سربراہ پاک فوج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ کشمیر جلد آزادی کی نئی صبح دیکھے گا جو اہلِ کشمیر کی اجتماعی خواہش اور ان کا مقدر ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مظفرآباد کا دورہ کیا جہاں انہوں نے جموں و کشمیر یادگارِ شہدا پر حاضری دی، پھول رکھے اور کشمیر تحریک کے شہدا کی بہادری اور بے لوث قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ممتاز شخصیات اور سابق فوجیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بھارت کی ریاستی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوتوا پر مبنی پالیسیوں کے باوجود کشمیری عوام کی جدوجہد مزید مضبوط ہوئی ہے۔
فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کرتا رہے گا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز نے اگلی صفوں کا دورہ بھی کیا اور وہاں تعینات افسران اور جوانوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کو سراہتے ہوئے آپریشنل تیاریوں اور ہر سطح پر ہم آہنگی برقرار رکھنے پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ مشکل آپریشنل حالات کے باوجود افسران اور جوانوں کا جذبہ قابلِ تحسین ہے، کسی بھی دشمنانہ اقدام کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا، اور پاکستان کی مسلح افواج روایتی اور ہائبرڈ دونوں طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
Category: اسلام آباد
-

کشمیر جلد آزادی کی نئی صبح دیکھے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
-

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ازبکستان کے صدر کی ملاقات
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کی ملاقات ہوئی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے مہمان صدر اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز نے دورے کے دوران خود معزز صدر کی رہنمائی کی اور انہیں گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز پر بریفنگ دی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں پاکستان کی مقامی دفاعی پیداوار اور صنعتی ترقی پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس دوران دونوں ممالک نے دفاعی اور صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے شراکت داری، علم کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ -

سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری امریکا میں ٹیکسی چلانے پر مجبور
پاکستان کی قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما قاسم خان سوری نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان دنوں امریکا میں آن لائن ٹیکسی ’اوبر‘ چلا کر اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔
قاسم سوری نے ایک حالیہ گفتگو میں بتایا کہ پاکستان چھوڑنے کے بعد وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ انہیں اس طرح کا کام کرنا پڑے گاوہ چوری کرنے کے بجائے محنت مزدوری اور ایمانداری کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں اسی لیے وہ امریکا کی سڑکوں پر ٹیکسی چلا رہے ہیں،وہ عمران خان کے نظریے کے سپاہی ہیں اور ہمیشہ اسی سوچ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
قاسم سوری نے اپنے موجودہ حالات کو ملک میں جاری مبینہ ناانصافیوں اور سختیوں کے تناظر میں بیان کیا اور خاص طور پر عمران خان اور ان کے اہل خانہ کو درپیش قانونی مسائل کا ذکر کیاانہوں نے بتایا کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں سی ڈی اے جیسے اہم ادارے میں ذمہ دار عہدے پر فائز رہے مگر انہوں نے کبھی وہاں سے ذاتی مال نہیں بنایا، 2018 سے پہلے وہ کوئٹہ میں اپنے گھر پر عمران خان اور ڈاکٹر عارف علوی جیسی اہم شخصیات کی میزبانی کرتے رہے ہیں اور وہ ہمیشہ سے ایک متوسط طبقے کے ایماندار پاکستانی رہے ہیں۔
-

اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ قیدی کی موت
اڈیالا جیل میں قید منشیات کیس میں سزا یافتہ قیدی بابر سلیم دورانِ علاج انتقال کرگیا۔ جیل ذرائع کے مطابق قیدی کی طبیعت بگڑنے پر اسے فوری طور پر راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (آر آئی سی) منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ جانبر نہ ہوسکا۔
جیل حکام کے مطابق بابر سلیم کو چند روز سے صحت کے مسائل لاحق تھے، جس کے باعث اس کی حالت تشویشناک ہوگئی۔ طبی معائنہ کے بعد ڈاکٹروں نے اسے خصوصی علاج کے لیے آر آئی سی منتقل کیا، تاہم دورانِ علاج وہ دم توڑ گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ متوفی قیدی بابر سلیم کا تعلق ضلع چکوال سے تھا اور وہ تھانہ ڈوڈیال میں درج منشیات کے ایک مقدمے میں گرفتار ہو کر اڈیالا جیل میں سزا کاٹ رہا تھا۔جیل انتظامیہ کے مطابق قیدی کی موت کی اطلاع متعلقہ حکام اور لواحقین کو دے دی گئی ہے، جبکہ قانونی تقاضوں کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر موت کی وجہ طبعی بتائی جارہی ہے، تاہم حتمی تصدیق میڈیکل رپورٹ کے بعد کی جائے گی۔
-

