Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • والد نے چچی اور انکے بیٹے کو بچانے کیلئے سیلابی ریلے میں چھلانگ لگائی تھی،جاں بحق فہد کے بیٹے کا بیان

    والد نے چچی اور انکے بیٹے کو بچانے کیلئے سیلابی ریلے میں چھلانگ لگائی تھی،جاں بحق فہد کے بیٹے کا بیان

    بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہونے والے فہد اسلام کے بیٹے عاصم فہد کا بیان سامنے آیا ہے-

    چند روز قبل لودھراں سے پکنک منانے کیلئے جانے والی فیملی اسکردو سے واپس آتے ہوئے بابوسرٹاپ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ گئی تھی، ریلے میں بہہ کر ڈاکٹر مشعال فاطمہ اور ان کا دیور فہد اسلام جاں بحق ہوئے تھے جبکہ ریلے میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ کا 3 سالہ بیٹا عبدالہادی بھی بہہ گیا تھا جو تاحال لاپتا ہے۔

    اس حوالے سے حادثے میں جاں بحق ہونے والے فہد اسلام کے بیٹےعاصم فہد نے بتایا کہ سیلابی ریلا آیا تو ہم نے پہاڑکے نیچے چھپنے کی کوشش کی، لیکن جب چچی مشعال اورعبدالہادی ریلے میں بہے تو والد نے دونوں کو بچانے کے لیے پانی میں چھلانگ لگا دی تھی۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران فیملی ممبر ڈاکٹر حفیظ اللہ کا کہنا تھا کہ اسپتال میں2 روز سے بجلی نہیں ہے جس کے باعث برف کے بلاک رکھ کرلاشوں کو محفوظ رکھا جا رہا ہے، حکومت لاشوں کو لودھراں پہنچانے کے لیے انتظامات کرے تاکہ تدفین کے انتظامات کیے جا سکیں۔

    ٹک ٹاک نے پہلی سہ ماہی 2025کی کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کر دی

    دوسری جانب شاہراہ بابوسر پر شدید بارشوں کے بعد پھنس جانے والے تمام سیاحوں اور مسافروں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے تصدیق کی ہے کہ ریسکیو آپریشن کامیابی سے مکمل ہوا اور تقریباً 250 سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق کچھ افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے عینی شاہدین کے مطابق 10 سے 15 افراد تاحال لاپتا ہیں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی ہدایت پر ریسکیو، ضلعی انتظامیہ، پولیس، مقامی رضاکاروں اور پاک فوج کی مدد سے مشترکہ سرچ آپریشن لاپتا افراد کے ملنے تک جاری رہے گا۔

    سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ بابو سر سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، آٹھ کلومیٹر کا علاقہ برباد ہوگیا ہے، غذر، استور، تھور ویلی میں سیلاب سے مکانات اور فصلیں تباہ ہوگئیں۔ ترجمان کے مطابق شاہراہ ناران اور بابو سر تیرہ سے چودہ مقامات پر بند ہے، شاہراہ قراقرم بھی بحالی کے بعد مختلف مقامات پر پھر بلاک ہوگئی ہے۔ شاہراہ ریشم پر سیکڑوں مسافر پھنسے ہوئے ہیں، جہاں بحالی کا کام جاری ہے چلاس میں سیاحوں کے لیے مفت رہائش کا بندوبست کر دیا گیا ہے، جبکہ مقامی آبادی کے نقصانات کا بھی تخمینہ لگایا جا رہا ہےرات کی تاریکی میں سرچ آپریشن میں دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے، اس لیے کارروائی کو دن کی روشنی میں دوبارہ شروع کیا جاتا ہے۔

    عمران خان کے بیٹوں کی امریکی نمائندہ خصوصی رچرڈ گرینل سے ملاقات

  • سوات:چھٹیاں کرنے پر مدرسے کے اساتذہ کا مبینہ تشدد ، کم عمر طالب علم جاں بحق

    سوات:چھٹیاں کرنے پر مدرسے کے اساتذہ کا مبینہ تشدد ، کم عمر طالب علم جاں بحق

    مدرسے کا کم عمر طالب علم فاران، مبینہ طور پر اپنے اساتذہ کے ہاتھوں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد جان کی بازی ہار گیا۔

    دلسوز واقعہ سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے گاؤں چلیار میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس نے پوری وادی کو ہلا کر رکھ دیا ،پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق 3 اساتذہ محمد عمر، ان کے بیٹے احسان اللہ، اور ایک اور شخص عبداللہ نے مبینہ طور پر اسے دوسرے طلبہ کے سامنے مارنا شروع کیا، یہ مارپیٹ غیر حاضری کی سزا کے طور پر شروع ہوئی، اور جلد ہی بے رحمانہ تشدد میں تبدیل ہوگئی۔

    https://x.com/malak_suhail/status/1947376216958242989

    ایک ہم جماعت نے بتایا کہ فاران چند دن غیر حاضر رہا تھا اور ابھی واپس آیا تھا، اساتذہ نے اسے بہت زور سے مارنا شروع کر دیا، بعد میں اسے ایک کمرے میں لے جا کر مار پیٹ جاری رکھی، مجھے پانی لانے کے لیے بلایا گیا، اُس نے تھوڑا سا پانی پیا، پھر اپنا سر میری گود میں رکھ دیا، اور خاموش ہو گیا،طلبہ اور اساتذہ نے فاران کو قریبی ہسپتال پہنچایا، مگر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

    https://x.com/JN_Araain/status/1947502105087877630

    کوہستان کرپشن اسکینڈل : گرفتار ٹھیکیدار 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

    ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) سوات کے ترجمان معین فیاض نے تصدیق کی ہے کہ تینوں ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، ان میں سے ایک ملزم عبداللہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، باقی 2 کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں، یہ نہایت افسوس ناک اور تشویش ناک کیس ہے، مکمل تفتیش جاری ہے، ہم بچے اور اس کے خاندان کو انصاف دلانے کے لیے پُرعزم ہیں۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی عوام نے نہ صرف مجرموں کو سزا دینے بلکہ آئندہ ایسے سانحات کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    سکردو میں پاک آرمی کا ریسکیو آپریشن ، سیاحوں کا خراج تحسین

    فاران کے چچا نے بتایا کہ جب وہ گھر پر تھا تو مدرسے جانے سے ڈرتا تھا اور واپس نہیں جانا چاہتا تھا، میں خود اسے مدرسے لے گیا، اساتذہ کے حوالے کیا، اور واپس آ گیا، اسی شام ایک استاد کا فون آیا اور بتایا کہ میرا بھتیجا بیت الخلا میں گر کر فوت ہو گیا ہے۔

  • سکردو میں پاک آرمی کا ریسکیو آپریشن ،  سیاحوں کا خراج تحسین

    سکردو میں پاک آرمی کا ریسکیو آپریشن ، سیاحوں کا خراج تحسین

    سکردو میں شدید بارش اور لینڈسلائیڈنگ میں پھنسے سیاحوں کو پاک آرمی نے ریسکیو کرلیا

    پاک آرمی کے فوری ریسکیو آپریشن کو سیاحوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے،خاتون سیاح کا کہنا تھا کہ ہم کراچی سے سکردو آئے تھے، دیوسائی کے مقام پر سیلاب کے باعث ہماری گاڑیاں ڈوب گئیں،الحمد اللہ پاک آرمی نے فوری طور پر ہمیں ریسکیو کیا، میری اور میرے ساتھ آئی خاتون کی طبعیت کافی خراب ہو گئی تھی، پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہمیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، پاک آرمی نے اس ایمرجنسی میں جس طرح کی خدمات سرانجام دیں وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتیں، پاک فوج ریسکیو کئے گئے سیاحوں کو طبی امداد اور کھانا بھی فراہم کر رہی ہے، ہمیں مکمل بھروسہ ہے کہ کسی طرح کی بھی ناگہانی آفت میں ہماری آرمی ہمیں ریسکیو کرلے گی،

  • گلگت بلتستان: ٹیکسوں کے خلاف احتجاج، پاک چین بارڈر پر دھرنا

    گلگت بلتستان: ٹیکسوں کے خلاف احتجاج، پاک چین بارڈر پر دھرنا

    تاجروں کی تنظیم پاک چین ٹریڈز ایکشن کمیٹی کی کال پر ٹیکسوں کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں قراقرم ہائی وے پر دھرنا اور سست ڈرائی پورٹ کی بندش کے اعلان پر حکومت نے متعدد تاجروں کو حراست میں لے لیا۔

    ڈپٹی کمشنر ہنزہ حذیفہ انور کے مطابق تاجروں نے ہنزہ میں دو مختلف مقامات پر دھرنا دیا، جس کے باعث قراقرم ہائی وے بند ہو گئی، تاہم مرتضیٰ آباد کا دھرنا ختم کرا دیا گیا ہے۔ڈی سی ہنزہ نے بتایا کہ سست کے مقام پر دھرنا تاحال جاری ہے، جہاں مذاکرات کا عمل جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھرنا آئندہ دو سے تین گھنٹوں میں ختم ہو جائے گا۔

    ان کے مطابق سست ڈرائی پورٹ پر دھرنے کے بعد تین تاجروں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا، جن میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا جبکہ دو تاجر اب بھی زیر حراست ہیں۔ ڈی سی کا کہنا تھا کہ تاجروں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور یہ اقدام صرف امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑی ترجیح قراقرم ہائی وے کی بحالی ہے کیونکہ علاقے میں بڑی تعداد میں سیاح موجود ہیں جو سفر میں مشکلات کا شکار ہیں۔

    واضح رہے کہ پاک-چین ٹریڈز ایکشن کمیٹی نے ٹیکسوں کے خلاف احتجاجی تحریک کے تحت آج سلک روٹ ڈرائی پورٹ بند کرنے اور سڑک بلاک کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد رات گئے پولیس نے فعال تاجروں کے گھروں پر چھاپے مار کر علی نظر، عباس میر اور فرماں تاجک کو گرفتار کر لیا۔

    سعودی نیول چیف کو نشانِ پاکستان (ملٹری) عطا

    لاس اینجلس ایئرپورٹ پر طیارے کے انجن میں آگ، ایمرجنسی لینڈنگ

    راجیہ سبھا اجلاس،کانگریس کے جنگ بندی پرسوالات،مودی سامنا نہ کر سکے

    اقوام متحدہ میں اسحاق ڈار کا دوٹوک مؤقف، بھارت و اسرائیل کو آڑے ہاتھوں لیا

  • گلگت بلتستان میں وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق

    گلگت بلتستان میں وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق

    گلگت بلتستان میں وائلڈ پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

    نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے پولیو کے مطابق دیامر سے حاصل کردہ سیوریج نمونے میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 1 کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے،ایک سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ دیامر اور خیبر پختونخوا کے ملحقہ اضلاع میں خصوصی انسداد پولیو مہم چلائی گئی ہے، جس میں ایک لاکھ 59 ہزار 525 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے پولیو پروگرام بچوں کو مفلوج کر دینے والے پولیو وائرس سے محفوظ رکھنے اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت ویکسی نیشن شیڈول پر عمل کر رہا ہے21 سے 25 جولائی تک خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرحدی یونین کونسلوں میں خصوصی انسداد پولیو مہم چلائی جائے گی تاکہ اسے افغا نستان کی ذیلی قومی پولیو مہم کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاسکے۔

    نیتن یاہو بیمار گئے، چند دن گھر سے کام کریں گے

    شاہ رخ خان کے زخمی ہونے کی خبر یں افواہ نکلی

    ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور حبس رہنے کا امکان

  • کے ٹو ، برفانی تودے کی زد میں آ کر پاکستانی کوہ پیما جاں بحق

    کے ٹو ، برفانی تودے کی زد میں آ کر پاکستانی کوہ پیما جاں بحق

    دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پر جاری مہم جوئی کے دوران ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے۔ برفانی تودے کی زد میں آ کر پاکستانی کوہ پیما محمد افتخار حسین جان کی بازی ہار گئے۔

    شگر کے ڈپٹی کمشنر عارف حسین نے اس حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کے ٹو پر مہم کے دوران کل چار کوہ پیماؤں کو شدید خطرہ لاحق ہوا۔ ان میں سے تین غیر ملکی کوہ پیما برفانی تودے سے بچ نکلے اور انہیں بحفاظت نیچے اتار لیا گیا ہے۔ تینوں زخمی کوہ پیماؤں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔بدقسمتی سے مہم کے دوران ایک پاکستانی کوہ پیما محمد افتخار حسین برفانی تودے کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئے۔ محمد افتخار حسین سدپارہ گاؤں سے تعلق رکھتے تھے اور مقامی کمیونٹی میں انہیں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

    ڈپٹی کمشنر عارف حسین کے مطابق جاں بحق کوہ پیما کی میت آج اسکردو منتقل کی جائے گی اور ان کی تدفین ان کے آبائی گاؤں سدپارہ میں کی جائے گی۔ امدادی ٹیمیں اور مقامی انتظامیہ متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہیں۔

    کے ٹو کی مہم جوئی میں یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ قدرتی آفات اور موسمی حالات کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر بلند ترین پہاڑوں پر۔ پاکستانی کوہ پیماؤں کے جذبے کو سراہتے ہوئے دعا ہے کہ آئندہ مہمات میں ایسی حادثاتی صورتحال سے بچا جا سکے۔

  • سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایئرپورٹ ایمرجنسی مشق

    سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایئرپورٹ ایمرجنسی مشق

    سکردو: سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی مشق (FSAEE) 2025 کامیابی سے منعقد ہوئی، جس کی نگرانی ایئرپورٹ منیجر نے کی۔ یہ مشق ایمرجنسی کی صورت میں متعلقہ اداروں کی استعداد کار اور باہمی رابطے کو بہتر بنانے کے مقصد سے منعقد کی گئی تھی۔

    مشق کے آغاز سے قبل چیف فائر اینڈ ریسکیو آفیسر نے تمام شرکاء کو بریفنگ دی جس میں ہنگامی حالات میں بر وقت اور مؤثر ردعمل کی حکمت عملی پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کس طرح فوری کارروائی اور مربوط تعاون انسانی جانوں کے تحفظ اور نقصان کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔اس مشق کا معائنہ ایڈیشنل ڈائریکٹر فائر اینڈ ریسکیو نے سرکاری مبصر کے طور پر کیا، جنہوں نے شرکاء کی کارکردگی کو انتہائی مثبت قرار دیا اور اس موقع پر کہا کہ ایسے مشقیں نہ صرف ایمرجنسی سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہیں بلکہ مختلف اداروں کے درمیان رابطے کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔

    مشق میں ایئرپورٹ اسٹاف کے علاوہ مسلح افواج، سول ادارے، اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے فرضی ایمرجنسی کے تحت تیز رفتاری اور مکمل تعاون کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیں، جس سے یہ واضح ہوا کہ اگر حقیقی ایمرجنسی پیش آئے تو ادارے مؤثر انداز میں حالات پر قابو پاسکیں گے۔مسلح افواج، مقامی انتظامیہ اور دیگر اعلیٰ اداروں کے معزز افسران نے مشق کو بطور مبصر بڑی دلچسپی اور سنجیدگی سے دیکھا اور اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مشقیں ایئرپورٹ کی سیکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

    یہ مشق علاقے میں ہوائی سفر کے دوران مسافروں کی حفاظت اور ایئرپورٹ کی استعداد کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے، جو کہ سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایک محفوظ اور قابل اعتماد ہوائی سفر کا مرکز بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

  • کوہ پیمائی کے دوران حادثہ، پولش کوہ پیما والڈیمار کووالوسکی کو  ریسکیو کرلیا گیا

    کوہ پیمائی کے دوران حادثہ، پولش کوہ پیما والڈیمار کووالوسکی کو ریسکیو کرلیا گیا

    دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک (بلندی: 8,051 میٹر) پر کوہ پیمائی کے دوران ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا جب پولش کوہ پیما والڈیمار کووالوسکی برفانی ڈھلوان پر چڑھائی کرتے ہوئے پھسل گئے۔ اس حادثے کے نتیجے میں ان کا پاؤں شدید زخمی ہو گیا اور ٹوٹ گیا۔

    واقعہ اس وقت پیش آیا جب والڈیمار کووالوسکی چوٹی کی سخت برفانی صورت حال میں چڑھائی کر رہے تھے۔ پھسلنے کی وجہ سے ان کی چوٹ سنگین نوعیت کی تھی جس کے باعث انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ کوہ پیمائی کی مشکل اور خطرناک جگہ ہونے کے باعث امدادی کاروائی ایک بڑا چیلنج تھی۔ریسکیو ٹیم نے فوری طور پر اپنی کارروائی شروع کی اور خطرناک برفانی اور پتھریلے راستوں سے گزر کر زخمی کوہ پیما تک پہنچ گئی۔ انہیں تقریباً 6,500 میٹر کی بلندی سے بحفاظت کیمپ ون تک منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ ریسکیو ٹیم کی بروقت اور پیشہ ورانہ کاوشوں کی بدولت والڈیمار کووالوسکی کی جان بچانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

    اب زخمی کوہ پیما کو موسم کی بہتری کے بعد سکردو منتقل کیا جائے گا جہاں انہیں مزید طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ علاقائی حکام اور ریسکیو ٹیم نے اس کامیاب مشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی کوہ پیماؤں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔

    براڈ پیک، جو اپنے شدید موسم اور مشکل چڑھائی کی وجہ سے دنیا کی مشکل چوٹیوں میں شمار ہوتی ہے، پر اس حادثے نے ایک بار پھر کوہ پیمائی کی جان لیوا نوعیت کو اجاگر کیا ہے۔

  • نانگا پربت مہم کے دوران چیک ری پبلک کی کوہ پیما خاتون ہلاک

    نانگا پربت مہم کے دوران چیک ری پبلک کی کوہ پیما خاتون ہلاک

    نانگا پربت کو سر کرنے کی مہم کے دوران چیک ری پبلک سے تعلق رکھنے والی 46 سالہ کوہ پیما کولاوشاوا کلارا جاں بحق ہو گئیں۔ حادثہ کیمپ ون اور کیمپ ٹو کے درمیان ٹریکنگ کے دوران پیش آیا۔

    الپائن کلب آف پاکستان نے کلارا کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثہ صبح 4 بجے کے قریب پیش آیا۔ نائب صدر کرار حیدری کے مطابق کلارا ایک مایہ ناز کوہ پیما تھیں، جو اس سے قبل کے ٹو اور ایوریسٹ بھی سر کر چکی تھیں۔دیامر پولیس نے ابتدائی طور پر حادثے کی وجہ آکسیجن سلنڈر پھٹنا قرار دی، تاہم ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر دیامر کے مطابق کلارا اونچائی سے گر کر ہلاک ہوئیں۔ ان کے ساتھیوں نے بیس کیمپ پر ہلاکت کی اطلاع دی۔

    ریسکیو ٹیمیں کلارا کی لاش کی تلاش کے لیے روانہ ہو چکی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔کلارا اور ان کی ٹیم نے 15 جون کو شنگریلا ہوٹل میں قیام کیا اور 16 جون کو بونر بیس کیمپ کی طرف روانہ ہوئی۔ 17 جون کو ٹیم بیس کیمپ پہنچی، اور اسی دوران افسوسناک واقعہ پیش آیا۔انتظامیہ کے مطابق، متاثرہ ٹیم کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

    لاہور پولیس کی بڑی کامیابی، 6 ماہ میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی
    غزہ پر اسرائیلی بمباری میں شدت، 24 گھنٹوں میں 118 فلسطینی شہید

    آیت اللہ خامنہ ای 22 دن سے منظر عام سے غائب

    2025 میں 8,500 کاروباری صارفین سائبر حملوں کا شکار ہوئے
    کراچی میں 8 تا 10 محرم بی آر ٹی گرین لائن سروس معطل

  • چلاس میں لاپتا پشاور کے سیاحوں کا ڈراپ سین، پوری انتظامیہ کو دو دن دوڑاتے رہے

    چلاس میں لاپتا پشاور کے سیاحوں کا ڈراپ سین، پوری انتظامیہ کو دو دن دوڑاتے رہے

    گلگت بلتستان کے خوبصورت مگر دشوار گزار علاقے چلاس میں لاپتا ہونے والے پشاور کے سیاحوں کا ڈراپ سین خوشگوار انجام کے ساتھ ہوگیا۔ دو روز سے لاپتا سیاح خاندان کے افراد میں والدین، بیٹا اور بہو شامل تھے، جن کی تلاش کے لیے انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں دن رات سرگرم رہیں۔

    سیاحوں کی گمشدگی کی خبر پر مقامی انتظامیہ حرکت میں آئی، پولیس نے وائرلیس کے ذریعے پیغامات نشر کیے، جبکہ میڈیا نے خبر کو اجاگر کر کے معاملے کی سنگینی کو نمایاں کیا۔ نتیجتاً ریسکیو ٹیموں نے دریاؤں، پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں کی چھان بین شروع کر دی۔ تاہم، تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ سیاحوں کی گاڑی راستے میں خراب ہو گئی تھی اور علاقے میں موبائل سگنلز نہ ہونے کے باعث وہ بیرونی دنیا سے رابطہ نہ کر سکے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ سیاحوں نے خود بھی کسی چیک پوسٹ یا قریبی پولیس اہلکار کو اطلاع دینا ضروری نہ سمجھا، جس سے ان کے اہلِ خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے اور انتظامیہ کو بھی غیر معمولی متحرک ہونا پڑا۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان کے مطابق یہ خاندان بابوسر ٹاپ کے قریب گاڑی خراب ہونے کے باعث رک گیا تھا۔ ان سے دو دن سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا تھا، جس کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقامی اطلاعات کی مدد سے ان تک رسائی ممکن ہوئی۔ بالآخر، ریسکیو ٹیموں نے انہیں بابوسر ٹاپ کے قریب تلاش کیا اور ان کی خیریت کی تصدیق کی۔واقعے کے بعد جب پشاور کے سیاح عثمان سے گلگت بلتستان پولیس نے استفسار کیا تو وہ مسکرا کر بولے: "سگنل نہیں تھے، اس لیے کسی سے رابطہ نہیں ہو سکا۔” انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پولیس قریب ہی موجود تھی، مگر انہوں نے اطلاع دینا مناسب نہیں سمجھا۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان علاقوں کا سفر کرتے ہوئے اپنی گاڑیوں کو چیک پوسٹوں پر لازمی رجسٹر کرائیں اور اپنے اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں رہیں تاکہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