Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • استور:  باراتیوں کی بس دریا میں جاگری، 18 افراد جاں بحق

    استور: باراتیوں کی بس دریا میں جاگری، 18 افراد جاں بحق

    استور: گلگت بلتستان کے علاقے استور سے چکوال جانے والی باراتیوں کی بس دریا میں جاگری جس کے نتیجے میں 18 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق کے مطابق استور سے چکوال جانے والی باراتیوں کی بس تھلیچی پل کے قریب دریا میں جاگری، بس میں 23 سے زائد مسافر سوار تھے، بس میں سوار افراد دلہن کو چھوڑنےکے لیے استور سے چکوال جا رہے تھے۔

    فیض اللہ فراق کے مطابق دریا سے 18 افراد کی لاشیں اور ایک زخمی کو نکالا گیا ہے جب کہ بقیہ افراد کی تلاش جاری ہے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے حادثے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن تیز کرنےکی ہدایت کی ہے۔

    دوسری جانب ایس پی دیامر شیر خان کا کہنا ہے کہ کوسٹر میں 25 افراد سوار تھے، دلہن کو زخمی حالت میں بچالیا گیا ہے، لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

  • استور،باراتیوں کی بس دریا میں گر گئی،دلہن بچ گئی،چار لاشیں مل گئیں

    استور،باراتیوں کی بس دریا میں گر گئی،دلہن بچ گئی،چار لاشیں مل گئیں

    باراتیوں کو لیکر استور پریشنگ سے راولپنڈی جانے والی کوسٹر تھلچی کے مقام پر دریا میں جا گری۔کوسٹر میں 25 افراد سوار تھے ۔چار لاشیں نکال لی گئیں،دلہن کو بھی زخمی حالت میں نکال لیا گیا

    استور سے راولپنڈی جانے والی باراتیوں سے بھری کوسٹر تھلیچی پل کے قریب دریا برد ہوگئی،ریسکیو ذرائع کے مطابق کوسٹر میں 25 افرادمسافر سوار تھے ،دریا میں ڈوبنے والے افراد کی تلاش جاری ہے، ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی ہیں، گلگت سے ریسکیو 1122 گاڑیاں موقع پر پہنچی ہیں،مقامی افراد بھی جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں،

    وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے افسوس ناک حادثے پر اظہار افسوس کیا ہے اور ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ حادثے کا شکار کوسٹر میں دلہن بھی سوار تھی جس کو زخمی حالت میں ریسکیو کیا گیا ہے،کوسٹر حادثے میں پنجاب کے علاقےچکوال سے تعلق رکھنے والے تین باراتی بھی سوار تھے۔

  • وزیراعظم کی گلگت میں رمدے یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت

    وزیراعظم کی گلگت میں رمدے یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں تھاگوس ، ضلع گھانچے کے مقام پر قائم کی جانے والی رمدے یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کی

    سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی،رمدے یونیورسٹی ایک ٹرسٹ کے تحت قائم کی جا رہی ہے،رمدے یونیورسٹی کی تعمیر سمندر پار پاکستانیوں سمیت پاکستان بھر سے مخیر افراد کے تعاون سے مکمل ہو گی ،وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ میں جناب جسٹس (ر) خلیل الرحمن رمدے اور اُن کے تمام احباب کو دِل کی گہرائیوں سے ’رمدے یونیورسٹی‘ کے قیام کی مبارک پیش کرتا ہوں،رمدے یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے تعاون کرنے والے تمام اداروں اور افراد کی کوششیں لائق تحسین ہیں،آج ہم سب نے مل کر یہاں کے بچوں اور بچیوں کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھی ہے ،گلگت بلتستان کے گھانچے جیسے دور دراز علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے کا قیام انتہائی خوش آئند ہے،مجھے یقین ہے کہ 11 ہزار فٹ کی بلندی پر تھاگوس کے مقام پر قائم ہونے والی یہ یونیورسٹی جدید علوم اور تحقیق کے معیار کی بلند چوٹیاں سر کرے گی۔ اِن شاء اللہ،پاکستان میں تعلیم کے فروغ میں نجی شعبے کا کردار انتہائی اہم ہے ،نجی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء نے ہر شعبے میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے ،گلگت بلتستان کی ترقی اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،گزشتہ روز گلگت بلتستان کے دورے کے دوران سیلاب سے 62 متاثرہ خاندانوں کو گھر حوالے کیے گئے ہیں ،گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی کے مختلف منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے جو کہ علاقے کی بجلی کی ضروریات پورا کرنے میں مدد دے گا ،کل ہی گلگت بلتستان ایجوکیشن اینڈاومینٹ فنڈ کا اعلان کیا ہے جس سے گلگت بلتستان کے قابل اور مستحق طلباء مستفید ہو سکیں گے اور معاشرے کے تعمیری فرد کے طور پر پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے

    تقریب میں جسٹس (ر) خلیل الرحمن رمدے نے رمدے یونیورسٹی کے حوالے سے بریفنگ میں کہا کہ رمدے یونیورسٹی گلگت بلتستان کے ضلع گھانچے کے علاقے تھاگوس میں 200 کنال رقبے پر قائم کی جا رہی ہے ،رمدے یونیورسٹی دنیا کی بلندترین مقامات پر تعمیر کی جانے والی یونیورسٹیوں میں سے ایک ہو گی،یونیورسٹی میں ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی ، ہائیڈرولوجی، معدنیات سمیت دیگر مضامین کی تعلیم دی جائے گی،اسفند یار ولی رمدے اسکول گھانچے کے طلباء نے قومی ترانہ پیش کیا، اسفند یار ولی اسکول گھانچے کے طلبہ و طالبات نے وڈیو لنک کے ذریعے تقریب میں شرکت کی۔

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • گلگت،وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کیلئے تعمیر شدہ نئے گھروں کا کیا افتتاح

    گلگت،وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کیلئے تعمیر شدہ نئے گھروں کا کیا افتتاح

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایک روزہ دورہ گلگت بلتستان کا دورہ کیا ہے

    سیکر ٹریٹ آمد پر وزیر اعظم کو روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے پھول پیش کئے،وزیراعظم محمد شہباز شریف کی آمد پر چیف منسٹر سیکریٹریٹ گلگت بلتستان میں انکے اعزاز میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا.وزیراعظم نے چیف منسٹر سیکریٹریٹ گلگت بلتستان میں یادگار شہداء پر حاضری دی،وزیراعظم نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی ،اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کے قیام اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کے لیے گلگت بلتستان سکاؤٹس کے نڈر نوجوانوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں،

    وزیراعظم شہباز شریف سے گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان سے علیحدہ علیحدہ ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں گلگت بلتستان کے امور کے حوالے سے گفتگو کی گئی،گورنر و وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے وزیراعظم کو ملک میں حالیہ معاشی استحکام پر خراج تحسین پیش کیا ،دونوں راہنماؤں نے گلگت بلتستان میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کے سنگ بنیاد و افتتاح کے لیے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی عوام کی فلاح وبہبود کے لیے ان ترقیاتی منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنائی جائے گی، ووفاقی حکومت، گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی وخوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے سرگرم عمل ہے، وزیر اعلی گلگت بلتستان نے وزیر اعظم کو روایتی چغہ اور ٹوپی کا تحفہ پیش کیا

    قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے علاقے غذر میں سیلاب متاثرین کیلئے تعمیر شدہ نئے گھروں کا افتتاح کردیا،اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگست 2022میں بوبر میں ہرطرف تباہی کا منظرتھا۔آج نئی بستی کی تعمیر سےخوشی کا سماں ہے۔ گھروں کے ملکیتی کاغذات تقسیم کرکے بے حدخوشی ہوئی ہے۔گھروں کی تعمیرکیلئے تمام ادارے اور انتظامیہ دادکے مستحق ہیں ۔ماڈل ویلج میں سکول اور ڈسپنسری کی تعمیر جلد شروع کی جائے،

    گلگت بلتستان کے شعبہ سیاحت میں سرمایہ کاری کے لیے قطری سرمایہ کار دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں، وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گلگت بلتستان کی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا،وزیراعظم نے ضلع غذر کے گاؤں بوبر میں 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے خصوصی طور پر تعمیر شدہ مکانوں کی بروقت تکمیل اور اس کے گھروں کے اعلیٰ معیار پر اظہار اطمینان کیا اور کہا کہ بوبر گاؤں میں نئے تیار شدہ گھروں کو دیکھ بے حد خوشی ہوئی، وزیراعظم نے گلگت بلتستان کی انتظامیہ کو ضلع غذر میں تعلیمی اداروں، کھیل کے میدانوں، بجلی کی فراہمی اور دیگر سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی،وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ بجلی کی فی الفور فراہمی کا اعلان کیا،وزیراعظم نے بلتستان یونیورسٹی اور قراقرم یونیورسٹی کے باصلاحیت طلباء کے لیے میرٹ کی بنیاد پر 1 ارب روپے کے اینڈاؤمینٹ فنڈ کے قیام کا اعلان کیا اور کہا کہ پنجاب کی طرز پر گلگت بلتستان کے شعبہ تعلیم کی ترقی کے لیے دانش سکول متعارف کر رہے ہیں،وفاقی حکومت گلگت بلتستان کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے دن رات سرگرم عمل ہے،ماضی میں بطور وزیر اعلیٰ پنجاب، گلگت بلتستان کے شعبہ تعلیم کو تحفتاً 1 ارب روپے دیے تھے،گلگت بلتستان کے تمام شعبوں کی ترقی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، حالیہ معاشی استحکام میں وفاقی حکومت کے ساتھ تمام صوبوں کا تعاون انتہائی اہم رہا ہے، سٹاک ایکسچینج 92 ہزار کی تاریخی سطح عبور کر چکا ہے،ملکی ترسیلات زر، ٹیکس فائلرز کی تعداد میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے، ملکی ترقی کے سفر میں تمام صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کا تعاون کلیدی ہے، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا فاٹا کے ضم اضلاع اور بلوچستان کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود پر ہماری توجہ پوری طرح مرکوز ہے، وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں شعبہ سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے، گلگت بلتستان کے شعبہ سیاحت میں سرمایہ کاری کے لیے قطری سرمایہ کار دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں، اجلاس میں وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ،اجلاس میں وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی ڈاکٹر احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام، وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی، گلگت بلتستان کابینہ کے ارکان اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

    گلگت بلتستان کیلئے100 میگاواٹ کا شمسی توانائی کا منصوبہ لگایا جارہا ہے،وزیراعظم
    گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں کےسنگ بنیاد اور افتتاح کی تقریب منعقد ہوئی،وزیراعظم محمد شہبازشریف نے متعدد منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا،وزیراعظم محمد شہبازشریف نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر دیا،وزیراعظم محمد شہبازشریف نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان میں اپنے بہنوں اور بھائیوں سے ملاقات ہوئی،غذر میں 2022 میں جو قدرتی آفت سے پورے گاؤں کا نشان مٹ گیا،ایک خاندان میں قوم کی معصوم بیٹی کے ساتھ صرف اس کے والد زندہ بچے،اگست 2022 میں جب وہاں کا دورہ کیا تو سکتہ طاری ہوا،دورے کے دوران اس گاؤں کی تعمیر کے لیے احکامات دیے تھے،قوم کی بیٹی کے لیے حکومت نے پچاس لاکھ روپے انکے اکاونٹ میں جمع کرائے تھے،وہ پچاس لاکھ روپے آج 67 لاکھ روپے بن چکے ہیں، گلگت بلتستان کے حوالے سے بہت تفصیلی میٹنگ ہوئی ہیں،اجلاسوں میں سردیوں میں بجلی اور پانی کے مسائل سمیت تعلیم پر بھی بات ہوئی،سڑکوں اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے کئی معاملات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی ،اجلاسوں میں ٹھوس فیصلے کیے گئے ،سنگ بنیاد رکھے جانے والے منصوبوں میں دو پن بجلی پروجیکٹ بھی شامل ہیں،بلتستان اور قراقرم یونیورسٹی کیلئے پچاس پچاس کروڑ روپے کے فنڈ مختص کیے، کئی منصوبے تعمیر کے مرحلے سے گزر رہے ہیں ، ترقیاتی منصوبوں کا کریڈٹ محمد نواز شریف کو جاتا ہے، گلگت بلتستان کیلئے100 میگاواٹ کا شمسی توانائی کا منصوبہ لگایا جارہا ہے،شمسی توانائی کا منصوبہ ایک سال کے اندر مکمل کیا جائے گا،

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • گلگت بلتستان کا یوم آزادی،عام تعطیل،چنارباغ میں تقریب

    گلگت بلتستان کا یوم آزادی،عام تعطیل،چنارباغ میں تقریب

    گلگت بلتستان کا 77 واں جشن آزادی آج قومی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے، یوم آزادی کے موقع پر پر آج گلگت بلتستان میں عام تعطیل ہے