چینی شہریوں کو ہرممکن سکیورٹی فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے،محسن نقوی
اسلام آباد: پاکستان میں چینی سفیر جیانگ زی ڈونگ نے محسن نقوی کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا ہےکہ چین ہر طرح کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے –
وزیرداخلہ محسن نقوی سے چین کے سفیر جیانگ زی ڈونگ کی اہم ملاقات ہوئی جس میں چینی سفیر نے بلوچستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سےتعزیت اورہمدردی کا اظہار کیا،ملاقات میں انسدادِ دہشتگردی سمیت داخلی سلامتی اور سکیورٹی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ انٹیلی جنس شیئرنگ اور سائبر کرائمز کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔
چینی سفیر نے کہا کہ دکھ کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، چین ہر طرح کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے اور ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
سعودی عرب: اونٹوں کو پاسپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ
اس موقع پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشتگردی منظم اور طے شدہ منصوبے کے تحت کی گئی مگر بلوچستان میں دہشتگردی پر سکیورٹی فورسزنے بروقت مؤثر رسپانس دیا وزیرداخلہ نے چینی سفیر کو چینی شہریوں اور چینی پروجیکٹس کی حفاظت کے اقدامات پر بریف کرتے ہوئے کہا کہ چینی شہریوں اور پروجیکٹس کی حفاظت بے حد عزیز ہے، چینی شہریوں کو ہرممکن سکیورٹی فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے لہٰذا اسی تناظر میں چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ تشکیل دیا جا رہا ہے، پاک چین دوستی کو دشمن کسی صورت نقصان نہیں پہنچا سکتا انسداد دہشتگردی آپریشنز کے لیےجدید چینی ٹیکنالوجی اور ساز وسامان معاون ثابت ہوگا۔
بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل ،216 دہشتگرد جہنم واصل
محسن نقوی اور چینی سفیر نے پاک چین اسٹریٹیجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور چینی سفیر نے چینی شہریوں کی سکیورٹی پر اقدامات پر شکریہ بھی ادا کیا جب کہ محسن نقوی نےچین کی جانب سے ہر موقع پر غیر متزلزل حمایت پر چینی سفیر کا شکریہ ادا کیا۔
-

کشمیر دنیا کا ایک خطرناک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے،مشعال ملک
حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر ویڈیو پیغام جاری کیا ہے-
مشعال ملک نے کہا کہ آج یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہے اور کشمیر صرف ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ دنیا کا ایک خطرناک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے کشمیر کے حریت رہنما محمد یاسین ملک اس وقت ڈیتھ سیل میں قید ہیں مودی سرکار انہیں پھانسی پر چڑھانے کی کوشش کر رہی ہے یہ معاملہ کسی ایک خاندان تک محدود نہیں بلکہ پوری کشمیری قوم کو خاموش کرانے کی کوشش ہے، جہاں امن اور آزادی کی آواز کو جرم بنا دیا گیا ہے۔
مشعال ملک نے سوال اٹھایا کہ کیا ظلم کے سائے میں امن ممکن ہے؟ یاسین ملک کو ڈیتھ سیل میں رکھنا پوری کشمیری قوم کو سزا دینے کے مترادف ہے مودی سرکار کشمیری قیادت کو پھانسی دے کر آواز دبانا چاہتی ہے،امن اور آزادی کا مطالبہ کرنا کشمیریوں کے لیے جرم بن چکا ہے دنیا خاموش ہے اور کشمیر میں دہشت گردی کھلے عام ہو رہی ہے ہر آنسو پر پابندی اور ہر دھڑکن پر خوف مسلط ہے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسا انصاف ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل کیا
پاکستان نے سلامتی کونسل سے بی ایل اے پر پابندی کا مطالبہ کر دیا
ملک بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے،صدر مملکت و وزیراعظم کے خصوصی پیغامات
-

