Baaghi TV

Category: حیدرآباد

  • ٹھٹھہ: بااثر شخص کی دھمکیاں اور لوٹ مار، خواتین کی تحفظ کی اپیل

    ٹھٹھہ: بااثر شخص کی دھمکیاں اور لوٹ مار، خواتین کی تحفظ کی اپیل

    ٹھٹھہ(باغی ٹی وی ،نامہ نگاربلاول سموں) بااثر شخص کی ہراسانی اور لوٹ مار، خواتین کا تحفظ کے لیے حکام سے اپیل

    تفصیل کے مطابق ٹھٹھہ کے گھارو شہر کی مولا مدد کالونی کی رہائشی خواتین نے عوامی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بااثر شخص نور خان مری پر زندگی اجیرن کرنے کا الزام لگایا ہے۔ خواتین مسمات سائرہ، تانیا اور سلمیٰ نے بتایا کہ مذکورہ شخص روزانہ دھمکیاں دیتا ہے اور انہیں علاقے سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    متاثرہ خواتین کے مطابق نور خان مری نے دو نامعلوم مسلح افراد کے ساتھ ان کے گھر پر حملہ کیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور اسلحے کے زور پر چار سولر پلیٹس، دو پنکھے، دو بیٹریاں، دو چارپائیاں اور ایک واشنگ مشین لوٹ کر سوزوکی گاڑی میں فرار ہو گیا۔

    خواتین نے کہا کہ انہیں مذکورہ شخص سے جان کا خطرہ ہے اور انہوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی ٹھٹھہ سے فوری قانونی کارروائی اور اپنی جان کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔

  • ٹھٹھہ: امن و امان کے لیے پولیس کی سنیپ چیکنگ جاری

    ٹھٹھہ: امن و امان کے لیے پولیس کی سنیپ چیکنگ جاری

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگار بلاول سموں)آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی حیدرآباد رینج طارق رزاق دھاریجو کی ہدایات پر ایس ایس پی ٹھٹہ ڈاکٹر محمد عمران خان کے احکامات کے تحت ضلع بھر میں امن و امان کی بحالی کے لیے پولیس کی سنیپ چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

    سنیپ چیکنگ کے دوران موٹر سائیکلوں، رکشوں، مسافر وینز، بسوں اور دیگر چھوٹی بڑی گاڑیوں کو روکا گیا۔ کئی گاڑیوں سے ٹنٹڈ شیشے اور فینسی نمبر پلیٹس بھی ہٹائے گئے۔ پولیس حکام کے مطابق، تمام ایس ڈی پی اوز اپنے اپنے علاقوں میں ایس ایچ اوز کے ساتھ مل کر سنیپ چیکنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔

    شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی چیکنگ کا عمل جاری ہے، جہاں پولیس نے متعدد مشکوک افراد اور بغیر نمبر پلیٹ والی موٹر سائیکلوں کو تحویل میں لے کر ان کی تصدیق کا عمل شروع کر دیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اس چیکنگ کا مقصد ضلع میں امن و امان کو یقینی بنانا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو پیش آنے سے روکنا ہے۔ عوام سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی ہے تاکہ امن عامہ کو برقرار رکھا جا سکے۔

  • بینچ یا عدالت کا نام دینا ہے نام آپ رکھیں مطالبہ ہمارا پورا کریں، بلاول بھٹو

    بینچ یا عدالت کا نام دینا ہے نام آپ رکھیں مطالبہ ہمارا پورا کریں، بلاول بھٹو

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے حیدرآباد میں شہداء کارساز کی برسی کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی بی شہید 18 اکتوبر کو آمر کا راج ہٹا کر عوامی راج قائم کرنے آئی تھیں،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ شہید بینظیر بھٹو ایک نظریے اور منشور کے ساتھ وطن واپس آئی تھیں، بے نظیر بھٹو شہید کے مشن میں 73 کے آئین کی بحال بھی تھی ،وفاقی عدالت بنانا بھی شہید بی بی کا مطالبہ تھا، وفاقی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہونی تھی ، وفاقی عدالت نے پاکستان کے آئین کا تحفظ کرنا تھا ،بی بی کا آئینی عدالت کا وعدہ پورا کرنے جا رہا ہوں ،شہید بینظیر بھٹو فیصلہ کرچکی تھیں کہ میں آئینی عدالت بنا کر رہوں گی ، خوشخبری دینے جا رہا ہوں کہ بی بی کا وعدہ پورا ہونے والا ہے، آئینی عدالت کے مطالبے پر پاکستان کے عوام ساتھ کھڑے ہیں، وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں لیکن پھر بھی بی بی کا وعدہ پورا کرنے جا رہا ہوں، یہ مطالبہ تو قائد اعظم محمد علی جناح کا بھی تھا ، ہم 2008 سے2013 تک آئینی عدالت کا وعدہ پورا نہیں کرسکے، بہت انتظار کرنا پڑا، عوام کو فوری انصاف کی فراہمی ترجیح ہے ، سب کا مطالبہ ہے کہ سب کو فوری انصاف ملے ، جب جب پوچھتا ہوں کہ یہ کیوں نہیں ہوسکتا، تو کہتے ہیں قیدی نمبر فلاں فلاں کہتا ہے ،ہمارا مطالبہ ماننا پڑے گا برابری کی عدالت بنانا پڑے گی، آپ نے بینچ کا نام دینا ہے یا کوئی اور نام دیں ، مطالبہ ہمارا ماننا ہے ،جسٹس فائز عیسیٰ کو سلام پیش کرتے ہیں، جسٹس فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنے کا بہادر فیصلہ دیا، جسٹس فائز عیسیٰ نے جو کیا تاریخ اسے یاد رکھے گی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھٹو کو انصاف دیا، وہ کام کرکے دکھایا جو کوئی اور نہیں کرسکتا تھا، اس سے پہلے تمام چیف جسٹس بزدل تھے، وہ آمر کو آمر نہیں کہہ سکتے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سلام پیش کرتے ہیں،

    مولانا سے آخری درخواست،اپوزیشن نہ مانی تو ن لیگ کے ساتھ ملکر آئین سازی کروں گا،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا مطالبہ تھا قیدی نمبر 804 سے ملنے کی اجازت دی جائے، ملاقات کا بندوبست کیا تھا، وہ گئے یا نہیں گئے اس کا نہیں پتہ، ہمارے سامنے دو راستے ہیں حکومت نے فیصلہ کرلیا جتنا وہ انتظار کرسکتے تھے وہ کرلیا، یا حکومت بل لیکر آئے یا یہ آج بھی ممکن ہے، کل پرسوں ممکن ہوگا یہ نہیں پتہ ہوگا پیپلز پارٹی کے ڈرافٹ پر مولانا اور ن لیگ نے اتفاق کرلیا، پی ٹی آئی نے کہا، قاضی اور آئینی عدالت نہیں ہوگی وہ مان لی، آپ سب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر درخواست کررہا ہوں اس راستے پر مجبور نہ کریں، آج رات بھی واپس مولانا سے جا کر ملاقات کروں گا، آخری درخواست کروں گا، آج کی سیاست بھول جائیں آئیں ہمارے ساتھ آئیں، ووٹ ڈالیں اور وعدہ پورا کریں،حیدرآباد کے عوام کا یہ مطالبہ ہے،برابری کا عدالت بنانا پڑے گا، میں متنازع راستے پر چل کر بھی آئینی بینچ بناکر رہوں گا،اگر میں ناکام رہا تو سب کو پاکستان میں جمہوریت اور استحکام کیلئے دعا مانگنی چاہیے،اپوزیشن سے کہتا ہمیں اکثریت سے آئین سازی پر مجبور نہ کریں، ن لیگ ضمیر کے مطابق ووٹ سے اپنی مرضی کی عدالت بنائے گی۔ مولانا سے آخری درخواست کروں گا یہ آئین ہمارے بڑوں کا بنایا ہوا ہے ،بہت سمجھوتوں کے بعد بھی ہمارا ساتھ نہیں دے سکتے تو مجبور ہوں گا ، مجبوری میں ن لیگ کیساتھ مل کر آئین سازی کرونگا ،اپوزیشن نہیں مانتی تو پھر مجبوری میں مجھے متنازع راستہ اختیار کرنا ہوگا ،

    بینظیر بھٹو کے مخالفین بھی قابلت کو مانتے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    کارساز حملہ عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش تھی،شرجیل میمن

    بلاول بینظیر بھٹو کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں،فریال تالپور

    کارساز حملہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی،بلاول

    میرپورخاص: سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت، ریلی اور شمعیں روشن

