Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • پی ڈٰ ایم آج ڈیرہ غازی خان میں جلسہ کرے گی

    پی ڈٰ ایم آج ڈیرہ غازی خان میں جلسہ کرے گی

    مہنگائی کے خلاف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) آج ڈیرہ غازی خان میں جلسہ کرے گی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈی جی خان میں جلسے کی تیاریاں جاری ہیں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف خطاب کریں گے۔

    مریم نواز جلسہ میں شرکت نہیں کریں گی جلسے کی میزبانی جے یو آئی کرے گی جس کے ایک ہزار سے زائد رضاکار سیکیورٹی کی ڈیوٹی انجام دیں گے۔ ریلوے روڈ پر جلسے کی تیاریاں جاری ہیں۔

    مریم نواز اور بھارتی لابی کے درمیان محبت کی مشترکہ داستان:ورلڈ کپ 2019 کی خفیہ محبت کا پھراظہار

    جلسہ گاہ میں قائدین کے لیے بیس فٹ چوڑا اور چالیس فٹ لمبا اسٹیج بنایا گیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ پنڈال میں کارکنوں کے لیے بیس ہزار سے زائد کرسیاں لگائی جائیں گی۔ پنڈال میں کارکنوں کے لیے فرشی نشست کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے۔

    جو بھی قوم کے ساتھ دھوکہ کرے گا وہ جیل جائے گا:ایف آئی اے کا پٹرولیم مافیازکے خلاف…

    مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت ناکام ہوچکی، غریب اور مڈل کلاس کے لئے جینا مشکل کردیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں مہنگائی زیادہ ہوتی نظر آرہی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر: پولیس نے مسلمانوں پر حملو ں کے حلاف احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کر…

  • ڈی جی خان:نجی اکیڈمی میں لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور انہیں بلیک میل کرنے کا انکشاف

    ڈی جی خان:نجی اکیڈمی میں لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور انہیں بلیک میل کرنے کا انکشاف

    ڈی جی خان: ڈیرہ غازی خان میں واقع ایک نجی اکیڈمی میں پڑھنے والی کئی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور انہیں بلیک میل کرنے کا انکشاف ہوا ہے تعلیم کی فراہمی کی آڑ میں چھپے جنسی درندے بے نقاب ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان بلاک وی میں قائم نجی اکیڈمی میں بچیوں سے جنسی زیادتی کے گھناؤنے واقعات کا انکشاف ہوا ہے ملزمان ویڈیوز بنا کر بچیوں کو بلیک میل بھی کرتے رہے مطالبہ پورا نہ کرنے پر ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔

    پولیس تھانہ سٹی نے جاوید، اسامہ اعوان اور مجاہد سمیت 6 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے نجی اکیڈمی کو سیل کردیا۔ آر پی او فیصل رانا نے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے جس پر ایک ملزم گرفتار ہے جبکہ بقیہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

    واقعہ کی تحقیقات کے لیے آر پی او نے ڈی ایس پی سٹی کی سربراہی میں انکوائری ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    واجح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ روز پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی تھانہ غالب مارکیٹ پولیس نے مساج سنٹر پر چھاپہ مارکر 6لڑکیوں اور 7لڑکوں کو گرفتار کیا تھا-

    تھانہ غالب مارکیٹ کی حدودمیں صدیق ٹریڈسنٹر میں واقع مساج سنٹر پر پولیس نے چھاپہ مارکارروائی کے دوران حرام کاری کی نیت سے آئے ہوئے 6لڑکیوں ثانیہ بشیر ، سونیا اشرف ،ندا عبدالرئوف ،کومل علی،شاہدہ نواز،نمرہ شہباز اور 7لڑکوں فرحان مجید،رمضان حنیف،سبحان علی شاہ،غلام قمر،شیرازاللہ رکھا،عبدالاحد،حسن اسداللہ کو حراست میں لیا۔انچارج انویسٹی گیشن تھانہ غالب مارکیٹ مقصوداحمدکواطلاع ملی کہ صدیق ٹریڈسنٹرمیں والٹن کی رہائشی زنیرہ نامی خاتون مساج سنٹرکی آڑمیں قحبہ خانہ چلا رہی ہے،

