Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • بارش اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    بارش اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک میں بارش اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کر دی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں آج سے تین فروری تک بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہےشمالی بلوچستان اور شمالی علاقوں میں آئندہ چند روز کے دوران بارش اور برفباری کا امکان ہے،آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی بارش اور برفباری کی توقع ہےاسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، مری، گلیات اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے،محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس دوران بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، جس کے باعث شہریوں اور مسافروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوئٹہ آمد،شہداء کے لواحقین سے ملاقات،وزیراعلیٰ بلوچستان ہمراہ

    وزیراعظم نے پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا افتتاح کردیا

    ایران کے شہر بندر عباس میں دھماکا

  • صدرمملکت،وزیراعظم  کا فتنہ الہندوستان کیخلاف کامیاب آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    صدرمملکت،وزیراعظم کا فتنہ الہندوستان کیخلاف کامیاب آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کامیاب سیکیورٹی آپریشنز پر افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جرات کو سراہتے ہوئے دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر ارضِ وطن کے محافظوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیاں سیکیورٹی فورسز کی بروقت حکمتِ عملی، جدید آپریشنل مہارت اور بے مثال قربانیوں کا مظہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کامیاب آپریشنز کے ذریعے ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا گیا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔شہباز شریف نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے اہلکاروں کے بلند درجات کے لیے دعا کی اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کی بدولت آج ملک میں امن و استحکام کی فضا قائم ہو رہی ہے۔

    وزیراعظم نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی اور ریاست دشمن عناصر کے لیے پاکستان کی سرزمین تنگ کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے شہداء پر فخر ہے اور قوم ہر محاذ پر اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سیکیورٹی فورسز کو تمام ضروری وسائل فراہم کرتی رہے گی تاکہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جا سکیں اور پاکستان میں پائیدار امن قائم ہو۔

    صدرِ مملکت آصف زرداری نے بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔صدر مملکت نے شہداء کی بلندی درجات اور لواحقین کیلئے صبر کی دعا کی۔آصف زرداری نے کہا کہ بلوچستان کے امن اور قومی وحدت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، ریاست بیرونی سرپرستی میں سرگرم دشمن عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، دہشت گردوں کیخلاف بروقت رسپانس قابل ستائش ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ کا دورہ کیا سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا، انہوں نے سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں سے ملاقات بھی کی۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، دہشتگرد عناصر کیخلاف بروقت رسپانس قابل ستائش ہے، بلوچستان میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔وزیراعلیٰ بلوچستان کو آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے دہشت گردی کے واقعات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، سرفراز بگٹی نے پولیس اور سی ٹی ڈی کے فوری اور مؤثر ردعمل پر بہادر جوانوں کو شاباش دی۔

  • عمران خان کی دائیں آنکھ کے معائنے کی تصدیق،ڈاکٹر کا بیان آ گیا

    عمران خان کی دائیں آنکھ کے معائنے کی تصدیق،ڈاکٹر کا بیان آ گیا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی دائیں آنکھ کے معائنے کی تصدیق ہوگئی، پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر نے علاج کی تفصیلات بتادیں۔

    ڈاکٹر عمران سکندر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نےکچھ روز قبل دائیں آنکھ کی بینائی میں کمی کی شکایت تھی جس کے بعد پمز اسپتال کے سینئر ڈاکٹر نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کی آنکھوں کا معائنہ کیا، دائیں آنکھ کے ضروری ٹیسٹ اور فنڈواسکوپی کی گئی،عمران خان کی آنکھ کے اندر دباؤ کی پیمائش اور ریٹینا کی او سی ٹی کی گئی۔ بانی پی آئی کی آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص ہوئی جس کے بعد بانی پی ٹی آئی کے مزید علاج کےلیے سینئر ڈاکٹرنے انہیں اسپتال بھیجنےکی سفارش کی،ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب بانی پی ٹی آئی کو تجویزکردہ علاج کےلیے پمز لایاگیا، بانی کو مرض اور علاج کےبارےمیں تفصیل سےسمجھایاگیا، علاج سے پہلے باقاعدہ تحریری رضا مندی بھی حاصل کی گئی،بانی پی ٹی آئی کا علاج آپریشن تھیٹر میں جراثیم سے پاک ماحول اور نگرانی میں کیاگیا، بانی پی ٹی آئی کا علاج تقریبا 20 منٹ میں بخیروخوبی مکمل ہوا۔

    ڈاکٹر کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی رگوں میں دباؤ کی وجہ سے بینائی پر اثر ہوا ،علاج کے دوران مریض کی وائٹل علامات مستحکم رہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو ہدایات، فالو اپ مشورے اور دستاویز کے ساتھ ڈسچارج کیاگیا۔

    یاد رہے عمران خان کو آنکھ کے طبی ماہرین کی تجویز پر پمز اسپتال لے جایا گیا تھا اور 20 منٹ کے طبی معائنے کے بعد انہیں واپس جیل منتقل کیاگیا جس کے بعد وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے تصدیق کی کہ عمران خان بالکل ٹھیک اورصحت مند ہیں،دوسری جانب پی ٹی آئی نے عمران خان کی اسپتال منتقلی پر تشویش کا اظہار کیا۔

  • ایس ایچ او عوام کا خادم ،عوام اس کےنوکر نہیں،بخدمت جناب نہ لکھا جائے،سپریم کورٹ

    ایس ایچ او عوام کا خادم ،عوام اس کےنوکر نہیں،بخدمت جناب نہ لکھا جائے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کو بخدمت جناب لکھنا ممنوع قرار دے دیا۔

    سپریم کورٹ کایہ فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا۔ پولیس اسٹیشن ٹنڈوغلام علی میں وقوعہ کےایک دن کی تاخیرسےایف آئی آردرج کی گئی تھی،سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو درخواستوں میں بخدمت جناب ایس ایچ او لکھنے پر پابندی، نوآبادیاتی سوچ مسترد کی جاتی ہے، ایس ایچ او عوام کا خادم ہے،عوام اس کےنوکر نہیں، اب ایس ایچ اوکوصرف جناب ایس ایچ او لکھاجائےگا، پرانی غلامانہ زبان ختم کی جاتی ہے،ایف آئی آر درج کرانے والا شہری اطلاع دہندہ ہوگا، شکایت کنندہ نہیں، کمپلیننٹ کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایت تک محدود ہے،سپریم کورٹ نے پولیس کارروائی میں فریادی کا لفظ بھی ممنوع قرار دے دیا اور کہا کہ فریادی رحم مانگنے کا تاثردیتا ہے، حق مانگنے کا نہیں۔

    سپریم کورٹ نے ایف آئی آرکے اندراج میں تاخیرناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے پولیس افسران کوسخت وارننگ دی اور فیصلے میں کہا کہ ایف آئی آرمیں تاخیر پر پی پی سی 201 کے تحت مقدمہ بن سکتا ہے، ایف آئی آرمیں تاخیرسے شواہد ضائع ہونےکاخطرہ ہوتا ہے، پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح، ریاستی رویےمیں بڑی تبدیلی ضروری ہے، ایف آئی آر کےاندراج میں تاخیرکا رجحان سندھ میں نسبتاً زیادہ پایاجاتاہے، پراسیکیوٹرجنرل سندھ گزشتہ2سال سنگین جرائم میں ایف آئی آراندراج کی اوسط تاخیربارے رپورٹ ایک ماہ میں جمع کرائیں، رپورٹ عدالت کے جائزہ کیلئے کراچی برانچ رجسٹری کے انچارج افسرکوجمع کرائی جائے،سندھ کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججزیقینی بنائیں کہ ماتحت عدالتوں میں مقدمہ پکارتے وقت فریادی کی اصطلاح استعمال نہ کی جائے، رجسٹرارآفس فیصلے کو رہنمائی اور عملدرآمد کیلئے پاکستان کی تمام ہائیکورٹس اورضلعی عدالتوں میں سرکولیٹ کرے۔

  • سہیل آفریدی نے دھرنا دینا تھا تو کے پی اراکین اسمبلی کو ساتھ لاتا،شیخ وقاص کی آڈیو لیک

    سہیل آفریدی نے دھرنا دینا تھا تو کے پی اراکین اسمبلی کو ساتھ لاتا،شیخ وقاص کی آڈیو لیک

    تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا مبینہ آڈیو میسج لیک ہوگیا ہے

    مبینہ آڈیو میسج میں گزشتہ روزکے دھرنے میں ممبران پارلیمنٹ کی عدم شرکت کا ملبہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پرڈال دیا اور مبینہ آڈیو میسج میں کہا کہ سہیل آفریدی نے اڈیالہ جاتےہی کہا کہ ورکرزنہیں بلکہ ممبران قومی،صوبائی اسمبلی کوکال دی،شیخ وقاص نے مبینہ آڈیو میسج میں کہا کہ منگل کے روزپنجاب سے ارکان اسمبلی آئے اور پھر واپس اپنےحلقوں میں چلےگئے، سہیل آفریدی نےخیبرپختونخوا ہاؤس میں ایک رات قبل میٹنگ کی، آپ رات میٹنگ میں ہی بتادیتے کہ اڈیالہ دھرنا دینا ہے، کسی ممبراسمبلی کے پاس ہیلی کاپٹریا جہازنہیں کہ وہ فوری پہنچ جائے جو ارکان قریب تھے وہ پہنچ گئے، آج سپریم کورٹ کے باہر رش تھا، زیادہ ارکان پہنچ گئےتھے، اس میں ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کا قصور نہیں جنہوں نے پلان بنایا ان کا قصور ہے، بندہ 10 گھنٹےکےسفرپرہے، آپ رات کوکہتے ہیں فوری پہنچو، کسی کےپاس جہازنہیں ہے،ایسا بالکل نہیں ہوتا۔

    شیخ وقاص اکرم نے مبینہ آڈیو میسج مزید کہا کہ وزیراعلیٰ نے دھرنا دینا ہی تھا تو اپنے 90 ممبران صوبائی اسمبلی توساتھ لاتے، وزیراعلیٰ کےصوبےکےممبران اسمبلی قریب تھےوہ پہنچ سکتےتھے، رات جب کےپی ہاؤس میں میٹنگ ہوئی اس میں اسد قیصر،جنید اکبربھی موجود تھے، آپ کو رات اطلاع دینی چاہیےتھی کہ دھرنا دیں گے، یہ کیا مذاق بنا رکھا ہے،رات کو ہی اطلاع کردینی چاہیے تھی

  • شوہر حق مہر کی رقم ادا کرنے کا پابند ہے, چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

    شوہر حق مہر کی رقم ادا کرنے کا پابند ہے, چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے واضح کیا ہے کہ شوہر اپنے نکاح نامے میں درج حق مہر کی رقم ادا کرنے کا پابند ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جہیز اور حق مہر سے متعلق کیسز کی سماعت کی۔
    ‎سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ حق مہر میں 40 تولہ سونا بہت زیادہ ہے، جبکہ ان کا موکل 20 تولہ سونا دینے کے لیے تیار ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر رقم 20 تولے سے بڑھائی جائے تو ممکن ہے کہ خاتون تصفیہ پر آمادہ ہو جائیں، تاہم عدالت ایسے معاملات میں براہِ راست مداخلت نہیں کر سکتی۔
    ‎چیف جسٹس نے مزید کہا کہ نکاح کے وقت نکاح نامے میں درج حق مہر کی ادائیگی شوہر کے لیے لازم ہے اور اسے اہلیہ کو ادا کرنا ہوگا۔
    ‎بعد ازاں سپریم کورٹ نے جہیز اور حق مہر سے متعلق متعدد درخواستیں خارج کر دی ہیں۔

  • گوگل میپس میں نیا اے آئی فیچر، پیدل اور سائیکل صارفین کے لیے بھی متعارف

    گوگل میپس میں نیا اے آئی فیچر، پیدل اور سائیکل صارفین کے لیے بھی متعارف

    
گوگل نے اپنی مقبول ترین نیوی گیشن سروس میپس کو ایک جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) فیچر سے لیس کر دیا ہے۔ یہ فیچر بنیادی طور پر جیمنائی ماڈل پر مبنی ہے اور نومبر 2025 میں ڈرائیونگ کے دوران ہینڈز فری نیوی گیشن کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔
    اب یہ فیچر نہ صرف ڈرائیونگ کے دوران بلکہ پیدل چلنے اور سائیکل چلانے والوں کے لیے بھی دستیاب ہے، تاکہ ہر طرح کے حالات میں صارفین کو فوری اور مفید رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
    ‎گوگل کی بلاگ پوسٹ کے مطابق یہ فیچر دنیا بھر میں دستیاب ہو رہا ہے، جہاں بھی جیمنائی AI ماڈل موجود ہے، صارفین اسے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز پر استعمال کر سکیں گے۔ ویب ورژن میں یہ فیچر فی الحال دستیاب نہیں ہے۔
    ‎صارفین کو بس "اوکے گوگل” کہہ کر اپنا سوال پوچھنا ہوگا، اور جیمنائی اسی تناظر میں فوری ہینڈز فری جوابات فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ، صارفین AI کو ہدایت دے کر مختلف افراد کو ٹیکسٹ بھی بھیج سکتے ہیں، بشرطیکہ پرمیشن فراہم کی جائے۔
    ‎گوگل کا کہنا ہے کہ یہ نیا فیچر دنیا بھر کے صارفین کے لیے نیوی گیشن کو زیادہ آسان اور مؤثر بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

  • 
ترک فوج کے سربراہ کا جی ایچ کیو دورہ، باہمی دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال

    
ترک فوج کے سربراہ کا جی ایچ کیو دورہ، باہمی دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال

    
اسلام آباد: ترک فوج کے سربراہ نے پاکستان کے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ترک فوج کے سربراہ کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
    ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور عالمی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے دفاعی اور عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا اور پاک-ترک تعلقات کی موجودہ مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

  • ایئرپورٹس کی نجکاری اور آؤٹ سورسنگ پر حکومتی اجلاس

    
اسلام آباد: چیئرمین افنان اللہ کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس ہوا جس میں ایئرپورٹس کی نجکاری اور سہولیات بہتر بنانے کے امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات کی کمپنیاں پاکستان کے ایئرپورٹس میں دلچسپی رکھتی ہیں، جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک بھی ایئرپورٹس آؤٹ سورسنگ میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
    سیکرٹری نجکاری نے کہا کہ بڑے ایئرپورٹس کو آؤٹ سورسنگ کرنے سے چھوٹے ایئرپورٹس کی سہولیات بہتر ہو سکیں گی۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں داخلے میں ایک گھنٹہ لگنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
    ‎اجلاس میں سینیٹر پلوشہ خان نے سوال کیا کہ کیا حکومت اب خود کوئی کام نہیں کر سکتی، جس پر چیئرمین کمیٹی نے کراچی ایئرپورٹ پر چوہوں کے گھومنے کی مثال دی۔ سینیٹر بلال احمد نے تجویز دی کہ تمام ایئرپورٹس کو ایک ساتھ آؤٹ سورس کیا جائے تاکہ سی اے اے بہتر رہنمائی فراہم کر سکے۔

  • 
ایمان مزاری کیس: متنازع فیصلے سے ایران و دیگر ممالک سے متعلق پیرا گراف حذف کرنے کا حکم

    
ایمان مزاری کیس: متنازع فیصلے سے ایران و دیگر ممالک سے متعلق پیرا گراف حذف کرنے کا حکم

    
اسلام آباد: انسدادِ الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹس کیس کے فیصلے میں ایران اور دیگر ممالک سے متعلق پیرا گراف حذف کرنے کا حکم دے دیا۔
    عدالت کے جج افضل مجوکا نے استغاثہ کی درخواست پر حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے کے پیرا نمبر 36 میں ایک واضح غلطی موجود تھی، جس میں غلطی سے چار ممالک کے نام شامل ہو گئے تھے۔
    ‎فیصلے کے مطابق اسٹینوگرافر نے تحریری وضاحت میں بتایا کہ یہ جملہ تصحیح کے دوران دیگر چند جملوں کے ساتھ حذف کر دیا گیا تھا، تاہم حتمی پرنٹ کے وقت غلطی سے دوبارہ فیصلے میں شامل ہو گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس غلطی میں کسی قسم کی بدنیتی شامل نہیں تھی۔
    ‎عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ جملے کا مقدمے کے قانونی نکات یا فریقین کے حقوق کے تعین سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ عدالت نے دفعہ 561 اے کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریکارڈ میں موجود اس واضح غلطی کی تصحیح کی اجازت دی۔
    ‎عدالت نے متعلقہ جملہ حذف کرنے اور استغاثہ کی درخواست کو مرکزی مقدمے کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی۔