Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ، سینیٹ کمیٹی نے ایف بی آر کو طلب کر لیا

    بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ، سینیٹ کمیٹی نے ایف بی آر کو طلب کر لیا

    ایوان بالا کی کمیٹی برائے تفویض کردہ قانون سازی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹرکہدہ بابر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی اجلاس میں سینیٹ کمیٹی کی گزشتہ اجلاسوں کی کار کر دگی اور ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین کمیٹی سینیٹر کہدہ بابر نے کہا کہ اس کمیٹی کا ان کی صدارت میں یہ پہلا اجلاس ہے اور سینئر ممبران کمیٹی کے تجربے سے بھر پور فائدہ اُٹھایا جائے گا۔ تفویض کردہ قانون سازی کی یہ کمیٹی 2015میں تشکیل دی گئی تھی جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اداروں کے قوانین اور رولز کا جائزہ لیا جا سکے۔ تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس سے عوام کو کتنا فائدہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے مختلف ذیلی کمیٹیاں تشکیل دے کر اداروں کے قوانین اور رولز کا بھی جائزہ لیا گیاہے۔ ابھی بھی شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ مختلف اداروں نے اپنے قوانین کے مطابق رولز مرتب نہیں کئے۔

    انہوں نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ ایوان بالا کے شعبہ تحقیق سے مدد حاصل کی جائے وہ تحقیق کر کے کمیٹی کو آگا ہ کریں کہ کن اداروں کے رولز میں ترمیم کی ضرورت ہے اور جو رولز بنائے گئے ہیں اُس سے عوام کو کتنا فائدہ ہو رہا ہے۔ پہلے اُن اداروں کے رولز کا جائزہ لیا جائے جن کابراہ راست تعلق عوام سے ہے۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ کمیٹی کیلئے چیئرمین سینیٹ سے مزید ممبران لیے جائیں تاکہ اس کمیٹی کی افادیت میں اضافہ ہو سکے۔ سینیٹرز ڈاکٹر اسد اشرف اور سلیم ضیا نے کہا کہ کمیٹی کیلئے ایک لیگل ایڈوائز بھی لیا جائے تاکہ اداروں کے رولز کا جائزہ لینے میں مدد مل سکے۔

    سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بجلی و گیس کے بلوں سے عوام شدید متاثر ہو رہی ہے۔پہلے ان اداروں کے رولز کا جائزہ لیا جائے۔جس پر اراکین کمیٹی کی متفقہ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس میں ایف بی آر کو طلب کر کے ان کے رولز اینڈ ریگولیشنز کے علاوہ ایف بی آر سے اس حوالے سے آگاہی حاصل کی جائے گی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر کہدہ بابر نے رکن کمیٹی ڈاکٹر اسدا شرف کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی جو صحت کے شعبے سے متعلقہ قوانین اور رولز کا جائزہ لے کر کمیٹی کو رپورٹ پیش کرے گی۔ ذیلی کمیٹی میں سینیٹرز کلثوم پروین اور سلیم ضیاء کو شامل کیا گیا۔ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز کلثوم پروین، ڈاکٹر اسد اشرف، روبینہ خالد اور سلیم ضیا نے شرکت کی۔

  • پاک فوج کا چترال گولن کے سیلاب متاثرہ علاقوں‌ میں ریلیف و ریسکیو آپریشن جاری

    پاک فوج کا چترال گولن کے سیلاب متاثرہ علاقوں‌ میں ریلیف و ریسکیو آپریشن جاری

    پاک فوج کی طرف سے چترال، گولین کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پاک فوج چترال اور گولن میں سول انتظامیہ کی مدد کررہی ہے، چترال ،گولن کی متاثرہ آبادی کو ہیلی کاپٹرز سےمحفوظ مقامات پر منتقل کیاجارہا ہے،