    گلگت بلتستان میں جشن آزادی کے حوالے سے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، مرکزی تقریب یادگار شہدائے چنارباغ میں ہوئی جس میں گورنر گلگت بلتستان، وزیر اعلیٰ بلتستان اور فورس کمانڈر گلگت بلتستان نے پرچم کشائی کی، پولیس کے چاک وچوبند دستے نے سلامی دی،آرمی ہیلی پیڈ میں بھی جشن آزادی کی خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک ہوئے۔

    وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو گلگت بلتستان کا یوم آزادی کی مبارکباد دیتا ہوں.ہمارے آباؤ اجداد نے رنگ نسل سے بالا تر ہو کر ایک قوم کا ثبوت دیا. گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے.یکم نومبر1947 کو گلگت اور دیگر علاقے آزاد ہوئے.گلگت بلتستان کے لوگ محب وطن اور جفا کش ہیں.آج ہم اپنے شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں.آج ہم گلگت بلتستان کو عظیم سے عظیم بنانے کا عزم کریں.آج غازیان آزادی نے شریک ہو کر تقریب کو رونق بخشی،

    یکم نومبر 1947ء وہ دن جب گلگت بلتستان کو ڈوگرا راج سے آزادی ملی، گلگت بلتستان کے عوام کی جدوجہد کا مقصد پاکستان کے ساتھ الحاق تھا، گلگت اسکاؤٹس اور مقامی جانبازوں نے ڈوگرا راج کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مہاراجہ کے کنٹرول کا خاتمہ کر دیا،ڈوگرا راج کے خاتمے کے بعد گلگت کی فضاؤں میں پہلی بار پاکستانی پرچم لہرایا گیا، 1948ء میں ایک سال کی جدوجہد کے بعد بلتستان کو ہندوستان کے تسلط سے بھی آزاد کرا لیا گیا، گلگت بلتستان سیاحتی، معاشی اور ثقافتی اعتبار سے بھی اہم مقام ہے

    1947 میں مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانوں کی خواہشات کے برعکس گلگت بلتستان کو ہندوستان سے ملانے کا اعلان کیا۔ گلگت بلتستان کے عوام نے مہاراجہ کے خلاف عَلَمِ بغاوت بلند کیا،گلگت سکاؤٹ اور نوجوانوں نے ڈوگرہ کمانڈر گھنسارا سنگھ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ گلگت سکاؤٹ اور غیور عوام نے گلگت، ہنزہ اور نگر میں سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا،گلگت کی عوام نے پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کا اعلان کیا اور بلتستان کے عوام نے بھی ڈوگرہ راج کے خلاف عَلَمِ بغاوت کی،گلگت سکاؤٹ اور نوجوانوں نے 72 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ آزاد کروا کے پاکستان سے ملایا۔ یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان نے اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کیا،

    یکم نومبر کو گلگت بلتستان کا ڈوگرا راج سے آزادی کے موقعے پر ایک خوبصورت ملی نغمہ ریلیز کیا گیا ہے،ملی نغمہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے مقامی گلوکاروں ذیشان حمزہ ، اور ہاشمی کی آواز میں ہے،ملی نغمہ نہ صرف گلگت بلتستان کی دلکش قدرتی مناظر کو پیش کرتا ہے بلکہ وہاں کے لوگوں کی بہادری ، ثقافت اور روایات کو بھی اجاگر کرتا ہے،یہ ملی نغمہ اپنی دھنوں کے ذریعے ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کس طرح اس خطے کے لوگوں نے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ڈوگرہ راج کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا،یکم نومبر 1947 کو شروع ہونے والی اس عظیم جدوجہد کا مقصد پاکستان کے ساتھ الحاق تھا۔ 14 اگست 1948 کو ڈوگرہ راج کے خاتمے کے بعد ، گلگت کی فضاؤں میں پہلی بار پاکستانی پرچم لہرایا گیا،بے کار کبھی نہ جائے گی ، اجداد کی جو قربانی ہے ، رکھتے ہیں شہادت کا جزبہ ، یہ عشق ہماری دولت ہے،نغمہ کے یہ بول وطن سے محبت کے جزبہ کی عکاسی کرتے ہیں جو گلگت بلتستان کے لوگوں کے خون میں شامل ہے،یہ ملی نغمہ اتحاد ، محبت ، اور امن کا پیغام دیتا ہے ، جو کہ جی بی کے لوگوں کی روح کا حصہ ہے،آئیے اس خوبصورت لمحے کا حصہ بنیں اور اس نغمے کے ذریعے گلگت بلتستان کے غیور عوام کی آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو سراہیں۔

