Baaghi TV

Category: فیصل آباد

  • فیصل آباد کی انڈسٹری کو اٹلی کی مشینوں کے علاوہ ان کے ماہرین کی خدمات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔مسٹر آندریس سفیر اٹلی

    فیصل آباد کی انڈسٹری کو اٹلی کی مشینوں کے علاوہ ان کے ماہرین کی خدمات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔مسٹر آندریس سفیر اٹلی

    فیصل آباد(عثمان صادق) فیصل آباد کی معیاری ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی برانڈنگ اور فیشن انڈسٹری کے پوٹینشل سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو اٹلی کی مشینوں کے علاوہ ان کے ماہرین کی خدمات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ بات اٹلی کے سفیر مسٹر آندریس فریریز نے فیصل آباد چیمبر کے صدر عاطف منیر شیخ سے ایک ملاقات کے دوران کی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کےعمل میں وقتی تعطل آیا تاہم اب وہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کیلئے بنیادی نوعیت کے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ اس سے قبل عاطف منیر شیخ نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کو 5 بلین ڈالر تک بڑھانے کی گنجائش ہے اور اس سلسلہ میں دونوں ملکوں کے نجی شعبہ کے درمیان براہ راست رابطوں پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد کے متعدد ٹیکسٹائل اداروں میں اس وقت بھی اٹلی کی مشینیں استعمال ہورہی ہیں جبکہ اٹلی نے فیصل آبا کی نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی میں جدید ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی سنٹر بھی قائم کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اٹلی کے ماہرین فیصل آباد کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو عالمی منڈیوں میں اپنے برانڈ متعارف کرانے میں بھی مدد دے سکتے ہیں جبکہ فیشن ڈیزائنگ کے شعبہ میں بھی ووطرفہ تعاون سے پاکستان بھاری زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اٹلی کے سفیر کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی تاکہ دوطرفہ تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ فیصل آباد کی ایم تھری انڈسٹریل اسٹیٹ اور علامہ اقبال اسپیشل اکنامک زون میں اٹلی کی طرف سے ٹیکسٹائل کی مشینری مقامی طور پر تیار کرنے پر بھی بات چیت کی جاسکے۔

  • قومی معیشت کی بحالی کیلئے ایس ایم ای سیکٹر کو مزید متحرک کر دار ادا کرنا ہو گا.عبدالرزاق داؤد مشیروزیراعظم

    قومی معیشت کی بحالی کیلئے ایس ایم ای سیکٹر کو مزید متحرک کر دار ادا کرنا ہو گا.عبدالرزاق داؤد مشیروزیراعظم

    فیصل آباد (عثمان صادق) قومی معیشت کی بحالی کیلئے ایس ایم ای سیکٹر کو مزید متحرک کر دار ادا کرنا ہو گا جبکہ حکومت اس شعبہ کی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ یہ بات کامرس اور سرمایہ کاری بارے وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد نے ایس ایم ای بارے جامع پالیسی کی تشکیل کے سلسلہ میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جس میں صنعت و پیداوار بارے وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار کے علاوہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ انہوں نے مختلف چیمبرز اور تجارتی تنظیموں کی طرف سے اس سلسلہ میں پیش کی جانے والی تجاویز کو سراہا اور کہا کہ حکومت ان پر سنجیدگی سے غور کرے گی تاکہ اس شعبہ کو ٹھوس اور مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بتایا کہ ملکی برآمدات میں نوے فیصد حصہ ایس ایم ای سیکٹر کا ہے مگر محدود وسائل سے کام کرنے والے اِن اداروں کا سرمایہ حکومتی ٹیکسوں کے چکر میں پھنس جانے سے انھیں مالی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس شعبہ کیلئے زیر و ریٹنگ کی سہولت بحال کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ انہیں پہلے ٹیکس دینے اور پھر اس کی واپسی کیلئے دفتروں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ایس ایم ای شعبہ کی مالی حیثیت کا بھی از سر نو تعین کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کا محور یہی شعبہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس شعبہ کے دیگر مسائل کی بھی نشاندہی کی اور اس توقع کا اظہار کیا کہ حکومت اِن کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔

  • خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے جبکہ فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کو اپنی ممبرز اور تعلیم یافتہ طالبات کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دینی چاہیے۔ یہ بات محترمہ صفورا زینب نے وومن چیمبر کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ اور بزنس پر موشن دو الگ الگ شعبے ہیں اور ہمیں اِن کے فرق کو سمجھتے ہوئے اپنے مطلوبہ سیکٹر پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اِن سے بہترین نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ اِس کے ذریعے آن لائن میسر سہولتوں سے ہی اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی جا سکتی ہے اور اِس مقصد کیلئے جگہ جگہ گھومنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس ذریعہ کے مؤثر استعمال سے ہی مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہر چھ سیکنڈ بعد ایک نیا اکاؤنٹ کھل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شارٹ میسج استعمال کرنے والوں کی تعداد 4.4ارب جبکہ انسٹاگرام کے ایکٹو یوزر کی تعداد 1.7ارب ہے۔ اسی طرح روزانہ 95ملین تصاویر روزانہ اَپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ 53منٹ کے اوسط وقت میں 71فیصدملینلزاور 71فیصد امریکی بزنس مین اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں۔ اس سے قبل وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ انہوں نے کاروباری خواتین کی آگاہی اور نوجوان طالبات کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے کیلئے ایک جامع پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ بارے بھی آگاہی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے استعمال سے خواتین کواپنے کاروبار کیلئے مردوں کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور وہ تمام کام از خود ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے ہی کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا اور جدید ذریعہ ہے جس سے طالبات کو لازمی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کی آگاہی تقریبات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ آخر میں نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ اس تقریب میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد، حنا خاں، ہما خالد اور دیگر خواتین نے بھی شرکت کی۔

  • ڈچ فنڈ برائے ماحول اور ترقی سے لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ کیا جا سکے گا.ڈائریکٹرورلڈ وائلڈلائف فنڈ پاکستان

    ڈچ فنڈ برائے ماحول اور ترقی سے لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ کیا جا سکے گا.ڈائریکٹرورلڈ وائلڈلائف فنڈ پاکستان

    فیصل آباد (عثمان صادق) 160ملین یورو کے ڈچ فنڈ برائے ماحول اور ترقی سے ایسے قابل عمل اور منافع بخش منصوبے شروع کئے جائیں گے جن سے ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ کیا جا سکے گا۔ یہ بات ورلڈ وائلڈلائف فنڈ پاکستان کے ڈائریکٹر جنگلی حیات ڈاکٹر طاہر رشید نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ڈچ فنڈ کے بارے میں ایک آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے دنیا کو 4.2کھرب ڈالر کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں امیر ملکوں نے 1.7کھرب ڈالر دیئے ہیں جبکہ تیسری دنیا کے ملک اپنی اقتصادی مجبوریوں کی وجہ سے اس میں اپنا حصہ نہیں ڈال سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جن ملکوں کے پاس اپنے عوام کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے وسائل نہیں وہ ماحول کے تحفظ کیلئے بھاری بھر کم اخراجات کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے 160ملین یورو کا ڈچ فنڈ برائے ماحول و ترقی قائم کیا گیا ہے جو ایسے ماحول دوست اور منافع بخش منصوبوں کیلئے سرمایہ مہیا کرے گا جولوگوں کیلئے روزگار بھی مہیا کریں گے۔ اس منصوبے کے تحت ابتدائی سٹڈی کیلئے 60ہزار یورو کی گرانٹ دی جائے گی جبکہ پائلٹ پراجیکٹ کیلئے مزید 3لاکھ 50ہزار یوروکی گرانٹ دی جا سکتی ہے۔ اِس کے بعداِس منصوبے کیلئے مارکیٹ کے مطابق قرض بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سمیت چھ ملکوں میں اِن منصوبوں پر کام کر رہا ہے جبکہ اَب انڈیا اور انڈونیشیا اَب اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے چاول کی فصل کی باقیات کو آگ لگانے سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت کے 17شہروں میں اس فنڈ کے ذریعے چاول کی فصل کی باقیات کو انرجی اور بجلی بنانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس طرح جہاں ماحول کو پہنچنے والے نقصان سے بچاجا رہا ہے وہاں متعلقہ کسانوں کو معقول رقم بھی مل رہی ہے۔ انہوں نے انڈس ڈیلٹا میں شروع کئے جانے والے منصوبوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ پاکستان کیلئے 7ملین یورو کے منصوبے شروع ہو چکے ہیں یا منظوری کے قریب ہیں۔ انہوں نے کھارے پانی کے منافع بخش استعمال کے منصوبے کے بارے میں بتایا کہ اس پر 14.9ملین یورو کی گرانٹ ملے گی جبکہ شوگر ملوں کے بیگاس کو بھی ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ذریعے قابل استعمال بنایا جائے گا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینئر منیجر فریش واٹر پروگرام سہیل علی نقوی نے بتایا کہ آئی ایل او کے تعاون سے ٹیکسٹائل اور لیدر کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ صنعتوں کے گندے پانی کو ٹریٹ کر کے زرعی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے منصوبے بھی شروع کئے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل ایگزیکٹو ممبر ثناء اللہ نیازی نے فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کا مختصر تعارف پیش کیا جبکہ محمد فاضل نے مہمانوں کا شکریہ اد اکیا۔ اس موقع پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جبکہ ڈاکٹر طاہر رشید نے محمد فاضل کو ڈبلیو ڈبلیو ایف کی شیلڈ دی جبکہ ثناء اللہ نیازی کو بھی اجرک پہنائی گئی۔

  • کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ہائی کمشنر ساؤتھ افریقہ

    کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ہائی کمشنر ساؤتھ افریقہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ ساؤتھ افریقہ اور پاکستان کو بھی اِن مواقعوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ پاکستان اور ساؤتھ افریقہ کو ٹورازم کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا چاہیے۔ یہ بات ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر میتھو تھو زالی ماڈی کیزا نے فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے دورے کے دوران فی میل انٹر پرینورز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے پاکستان گورنمنٹ کی ”Look Africa“کی پالیسی کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستانی خواتین کو ساؤتھ افریقہ میں کاروبار ی خواتین سے روابط بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گو پاکستان ٹیکسٹائل میں جدید مہارت رکھتا ہے مگر غیر روایتی منڈیوں میں زیادہ ٹریڈ کا پوٹینشل موجود ہے اور ان پر ان کا فوکس ہونا چاہیے تاکہ غیر روایتی اشیاء کو برآمد کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں قدرتی حسن اور برف سے ڈھکی پہاڑوں کا حسین منظر دستیاب ہے اور ہمیں اس پوٹینشل کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانا چاہیے۔ فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے روڈ میپ کا تفصیل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیصل آباد وومن چیمبر کا ایک وفد ساؤتھ افریقہ بھیجنا چاہتی ہیں تاکہ وہاں کی کاروباری خواتین سے ملاقات کر کے باہمی تجارت کے مواقع حاصل کئے جائیں۔ انہوں نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر سے امید ظاہر کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس ڈیلی گیشن کے سلسلہ میں مدد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا زیادہ سے زیادہ فوکس وومن انٹر پرینوئرشپ ڈویلپمنٹ بڑھانا ہے اور اس سلسلہ میں 15نومبر کو آل پاکستان وومن پریزیڈنٹس کی کانفرنس بھی منعقد کر رہی ہیں۔ نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد اور دیگر خواتین بھی اس موقع پر موجود تھیں۔

  • 12 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کورونا ویکسینیشن مہم کے آخری ایام میں ویکسین ضرور لگوائیں۔ ثاقب منان

    12 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کورونا ویکسینیشن مہم کے آخری ایام میں ویکسین ضرور لگوائیں۔ ثاقب منان