پاکستان نے سلامتی کونسل سے بی ایل اے پر پابندی کا مطالبہ کر دیا
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کالعدم دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) پر پابندی عائد کرنے کا باضابطہ مطالبہ کردیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کی زیرِ غور درخواست منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے یہ مطالبہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں دہشت گردی سے عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر بحث کے دوران کیا گیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی عالمی امن اور سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے اور اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے اور دنیا کو متاثر کرتے ہیں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد خطے میں بعض دہشت گرد تنظیموں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنتہ الہندوستان اور بلوچ لبریشن آرمی جیسی تنظیموں کو نئی زندگی ملی اور انہوں نے اپنی کارروائیاں تیز کیں بلوچ لبریشن آرمی نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملے کیے جن میں 48 بے گناہ شہری جان سے گئے،کالعدم بی ایل اے نے بلوچستان کے مختلف مقامات پر متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی-
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کے مشرقی ہمسایے کی کھلی حمایت سے یہ گروہ پاکستان کے اندر سفاکانہ دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار ہیں، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ بلوچ لبریشن آرمی کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندیاں عائد کرےانہوں نے اجلاس میں اس تشویش کا بھی اظہار کیا کہ بعض دہشت گرد عناصر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں، جو علاقائی امن کے لیے خطرہ ہےعاصم افتخار نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ریاستی دہشت گردی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہیں۔
دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ کوئی بھی دہشت گرد یا اس کا سہولت کار قانون سے بالاتر نہیں اور تمام عناصر سے بلا امتیاز قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا سیکیورٹی فورسز نے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا کر بلوچستان میں امن و امان کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردی اور تشدد کو کسی بھی جواز کے تحت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے انہوں نے شہریوں، سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان سب کی مشترکہ جدوجہد سے ہی ملک میں امن و استحکام ممکن ہے۔
-

ملک بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے،صدر مملکت و وزیراعظم کے خصوصی پیغامات
آج ملک بھر میں کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔
آج ملک بھر میں عام تعطیل ہے، مظفر آباد میں صبح نو اور دس بجے کے درمیان سائرن بجائے گئے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی،آج پورے ملک میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا، آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے راستوں پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی۔
گزشتہ سات دہائیوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں چھ لاکھ سے زائد کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں۔ صرف حالیہ 34 برسوں میں 96 ہزار سے زائد کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے، 7 ہزار سے زیادہ افراد دورانِ حراست شہید ہوئے اور ایک لاکھ سے زائد بچے شفقتِ پدری سے محروم کر دیے گئے 05 اگست 2019 کے بعد بھارتی مظالم میں مزید اضافہ ہوا، گزشتہ پانچ برسوں میں 966 کشمیری شہید، 25 ہزار سے زائد گرفتار اور ہزاروں کو عقوبت خانوں میں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جنوری 2025 میں بھی ریاستی جبر کا سلسلہ نہ رکا اور مزید بے گناہ کشمیریوں کی جانیں لے لی گئیں۔
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس بھی آج ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف مظفر آباد جائیں گے یوم یکجہتی کشمیر پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
صدر مملکت آصف زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن کشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کے عزم کی تجدید کا دن ہے، دنیا بھر میں پاکستانی کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا ناگزیر ہےوزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کی حقِ خود ارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے، کشمیری بھائیوں کی بے مثال جرات، استقامت اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، پاکستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کے ایجنڈا پر موجود دیرینہ حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے، بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث کشمیری عوام کو بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے، وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر جبر اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا گڑھ بنا ہوا ہے من مانی سیاسی نظربندیاں بھارت کے معمول کے ہتھکنڈے بن چکے ہیں، 5اگست 2019 کو بھارت نے غیر قانونی اور یکطرفہ انتظامی کا سلسلہ شروع کیا، ان اقدامات کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے جبری تسلط کو مضبوط بنانا تھااقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور وکالت کی، پاکستان کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر افواجِ پاکستان نے کشمیری عوام کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جدوجہدِ آزادی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل، نیول چیف اور ایئر چیف نے اپنے مشترکہ پیغام میں کہا ہے کہ افواجِ پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور ان کے بنیادی حقوق کی حمایت جاری رکھیں گی۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے بیان میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی جیسے اقدامات کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔
افواجِ پاکستان نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف انسانی اقدار کے خلاف ہیں بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا رہے ہیں مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ناگزیر ہےمسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکتا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس تناظر میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کی تکالیف کم کرنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرے۔
افواجِ پاکستان نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں، کشمیری عوام کی جدوجہد کو جائز حق سمجھتے ہوئے افواجِ پاکستان ان کے ساتھ ہر سطح پر کھڑی رہیں گی۔ -