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • اپرکوہستان میں بس کھائی میں گر گئی ، 2 افراد جاں بحق، 36 زخمی

    اپرکوہستان میں بس کھائی میں گر گئی ، 2 افراد جاں بحق، 36 زخمی

    خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں شتیال کے مقام پر تیز رفتار بس کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 26 زخمی ہوگئے جب کہ اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق امدادی کاموں میں مصروف ریسکیو ادارے کے ترجمان نے بتایا کہ حادثہ شتیال کے مقام پر تیز رفتاری کے باعث پیش آیا جہاں گلگت بلتستان سے پنجاب کے ضلع راولپنڈی جانے والی نجی کمپنی کی مسافر بس درائیور سے بے قابو ہوکر کھائی میں جاگری۔رپورٹ کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ کے افسران، ریسکیو1122 کی ایمبولینسز اور مقامی رضاکار موقع،پر پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کردیا، مقامی لوگوں اور ریسکیو ٹیموں نے لاشوں اور زخمیوں کو کھائی سے نکال کر شتیال ہسپتال منتقل کیا۔سینئر پسرنٹنڈنٹ پولیس( ایس ایس پی) شیر خان نے بتایا کہ حادثے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوئے، اس کے علاوہ 36 زخمی ہوئے جنہیں شتیال ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    یحییٰ سنوار کی وصیت اور تنظیم کیلئے ہدایات نامہ منظر عام پر آگیا

    افغانستان نے پہلی بار ایمرجنگ ٹیمز ٹی 20 ایشیا کپ جیت لیا

    مزدوری کیلئے پاکستان سے تھائی لینڈ جانے والا شہری اغوا

    لاہور میں پیٹرول مانگنے کے بہانے موٹر سائیکل سوار قتل کر دیا

  • کے ٹو پر زخمی ہونیوالے کوہ پیما مراد سدپارہ چل بسے

    کے ٹو پر زخمی ہونیوالے کوہ پیما مراد سدپارہ چل بسے

    پاکستانی کوہ پیما مراد سد پارہ جاں بحق ہوگئے

    کے ٹو پر زخمی پاکستانی کوہ پیما مراد سد پارہ جاں بحق ہو گئے،الپائن کلب کے نائب صدر ایاز شگری نے مراد سد پارہ کی موت کی تصدیق کردی،اسکردو میں مراد سد پارہ 8 ہزار 47 میٹر بلند چوٹی براڈ پیک کی مہم جوئی کے دوران زخمی ہوئے تھے،پاک فوج نے 4 ماہر کوہ پیماؤں کو بیس کیمپ پہنچایا، چاروں ریسکیور مراد سد پارہ کی باڈی کو بیس کیمپ لانے کی کوشش کریں گے،

    محمد مراد سد پارہ نے کے ٹو کی انتہائی بلندی سے گزشتہ سال جاں بحق ہونے والے حسن شگری کی میت کو بھی اتارا تھا۔مراد حسن پرتگالی خاتون کوہ پیما کے ہمراہ گزشتہ ہفتے براڈ پیک کی مہم جوئی کیلئے روانہ ہوئےتھے، جہاں ہفتے کے روز کیمپ ون کے مقام پر سر پر پتھر لگنے کے باعث شدید زخمی ہوگئے۔محمد مراد سدپارہ رواں سال کے ٹو کلین اپ ایکسپڈیشن کی بھی قیادت کر رہے تھے، محمد مراد سدپارہ کے ٹو سمیت 4 پہاڑ سر کر چکے ہیں۔

    کوہ پیمائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ براڈ پیک جیسے پہاڑوں پر ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل اور خطرناک ہوتے ہیں۔ موسم کی تیزی سے بدلتی صورتحال، آکسیجن کی کمی، اور انتہائی سرد درجہ حرارت جیسے عوامل اس کام کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ اس لیے، ایسے حالات میں ریسکیو ٹیم کو انتہائی احتیاط اور مہارت سے کام کرنا چاہیے۔پاکستان کی کوہ پیمائی کی برادری اس واقعے سے شدید پریشان ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر کوہ پیمائی کے خطرات اور اس شعبے میں بہتر حفاظتی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