    فیصل آباد(عثمان صادق)سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب ثاقب منان نے ہدایت کی کہ ریچ ایوری ڈور(ریڈ)کورونا ویکسینیشن مہم کے آخری ایام میں بھی 12 سال سے زائد عمر کے رہ جانے والے افراد کو ویکسین لگانے کے لئے ٹیمیں سرگرم عمل رہنی چاہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد ویکسینیٹ ہونے سے وباء کی روک تھام یقینی ہو۔انہوں نے یہ ہدایت ڈی سی آفس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی جس میں ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے ریڈ مہم کے اہداف پر بریفنگ دی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹرز محمد خالد،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹرکاشف محمود،سی ای او ایجوکیشن علی احمد سیان،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بلال احمد،ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز امداد اللہ چوہدری، سیکرٹری آرٹی اے محمد سروراور محکمہ صحت کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب نے مہم کے اہداف اور حاصل کردہ ٹارگٹس کا تفصیلی جائزہ لیا اور سرکاری ونجی سکولوں وکالجوں میں طالب علموں کی کوریج کو تیز کرنے کی تاکید کی۔انہوں نے آؤٹ ریچ اور فکسڈ ٹیموں کو متحرک رکھنے اور ابھی تک کم پروفارمنس والے علاقوں پر فوکس کرکے ہدف حاصل کرنے کی ہدایت کی۔میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب نے بتایا کہ ضلع میں ریڈ مہم تیز رفتاری سے جاری ہے اور اب تک مہم کے دوران ساڑھے 7 لاکھ افراد کی کورونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن کی جاچکی ہے جبکہ مہم کے اختتام تک 10 لاکھ افراد کی ویکسینیشن ہوجائے گی جبکہ مہم سے قبل بھی ویکسینیشن کا عمل بلا تعطل جاری تھا اور 12 نومبر تک ضلع میں مجموعی طور پر 50 لاکھ افراد ویکسینٹ ہوجائیں گے۔انہوں نے میڈیا کے توسط سے عوام الناس سے پرزور اپیل کی کہ رہ جانے والے افراد اپنی قومی ذمہ داری اداکرتے ہوئے ویکسین لگوائیں کیونکہ کورونا ابھی مکمل ختم نہیں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ ریڈ کمپین کے دوران ضلع زیادہ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگوانے کے حوالے سے ٹاپ اضلاع میں شامل ہے جس کا تسلسل برقرار رکھنے کے لئے انتظامیہ کو تاکید کی گئی ہے۔اجلاس کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز نے بتایا کہ ضلع کے 48 سرکاری اور 85 نجی کالجز کے تمام طالب علموں کو تقریبا دونوں ڈوزلگ چکی ہیں تاہم فرسٹ ایئر اور تھرڈ ایئر میں داخلہ کے لئے اپلائی کرنے والوں (ویکسینیشن نہ ہونے کے حامل) کو فیس ووچر دینے سے قبل ویکسین لگائی جارہی ہے۔بعدازاں سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب نے محلہ شریف پورہ سمیت دیگر علاقوں میں جاکر آؤٹ ریچ وفکسڈ ٹیموں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا۔

  • والدین اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگواکر مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد

    والدین اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگواکر مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد

    فیصل آباد(عثمان صادق)ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد نے کہا ہے کہ والدین صحت مند معاشرے کے قیام کے سلسلے میں 15 نومبر سے شروع ہونے والی خسرہ روبیلا کیچ اپ مہم میں 9 ماہ سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات لگواکر بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں تعاون کریں۔مہم کی کامیابی کے سلسلے میں تمام تر انتظامات مکمل ہیں تاہم میڈیا نمائندگان والدین کو بچوں میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ کیلئے خسرہ وروبیلا سے بچاؤ کی ویکسینیشن لازمی کرانے کا پیغام عام کریں تاکہ قوم کے مستقبل کی صحت کا تحفظ یقینی ہوسکے۔انہوں نے یہ بات مقامی ہوٹل میں یونیسف، عالمی ادارہ صحت اور پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کے اشتراک سے ”خسرہ وروبیلا سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم میں ذرائع ابلاغ کے کردارو ذمہ داری“پر منعقدہ مشاورتی سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر کامران رشید، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر کاشف محمود،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بلال احمد،سی ای او ایجوکیشن علی احمد سیان،یونیسف کی ریجنل کوارڈینیٹر ڈاکٹر سرینا،ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر مدثر،پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ سے ڈاکٹر مشتاق،چیئرمین پرائیویٹ سکولز الائنس صداقت لودھی، ہیلتھ ایجوکیشن آفیسر شفیق احمد آصف اور محکمہ صحت کے دیگر افسران کے علاوہ میڈیا نمائندگان بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ والدین میں ان کے بچوں کوخسرہ اورروبیلا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں کی افادیت اور اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لئے میڈیا اپنا اہم اور جاندار کردار اداکرے کیونکہ لوگ ان کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں دیگر آگاہی پروگرامز کادائرہ بھی وسیع کیا جائے تاکہ ہر والدین میں 9ماہ سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں کی بیماریوں سے بچاؤ کے لئے ویکسینیشن کرانے کا احساس برقراررہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانا ایک قومی فرض بھی ہے لہذا 15.نومبر سے شروع ہونے والی خصوصی مہم کے سلسلے میں میڈیا سے وابستہ حضرات معاشرے تک یہ ذمہ داری ادا کرنے کا پیغام اجاگر کریں تاکہ تمام بچوں کی ویکسینیشن یقینی ہو۔ڈپٹی کمشنر نے میڈیا ورکشاپ کے انعقاد کو سراہا اور مہم کی کامیابی کے لئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ڈی ایچ او نے ملٹی میڈیا بریفنگ کے ذریعے خسرہ اور روبیلا کے پھیلاؤ کی وجوہات اور ویکسینیشن لازمی کرانے پر زور دیا۔انہوں نے بتایا کہ مہم کے دوران 2500 ویکسینیٹرز فرائض انجام دیں گے اور33 لاکھ بچوں کو ٹیکے لگانے کے لئے فکس پوائنٹ بنانے کے ساتھ سکولوں میں انتظامات جبکہ ہیلتھ مراکز پر بھی یہ سہولت بلامعاوضہ دستیاب ہوگی۔انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ مہم کی سو فیصد کامیابی کے لئے تعاون کریں۔عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کے نمائندہ نے بتایا کہ اس مہم کے بعد روبیلا کا انجکشن بھی روٹین کے ای پی آئی پروگرام میں شامل ہوگا جبکہ خسرہ کا ٹیکہ پہلے بھی 9 ماہ اور 15 ماہ تک کی عمر کے بچوں کو لگایا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 15 سال تک کے بچوں کو ٹیکے لگانے کا مقصد نئی نسل کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ بنانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ خسرہ روبیلا مہم کے دوران 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے بھی پلائے جائیں گے۔انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ والدین کو بچوں کی مفت ویکسینیشن کا پیغام پہنچائیں تاکہ وہ قریبی مرکز صحت سے یہ سہولت حاصل کرسکیں۔ڈاکٹر سرینا نے بتایا کہ یونیسف بچوں کی صحت پر خدمات انجام دینے والا عالمی ادارہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ حفاظتی ٹیکہ جات موثر ہیں لہذا والدین کے شک وشہبات دور کرنے کے لئے بھی مہم کو وسیع کیا جائے۔سی ای او ہیلتھ نے میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ورکشاپ کے انعقاد کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مہم کے دوران بھی والدین کی آگاہی کے لئے تمام تر تشہیری ذرائع بروئے کار لائے جائیں گے۔