مارگلہ انکلیو پروجیکٹ میں صوبیدار غلام علی کی یادگار بارے سوشل میڈیا پر جھوٹا بیانیہ
مارگلہ انکلیو میں پہلی جنگ عظیم میں شمالی افریکہ کمپین کے ہیرو صوبیدار غلام علی سے منصوب ایک یادگار کے توڑے جانے کے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی حقائق کے منافی ہے۔ڈی ایچ اے نے سی ڈی اے کے ساتھ مل کر سب سے پہلے اس یادگار آثار قدیمہ کے محکمے کے چارج پر دلوایا۔اس کے بعد صوبیدار غلام علی کے وارث سے زلفقار علی سے ایفیڈیوٹ پر این او سی لی۔اس یادگار کو اپنی جگہ سے دو سو میٹر دور نادرن بائی پاس چوک میں خوبصورت انداز میں دوبارہ نصب کیا جائے گا
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں پہلی جنگِ عظیم کی یاد میں قائم صوبیدارغلام علی کی یادگار کو غیر قانونی طور پر مسمار کر دیا ہے۔ فیکٹ چیک کے مطابق یہ تمام دعوے جھوٹے، گمراہ کن اور حقائق کے برعکس ہیں۔
سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ پلیٹ فارمز پر یہ خبر پھیلائی گئی کہ سی ڈی اے نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد ریجن کے ساتھ مل کر مارگلہ انکلیو ہاؤسنگ پروجیکٹ کے لیے اس تاریخی یادگار کو تباہ کر دیا۔ تاہم سی ڈی اے اور ڈی ایچ اے اعلیٰ حکام نے واضح طور پر ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یادگار کی منتقلی کا مارگلہ انکلیو ہاؤسنگ پروجیکٹ سے کوئی تعلق نہیں۔تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سی ڈی اے نے یادگار کو نہ تو مسمار کیا اور نہ ہی ختم کیا، بلکہ اسے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ سرکاری ریکارڈز اور متعلقہ اداروں کی تصدیق کے مطابق یہ اقدام یادگار کے تحفظ کے پیشِ نظر کیا گیا، جس میں تمام قانونی مراحل، متعلقہ اداروں کی منظوری اور خاندان کی رضامندی شامل تھی۔
صوبیدار غلام علی نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران مشرقی افریقہ میں خدمات انجام دیں اور غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ان کی جرات مندی کے اعتراف میں انہیں اعزاز سے نوازا گیا۔ بعد ازاں برطانوی حکومت نے ان کی خدمات کے اعتراف میں یہ یادگار تعمیر کروائی۔سی ڈی اے حکام کے مطابق، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد ریجن نے سی ڈی اے کے اشتراک سے یادگار کی قانونی منتقلی کا باقاعدہ عمل شروع کیا تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس سلسلے میں محکمہ آثارِ قدیمہ سے رہنمائی حاصل کی گئی،سی ڈی اے کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد ہوئے،محکمہ آثارِ قدیمہ نے واضح کیا کہ یہ یادگار اس کی سرکاری فہرست میں شامل نہیں، اس لیے
100 سے 200 میٹر کے اندر منتقلی کے لیے این او سی درکار نہیں،اس کے باوجود، ڈی ایچ اے نے صوبیدار غلام علی کے پوتے کے پوتے ذوالفقار (جو اس وقت آئیسکو میں سپرنٹنڈنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں) سے رابطہ کیا۔ ذوالفقار نے یادگار کی منتقلی پر تحریری حلف نامے کے ذریعے رضامندی ظاہر کی۔ خاندان کے دیگر افراد بیرونِ ملک مقیم ہیں۔یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ سی ڈی اے نے تاریخی یادگار کو نقصان پہنچانے کے بجائے قانون کے مطابق محفوظ مقام پر منتقل کیا ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ ایسی خبروں پر یقین کرنے سے قبل مصدقہ ذرائع اور فیکٹ چیک کو ضرور مدنظر رکھیں۔
-

بچوں کو والد سے ملنے سے روکنا اجتماعی طور پر سزا دینے کے مترادف ہے،قاسم خان
تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے کہا ہے کہ میں اور بھائی اپنے والد عمران خان سے ملنے پاکستان آنا چاہتے ہیں لیکن حکومت ہماری ویزا درخواستوں پر کارروائی نہیں کر رہی۔
عمران خان کے بیٹے قاسم خان نےاپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میرے والد بانی پی ٹی آئی 914 دن سے قید تنہائی میں ہیں، میرے والد کی صحت بگڑ رہی ہے، انہیں آزاد طبی سہولت تک رسائی نہیں دی جا رہی، میں اور میرا بھائی اپنے والد عمران خان سے ملنے پاکستان آنا چاہتے ہیں، اب حکومت جان بوجھ کر ہماری ویزا درخواستوں پر کارروائی نہیں کر رہی،قیدی کو علاج سے محروم رکھنا ظلم ہے، بچوں کو والد سے ملنے سے روکنا اجتماعی طور پر سزا دینے کے مترادف ہے، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ناقابل تلافی نقصان سے پہلےاس معاملے پرآواز اٹھائیں۔