    جس پر مخبرکی اطلاع پرچھاپہ مارٹیم بھیجی گئی،جنہوں نے موقع پرپہنچ کرحرام کاری کی تیاری میں مصروف چھ لڑکیوں اورسات لڑکوں کوگرفتارکرلیا،مساج سنٹرکی مالکہ کے قبضے سے مبلغ 15500روپے نقدی قبضے میں لے لئے ،پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد تمام زیر حراست مرد و خواتین کیخلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے تھانہ غالب مارکیٹ منتقل کردیا۔

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    مزیدتفتیش کے لئے تفتیشی افسر اے ایس آئی رانا محمدناصر کے حوالے کردیا گیا،انچارج انویسٹی گیشن مقصوداحمدکا کہنا ہے کہ مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کے دھندے کو فروغ دیا جارہا تھا جس کا خا تمہ کرنے کیلئے ایکشن لیا گیا ، انہوں نے کہا ہے کہ مسا ج سنٹر ز کی آڑ میں غیر قانو نی اور غیر اخلاقی حرکا ت کی ہر سطح پر رو ک تھا م کر یں گے۔

    قبل ازیں نرس کو ہراساں کرنے والا اوباش حوالات میں بند کر دیا گیا، ایس پی رضا صفدر کاظمی کا کہنا ہے کہ تھانہ ریس کورس پولیس نے نرس کو ہراساں کرنے والے اوباش کو گرفتار کرلیا،سی سی پی او لاہور کے حکم پر مقدمہ درج کر کے ملزم حوالات میں بند کر دیا گیا ،شعیب نامی اوباش نے کام پر جاتی لڑکی کو زبردستی موٹرسائیکل پر بٹھانے کی کوشش کی، لڑکی کے انکار ملزم نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر دی، ملزم لڑکی کا پیچھا کرتا رہا اور مسلسل ہراساں کرتا رہا، ون فائیو کی کال پر فوری ریسپانڈ کرتے ہوئے ملزم کو دھر لیا گیا-

    88 قبحہ خانوں پر چھاپوں کے دوران 417 ملزمان گرفتار

    لاہور میں خاتون کو رکشہ پر ہراساں کرنے کا ایک اور واقعہ

    13 سالہ بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے والے دو ملزمان گرفتار

    سوشل میڈیا کے ذریعے لاہور میں لڑکیاں سپلائی کرنے والے ملزمان گرفتار

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نشہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

