Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • ایف ڈبلیو او کا خنجراب پاس کا تجارتی راستہ سال بھر کھلا رکھنے کا آپریشن

    ایف ڈبلیو او کا خنجراب پاس کا تجارتی راستہ سال بھر کھلا رکھنے کا آپریشن

    پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایف ڈبلیو او (فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن) نے خنجراب پاس کو سال بھر تجارتی اور سیاحتی سرگرمیوں کے لیے کھلا رکھنے کا آپریشن شروع کیا ہے۔ یہ فیصلہ دونوں حکومتوں کے مشترکہ اقدام کے تحت لیا گیا ہے جس سے خنجراب پاس کا تجارتی راستہ سردیوں میں بھی فعال رہنے لگا ہے، جو پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے۔

    خنجراب پاس سطحِ سمندر سے 16,000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور یہ دنیا کے بلند ترین سرحدی راستوں میں سے ایک ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی راستہ فراہم کرتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور سفری تعلقات کی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خنجراب پاس کا کھلا رہنا خطے کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک نیا سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔ماضی میں خنجراب پاس نومبر کے وسط سے اپریل کے وسط تک برفباری اور شدید سردی کے باعث بند رہتا تھا۔ مگر اس سال کے آغاز میں حکومت پاکستان اور چین نے مل کر اس راستے کو سال بھر کے لیے کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے تحت ایف ڈبلیو او نے جدید مشینری اور کارکنوں کی مدد سے اس راستے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ ان کارکنوں کو شدید برفانی طوفان، منفی 15 سے منفی 35 ڈگری تک کے درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، مگر وہ دن رات اس راستے کو کھلا رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    خنجراب پاس کے سال بھر کھلے رہنے سے نہ صرف تجارتی قافلوں کی روانی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس سے پاکستان اور چین کے اقتصادی تعلقات کو مزید تقویت مل رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سامان کی ترسیل میں آسانی آئی ہے اور خطے کی معیشت میں نئی جان آئی ہے۔خنجراب پاس کا کھلا رہنا سیاحت کے شعبے کے لیے بھی بہت فائدے کا باعث بن رہا ہے۔ سیاحتی قافلے اس تاریخی اور قدرتی خوبصورتی سے مالامال مقام کا دورہ کرنے کے لیے تسلسل کے ساتھ آ رہے ہیں، جس سے مقامی کاروباروں کو بھی فروغ مل رہا ہے۔

    خنجراب پاس کا آل ویدر آپریشن نہ صرف پاکستان اور چین کی اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کر رہا ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کی ایک روشن مثال بھی پیش کر رہا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے دونوں ممالک کی حکومتیں اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی جانب اہم قدم اٹھا رہی ہیں، اور یہ خطے میں ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھولنے کا باعث بنے گا۔

    یورپ کے ساتھ پاکستانی برآمدات میں 3.8 بلین ڈالر کا قابل ذکر اضافہ

    نیو گوادر ایئرپورٹ کا افتتاح ،کراچی سے پہلی پرواز لینڈ کرگئی

  • حاملہ خاتون طبی امداد نہ ملنے پر بچے سمیت جاں بحق

    حاملہ خاتون طبی امداد نہ ملنے پر بچے سمیت جاں بحق

    وادی نیلم کے گاؤں ہلمت میں ایک حاملہ خاتون طبی امداد نہ ملنے پر بچے سمیت جاں بحق ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : ورثا کے مطابق حاملہ خاتون کو طبیعت خراب ہونے پر مقامی اے ڈی ایس اسپتال لایا گیا،ورثا نے بتایا کہ اے ڈی ایس اسپتال میں نرس نہ ہونے پر مریضہ کو ڈی ایچ کیو اسپتال ریفر کیا گیا،سڑک کی بندش پر مریضہ کو کندھوں پر اٹھا کر لایا جا رہا تھا کہ خاتون راستے میں دم توڑ گئی۔