    گرمیوں میں کوہ پیمائی اور سردیوں میں ٹریکٹر چلا کر گزارا کرنے والا مراد سدپارہ پاکستان کا گمنام ہیرو
    صحافی سید امجد حسین بخاری نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ مراد سدپارہ پاکستان کا گمنام ہیرو،مراد سدپارہ گرمیوں میں کوہ پیمائی اور سردیوں میں ٹریکٹر چلا کر گزارا کرتا تھا۔ دنیا کا واحد کوہ پیما جس نے کے ٹو کی چوٹی پر اپنی شرٹ اتار کر ناقابل یقین ریکارڈ قائم کیا،2022 میں براڈ پیک سے درجنوں کوہ پیماوں کو اکیلا ہی ریسکیو کر لایا، 2023 میں کے ٹو سے افغان کوہ پیما علی رضا سخی کی ڈیڈ باڈی ریکور کرنے والی ٹیم کا ممبر رہا اس ریکوری آپریشن سے چند روز پہلے مراد سدپارہ نے 6 روز میں دو مرتبہ نانگا پربت سر کیا تھا،اگست 2024 میں کے ٹو سے شگر کے کوہ پیما حسن شگری کی ڈیڈ باڈی ریکور کرنے والی ٹیم میں شامل تھا، مراد سدپارہ براڈ پیک جیسے آسان پہاڑ پر خود حادثہ کا شکار ہوا۔ 5 ہزار 7 سو میٹر کی اونچائی پر بلندی سے آنے والا پتھر مراد کے سر پر لگا ۔ جس سے وہ جانبر نہ ہو سکا

    https://x.com/AmjadHBokhari/status/1822917616391823437

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری

  • کے ٹو مشن، پاک آرمی نے 6 غیر ملکی کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرلیا

    کے ٹو مشن، پاک آرمی نے 6 غیر ملکی کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرلیا

    کے ٹو سَر کرنے کے لیے جانے والے 6 غیر ملکی کوہ پیماؤں کو پاک آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کر لیا۔

    پاک آرمی نے3 مختلف ہیلی کاپتر کے ذریعے 6 غیر ملکی کوہ پیمائوں کو ریسکیو کیا، پاک آرمی نے ، امریکن، چیلی، مقدونیہ اور نیپال سے تعلق رکھنے والے 6 کوہ پیماؤں کو ریسکیو کیا۔ کوہ پیما کے ٹو سر کرنے کے لیے بیس کیمپ میں موجود تھے ، یہ کوہ پیما کے ٹو مہم جوئی کے دوران بیس کیمپ میں ہائی الٹیٹیوڈ سیکنس کا شکار ہوئے کوہ پیماؤں نے پاک آرمی سے ریسکیو کے لئے رابطہ کیا جس کے فورا بعد پاک آرمی نے ان کو ریسکیو کیا ، ان کوہ پیماؤں نے پاک آرمی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بروقت ریسکیو کر کے ان کو سکردو ہسپتال منتقل کیا۔

  • سپنٹک کی چوٹی پر لاپتا ہونے والے دو میں سے ایک جاپانی کوہ پیما کی لاش مل گئی

    سپنٹک کی چوٹی پر لاپتا ہونے والے دو میں سے ایک جاپانی کوہ پیما کی لاش مل گئی

    اسکردو: اسپنٹک کی چوٹی پر مہم جوئی کے دوران لاپتا ہونے والے دو میں سے ایک جاپانی کوہ پیما کی لاش مل گئی۔

    باغی ٹی وی : ڈپٹی کمشنر شگر ولی اللہ فلاحی نے تصدیق کی ہے کہ ریسکیو آپریشن کے دوران لاپتا جاپانی کوہ پیماؤں میں سے ایک کی لاش برآمد ہوگئی، لاش کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے جبکہ دوسرے کوہ پیما کی تلاش جاری ہے دونوں جاپانی کوہ پیما اسپنٹک کی چوٹی پر مہم جوئی کے لئے گئے تھے، یہ کوہ پیما کیمپ 2 سے نیچے گرے جنہیں ممکنہ طور پر مہم جوئی کے دوران حادثہ پیش آیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ جان کی بازی ہارنے والے کوہ پیما کی شناخت کا عمل جاری ہے، امید ہے ریسکیو ٹیمیں دوسرے کوہ پیما کو بھی جلد تلاش کرلیں گی، جاپانی سفارت خانے کے آفیشلز اور کوہ پیماؤں کے قریبی ساتھی بھی بیس کیمپ پہنچ گئے ہیں۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے اکاؤنٹس پر ہیکرز کا حملہ

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے اکاؤنٹس پر ہیکرز کا حملہ

    نان فائلر کی موبائل سم، بجلی اور گیس کنکشن بھی منقطع کرنے کی تجویز

  • گلگت،چوٹی سپانٹک سر کرتے ہوئے دو جاپانی کوہ پیما لاپتہ

    گلگت،چوٹی سپانٹک سر کرتے ہوئے دو جاپانی کوہ پیما لاپتہ

    گلگت بلتستان: شگر میں واقع7027میٹر بلند چوٹی سپانٹک سر کرتے ہوئے دو جاپانی کوہ پیما لاپتہ ہو گئے ہیں

    ڈپٹی کمشنر شگر ولی اللہ فلاحی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دو جاپانی کوہ پیما لاپتہ ہو گئے ہیں جن کی تلاش کے لئے سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے،

    سپانٹک ، شمالی پاکستان میں نگر کے علاقے میں 7027 میٹر / 23053 فٹ بلند ایک خوبصورت چوٹی ہے۔ اسے گولڈن پیک اور سنہری چوٹی بھی کہتے ہیں۔ سورج کی شعاعیں جب اس پہ پڑتی ہیں تو اس کا رنگ سنہرا نظر آتا ہے۔ ہنزہ سے یہ ایک خنجر کی طرح اوپر کو اٹھی نظر آتی ہے۔سپانٹک یا گولڈن پیک نگر کے دشوار گزار علاقے میں ہے۔ اسلام آباد سے ہوائی جہاز کے ذریعے گلگت اور وہاں سے نگر جایا جا سکتا ہے یا پھر پیرودھائی راولپنڈی سے نیکٹو کی بس میں گلگت جائیں اور وہاں سے نگر جانے والی ویگن میں نگر کی آخری آبادی ہوپر تک جائیں۔ ہوپر سے آگے گلیشروں کے اوپر سے جانا پڑتا ہے۔ راستے میں چرواہوں یا سلاجیت نکالنے والوں کے چند گھر ملیں گے۔ کرسٹل بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے زمین دھوپ پڑنے پر چمکتی نظر آتی ہے۔ بے شمار رنگوں کے پتھر ملیں گے اور جنگلی گلاب کی قد آدم سے بھی بڑی ہزاروں جھاڑیاں راستے میں ہوں گی اور ہر جھاڑی پر سینکڑوں گلاب کھلے ہوں گے۔ جہاں چرواہے بھی نہیں ہوتے وہاں کوئی یاک فیملی گھاس چرتی نظر آئے گی۔ اچھی صحت، سامان اور گائیڈ کے بغیر اس خوبصورت بلا سپانٹک کے پاس نہیں جانا چاہیے۔ زیادہ تر غیر ملکی یہاں آتے ہیں۔

    معروف کوہ پیما نائلہ کیانی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے قومی خیر سگالی کی سفیر مقرر

    پاکستانی کوہ پیما نائلہ کیانی نےدنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی سر کر لی۔

    پاکستانی کوہ پیما سرباز خان نے 13 چوٹیوں کو سر کرنے کا ریکارڈ بنا دیا

    گلگت کی غیر سرشدہ پہاڑی پر دو جاپانی کوہ پیما حادثے کا شکار،ایک لاپتہ

    محمد علی سدپارہ اور بیٹے کوکون سے اعزاز دیئے جائیں گے؟ حکومت نے اعلان کر دیا

    دنیا کے سب سے خوبصورت سٹیڈیم میں پہلا کرکٹ میچ علی سدپاہ کے نام

    پاکستانی کوہ پیماؤں نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی

    یوم پاکستان پریڈ،کوہ پیما سدپارہ کو خراج تحسین،پاک فضائیہ، بحریہ کے طیاروں کا فلائی پاسٹ

    پاکستانی نوجوان نے کم عمر ترین کوہ پیما کا اعزاز حاصل کر لیا

    کیا علی سدپارہ واقعی زندہ ہیں؟ ریسکیوٹیم نے ہار کیوں نہیں‌مانی ؟تہلکہ خیز انکشافات

    محمد علی سدپارہ سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاریخی سرچ آپریشن میں کیا چل رہا ہے؟ اہم معلومات

    کے ٹو پر لاپتا پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ کی موت کی تصدیق

    کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