  • کرونا کی وجہ سے تعطل کا شکار ہونے والی دو طرفہ تجارتی کوششوں کو نئے جذبے سے شروع کیا جائے گا. میتھو تھو زالی ہائی کمشنرجنوبی افریقہ

    کرونا کی وجہ سے تعطل کا شکار ہونے والی دو طرفہ تجارتی کوششوں کو نئے جذبے سے شروع کیا جائے گا. میتھو تھو زالی ہائی کمشنرجنوبی افریقہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) کرونا کی وجہ سے تعطل کا شکار ہونے والی دو طرفہ تجارتی کوششوں کو نئے جذبے سے شروع کیا جائے گا تاکہ دونوں ملکوں کے پوٹینشل کے مطابق تجارت کو بڑھایاجا سکے۔ یہ بات جنوبی افریقہ کے ہائی کمشنر میتھو تھو زالی ماڈی کیزا نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے پاکستان کی ”Look Africa“پالیسی کو بھی سراہا اور کہا کہ اس سلسلہ میں دونوں ملکوں کا مشترکہ کمیشن کلیدی کردار ادا کر رہا تھا مگر کرونا کی وجہ سے سارا معاملہ تعطل کا شکار ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اَ ب ہم نے دوبارہ دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں اور توقع ہے کہ اس سلسلہ میں دونوں ملکوں کے نوجوانوں کو قریب لانے کیلئے مختصر اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کی جائے گی تاکہ پائیدار بنیادوں پر باہمی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔ ویزا کے بارے میں مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ہائی کمشنر نے کہا کہ سنجیدہ کاروباری افراد کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا مگر بدقسمتی سے ایجنٹوں کے ذریعے جنوبی افریقہ آنے والوں کی ایک بڑی تعدادواپس نہیں جاتی جس کی وجہ سے اُن کے ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے اور اس وجہ سے ہمیں ویزوں کے اجراء میں زیادہ احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری افراد ویزے کے سلسلہ میں براہ راست اُن کے دفتر سے رجوع کر سکتے ہیں تاکہ اُن کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے سلسلہ میں فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی ضرورت پر بھی زور دیا اور دونوں ملکوں کے چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹری کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں کی تجویز کو بھی سراہا اور کہا کہ اس سلسلہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ کرونا کے بعد اَب حالات کافی بہتر ہیں اور ہمیں اس صورتحال سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کا مختصر تعارف پیش کیا اور کہا کہ یہاں قائم ہونے والے جدید صنعتی علاقوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ دوطرفہ تجارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بہترین تعلقات کے باوجود ابھی تک ہماری باہمی تجارت لاکھوں میں ہے جسے اربوں تک ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر نے صنعتی، تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے مقامی تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں جس سے یہاں جدید اور ہائی ٹیک صنعتوں کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر کا تجارتی وفد جنوبی افریقہ بھیجنے اور دونوں ملکوں کے سرکردہ چیمبرز کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں کی اہمیت پربھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے ملکوں میں سنگل کنٹری نمائشوں کا بھی تسلسل سے انعقاد کرنا چاہیے۔ اس موقع پر سوال و جواب کی بھی نشست ہوئی جس میں محمد فاضل، سہیل بٹ، انجینئر احمد حسن، انجینئر عاصم منیر اور دیگر شرکاء نے حصہ لیا۔ آخر میں سینئر نائب صدر عمران محمود شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ رانا محمد سکندر اعظم خاں نے صدر عاطف منیر شیخ کے ہمراہ جنوبی افریقہ کے ہائی کمشنر کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد، سابق صدر چوہدری محمد نواز اور رانا اکرام اللہ بھی موجود تھے۔