    واضح رہے کہ گریس ویلی کی سڑک برف باری کی وجہ سے 15روز سے بند ہے، اس حوالے سے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایکسویٹر خراب ہونے کی وجہ سے سڑک کی بحال نہیں ہو سکی، ملک کے پہاڑی علاقوں میں برف باری کی وجہ سے سڑکوں کی بندش کے خلاف مقامی لوگوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔

    ٹرمپ پر حملے کی پیشگوئی کرنے والے پادری کی امریکا میں خوفناک زلزلے کی پیشگوئی

    مذاکراتی کمیٹی کوعمران خان سے ملاقات کی اجازت مل گئی

    مصر کے قدیم ترین دینی تعلیمی ادارے کا پاکستان میں اپنا کیمپس کھولنے کا اعلان

  • گلگت بلتستان میں  پاک فوج  کی جانب  فری لانسنگ ہب کا قیام

    گلگت بلتستان میں پاک فوج کی جانب فری لانسنگ ہب کا قیام

    گلگت:گلگت بلتستان کے علاقے طاوس میں پاک فوج اور ایس سی او کی جانب سے فری لانسنگ ہب کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ایس سی او کی جانب سے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول طاوس میں فری لانسنگ ہب قائم کیا گیااسکول کے پرنسپل شاہین بیگ نے پاک فوج کے احسن اقدام کو سراہا،نوجوانوں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک بہترین فری لانسنگ ہب بنایا گیا، اس فری لانسنگ ہب سے نہ صرف اسکول کے بچوں کو فائدہ ہوگا بلکہ باہر کے لوگ بھی اس سے مستفید ہوں گے، اس فری لانسنگ ہب سے بچے آن لائن بزنس، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ سیکھیں گے۔

    اسکول کے پرنسپل کا کہنا تھا کہ ایسے فری لانسنگ وقت کی اہم ضرورت ہیں، اس ہب کے ذریعے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع قائم ہوں گے، اسکول کے بچوں کو اس ہب سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔

    توجہ برائے وزیراعظم پاکستان، تجزیہ : شہزاد قریشی

    سعودی وزارت حج وعمرہ نے عمرہ زائرین کو بڑی خوشخبری سنادی

    فیصلوں پر اعتماد میں نہیں لیا جا رہا ، حمایت ختم کرنے پر حکومت ختم ہو جائےگی ، پیپلز پارٹی

  • خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام

    خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام

    ماضی میں جہاں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع تھے، اب وہاں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی کے میدان میں نئے دروازے کھل رہے ہیں۔ اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) نے ان دونوں خطوں میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس اور فری لانسنگ ہبز قائم کر کے ان کی تقدیر بدلنے کی ایک نیا راستہ دکھایا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ان علاقوں کی معیشت کو مستحکم کرے گا بلکہ یہاں کے نوجوانوں کو عالمی سطح پر اپنی مہارتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم بھی فراہم کرے گا۔

    ایس سی او نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مختلف آئی ٹی پارکوں کا آغاز کیا ہے جن کا مقصد ان خطوں کو آئی ٹی سے منسلک اور ڈیجیٹلائزڈ بنانا ہے۔ ان پارکوں کا قیام نہ صرف مقامی کمیونٹیز کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ حکومتی اداروں کو بھی جدید سافٹ ویئر ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامی نظام فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
    ایس سی او نے صرف 16 ماہ کے مختصر عرصے میں 61 آئی ٹی پارکس اور فری لانسنگ ہبز قائم کر کے ایک شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ ان پارکوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کی سہولت موجود ہے، جس سے نوجوانوں کو ایک محفوظ اور جدید کام کرنے کا ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ایس سی او کے ٹیکنالوجی پارکس کا مقصد نہ صرف مقامی کمیونٹیز کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے بلکہ یہ نوجوانوں کی مہارتوں کو بھی فروغ دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ ان فری لانسنگ ہبز میں نوجوان اپنے ہنر کو نکھارنے اور عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