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ متاثرین کو ٹینٹ اور راشن فراہم کیا گیا ہے، میڈیکل ٹیمیں بھی موجود ہیں، واضح رہے کہ چترال، گولن میں‌ سیلاب کی وجہ سے مقامی لوگوں کو اس وقت سخت مشکلات کا سامنا ہے اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ پاک فوج بھی متاثرین کی بھرپور مدد کر رہی ہے. چترال میں سیلاب سے متاثرہ علاقے گولین میں اسلام آباد یونیورسٹی کے9 طلبا بھی جنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ گلیشیئر پھٹنے کے بعد سے پھنسےسیاح تاحال محصور ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ کچھ سیاحوں کو ریسکیو کرلیا گیا ہے، زمینی رابطہ منقطع ہونے سے مشکلات کا سامنا ہے، تاہم دیگر سیاحوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جلد نکال لیا جائے گا۔

  • پروٹوکول کے بعد مولانا فضل الرحمن کی سکیورٹی بھی واپس

    پروٹوکول کے بعد مولانا فضل الرحمن کی سکیورٹی بھی واپس

    حکومت نے پروٹوکول کے بعد جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے سکیورٹی بھی واپس لے لی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمن کے پاس 12 پولیس اہلکار ڈیوٹی پر مامور تھے، مولانا فضل الرحمن سے پولیس کی گاڑیاں بھی واپس منگوا لی گئی ہیں.

    واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمن ان دنوں‌ حکومت مخالف تحریک چلانے کے حوالہ سے پیش پیش ہیں اور گزشتہ دنوں نے اے پی سی کا بھی انعقاد کیا تھا جس میں تمام اپوزیشن جماعتوں‌نے شرکت کی تھی. حالیہ دنوں میں‌ وہ چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کیلئے بھی کوششیں‌کر رہے ہیں اور انہوں‌نے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں. مولانا فضل الرحمن کی سکیورٹی واپس لئے جانے کو حکومت کی مخالفت کے تناظر میں‌ دیکھا جارہا ہے.

  • ڈاکٹر ظفر مرزا کا پمز ہسپتال کا دورہ، بازو کاٹے جانے والی متاثرہ بچی کی عیادت

    ڈاکٹر ظفر مرزا کا پمز ہسپتال کا دورہ، بازو کاٹے جانے والی متاثرہ بچی کی عیادت

    وزیراعظم کے معا ون خصو صی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور زخمی بچی کا بازو کاٹے جانے کے واقعہ پر متاثرہ بچی کی عیادت کی اور پھول اور چاکلیٹ پیش کئے۔

    باٹی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بچی کے والدین سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا اس دکھ اور مصیبت کی گھڑی میں آپ کے ساتھ ہوں اور مجھ اس واقعہ پر مجھے بے حد دکھ ہوا ہے ۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے بچی کے والدین کو یقین دلایا کہ اس واقعہ کی غیر جابندار انہ ڈاکٹر وں پر مشتمل ٹیم سے مکمل تحقیقات کروائی جائے گی اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا ۔ کیونکہ یہ ہماری بچی ہے اور اس طرح کا واقعہ کسی بھی بچی سے ہو جائے تو وہ ناقابل برداشت ہے پمز کی انتظامیہ عملہ و ڈاکٹرز اور میری وزارت کو بھی اس واقعہ پر گہرا دُکھ ہوا ہے جیسے ہی یہ واقعہ میرے علم میں آیا تو میں نے فوری طور پر ایگز یکٹو ڈائر یکٹر پمز سے بات کی جنہوں نے شفاف تحقیقات کے لیے ڈاکٹر وں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں نے یہ تجو یز دی ہے کہ تحقیقاتی ٹیم میں صرف پمز کے ہی ڈاکٹر ز نہ ہوں بلکہ پمز سے باہر کے ڈاکٹرز بھی اس تحقیقاتی کمیٹی میں شامل ہوں تاکہ ایک شفاف طریقہ سے غیر جانب دارانہ اور آزادانہ تحقیقات کی جا سکیں ہمیں اب ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے متاثرہ بچی کے لواحقین سے درخواست ہے کہ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں بلکہ ہمیں تحقیقات کرنے دیں میں بطور وزیر یقین دلاتا ہوں کہ تحقیقاتی رپورٹ آنے دیں اگر اس میںکوئی ذمہ دار ٹھہرایا گیاتو اُس کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

