تھرپارکر۔مٹھی۔(اے پی پی) تھرپارکر میں ٹڈی دل کے حملے کے بعد تھری باشندوں کا ٹڈی دل پر حملہ، کہیں ٹڈی کڑہائی تو کہیں ٹڈی بریانی تیار ہونے لگی۔ ٹڈی دل جو تباہی کا دوسرا نام ہے سندھ کے دیگر اضلاع میں فصلوں کو کھا کر ٹڈی دل نے تھرپارکر کا رخ کیا لیکن تھرپارکر میں ٹڈی دل کی قسمت خراب نکلی، ٹڈی دل نے تھری باشندوں کی تیار فصلوں پر حملہ کیا اور ساری فصل کھا کر میدان صاف کر گئیں جنہوں نے طویل عرصہ کے بعد زمینیں آباد کیں تھی۔ دوسرا وار تھری باشندوں کا تھا جس سے ٹڈی دل پر قیامت ٹوٹ پڑی اور تھری باشندوں نے ٹڈی دل پر ایسا حملہ کیا کہ فصلیں تباہ کرنے کا سارا بدلا لے لیا، تھرپارکر کی تحصیل چھاچھرو میں لوگ ٹڈی دل کو کڑاہی میں پکا پکا کر کھانے لگ گئے ہیں، چھاچھرو کی ہوٹلیں اس وقت آباد ہوگئیں ہیں، ٹڈی دل کی مزے مزے کی ڈشیز تیار ہو رہی ہیں کہیں پر ٹڈی کڑہائی تیار ہو رہی ہے تو کہیں پر ٹڈی بریانی جس پر تھری باشندوں سمیت تھرپارکر گھومنے کیلئے آنے والے سیاح خوب ہاتھ صاف کر رہے ہیں
Category: حیدرآباد

180 لیٹر شراب برآمد متعدد ملزمان گرفتار
تھرپارکر/مٹھی۔ (اے پی پی) تھرپارکر پولیس کا منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں جاری، پی ایس مٹھی کے ایس ایچ او نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کارروائی کے دوران کچے شراب کی بھٹی پہ چھاپہ مار کر ایک منشیات فروش رائیسنگھ ٹھاکر کو گرفتار کر لیا۔ملزم کے قبضے سے 180 لیٹر شراب (کچہ ٹھڑا) برآمد کیا۔ پولیس پکٹ وجوٹو پر چیکنگ کے دوران ایک منشیات فروش صابر علی کو گرفتار کر کے پانچ پیکٹ انڈین گٹکا برآمد کیا اور نارائن کولہی کو گرفتار کر کے 90 لیٹر کچی شراب برآمد کرلی۔ ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے۔

تھرپارکر میں ٹڈی دل کے حملے نے بڑا نقصان پہنچا دیا
تھرپارکر/مٹھی۔ (اے پی پی) تھرپارکر ضلعے کے تحصیل چھاچھرو اور شہر چیلہار کے آس پاس گاؤں علن آباد، مجید محلہ، بھوریلو، رانجھو ڈھانی کے ساتھ درجنوں گاؤں میں گزشتہ تین دن میں ٹڈی دل نے فصل اور گھاس کھا کر تباہ کردی، لاکھوں روپے کی لاگت سے تیار کی گئی فصل پر ٹڈی دل نے حملہ کر کے مکمل ختم کردیا، ضلع انتظامیہ کو بار بار اطلاع دینے کے باوجود اسپرے نہیں کیا گیا۔

ایم نائن پر ٹریفک کے المناک حادثہ میں 4 افراد جاں بحق،11زخمی ہوگئے
حیدرآباد۔ (اے پی پی)ایم نائن پر ٹریفک کے المناک حادثہ میں 4 افراد جاں بحق اور11زخمی ہوگئے، حادثہ نوری آباد کے قریب پیش آیا،کراچی سے سکھر جانے والی وین ٹرالر سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں وین ڈرائیور سمیت چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ زخمیوں کو سول اسپتال حیدرآباد اور شدید زخمیوں کو کراچی منتقل کردیا گیا ہے۔ جاں بحق ہو نے والوں میں 55سالہ علی بخش ولد غلام مصطفی، 30سالہ ہیبت خان ولد محمد اسحاق خان، 25 سالہ سلمان اور35سالہ مصطفی علی شامل ہیں۔ علی بخش گمبٹ اور ہیبت خان کوٹ ڈیجی کا رہائشی ہے۔ زخمیوں میں 35سالہ عرفان رضا ولد خادم رضا،30سالہ نوید علی ولد قمرالدین،25سالہ وقار علی ولدغلام شبیر،25 سالہ طالب علی ولد غلام شبیر، 45 سالہ وزیر علی ولد عبدالرشید،45سالہ شکیل ولدمنظور، 25سالہ شبیر ولد احمد،40 سالہ باقر علی ولد علی محمد، 30سالہ اکرم بیگ ولد افضل بیگ، 30سالہ شبیر اور25سالہ اسحاق شامل ہیں۔حادثہ تیز رفتاری کی وجہ سے پیش آیا۔

بڑھتی ہوئی آبادی سے ملک میں معاشی و سماجی مسائل پیدا ہو رہے ہیں،رکن صوبائی اسمبلی فقیر شیر محمد بلالانی
تھرپارکر۔مٹھی ۔ (اے پی پی) رکن صوبائی اسمبلی فقیر شیر محمد بلالانی نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی سے ملک میں معاشی و سماجی مسائل پیدا ہو رہے ہیں جس سے نمٹنے کیلئے بہبود آبادی کی خدمات سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک قومی مسئلا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ بہبود آبادی سندھ کے تعاون سے بہبود آبادی تھرپارکر کی جانب سے عالمی مانع حمل طریقوں کا دن شہید بینظیر بھٹو کلچرل کامپلیکس مٹھی میں آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھرپارکر ضلع میں زیادہ تردیہی آبادی پر مشتمل آبادی ہے جہاں لوگوں کو محکمہ بہبود آبادی کی سہولیات فراہم کرنا بہت ضروری ہے جس کیلئے محکمہ بہبود آبادی تھرپارکر کو فور وہیل گاڑیاں فراہم کی جائیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت و افادیت کے متعلق آگاہی فراہم کرنے کیلئے پروگرام منعقد کئے جائیں کیونکہ ترقی یافتہ ممالک میں خاندانی منصوبہ بندی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

تمام ہسپتالوں میں کتے اور سانپ کاٹنے کی ویکسین کی موجودگی یقینی بنائی جائے
عمرکو ٹ۔ (اے پی پی) ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ ندیم الرحمان میمن نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور چاروں تعلقوں کے ایم ایس اپنے رابطوں کو موثر بنائیں، رابطے نا ہونے کی وجہ سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں اور تمام ویکسین موجود ہونے کے باوجود سندھ حکومت پرآپ لوگوں کی وجہ سے سخت تنقید کی جاتی ہے اور ضلع عمرکوٹ کے تمام ہسپتالوں میں کتے کاٹنے کی ویکسین(اے آروی) اورسانپ کاٹنے کی ویکسین (اے ایس پی) کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے اور اگر کوئی بھی بچہ کتے کاٹنے کی ویکسین سے محروم رہا یا پھر اس میں کوئی بھی کوتاہی یا غفلت ہوئی تو ان کے زمہ دار متعلقہ تعلقہ کا ایم ایس اور اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنر آفیس کے دربار ہال میں صحت کے حوالے سے منعقد کردہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر عمرکوٹ ڈاکٹر الھداد اور چاروں تعلقوں کے ایم ایس سے صحت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ کتے کاٹنے اور سانپ کاٹنے کی ویکسین کی موجودگی کے حوالے سے عام لوگوں کو آگاہی دی جائے اور سائین بورڈ اور پینافلیکس تمام میڈیکل سینٹروں پر لگائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ امپرومینٹ آف ہیلتھ سکیٹر کے حوالے سے واٹس اپ گروپ بنایا جائے جس پر روزانہ کی بنیاد پر صحت کے حوالے سے تمام مسائل اجاگر کئے جائیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز رابطے میں رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف اپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے اور رات کے اوقات میں اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی حاضری کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ کسی بھی ایمرجنسی کیس سے فوری طور پر نمٹا جا سکے اور ہسپتال میں صفائی ستھرائی کوبھی یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے پی پی ایچ آئی،آئی ایچ ایس، آئی ایچ ایچ کے اداروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا اور موبائل ہیلتھ یونٹ کی او پی ڈی کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر ارسال کرنے کے احکامات جاری کئے۔

تھرپارکر بچوں کی ہلاکت نہ رک سکی مزیدچار بچے مختلف وبائی امراض سے جان کی بازی ہار گئے
تھرپارکر۔مٹھی۔ (اے پی پی)تھرپارکر میں گزشتہ روز چار بچے مختلف وبائی امراض کی وجہ سے فوت ہوئے،116 بچے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات موجود ہیں، ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر تھرپارکر ڈاکٹر شہزاد طاہر تھیم نے تھرپارکر ضلع میں زوزانہ کی بنیاد پر جاری صحت و علاج معالج کی سہولیات کی فراہمی کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا ہے کہگزشتہ روز 190 بچے ضلع بھر کی سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لئے لائے گئے، جس میں سے67بچوں کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرتے ہوئے صحتیاب کرکے ڈسچارج کردیا گیا جبکہ116بچے اس وقت ضلع بھر کی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اس کے علاوہ ضلع کی تمام سرکاری اسپتالوں میں 890بچوں کا او پی ڈی میں علاج کیا گیا۔ جبکہ 4بچے مختلف وبائی امراض کی وجہ سے فوت ہوگئے۔ میڈیکل سپریٹینڈنٹ سول ہسپتال مٹھی کی پورٹ کے مطابق گاؤں اوٹھا آباد تعلقہ مٹھی کے رہائشی فضل الدین کا 45دن کا بچہ جس کا وزن 1.2کلوگرام گیسپنگ اور مختلف وبائی امراض کے باعث، گاؤں سنتورو فارم تعلقہ کلوئی کے رہائشی عبدالحمید کی 9ماہ کی بچی حسینہ جس کا وزن 1.7کلوگرام سیوئر نمونیا اور دیگر وبائی امراض کی وجہ سے، ممہراج کالونی مٹھی کی رہائشی جیرام بھیل کا 5دن کا نومولود بچہ گوتم جس کا وزن 2کلو گرام نیونیٹل اور سیپسز بیماری کے باعث اور رزاق ڈنو تعلقہ جھڈو ضلع میرپورخاص کے رہائشی عبدالمجید چانڈیو کا نو مولود بچہ جس کا وزن 1.3کلوگرام وقت سے پہلے پیدائش کم وزن اور برتھ ایسفگزیا کے باعث فوت ہو گئے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ڈگری کی حیثیت وہی ہے جو دیگر جامعات کی ہے، پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم
حیدرآباد۔(اے پی پی)علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرضیاء القیوم نے کہا ہے کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ڈگری کی حیثیت وہی ہے جو دیگر جامعات کی ہے اس کا نظام کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،ٹی وی چینل کے بجائے ہم تدریس کے لیے موبائل ایپلیکشن سسٹم پر کام کررہے ہیں،سندھ سمیت ملک کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں اوپن یونیورسٹی کے ریجنل سینٹرز قائم کئے جارہے ہیں جلد ہی مورو اور مٹھی میں سینٹرز قائم کردئیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد میں سینئر صحافیوں سے ظہرانے کے موقع پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہو ئے کیا۔ اس موقع پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ریجنل سروسز انعام اللہ شیخ اور دیگر معززین بھی موجو د تھے۔پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کہاکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی اسناد یا ڈگری کی حیثیت وہی ہے جو دیگر جامعات کی ہے۔اسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر اسکے قیام کا مقصد دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو فائدہ پہنچانے اور ایسے طلبہ وطالبات کو اپنے نوکریوں میں مصروف ہوتے ہیں یا کسی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے یونیورسٹی نہیں جاسکتے انہیں گھر بیٹھے تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا انہوں نے کہاکہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے دروازے کسی لیے بند نہیں ہونا چاہئیں انہوں نے کہاکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ہر سال 14لاکھ افراد داخلہ لیتے ہیں جن کو35ہزار اساتذہ تعلیم و تدریس کا فریضہ انجام دے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا نظام تقریباً کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے اس میں 70فیصد کام مکمل ہوچکا ہے مزید بھی جلد مکمل ہوجائے گا جس پر 600ملین روپے لاگت آئے گی انہوں نے کہاکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے درس و تدریس کے لیے ٹی وی چینل کے لیے درخواست متعلقہ ادارے کو دی ہوئی ہے تاہم میرے خیال میں اس سے زیادہ اہم واٹس ایپ کے زریعے سستا اور سہل طریقہ سے ہوسکتا ہے ہم واٹس ایپ موبائل ایپلیکیشن سسٹم پر تیزی سے کام کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم60کروڑ روپے کی لاگت سے سکھر،مورو، مٹھی میں علاقائی سینٹرز قائم کررہے ہیں ان پر تعمیراتی کام جاری ہے جبکہ ملیر کراچی میں ایک ماڈل سینٹر قائم کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی کسی قسم کے مالی بحران کا شکار نہیں ہے ہمارے پاس انڈونمنٹ فنڈز ہیں ہم نے رواں سال ملک بھر میں پونے2ارب روپے کے ترقیاتی کام کرائے ہیں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر ریجنل سروسز انعام اللہ شیخ نے کہاکہ سندھ کے علاقوں مورو، مٹھی اور ملیر میں 40سال سے جو کام التواء کا شکار تھا وہ اب مکمل ہورہا ہے جلد ہی مورو اور مٹھی کے ریجنل سینٹرز کام شروع کردیں گے۔

