فیصل آباد(نمائندہ باغی ٹی وی) کشمیر وومن الائنس فیصل آبادکے زیراہتمام ہلال احمر چوک سے ضلع کونسل چوک تک بڑی یکجہتی کشمیرخواتین ریلی نکالی گئی۔کشمیر ریلی میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔خواتین نے ہاتھوں میں کشمیر و پاکستان کے پرچم اور کتبے تھام رکھے تھے اور کشمیر بنے گا پاکستان کے سلوگن والی کیپ پہن رکھی تھیں،ریلی کی قیادت جنرل حمید گل کی بیٹی محترمہ عظمیٰ گل نے کی۔ریلی کے اختتام پر ضلع کونسل چوک میں بڑی یکجہتی کشمیر کانفرنس کاانعقاد کیاگیا۔کشمیرکانفرنس میں ہزراوں خواتین،بچوں کے علاوہ کالجز و یونیورسٹز سے طالبات نے شرکت کی۔مقبوضہ کشمیر کی خواتین و بچوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ہزاروں خواتین و بچوں کی شرکت،بچوں و خواتین کا اظہار یکجہتی کا منفرد انداز،بچوں نے چہرے اور ماتھے پر سرخ و سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔کشمیری ترانوں پر خواتین و بچوں کا جوش دیدنی تھی جبکہ اسٹیج سے بھارتی مظالم بیان کئے جانے پر ہر آنکھ آشکبار تھی،خواتین بھارتی مظالم اور کشمیریوں سے اظہا ریکجہتی کیلئے نعرے لگاتی رہیں ؒ۔کشمیرکانفرنس سے جنرل حمید گل کی بیٹی محترمہ عظمیٰ گل، میمونہ حسین رہنماء پاکستان تحریک انصاف،رابعہ مختار سوشل ورکر،ام اسماعیل،آسیہ عثمان،آفشین لطیف ودیگر سیاسی ومذہبی جماعتوں کی خاتون رہنماؤں،وکلا،ٹیچرز اور انسانی حقوق کی رہنماؤں نے خطاب کیا۔عظمیٰ گل دختر جنرل حمید گل وچیئرپرسن کشمیر وومن الائنس پاکستان نے کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں ایک مجاہد کی بیٹی ہوں اور ہم خواتین بھی اپنی کشمیری بہنوں کی مدد کیلئے جہاد کشمیر کیلئے تیار ہیں۔کشمیری خواتین مصائب،مشکلات کا سامنا کررہی ہیں،پاکستانی خواتین مقبوضہ کشمیر کی مظلوم خواتین کے دکھ کو پوری طرح محسوس کررہی ہیں،خون کے آخری قطرے تک کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑینگے۔ کشمیر کی اپنی بہنوں کو پیغام دیتی ہیں کہ ہم آزادی کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہیں،فیصل آباد کی خواتین بہنوں کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ وہ میری اپیل پر کشمیری بہنوں بچوں سے اظہار یکجہتی کیلئے اپنے گھروں سے باہر نکلیں۔ اگر بھارت کو زور بازو پر ناز ہے تو مودی کو کرفیو اٹھانے کا چیلنج کرتے ہیں تنازعہ کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں، عالمی برادری کو کردار ادا کرنا ہوگا،عالمی برادری نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم بندکرانے میں کردار ادا کرے، پوری امید ہے مظلوم کشمیریوں پر ظلم کی سیاہ رات ختم ہوگی، آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔
Category: فیصل آباد

گھریلو سطح پر کھیرے اور دیگر سبزیوں کی کاشت انتہائی ارزاں قیمت پر ہوسکتی ہے، ماہرین زراعت
فیصل آباد۔ (اے پی پی) ماہرین زراعت نے بتایا کہ کھیرا حیاتین اور معدنی نمکیات کی کمی کو پورا کرنے کیلئے قدرت کاانمول تحفہ ہے کیونکہ ہر کھیرے میں 10ملی گرام کیلشیم، 25ملی گرام فاسفورس، 1.5 ملی گرام فولاد اور 7ملی گرام وٹامن سی ہوتا ہے جو انسان کے جسم کے مختلف اجزاء کو تندرست و توانا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتاہے۔ انہوں نے بتایاکہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر صوبہ بھر میں گھریلو سطح پر سبزیوں کی کاشت کی حوصلہ افزائی کیلئے کچن گارڈننگ پروگرام کے تحت 50روپے مالیت کے پیکٹ میں عوام کو موسم گرما کی جن 8سبزیوں کے 128 گرام وزنی اعلیٰ معیار کے حامل بیج فراہم کئے جا رہے ہیں ان میں کھیرے کا بیج بھی شامل ہے۔انہوں نے بتایاکہ گھریلو سطح پر لوگ کھیرا کاشت کرکے سپرے کے مضر اثرات سے پاک کھیرا اور دیگر سبزیاں انتہائی ارزاں مالیت پر حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ کچن گارڈننگ پروگرام کے تحت صوبہ بھر میں محکمہ زراعت اور دیگر زرعی اداروں کے تعاون سے بیجوں کے ہزاروں پیکٹس فروخت کئے جا رہے ہیں۔