  • میرا شہر آج تک پسماندہ کیوں   تحریر: محمد ابراہیم

    میرا شہر آج تک پسماندہ کیوں تحریر: محمد ابراہیم

    میں ضلع ڈیرہ غازی خان کے حلقہ پی پی 287 ( این اے 190) کا رہائشی ہوں۔ میرے حلقہ میں آج بھی پینے کا صاف پانی بہت سے علاقوں میں نہیں ہے۔ میرے حلقہ میں آج بھی بہت سے علاقوں میں لڑکیوں کا سرکاری سکول نہیں۔ میرے حلقہ میں آج بھی بنیادی صحت کی سہولت موجود نہیں۔ میرے حلقہ میں آج بھی کئی علاقوں میں بجلی موجود نہیں۔ میرے حلقہ کے بہت سے علاقوں میں گیس موجود نہیں۔ میرے بہت سے علاقوں میں امن و امان کی حالت بہت خراب رہتی ہے۔ میرے وسیب میں آج بھی بہت سے سرکاری محکموں میں رشوت اور سفارش عروج پر ہے۔ وغیرہ وغیرہ
    آخر میرا وسیب آج تک اتنا پسماندہ کیوں ہے؟ آئیے کچھ تاریخ پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں جس سے ہمیں شاید کچھ باتیں واضح ہو سکیں۔
    ہمارے وسیب کی تاریخ کا ذرا جائزہ لیں تو اس حوالے سے بہت کچھ ملے گا لیکن ایک بات جو واضح ہے کہ سردار/وڈیرہ نظام عرصہ دراز سے قائم و دائم ہے۔ اس حوالے سے وسیب میں تمن داری نظام کو دوام حاصل رہا جس کے اثرات آج تک نظر آتے ہیں۔ اس سردار/وڈیرہ نظام کو مضبوط کرنے میں ہر برادری کے چند بڑوں (مالی حیثیت سے مضبوط) نے اپنا کردار ادا کیا۔ جو برادری کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کر کے زیادہ تر اپنے لیے مفادات لیتے رہے اور اپنے من پسند سردار/وڈیرہ کو ہمیشہ خوش رکھتے رہے اور انھیں سیاسی طور پر مضبوط کر کے اسمبلیوں میں بھیجتے رہے جس کا سلسلہ ہمارے حلقہ میں آج بھی جاری ہے۔اس نظام نے سردار/وڈیروں اور برادری کے چند بڑوں کو تو فوائد دیئے لیکن 99۔99 فیصد عام طبقہ بنیادی سہولتوں کو ترستا رہا جو آج کے دور میں بھی جاری و ساری یے۔ جس کی مثال ہمارے وسیب کی پسماندگی سب کے سامنے ہے۔
    کیا ہمارے وسیب کے کسی شخص نے اس سے پہلے اس نظام کے خلاف کبھی بغاوت نہیں کی؟ بالکل ایسا نہیں ہے۔ اس حوالے سے کئی لوگوں کی مثالیں موجود ہیں۔

    اس حوالے سے جس شخصیت نے خاص طور پر اس سردار/وڈیرہ نظام کو ختم کرنے کے لیے حقیقی جدوجہد کی وہ 1970 میں ڈاکٹر نذیر احمد شہید تھے۔ یاد رہے وہ پیشے کے لحاظ سے ایک حکیم تھے اور ایک مشہور ومعروف سماجی شخصیت تھے۔ وہ جماعت اسلامی کے اہم کارکن و رہنما تھے۔ 1970 کے انتخابات میں حلقہ این ڈبلیو 88 ڈی جی خان 1 سے انھوں نے ہمارے حلقہ سے سردار/وڈیروں اور بڑے ناموں کو شکست دی تھی۔ ان میں ایک طاقت ور سردار محمد خان لغاری مرحوم ( والد سابق صدر پاکستان فاروق احمد خان لغاری) تھے۔ اس دور میں ہمارے وسیب کی عوام نے نے ان سردار اور خواجگان کے مقابلہ میں اس عام طبقہ کے سماجی کارکن کو جماعت اسلامی ٹکٹ پر منتخب کروایا۔ یاد رہے میری معلومات کے مطابق وہ جس سیٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تھے وہ سیٹ رمک سے روجھان تک پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے انھیں جلد قتل کروا دیا گیا جس کا خمیازہ آج تک ہمارا وسیب بھگت رہا ہے اور یوں سردار/وڈیرے اس کے بعد مسلسل اقتدار میں آتے رہے ہیں جو سلسلہ آج تک تھم نا سکا۔
    اسی طرح 1970 کے الیکشن میں منظور احمد لنڈ نے بھی پی این ڈبلیو 88 پر پی پی پی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور سردار/وڈیرہ نظام کے خلاف اپنی بھرپور مزاحمت کی۔

    اور اس کے علاوہ بھی کچھ عام طبقہ کے لوگوں نے اپنی سکت کے مطابق کوشش کی جن میں ایک نام ظفر خان بلوچ مرحوم کا ہے جنھوں نے سردار/وڈیروں کے خلاف کافی جدوجہد کی۔ وہ کبھی جیت تو نا سکے لیکن سیاسی حوالے سے سردار/وڈیروں کا خوف کسی حد تک کم کر گئے۔
    پھر جنرل الیکشن 2013 میں حلقہ پی پی 242 سے پی ٹی آئی ٹکٹ پر ایک عام طبقہ کے جوان عطاء اللہ خان کھوسہ صاحب نے الیکشن لڑا۔ حالانکہ وہ الیکشن ہار گئے لیکن انھوں نے جس طرح محنت کی اور نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے اس سردار/وڈیرہ نظام کے خلاف جد وجہد کی وہ لائق تحسین ہے جس کے ثمرات آج تک نوجوان قیادت میں موجود ہیں اور وہ اب اپنی سکت کے مطابق کوشش کر رہے ہیں۔ سردار/وڈیرہ نظام کس طرح کام کرتا ہے اور کتنا مضبوط ہے