صوبے کے خلاف سازش برداشت نہیں کریں گے ،بلاول
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ کسی بھی صورت صوبے کے خلاف سازش برداشت نہیں کریں گے ،آپ کراچی پرقبضے کی بات کرکے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول زرداری نے حیدر آباد پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہ ملک بہت مشکل وقت سے گزر رہا ہے، کٹھ پتلی حکمرانوں نے صحافت پر بھی حملے کیے ،پیپلز پارٹی اداروں کی آزادی پر یقین رکھتی ہے ،پاکستان کو آج جمہوریت سے آمریت کی طرف دھکیلا جارہا ہے ،
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کو سندھ سے علحیدہ کرنے کی سوچ ایک خطرناک سازش ہے ،این ایف سے کے باوجود صوبوں کو وسائل نہیں دیئے گئے ،ملک کی معیشت کو کمزور کیاگیا ،عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا گیا، اٹھارہویں ترمیم پر حملے ہو رہے ہیں، عمران خان نے سندھ میں کھڑے ہو کر کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے وفاق کے پاس کچھ نہیں بچا،ہم نے18ویں ترمیم کی صورت میں آئین کو بحال کیا،بے نظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد سب کے سامنے ہے
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے پاس غریب کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں، بھٹو نے غریب کے لئے آواز اٹھائی تھی،پاکستان میں معاشی انصاف لانا ہے تو وفاق کو صوبوں کو وسائل دینے پڑیں گے، حیران کن بات ہے کہ کل وفاقی وزیر قانون نے اعلان کیا کہ وہ کراچی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ،یہ کیا مذاق ہے، وسائل بھی چھینو، حقوق بھی چھینو، ہمارا آواز دباؤ، عوام کا معاشی قتل کرو،بچوں کو تحفظ نہیں مل رہا اور وفاق کراچی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ،کسی بھی صورت صوبے کےخلاف سازش برداشت نہیں کریں گے .

محض ٹویٹ کرنے سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو گا، لیاقت بلوچ
نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے کشمیر میں جو شر پیدا کررکھا ہے اس سے خیر برآمد ہوگا’ محض ٹویٹ کرنے سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حیدر آبار میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر اتفاق رائے سے ایک قومی پالیسی تشکیل دیں ‘موجودہ حکومت ماضی کی روش پر چل رہی ہے’ملک شدید اقتصادی بحران کاشکار ہے سود کی لعنت نے معیشت کو تباہ کردیا ہے ‘ جماعت اسلامی کے کارکنان مسئلہ کشمیر کو ہرسطح پر اجاگر کریں .
لیاقت بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر میں36دن ہوگئے کرفیو کشمیری ظلم وبربریت کا شکار ہیں اور پاکستان کی آمد کے منتظر ہیں لیکن وزیر اعطم محض ٹویٹ اور بیانات تک ہی محدد ہیں کشمیر ٹویٹ کرنے سے آزاد نہیں ہوگا ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیر اعظم نکلتے ایک ایک اسلامی ملک ‘ سلامتی کونسل سمیت ہر درواز ے پر انصاف کے لئے دستک دیتے لیکن ایسا نہیں ہوا.
دوسری جانب جماعت اسلامی نے 15 ستمبر کو کوئٹہ میں کشمیریوں کے حق میں ریلی نکالنے کا اعلان کر دیا۔ امیر العظیم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم اپوزیشن کے احتجاج کا حصہ اس لئے نہیں بن رہے کہ آج وہ جن نکات پر تنقید کررہے ہیں ماضی میں انہوں نے خود وہی کیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں ماضی میں اپنی کردہ گناہوں کی معافی مانگیں اور لوٹی گئی رقم کو قومی خزانے میں جمع کرائیں تب ان کے ساتھ مل کر احتجاج کا سوچ جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جماعت اسلامی کراچی اور پشاور میں کشمیر مارچ کر چکی ہے،کراچی میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام عظیم الشان کشمیر مارچ کا اہمتام کیا گیا جو کہ بارش کے باوجود بھی ایک کامیاب پروگرم تھا. شدید موسم اور بارش اہل کراچی کو کشمیری بھارئیوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے سے روک نہیں سکی.اس موقع پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں ایک مہینے سے کرفیو نافذ ہے، نوجوانوں کو شہید کیا جارہا ہے ، خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی جارہی ہے لیکن ہمیں کشمیر کی آزادی کیلئے کوئی حرکت نظر نہیں آتی، اگر بھارتی فوج وہاں موجود ہے تو ہماری فوج کو بھی سرینگر میں موجود ہونا چاہیے، اگر آپ نے یہ لڑائی سرینگر میں نہیں لڑی تو آپ دیکھیں گے کہ یہ لڑائی اسلام آباد اور مظفر آباد میں لڑی جائے گی،
جماعت اسلامی نے اکتوبر میں لاہور میں بھی کشمیر مارچ کا اعلان کر رکھا ہے