رواں سال پنجاب میں گندم کی کتنی پیداوار حاصل ہونے کا امکان ہے، ماہرین زراعت نے بتا دیا
فیصل آباد۔ 26 ستمبر (اے پی پی) رواں سال پنجاب میں ایک کروڑ 67لاکھ 50ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ پر گندم کاشت کر کے ایک کروڑ 94لاکھ23 ہزار میٹرک ٹن کے قریب پیداوار حاصل کی جائے گی۔ ماہرین زراعت نے بتایاکہ دنیا میں گندم کی کل کھپت642ملین ٹن سالانہ جبکہ پیداوار 701ملین ٹن ہے اور اس میں سالانہ 2فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے بتایاکہ پاکستان میں گزشتہ سال گندم کے زیر کاشت 9.039ملین ہیکٹر رقبہ سے 25.286 ملین ٹن جبکہ صوبہ پنجاب میں 6.778ملین ہیکٹر سے 19.13ملین ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔انہوں نے بتایاکہ شمالی اور وسطی پنجاب کے علاقوں میں دھان کے بعد26فیصد رقبہ پرکاشتہ گندم کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کیلئے نئی اقسام کی دریافت کیلئے کالا شاہ کاکو میں گندم کا سب ریسرچ سٹیشن قائم کیاگیاہے۔ انہوں نے بتایاکہ پنجاب حکومت کی طرف سے گزشتہ سال گندم کے پیداواری مقابلہ میں خوشاب کے ایک ترقی پسند کاشتکارنے 98من فی ایکڑ پیداوار حاصل کرکے نیا ملکی ریکارڈ قائم کیا ہے۔انہوں نے بتایاکہ مقامی زرعی تحقیقاتی ادارہ میں گندم کی نئی اقسام دریافت کرنے پر تحقیقی کام ہو رہا ہے اور سائنسدان بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی، زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے والی، کم پانی اور موسمی حالات کا بہتر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کی حامل نئی اقسام تیار کرنے میں مصروف ہیں۔انہوں نے زرعی سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے آبپاش و بارانی علاقوں کے ماحول کے مطابق اور مختلف بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل گندم کی اقسام تیار کریں۔انہوں نے بتایا کہ سمٹ اور مقامی زرعی تحقیقاتی ادارہ کے شعبہ گندم کے زرعی سائنسدانوں کے باہمی اشتراک سے 1965ء میں گندم کی چھوٹے قد والی نئی قسم میکسی پا ک متعارف کرائی گئی جس سے پاکستان میں سبز انقلاب رونما ہوا۔

حکومت کمر توڑ مہنگائی سے عوام کو بچانے کیلئے ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کرے، ترجمان فیصل ۱ٓباد چیمبر
فیصل آباد۔ (اے پی پی) ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد کے ترجمان نے کہا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کیلئے مہنگائی کے حساس اعشاریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ گراں فروش بھی ناجائز و غیر قانونی منافع خوری کے مرتکب ہوتے ہوئے عام آدمی کے ماہانہ بجٹ میں 15سے 20ہزار روپے اضافے کا باعث بن رہے ہیں لہٰذا حکومت کمر توڑ مہنگائی سے عوام کو بچانے کیلئے ضرور ی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کر کے ان کو فوری منجمد کرے تاکہ عوام اور تنخواہ دار طبقہ میں پائی جانے والی تشویش و بے چینی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خوردو نوش سمیت روز مرہ استعمال کی تمام چیزوں کی قیمتوں میں مسلسل نان سٹاپ اضافہ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ دوسری جانب حکومتی اداروں کی انتہائی کمزور گرفت اور عملی طور پر ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کا وجود نظر نہ آنے کے باعث