    واضح رہے کہ پمز میں بچی لائی گئی جس کا بازو ٹوٹنے کے باعث پلستر کیا گیا تاہم اس دوران بازو میں دوران خون کی بندش کے باعث لڑکی کا متاثرہ بازو کاٹنا پڑا، جس پر میں لواحقین اور بچی کے رشتہ داروں سے دلی افسو س کا اظہار کرتا ہوں ۔ بعد ازاں ڈاکٹر ظفر مرزا نے بہارہ کہو میں میبنہ زیادتی کا شکار کم سن بچی کا عیادت کی اور و الدین سے اظہار ہمدردی کیا ۔ زیادتی کرنے والا جانور اور درندہ صفت انسان ہے میں اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان سے بات کروں گا ڈاکٹر ظفر مرزا نے متاثرہ والدین کو مکمل انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی اور ہدایت جاری کی کہ زیادتی کا شکار کم سن بچی کا مکمل اور بہترین علاج کیا جائے ۔
    محمد اویس

  • اب اسلام آباد کی ہو گی سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی سے مانیٹرنگ، سی ڈی اے اور سپارکو کے مابین معاہدہ

    اب اسلام آباد کی ہو گی سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی سے مانیٹرنگ، سی ڈی اے اور سپارکو کے مابین معاہدہ

    سی ڈی اے اور سپارکو کے درمیان منگل کے روز سی ڈی اے ہیڈ کوارٹرز میں ایک مفا ہمتی یا داشت پر دستخط کئے گئے جس کے تحت اسلام آباد شہر کے مختلف حصوں کی سٹلائیٹ ٹیکنا لوجی کے ذریعے ما نیٹرنگ کی جا سکے گی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مفا ہمتی یا داشت پر چیئر مین سی ڈی اے عا مر علی احمد اور چیئر مین سپا رکو نے دستخط کئے۔اس موقع پر سی ڈی اے کے پلاننگ ونگ کے سینئر افسران اور سپارکو کے ما ہرین و افسران بھی موجود تھے۔ اس مفا ہمتی یا داشت کے تحت سپا رکو سی ڈی اے کو اسلام آباد کی شہری آبادی کے پھیلاؤ، کچی آبا دیوں کی نشا ندہی، سر کاری ارا ضی پر ہونے وا لی تجا وزات کی موئثر ما نیٹرنگ کے لئے مدد فراہم کرے گا اور جدید ٹیکنا لوجی سے سی ڈی اے شہر کی بے ترتیب ہونے والی آ بادی کو کم وقت میں ما نیٹر کر سکے گا۔ اس مفا ہمتی یا داشت سے اسلام آبادکے گرین کریکٹر کے فروغ کے ساتھ ساتھ تحفظ میں مزید بہتری آئے گی۔

    سپا رکوکی طرف سے دی جانے والی سٹلائیٹ ٹیکنا لوجی کے با عث سی ڈی اے کو زمین استعمال میں لانے کے لئے کئے جا نے وا لے اقدا مات میں بھی مدد ملے گی۔ ابتدائی طور اس ٹیکنا لوجی سے سہ ما ہی بنیا دوں پر استفادہ کیا جائے گاتا ہم بعد ازاں نہ صرف براہ راست بلکہ روزانہ کی بنیا دوں پر ما نیٹرنگ کی جائے گی۔ مزید برآں سپار کو اس ضمن میں سی ڈی اے کی استعداد کار کو بڑھانے میں بھی مدد کرے گا۔ اس مفا ہمتی یا داشت کے تحت اسلام آباد کے مختلف علا قوں کی موئثر ما نیٹرنگ کے لئے با قا عدہ فریم ورک اور روڈ میپ تیار کیا جائے گا تا کہ اس ٹیکنا لوجی سے بھر پور استفادہ کیا جا سکے۔ اس مفا ہمتی یا داشت پر عملدرآمد کے لئے ایک کمیٹی بھی بنائی جا ئے گی جس میں سی ڈی اے اور سپا رکو کے دو دو افسران شا مل ہوں گے۔ یہ کمیٹی اس ٹیکنا لوجی کے باعث ہونے والی موئثر ما نیٹرنگ اور مشترکہ مینجمنٹ کے کام کو دیکھے گی۔