    ایس سی او کا وژن آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں ایک مستقل آئی ٹی ماحول کی فراہمی کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے۔ یہ اقدامات ان دونوں علاقوں کو نہ صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی آئی ٹی کے مرکز میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کریں گے۔ایس سی او کے حالیہ منصوبے کے تحت آزاد جموں و کشمیر میں 50 سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس اور فری لانسنگ ہبز قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ اکیسواں منصوبہ ہے جو اس بات کی گواہی ہے کہ ایس سی او نے اس علاقے میں آئی ٹی کی ترقی کے لیے مسلسل اقدامات کیے ہیں۔
    ایس سی او کا مقصد ان ٹیکنالوجی پارکوں کے ذریعے مقامی کمیونٹیز اور انتظامیہ کو ایک ماحول دوست اور توانائی کی بچت کرنے والا نظام فراہم کرنا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف نوجوانوں کے لیے نئی ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں بلکہ یہ پارک جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ماحول کی بہتری کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

    ایس سی او نے معذور بچوں کے لیے آزاد زندگی کے مراکز بھی فراہم کیے ہیں جہاں وہ نہ صرف تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی کی تربیت بھی لے رہے ہیں۔ اسی طرح، ایس سی او نے خواتین کے لیے بھی فری لانسنگ ہبز قائم کیے ہیں جہاں وہ محفوظ اور معاون ماحول میں کام کر رہی ہیں اور معاشی خودمختاری حاصل کر رہی ہیں۔ایس سی او کی کاوشوں کے نتیجے میں اب تک 6,500 سے زائد نوکریاں پیدا کی گئی ہیں اور 1,600 سے زیادہ فری لانسرز کو بااختیار بنایا گیا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملے ہیں بلکہ ان کی مہارتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے پورے علاقے کی معیشت کو فائدہ پہنچا ہے۔ایس سی او کا ارادہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مزید 100 آئی ٹی سیٹ اپز قائم کرنے کا ہے۔ یہ قدم 2025 تک اس علاقے کو آئی ٹی کے عالمی مرکز میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔

    ایس سی او کی کوششوں سے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام ایک خواب سے حقیقت تک کے سفر کا حصہ بن چکا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں مواقع ملے ہیں بلکہ یہ پورے خطے کو اقتصادی ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن کی سمت میں ایک نئے دور میں داخل کر رہے ہیں۔ ایس سی او کی کاوشیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ اگر صحیح منصوبہ بندی اور وسائل کی فراہمی ہو تو خوابوں کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔

    ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ

    بھارتی سابق کپتان سارو گنگولی کی بیٹی کی گاڑی کو حادثہ

  • 2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    دنیا کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ جڑی ہوئی اور وسیع ہو چکی ہے، اور یہ تبدیلی انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔ جدید ہوائی جہاز نیو یارک سے سنگاپور یا لندن سے کیپ ٹاؤن تک محض چند گھنٹوں میں لوگوں کو پہنچا سکتے ہیں، جبکہ پہلے یہ سفر کئی ہفتوں یا مہینوں پر محیط ہوتا تھا۔

    سوشل میڈیا پر ایسا لگتا ہے کہ آپ کے تمام دوست اور جاننے والے کسی نہ کسی عجیب و غریب مقام پر تعطیلات گزار رہے ہیں۔ تو پھر ہم کس جگہ کا انتخاب کریں؟سی این این ٹریول کا ماننا ہے کہ ہر جگہ کا اپنا جواز ہے جو اسے دیکھنے کے قابل بناتا ہے۔ تاہم، ان کے عملے نے 2025 میں سفر کے لیے ان 25 مقامات کی فہرست تیار کی ہے جو خاص طور پر ملاحظہ کرنے کے قابل ہیں۔ان 25 مقامات میں سے پاکستان کا علاقہ گلگت بھی شامل ہے جسے 2025 کے خوبصورت ترین مقامات میں 9ویں نمبر پر رکھا گیا ہے

    1970 کی دہائی میں پاکستان ایک ایڈونچر ٹریول ہاٹ سپاٹ تھا، اس کی بلند و بالا پہاڑی مناظر "ہپی ٹریل” کے راستے پر یورپ سے جنوبی ایشیا جانے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم اسٹاپ تھے۔ لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ دن چلے گئے۔ پھر بھی، ان بلند پہاڑوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔گلگت بلتستان کا علاقہ جو قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع ہے، وہاں تک پہنچنا آسان نہیں ہے — پروازوں کے شیڈول غیر متوقع ہو سکتے ہیں، سڑکیں موسم کی بنا پر بند ہو سکتی ہیں — لیکن اس علاقے میں ایسے بلند پہاڑ ہیں جو کسی بھی مٹھائی سے زیادہ لذیذ اور دلکش ہیں۔

    oplus_2

    یہاں دنیا کے 14 "آٹھ ہزاربلند” پہاڑوں میں سے پانچ پہاڑ واقع ہیں، جن میں کے 2 شامل ہے، جو دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ ہے، مگر دشواری اور خطرے کے اعتبار سے اسے پہلی پوزیشن حاصل ہے۔

    سیاحت اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے، اس علاقے میں ہائیکنگ اتنی آسان نہیں ہے کہ آپ اسے ہمالیہ کے مشابہ سمجھیں، جہاں ایک ہلکا سا سفر ممکن ہو۔ اس علاقے میں ٹریکنگ کرنا ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ تجربہ ہو سکتا ہے، اور اس لیے یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے جہاں آپ اکیلے سفر کریں۔

    گلگت بلتستان میں موجود قدرتی مناظر اور بلند پہاڑ سیاحوں کے لیے ایک خواب کی مانند ہیں۔ یہاں کی ٹریکنگ، برف پوش پہاڑ، اور گلیشیئرز دنیا کے سب سے دشوار گزار لیکن خوبصورت سفر کا حصہ ہیں۔ آپ اگر اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو اس میں بہترین ٹور آپریٹرز کی مدد سے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے، تاکہ آپ اس کے قدرتی حسن اور چیلنجز کو بھرپور طریقے سے محسوس کر سکیں۔

    پاکستان کے ان پہاڑی علاقوں کی خوبصورتی اب بھی غیر دریافت شدہ اور کم معلوم ہے، اور یہ ان لوگوں کے لیے ایک بہترین منزل ہے جو خود کو قدرتی مناظر اور انتہائی چیلنجنگ ہائیکنگ کے تجربے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔

  • سوات اور گرد ونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات اور گرد ونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات اور گرد ونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے –

    باغی ٹی وی : زلزلہ پیما مرکز کے مطابق سوات اور اس کے ملحقہ علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، لوگ خوفزدہ ہو کر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے،ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کی گہرائی 165 کلومیٹر تھی۔

    زلزلہ پیما مرکز اسلام آباد کے مطابق زلزلے کا مرکز پاک افغانستان تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔

  • بلتستان ڈویژن میں برفباری کے بعد سردی میں اضافہ، نظام زندگی متاثر

    بلتستان ڈویژن میں برفباری کے بعد سردی میں اضافہ، نظام زندگی متاثر

    بلتستان ڈویژن میں برفباری کے بعد سردی میں اضافہ ہو گیا ہے، جس سے مقامی افراد کی زندگی مزید مشکل ہوگئی ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ اس شدید سردی نے نہ صرف عام زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ راستوں کی بندش اور دیگر دشواریوں نے عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔

    دوسری جانب، گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں پہاڑی تودے گرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گلگت اسکردو روڈ پر باغیچہ کے مقام پر پہاڑی تودہ گرنے کی وجہ سے سڑک بند ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق، اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے، تاہم سڑک کی بندش نے سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ روڈ کھولنے کی کوششیں جاری ہیں۔استور میں برفباری کا تسلسل بدستور جاری ہے جس کے باعث پورے علاقے میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ برفباری کی شدت کی وجہ سے کئی علاقے برف سے ڈھک گئے ہیں اور عوام کو روزمرہ کے کاموں میں دشواری کا سامنا ہے۔ اسی طرح وادی نیلم میں بھی وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے یہاں بھی نظام زندگی متاثر ہو رہا ہے۔

    محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آج بھی گلگت بلتستان، بالائی خیبرپختونخوا اور کشمیر میں ہلکی بارش اور برفباری ہو سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، مری اور گلیات میں بھی صبح کے اوقات میں ہلکی بارش اور برفباری کی توقع ہے۔محکمہ موسمیات کے حکام نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ سفر کرنے والے افراد موسم کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔سردیوں کی شدت میں اضافے اور برفباری کی وجہ سے مقامی انتظامیہ نے امدادی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں تاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات کا حل نکالا جا سکے۔ سڑکوں کی صفائی اور برف ہٹانے کے کام میں تیزی لائی جا رہی ہے تاکہ لوگوں کا سفر جاری رکھا جا سکے۔ حکام نے عوام کو بارش اور برفباری کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔اس کے علاوہ، گلیات، مری اور دیگر برفباری سے متاثرہ علاقوں میں، شہریوں کو بجلی کی فراہمی کی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے لیے محکمہ برقیات نے مزید عملے کو علاقے میں تعینات کر دیا ہے۔

    ہم خوابوں کو حقیقت میں بدلتے ہیں،سعودی ولی عہد

    ہوٹل میں غیر اخلاقی سرگرمیاں،خواتین سمیت 9 ملزمان گرفتار

    نواز ، زرداری،گیلانی کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس سپیشل جج سنٹرل کو بھیج دیا گیا

  • قراقرم ہائی وے ایف ڈبلیو او کی  کاوشوں کی بدولت سردیوں میں بحال

    قراقرم ہائی وے ایف ڈبلیو او کی کاوشوں کی بدولت سردیوں میں بحال

    قراقرم ہائی وے ایف ڈبلیو او کی کاوشوں کی بدولت سردیوں میں بحال کر دی گئی

    قراقرم ہائی وے ایف ڈبلیو او کی انتھک کاوشوں کی بدولت سردیوں میں بھی بحال کر دی گئی،پاکستان اور چائنہ کو زمینی راستے سے ملانے والی شاہراہ قراقرم دسمبر سے مارچ تک بند رہتی تھی، ۲۰۲۴ میں دونوں ممالک کی حکومتوں نے سیاحت اور تجارت کے فروغ کے باعث قراقرم ہائی وے کو سال بھر کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا،دنیا کی اس بلند ترین شاہراہ کو شدید برفانی موسم میں ٹریفک کے لئے کھلا رکھنے کی ذمہ داری ایف ڈبلیو او کو دی گئی ،ایف ڈبلیو او کی ٹیمیں شب و روز قراقُرم ہائی وے کو سال بھر بشمول برفانی موسم کو کھلا رکھنے کے لئے مصروف عمل ہیں،مکینیکل سنو کلیئرنس کے ساتھ ساتھ مسافروں کی سہولت کے لیے ایف ڈبلیو نے مختلف مقامات پر ضروری میڈیکل سینٹر اور ریکوری کا بھی بندوبست کر رکھا ہے ،ایف ڈبلیو او کی کاوشوں کی بدولت قراقرم ہائی وے اب سال بھر ہر طرح کی ٹریفک کے لیے کھلی رہے گی،روڈ کھلے رہنے کی بدولت پاک چائنہ سیاحت اور تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • سوات میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، پاکستان زندہ باد موومنٹ کے رہنما جاں بحق

