بلاخوف خطر آپ تفریح کے لیے آسکتے ہیں
تحریر MAsgharBloch