    پاکستان کوسیاسی، معاشی اور جمہوری طاقت بنائیں گے،بلاول

  • میرپورخاص: سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت، ریلی اور شمعیں روشن

    میرپورخاص: سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت، ریلی اور شمعیں روشن

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پارٹی دفتر سے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی، جہاں شمعیں روشن کر کے شہداء کی قربانیوں کو یاد کیا گیا۔

    ریلی کی قیادت ضلعی نائب صدر اسحاق ناریجو، جنرل سیکریٹری اور وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر جنید بلند، شاہنواز مغل، اور امیر جان مری نے کی۔ بعد ازاں پریس کلب میں سندھ کے وزیر ثقافت سید ذوالفقار شاہ اور جنید بلند نے میڈیا سے گفتگو کی۔

    انہوں نے کہا کہ میرپورخاص ہمیشہ جیالوں کا گڑھ رہا ہے، اور سانحہ کارساز کے شہداء کو یاد کرتے ہوئے آج شمعیں روشن کی گئیں۔ مقررین نے بھٹو خاندان کی قربانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جیالے بھی شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے کا عزم رکھتے ہیں۔

    مزید برآں حیدرآباد میں 18 اکتوبر کو بلاول بھٹو زرداری کے تاریخی خطاب کے لیے پیپلز پارٹی کے قافلے روانہ ہو گئے، جن میں میرپورخاص کے کارکنان بھرپور شرکت کریں گے۔

  • سندھ  بھرمیں ادویات کی شدیدقلت، مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئیں

    سندھ بھرمیں ادویات کی شدیدقلت، مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئیں

    ٹھٹھہ(باغی ٹی وی ،نامہ نگاربلاول سموں )ٹھٹھہ اور کراچی سمیت سندھ بھر میں جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ یہ قلت گردوں کے امراض، ہیپاٹائٹس اے، روبیلا، خسرہ اور ممپس جیسی بیماریوں کی ویکسین تک پھیل چکی ہے۔ اس کے علاوہ ٹیٹنس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ٹیٹنس امیونو گلوبلین اور ریبیز سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والی اینٹی ریبیز امیونوگلوبلین بھی مارکیٹ سے غائب ہیں۔

    طبی ماہرین کے مطابق ٹیٹنس امیونوگلوبلین ٹیٹنس کے انفیکشن کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ بروقت ویکسی نیشن نہ ہونے کی صورت میں ٹیٹنس کے تشنج سے 30 سے 40 فیصد مریض جان بھی گنوا دیتے ہیں۔ اسی طرح اینٹی ریبیز امیونوگلوبلین ریبیز ویکسی نیشن کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے اور ریبیز کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    پاکستان فارماسیوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین توقیرالحق نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ دواساز کمپنیاں مقامی طور پر کچھ ادویات کی تیاری کر رہی ہیں اور بیرون ملک سے منگوائی جانے والی ادویات کا مسئلہ بھی جلد حل ہو جائے گا۔ دوسری جانب ادویات کے امپورٹرز کا کہنا ہے کہ وہ ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو خط لکھ چکے ہیں۔ جب تک ادویات کی قیمتیں مقرر نہیں کی جاتی ہیں وہ ادویات کی درآمد نہیں کر سکیں گے۔

    ہسپتالوں کے حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں گزشتہ چند ماہ سے جان بچانے والی ادویات کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث مریضوں کے علاج میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ڈاکٹروں اور ماہرین نے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بروقت دوا کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو مختلف بیماریوں سے اموات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    اس وقت سندھ میں ادویات کی شدید قلت کی مختلف وجوہات ہیں جن میں عالمی سطح پر ادویات کی قلت پاکستان میں ڈالر کی قدر میں اضافہ اور ادویات کی قیمتوں کا تنازع شامل ہیں۔انہی وجوہات کی وجہ سےادویات کی شدید قلت ہے ،جس سے عام لوگ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ مریضوں کو مہنگی دوائیں خریدنے یا پھر انہیں تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    شہریوں اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ زندگی بچانے والی اور دیگر علاج معالجے میں استعمال ہونے والی ادویات کی کمی اورپیداشدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    انہیں ادویات کی درآمد میں آسانیاں پیدا کرنی ہوں گی اور دواساز کمپنیوں کو مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کے لیے حوصلہ افزائی کرنا ہوگی اور ادویات کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔اس مسئلے کے حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

  • ڈیرہ غازی خان: تیز رفتاری کے باعث مسافر بس حادثے کا شکار، 12 افراد زخمی

    ڈیرہ غازی خان: تیز رفتاری کے باعث مسافر بس حادثے کا شکار، 12 افراد زخمی

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواد اکبر) ڈی جی خان سے جامپور جانے والی الفرید مسافر بس تیز رفتاری کے باعث عالی والا کے قریب انڈس ہائی وے سے بے قابو ہو کر سڑک سے نیچے اتر گئی اور کھیتوں میں جا گری۔ حادثے میں 12 مسافر زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو 1122 کے کنٹرول روم کو اطلاع ملتے ہی فوری طور پر دو ایمبولینسیں، ایک موٹر بائیک ایمبولینس، ایک فائر وہیکل اور ریسکیو وہیکل روانہ کی گئیں۔ پولیس کو بھی حادثے کی اطلاع دی گئی۔

    ریسکیو ٹیم نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور 6 شدید زخمیوں کو علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان منتقل کر دیا۔

    زخمیوں میں رحمت اللہ،محمد سعد ،محمد باقر ،محمد وسیم ،محمد دانش،بہار مائی ،نظام بی بی ،نذر حسین ،محمد افضل ،سویرا بی بی ،سیمی بی بی اور
    محمد علی شامل ہیں جن میں 6 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا.

  • ٹھٹھہ:سول ہسپتال مکلی میں غریب نظرانداز،5 مہینوں سے آپریشن کی تاریخ نہ مل سکی،مریض کی حالت تشویش ناک

    ٹھٹھہ:سول ہسپتال مکلی میں غریب نظرانداز،5 مہینوں سے آپریشن کی تاریخ نہ مل سکی،مریض کی حالت تشویش ناک

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار بلاول سموں)ناریجا گاؤں کے رہائشی عطا محمد جانوری نے عوامی پریس کلب ٹھٹھہ/مکلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سول ہسپتال مکلی کی انتظامیہ کے خلاف شکایات کا اظہار کیا۔ عطا محمد کا کہنا تھا کہ ان کے والد نذر محمد جانوری بیمار ہیں اور وہ گزشتہ پانچ مہینوں سے ہسپتال میں ان کے علاج کے لیے دربدر ہو رہے ہیں لیکن ڈاکٹروں کی جانب سے مسلسل آپریشن کی تاریخیں ملتوی کی جا رہی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے والد کے علاج کے لیے فوری آپریشن کی تجویز دی ہے، مگر ہسپتال کی انتظامیہ ہر ہفتے نئی تاریخ دے کر انہیں ٹال رہی ہے۔ عطا محمد کے مطابق تمام ٹیسٹ مکمل ہونے کے باوجود آپریشن میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے، جس کے باعث ان کے والد کی حالت دن بدن خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دی گئی آپریشن کی تاریخ کو بھی بغیر کسی وجہ کے اگلی منگل تک ملتوی کر دیا گیا۔

    عطا محمد نے ہسپتال میں بدانتظامی اور سفارش کے کلچر کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں غریبوں کی کوئی سنوائی نہیں ہو رہی اور مریضوں کو سفارش کے بغیر علاج کے لیے ترسایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر صحت اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے والد کے علاج میں مزید تاخیر نہ کی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ عطا محمد نے متنبہ کیا کہ اگر ان کے والد کی حالت بگڑتی ہے تو وہ قانونی کارروائی کے لیے مجبور ہوں گے۔

    پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے ہسپتال انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ سفارش کے بجائے مریضوں کو ان کے حق کے مطابق علاج فراہم کریں تاکہ غریب عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  • ٹھٹھہ: دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کا بریک ڈاؤن، 72 انچ قطر کی لائن پھٹ گئی

    ٹھٹھہ: دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کا بریک ڈاؤن، 72 انچ قطر کی لائن پھٹ گئی

    ٹھٹھہ(باغی ٹی وی ،نامہ نگار بلاول سموں) دھابیجی پمپنگ سٹیشن پر کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث 72 انچ قطر کی لائن نمبر 5 متاثر ہوگئی۔ یہ واقعہ صبح 7 بجے پیش آیا جب اچانک بجلی کی فراہمی میں خلل کے سبب پانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

    ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق جیسے ہی متاثرہ لائن کی اطلاع ملی تو واٹر کارپوریشن کے حکام فوراً موقع پر پہنچے اور متاثرہ لائن کا معائنہ کیا۔ سی ای او واٹر کارپوریشن انجیئنر سید صلاح الدین احمد نے ہدایت کی کہ متاثرہ لائن کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مرمتی کام کے لیے ماہر انجینئرز کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو صورتحال کا فوری جائزہ لے گی۔

    چیف انجینئر واٹر کارپوریشن کے مطابق متاثرہ لائن کا مرمتی کام اگلے 16 گھنٹوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اس دوران شہر کو متبادل لائنوں کے ذریعے پانی کی فراہمی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں کو یقین دلایا کہ پانی کی فراہمی میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوگی اور صورتحال پر مکمل نگرانی رکھی جائے گی۔

    اس کے علاوہ شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں اور اگر کسی قسم کی مزید معلومات درکار ہوں تو واٹر کارپوریشن کے ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد مستقبل میں ایسی صورت حال سے بچنے کے لیے بجلی کی فراہمی کے نظام کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

  • میرپورخاص: ضلع بھر میں اسنیپ چیکنگ، متعدد گاڑیوں کی جانچ اور غیر قانونی سامان برآمد

    میرپورخاص: ضلع بھر میں اسنیپ چیکنگ، متعدد گاڑیوں کی جانچ اور غیر قانونی سامان برآمد

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) ضلع بھر میں اسنیپ چیکنگ، متعدد گاڑیوں کی جانچ اور غیر قانونی سامان برآمد

    تفصیل کے مطابق ایس ایس پی میرپورخاص شبیر احمد سیٹھار کی ہدایات پر 15 اکتوبر 2024 کو ضلع بھر میں رات 7:30 سے 10:30 بجے تک اسنیپ چیکنگ کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    چیکنگ کی کارروائیاں میرپورخاص کے مختلف علاقوں اور چیک پوسٹس پر کی گئیں جن میں ٹاؤن غریب آباد، مہران، کھان، سٹیلائٹ ٹاؤن، تعلقہ، ڈگری، ڈینگان بھرگڑی، کوٹ غلام محمد، جھڈو، محمودآباد، سندھڑی، فہلاڈیوں اور دلبر خان مہر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی سخت نگرانی کی گئی۔

    اسنیپ چیکنگ کے دوران 590 گاڑیوں کی جانچ کی گئی۔57 فینسی نمبر پلیٹس اتاری گئیں۔43 گاڑیوں کے کالے شیشے ہٹائے گئے۔
    دوران چیکنگ مہران کار میں سوار دو افراد سے ایک پستول بھی برآمد ہوا جس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    ایس ایس پی شبیر احمد سیٹھار کا کہنا ہے کہ ضلع میں جرائم کی روک تھام اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اسنیپ چیکنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

  • میرپورخاص: پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کا عدالت سے تحفظ کا مطالبہ

    میرپورخاص: پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کا عدالت سے تحفظ کا مطالبہ

    میرپورخاص( باغی ٹی وی ، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کا عدالت سے تحفظ کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق میرپورخاص کے تعلقہ چمبڑ کے گاؤں روات لغاری کی رہائشی مسماۃ حاجانی ملاح اور نوجوان طاہر پنہور ولد اللہ بخش پنہور نے پسند کی شادی کے بعد عدالت سے تحفظ کی درخواست کی ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طاہر پنہور کی زوجہ حاجانی ملاح نے واضح کیا کہ انہیں کسی نے اغوا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شادی ان دونوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی ہے اور وہ اپنی پسند سے ایک دوسرے کے شریکِ حیات بنے ہیں۔

    جوڑے کے مطابق شادی کے بعد حاجانی ملاح کے رشتہ داروں نے اس فیصلے کو جرم سمجھا اور ان کے گھر والوں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اس دباؤ کے نتیجے میں وہ عدالت تک پہنچے تاکہ قانونی تحفظ حاصل کیا جا سکے۔

    نوجوان جوڑے نے ایس ایچ او چمبڑ سے اپیل کی ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو رشتہ داروں کے ممکنہ خطرات سے بچانے کے لیے فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔

    جوڑے کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ازدواجی زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور کسی بھی دباؤ یا مداخلت کے بغیر اپنی شادی شدہ زندگی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