    Twitter , @IbrahimDgk1

  • سانحہ  ، بائی پاس  ڈی جی خان  تحریر:  محمد ابراہیم

    سانحہ ، بائی پاس ڈی جی خان تحریر: محمد ابراہیم

    اکرم نے اسلم سےکہا کہ بھائی ماں کے لیےاس عید پر دو سوٹ لیتے ہیں۔ امجد نے بھی ان سے اتفاق کیا۔ لیکن تینوں تھوڑی دیر تک خاموش ہو گئے۔ پھر اسلم نے کہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ ابو جان کے لیے بھی دو سوٹ لیتے ہیں۔ سب نے اتفاق کیا۔ تھوڑے توقف کے بعد امجد بولا ، اپنی تین بہنیں کیا سوچیں گی؟ ان کے لیے بھی دو دو سوٹ لیتے ہیں۔

    سب نے اتفاق کیا۔ ماں اور بہنوں کے لیے چوڑیاں بھی خریدنی ہیں۔ سب نے اتفاق کیا۔ جوتے بھی خریدے گئے۔ لیکن جب حساب ہونے لگا تو قربانی اورکرائے کا خرچہ نکال کر ان کے پاس اپنے سوٹوں کی رقم نا ہونے کے برابر تھی۔ تینوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے لیے لنڈے کے دو دو سوٹ لے لیتے ہیں۔ اس کو صحیح دھلوا کر استری کر لیں گے اور یوں ہم اپنوں کے لیے سب چیزیں اچھی والی خرید سکیں گے۔ تینوں بھائیوں نے اتفاق کیا۔ عید سے دو دن پہلے یہ سب چیزیں شاپنگز کر کے ایک بیگ میں رکھ لی گئی۔ ان میں سے ایک کی شادی بھی ہونے والی تھی۔ گھر میں ان تینوں بھائیوں کا بڑی بے صبری سے انتظارہو رہا تھا۔ تینوں بہنوں کی بے چینی انتہاء پر تھی کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ ان کے تین ویر 6 ماہ بعد گھر آ رہے ہیں تو ان کے لیے بہت کچھ لائیں گے۔ ابو نے ان تینوں سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ

    سیالکوٹ سے راجن پور براستہ ڈیرہ غازی خان بس آ رہی ہے ہم کل بیٹھ جائیں گے۔ پھر اگلے دن وہ روانہ ہوئے۔ تینوں بہنیں ہر گھنٹہ بعد اپنے ابو سے کہتیں کہ رابطہ کریں کہ وہ کہاں پہنچ گئے ہیں۔ رات بارہ بجے تک انھوں نے رابطہ رکھا۔ پھر کچھ دیر کے لیے نیند آ گئی۔ صبح کی نماز کے وقت جلدی بیدار ہوئیں۔ ابو سے کہا کہ رابطہ کریں۔ پتہ چلا کہ پل قمبر کراس کر لی ہے۔ انتظار بڑھتا جا رہا تھا۔ کوئی ایک گھنٹے بعد ابو کا موبائل بجنے لگا، تو تینوں بہنیں چہک کر والد کے پاس آ بیٹھیں کہ شاید ان کے بھائی قریب پہنچ گئے ہیں۔ لیکن والد صاحب بس سن رہے تھے ، کوئی جواب نہیں دے رہے تھے۔ باپ کے چہرے پر سنجیدگی بہت گہری ہوئی۔ تو تینوں بہنوں نے اپنے ابو سے کہا کہ کیا ہوا ابو، کیا ہوا ابو۔ ابو سے اور کچھ نا بولا گیا، بس یہی کہا "میں بوڑھا ہو گیا ہوں دعا کرو اللہ پاک اس امتحان میں کامیاب کرے”۔ پھر چند لمحہ بعد مزید کالز آتی رہیں۔ ایک کالز پر ابا جی گر پڑے۔ بہنوں کو معلوم ہوا کہ بس کو حادثہ ہو گیا ہے۔ ماں صدمہ سے نڈھال ہوئی۔ بہنوں نے رو رو کر اپنا حال برا کیا۔