  • فیصل آباد میں چینی کی ذخیرہ اندوزوں کیخلاف مختلف علاقوں میں کارروائیاں

    فیصل آباد میں چینی کی ذخیرہ اندوزوں کیخلاف مختلف علاقوں میں کارروائیاں

    فیصل آباد(عثمان صادق) ضلع بھر میں چینی کی ذخیرہ اندوزوں کیخلاف مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں۔ اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ محمد زبیر نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بڑی کارروائیاں کرکے32ہزار کلو گھی،3سو بوری چینی قبضہ میں لیکر گودامز سیل اور دکانداروں کے خلاف مقدمات درج کرادیئے۔اسسٹنٹ کمشنر نے ملک ظفر 240موڑ کے گودام پر چھاپہ مار کر وہاں سے 32ہزار کلو گھی،3سو بوری چینی برآمد کرلی جبکہ شیخ اشرف کو سرکاری نرخوں سے زائد ریٹ پر چینی فروخت کرنے اورشیخ یعقوب غلہ منڈی کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ عوام الناس کو زائد نرخوں پر اشیائےخورونوش کی فراہمی کسی صورت قبول نہیں اور ذخیرہ اندوزوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ ضلع کے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے گزشتہ روز مہنگے داموں چینی فروخت کرنے پرمزید 9 دکانیں سیل، 7دکانداروں کے خلاف مقدمات درج اورموقع سے 4۔افراد کو گرفتار کرادیا۔پرائس کنٹرول مجسٹریٹس مارکیٹوں وبازاروں میں سارا دن سرگرم رہے اورچینی مہنگے داموں فروخت کرنے والے گرانفروشوں کے خلاف کارروائی کی۔علاوہ ازیں 1876۔انسپکشنز کرکے پھل،سبزیاں،گوشت اورکریانہ کی اشیاء مہنگے داموں فروخت کرنے والے111 ناجائزمنافع خوروں کو پونے تین لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا۔

  • علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری، پیار و محبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر

    علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری، پیار و محبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر

    فیصل آباد(عثمان صادق)ضلعی مسجد کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مولانا محمد یوسف انور،صاحبزادہ فیض رسول رضوی،مفتی محمد ضیاء مدنی،سیدجعفر نقوی،صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی کے علاوہ دیگر علماء کرام،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو فضل ربی چیمہ،اسسٹنٹ کمشنر سٹی صاحبزادہ محمد یوسف بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے علماء کرام کا خیر مقدم کرتے ہوئے معاشرتی امن اورمذہبی رواداری کی فضاء برقرار رکھنے کے لئے ان کی شاندارخدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے خوشی اوراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد ضلع میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام آپس میں متحد ومتفق ہیں تاہم اس نوعیت کے اجلاس خیروبرکت اورباہمی رابطے کے استحکام کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری،پیارومحبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں اور خصوصی طور پر جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں کورونا ویکسین لگوانے کی ترغیب دیں تاکہ اس وباء سے محفوظ رہا جاسکے۔انہوں نے علماء کرام کی طرف سے نشاندہی کئے گئے بعض مسائل کے ترجیحی بنیادوں پر حل کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ مسجد کمیٹی کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیا جائے گا۔اس موقع پر علماء کرام نے امن وامان کے قیام اور رواداری کے فروغ کے لئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔آخرمیں ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی،امن وسلامتی،اتحاد ویکجہتی اورخیروبرکت کی دعا کی گئی۔