خود غرض، مفاد پرست ناجائز منافع خور طبقہ غیر قانونی طور پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر کے عام آدمی کے بجٹ میں اضافہ کا موجب بن رہا ہے لیکن اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اشیائے خوردونوش کی سرکاری نرخوں پر فروخت کو یقینی بنانے کیلئے کوئی میکنزم نہیں بنایا گیا جس کی وجہ سے گراں فروشوں کی جانب سے عوام کا استحصال کیا جارہا ہے نیز اس کے علاوہ تنخواہ دار طبقے کیلئے مہنگائی کے حساس ا عشاریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے گھریلو بجٹ بنانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی کی بدترین لہر آئے گی جو وطن عزیز کے کروڑوں غریبوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ضرور ی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کر کے ان کو فوری منجمد کرے جبکہ گراں فروشوں کے خلاف مؤ ثر مہم چلائی جائے اور گراں فروشی کرنے والوں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے۔

تھائی لینڈ پنجاب میں چاول اور گندم کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے پاکستان سے تعاون کرے گا
فیصل آباد۔ (اے پی پی) تھائی لینڈپنجاب میں چاول اور گندم کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے بھر پور تعاون کرے گا جبکہ اس ضمن میں تھائی انٹرنیشنل فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن، محکمہ زراعت پنجاب کو تمام ممکن معاونت فراہم کرے گی نیز چاول وگند م کی پیداوار بڑھانے کیلئے زرعی ریسرچ کے اداروں کے ساتھ مل کر نئی تحقیق کے ذریعے گندم اور چاول کی ایسی اقسام بھی تیار کی جائیں گی جو کم وقت میں زیادہ پیداوار دینے سمیت مختلف بیماریوں، کیڑے مکوڑوں کے حملوں کے خلاف شاندار قوت مزاحمت و مدافعت کی حامل ہوں اور ان پر موسمی تغیرات بھی اثر انداز نہ ہوسکیں۔ محکمہ زراعت کے ذرائع نے بتایاکہ اس ضمن میں تھائی لینڈ کے ماہرین زراعت اور زرعی اداروں کے تجربات سے بھی بھر پور استفادہ یقینی بنایاجائیگا۔ انہوں نے بتایاکہ اس ضمن میں فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن تھائی لینڈ کے زرعی ماہرین کی اعلیٰ سطحی ٹیم جلد پاکستان کا دورہ کرے گی اور ٹیم کے ارکان زرعی تحقیق میں بھر پور مدد فراہم کریں گے۔انہوں نے کہاکہ اس اقدام سے نہ صرف پنجاب میں چاول اور گندم کی پیداوار میں اضافہ ہو گا بلکہ بھر پورزرمبادلہ بھی کمایا جا سکے گا۔

دل کے امراض سے کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے، ماہر امراض قلب نے بتا دیا
فیصل آباد۔ (اے پی پی) فیصل آبا انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ماہر امراض قلب ڈاکٹر اطہر رؤف رانا نے کہاہے کہ پاکستان اور دنیا بھر میں لوگوں کا ”آرام طلب لائف سٹائل“ دل کی بیماریوں کا سب سے بڑا سبب ہے لہٰذا دل کے دورے سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ طرز زندگی اور اپنے رہن سہن کا انداز تبدیل کیا جائے مرغن کھانوں کی بجائے پھل اور سبزیوں کو اپنی خوراک کا لازمی حصہ بنایا جائے اور ہر شخص روزانہ کم از کم 30 منٹ ورزش کی عادت اپنائے۔انہوں نے کہاکہ امراض قلب میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ تشویش ناک ہے کیونکہ گزشتہ سال کے دوران دنیا بھر میں ایک کروڑ 73 لاکھ افراد امراض قلب کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے اور اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو اگلے 15 سال کے دوران دل کی بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد سالانہ اڑھائی کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ محتاط طرز زندگی اپنا کر ہم امراض قلب سے بچ سکتے