Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • گلگت بلتستان: گلیشیئر پگھلنے سے خطرناک صورتحال، کئی علاقے زیرِ آب

    گلگت بلتستان: گلیشیئر پگھلنے سے خطرناک صورتحال، کئی علاقے زیرِ آب

    گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

    دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے اور کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں، جس سے سیاح اور مقامی افراد شدید متاثر ہو رہے ہیں۔تحصیل یاسین (ضلع غذر) میں پانی کے شدید کٹاؤ سے پل اور سڑکیں تباہ ہو گئی ہیں۔زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے، جس سے امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

    سیاحت متاثر

    ملکی و غیر ملکی سیاح کئی مقامات پر محصور ہو چکے ہیں۔ہوٹلز تک رسائی ناممکن، مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔محکمہ موسمیات نے انتباہ کرتے ہئے بتای ہے کہ جولائی اور اگست میں گلیشیئر پگھلنے کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے اور فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    ایشیا کپ 2025، 10 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان

    کراچی: سمندرپر دفعہ 144 کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد پہنچ گئی

    شمالی وزیرستان: کل صبح سے شام تک کرفیو نافذ، دفعہ 144 بھی لاگو

    واربرٹن: آندھی سے چھت سے گری سولر پلیٹ، 17 ماہ کا بچہ جاں بحق

  • پاک فوج کا ریسکیو آپریشن،سوشل ایکٹیوسٹ یاور عباس کی میت دشوار گزار پہاڑی سے آبائی گاؤں منتقل

    پاک فوج کا ریسکیو آپریشن،سوشل ایکٹیوسٹ یاور عباس کی میت دشوار گزار پہاڑی سے آبائی گاؤں منتقل

    پاکستان آرمی نے ضلع نگر، گلگت بلتستان کے سنگلاخ پہاڑی علاقوں، بالخصوص راکاپوشی کے قریب، ایک انتہائی پرخطر اور پیچیدہ ریسکیو آپریشن کامیابی سے مکمل کر کے پیشہ ورانہ مہارت اور فرض سے بڑھ کر خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔

    24 جون 2025 کو معروف سماجی کارکن یاور عباس اور ان کے ساتھی ایک المناک حادثے کا شکار ہو گئے۔ یہ حادثہ ایک ایسے دور دراز اور دشوار گزار علاقے میں پیش آیا جہاں سول ریسکیو ٹیموں کی رسائی ممکن نہ تھی۔ متاثرہ خاندان کی درخواست پر پاکستان آرمی نے فوری طور پر جائے حادثہ کی جانب ہیلی کاپٹرز روانہ کیے۔ پاک فوج کے بہادر پائلٹس نے شدید موسمی اور پرواز کی سخت شرائط کے باوجود کئی بار پرواز کی کوششیں کیں۔ اس ریسکیو آپریشن کے نتیجے میں یاور عباس کا جسدِ خاکی باعزت طور پر بازیاب کر لیا گیا جبکہ ان کے زخمی ساتھی کو بروقت طبی امداد دے کر زندگی بچا لی گئی۔

    یاد رہے کہ یاور عباس، جو فورتھ شیڈول میں شامل اور پاکستان آرمی و ریاستی اداروں کے مسلسل ناقد رہے ہیں، ان کے جسدِ خاکی کی بازیابی کے لیے بھی پاکستان آرمی نے کسی قسم کی جانبداری یا تحفظات کا مظاہرہ کیے بغیر فوری اقدام کیا۔ سوگوار خاندان اور مقامی برادری نے پاک فوج کی اس انسانی جذبے سے بھرپور کارروائی پر دلی شکریہ ادا کیا۔

    یہ مشن ایک مرتبہ پھر اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان آرمی نہ صرف ریاست کے تحفظ کی ضامن ہے بلکہ ہر شہری کی بلا تفریق مذہب، نسل، طبقہ یا نظریاتی رجحانات مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے

  • سات دن سے لاپتہ گجرات کے  4سیاحوں کی گاڑی کھائی میں گرنے سے موت کی تصدیق

    سات دن سے لاپتہ گجرات کے 4سیاحوں کی گاڑی کھائی میں گرنے سے موت کی تصدیق

    گلگت بلتستان حکومت نے ہفتے کو سات دن سے لاپتہ گجرات سے تعلق رکھنے والے چار سیاحوں کی گاڑی کھائی میں گرنے سے موت کی تصدیق کردی ہے۔