    سوات میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، پاکستان زندہ باد موومنٹ کے رہنما جاں بحق

    سوات کی تحصیل مٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پاکستان زندہ باد موومنٹ کے ڈویژنل صدر اعجاز پشتون جاں بحق ہوگئے ہیں ۔

    باغی ٹی وی :پولیس کے مطابق سوات کی تحصیل مٹہ کے علاقہ پیوچار میں نامعلوم افراد کی کار پرفائرنگ سے پاکستان زندہ باد موومنٹ ملاکنڈ ویژن کے صدر اعجاز پشتون جاں بحق ہوگئےفائرنگ کے واقعہ میں اعجاز پشتون کی سیکیورٹی پر معمور پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوگئے ، ملزمان واردات کے بعد فرار ہو نے میں کامیاب ہوگئے ہیں پولیس اورمقامی لوگوں نے لاش اورزخمیوں کو مٹہ اسپتال منتقل کر دیا ہے، پولیس نے ملزمان کی تلاش کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

    واضح رہے کہ اعجاز پشتون امن کمیٹی کے ممبر، ویلج کونسل کے چیئرمین بھی تھے، وہ ڈویژن بھر میں پاکستان زندہ باد موومنٹ کی ریلیوں کی قیادت کرتے تھے۔

    دوسری جانب بلوچستان کے شہرتربت میں مدرسہ جامعہ التوحید کے مہتمم مفتی شاہ میر پر قاتلانہ حملہ کیا ہے ، تاہم وہ فائرنگ سے بال بال بچ گئے، اسپتال منتقل کردیا گیا بلوچستان کے شہرتربت میں مہتمم مدرسہ جامعہ التوحید مفتی شاہ میر پرمسلح ملزمان نے فائرنگ کر دی ، تاہم وہ قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں، فائرنگ کے واقعہ میں مدرسے کے تین طلبہ زخمی ہوگئے ہیں ، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ، واضح رہے کہ کالعدم تنظیم کی جانب سے مفتی شاہ میر کو متعدد بار دھمکیاں دی گئی تھیں۔

  • سکردو، دیوسائی میں پھنسے  سیاحوں کو ریسکیو کرنے کیلیے پاک فوج کا آپریشن جاری

    سکردو، دیوسائی میں پھنسے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کیلیے پاک فوج کا آپریشن جاری

    سکردو: سرحدی علاقہ تحصیل گلتری سے سکردو آتے ہوئے 2 مسافر گاڑیاں شدید برفباری کے باعث دیوسائی کے برفانی میدان میں لاپتہ گاڑی، میں 14 افراد سوار ہیں جن سے گزشتہ 29 گھنٹوں سے کوئی رابطہ نہیں لواحقین نےپاک فوج سے ریسکیو اینڈ سرچ میں مدد کی اپیل کی، پاکستان آرمی کا دیوسائی، سکردو میں ریسکیو آپریشن جاری ہے

    14 نومبر کو 15کے قریب مسافر دو گاڑیوں میں گلتری سے بذریعہ دیوسائی سکردو جا رہے تھے کہ شدید برف باری کی وجہ سے مسافر دیوسائی میں پھنس گئے ،مسافروں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ،مسافروں کے اہل خانہ اور علاقے کے لوگوں نے پاک آرمی سے مدد کی اپیل کی ،پاک آرمی نے اپیل پر فوراً ہوائی اور زمینی ریسکیو اپریشن شروع کیا ، پاک آرمی کے جوانوں پر مشتمل جوائنٹ ٹیم مسافروں کو ریسکیو کرنے کے لیے پیدل روانہ ہو گئے، پاک فوج کی ٹیمز دیوسائی میں پھنسے ہوئے مسافروں کو ریسکیو کریں گی،پاک فوج کے دو ہیلی کاپٹرز بھی ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں،موسم کی خرابی اور شدید برف باری کے باعث ہوائی آپریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے