Baaghi TV

Category: گوجرانوالہ

  • عشرہ شان رحمت اللعالمینﷺ کے سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ دانش افضال کا انسانی ہمدردی کے تحت اعلی کارنامہ

    عشرہ شان رحمت اللعالمینﷺ کے سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ دانش افضال کا انسانی ہمدردی کے تحت اعلی کارنامہ

    گوجرانوالہ: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات پر معمولی مختلف جرائم میں قید، جرمانوں کی عدم ادائیگی اور سزا مکمل کرنے والے 6 قیدیوں کاایک لاکھ سے زائد جرمانہ عشرہ شان رحمت اللعالمینﷺ کے سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ دانش افضال کی طرف سے ادا کیا گیا۔

    سنٹرل جیل گوجرانوالہ حکام نے جرمانہ ادا کرنے والے قیدیوں کی رہائی کا پروانہ جاری کیا۔

    کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن ذوالفقار احمد گھمن نے رہا ہونے والے قیدیوں میں رہائی کے پروانے جیل سپرٹنڈنٹ چودھری اصغر، اسسٹنٹ کمشنر سٹی کامران حسین، ڈپٹی سپرٹنڈنٹ جیل ارسلان عارف کے ہمراہ حوالے کئے۔
    رہا ہونے والے قیدیوں سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن نے کہا کہ وہ قانون کا احترام اور لوگوں کے حقوق کی پاسداری کریں تاکہ انہیں دوبارہ ایسی سزائوں اور قید کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  • گوجرانوالہ کا تاریخی قصبہ ایمن آباد توجہ کا طلبگار

    گوجرانوالہ کا تاریخی قصبہ ایمن آباد توجہ کا طلبگار

    (ایمن آباد توجہ کا طلبگار)
    گوجرانوالہ کی صنعتی اور پیداواری زندگی سے الگ، جی ٹی روڈ کے شور شرابے سے ہٹ کر، ایمن آباد کا تاریخی قصبہ واقع ہے۔ موڑ ایمن آباد سے نکلنے والی چھوٹی سڑک زرخیز زمینوں اور لہلہاتی فصلوں کے بیچوں بیچ گزرتی ہے اور کو ئی پانچ منٹ میں ہم ایمن آباد پہنچ جاتے ہیں۔

    پنجاب کے اس حصے میں خاص تاریخی اہمیت کا حامل یہ قصبہ کئی انمول مسلم، ہندو اور سکھ تعمیرات کا وارث ہے، خاص طور پر دیوان خاندان کی عالیشان حویلیاں، جن کے اب محض آثار ہی باقی رہ گئے ہیں۔ مگر یہ آثار بھی گزرے وقتوں کی شان و شوکت کی تفصیل بیان کیے دیتے ہیں۔ ایمن آباد کے اس ہندو خاندان نے ریاست جموں کشمیر پر قریب ایک صدی حکومت کی، مگر 1947 کے تاریخی واقعات میں یہ لوگ ہجرت کر گئے۔ پیچھے رہ جانے والے تعمیرات کے نمونے اپنے مکینوں کی جدائی بہت عرصہ برداشت نہ کر سکے، حویلیاں کھنڈرات میں بدلتی گئیں۔ اب ان کھنڈرات کے بھی نشان ہی باقی رہ گئے ہیں۔

    چار چار منزلہ عمارتوں سے نکلنے والی لاکھوں اینٹیں اردگرد بننے والے درجنوں نئے گھروں کی تعمیر میں کام آئیں اور کشمیر کی نایاب لکڑی سے بنے دروازے اور کھڑکیاں لاہور، گوجرانوالہ میں دولت مند شوقین لوگوں کے ہاں فروخت ہوئیں۔ یوں تو اس شہر میں دیوانوں کا پورا ایک محلہ آباد تھا مگر ساٹھ برس گزرنے کے بعد ایک تین چار منزلہ عمارت کا سامنے کا حصہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ پیچھے کی عمارتیں اس عرصے میں ضرورتوں اور مکینوں میں اضافے کے ساتھ بتدریج مسمار کی گئیں اور انہی اینٹوں کو کام میں لا کر نئے کمرے تعمیر کیے گئے۔

    چند دیواریں جو ابھی گرنے سے بچ گئی ہیں، دیواریں نقاشی کے خوبصورت نمونوں کی نشانیاں یوں لیے کھڑی ہیں، بقول غالب کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے۔ ہندو مذہبی کتھاؤں کے مضامین پر مبنی یہ دیواری نقاشی محفوظ کر لینے کے لائق ہے تاکہ کوئی قیامِ پاکستان سے پہلے یہاں آباد ہندو طرز معاشرت کو دیکھنا اور سمجھنا چاہے تو یہ مٹتے ہوئے نقوش اور گرتی ہوئی دیواریں اس کی مدد کر سکیں۔ہمارے فائن آرٹس کے پروفیسر دوست ڈاکٹر غلام عباس نے البتہ مٹی سے اٹے ہوئے ان نقش و نگار کو پونچھ کر اگلے کافی عرصے کے لیے ترو تازہ کر دیا ہے۔ شاید پھر کوئی ایسا یہاں سے گزرے جس کی نظر اس دیوار پر پڑے اور وہ سامنے گھر والوں سے پانی کی بالٹی مانگ کر فن کے ان نمونوں کے چہروں سے گرد صاف کرنے میں کچھ وقت صرف کرے۔

    کہا جاتا تھا ’’گوجرانوالہ پہلواناں دا، ایمن آباد دیواناں دا‘‘۔ گوجرانوالہ تو بدستور پہلوانوں کا ہے مگر ایمن آباد دیوانوں کا نہیں رہا۔ البتہ یہ ہے کہ گوجرانوالہ کی بات میں پہلوانوں کا ذکر بے شک نہ آئے، ایمن آباد کی بات دیوانوں کی بات کے بغیر پوری نہیں ہوتی، حالانکہ پنجاب کے اس تاریخی اہمیت کے شہر میں دیوان خاندان کا سروکار کوئی دو صدیاں پہلے شروع ہوا تھا جبکہ اس شہر کی آبادی قبل مسیح دور سے بیان کی جاتی ہے۔

    کہتے ہیں کہ سیالکوٹ کے راجپوت راجہ سالوان نے اس جگہ ایک شہر آباد کیا تھا۔ اس کا نام کیا تھا؟ کوئی نہیں جانتا۔ تاریخ صرف یہ بتاتی ہے کہ جب ظہیر الدین بابر نے 16ویں صدی کے دوسرے عشرے میں پنجاب کے اس حصے پر یلغار کی تو لاہور یا سیالکوٹ سے پہلے سید پور نامی قصبہ چغتائی حملے کی زد میں آیا۔ 1521 میں بابر کی فوج نے اس شہر کو روند ڈالا۔ بابا گرو نانک اپنے ساتھی بھائی مردانہ کے ساتھ ان دنوں سید پور میں مقیم تھے۔ سید پور کا رہنے والا لالو بابا جی سے عقیدت رکھتا تھا۔سید پور پر بابر کے حملے کا آنکھوں دیکھا حال دیکھنا ہو تو بابا گرو نانک کے کلام کے متعلقہ حصے دیکھ لیجیے۔ انسانی آبادی پر حملہ آوروں کا قہر اور ارزاں جانوں کا المیہ اس شہر آشوب میں پوری شدت سے نظر آتا ہے۔ سید پور کی آبادی کو قیدی بنا لیا گیا اور قیدیوں میں بابا گرو اور ان کے ساتھی بھی دھر لیے گئے۔ بالآخر گرو نانک ہی سید پور کے باسیوں کے لیے رحمت کا فرشتہ ثابت ہوئے۔ بادشاہ ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا اور ان کے ساتھ ساتھ سید پور کی بخشش کا پروانہ جاری کر دیا۔ خود گرو نانک نے مسمار آبادی کی ایک ڈھیری پر ڈیرا لگایا۔ آج کے ایمن آباد سے شمال مغرب میں کچھ فاصلے پر گردوارہ روڑی صاحب اسی مقام پر واقع ہے۔

    بابر کے بیٹے ہمایوں کے دور میں پٹھان جاگیر دار شیر خان نے کافی قوت حاصل کرلی تھی اور خود کو شیر شاہ کہلوانے لگا تھا، شیر شاہ سوری۔ ایمن آباد یعنی اس دور کے سید پور کو شیر شاہ کے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ شیر شاہ نے پرانے شہر کی جگہ اپنے نام سے نیا شہر شیر گڑھ آباد کیا۔ 1555ء میں ہمایوں نے ایران سے واپس آ کر شیر شاہ کے وارثوں کو ہندوستان سے بے دخل کیا۔ ہمایوں کا جرنیل جس کا نام غالباً ایمن یا امین بیگ تھا اس نے شیر گڑھ کا قلعہ مسمار کردیا اور دہلی کی طرف جانے والی جرنیلی سڑک کے کنارے آباد اس اہم شہر کو اکبر کے دور میں ایمن یا امین بیگ سے منسوب کردیا گیا۔

    ایمن آباد جغرافیائی اہمیت کا حامل تو تھا ہی کہ جرنیلی سڑک اس قصبے کے پاس سے گزرتی تھی۔ زمین بھی زرخیز تھی چنانچہ مغل بادشاہت کے مضبوط بنیادوں پر قائم ہونے کی دیر تھی کہ اندرونی اور بیرونی خطرات سے راحت ملتے ہی ایمن آباد کی معیشت نے خوب ترقی کی۔ اسے صوبہء لاہور کے تحت ایک پرگنہ کے صدر مقام کی حیثیت حاصل ہو گئی جس کا سالانہ ریونیو 9 لاکھ روپے تھا۔

    ایمن آباد کی یہ اہمیت مغل سلطنت کے آخری مؤثر ترین بادشاہ کے دور تک قائم رہی۔ اورنگ زیب کے بعد جب سلطنت کا نظام تیزی سے زوال کی طرف گامزن تھا تو ایمن آباد اس زوال سے کیونکر بچ جاتا۔ پنجاب کے اس حصے میں سکھ جتھے ہر شے کو تہس نہس کیے دیتے تھے۔ 1738 میں ایمن آباد کا کماندار جسپت رائے انہی سکھوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مارا گیا۔ دیوان لکھپت رائے نے بھائی کا بدلا یوں لیا کہ سکھوں کو مارمار کر جموں تک دھکیل دیا۔ جو 3 ہزار کے قریب ہتھے چڑھے انہیں لاہور لا کر دہلی دروازے کے باہر قتل کروا دیا، سکھوں کی تاریخ میں ان واقعات کو چھوٹا گلوگھاڑا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ہندوستان میں یہ مضبوط مغل سلطنت کے نزع کا دور تھا۔ ہر حکومت پچھلی سے کمزور اور نااہل ثابت ہوئی، پنجاب میں سکھ جتھوں کی قوت زور پکڑتی جا رہی تھی۔ 1760 میں رنجیت سنگھ کے دادا چڑت سنگھ نے ایمن آباد، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ بعد ازاں یہ علاقے مسلسل سکھ دراندازی اور قبضہ گیری کا ہدف رہے۔ رنجیت سنگھ کا دور آیا تو مہاراجہ نے ایمن آباد اپنے چہیتے وزیر دھیان سنگھ ڈوگرا کو بطور جاگیر عطا کردیا۔ دھیان سنگھ تو لاہور میں اپنی ہی سازشوں کے ہاتھوں انجام کو پہنچا اور رنجیت سنگھ کے تھوڑے عرصہ بعد پنجاب بھی پکے ہوئے پھل کی طرح انگریزوں کی جھولی میں آ گرا۔ البتہ دھیان سنگھ کے جاگیری دور سے جموں کشمیر اور ایمن آباد کا جو تعلق بنا، یہاں کے دیوان خاندان کی قابلیت کے باعث قیام پاکستان تک قائم رہا۔

    انگریزوں کے دور میں ہندوستان نے ترقی کے کئی نئے روپ دیکھے۔ ریل، برقی مواصلات، بجلی، ملکی انتظام، قانون اور انصاف کا جدید نظام۔ عام آدمی کی سوچ اور زندگی پر ان انقلابی جدتوں کا غیر معمولی اثر طے شدہ بات تھی۔ 1880 میں لاہور کو راولپنڈی سے ملانے والی ریلوے لائن بچھی تو ایمن آباد میں گاڑی رکنے لگی۔ طول و عرض کے فاصلے مٹھی میں بند ہوگئے اور ایمن آباد کا رابطہ لاہور، دہلی اور سلطنت کے دور دراز علاقوں سے براہ راست ہو گیا۔

    سہولتیں بڑھنے سے مواقعے بڑھنے لگے۔ زرعی معیشت میں کاروبار کی دولت کی آمیزش ہوئی تو طرزِ زندگی میں اس کا پرتو نمایاں ہوا۔ ایمن آباد کی شاندار حویلیاں، باغات، اینگلو سنسکرت اسکول اور شوالے اس متمول دور کی یادگار ہیں۔ اینگلو سنسکرت اسکول تو خیر گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول ہو چکا ہے، حویلیوں اور شوالوں کو آباد یا محفوظ رکھنے کے بجائے ویرانی اور بربادی کے سپرد کر دیا گیا۔
    حویلیوں کا حال تو بیان کر چکے، شوالوں کی بپتا یہ ہے کہ ایمن آباد کے آسمان پر فخر سے سر اٹھائے کھڑی یہ عمارتیں کہیں بھینسوں کا باڑہ ہیں اور کہیں بکریوں کا۔ ان میں سے ایک جسے قدرے محفوظ کہنا چاہیے وہ ہے جہاں ایک مقامی امام مسجد نے اپنے کنبے سمیت رہائش اختیار کر رکھی ہے۔

    مگر متروکہ املاک میں شمار میں ان حویلیوں اور مندروں کی حالت زار کا کیا شکوہ کریں جب عوام اور حکام کی توجہ سے محروم اسلامی آثار قدیمہ کے نادر نمونے بھی تباہی سے محفوظ نہیں۔ کیا کوئی نہیں جانتا کہ ایمن آباد کے مشرق میں کھیتوں اور فصلوں میں گھری قدیم مسجد جس کی طرف کوئی سیدھا راستہ بھی نہیں جاتا، لودھی (1451-1526) دور کی تعمیر ہے، اور اس لحاظ سے پاکستان کی قدیم ترین مساجد میں شامل ہے۔ آپ کہیں گے کہ یہ ہمارا تاریخی اثاثہ ہے، مگر صرف کہنے کی حد تک۔

  • پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن

    پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن

    واہنڈوپولیس کاجرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن۔
    گوجرانوالہ: ایس ایچ او تھانہ واہنڈو خرم شہزاد نےانسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب راؤ سردار علی خاں کے ویژن کے مطابق اورسٹی پولیس آفیسر کیپٹن (ر) سید حماد عابد کی ہدایت پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کا عمل جاری رکھتے ہوئے گوناعور چوکی قاضی کوٹ چوک پر ناکہ لگاکر عمران ولد رزاق کھوکھر بدنام زمانہ منشیات فروش کو رنگے ہاتھوں منشیات فروخت کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا جس کے قبضہ سے 1650گرام چرس برآمد کرلی ۔ ایک اور واقعہ میں حسان اقبال سکنہ سکھا نہ باجوہ کے ہوائی فائرنگ کرنے پر پولیس نے موقع پر گرفتار کر کے بمعہ پسٹل گرفتار کر کے دونوں ملزما ن کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ ایس ایچ او تھانہ واہنڈو خرم شہزاد ریپلک نیوز کے ساتھ بات کرتے ہوے کہنا تھا کہ جرائم پیشہ عناصر ملک دشمن ہے جو آنے والی نسلوں کو برباد کر رہے ہیں جو کسی قیمت بھی برداشت نہیں ان کو کیفر کردار تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ان کا مزید کہنا تھا کے وہ تھانہ واہنڈو میں جرائم کا قلع قمع، کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

  • جماعت اسلامی پی پی 55کے زیر اہتمام اذان ،حمدو نعت و کلام اقبال

    جماعت اسلامی پی پی 55کے زیر اہتمام اذان ،حمدو نعت و کلام اقبال

    گوجرانوالہ :جماعت اسلامی پی پی 55کے زیر اہتمام جامع مسجد شرقی کھیالی میں اذان ،حمدو نعت و کلام اقبال ٹاپ 10ٹیلنٹ ایوارڈ کے فائنل مقابلے کے ونر بچوں میں امیر جماعت اسلامی PP-55حاجی فیض الحق قریشی ،مولانا ضیاء الرحمن قاسمی ،سینئر سیاسی راہنما مسلم لیگ و صدر PP-55چوہدری تنویر احمد،چوہدری مدثر چیمہ ،حافظ ثاقب مسعود ہاشمی صدر اتحاد العلماء PP-55،سیاسی راہنما PTIارشان شاہ ،ناظم دفترقدرت اللہ قریشی ودیگر بچوں میں نقد انعامات اور ایوارڈتقسیم کررہے ہیں اس موقع پر مہمانوں نے اس پروگرام میں بچوں کی پرسوز آواز میں حمد و نعت اذان کلام اقبال کو سن کر بہت خوش ہوا اس موقع پر انہوں کہا کہ ایسے مقابلے ہرمدرسوں میں ہونے چائیں تاکہ طالب علموں میں چھپے ہوئے ٹیلنٹ کو اجاگر کر سکیںمزید انہوں نے کہا کہ حافظ ثاقب مسعود نے مختلف سکولوں مدرسوں سے ایسے بچے تلاش کرکے مقابلہ کروا کر ایک مثل قائم کی ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں اس طرح کے مقابلوں سے ان بچوںمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی سلاحیت پیدا ہوگئی ۔اور آئندہ یہی بچے بڑے بڑے مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کرکے ملک اور اپنے اساتذہ کا نام روشن کریں گے۔

  • دوستی کرنے سے انکار پر لڑکے نے جواں سالہ لڑکی کا قتل کر ڈالا

    دوستی کرنے سے انکار پر لڑکے نے جواں سالہ لڑکی کا قتل کر ڈالا

    گوجرانوالہ:تھانہ واہنڈو میں لڑکے سے دوستی دوستی سے انکار کرنے پر لڑکی کا قتل کر دیا گیا ۔

    گوجرانوالہ کے نواحی قصبہ واہنڈو میں 22 سالہ لڑکی فائر لگنے سے جاں بحق۔ سدرہ خالد اپنی خالہ کے گھر واہنڈو میں مہمان آئی ہوئی تھی جس کو فیضان عرف شانی قوم جٹ سکنہ جهنگی نے 30 بور پسٹل سے فائر کر کے قتل کر دیا واہنڈو پولیس نے لاش قبضے میں لے کر کاروائی شر و ع کر ددی۔
    ایس ایچ او تھانہ واہنڈو خرم شہزاد کے مطابق ملزمان کے دو بھائی واہنڈو پولیس نے گرفتار کر لئے جبکہ ملزمان کو گرفتار کرنے میں پولیس چھا پے مار رہی۔

  • سوتیلے بہن بھائیوں کا بھائی پر قاتلانہ حملہ وحشیانہ تشدد

    سوتیلے بہن بھائیوں کا بھائی پر قاتلانہ حملہ وحشیانہ تشدد

    گوجرانوالہ(بیورو رپورٹ)دولت ‘جائیداد کی ہوس ‘خون سفید ‘اوورسیز دبئی پاکستانی محمد الیاس جوئیہ کی جائیداد ہتھیانے کیلئے سوتیلے بھائیوں کا وحشیانہ تشدد انکوائری ‘گکھڑ منڈی محلہ شریف پورہ سوتیلے بہن بھائیوں کا بھائی پر قاتلانہ حملہ وحشیانہ تشدد ‘الیاس جوئیہ ولد محمد طفیل جوئیہ نامی شہری نے پولیس سے تحفظ دینے کی اپیل کر دی۔ذرائع کے مطابق محمد طفیل جوئیہ ولد چراغ دین جوئیہ کی پہلی بیوی وفات پا چکی ہے جس سے محمد الیاس جوئیہ نامی بیٹا ہے جبکہ دوسری بیوی سے شعیب جوئیہ، ہمشیرہ حضرا جوئیہ ہیں ۔ طفیل جوئیہ کی گوجرانوالہ گکھڑ اور دبئی میں کروڑوں روپے کی جائیداد ہے جس کی فروخت کے بعد پہلی بیوی مرحومہ سے بیٹے محمد الیاس کو حصہ نہیں دیا جبکہ قانون وراثت کے تحت حصہ مانگنے پر اسے قتل کرنیکی مبینہ کوشش کے علاوہ شعیب جوئیہ آئے دن غنڈوں و جرائم پیشہ لوگوں کے ہمراہ تشدد کا نشانہ بناتا ہے ۔ جبکہ مختلف تھانوں ‘دفتروں میں اس کیخلاف فرضی و جھوٹی درخواستیں دیکر جائیداد سے حصہ نہ لینے پر مجبور کر رہا ہے ۔ الیاس جوئیہ نے الزام لگایا ہے کہ اسکے والد فیصل جوئیہ نے دبئی والی دوکان اور پچاس ہزار درہم دولت ‘جائیداد سے اس کا حصہ وغیرہ دینا ہے ۔ جبکہ والد سے قانون کے تحت افہام و تفہیم سے اپنا حق لینا چاہتا ہے مگر سوتیلے بہن بھائی اور سوتیلی والدہ کروڑوں کی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ پر قبضہ کرنے کیلئے اسے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں ۔ الیاس جوئیہ نے اس سلسلہ میں اپنا بیان بھی قلمبند ریکارڈ کروایا ہے ۔ علاقہ کی عوامی ‘شہری ‘سماجی شخصیات اور وکلاء برادری نے مظلوم الیاس جوئیہ کو انصاف مہیا کرتے ہوئے جانی و مالی تحفظ کا مطالبہ کیا ہے جبکہ آر پی او گوجرانوالہ ‘سی پی او گوجرانوالہ ‘ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ ‘کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن بالخصوص ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوجرانوالہ سے فوری ایکشن لینے کی اپیل کی گئی ہے ۔