    گلگت بلتستان کی سیر کو جانے والے یہ نوجوان 16 مئی کے بعد سے لاپتہ تھے، ریسکیو 1122 سکردو کے مطابق نوجوانوں کی گاڑی آج (24 مئی) کو تباہ حال صورت میں سکردو روڈ کے قریب استک نالے کے قریب کھائی میں گری ہوئی ملی،ترجمان گلگت بلتستان حکومت ایمان شاہ کے مطابق حادثے میں ’چاروں نوجوان زندگی کی بازی ہار گئے۔‘

    نوجوانوں میں سے دو کے رشتہ دار عثمان وڑائچ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سلمان نصراللہ اٹلی سے چھٹیاں گزارنے پاکستان آئے ہوئے تھے اور انہوں نے تین دوستوں کے ساتھ شمالی علاقہ جات کی سیر کا پروگرام بنایا عمر، سلمان اور واصف شہزاد آپس میں رشتہ دار ہیں اور عثمان ڈار ان کے دوست ہیں،عمر اور عثمان ڈار تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جب کہ واصف کی شادی ہو چکی ہے اور وہ دو بچوں کے والد ہیں، انہوں نے گھر والوں سے آخری رابطہ 16 مئی کو کیا تھا اور سکردو جانے کا بتایا اس کے بعد سے ان کے موبائل فونز بند تھے۔

    گلگت پولیس کے مطابق چاروں سیاحوں نے 15 مئی کو گلگت کے علاقے دنیور کے ایک مقامی ہوٹل میں رات گزاری تھی۔

    گلگت پولیس کے ایک بیان کے مطابق 16 مئی کے بعد سے چاروں سیاحوں کے موبائل نمبر بند تھے جبکہ دنیور اور سکردو میں دمبود ا س علاقوں کے درمیان رہنے والے مقامی افراد سے سیاحوں کو تلاش کرنے میں مدد کی اپیل بھی کی گئی دنیور میں رات گزارنے کے بعد سیاح اگلے روز سکردو کے لیے نکل گئے تھے لیکن دمبوداس چیک پوسٹ سے معلومات حاصل کرنے کے بعد پتہ چلا کہ سیاحوں کی گاڑی نے اس چیک پوسٹ کو کراس نہیں کیا۔‘

    جگلوٹ سکردو روڈ پر گانجی پڑی کا علاقہ ہے، جو گلگت اور ضلع سکردو کا جنکشن ہے، جہاں سے سکردو کی طرف سڑک مڑ جاتی ہے سیاحوں کے رشتہ دار گلگت میں موجود اور پولیس سے رابطے میں رہے رشتہ داروں کی جانب سے سیاحوں کی آخری موبائل لوکیشن جگلوٹ ٹاور بتائی گئی، تاہم جگلوٹ ٹاور سے سکردو کی جانب سڑک نکلتی ہے اور وہاں بھی اسی ٹاور کے سگنلز کچھ علاقے تک کام کرتے ہیں،’گلگت سکردو روڈ پر آگے جا کر ہراموش کے علاقے میں سگنلز ڈراپ ہوجاتے ہیں اور وہاں پر ’ایس کام‘ کام کرتا ہے، جب کہ باقی نیٹ ورکس کے سگنلز ڈراپ ہوجاتے ہیں۔

    سیاحوں کو تلاش کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی چیک کیا گیا اور ایک سی سی ٹی وی کیمرے میں گاڑی جگلوٹ سکردو روڈ پر 16 مئی کی صبح 10 بج کر 37 منٹ پر سسی کے علاقے میں دیکھی گئی سسی سے آگے دمبوداس کی بڑی چیک پوسٹ پر لاپتہ سیاحوں کی گاڑی گزرنے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں اور اسی وجہ سے جگلوٹ اور دمبوداس کے درمیان کے علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