    چند گھنٹوں بعد ایمبولینس کی آواز آئی۔ سب رشتہ دار آ چکے تھے۔ تھوڑی دیر میں ان تینوں شہزادوں کی لاشوں کو الگ الگ چار پائی پر لایا گیا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ در و دیوار رو رہے تھے۔ آسمان غم میں تھا۔ ماں باپ اور بہنیں ہوش میں نا تھیں۔ وہ شاپنگ بیگ جس میں چھ ماہ کی مزدوری تھی۔ کھولا گیا تو کیا شاندار کپڑے، جوتے اور چوڑیاں تھیں۔ اپنے لیے لنڈے کے وہ سوٹ لائے تھے لیکن ماں باپ اور بہنوں کے لیے بہترین کوالٹی کی چیزیں۔ اللہ اکبر۔

    یہ کہانی میرے وسیب کے بیرون شہر و ملک رہنے والے مزدور شہزادوں کی ہے۔ جو اسلام آباد،راولپنڈی سے اپنا خون پسینہ ایک کر کے پتہ نہیں کس طرح اپنوں کو خوش کرتے ہیں۔ خود کڑی دھوپ اور گرمیوں میں کام کرتے ہیں لیکن اپنوں کو ہر سکون دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ خود لنڈے کے کپڑے پہن کر دنیا کو اچھا دکھاتے ہیں لیکن اپنوں کے لیے اصلی کپڑے اور جوتے لاتے ہیں۔

    اس سانحہ عظیم پر بھی حکومت وقت نا جاگی تو کب جاگے گی؟؟ یہ قاتل انڈس ہائی وے تونسہ روڈ کب ڈبل کرے گی؟ یہ تیز رفتاری کو کب چیک کرے گی؟ یہ رشوت دے کر لائسنس بنانے اور بنوانے والوں کو کب سخت سے سخت سزا دے گی؟ ہم کب تک اپنے وسیب کے گھروں کو اجڑتا دیکھتے رہیں گے؟
    اللہ پاک شہداء سانحہ بائی پاس ڈیرہ غازی خان کے تمام افراد کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ امین

    نوٹ: یہ میری تحریر سانحہ بائی پاس ڈیرہ غازی خان کے حوالے سے تخیلاتی ہے جس میں ایک گھر کے حقیقی درد کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور حکومت وقت سے چند سخت سوالات پوچھنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں فرضی نام ڈالے گئے ہیں۔.

  • ڈیرہ غازی خان اور اس کے مسائل تحریر: ندرت حامد

    ڈیرہ غازی خان اور اس کے مسائل تحریر: ندرت حامد

    ڈیرہ غازی خان شہر کی تاریخ 400 سال پرانی ہے۔ پندرھویں صدی کے وسط میں حاجی خان میرانی نے اپنے بیٹے غازی خان میرانی بلوچ کے نام پر اس شہر کی بنیاد رکھی ۔ ڈیرہ غازی خان چاروں صوبوں کو آپس میں ملاتا ہے یعنی پاکستان کے بالکل درمیان میں ہے ۔ خوبصورتی میں بھی مالامال ہے جس کے مغربی حصے میں بلند و بالا کو سلمان اور مشرقی حصے میں پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ پایا جاتا ہے ۔ ڈیرہ غازی خان سیاسی اعتبار سے بھی کافی اہم راہ پاکستان بننے سے لے کر اب تک کوئی نہ کوئی اہم شخصیت کابینہ میں شامل رہی ۔
    بلخ شیر مزاری نون نون لیگ کی حکومت ختم ہوتے نگران وزیر اعظم بنے ان کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔ نومبر 1993 میں فاروق احمد خان لغاری جن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالا جو کہ دسمبر 1997 تک قائم رہا۔ اسی طرح سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ بھی گورنر پنجاب رہے اور ان کے بیٹے دوست محمد خان کھوسہ وزیر اعلی پنجاب رہے جو کہ نون لیگی کارکن ہیں ۔
    موجودہ حکومت میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا تعلق بھی اسی شہر محکمہ موسمیات کی وزیر زرتاج گل اور مشیر وزیر صحت جناب حنیف خان پتافی کا تعلق بھی ڈیرہ غازی خان سے ہی ہے ۔
    سیاسی لحاظ سے بہت اہم شخصیت رکھنے والے شہر میں ترقی نہ ہونے کے برابر ہوئی۔ حال ہی میں تونسہ روڈ پر ہونے والا حادثہ جس میں تیس لوگوں نے جان کی بازی ہاری۔۔۔۔ یہ حادثہ نہیں بلکہ 70 سال سے ہونے والی نااہلی کا نتیجہ ہے ۔اسی روڈ پر ہر سال سینکڑوں جانیں چلی جاتی ہیں ۔ سڑکیں ہونے کی وجہ سے حادثات ہونا عام سی بات ہے ۔ چاروں صوبوں کو ملانے والا شہر میں سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے ۔ اربوں روپے کی لاگت سے ایک روڈ تعمیر ہوتا ہے اور چھ ماہ بعد اس کی حالت بدترین ہو جاتی ہے ۔ یہ حال صرف تونسہ روڈ کا ہی نہیں بلکہ اندرون اور بیرون شہر کی تمام تمام سڑکوں کا یہی حال ہے ۔

    اگر تعلیمی لحاظ سے شہر کی ترقی کا جائزہ لے کر 70 سال میں صرف ایک ہی یونیورسٹی بن پائی ۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے بھی میدان نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

    شہریوں کے لیے پینے کا صاف پانی تک نہیں ۔ پائپ لائن جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی سیوریج کا پانی بھی پینے کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے ۔
    اور انتظامیہ کی طرف سے اس بات کا کوئی خاص خیال نہیں رکھا جاتا۔

    الغرض ہر شہر طرح کے مسائل میں گھرا ہوا ہے ۔ موجودہ حکومت میں بزدار کی زیر نگرانی سات ارب کے ارب روپے کی لاگت سے ابھی تک صرف مختلف جگہوں (چوک) پر مجسمہ لگائے گئے ہیں اور مزید ترقیاتی کام جاری ہے-

    @N_Hkhan

  • تحریر: اصغر بلوچ  ڈیرہ غازی خان کے سیاحتی مقامات

    تحریر: اصغر بلوچ ڈیرہ غازی خان کے سیاحتی مقامات

    ڈیرہ غازی خان کا شمار پاکستان کے سیاحتی مقامات میں سے ہوتا ہے
    قدرت نے ڈیرہ غازی خان کو سبز پہاڑوں سے ڈھانپ رکھا ہے
    آئیں آپکو لیں چلتے ہیں ڈیرہ غازی خان کا مری
    یعنی فورٹ منرو
    ڈیرہ غازی خان کا فورٹ منرو ڈیرہ غازی خان کے لوگوں کے لیے مری سے کم نہیں ہے  جہاں گرمیوں میں بھی شدید سردی ہوتی ہے فورٹ منرو چاروں طرف سے خوبصورت پہاڑوں میں چھپا ہوا علاقہ ہے جس کا حدود بلوچستان سے بھی ملتا ہے اور یہ ٹرائبل ایریا کہلاتا ہے یہ علاقہ بلوچ لیوی کے کنٹرول میں ہوتا ہے
    فورٹ منرو میں خوبصورت پہاڑ اور چین کی مدد سے بنایا گیا ایک خوبصورت اسٹیل پل سیاحوں کو اپنی طرف مائل کرتا ہے ڈیرہ غازی خان میں شدید گرمی کی وجہ سے کافی لوگ نقل مکانی کرکے فورٹ منرو چلے جاتے ہیں جہاں گرمیوں کا موسم گزارنے کے بعد واپس آجاتے ہیں
    فورٹ منرو میں اونچے سرسبز پہاڑ اور پہاڑوں سے نیچے بادل لوگوں کے دل جیت لیتے ہیں یہاں گرمیوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے
    فورٹ منرو میں بارشوں کا سلسلہ ہر دوسرے دن جاری رہتا ہے
    ڈیرہ غازی خان فورٹ منرو قدرت کا حسین کرشمہ ہے
    پاکستان بھر سے آئے سیاحوں کا دل جیت لیتا ہے
    اگر آپ بھی اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو بلاخوف خطر آپ تفریح کے لیے آسکتے ہیں
    تحریر MAsgharBloch

  • وزیر اعلیٰ پنجاب کا ڈیرہ غازی خان ٹریفک حادثےمیں ہلاکتوں پراظہارافسوس

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا ڈیرہ غازی خان ٹریفک حادثےمیں ہلاکتوں پراظہارافسوس

    وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزادر نے ڈیرہ غازی خان ٹریفک حادثےمیں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی :عثمان بزدار نے کہا کہ حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی رنج ہوا ہے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کمشنر ڈیرہ غازی خان سے رابطہ کر کے زخمیوں کے بارے میں ہدایات دیں-

    وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے وزیر اعلی ٰعثمان بزدار کی ہدایت پر ڈیرہ غازی خان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے –

    واضح رہے کہ ڈیرہ غازی خان میں ہولناک ٹریفک حادثے میں 28 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے ریسکیو ذرائع کے مطابق ٹریفک حادثہ تونسہ روڈ پر بس اور ٹریلر میں تصادم سے پیش آیا۔ بس سیالکوٹ سے راجن پور جا رہی تھی۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا امدادی کاروائیاں جاری ہیں-

    اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں بیشتر کی حالت نازک ہے جس کی وجہ سے اموات بڑھنے کا خدشہ ہےحادثے کا شکار ہونے والے بیشتر مسافر عید کی چھٹیوں پر اپنے آبائی گھر جا رہے تھے۔

    ڈیرہ غازی خان : بس اور ٹریلرمیں خوفناک تصادم ، 28 افراد جاں بحق

  • ڈیرہ غازی خان : بس اور ٹریلرمیں خوفناک تصادم ، 28 افراد جاں بحق

    ڈیرہ غازی خان : بس اور ٹریلرمیں خوفناک تصادم ، 28 افراد جاں بحق

    ڈیرہ غازی خان میں ہولناک ٹریفک حادثے میں 28 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: ریسکیو ذرائع کے مطابق ٹریفک حادثہ تونسہ روڈ پر بس اور ٹریلر میں تصادم سے پیش آیا۔ بس سیالکوٹ سے راجن پور جا رہی تھی۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا امدادی کاروائیاں جاری ہیں-

    اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں بیشتر کی حالت نازک ہے جس کی وجہ سے اموات بڑھنے کا خدشہ ہےحادثے کا شکار ہونے والے بیشتر مسافر عید کی چھٹیوں پر اپنے آبائی گھر جا رہے تھے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے۔

  • عوام کے ساتھ میراعزت واحترام کا رشتہ ہے، عثمان بزدار

    عوام کے ساتھ میراعزت واحترام کا رشتہ ہے، عثمان بزدار

    وزیر اعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارسے ڈیرہ غازی خان میں معززین علاقہ اورشہریوں کی ملاقات کھلی کچہری میں بدل گئی ہے، فرداً فرداً ہر شہری کی نشست پرگئے اورحال واحوال دریافت کی ہے، شہریوں سے ان کے مسائل پوچھے ہیں، شہریوں سے خود درخواستیں وصول کیں اورمتعلقہ حکام کوفوری داد رسی کے لئے ہدایات دیں ہیں، خواتین سے ان کے مسائل پوچھے اورحل کیلئے موقع پرہی احکامات جاری کیے ہیں.
    بزرگ شہریوں کی مسائل کے حل کے لئے ذاتی دلچسپی لینے پروزیراعلیٰ عثمان بزدارکودعائیں دی گئی ہیں، آپ دل وجان سے عوام کی خدمت کررہے ہیں،مسائل کے حل کے لیے عوام سے ملاقاتیں آپ کا قابل تحسین اقدام ہے، آپ پہلے وزیراعلیٰ ہیں جن کا عوام سے براہ راست رابطہ ہے، ماضی کے وزراء اعلیٰ نہ عوام سے ملتے تھے اورنہ کوئی ان سے مل سکتا تھا.
    وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے شہریوں سے سرائیکی اوربلوچی زبان میں گفتگوکی ہے، میں آپ کے دکھ سکھ کا ساتھی ہوں، ہماری خوشیاں اور غم سانجھے ہیں، آپ کا مسئلہ ذاتی مسئلہ سمجھ کرثما حل کروں گا، آپ کو اپنی درخواست پرفوری فیڈ بیک ملے گا، میرا آپ کے ساتھ عزت واحترام کا رشتہ ہے جو میں کبھی نہیں بھول سکتا.

  • عثمان بزدارنے ڈیرہ غازی خان میں سمارٹ سٹی پراجیکٹ کا افتتاح کردیا

    عثمان بزدارنے ڈیرہ غازی خان میں سمارٹ سٹی پراجیکٹ کا افتتاح کردیا

    وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارنے سینٹرل جیل ڈیرہ غازی خان کا اچانک دورہ کیا ہے، سینٹرل جیل ڈی جی خان کے مختلف بیرکوں کا دورہ کیا ہے، خواتین اورجیونائل بیرکوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، خواتین اورجیونائل قیدیوں سے صورتحال دریافت کی ہے، بیرکوں میں کولرمیں ٹھنڈے پانی کی فراہمی کا نظام بھی چیک کیا ہے، بیرکوں کے خراب پنکھوں کی فوری مرمت کا حکم دیا گیا ہے، ہربیرک میں ٹی وی لگانے کی ہدایت کی گئی ہے، واش روم وغیرہ میں صفائی کی صورتحال بہتربنانے کا حکم بھی دیا گیا ہے، قیدیوں سے دستیاب سہولتوں کی فراہمی کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے.
    وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے قیدیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھل کربتائیں آپ ہی کے مسائل حل کرنے کیلئے آیا ہوں، قیدیوں سے ملاقات کیلئے آئے عزیزواقارب سے بھی گفتگو کی گئی ہے، جیل میں کوئی آپ سے رشوت تو نہیں لیتا ہے، وزیراعلیٰ نے قیدیوں کے عزیزواقارب سے استفسار کیا ہے، وزیراعلیٰ نے جیل ہسپتال کا بھی دورہ کیا ہے، ادویات اورسہولتوں کی فراہمی کا جائزہ لیا ہے، وزیراعلیٰ نے جیل ہسپتال میں زیرعلاج بیمارقیدیوں کی عیادت کی ہے، قیدیوں کو بنیادی حقوق دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، سوا سو سال کے بعد جیل اصلاحات لارہے ہیں، ماضی میں جیلوں کو نظرانداز کیا گیا ہے.
    قیدیوں کے عزیزواقارب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نہیں، ہم سے کسی نے رشوت نہیں مانگی ہے.

    وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارنے پولیس لائنز ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا ہے، پولیس کے چاک و چوبند دستے نے وزیراعلیٰ کو سلامی پیش کی گئی ہے، پولیس شہداء یادگارپرحاضری دی ہے، پھولوں کی چادر چڑھائی ہے، شہداء کے لئے دعا کی اورانہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے، ڈیرہ غازی خان سمارٹ سٹی پراجیکٹ کا افتتاح بھی کیا ہے، سمارٹ سٹی پراجیکٹ کے شعبوں کا دورہ کیا ہے، سمارٹ سٹی پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے.
    وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارنے کہا کہ سڑکوں پررش کے اوقات میں ٹریفک مینجمنٹ کیلئے ڈرون کیمرے استعمال کیے جائیں گے، سمارٹ سٹی پراجیکٹ کا دائرہ کار تونسہ سمیت پنجاب کے دوسرے شہروں تک بڑھائیں گے، سمارٹ سٹی پراجیکٹ کیلئے وسائل بھی فراہم کریں گے.