  • مسلم لیگ ن کے رہنما کے گھر پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

    مسلم لیگ ن کے رہنما کے گھر پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

    گوجرانوالہ: لیگی رہنما خرم دستگیر کے گھر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے-

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق گزشتہ رات موٹرسائیکل پر سوار 2 افراد آئے اور فائرنگ کرکے فرار ہوگئےسی سی ٹی وی ویڈیو میں 2 افراد کو گیٹ کے سامنے کھڑے ہوکر فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    خود کو وزیراعظم ہاؤس کا سکیشن آفیسر ظاہر کرکے لوگوں کو لوٹنے والا جعلساز گرفتار

    پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعہ کی تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں درخواست دی گئی ہے، درخواست خرم دستگیر کے چچا زاد عاطف صابر کی طرف سے دی گئی درخواست پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما سردارذوالفقارعلی خان دلہہ نے اپنی ہی لیڈر کے دعووں کو جھوٹا ثابت کر دیا

    خرم دستگیر کے کزن عاطف صابر کا کہنا تھا کہ صبح گھر کے گیٹ پر لگی گولیوں کے نشان دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی، گزشتہ رات ملازمین نے باہر نکل کر دیکھا تو باہر کوئی نہیں تھا۔

    سی پی او گوجرانوالہ کا چیف ٹریفک آفیسر آفس کا وزٹ، عوام کے لیے مزید سہولیات کے…

    عاطف صابر کا کہنا ہے کہ پولیس نے اب تک واقعہ کا مقدمہ درج نہیں کیا، فائرنگ کے واقعہ سے متعلق خرم دستگیر کل پریس کانفرنس کریں گے۔

    سی پی او حماد عابد کا کہنا ہے کہ آج دن ڈیڑھ بجےکے قریب فائرنگ کی اطلاع دی گئی، پولیس نےجائے وقوع کا معائنہ کیا ہے، مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔

    ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی

  • سی پی او گوجرانوالہ کا چیف ٹریفک آفیسر آفس کا وزٹ، عوام کے لیے مزید سہولیات کے احکامات دیے

    سی پی او گوجرانوالہ کا چیف ٹریفک آفیسر آفس کا وزٹ، عوام کے لیے مزید سہولیات کے احکامات دیے