    ریسکیو رضاکارسید عمر فاروق نے کہا کہ ہم نے سرچ آپریشن پر فوکس کیا، کیونکہ پہلے دو تین دنوں میں پولیس اس وجہ سے ایکٹیو نہیں ہو رہی تھی کیونکہ اس علاقے میں سنگلز کے مسئلے موجود ہیں اور سیاح دو تین دن بعد اکثر فیملی سے رابطے میں آجاتے ہیں’پولیس ایکٹیو ہو گئی دوسرا ان نوجوانوں کو ٹریکنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے کہ بندہ کہے کہ وہ کسی پہاڑ پرٹریکنگ کے لیے جا کر لاپتہ ہو گئے ہوں گے۔‘

    عمر فاروق نے بتایا کہ ان کے پاس گاڑی بھی اس روڈ کے مطابق نہیں تھی تو یہ خدشہ تو کم ہے لیکن سکردو روڈ خطرناک ہے اور یہاں اوورسپیڈنگ سے مسئلے آسکتے ہیں، اسی وجہ سے ہم نے اسی روڈ پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیاآج سرچ آپریشن کے دوران سکردو جگلوٹ روڈ پر سفید رنگ کی گاڑی گہری کھائی میں گری ہوئی نظر آئی، جس کے حوالے سے بعد میں تصدیق ہوئی کہ یہ انہی سیاحوں کی گاڑی ہے۔‘

  • گلگت بلتستان اسمبلی اجلاس،چپلیں چل گئیں،ہنگامہ آرائی

    گلگت بلتستان اسمبلی اجلاس،چپلیں چل گئیں،ہنگامہ آرائی

    لگت بلتستان اسمبلی کا اجلاس بدنظمی کا شکار، حکومتی رکن کی جانب سے اپوزیشن رہنما پر چپل پھینکنے کی کوشش

    گلگت بلتستان اسمبلی کا اجلاس اس وقت شدید ہنگامہ آرائی اور بدنظمی کا شکار ہوگیا جب لینڈ ریفارمز بل پر بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان گرما گرم تکرار جھگڑے کی شکل اختیار کر گئی۔ اجلاس کے دوران حکومتی اتحادی رکن امجد حسین کی تقریر کے دوران اپوزیشن رہنما نواز خان کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا، جس کے بعد ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق، بات چیت کے دوران تلخی اس حد تک بڑھی کہ حکومتی رکن فضل رحیم نے غصے میں آ کر اپوزیشن رہنما نواز خان پر چپل پھینکنے کی کوشش کی۔ خوش قسمتی سے چپل نواز خان کو نہیں لگی اور وہ محفوظ رہے۔ اس ناخوشگوار واقعے نے ایوان میں موجود دیگر ارکان کو ہکا بکا کر دیا، تاہم کچھ سینئر اراکین نے فوری مداخلت کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کے درمیان بیچ بچاؤ کروایا اور معاملے کو مزید بڑھنے سے روک دیا۔اسمبلی اجلاس کے دوران پیش آئے اس واقعے نے اسمبلی کے وقار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں نے اس قسم کے رویے کو غیر جمہوری اور عوامی نمائندوں کے شایانِ شان نہ ہونے کے مترادف قرار دیا ہے۔

    اپوزیشن رہنما نواز خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ایوان میں اظہارِ رائے پر اس طرح کا ردعمل انتہائی قابلِ مذمت ہے، اگر اسمبلی میں سوال پوچھنے پر چپلیں چلیں گی تو یہ جمہوریت کے لیے خطرناک علامت ہے۔”دوسری جانب حکومتی رکن فضل رحیم نے تاحال اس واقعے پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم حکومتی حلقوں کی جانب سے ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کو ایوان کی سطح پر افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسمبلی سپیکر نے کہا ہے کہ "ایوان کا تقدس برقرار رکھنے کے لیے ایسے رویوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔”

  • گلگت بلتستان میں 25 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادی کی پروقار تقریب

    گلگت بلتستان میں 25 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادی کی پروقار تقریب

    سکردو: گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 25 مستحق جوڑے سکردو میں منعقدہ ایک شاندار اجتماعی شادی کی تقریب میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ یہ خوبصورت تقریب ایک نجی فلاحی ادارے کی جانب سے منعقد کی گئی، جس کا مقصد معاشی طور پر کمزور خاندانوں کو باعزت زندگی کی ابتدائی بنیاد فراہم کرنا تھا۔

    پروگرام میں شریک افراد نے اس فلاحی اقدام کو معاشرتی ہم آہنگی اور فلاح و بہبود کا ایک بہترین نمونہ قرار دیا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جن میں مقامی افراد، سماجی کارکنان، اور دیگر مہمان شامل تھے۔ انہوں نے اس اقدام کو سراہا اور معاشرتی ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیا۔ایک نو بیاہتا جوڑے کی دلہن، انیلا نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ دن ہماری زندگی کا سب سے یادگار اور خوبصورت لمحہ ہے، اور ہم ان تمام لوگوں کے بے حد شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔” انیلا کا کہنا تھا کہ وہ اس موقع پر بے حد خوش ہیں کہ ان کا ازدواجی سفر اس خوبصورت تقریب کے ذریعے شروع ہو رہا ہے۔

    تقریب کے دوران ایک دوسرے جوڑے کے دلہا نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات معاشی مشکلات میں مبتلا خاندانوں کے لیے ایک نیا آغاز فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کی مدد نہ صرف مالی فائدہ پہنچاتی ہے، بلکہ یہ لوگوں کو احساس دلاتی ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں اور معاشرتی یکجہتی کی اہمیت بھی بڑھتی ہے۔تقریب کے منتظمین نے اس موقع پر بتایا کہ ان کا ادارہ مستقبل میں بھی اسی طرح کی اجتماعی شادیوں کا اہتمام کر کے معاشرتی فلاح و بہبود کے عمل کو مزید تقویت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ادارہ ان شادیوں کے ذریعے کمزور طبقات کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ان افراد کو ایک نئی زندگی شروع کرنے کا موقع مل سکے۔اس فلاحی پروگرام کا مقصد نہ صرف نیک نیتی سے معاشرتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے بلکہ اس سے معاشرتی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے جذبے کو بھی فروغ دینا ہے۔ اس پروگرام کی کامیابی ایک واضح پیغام ہے کہ ہم سب کو ایک دوسرے کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے تاکہ معاشرہ زیادہ مستحکم اور ہم آہنگ ہو سکے۔

    پروگرام کے منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ محض آغاز ہے، اور وہ آنے والے وقت میں بھی ایسے مزید اقدامات کر کے معاشرتی بہتری کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات کے علاقے مینگورہ سمیت گردونواح میں پیر کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.2 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز کوہ ہندوکش ریجن، افغانستان میں تھازلزلے کی گہرائی 156 کلومیٹر زیر زمین ریکارڈ کی گئی، زلزلے کے جھٹکے چند سیکنڈز تک جاری رہے،جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، لوگ گھروں اور عمارتوں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے، تاہم کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    نومئی مقدمہ، 20 ملزمان کو عدالت نے سنائی سزا

    وزیراعلی پنجاب کی انڈیا سے واپس آنے والے مریضوں کے مفت علاج کی ہدایت

    پاکستان کا فتح میزائل کا کامیاب تجربہ

  • لینڈ سلائیڈنگ کے سبب قراقرم ہائی وے  لوتر کے مقام پر بند

    لینڈ سلائیڈنگ کے سبب قراقرم ہائی وے لوتر کے مقام پر بند

    بھاری لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے اپر کوہستان میں لوتر پولیس اسٹیشن کی حدود میں قراقرم ہائی وے بند ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق لینڈسلائیڈنگ سے گلگت بلتستان اور کوہستان کے کچھ حصوں کا ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے نتیجے میں آنے اور جانے والے راستوں پر سیکڑوں مسافر اور خاندان پھنسے ہوئے ہیں۔اپر کوہستان کنٹرول روم کے پولیس اہلکار منہاج الدین نے روڈ بلاک ہونے کی تصدیق کی، جبکہ گلگت بلتستان میں دیامر ڈسٹرکٹ کے پولیس آفیسر کے اسسٹنٹ عبدالخالق نے بھی سڑک بندش کی تصدیق کی۔عبدالخالق کا کہنا تھا کہ شاہراہ قراقرم کل رات سے لوتر کے مقام پربند ہے، جو اپر کوہستان کی حدود ہے، حال ہی میں کوہستان پولیس کے اہلکار سے رابطہ ہوا، جنہوں نے بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کافی زیادہ ہوئی ہے اور ایک صفائی مشین سے رات تک اسے کھولنا ممکن نہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مسافر سڑکوں دونوں اطراف پھنسے ہوئے ہیں، تاہم دیامر پولیس اسلام آباد اور دیگر شہروں کی طرف جانے والے مسافروں کو بتانے کے لیے سڑکوں پر موجود ہے کہ وہ چلاس شہر میں اس وقت تک انتظار کریں گے جب تک سڑک کھل نہیں جاتی۔اپر کوہستان کنٹرول روم میں منہاج الدین نے بتایا کہ سڑک کھولنے کا کام جاری ہے، لیکن لوتر کے مقام پر سڑک کے 100 میٹر کے حصے میں بڑے پتھر پڑے ہوئے ہیں۔

    ایلون مسک کی دولت میں اچانک اربوں ڈالرز کی کمی

    بھارتی یونیورسٹی کے قریب دیوار پر ‘آزاد کشمیر’ اور ‘آزاد فلسطین’ کے نعرے درج

    این ایل سی کی خلیجی ممالک کے لیے بحری سروس کا آغاز

    بھارت کا انٹرنیٹ کیلئے اسپیس ایکس کے ساتھ معاہدہ

  • گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں پھنڈر سرمائی کھیلوں کا انعقاد

    گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں پھنڈر سرمائی کھیلوں کا انعقاد

    این ایل سی (نیشنل لاجسٹک سیلز) کی جانب سے گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں پھنڈر سرمائی کھیلوں کا شاندار انعقاد کیا گیا۔

    اس ایونٹ کا مقصد نہ صرف مقامی سطح پر کھیلوں کی ترویج بلکہ سیاحت کے فروغ کو بھی اجاگر کرنا تھا۔ این ایل سی نے پھندر ونٹر سپورٹس کلب اور غذر سپورٹس نیٹ ورک کے ساتھ مشترکہ طور پر ان کھیلوں کا اہتمام کیا۔پھنڈر سرمائی کھیلوں کے دوران خواتین کی آئس ہاکی ٹیم "پھنڈر ٹراوٹس” نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے یاسین جانباز کو شکست دی اور آئس ہاکی چمپیئن شپ اپنے نام کر لی۔ اسی طرح مردوں کے آئس ہاکی مقابلے میں بھی پھنڈر ٹراؤٹس نے جی بی سکاؤٹس کو شکست دے کر فتح حاصل کی۔

    ان مقابلوں کا مقصد گلگت بلتستان میں روایتی کھیلوں کو فروغ دینا اور علاقے میں سیاحت کے امکانات کو بڑھانا تھا۔ اس ایونٹ میں نہ صرف مقامی افراد بلکہ ملک بھر سے بڑی تعداد میں شائقین نے شرکت کی۔ اس میلے نے نہ صرف مقامی لوگوں کو تفریح فراہم کی بلکہ سماجی اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھی اضافہ کیا۔

    ویمن اور مین آئس ہاکی مقابلے: میلے میں موسم سرما کے روایتی کھیلوں کے علاوہ خواتین اور مردوں کی ٹیموں کے آئس ہاکی کے مقابلے بھی شامل تھے۔ ان مقابلوں کی خاص بات یہ تھی کہ خواتین نے مختلف کھیلوں میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، جس سے اس ایونٹ کی کامیابی میں مزید اضافہ ہوا۔یہ ایونٹ مقامی لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوا اور گلگت بلتستان کے سرد موسم میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک نیا باب کھولا۔

    کیا ائیر بیسز پر حملہ کرنے پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے؟جسٹس حسن اظہر

    پاکستانی لڑکے سے شادی کیلیے کراچی آئی امریکی خاتون کی واپسی کے لئے شرط

  • انڈپینڈنٹ لیونگ سینٹر سکردو میں فری لانسنگ ہب کا قیام

    انڈپینڈنٹ لیونگ سینٹر سکردو میں فری لانسنگ ہب کا قیام

    سکردو: ایس سی او نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لئے فری لانسنگ ہبز کے قیام کا آغاز کیا ہے۔ اس سلسلے میں انڈپینڈنٹ لیونگ سینٹر سکردو میں ایک فری لانسنگ ہب قائم کیا گیا ہے، جس سے ان افراد کو آئی ٹی کے شعبے میں اپنے ہنر کو مزید نکھارنے اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

    ڈی جی ایس سی او نے ان سینٹرز کا دورہ کیا اور اپنی گفتگو میں کہا، "خصوصی افراد ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں جو محنت، عزم اور قابلیت سے اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں۔ یہ باصلاحیت افراد دوسروں کے لیے بھی مثال قائم کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "خصوصی افراد کی کامیابیوں کو تسلیم کرنا اور ان کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔”

    پاک فوج اور ایس سی او کی جانب سے انڈیپینڈنٹ لیونگ سینٹر سکردو میں فری لانسنگ ہب کا قیام ایک سنگ میل ہے، جس کے ذریعے خصوصی افراد کو آئی ٹی کی تربیت اور آن لائن پلیٹ فارمز پر کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس ہب میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل بچے اور بچیاں لیپ ٹاپ کی فراہمی سے مستفید ہو سکیں گے۔اس اقدام کے ذریعے ان افراد کو آن لائن کام کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے نہ صرف ان کی کفالت کے ذرائع میں اضافہ ہوگا بلکہ انہیں اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔

    ایس سی او نے اس ہب میں لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس سے یہ خصوصی افراد آئی ٹی کے میدان میں اپنی مہارت کو مزید بہتر بنا سکیں گے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی راہ پر گامزن ہو سکیں گے۔یہ اقدام خصوصی افراد کے لیے ایک نئی امید اور روشنی کا پیغام ہے، جو ان کی خودمختاری اور معاشرتی انضمام کے لیے اہم قدم ہے۔

    شہداء کو خراجِ عقیدت، اوورسیز پاکستان گلوبل فاؤنڈیشن کا تین روزہ کنونشن

    پاکستانی نوجوان کی محبت میں مبتلا امریکی خاتون کا انوکھا مطالبہ

  • پہلا ایف سی این اے گلگت بلتستان فٹبال چیمپئن شپ کا آغاز

    پہلا ایف سی این اے گلگت بلتستان فٹبال چیمپئن شپ کا آغاز

    پہلا ایف سی این اے گلگت بلتستان فٹبال چیمپئن شپ،گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ فیفا کے اصولوں کے مطابق پہلا ایف سی این اے گلگت بلتستان فٹبال چیمپئن شپ 23 جنوری سے 1 فروری 2025 تک پاک آرمی کے زیر نگرانی منعقد کیا جا رہا ہے ۔

    ٹورنامنٹ کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب گلگت میں لالک جان سٹیڈیم میں منعقد ہوئی ۔تقریب کے مہمان خصوصی کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل امتیاز گیلانی تھے۔تقریب میں چیف سیکرٹری جی بی سمیت علاقے کی کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی ۔ٹورنامنٹ میں کل 15 فٹبال کی ٹیمز شامل ہیں جن میں سے 11 ٹیمیں مختلف اضلاع سے ہیں جو تمام اضلاع کی نمائندگی کر رہی ہیں اور 4 ٹیمیں مختلف محکموں کی نمائندگی کر رہی ہیں ۔
    چیمپئن شپ لیگ بنیادوں پر کھیلی جا رہی ہے اور ٹیموں کو ڈراز کے ذریعے چار پولز میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

    یہ چیمپئن شپ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو فٹبال کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرے گی اور کھیل کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔ تقریب میں شریک شائقین فٹ بال کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کا فٹ بال ایک پسندیدہ گیم ہے لیکن ماضی میں اس کھیل کو نظر انداز کیا گیا ۔لوگوں نے پاک ارمی کا شکریہ ادا کیا جس کی بدولت دوبارہ سے گلگت میں فٹ بال کے میںچیز کا انعقاد ممکن ہو سکا اور لوگوں کو ایک صحت مندانہ تفریح مہیا کی.

    مریم نواز کا لاکھوں خاندانوں کو نگہبان رمضان پیکج دینے کا اصولی فیصلہ

    انجینئرنگ یونیورسٹی،ملازمین کی تنخواہوں سے ٹیکس کاٹا لیکن جمع نہ کروایا

    میں نے حملہ آور کو کمرے میں بند کر دیا تھا، سیف علی خان کا دعویٰ