    چئیر مین سی ڈی اے عا مر علی احمد نے سپا رکو کی طرف سے کی جانے وا لی کا وشوں کو سرا ہتے ہوئے کہا کہ سپارکو سی ڈی اے کو مختلف ایریاز میں تکنیکی معا ونت فراہم کر رہا ہے اس سے کامیاب نتا ئج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپارکو کے تعا ون سے سی ڈی اے میں جی آئی ایس (GIS)لیب کا قیام دونوں اداروں کے درمیان تعا ون کی بہترین مثا ل ہے۔ چیئر مین سی ڈی اے نے کہا کہ اسلام آباد کی آبادی میں روز افزوں اضا فہ ہوتا جا رہا ہے اور ٹیکنا لوجی کے بغیر تمام آبادی کی موئثر ما نیٹرنگ ممکن نہیں ہے اس لئے جدید ٹیکنا لوجی سے ما نیٹرنگ کرنا وقت کی اہم ضروت تھی۔

    انہوں نے کہا کہ سیٹلائیٹ ٹیکنا لوجی کے استعمال کی مفا ہمتی یا داشت سے اسلام آباد کی بے ہنگم آبادی کو کنٹرول کرنے کے علا وہ سر کاری ارا ضی پر ہونے وا لی تجا وزات با لخصوص اسلام آباد کے گرین کریکٹر کو حقیقی معنوں میں تحفظ دینے میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر سپا رکو کے چیئر مین نے کہا کہ سپا رکو سی ڈی اے کے ساتھ عوا می دلچسپی کے شعبوں میں تعا ون جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفا ہمتی یا داشت ملک کے دیگر شہروں کے لئے رول ما ڈل کی حیثیت رکھے گا۔
    محمد اویس

  • کون سے سیاستدان وزیر ہوتے ہوئے بیرون ممالک بھی نوکریاں‌ کرتے رہے؟ اہم خبر

    کون سے سیاستدان وزیر ہوتے ہوئے بیرون ممالک بھی نوکریاں‌ کرتے رہے؟ اہم خبر

    وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ پچھلے ادوار میں عجیب چیزیں دیکھیں ، وزرا یہاں کے علاوہ باہر بھی نوکریاں کررہے تھے، خواجہ آصف وزیر دفاع ، وزیر خارجہ ، پانی وبجلی اور پیٹرولیم کے وزیر بھی رہے، خواجہ آصف اقامے کے ذریعے ایک کمپنی کو ایڈوائزر شپ دے رہے تھے ، ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کمیٹی اجلاس میں‌ ڈاکٹر عشرت کی سربراہی میں سول سروس ریفارمز پر بریفنگ دی گئی ،کمیٹی بنانے کافیصلہ ہوا ہے جس میں تین چار وزرا ہوں گے،کمیٹی میں پرویز خٹک ، ارباب شہزاد ، شفقت محمود ،ڈاکٹر عشرت بھی ہوں گے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خواجہ آصف اقامے پر اس غیرملکی کمپنی سے پندرہ لاکھ روپے لے رہے تھے،یوسف گیلانی،راجاپرویزاشرف ،شاہد خاقان کےبیرون ملک دروں کی تفصیلات جلدپیش کرینگے، آئین کےتحت آپ قومی مفاد پرکسی ذاتی یا بیرونی مفاد کو ترجیح نہیں دے سکتے، یہ تو پبلک آفس ہولڈر تھے تو پرائیویٹ بزنس کو بھی چلاتے رہے، تو آپ یہاں وزیر بھی تھے اور بیرون ملک کمپنی کے ایڈوائزر بھی تھے،

    انہوں نے کہاکہ تحقیقات کی ضرورت ہے کس کی کمپنی اور کس ملک کا کون ملازم رہا، حلف کے تحت آپ ایسا نہیں‌ کر سکتے تھے، ٹرمپ صدر بنا تو وہ اپنی کمپنی سے الگ ہوگیا ، ہماری جمہوریت کا حال دیکھ لیں،ایک صاحب جن پر کرپشن کا الزام ہے ، عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اربوں کمائے ، یہ ملزم جب پیشی پر آتا ہے تو گل پاشی کراتا ہے ، انٹرویوز بھی دے رہا ہوتا ہے،

  • چیئرمین نیب کی زیر صدارت اہم اجلاس، اعلیٰ عہدیداران کی شرکت

    چیئرمین نیب کی زیر صدارت اہم اجلاس، اعلیٰ عہدیداران کی شرکت

    چیئرمین نیب جاویداقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈ کوارٹرمیں اجلاس ہو اہے جس میں‌ ڈپٹی چیئرمین نیب اورپراسیکیوٹر جنرل نیب سمیت دیگرافسران نے شرکت کی. اجلاس میں نیب کےکام کےطریقہ کار کاجائزہ لیاگیا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب نے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نیب کی آپریشنل حکمت عملی کےباعث کرپٹ عناصرکوقانون کی گرفت میں لایاگیا، نیب کرپشن کی اصل شکایات کی حوصلہ افزائی کرتاہے، نیب کی کسی شخص،گرویاجماعت سےکوئی وابستگی نہیں،کرپشن کی نشاندہی کرنے والے نیب کےمعاون ہیں،

    چیئرمین نیب نے کہاکہ کرپٹ عناصرسےلوٹی گئی دولت ریکورکرناہمارااولین فریضہ ہے، ملک سےکرپشن کاخاتمہ ہماراایجنڈاہے

  • نواز شریف اور زرداری نے بیرونی دوروں پر کتنے ارب روپے خرچ کئے، ہوشربا انکشافات

    نواز شریف اور زرداری نے بیرونی دوروں پر کتنے ارب روپے خرچ کئے، ہوشربا انکشافات

    وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ نواز شریف چار سال میں 262 دن بیرون ملک دوروں پر رہے ، آصف زرداری نے دورہ صدارت میں 134 غیر ملکی دورے کیے ، زرداری کےصرف دبئی کے 51دورےتھے جن پر 10کروڑ روپےخرچ ہوئے،

    وفاقی کابینہ اجلاس سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ آصف زرداری کے 48 دورے ذاتی نوعیت کے تھے، لندن برطانیہ کے 17 دوروں پر 32 کروڑ روپے خرچ ہوئے ، آصف زرداری مجموعی طورپر 257 دن ملک سےباہر رہے آصف زرداری سوا تین ہزار لوگوں کو اپنے ساتھ باہر لے کر گئے ،زرداری کےبطور صدر غیر ملکی دوروں پر ایک ارب 42 کروڑ روپے خرچ ہوئے ، 55 کروڑ روپے ان کے ہوٹل میں قیام پر خرچ ہوئے،

    شفقت محمود نے بتایا کہ نواز شریف نے چار سال میں ایک ارب 84 کروڑ روپے بیرون ملک دوروں پر خرچ کیے ، غریب ملک کے صدر نے دو کروڑ کی ٹپس دیں ، 5کروڑ کے گفٹ دے دیے، جب قرضے بڑھ رہےتھے تو شاہ خرچیوں کوسن کر رونگھٹےکھڑے ہوجاتے ہیں. انہوں نے کہاکہ نواز شریف کے لندن کے بیس دورے ذاتی تھے جن پر سرکاری خرچ ہوا،نواز شریف نے لندن کے دوروں پر 22 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے ، ان کے اخراجات میں پی آئی اے کا طیارہ استعمال کرنے کا نقصان شامل نہيں ہے ،

  • احتساب کا عمل ختم ہو چکا، انصاف خریدا جارہا ہے، شاہد خاقان عباسی

    احتساب کا عمل ختم ہو چکا، انصاف خریدا جارہا ہے، شاہد خاقان عباسی

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہم نے چالیس منٹ کی ویڈیوپیش کردی اب اس پرایکشن کی ضرورت ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہاکہ جب آپ انصاف خریدنا شروع کردیں گے توکیا رہ جائے گا، ہم توسیاستدان ہیں جتنے مقدمات بناؤ کوئی فرق نہیں پڑتا، احتسابی عمل کا ایک ہی بینیفیشری عمران خان ہے،آج انھیں عدالت میں جوابدہی کیلیے ہونا چاہیے، اس احتسابی عمل کے ذریعے الیکشن کے دوران میڈیا ٹرائل کیا گیا اورالیکشن کے بعد بھی، آج اس احتسابی عمل کا کوئی وجود نہیں رہا، کوئی حقیقت نہیں رہی، یہ ختم ہوچکا ہے،

    انہوں نے کہاکہ پھر وزیر اعظم کہتےہیں کہ اس احتساب سےحکومت کا کوئی تعلق نہیں، مختلف یوٹرن لینے والے وزیراعظم کہتےہیں کہ یہ ہم احتساب کررہےہیں ،

  • شناختی کارڈز،موبائل سم اوربینک اکاونٹ کیلیے بائیو میٹرک کی شرط ختم

    شناختی کارڈز،موبائل سم اوربینک اکاونٹ کیلیے بائیو میٹرک کی شرط ختم

    وزیراعظم عمران خان نے بزرگ شہری کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے نادرہ کو حکم دیا کہ انگوٹھےکےنشانات مٹ جانیوالے شہریوں کیلیےبائیومیٹرک کی شرط ختم کی جائے

    ایک ایک پیسے کا حساب لیا جائے گا،کابینہ اجلاس میں وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    وزیراعظم کے خلاف حکومتی جماعت کے رہنما جاوید بدر نے سٹیزن پورٹل میں‌شکایت درج کروا دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بزرگ شہری کی شکایت پر وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیا ہے، حکومت نے انگوٹھے کے نشانات مٹ جانیوالےشہریوں کیلیے بائیومیٹرک شرط ختم کرنےکا فیصلہ کیا ہے، اس ضمن مٰیں شناختی کارڈز،موبائل سم اوربینک اکاونٹ کھلوانے کیلیے بائیومیٹرک کی شرط لاگونہیں ہوگی.

    سائبر کرائم، حکومتی رکن نے درخواست دی تو کیا جواب ملا؟ کمیٹی میں انکشاف

    وزیراعظم آفس نے نادرا کو 30 روز کے اندر کام مکمل کرنے کی ہدایت کردی ہے، وزیراعظم آفس،وزارت داخلہ اور نادرا کے درمیان ٹاسک مینجمنٹ سسٹم قائم کیا گیا ہے، وزیراعظم نے نادرا کوانگوٹھےکے نشانات مٹ جانے والے شہریوں کیلیے فوری اقدامات کا ٹاسک دیا ہے،

    تحریک انصاف کے ارکان اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پربرس پڑے

    وزیراعظم آفس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بہت بڑی تعدادایسےافرادکی ہےجن کےانگوٹھوں کےنشانات مٹ چکے ہیں ،ایسے افراد کو سرکاری دفاتر اور بینکوں میں مشکلات کا سامنا پڑتا ہے،جن شہریوں کےانگوٹھےکے نشانات مٹ چکے ان کے لیے الگ میکنزم تیار کیا جائے