    سی پی او گوجرانوالہ سید حماد عابد کا چیف ٹریفک آفیسر آفس کا وزٹ

    سی ٹی او گوجرانوالہ سہیل فاضل کی سی پی او گوجرانوالہ کو تفصیلی بریفننگ

    سی پی او گوجرانوالہ نے ٹریفک نظام کا تفصیلی جائزہ لیا

    شہریوں کو لائسنسنگ سہولت دینے کے لئے ایک اور موبائل وین تیار کرنے کی ہدایت۔

    سٹی پولیس آفیسر گوجرانوالہ سید حماد عابد نے گوجرانوالہ میں ٹریفک نظام کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ روز سی ٹی او آفس کا وزٹ کیا۔ سی پی او گوجرانوالہ نے سی ٹی او آفس کی تمام برانچز کا وزٹ کیا اور ورکنگ کا جائزہ لیا۔ڈرائیونگ سکول میں طلباء سے گفتگو کی،اور ھ
    ہدایت کی کہ شہریوں کی سہولت کے لئے ایک اور موبائل وین تیار کی جائے تاکہ شہری لائسنسنگ سہولیات سے استفادہ کر سکیں۔ایجوکیشن ونگ کو مزید فعال کرنے کی ھدایت کی۔سی ٹی او گوجرانوالہ سہیل فاضل کے اقدامات کو سراہا اور خاص طور پر سٹی ٹریفک پولیس گوجرانوالہ کے اھم چوکوں میں لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمرہ جات کی تعریف کی،جن سے مستقبل میں کریمنل سرگرمیوں کو بھی مانیٹر کیا جائیگا۔سی ٹی او گوجرانوالہ سہیل فاضل نے سٹی پولیس آفیسر گوجرانوالہ سید حماد عابد کو گوجرانوالہ میں ٹریفک کے نظام،کی گئی اصلاحات، اقدامات اور ڈرائیونگ لائسنس نظام بارے تفصیلی بریفننگ دی۔اس موقع پر سی پی او گوجرانوالہ کا کہنا تھا کہ ٹریفک فورس پنجاب پولیس کا چہرہ ھے،اور سڑکوں پر ھمیشہ فرنٹ لائن فورس کا کردار ادا کرتی ہے، تمام ٹریفک فورس شہریوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئے۔ سڑک پر شہریوں کی جتنی بھی مدد ممکن ھو سکے کی جائے۔اور سخت ھدایت کی کہ کرپشن کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائیگا۔

  • اب ناجائز اسلحہ رکھنے والے نہیں بچ پائیں گے، پٹرولنگ پولیس گوجرانوالہ کا آپریشن شروع

    اب ناجائز اسلحہ رکھنے والے نہیں بچ پائیں گے، پٹرولنگ پولیس گوجرانوالہ کا آپریشن شروع

    پٹرولنگ پولیس گوجرانوالہ کا ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاون،07کس ملزمان گرفتار جن کے قبضہ سے 04عدد پسٹل 30بور درجنوں گولیاں اور شراب برآمد مقدمات درج
    گوجرانوالہ: ایس ایس پی پٹرولنگ ریجن گوجرانوالہ محمد وسیم ڈار کی ہدایت پر ڈی ایس پیز کی زیر نگرانی پٹرولنگ پولیس کا ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اسی تناظر میں پٹرولنگ پوسٹ نندی پور کے انچارج سب انسپکٹر امانت علی ھمراہ پٹرولنگ ٹیم کی کاروائی 04 کس ملزمان کے قبضہ سے 01عدد پسٹل تیس بور اور شراب برآمد کرکے مقدمہ درج کروایا ایک اور کاروائی کے دوران پٹرولنگ پولیس پوسٹ جامکے چیمہ کی پٹرولنگ ٹیم کے انچارج اے ایس آئی فاروق ھمراہ پٹرولنگ نےدوکس ملزمان حیدر علی اور فیصل سے دو عدد پسٹل اور گولیاں برآمد کرکے مقدمہ درج کروایا علاوہ ازیں پٹرولنگ پوسٹ گلوٹیاں موڑ کی پٹرولنگ ٹیم کے انچارج اے ایس آئی وحید احمد ھمراہ پٹرولنگ ٹیم نے دوران ناکہ رضوان نامی شخص سے پسٹل تیس بور اور گولیاں برآمد کرکے مقدمہ درج کروایا ایس ایس پی پٹرولنگ ریجن گوجرانوالہ محمد وسیم ڈار کا کہنا ہے کہ ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی عوام کے جان ومال کی حفاظت پٹرولنگ پولیس کی اولین ترجیح ہے

  • گوجرانوالہ۔سیشن کورٹ کے باہرموٹرسائیکل سواروں کی گاڑی پہ فائرنگ

    گوجرانوالہ۔سیشن کورٹ کے باہرموٹرسائیکل سواروں کی گاڑی پہ فائرنگ

    گوجرانوالہ: سیشن کورٹ کے باہرموٹرسائیکل سواروں کی گاڑی پہ فائرنگ۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار ڈرائیور سمیت دوافراد زخمی ہو گئے۔ فائرنگ سے ہر طرف خوف وہراس پھیل گیا اور سکیورٹی الرٹ کردی گئیں۔
    ریسکیو 1122 کی مدد سے زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ فائرنگ کے بعد جائے وقوعہ پر ایس پی ، ڈی ایس پی سمیت پولیس کی بھاری نفری بھی پہنچ گئی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کالے رنگ کی گاڑی مسجدکے پاس تھی جس پر فائرنگ ہوئی، پولیس کا مزید کہنا ہے کہ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