ہیں جبکہ اس سلسلہ میں لوگوں کی آگاہی کیلئے میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہیلتھ ایجوکیشن دی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ آج کل دل کے ہسپتالوں میں علاج کیلئے آنے والے 30 فیصد مریض 40 سال سے کم عمر کے ہوتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے رہن سہن اور کھانے پینے کی عادات ایسی ہیں کہ لوگ ذہنی تناؤ میں زندگی گزار رہے ہیں اور لوگ ذہنی تناؤ کم کرنے کیلئے سگریٹ اورمنشیات کا سہارا لیتے ہیں لیکن نشے کا عادی ہونے کی صورت میں انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرغن اور نشاستے والے فاسٹ فوڈ کے رواج نے ہمارے بزرگوں‘ مردوں‘ عورتوں اور بچوں کو شوگر‘ موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا کردیا ہے جبکہ ہمارے معاشرے میں ورزش کی عادت عام نہ ہونے کی وجہ سے بھی امراض قلب میں اضافہ ہورہاہے۔ انہوں نے بتایاکہ فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں حکومت پنجاب نے امراض قلب کے بہترین ڈاکٹرز تعینات کرنے کے علاوہ جدید ترین تشخیصی آلات اور ادویات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایف آئی سی میں گزشتہ چند روز کے دوران سینکڑوں مریضوں کی انجیوگرافی اور انجیوپلاسٹی کی گئی ہے جبکہ اس دوران کئی اوپن ہارٹ سرجیکل آپریشن کئے گئے اور اس ہسپتال میں بائی پاس آپریشن میں کامیابی کی شرح پاکستان کے کسی بھی کارڈیالوجی ہسپتال سے بہت بہتر ہے۔
فیصل آباد میں 150 ایکٹر پر عالمی معیار کا "فرنیچر سٹی” بنایا جائے گا
فیصل آباد (نمائندہ باغی ٹی وی)فرنیچر کی برآمدات میں اضافے اور اس شعبے میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں 150 ایکڑ پر عالمی معیار کا "فرنیچر سٹی” بنایا جائے گا۔یہ بات فیصل آباد انڈسٹریل سٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (فیڈمک) کے چیئرمین میاں کاشف اشفاق نے کہی ہے۔ وہ فیڈمک کے لاہورکیمپ آفس میں فرنیچر کے برآمدکنندگان کے ایک وفد سے ملاقات میں گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کی معاونت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز کے لیے پلانٹ اور مشینری کی ملک میں درآمد پر ایک بار تمام کسٹم ڈیوٹیز اور ٹیکسوں سے چھوٹ دی جائے گی۔میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ فیڈمک فرنیچر انڈسٹری کے لیے انتہائی جدید "سنٹر فار ایکسیلنس” بنائے گی جہاں لکڑی کے کاریگروں اور طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے منفرد تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ فرنیچر مصنوعات کی تیاری میں بین الاقوامی معیار پر عمل کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ فرنیچر سازوں کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے وفاقی اور صوبائی محکموں کے ساتھ معاملات کے حل میں معاونت کے علاوہ انہیں ایک بھرپور کاروباری ڈھانچہ بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ اس اہم منصوبے کو سرخ فیتے کی نذر ہونے سے بچایا جائے سکے ۔انواں نے کہا کہ ون ونڈو آپریشن کے آغاز سے فیڈمک کو سرمایہ کاروں کے لیے بھی سہولتی مرکز بنایا جائے گا اورانہیں ایک چھت کے نیچے تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے تمام متعلقہ محکموں کو دو ٹوک انداز میں ہدایت کی ہے کہ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاروں کو بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں، اس کے نتیجے میں حکومت نے لیبر، انوائرمنٹ اور دوسرے قوانین پر عملدرآمد اور مقامی و صوبائی ٹیکسوں کی وصولی کے لیے اتھارٹی تشکیل دی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے محکمے بشمول یوٹیلٹی کمپنیز، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اپنی سرگرمیوں کے لیے خصوصی اقتصادی زونز میں اپنے نمائندے تعینات کریں گے۔

پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک کا فصلات ربیع کیلئے 2 ارب 50کروڑ روپے کے آسان قرضوں کی فراہمی اگلے ہفتے شروع ہو گی
فیصل آباد۔ (اے پی پی) پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک نے امداد باہمی کی تنظیموں اوراس کے ممبر کاشتکاروں و کسانوں کو فصلات ربیع کیلئے 2ارب 50کروڑ روپے کے آسان قرضوں کی فراہمی کااعلان کردیاہے جبکہ قرضوں کی فراہمی اگلے ہفتے شروع ہو گی نیز حکومت پنجاب کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں قرضوں کی فراہمی کے موقع پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے کاشتکاروں کو خصوصی ترجیح بھی دی جائے گی تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ متاثرہ رقبہ پر فصلات ربیع کاشت کرکے زیادہ سے زیادہ غذائی اجناس پیدا کرنے سمیت جلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ پراونشل کوآپریٹو بینک فیصل آباد ریجن کے ذرائع نے بتایاکہ ان کا بینک کاشتکاروں کو مختلف امور کیلئے قرضے فراہم کررہاہے تاکہ انہیں معیاری بیج، کھاد، زرعی ادویات، زرعی آلات کی خرید سمیت دیگر زرعی مداخل پورے کرنے کے قابل بنایاجاسکے۔ انہوں نے کہاکہ اس بار فصلات ربیع کی زیادہ سے زیادہ کاشت یقینی بنانے کیلئے کاشتکاروں کو مشاورتی سروس بھی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک کی فیصل آباد ڈویژن کے چاروں اضلاع سمیت صوبہ بھر میں موجود برانچز کے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس ضمن میں کسی غفلت یاکوتاہی کا مظاہرہ نہ کریں تاکہ کاشتکاروں کی بھرپور معاونت کو ہر حال میں یقینی بنایاجاسکے۔

ماسوائے پاکستان کے سب ممالک نے اپنے رائس سیکٹرز کو صنعت کا درجہ دے رکھا ہے،ترجمان پاکستان رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن
فیصل آباد۔ (اے پی پی) پاکستان رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے بتایا کہ اس وقت بھارت بین الاقوامی منڈی میں چاول کا سب سے بڑا بیوپاری ہے جبکہ پاکستان،برازیل،تھائی لینڈاور ویتنام سے بھی چاول کی بڑی کھیپ سپلائی ہوتی ہے تاہم ماسوائے پاکستان کے سب ممالک نے اپنے رائس سیکٹرز کو صنعت کا درجہ دے رکھا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس پر توجہ نہیں دی گئی جس کے باعث پاکستان میں چاول کی برآمد کا حجم 2ارب 35کروڑ ڈالر ہے جسے حکومتی تعاون سے آئندہ چند سال میں بڑی آسانی سے 4سے 5ارب ڈالر تک لے جایا جاسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا بہت بڑا المیہ ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی شعبہ مسلسل تنزلی کا شکار رہا ہے اور ہماری بڑی فصلیں جن میں گنا،گندم،کپاس اور چاول کا شمار ہوتا ہے ہم ان میں بھی خود کفیل نہیں ہوسکے اور نہ ہی برآمد ات بڑھا سکے بلکہ الٹا عالمی سطح پر ہم نے برآمد کا حصہ کھویا ہے یہی وجہ ہے کہ ٹیکسٹائل اور چاول جیسی مصنوعات کی برآمدمیں کمی کی وجہ سے 2019ء میں درآمدات و برآمدات میں فرق 34 ارب ڈالر تک چلاگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں چاول کی برآمدات کا بڑا حصہ ہے لیکن اس سیکٹر کو بدقسمتی سے حکومتی معاونت میسر نہیں رہی یہی وجہ ہے کہ ہمارے چاول کا کسان اور برآمدکنندہ دونوں تشویش کا شکار نظر آتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا چاول دنیا بھر میں اپنی خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے جانا پہنچانا جاتا ہے تاہم اگر وفاقی حکومت رائس سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دیدے تو صرف ملکی زراعت میں ہی انقلاب نہیں آئے گا بلکہ پاکستانی چاول کے ایکسپورٹ کی مد میں مزید 30فیصد اضافہ اور ملک کیلئے کثیرزرمبادلہ کماسکتے ہیں جس کیلئے حکومت کو کوئی ریلیف پیکج بھی نہیں چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں چاول کی برآمد کا حجم دوارب 35کروڑ ڈالر ہے جسے حکومتی تعاون سے آئندہ چند سال میں ہی بڑی آسانی سے چارسے 5 ارب ڈالر تک لے جایا جاسکتا ہے جو کوئی بڑا ہدف نہیں اور اس سے نہ صرف چاول کی فصل اور صنعت کو ترقی ملے گی بلکہ معاشی ترقی کی راہ میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ دنیا کا بہترین چاول پاکستان میں پیدا ہوتا ہے تاہم ریسرچ انسٹی ٹیوٹس کا فقدان ہے، بھارت سے ایکسپورٹ ہونے والا چاول کوالٹی کے لحاظ سے پاکستا ن سے کم ہے اسلئے دنیا میں بھارتی چاول کی قیمت کم ہے جبکہ پاکستانی چاول 100ڈالر فی ٹن مہنگا بکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رائس ایکسپورٹر ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین نے چین کے نجی شعبے کے سائنس دانوں کی 20 سال کی مشترکہ تحقیق کے بعد چاول کا ہائبرڈ بیج تیارکرلیا ہے اوریہ بیج مقامی استعمال اور بین الاقوامی طور پر برآمدی مقاصد کیلئے تیار کیا گیا ہے جبکہ یہ بیج مقامی استعمال میں نمایاں پیداوار کے حامل چاول کے ہائبرڈ بیج کی برآمد کے ساتھ جلد ہی اعلیٰ پائے کی زرعی تحقیق کرنے والے ممالک کے کلب میں شامل ہوجائے گا نیز تجارتی ضوابط کی منظوری کے مختلف مراحل کے بعد پاکستان کی 72سالہ تاریخ میں پہلا موقع ہوگا کہ چاول کا ہائبرڈ بیج برآمد کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر 100ٹن ہائبرڈ بیج برآمد ہوگا جو تقریباً15ہزار ایکڑ زمین کاشت کرنے کیلئے کافی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے گرم موسم اور پانی کی کمی سے نمٹنے کی صلاحیت کے حامل بیج کی اہمیت بڑھ گئی ہے اس حوالے سے پاکستان میں چاول کی بہترین پیداواری صلاحیت کے حاول ہائبرڈ بیج کی کامیاب کاشت ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ زرعی ادویات و کیمیکلز کی قیمتیں بھی بھارت میں پاکستان سے کہیں زیادہ ہیں لہٰذا اگر ان تمام اشیاء کا موازنہ کرلیں توبھارتی کسان فائدے میں اور ہمارا کسان نقصان میں ہے جس سے ظاہر ہے کہ اسکے تمام اثرات صنعتوں پر پڑتے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکو مت اس جانب خصوصی توجہ مرکوز کرے گی۔

ماہرین زراعت نے کماد کے کاشتکاروں کیلئے ضروری سفارشات جاری کر دیں
فیصل آباد۔ (اے پی پی) ماہرین زراعت نے کہاہے کہ گہری کھیلیوں میں کماد کی کاشت سے پانی کی 50 فیصد تک بچت اور شاندار پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے لہٰذا کاشتکار گہری کھیلیوں میں کمادکی ستمبر کاشت کاعمل یقینی بنائیں اور کھیلیوں میں پہلے فاسفورسی اور پوٹاش کی کھاد ڈال کر سیاڑیو ں میں سموں کی 2لائنیں آٹھ سے نو انچ کے فاصلے پر اس طرح لگائیں کہ سموں کے سرے آپس میں ملے ہوئے ہوں اور بعد ازاں انہیں مٹی کی ہلکی تہہ سے ڈھانپ دیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار ستمبر کاشتہ کماد کو مناسب وقفہ پر پانی لگائیں اور جب کھیلیاں خشک ہو جائیں تو اسے فصل کے اگنے تک حسب ضرورت آبپاشی کی سہولت فراہم کی جاتی رہے تاکہ کماد کی اچھی پیداوار حاصل ہو سکے۔ انہوں نے بتایاکہ کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ کماد کی صرف منظور شدہ اقسام ہی کاشت کریں کیونکہ غیر منظور شدہ اقسام کی کاشت سے انہیں بھاری مالی اور ذہنی نقصان کابھی سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔






