Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • بیرون ممالک جیلوں سے رہا پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات جاری

    بیرون ممالک جیلوں سے رہا پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات جاری

    وزارتِ خارجہ نے بیرون ممالک جیلوں سے رہا پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات جاری کر دی.

    وزارت خارجہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بیرون ممالک کے جیلوں سے رہا ہونے والے شہریوں کی تفصیلات پیش کیں وزارت خارجہ کے مطابق گزشتہ1 سال کے دوران ساڑھے 12 ہزار سے زائد پاکستانی قیدی بیرون ملک جیلوں سے رہا ہوئے جبکہ 21 ہزار 480 تاحال قید ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق بغداد سے سب سے زیادہ 4863، جدہ 1947 پاکستانی قیدی رہا ہوئے اس کے بعد کوالالمپور سے 1650 ، دبئی سے 1899، ریاض سے 863، مسقط سے 371، ماسکو سے 93 پاکستانی رہائی ہوئے، استنبول سے 30، زمبابوےسے 67, نیویارک سے 18 پاکستانی قیدی رہا ہوئے جبکہ ہیرس سے 91، بنکاک سے 16، انقرہ سے 125 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

    وزارت خارجہ نے بتایا کہ 21480 پاکستانی قیدی تا حال بیرون ملک جیلوں میں قید ہیں جن میں سے متحدہ عرب امارات میں 5297 جبکہ سعودی عرب کی جیلوں میں 10 ہزار 745 پاکستانی قید ہیں ترکیہ میں 190، عمان 578، قطر میں 601، ملائیشیا میں 448، بھارت میں 738، یونان میں 516، چین میں 452، بحرین میں 218، جرمنی میں 105 ایران میں 169، امریکہ میں 131 جبکہ عراق میں 81 پاکستانی قید ہیں۔

  • امریکی صدر  چین جاتے ہوئےچند گھنٹوں کیلئے پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں، خواجہ آصف

    امریکی صدر چین جاتے ہوئےچند گھنٹوں کیلئے پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں، خواجہ آصف

    وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے وہ تاریخی سنگ میل عبور کیے ہیں جن کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ہوسکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین جاتے ہوئے 2 گھنٹے کے لیے پاکستان میں قیام کریں۔

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اللہ کے فضل سے دشمن کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ جیتی ہے جس کا اعتراف پوری دنیا بشمول امریکی صدر نے کیا ہے، جنہوں نے متعدد بار بھارت کو اس کے ہونے والے بھاری جانی و مالی نقصان اور تباہ شدہ طیاروں کی یاد دہانی کرائی، یہ فتح اتنی واضح تھی کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی اور اس سے بین الاقوامی تعلقات میں پاکستان کا قد کاٹھ نمایاں طور پر بلند ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عالمی تشخص اب مکمل طور پر تبدیل ہوچکا ہے کیونکہ ماضی میں جس ملک پر روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردی کے الزامات لگائے جاتے تھے، آج وہی پاکستان خطے میں امن کا علمبردار بن کر ابھرا ہے اور جنگوں کو ختم کرانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان اس وقت امریکہ اور برادر اسلامی ملک ایران کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک ثالث اور دفاعی پارٹنر کے طور پر کام کر رہا ہے، جس کی بدولت جنگ بندی ممکن ہوئی ہے،اس پائیدار امن کے ثمرات سعودی عرب، خلیجی ممالک، وسطی ایشیائی ریاستوں، شام اور مصر سمیت پوری مسلم امہ تک پہنچیں گے اور خطے کے عوام سکھ کا سانس لیں گے۔

    خواجہ آصف نے ان کامیابیوں اور امن کی کوششوں کا سہرا وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ ان دونوں رہنماؤں کے باہمی تعاون سے پاکستان ایک نئی سمت میں گامزن ہے انہوں نے پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کی قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جن کی بدولت ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا۔

    وفاقی وزیر نے مزید انکشاف کیا کہ ایسی اطلاعات بھی گردش کررہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ چین کے دوران چند گھنٹوں کے لیے پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں، جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ثبوت ہے۔اس وقت دنیا کا کوئی بھی ملک مزید دشمنی یا جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ عالمی سطح پر مہنگائی اور تیل کی فراہمی کے بحران نے معیشتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    خواجہ آصف نےکہا کہ اب یورپ کے رویے میں بھی بڑی تبدیلی آئی ہے اور وہ دشمنی کے بجائے مفاہمت اور امن کی بات کر رہے ہیں جبکہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے ،پاکستان اب ایک محفوظ متبادل تجارتی اور سفارتی گیٹ وے کے طور پر اپنی جگہ بنا چکا ہے اور ان شاء اللہ دشمنیوں کے اس خاتمے سے ملک و قوم کے لیے خوشحالی کے نئے راستے کھلیں گے۔

  • حکومت نے مستقبل میں لگنے والے بڑے آئی پی پیز منصوبوں کو روک دیا ہے،اویس لغاری

    حکومت نے مستقبل میں لگنے والے بڑے آئی پی پیز منصوبوں کو روک دیا ہے،اویس لغاری

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت سبسڈی کے نظام میں بہتری لا رہی ہے اور نجی کمپنیوں کو اسمارٹ میٹرنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جا رہی ہے تاکہ نظام زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔

    لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی میں منعقدہ پاور کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں اور اس مقصد کے لیے حکومت مختلف اقدامات کررہی ہے حکومت سبسڈی کے نظام میں بہتری لا رہی ہے اور نجی کمپنیوں کو اسمارٹ میٹرنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جا رہی ہے تاکہ نظام زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ خراب میٹرز کے باعث بلنگ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس لیے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی خراب میٹر طویل عرصے تک فعال نہ رہے تاکہ صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے حکومت نے مستقبل میں لگنے والے بڑے آئی پی پیز منصوبوں کو روک دیا ہے اور توانائی کے شعبے میں حکومتی کردار کو کم کیا جا رہا ہے آئندہ ایک سے 2 سال میں کئی توانائی کمپنیاں نجی شعبے کے حوالے کی جائیں گی۔

    انہوں نے بتایا کہ صنعت اور زراعت کے لیے بجلی کے الگ نرخ مقرر کیے جائیں گے جبکہ دن کے اوقات میں مخصوص کیٹیگریز کو نسبتاً سستی بجلی فراہم کی جائے گی حکومت کا ہدف بجلی کو اس حد تک سستا اور قابلِ رسائی بنانا ہے کہ صارفین اسے بیٹری میں ذخیرہ کرکے بعد میں استعمال کر سکیں میٹرز کی خریداری میں نمایاں بچت کی گئی ہے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

  • سی آئی ایس ایس کے زیر اہتمام تقریب میں ’’معرکہ حق‘‘ کتاب کی رونمائی

    سی آئی ایس ایس کے زیر اہتمام تقریب میں ’’معرکہ حق‘‘ کتاب کی رونمائی

    سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹیجک اسٹڈیز (سی آئی ایس ایس) کے زیر اہتمام معرکہ حق، بازدار قوت، اشتعال انگیزی اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی پختگی کے عنوان سے کتاب کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس میں ممتاز دانشوروں، سفارتکاروں، عسکری ماہرین اور جامعات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    تقریب آپریشن بنیان المرصوص کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی، جہاں جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال، بازدار قوت (Deterrence)، اشتعال انگیزی (Escalation) اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی گفتگو کی گئی، شرکاء نے بحث کی کہ کس طرح یہ کتاب خطے میں سیکیورٹی کے پیچیدہ مسائل کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے اور پاکستان کی دفاعی پالیسی پر روشنی ڈالتی ہے۔

    کتاب میں 10 ممتاز اسٹریٹجک، دفاعی اور سلامتی امور کے ماہرین کے تحقیقی مضامین شامل ہیں ” معرکۂ حق“ کو خطے میں اسٹریٹجک میچورٹی اور طاقت کے توازن میں اہم موڑقرار دیا گیا بھارت کا جارحانہ رویہ ، توسیع پسندانہ پالیسی، ہندوتوا نظریہ جنوبی ایشیا کے امن کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ مستقبل کی جنگیں روایتی عسکری طاقت کے ساتھ ہائبرڈ وارفیئر، سائبر صلاحیتوں اور بیانیے کی جنگ پر مشتمل ہوں گی، اس لیے ادارہ جاتی تیاری اور اسٹریٹجک بصیرت ناگزیر ہے۔

    پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ کے چئیرمین مشاہد حسین سید نے کتاب کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک اہم اور تاریخی دستاویز ہے جس میں معرکہ حق کے تمام پہلوؤں کو حقائق اور شواہد کی بنیاد پر بیان کیا گیا ہے کتاب میں ماہرین نے جنگ کے اسباب، نتائج، علاقائی اثرات اور دونوں ممالک کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، جس سے یہ تصنیف مستقبل کے محققین اور پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم حوالہ بن گئی ہے ابھرتے ہوئے سلامتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فکری مباحث، علاقائی روابط اور دانشمندانہ حکمت عملی ناگزیر ہیں، تھنک ٹینکس اور جامعات جنوبی ایشیا میں استحکام اور پالیسی تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    کتاب میں معروف تزویراتی ماہرین، سفارتکاروں اور ریٹائرڈ فوجی افسران کے مضامین شامل ہیں، جن میں جنوبی ایشیا میں بازدار قوت، بحرانی کیفیت کے انتظام، علاقائی سلامتی اور بدلتے ہوئے تزویراتی نظریات پر روشنی ڈالی گئی ہے، منتظمین کے مطابق یہ تصنیف بھارتی جارحیت، بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں ایک بروقت علمی کاوش ہے۔

    تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نامور افراد، بشمول سفارتکاروں، محققین، طلبہ، سینئر سول و عسکری حکام اور غیر ملکی نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور جنوبی ایشیا کی سلامتی صورتحال، تزویراتی استحکام اور بازدار قوت کے مستقبل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    ماہرین کے مطابق معرکۂ حق نے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نئی جہت دی۔ کتاب بھارت کی جارحانہ پالیسیوں اور ان کے علاقائی اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے مقررین نے مؤثر ڈیٹرنس کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے ناگزیر عنصر قرار دیا۔

  • اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی ملاقات

    اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی ملاقات

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے مشرق وسطیٰ تنازع کے لیے ذاتی ایلچی ژاں آرنو نے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران اقوام متحدہ کے ایلچی نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور اقوام متحدہ کی جانب سے اس سلسلے میں مسلسل حمایت کا اعادہ کیا،اسحاق ڈار نے ملاقات میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور متعلقہ فریقین کے ساتھ پاکستان کے جاری روابط اور سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا،انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات اور پاکستان کے لیے مسلسل تعاون قابلِ قدر ہے۔

  • صدرمملکت سے وزیراعظم کی ملاقات

    صدرمملکت سے وزیراعظم کی ملاقات

    صدر مملکت آصف زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کی جس میں صدر مملکت نے وزیراعظم کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی صورت حال کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایوان صدر میں ملاقات کی ہے ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزیرِداخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیرِقانون اعظم نذیر تارڑ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم بھی موجود تھے۔

    ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال، افغانستان سے متعلق امور اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں معرکہ حق کے شہدا اور پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین، قومی دفاع پر غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    صدرِ مملکت نے کہاکہ مشکل جغرافیائی و علاقائی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سپلائی چین متاثر ہونے کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے صدرِ مملکت نے مہنگائی کے دباؤ میں کمی، اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے ممکنہ اقدامات کی ہدایت کی۔

  • سپر ہٹ فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’رواں ماہ چین کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی

    سپر ہٹ فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’رواں ماہ چین کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی

    پاکستانی ہدایت کار بلال لاشاری نے اعلان کیا ہے کہ سپر ہٹ فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ 21 مئی کو چین کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔

    فلم کے ڈائریکٹر بلال لاشاری نے سوشل میڈیا پر اس خبر کو شیئر کرتے ہوئے اسے پاکستانی سنیما کے لیے بہت بڑا سنگِ میل قرار دیاانہوں نے بتایا کہ یہ پہلی پاکستانی فلم ہے جو چین کے انتہائی محدود اور سخت کنٹرول والے غیر ملکی فلم امپورٹ کوٹے میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہے اس کے ساتھ ہی انہوں نے چینی زبان (مینڈارن) میں ڈب کیا گیا پوسٹر اور ٹریلر بھی جاری کیا، جس نے شائقین کی دلچسپی مزید بڑھا دی ہے۔

    بلال لاشاری کے مطابق یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی سینما اب عالمی سطح پر اپنی جگہ مضبوط کر رہا ہے دی لیجنڈ آف مولا جٹ نے عالمی سطح پر ریکارڈ بزنس کرتے ہوئے 13 ملین ڈالر سے زائد کمائی کی اور پاکستان میں بھی ایک ارب روپے سے زیادہ کا بزنس کر کے تاریخ رقم کی۔

    فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ میں فواد خان، ماہرہ خان، حمزہ علی عباسی، ہمایمہ ملک، گوہر راشد، فخر شفیع اور علی عظمت سمیت نامور اداکار شامل ہیں،یہ فلم 1979 کی کلاسک پنجابی فلم مولا جٹ کا جدید ری-امیجنیشن ہے، جس میں مولا جٹ اور اس کے روایتی دشمن نوری نٹ کے درمیان شدید تصادم کی کہانی پیش کی گئی ہے۔

  • معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر خصوصی نغمہ جاری

    معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر خصوصی نغمہ جاری

    وزارت اطلاعات و نشریات نے معرکہ حق کی تاریخی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر خصوصی نغمہ جاری کردیا۔

    معروف گلوکار شیراز اپل کی آواز میں اس نغمے کے بول ’بنیان مرصوص، ہمیشہ تیار ہیں ہم‘ ہیں،ملی نغمے میں 10 مئی کو پاکستان مونومنٹ میں منعقدہ معرکہ حق کی مرکزی تقریب کے دلکش مناظر شامل کیے گئے ہیں،نغمے میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت اعلی سول و عسکری حکام، کابینہ کے ارکان اور اہم سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت کے مناظر بھی شامل ہیں۔

    تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں کی پریڈ کے مناظر کو بھی نغمے میں نمایاں انداز میں عکس بند کیا گیا ہے جبکہ نغمے میں قومی یکجہتی، دفاع وطن کے عزم اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا ہےعلاوہ ازیں معرکہ حق کی مرکزی تقریب میں شریک عوام کے والہانہ جذبات کی جھلکیاں بھی شامل ہیں۔

    نغمے میں معرکہ حق کی کامیابی کو قومی تاریخ کا اہم باب قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم وطن عزیز کے دفاع کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔

  • قطر سے پاکستان کے لیے تیسرا ایل این جی جہاز  آبنائے ہرمز میں داخل

    قطر سے پاکستان کے لیے تیسرا ایل این جی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل

    قطر سے پاکستان کے لیے ایل این جی کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے اور ایک اور اہم پیش رفت میں پاکستان کے لیے بھیجا گیا تیسرا ایل این جی کارگو جہاز ایرانی خصوصی اجازت کے بعد حساس سمندری راستے آبنائے ہرمز میں داخل ہو گیا ہے۔

    شپنگ ذرائع کے مطابق گزشتہ 15 روز کے دوران ایران کی جانب سے پاکستان کے لیے تین ایل این جی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا چکی ہے، جو خطے میں توانائی کی ترسیل کے جاری عمل کی عکاسی کرتا ہے۔
    ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ ایل این جی جہاز اس وقت جزیرہ ہنگم کے قریب سے آگے بڑھ رہا ہے، اور اس میں قطر کے بڑے گیس حب راس لفان ٹرمینل سے مائع قدرتی گیس لدی گئی ہے۔یہ کارگو پاکستان میں انگرو ایل این جی ٹرمینل کے ذریعے اتارا جائے گا، جو ملک میں ایل این جی کی درآمد اور ری گیسیفکیشن کا ایک اہم مرکز ہے۔ذرائع کے مطابق اس سے قبل ایک اور ایل این جی جہاز الخریطیات سے کراچی پہنچ چکا ہے، جبکہ ایل این جی کا پہلا جہاز 30 اپریل کو پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہوا تھا۔

    دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی قراردادوں یا دباؤ کی حمایت کرنے والے ممالک کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جسے خطے میں توانائی اور تجارتی بحری راستوں کے تناظر میں ایک اہم سیاسی بیان قرار دیا جا رہا ہے۔پاکستان کے لیے ایل این جی کی مسلسل ترسیل کو توانائی بحران میں کمی اور گیس کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • آئی ایم ایف پروگرام کے باعث لیوی میں اضافہ کرنا پڑا،علی پرویز ملک

    آئی ایم ایف پروگرام کے باعث لیوی میں اضافہ کرنا پڑا،علی پرویز ملک

    وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک ملک نےکہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے باعث لیوی میں اضافہ کرنا پڑا، جب بجٹ بنایا گیا تو آئی ایم ایف کے ساتھ طے تھا کہ لیوی 80 روپے فی لیٹر کے حساب سے وصول کی جائے گی، تاہم بعد میں حالات مختلف ہو گئے، ڈیزل اور پیٹرول پر 160 روپے لیوی آئی ایم ایف کا ہدف ہے،

    سینیٹ کی پیٹرولیم کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ لیوی ہے، جبکہ بعض ممالک نے ٹیکس کم کرکے عوام کو ریلیف دیا۔وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت لیوی بڑھانا پڑی، بجٹ میں 80 روپے فی لیٹر لیوی کا ہدف طے تھا تاہم بعد میں حالات تبدیل ہوگئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ڈیزل اور پیٹرول پر 160 روپے فی لیٹر لیوی وصول کرنا آئی ایم ایف کا ہدف ہے،بعض ممالک نے ٹیکسز کم کرکے قیمتوں میں کمی کی ہے،