Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • ‎وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کر دیا

    ‎وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کر دیا

    اسلام آباد میں جدید ترین سکائی 47 ڈیٹا سینٹر "قراقرم ون” کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ طور پر ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کیا اور منصوبے کی مختلف سہولتوں کا جائزہ لینے کے ساتھ تفصیلی بریفنگ بھی حاصل کی۔

    تقریب کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ قراقرم ون ڈیٹا سینٹر کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا ہوسٹنگ اور جدید ڈیجیٹل خدمات کے لیے مضبوط اور محفوظ انفراسٹرکچر فراہم کرے گا۔ منصوبہ مصنوعی ذہانت (AI)، مشین لرننگ (Machine Learning) اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ حساس قومی اور تجارتی معلومات کے محفوظ ذخیرے کے لیے بھی اہم کردار ادا کرے گا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جدید ترین ڈیٹا سینٹر کو متاثر کن اور قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عظیم منصوبے کو دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ انتہائی مختصر مدت میں غیر معمولی عزم، پختہ یقین اور اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ مکمل کیا گیا، جو قومی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بصیرت افروز قیادت اور منصوبے کے شراکت دار ادارے زیڈ ٹی ای (ZTE) کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے منصوبے پاکستان کو ٹیکنالوجی کے میدان میں خودانحصاری کی جانب لے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ "معرکۂ حق” میں کامیابی ملکی تاریخ کا ایک عظیم لمحہ تھا، جس نے ثابت کیا کہ قوم اگر امید، حوصلے اور اتحاد کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرے تو تاریخی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل محنت اور قومی عزم ہی ایسے عظیم منصوبوں کو حقیقت کا روپ دیتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سکائی 47 جیسے منصوبے پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں اور یہ ملک کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ناقابلِ تسخیر سکیورٹی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے قوم کو یہ تحفہ دینے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر پوری قوم متحد ہو کر کام کرے تو کوئی بھی ہدف ناقابلِ حصول نہیں رہتا۔

  • وفاقی حکومت کا فوری طور پر10 لاکھ ٹن   گندم درآمد کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت کا فوری طور پر10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے فوری طور پر10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    وفاقی حکومت عوام کو سستی اور معیاری گندم کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے، اور اسی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاق اور تمام صوبوں کے درمیان گندم کی دستیابی، قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
    باہمی اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ پاسکو (PASSCO) کے پاس موجود گندم کے ذخائر فوری طور پر صوبوں کی ضروریات کے مطابق فراہم کیے جائیں گے۔
    مزید یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ چونکہ صوبوں کی مجموعی ضرورت پاسکو کے دستیاب ذخائر سے زیادہ ہے، اس لیے فوری طور پر10 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے گی تاکہ ملکی ضروریات پوری کی جا سکیں اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رہے

  • سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

    سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

    وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں-

    چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گاعدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، آئینی عدالت اس سے قبل 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع بھی جاری کرچکی ہے،جبکہ عمران خان رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست اور خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے کے خلاف اپیل پر 29 جولائی کو سماعت ہوگی۔

    ریڈیو پاکستان کی جانب سے پشاورمیں ریڈیو پاکستان پر حملے سے متعلق مقدمہ واپس لینے کے خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا ،درخواست میں ریڈیو پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جائے، جس کی استدعا بھی عدالت کے سا منے زیر غور آئے گی۔

  • حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں ،وزیراعظم

    حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں ،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں ،بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور امن کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش ہے، تاہم پاکستان دہشت گردی کے اس چیلنج کا پوری قوت سے مقابلہ کرے گا۔

    بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچ اور پشتون عوام نے قیامِ پاکستان کے وقت تاریخی کردار ادا کیا اور اپنی قیادت کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کرکے قومی وحدت کو مضبوط بنایا، بلوچستان کی محب وطن قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی اور صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور شریک رہا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا لیکن رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں طویل فاصلے اور دشوار جغرافیہ ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرنے کا تقاضا کرتے ہیں، اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق میں نمایاں اضافہ کیا گیا، اس فیصلے میں تمام صوبوں نے اتفاق کیا، جبکہ پنجاب نے رضاکارانہ طور پر سالانہ 11 ارب روپے اضافی دینے کا فیصلہ کیا اور 2010 سے اب تک تقریباً 150 ارب روپے بلوچستان کے لیے فراہم کیے جا چکے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ وفاقی یکجہتی اور بھائی چارے کا تقاضا تھا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ میاں نواز شریف کے ادوارِ حکومت میں بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے، جبکہ موجودہ حکومت نے بھی صوبے کے جائز مطالبات پورے کرنے کو ترجیح دی ہے بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے تقریباً 75 ارب روپے کا منصوبہ شروع کیا گیا، جس میں وفاق نے تقریباً 50 ارب روپے فراہم کیے، تاکہ کسانوں کو بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکے،بلوچستان کی ترقی کےلیے وفاقی حکومت کوئی کمی نہیں چھوڑے گی-

    وزیراعظم نے کہا کہ کراچی سے چمن تک ایم-25 شاہراہ، جسے ماضی میں مسلسل حادثات کے باعث “خونی سڑک” کہا جاتا تھا، اسے جدید ایکسپریس وے میں تبدیل کیا جا رہا ہے، تقریباً 300 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ بھی ممکن ہوگا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ڈیڑھ سے دو برس میں یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد یہ شاہراہ ترقی، تجارت اور امن کی علامت بن جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں اگر صرف ایک یا دو صوبے ترقی کریں اور د یگر پیچھے رہ جائیں تو اسے پاکستان کی ترقی نہیں کہا جا سکتا وفاق کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے ہر حصے کو مساوی ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

    وزیراعظم نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس عبدالقادر اور ان کے ساتھی اہلکار سمیت دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ قوم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اب تک 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جن میں شہری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور افواجِ پاکستان کے افسران و جوا ن شامل ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ 2017 اور 2018 تک پاکستان دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پا چکا تھا، لیکن بعد ازاں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جو دہشت گرد عناصر کو مالی اور دیگر معاونت فراہم کر رہا ہےپاکستان نے بارہا افغان عبو ری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے استعمال سے روکے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان دو ہزار کلومیٹر سے زائد مشترکہ سرحد موجود ہے اور خطے میں امن دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، تاہم، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس حوالے سے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔

    انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان نے دفاعی اور سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن سے دنیا میں ملک کا وقار بلند ہوا ہے، مگر پاکستان کے دشمن ان کامیابیوں کو برداشت نہیں کر پا رہے انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے سفر کو آگے بڑھائے تاکہ پاکستان دنیا میں اپنا حقیقی مقام حاصل کر سکے۔

    اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے علامہ اقبال کا شعر پڑھتے ہوئے قومی اتحاد، مشترکہ جدوجہد اور انتھک محنت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ چاروں صوبوں اور 24 کروڑ عوام کی مشترکہ کوششوں سے ہی پاکستان ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار ریاست بن سکتا ہے۔

  • پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے،اسحاق ڈار

    پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغز جمہوریہ کے خوبصورت شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل برائے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کہا کہ پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون، روابط اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور حمایت جاری رکھے گا-

    دفتر خارجہ کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار نے اجلاس کی میزبانی پر کرغز قیادت اور وزیر خارجہ ژین بیک کولوبایف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شاندار انتظامات کو سراہا نائب وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کی 25ویں سالگرہ پر رکن ممالک کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ایس سی او گزشتہ 25 برس کے دوران خطے میں امن، سلامتی، خوشحالی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے،انہوں نے علاقائی امن، استحکام، رابطہ کاری اور مشترکہ ترقی کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون، روابط اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور حمایت جاری رکھے گااسحاق ڈار نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن میں اسلام آباد مذاکرات اور اس کے نتیجے میں طے پانے والا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت شامل ہیں انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین کی عکاسی کرتے ہیں۔

    انہوں نے اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششو ں کو سراہااور اس موقع پر اعلان کیا کہ پاکستان ستمبر 2026 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی سربراہی سنبھالنے کے لیے تیار ہے، انہوں نے تمام رکن ممالک کو 2027 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

  • ایس او سی اجلاس:اسحاق ڈار کی چینی وزیرخارجہ سےملاقات

    ایس او سی اجلاس:اسحاق ڈار کی چینی وزیرخارجہ سےملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات، خطے کی تازہ صورتحال اور مختلف کثیرالجہتی فورمز پر باہمی تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر مفصل اور نتیجہ خیز تبادلۂ خیال کیانائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران پاکستان کی علاقائی امن، استحکام اور سفارتی کوششوں کو سراہنے پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی آئندہ سربراہی سنبھالنے اور 2027 میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا،دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، علاقائی امن و استحکام کے فروغ اور بین الاقوامی و علاقائی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی

    لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان آرمی کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، ستارۂ بسالت کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے اور انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    وزیراعظم آفس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے کے ساتھ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا، ہلال امتیاز ملٹری، ستارہ بسالت کو ان کی ترقی اور تقرری پر مبارکباد دی اور اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی کے لیے جنرل عامر رضا کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا،وزیراعظم نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ جنرل عامر رضا قومی سلامتی سے متعلق اس اہم ذمہ داری کو پیشہ ورانہ مہارت اور قومی عزم کے ساتھ انجام دیں گے۔

    کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا منصب ملک کی اسٹریٹجک صلاحیتوں اور قومی دفاعی حکمتِ عملی کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے جب کہ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی کو پاکستان کی عسکری قیادت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا نے 1988 میں کمیشن پاس کیا، انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ کیا اس کے علاوہ وہ یونیورسٹی آف نوٹنگھم سے بین الاقوامی تعلقات کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں،انہیں جنوری 2025 میں چیف آف جنرل اسٹاف جی ایچ کیو تعینات کیا گیا تھا اس کے علاوہ وہ کمانڈر فور کور اور چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔

  • بھارتی انکار سے نہ تاریخ بدل سکتی ہے اور نہ کشمیر کی متنازع حیثیت، پاکستان

    بھارتی انکار سے نہ تاریخ بدل سکتی ہے اور نہ کشمیر کی متنازع حیثیت، پاکستان

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے مسئلہ جموں و کشمیر، انسانی حقوق، سندھ طاس معاہدے اور خطے کی سلامتی سے متعلق بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارتی انکار سے نہ تاریخ بدل سکتی ہے اور نہ کشمیر کی متنازع حیثیت-

    پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے بھارتی وفد کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے بھارتی انکار سے نہ تاریخ بدل سکتی ہے اور نہ کشمیر کی متنازع حیثیت،سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کوئی مدتِ معیاد نہیں ہوتی-

    اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ وہ خود بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی جیسے اقدامات کا مرتکب رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق موجود ہے ان کے مطابق ایک جانب سیاسی آزادی اور بنیادی حقوق کا ماحول ہے، جبکہ دوسری جانب مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبر، گرفتاریوں، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہےحقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی کو ایک جیسا قرار نہیں دیا جا سکتا کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا جبکہ بھارت کا یکطرفہ مؤقف اس تنازع کی بین الاقوامی اور قانونی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت خود مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں اور اپنے بین الاقوامی وعدوں سے انحراف کر رہا ہےمقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دینے کے بجائے ان پر مزید پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

    پاکستانی قونصلر نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے اقدامات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے دریائے سندھ کا پانی لاکھوں انسانوں کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگ یا سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

    صائمہ سلیم نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک اپنی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیلا چکے ہیں،بھارت کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی سرپرستی کررہاہے ،بھارت خطے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے،کلبھوشن یادیو سے عالمی قتل کی سازشوں تک، بھارتی دہشت گردی بے نقاب ہو چکی ہے، جس پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے-

    انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کو امتیازی سلوک اور مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے،ہندوتوا کی سیاست سے بھارتی مسلمان، مسیحی، دلت اور سکھوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرے۔

  • پاکستان کے  ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر

    پاکستان کے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر

    پاکستان نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے-

    پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا افتتاح کیا گیاتقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا اس موقع پر دونوں رہنماؤ ں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

    ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہےامید ہے کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

    اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

    تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل

    نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل

    سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے میں قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے،سپریم کورٹ نے 30 صفحات کا فیصلہ جاری کردیا۔

    جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعتیں کیں،بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا،نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی،نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

    سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا،اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