Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • پی ٹی اے کی واٹس ایپ صارفین کیلئے اہم ہدایات جاری

    پی ٹی اے کی واٹس ایپ صارفین کیلئے اہم ہدایات جاری

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے واٹس ایپ صارفین کو ہیکنگ اور سائبر فراڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے اہم حفاظتی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    پی ٹی اے حکام نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ چند آسان سیکیورٹی اقدامات اپنا کر صارفین اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو غیر مجاز رسائی سے محفوظ بنا سکتے ہیں،سائبر مجرم مسلسل واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اس لیے صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس کی سیکیورٹی مزید مضبوط بنائیں۔

    اتھارٹی نے ہدایت کی کہ واٹس ایپ کا سیکیورٹی نوٹیفکیشن فیچر ضرور فعال کیا جائے، اس کے لیے صارفین واٹس ایپ کی سیٹنگ میں جا کر اکاؤنٹ اور پھر سیکیورٹی نوٹیفکیشنز کے آپشن میں “شو سیکیورٹی نوٹیفکیشنز” کو آن کریں، اس فیچر کے فعال ہونے سے اکاؤنٹ کی سیکیورٹی میں کسی بھی تبدیلی کی فوری اطلاع موصول ہو گی۔

    پی ٹی اے نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کے ساتھ ایک محفوظ اور فعال ای میل ایڈریس بھی منسلک کریں تاکہ ہیکنگ یا کسی ہنگامی صورتحال میں اکاؤنٹ کی بحالی آسانی سے ممکن ہو سکے،اتھارٹی نے “ٹو اسٹیپ ویریفکیشن” کو بھی لازمی فعال کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ اضافی حفاظتی فیچر ہیکرز اور سائبر مجرموں کو اکاؤنٹ تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے،معمولی سی احتیاط صارفین کے ذاتی ڈیٹا، رابطوں اور ڈیجیٹل زندگی کو محفوظ بنا سکتی ہے، جبکہ غفلت کی صورت میں سائبر فراڈ اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • ڈارک ویب جرائم کی نگرانی کے لیے خصوصی تحقیقاتی یونٹ قائم

    ڈارک ویب جرائم کی نگرانی کے لیے خصوصی تحقیقاتی یونٹ قائم

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ڈارک ویب پر سرگرم جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی، نگرانی اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے خصوصی ڈارک ویب انویسٹی گیشن یونٹ قائم کردیا ہے-

    ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق یہ یونٹ ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز میں قائم جدید نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے تحت کام کرے گا، جہاں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مجرموں کی شناخت، ان کی سرگرمیوں کی نگرانی اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے ہونے والے مشکوک مالی لین دین کا سراغ لگایا جائےگا، یونٹ خاص طور پر جعلی سفری اور شناختی دستاویزات تیار کرنے والے نیٹ ورکس، انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی امیگریشن اور ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آنے والے دیگر سائبر جرائم کی تحقیقات پر توجہ دے گا۔

    انہوں نے بتایا کہ ڈارک ویب انویسٹی گیشن یونٹ، ایف آئی اے کے کرپٹو کرنسی تحقیقاتی یونٹ کے ساتھ مل کر کام کرےگا اور بلاک چین فارنزکس اور اوپن سورس انٹیلی جنس جیسے جدید تحقیقاتی ذرائع استعمال کرےگا،مختلف مارکیٹ پلیسز، فورمز اور ویب سائٹس پر استعمال ہونے والے فرضی ناموں، یوزر نیمز اور شناختی علامات کا باہمی موازنہ کرکے حقیقی ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ ان کے خلاف ٹھوس شواہد کے ساتھ قانونی کارروائی ممکن ہو سکے۔

    ایف آئی اے کے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اطہر وحید نے بتایا کہ انٹرنیٹ کو عمومی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

    • سرفیس ویب (Surface Web): وہ عام ویب سائٹس جو گوگل جیسے سرچ انجنز پر نظر آتی ہیں، مثلاً خبریں، سوشل میڈیا اور آن لائن اسٹورز۔

    • ڈیپ ویب (Deep Web): وہ مواد جو سرچ انجنز میں شامل نہیں ہوتا، جیسے بینکنگ سسٹمز، ای میل اکاؤنٹس، تعلیمی ڈیٹا بیس اور نجی نیٹ ورکس، جن تک رسائی کے لیے خصوصی اجازت یا لاگ اِن درکار ہوتا ہے۔

    • ڈارک ویب (Dark Web): ڈیپ ویب کا وہ خفیہ حصہ جو عام براؤزر سے قابلِ رسائی نہیں ہوتا اور جہاں خصوصی سافٹ ویئر، جیسے Tor (The Onion Router)، کے ذریعے گمنام انداز میں رسائی حاصل کی جاتی ہے۔

    ایف آئی اے کے مطابق ڈارک ویب کی گمنامی اور خفیہ نوعیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں، جن میں: انسانی اسمگلنگ، جعلی دستاویزات کی خرید و فروخت، منشیات اور اسلحے کی تجارت، چوری شدہ حساس معلومات اور ڈیٹا کی فروخت، سائبر حملے، ہیکنگ ٹولز اور میل ویئر کی خرید و فروخت، دہشت گردی سے متعلق سرگرمیاں، کرپٹو کرنسی کے ذریعے غیر قانونی مالی لین دین

    ایف آئی اے حکام کے مطابق ڈارک ویب پر سرگرم بیشتر جرائم سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں، اس لیے صرف جدید ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون بھی ان جرائم کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہوگا،نئے تحقیقاتی یونٹ کا مقصد انہی جدید تقاضوں کے مطابق سائبر جرائم کی روک تھام اور قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

  • پنجاب میں سیلاب، کشمیر میں انتخابی وعدے؛ ن لیگ عوام کو جواب دے، پلوشہ خان

    پنجاب میں سیلاب، کشمیر میں انتخابی وعدے؛ ن لیگ عوام کو جواب دے، پلوشہ خان

    پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی رہنما سینیٹر پلوشہ خان نے مسلم لیگ (ن) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ن لیگ کو اس وقت کشمیر میں انتخابی وعدے یاد آ رہے ہیں۔

    اپنے بیان میں پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ تین بار وزیراعظم رہنے والوں کو آج بھی سڑکیں، اسپتال اور موٹرویز بنانے کے وعدے ہی یاد آ رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جو کام اقتدار میں رہ کر مکمل نہ ہو سکے، وہ اب محض وعدوں کے ذریعے کیسے کیے جائیں گے؟انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام کو خالی وعدوں کی نہیں بلکہ عملی کارکردگی اور حقیقی ترقی کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول الیکشن کا وقت آتے ہی ن لیگ کو کشمیر کی ترقی یاد آ جاتی ہے، جبکہ باقی عرصے میں عوام کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

    سینیٹر پلوشہ خان نے مزید کہا کہ پنجاب کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقے ن لیگ کی حکمرانی کی حقیقی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب صرف نعروں اور دعوؤں پر یقین نہیں رکھتے بلکہ عملی اقدامات اور نتائج چاہتے ہیں۔انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو نوجوان نسل کی امید اور پاکستان میں جدید سیاست کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی وژن کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ جو جماعت برسوں اقتدار میں رہ چکی ہو، اسے آج بھی عوام سے نئے وعدے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے، اس سوال کا جواب ن لیگ کو قوم کے سامنے دینا چاہیے۔

  • پنجاب  کو ڈوبتا چھوڑ کر، میڈم سی ایم  آزاد کشمیر فتح کرنے نکل پڑی ہیں، شازیہ مری

    پنجاب کو ڈوبتا چھوڑ کر، میڈم سی ایم آزاد کشمیر فتح کرنے نکل پڑی ہیں، شازیہ مری

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی حکومتی کارکردگی کا جواب دینا چاہیے، کیونکہ الزامات سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔

    اپنے بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پنجاب کے عوام کو مسائل کے گرداب میں چھوڑ کر آزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں، جبکہ صوبے میں سیلاب سے متاثرہ ہزاروں خاندان آج بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف "سب اچھا ہے” کی گردان کرنے اور مہنگی تشہیری مہمات چلانے سے عوام کو ریلیف نہیں ملتا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جنوبی پنجاب کی محرومیاں وزیراعلیٰ پنجاب کو کیوں دکھائی نہیں دیتیں، جبکہ وہاں کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ شازیہ مری کا کہنا تھا کہ حکومت کو اشتہارات کے بجائے عوامی مسائل کے عملی حل پر توجہ دینی چاہیے۔مرکزی ترجمان پیپلز پارٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کی غیر مشروط حمایت صرف پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں کی ہے، تاہم اس حمایت کو کسی صورت کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی قومی مفاد، جمہوریت اور عوامی حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

    شازیہ مری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سیاست عوامی خدمت، جمہوری اقدار اور ذمہ دارانہ کردار پر مبنی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کو پیپلز پارٹی کی سیاست پر لیکچر دینے کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ ہر مشکل وقت میں کس جماعت نے جمہوریت، ریاستی اداروں کے استحکام اور سیاسی نظام کے تسلسل کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ انتخابی جلسوں میں اشتعال انگیز تقاریر اور مخالفین پر ذاتی حملے عوام کے مسائل کا حل نہیں ہیں۔ کشمیر کے عوام نعروں کے بجائے عملی خدمت، باوقار رویے اور حقیقی کارکردگی کو اہمیت دیتے ہیں۔شازیہ مری نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے فیصلہ کریں گے، نہ کہ کسی جماعت کے دعووں یا خواہشات سے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو اپنی عوامی طاقت پر مکمل اعتماد ہے اور انتخابی نتائج عوام کی آزاد رائے کے مطابق سامنے آئیں گے۔انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مخالفین کی نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست کانپ رہی ہے، جبکہ سیاسی اختلاف کو ذاتی حملوں میں تبدیل کرنا ن لیگ کی پرانی روایت بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب عوام محض دعووں پر نہیں بلکہ کارکردگی اور عملی اقدامات کی بنیاد پر اپنا فیصلہ کریں گے۔

  • کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی 52 نئی جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کی منظوری

    کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی 52 نئی جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کی منظوری

    اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے ملک بھر میں جان بچانے والی 52 نئی رجسٹرڈ ادویات کی قیمتوں کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ان ادویات کی قانونی فروخت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، سیکرٹری صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف جان لیوا اور پیچیدہ امراض کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں منظور کی جانے والی 52 نئی رجسٹرڈ ادویات میں کینسر، ذیابیطس، ہیموفیلیا، پارکنسن سمیت دیگر سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ان ادویات کی قیمتوں کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی، جس کے بعد ڈریپ باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے گا اور نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد یہ ادویات قانونی طور پر پاکستان میں فروخت کی جا سکیں گی۔منظور شدہ ادویات میں کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی جدید امیونو تھراپی دوا کی ٹروڈا (Keytruda) بھی شامل ہے، جو دنیا بھر میں 20 سے زائد اقسام کے کینسر کے علاج میں مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ نیوولومیب (Nivolumab)، ڈاساتینیب (Dasatinib)، میروپینم (Meropenem) اور مختلف اقسام کی انسولین بھی منظور شدہ ادویات میں شامل ہیں۔

    اجلاس کے دوران وزارت صحت نے مریضوں کو درپیش مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کی فوری منظوری کی ضرورت پر زور دیا۔ وزارت نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ ادویات کی قیمتوں کے تعین کے عمل میں شفافیت، عوامی مفاد اور مریضوں کی سہولت کو اولین ترجیح دی جائے۔حکام کا کہنا تھا کہ قیمتوں کی منظوری میں تاخیر کے باعث متعدد مریض غیر رجسٹرڈ، اسمگل شدہ یا انتہائی مہنگی درآمدی ادویات استعمال کرنے پر مجبور تھے، جس سے نہ صرف ان پر مالی بوجھ بڑھ رہا تھا بلکہ معیاری علاج تک رسائی بھی متاثر ہو رہی تھی۔حکام کے مطابق اس فیصلے سے معیاری اور رجسٹرڈ ادویات کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئے گی، غیر قانونی سپلائی چین پر انحصار کم ہوگا اور مریضوں کو محفوظ، مؤثر اور قانونی طور پر دستیاب ادویات تک آسان رسائی حاصل ہو سکے گی۔

  • رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کاجسٹس بابرستار کو 30 روز میں سرکاری گھر خالی کرنے کا نوٹس

    رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کاجسٹس بابرستار کو 30 روز میں سرکاری گھر خالی کرنے کا نوٹس

    رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کاجسٹس بابرستار کو 30 روز میں سرکاری گھر خالی کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔

    جسٹس بابر ستار کو نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ آفس نے 3 جولائی کو اسلام آباد میں سرکاری گھر کینسل کیا، آپ کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے پشاور ہائیکورٹ تبادلہ ہو چکا ہے لہٰذا آپ کو گھر خالی کرنے کے لیے ایک ماہ کا نوٹس دیا جاتا ہے،نوٹس کے متن کے مطابق نوٹس کی مدت گھر کینسل ہونے کی تاریخ 3 جولائی سے شروع ہو گی،ذرائع کے مطابق ٹرانسفر کے بعد جسٹس بابر ستار نے پشاور میں گھر نہیں لیا اوراسلام آباد کا گھر ہی رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

  • پاکستانی پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں دو درجے  بہتر

    پاکستانی پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں دو درجے بہتر

    پاکستانی پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں دو درجے بہتر ہوتے ہوئے 103سے 101 نمبر پر آگیا ہے تاہم گرین پاسپورٹ اب بھی دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں شامل ہے اور صرف عراق ، شام اور افغانستان سے بہتر ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان کا پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں 2 درجے بہتری کے بعد سے 101 نمبر پر آگیا ہے، اس کے ساتھ ہی پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد اب 29 ممالک یا خطوں میں بغیر پیشگی ویزا کے سفر کر سکتے ہیں،2026 میں یہ درجہ بندی عالمی شہریت اور رہائش سے متعلق مشاورتی ادارے ہینلے اینڈ پارٹنرز کی جانب سے جاری کی گئی ہے جس میں دنیا کے 199 پاسپورٹس اور 227 سفری مقامات کا جائزہ لیا جاتا ہے،پاسپورٹ انڈیکس میں پاسپورٹ کی طاقت کا اندازہ اس بنیاد پر لگایا جاتا ہے کہ اس کے حامل افراد کتنے ممالک یا علاقوں میں بغیر پیشگی ویزہ کے داخل ہو سکتے ہیں،مذکورہ ادارے کے مطابق بعض صورتوں میں سفری پابندیاں ویزا پالیسی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، اس درجہ بندی میں سنگاپورکا پہلانمبر پر برقرار ہے، بھارت 81 ویں جبکہ افغانستان فہرست کے سب سے آخر میں موجود ہے

  • 
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    ‎پاکستان میں حکومت نے یومیہ ایندھن قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت ایک مرتبہ پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
    ‎سرکاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 66 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
    ‎پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش، زرعی سرگرمیوں اور دیگر شعبوں میں اخراجات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اضافہ بالخصوص مال بردار گاڑیوں، زرعی مشینری اور صنعتی شعبے کے لیے لاگت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جس کے اثرات روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
    ‎حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، درآمدی اخراجات اور بین الاقوامی مارکیٹ کی صورتحال کو قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ اضافے نے عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں پہلے ہی مہنگائی کے باعث شہریوں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
    ‎معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو آئندہ دنوں میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید رد و بدل کا امکان موجود ہے۔ دوسری جانب عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ریلیف اقدامات کیے جائیں تاکہ عام شہریوں پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔
    ‎حالیہ اضافے کے بعد شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کی نظریں آئندہ حکومتی فیصلوں پر مرکوز ہیں، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں ہر تبدیلی ملکی معیشت اور روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

  • ‎دفتر خارجہ اور کامسٹیک کے اشتراک سے سائنس کمیونیکیشن اینڈ ڈپلومیسی جرنل کا پہلا شمارہ 2026 جاری

    ‎دفتر خارجہ اور کامسٹیک کے اشتراک سے سائنس کمیونیکیشن اینڈ ڈپلومیسی جرنل کا پہلا شمارہ 2026 جاری

    ‎پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم کے ذیلی ادارے کامسٹیک (COMSTECH) کے اشتراک سے جرنل آف سائنس کمیونیکیشن اینڈ ڈپلومیسی کا سال 2026 کا پہلا شمارہ جاری کر دیا۔ اس موقع پر جرنل کی اشاعت کے دو سال مکمل ہونے کی تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں سفارت کاروں، سائنس دانوں، ماہرین تعلیم اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔
    ‎تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ نے کہا کہ موجودہ عالمی چیلنجز کا مقابلہ صرف اجتماعی تعاون سے ممکن ہے اور سائنس ڈپلومیسی، سائنس اور خارجہ پالیسی کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے درمیان سائنسی تعاون کو مزید فروغ دینے اور ترقی پذیر ممالک کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی عالمی حکمرانی میں مؤثر شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔
    ‎کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ کامسٹیک مسلم دنیا کی سائنسی صلاحیتوں کو یکجا کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ جرنل سائنس، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعلقات کے سنگم پر تحقیق اور پالیسی سے متعلق مباحث کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
    ‎جرنل کے 2026 کے پہلے شمارے میں مجموعی طور پر 11 تحقیقی مضامین شامل کیے گئے ہیں، جن میں سے 7 مضامین وزارت خارجہ کے سفارت کاروں نے تحریر کیے ہیں۔ ادارتی بورڈ، جس کی سربراہی ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کر رہے ہیں، نے تمام مصنفین کو مبارکباد دیتے ہوئے وزارت خارجہ اور کامسٹیک کی ٹیموں کی مسلسل کاوشوں کو سراہا۔
    ‎وزارت خارجہ کی جانب سے اس شمارے میں مضامین لکھنے والوں میں سفیر آمنہ بلوچ، سفیر ظہور احمد، شکیب رفیق، حشام احمد، عمیر خالد، محمد عدیل، حسن عباس اور صدام شاہ شامل ہیں۔

  • ‎ہولی فیملی اسپتال میں 23 روزہ نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج

    ‎ہولی فیملی اسپتال میں 23 روزہ نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج

    ‎راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں زیر علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹ جانے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد بچی کے والد کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ واقعے نے اسپتال میں طبی دیکھ بھال اور مریضوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
    ‎متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود، جو ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے اعتبار سے کارپینٹر ہیں، نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی اسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے وہ اسپتال کی نرسری میں زیر علاج تھی۔ ان کے مطابق جب وہ اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے اسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔
    ‎والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوری طور پر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر سے اس بارے میں استفسار کیا، جس پر انہیں بتایا گیا کہ نرس سے غلطی کے باعث بچی کا انگوٹھا کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول اسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی، لیکن نہ واقعے کی مکمل وضاحت کی گئی اور نہ ہی فوری طور پر کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
    ‎قیصر محمود نے انصاف کے حصول کے لیے پولیس سے رجوع کیا، جس کے بعد تھانہ نیوٹاؤن میں ان کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 334 کے تحت درج کیا گیا ہے، جو انسانی اعضا کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے۔ مقدمے میں اسپتال کی نرس نیلم صدیق کو نامزد کیا گیا ہے۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں اور قانون کے مطابق مزید کارروائی جاری ہے۔ دوسری جانب ہولی فیملی اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
    ‎یہ واقعہ صحت کے شعبے میں مریضوں، خصوصاً نومولود بچوں کی حفاظت اور طبی عملے کی ذمہ داریوں کے حوالے سے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